77. Surah Al-Mursalaat
المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
پہلی ہی آیت کے لفظ المرسلٰت کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول
اس کا پورا مضمون یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کی دو سورتیں سورة قیامہ، اور سورة دہر، اور اس کے بعد کی دو سورتیں، سورة نبا اور سورة نازعات اگر ملا کر پڑھی جائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی دور کی نازل شدہ سورتیں ہیں اور ایک ہی مضمون ہے جس کو ان میں مختلف پیرایوں سے اہل مکہ کے ذہن نشین کرایا گیا ہے۔
موضوع اور مضمون
اس کا موضوع قیامت اور آخرت کا اثبات، اور ان نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو ان حقائق کے انکار اور اقرار سے آخرکار برآمد ہوں گے۔ پہلی سات آیتوں میں ہواؤں کے انتظام کو اس حقیقت پر گواہ قرار دیا گیا ہے کہ قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قیامت کے آنے کی خبر دے رہے ہیں وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ ان میں استدلال یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے زمین پر یہ حیرت انگیز انتظام قائم کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی، اور جو صریح حکمت اس انتظام میں کارفرما نظر آرہی ہے وہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آخرت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ حکیم کا کوئی فعل عبث اور بےمقصد نہیں ہو سکتا، اور آخرت نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہے کہ یہ سارا کارخانۂ ہستی سراسر فضول ہے۔ اہل مکہ بار بار کہتے تھے کہ جس قیامت سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو اسے لا کر دکھاؤ تب ہم اسے مانیں گے۔ آیت 8 سے 15 تک ان کے اس مطالبے کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ کوئی کھیل یا تماشا نہیں ہے کہ جب کوئی مسخرا اسے دکھانے کا مطالبہ کرے اسی وقت وہ فوراً دکھا دیا جائے۔ وہ تو تمام نوع انسانی، اور اس کے تمام افراد کے مقدمے کے فیصلے کا دن ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی وقت پر وہ آئے گا اور جب آئے گا تو ایسی ہولناک شکل میں آئے گا کہ آج جو لوگ مذاق کے طور پر اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس وقت ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اس وقت انہی رسولوں کی شہادتوں پر ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا جن کی دی ہوئی خبر کو یہ منکرین آج بڑی بےباکی کے ساتھ جھٹلا رہے ہیں، پھر انہیں خود پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا ہے۔ آیت 16 سے 28 تک مسلسل قیامت اور آخرت کے وقوع اور وجوب کے دلائل دیے گئے ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی اپنی تاریخ، اس کی اپنی پیدائش، اور جس زمین پر وہ زندگی بسر کر رہا ہے اس کی اپنی ساخت اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ قیامت کا آنا اور عالم آخرت کا برپا ہونا ممکن بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا بھی۔ انسانی تاریخ بتارہی ہے کہ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ آخرکار بگڑیں اور تباہی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آخرت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی قوم کا رویہ اگر متصادم ہو تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو اس اندھے کا انجام ہوتا ہے جو سامنے آتی ہوئی گاڑی کے مقابلے میں بگ ٹٹ چلا جا رہا ہو اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ کائنات کی سلطنت میں صرف قوانین طبیعی (Physical laws) ہی کارفرما نہیں ہیں بلکہ ایک قانون اخلاقی (Moral law) بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت خود اس دنیا میں بھی مکافات عمل کا سلسلہ جاری ہے لیکن دنیا کی موجودہ زندگی میں یہ مکافات چونکہ اپنی کامل و مکمل صورت میں واقع نہیں ہو رہی ہے اس لیے کائنات کا اخلاقی قانون لازماً یہ تقاضا کرتا ہے کہ کوئی وقت ایسا آئے جب یہ بھرپور طریقے سے واقع ہو اور ان تمام بھلائیوں اور برائیوں کی پوری جزا و سزا دی جائے جو یہاں جزا سے محروم رہ گئی ہیں یا سزا سے بچ نکلی ہیں۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو، اور انسان کی پیدائش دنیا میں جس طرح ہوتی ہے اس پر اگر انسان غور کرے تو اس کی عقل –بشرطیکہ وہ سلیم ہو—اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جس خدا نے ایک حقیر نطفہ سے ابتداء کر کے اسے پورا آدمی بنایا ہے اس کے لیے اسی آدمی کو پھر پیدا کردینا یقیناً ممکن ہے۔ زندگی بھر انسان جس زمین پر رہتا ہے، مرنے کے بعد اس کے اجزائے جسم کہیں غائب نہیں ہوجاتے، اسی زمین پر ان کا ایک ایک ذرہ موجود رہتا ہے۔ اسی زمین کے خزانوں سے وہ بنتا اور پھلتا پھولتا اور پرورش پاتا ہے، اور پھر اسی زمین کے خزانوں میں واپس جمع ہوجاتا ہے۔ جس خدا نے اسے پہلے زمین کے ان خزانوں سے نکالا تھا وہی ان میں جمع ہوجانے کے بعد اسے پھر ان سے نکال لا سکتا ہے۔ اس کی قدرت پر غور کرو تو تم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے اور اس کی حکمت پر غور کرو تو تم اس سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ زمین پر جو اختیارات اس نے تمہیں دیے ہیں ان کے صحیح اور غلط استعمال کا حساب لینا یقیناً اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور بلا حساب چھوڑ دینا سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ اس کے بعد آیات 28 سے 40 تک آحرت کے منکرین کا، اور 41 سے 45 تک ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اس پر ایمان لا کر دنیا میں اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی ہے، اور عقائد و افکار، اخلاق و اعمال، اور سیرت و کردار کی ان برائیوں سے اجتناب کیا ہے جو چاہے آدمی کی دنیا بناتی ہوں مگر اس کی عاقبت خراب کردینے والی ہوں۔ آخرت میں منکرین آخرت اور خدا کی بندگی سے منہ موڑنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو کچھ مزے اڑانے ہیں اڑا لو آخر کار تمہارا انجام سخت تباہ کن ہوگا اور بات اس پر ختم کی گئی ہے کہ اس قرآن سے بھی جو شخص ہدایت نہ پائے اسے پھر دنیا میں کوئی چیز ہدایت نہیں دے سکتی۔
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader
قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں
فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader
پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں
وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader
اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں
فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader
پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں
فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader
پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں
عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader
عُذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر، 1
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے 2 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ 3
فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader
پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے، 4
وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader
اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا، 5
وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader
اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader
اور رسُولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا 6 (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی)
لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader
کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟
لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader
فیصلے کے روز کے لیے
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader
اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader
تباہی ہے اُس دن جُھٹلانے والوں کے لیے۔ 7
اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ 8
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader
پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ 10
كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader
مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader
تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 11
اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader
کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا
فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader
اور ایک مقرر مدت تک12
اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader
اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟
فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader
تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ 13
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 14
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا
اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader
زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی
وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader
اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟ 15
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 16
اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader
17 چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے
اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader
چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، 18
لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader
نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا
اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader
وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی
كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader
(جو اُچھلتی ہوئی یُوں محسُوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں۔ 19
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader
یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے
وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader
اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔ 20
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader
یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے
فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader
اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو۔ 21