77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ المرسلٰت کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

اس کا پورا مضمون یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کی دو سورتیں سورة قیامہ، اور سورة دہر، اور اس کے بعد کی دو سورتیں، سورة نبا اور سورة نازعات اگر ملا کر پڑھی جائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی دور کی نازل شدہ سورتیں ہیں اور ایک ہی مضمون ہے جس کو ان میں مختلف پیرایوں سے اہل مکہ کے ذہن نشین کرایا گیا ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع قیامت اور آخرت کا اثبات، اور ان نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو ان حقائق کے انکار اور اقرار سے آخرکار برآمد ہوں گے۔ پہلی سات آیتوں میں ہواؤں کے انتظام کو اس حقیقت پر گواہ قرار دیا گیا ہے کہ قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قیامت کے آنے کی خبر دے رہے ہیں وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ ان میں استدلال یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے زمین پر یہ حیرت انگیز انتظام قائم کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی، اور جو صریح حکمت اس انتظام میں کارفرما نظر آرہی ہے وہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آخرت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ حکیم کا کوئی فعل عبث اور بےمقصد نہیں ہو سکتا، اور آخرت نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہے کہ یہ سارا کارخانۂ ہستی سراسر فضول ہے۔ اہل مکہ بار بار کہتے تھے کہ جس قیامت سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو اسے لا کر دکھاؤ تب ہم اسے مانیں گے۔ آیت 8 سے 15 تک ان کے اس مطالبے کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ کوئی کھیل یا تماشا نہیں ہے کہ جب کوئی مسخرا اسے دکھانے کا مطالبہ کرے اسی وقت وہ فوراً دکھا دیا جائے۔ وہ تو تمام نوع انسانی، اور اس کے تمام افراد کے مقدمے کے فیصلے کا دن ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی وقت پر وہ آئے گا اور جب آئے گا تو ایسی ہولناک شکل میں آئے گا کہ آج جو لوگ مذاق کے طور پر اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس وقت ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اس وقت انہی رسولوں کی شہادتوں پر ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا جن کی دی ہوئی خبر کو یہ منکرین آج بڑی بےباکی کے ساتھ جھٹلا رہے ہیں، پھر انہیں خود پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا ہے۔ آیت 16 سے 28 تک مسلسل قیامت اور آخرت کے وقوع اور وجوب کے دلائل دیے گئے ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی اپنی تاریخ، اس کی اپنی پیدائش، اور جس زمین پر وہ زندگی بسر کر رہا ہے اس کی اپنی ساخت اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ قیامت کا آنا اور عالم آخرت کا برپا ہونا ممکن بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا بھی۔ انسانی تاریخ بتارہی ہے کہ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ آخرکار بگڑیں اور تباہی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آخرت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی قوم کا رویہ اگر متصادم ہو تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو اس اندھے کا انجام ہوتا ہے جو سامنے آتی ہوئی گاڑی کے مقابلے میں بگ ٹٹ چلا جا رہا ہو اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ کائنات کی سلطنت میں صرف قوانین طبیعی (Physical laws) ہی کارفرما نہیں ہیں بلکہ ایک قانون اخلاقی (Moral law) بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت خود اس دنیا میں بھی مکافات عمل کا سلسلہ جاری ہے لیکن دنیا کی موجودہ زندگی میں یہ مکافات چونکہ اپنی کامل و مکمل صورت میں واقع نہیں ہو رہی ہے اس لیے کائنات کا اخلاقی قانون لازماً یہ تقاضا کرتا ہے کہ کوئی وقت ایسا آئے جب یہ بھرپور طریقے سے واقع ہو اور ان تمام بھلائیوں اور برائیوں کی پوری جزا و سزا دی جائے جو یہاں جزا سے محروم رہ گئی ہیں یا سزا سے بچ نکلی ہیں۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو، اور انسان کی پیدائش دنیا میں جس طرح ہوتی ہے اس پر اگر انسان غور کرے تو اس کی عقل –بشرطیکہ وہ سلیم ہو—اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جس خدا نے ایک حقیر نطفہ سے ابتداء کر کے اسے پورا آدمی بنایا ہے اس کے لیے اسی آدمی کو پھر پیدا کردینا یقیناً ممکن ہے۔ زندگی بھر انسان جس زمین پر رہتا ہے، مرنے کے بعد اس کے اجزائے جسم کہیں غائب نہیں ہوجاتے، اسی زمین پر ان کا ایک ایک ذرہ موجود رہتا ہے۔ اسی زمین کے خزانوں سے وہ بنتا اور پھلتا پھولتا اور پرورش پاتا ہے، اور پھر اسی زمین کے خزانوں میں واپس جمع ہوجاتا ہے۔ جس خدا نے اسے پہلے زمین کے ان خزانوں سے نکالا تھا وہی ان میں جمع ہوجانے کے بعد اسے پھر ان سے نکال لا سکتا ہے۔ اس کی قدرت پر غور کرو تو تم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے اور اس کی حکمت پر غور کرو تو تم اس سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ زمین پر جو اختیارات اس نے تمہیں دیے ہیں ان کے صحیح اور غلط استعمال کا حساب لینا یقیناً اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور بلا حساب چھوڑ دینا سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ اس کے بعد آیات 28 سے 40 تک آحرت کے منکرین کا، اور 41 سے 45 تک ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اس پر ایمان لا کر دنیا میں اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی ہے، اور عقائد و افکار، اخلاق و اعمال، اور سیرت و کردار کی ان برائیوں سے اجتناب کیا ہے جو چاہے آدمی کی دنیا بناتی ہوں مگر اس کی عاقبت خراب کردینے والی ہوں۔ آخرت میں منکرین آخرت اور خدا کی بندگی سے منہ موڑنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو کچھ مزے اڑانے ہیں اڑا لو آخر کار تمہارا انجام سخت تباہ کن ہوگا اور بات اس پر ختم کی گئی ہے کہ اس قرآن سے بھی جو شخص ہدایت نہ پائے اسے پھر دنیا میں کوئی چیز ہدایت نہیں دے سکتی۔

Ayahs 77:1–6

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

عُذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر، 1

سورة الْمُرْسَلٰت 1 یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے 2 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ 3

سورة الْمُرْسَلٰت 2 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے "۔ مراد قیامت اور آخرت ہے۔ سورة الْمُرْسَلٰت 3 یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک۔ المرسلت عرفا۔ " پے درپے، یا بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں "۔ دوسرے، العاصفات عصفا۔ " بہت تیزی اور شدت کے سات چلنے والیاں "۔ تیسرے، الناشرات نشرا۔ " خوب پھیلانے والیاں "۔ چوتھے، الفارقات فرقاً۔ " الگ الگ کرنے والیاں "۔ پانچویں، الملقیات ذکراً۔ " یاد کا القا کرنے والیاں "۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں، اور یہ صراحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس چیز یا کن چیزوں کی صفات ہیں، اس لیے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ پانچوں صفات ایک ہی چیز کی ہیں، یا الگ الگ چیزوں کی، اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا کہتا ہے بانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا کہتا ہے پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور باقی دو سے مراد فرشتے ہیں۔ چوتھا کہتا ہے پہلے دو سے مراد ہوائیں اور باقی تین سے مراد فرشتے ہیں اور ایک گروہ کی رائے یہ بھی ہے کہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔ ہمارے نزدیک پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ جب ایک ہی سلسلہ کلام میں پانچ صفات کا مسلسل ذکر کیا گیا ہے اور کوئی علامت بیچ میں ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ کہاں تک ایک چیز کی صفات کا ذکر ہے اور کہاں سے دوسری چیز کا ذکر شروع ہوا ہے، تو یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ محض کسی بےبنیاد یا قیاس کی بنا پر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہاں دو باتیں مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، بلکہ اس صورت میں نظم کلام خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پوری عبارت کو کسی ایک ہی چیز کی صفات سے متعلق مانا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی شک یا انکار کرنے والوں کو کسی حقیقت غیر محسوس کا یقین دلانے کے لیے کسی چیز، یا بعض چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہاں قسم دراصل استدلال کے ہم معنی ہوتی ہے، یعنی اس سے مقصود یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ چیز یا چیزیں اس حقیقت کے صحیح و برحق ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔ اس غرض کے لیے ظاہر ہے کہ ایک غیر محسوس شے کے حق میں کسی دوسری غیر محسوس شے کو بطور استدلال پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا، بلکہ غیر محسوس پر محسوس سے دلیل لانا ہی موزوں اور مناسب ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس سے مراد ہوائیں ہیں، اور ان لوگوں کی تفسیر قابل قبول نہیں ہے جنہوں نے ان پانچوں چیزوں سے مراد فرشتے لیے ہیں، کیونکہ وہ بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح قیامت کا وقوع غیر محسوس ہے۔ اب غور کیجئے کہ قیامت کے و قوع پر ہواؤں کی یہ کیفیات کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ زمین پر جن اسباب سے حیوانی اور نباتی زندگی ممکن ہوئی ہے ان میں سے ایک نہایت اہم سبب ہوا ہے۔ ہر نوع کی زندگی سے اس کی صفات کا جو تعلق ہے وہ بجائے خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی قادر مطلق اور صانع حکیم ہے جس نے اس کرہ خاکی پر زندگی کو وجود لانے کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لیے یہاں ایک ایسی چیز پیدا کی جس کی صفات زندہ مخلوقات کے وجود کی ضروریات کے ساتھ ٹھیک ٹھیک مطابقت رکھتی ہیں۔ پھر اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا ہے کہ زمین کو ہوا کا ایک لبادہ اڑھا کر چھوڑ دیا ہو، بلکہ اپنی قدرت اور حکمت سے اس ہوا میں اس نے بیشمار مختلف کیفیات پیدا کی ہیں جن کا انتظام لاکھوں کروڑوں برس سے اس طرح ہو رہا ہے کہ انہی کی بدولت موسم پیدا ہوتے ہیں، کبھی حبس ہوتا ہے اور کبھی باد نسیم چلتی ہے، کبھی گرمی آتی ہے اور کبھی سردی، کبھی بادل آتے ہیں اور کبھی آتے ہوئے اڑ جاتے ہیں، کبھی نہایت خوشگوار جھونکے چلتے ہیں اور کبھی انتہائی تباہ کن طوفان آجاتے ہیں، کبھی نہایت نفع بخش بارش ہوتی ہے اور کبھی کال پڑجاتا ہے۔ غرض ایک ہوا نہیں بلکہ طرح طرح کی ہوائیں ہیں جو اپنے اپنے وقت پر چلتی ہیں اور ہر ہوا کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ انتظام ایک غالب قدرت کا ثبوت ہے جس کے لیے نہ زندگی کو وجود میں لانا خارج از امکان ہوسکتا ہے، نہ اسے مٹا دینا، اور نہ مٹا کر دوبارہ وجود میں لے آنا۔ اسی طرح یہ انتظام کمال درجہ حکمت و دانائی کا ثبوت بھی ہے، جس سے صرف ایک نادان آدمی ہی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ یہ سارا کاروبار محض کھیل کے طور پر کیا جا رہا ہو اور اس کا کوئی عظیم تر مقصد نہ ہو۔ اس حیرت انگیز انتظام کے مقابلے میں انسان اتنا بےبس ہے کہ کبھی وہ نہ اپنے لیے مفید طلب ہوا چلا سکتا ہے نہ اپنے اوپر ہلاکت خیز ہوا کا طوفان آنے کو روک سکتا ہے۔ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی اور بےشعوری اور ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے، کبھی نہ کبھی یہی ہوا اس کو یاد دلا دیتی ہے کہ اوپر کوئی زبردست اقتدار کار فرما ہے جو زندگی کے اس سب سے بڑے ذریعہ کو جب چاہے اس کے لیے رحمت اور جب چاہے ہلاکت کا سبب بنا سکتا ہے، اور انسان اس کے کسی فیصلے کو بھی روک دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم، الذاریات، حواشی 1 تا 4)۔
Ayah 77:8

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے، 4

سورة الْمُرْسَلٰت 4 یعنی بےنور ہوجائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔
Ayah 77:9

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا، 5

سورة الْمُرْسَلٰت 5 یعنی عالم بالا کا وہ بندھا ہوا نظام، جس کی بدولت ہر ستارہ اور سیارہ اپنے مدار پر قائم ہے، اور جس کی بدولت کائنات کی ہر چیز اپنی اپنی حد میں رکی ہوئی ہے، توڑ ڈالا جائے گا اور اس کی ساری بندشیں کھول دی جائیں گی۔
Ayahs 77:10–11

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور رسُولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا 6 (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی)

سورة الْمُرْسَلٰت 6 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ میدان حشر میں جب نوع انسانی کا مقدمہ پیش ہوگا تو ہر قوم کے رسول کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس امر کی گواہی دے کہ اس نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ یہ گمراہوں اور مجرموں کے خلاف اللہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حجت ہوگی جس سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اپنی غلط روش کے خود ذمہ دار ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 172، 173۔ حواشی 134، 135۔ جلد چہارم، الزمر، آیت 69، حاشیہ 80۔ جلد ششم، الملک، آیت 8، حاشیہ 14۔
Ayahs 77:12–15

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے روز کے لیے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جُھٹلانے والوں کے لیے۔ 7

سورة الْمُرْسَلٰت 7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayah 77:16

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ 8

سورة الْمُرْسَلٰت 8 یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خود اسی دنیا میں اپنی تاریخ کو دیکھ لو۔ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کو اصل زندگی سمجھا اور اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج کو خیر و شر کا معیار سمجھ کر اپنا اخلاقی رویہ متعین کیا، بلا استثناء وہ سب آخر کار تباہ ہو کر رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے کام کرنے والا اسی طرح نقصان اٹھاتا ہے جس طرح ہر اس شخص کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کر کے چلے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 12۔ جلد سوم، النمل، حاشیہ 86۔ الروم، حاشیہ 8۔ جلد چہارم، سبا، حاشیہ 25)۔
Ayah 77:17

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ 10

سورة الْمُرْسَلٰت 9 یعنی یہ ہمارا مستقل قانون ہے۔ آخرت کا انکار جس طرح پہلے گزری ہوئی قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے، اسی طرح آگے آنے والی قوموں کے لیے بھی یہ ہمیشہ تباہ کن ہی ثابت ہوگا۔ اس سے نہ کوئی قوم پہلے مستثنیٰ تھی نہ آئندہ کبھی ہوگی۔
Ayahs 77:18–19

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 11

سورة الْمُرْسَلٰت 10 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ دنیا میں ان کا جو انجام ہوا ہے یا آئندہ ہوگا وہ ان کی اصل سزا نہیں ہے، بلکہ اصلی تباہی تو ان پر فیصلے کے دن نازل ہوگی۔ یہاں کی پکڑ تو صرف یہ حیثیت رکھتی ہے کہ جب کوئی شخص مسلسل جرائم کرتا چلا جائے اور کسی طرح اپنی بگڑی ہوئی روش سے باز نہ آئے تو آخر کار اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔ عدالت، جہاں اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونا ہے اور اسے اس کے تمام کرتوتوں کی سزا دی جانی ہے، اس دنیا میں قائم نہیں ہوگی بلکہ آخرت میں ہوگی، اور وہی اس کی تباہی کا اصل دن ہوگا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حواشی 5۔ 6۔ ہود، حاشیہ 105)۔
Ayahs 77:20–21

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

اور ایک مقرر مدت تک12

سورة الْمُرْسَلٰت 11 اصل الفاظ ہیں قدر معلوم۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہے کہ وہ مدت مقرر ہے، بلکہ اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اس کی مدت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ کسی بچے کے متعلق کسی ذریعہ سے بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ کتنے مہینے، کتنے گھنٹے اور کتنے منٹ اور سکنڈ ماں کے پیٹ میں رہے گا، اور اس کا ٹھیک وقت ولادت کیا ہوگا۔ اللہ ہی نے ہر بچے کے لیے ایک خاص مدت مقرر کی ہے اور وہی اس کو جانتا ہے۔
Ayah 77:22

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟

سورة الْمُرْسَلٰت 12 یعنی رحم مادر، جس میں استقرار حمل ہوتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی کے ساتھ جمایا جاتا ہے اور اتنے انتظامات اس کی حفاظت اور پرورش کے کیے جاتے ہیں کہ کسی شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا، اور مصنوعی اسقاط کے لیے بھی غیر معمولی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں جو فن طب کی جدید ترقیات کے باوجود خطرے اور نقصان سے خالی نہیں ہیں۔
Ayah 77:23

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ 13

سورة الْمُرْسَلٰت 13 یہ حیات بعد موت کے امکان کی صریح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ایک حقیر نطفے سے تمہاری ابتدا کر کے تمہیں پورا انسان بنانے پر قادر تھے، تو آخر دوبارہ تمہیں کسی اور طرح پیدا کردینے پر کیوں قادر نہ ہوں گے ؟ ہماری یہ تخلیق، جس کے نتیجے میں تم آج زندہ موجود ہو، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، ایسے عاجز نہیں ہیں کہ ایک دفعہ پیدا کر کے پھر تمہیں پیدا نہ کرسکیں۔
Ayah 77:24

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 14

سورة الْمُرْسَلٰت 14 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ حیات بعد موت کے امکان کی یہ صریح دلیل سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں، وہ آج اس کا جتنا چاہیں مذاق اڑا لیں، اور جس قدر چاہیں اس کے ماننے والوں کو دقیانوسی، تاریک خیال اور اوہام پرست قرار دیتے رہیں، مگر جب وہ دن آجائے گا جسے جھٹلا رہے ہیں تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ ان کے لیے تباہی کا دن ہے۔
Ayahs 77:25–27

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟ 15

سورة الْمُرْسَلٰت 15 یہ آخرت کے ممکن اور معقول ہونے پر ایک دلیل ہے۔ یہی ایک کرہ زمین ہے جو کروڑوں اور اربوں سال سے بےحدوحساب مخلوقات کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے، ہر قسم کی نباتات، ہر قسم کے حیوانات اور انسان اس پر جی رہے ہیں اور سب کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے پیٹ میں سے طرح طرح کے اتھاہ خزانے نکلتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر یہی زمین ہے جس پر ان تمام اقسام کی مخلوقات کے بیشمار افراد روز مرتے ہیں، مگر ایسا بےنظیر انتظام کردیا گیا ہے کہ سب کے لاشے اسی زمین میں ٹھکانے لگ جاتے ہیں اور یہ پھر ہر مخلوق کے نئے افراد کے جینے اور بسنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ اس زمین کو سپاٹ گیند کی طرح بھی بنا کر نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ اس میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے اور فلک بوس پہاڑ قائم کیے گئے ہیں جن کا موسموں کے تغیرات میں، بارشوں کے برسنے میں، دریاؤں کی پیدائش میں، زرخیز وادیوں کے وجود میں، بڑے بڑے شہتیر فراہم کرنے والے درختوں کے اگنے میں، قسم قسم کی معدنیات اور طرح طرح کے پتھروں کی فراہمی میں بہت بڑا دخل ہے۔ پھر اس زمین کے پیٹ میں بھی میٹھا پانی پیدا کیا گیا ہے، اس کی پیٹھ پر بھی میٹھے پانی کی نہریں بہا دی گئی ہیں اور سمندر کے کھارے پانی سے صاف ستھرے بخارات اٹھا کر بھی نتھرا ہوا پانی آسمان سے برسانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کیا یہ سب اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک قا در مطلق نے یہ سب کچھ بنایا ہے، اور محض قادر ہی نہیں ہے بلکہ علیم و حکیم بھی ہے ؟ اب اگر اس قدرت اور حکمت ہی سے یہ زمین اس سرد سامان کے ساتھ اور ان حکمتوں کے ساتھ بنی ہے تو ایک صاحب عقل آدمی کو یہ سمجھنے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ اسی کی قدرت اس دنیا کی بساط لپیٹ کر پھر ایک دوسری دنیا نئے طرز پر بنا سکتی ہے، اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کے بعد ایک دوسری دنیا بنائے تاکہ انسان سے ان اعمال کا حساب لے جو اس نے اس دنیا میں کیے ہیں ؟
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 16

سورة الْمُرْسَلٰت 16 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ خدا کی قدرت اور حکمت کے یہ کرشمے دیکھ کر بھی آخرت کے ممکن اور معقول ہونے کا انکار کر رہے ہیں اور اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ خدا اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا پیدا کرے گا اور اس میں انسان سے اس کے اعمال کا حساب لے گا، وہ اپنی اس خام خیالی میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو رہیں۔ جس روز یہ سب کچھ ان کی توقعات کے خلاف پیش آجائے گا اس روز انہیں پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے یہ حماقت کر کے خود اپنے لیے تباہی مول لی ہے۔
Ayah 77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

17 چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے

سورة الْمُرْسَلٰت 17 اب آخرت کے دلائل دینے کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واقع ہوجائے گی تو وہاں ان منکرین کا حشر کیا ہوگا۔
Ayah 77:30

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، 18

سورة الْمُرْسَلٰت 18 سائے سے مراد دھوئیں کا سایہ ہے۔ اور تین شاخوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بہت بڑا دھواں اٹھتا ہے تو اوپر جا کر وہ کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 77:31–33

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

(جو اُچھلتی ہوئی یُوں محسُوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں۔ 19

سورة الْمُرْسَلٰت 19 بعنی ہر چنگاری ایک قصر جیسی بڑی ہوگی، اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود کر رہے ہیں۔
Ayahs 77:34–36

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔ 20

سورة الْمُرْسَلٰت 20 یہ ان کی آخری حالت ہوگی جو جہنم میں داخلہ کے وقت ان پر طاری ہوگی۔ اس سے پہلے میدان حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ کہیں گے۔ بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر خود بےقصور بننے کی کوشش کریں گے، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشواؤں کو گالیاں دیں گے، حتیٰ کہ بعض لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار کر گزریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا پوری طرح ثابت کردیا جائے گا، اور جب ان کے اپنے ہاتھ پاؤں اور ان کے اعضاء تک ان کے خلاف گواہی دے کر ثبوت جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے، اور جب بالکل بجا اور برحق طریقے سے عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے انہیں سزا سنا دی جائے گی تو وہ دم بخود رہ جائیں گے اور ان کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ عذر پیش کرنے کا موقع نہ دینے یا اس کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا موقع دیے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کردیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم اس طرح قطعی ناقابل انکار حد تک ثابت کردیا جائے گا کہ وہ اپنی معذرت میں کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اس کو بولنے نہیں دیا، یا میں نے اس کی زبان بند کردی، اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی حجت تمام کی کہ اس کے لیے زبان کھولنے یا کچھ بولنے کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔
Ayahs 77:37–39

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو۔ 21

سورة الْمُرْسَلٰت 21 یعنی دنیا میں تو تم بہت مکاریاں اور چالبازیاں کرتے رہے، اب یہاں کوئی چال چل کر میری پکڑ سے بچ سکتے ہو تو ذرا بچ دکھاؤ۔