77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 77:40–41

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

22 متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں

سورة الْمُرْسَلٰت 22 چونکہ یہ لفظ یہاں مکذبین (جھٹلانے والوں) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے متقیوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جھٹلانے سے پرہیز کیا اور اس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayahs 77:42–45

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور جو پھل وہ چاہیں (اُن کے لیے حاضر ہیں)

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 23

سورة الْمُرْسَلٰت 23 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے ایک مصیبت تو وہ ہوگی جو اوپر بیان ہوچکی ہے کہ میدان حشر میں وہ مجرموں کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے، علی الاعلان ان کے جرائم اس طرح ثابت کردیے جائیں گے کہ ان کے زبان کھولنے تک کا یارانہ رہے گا۔ اور آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ دوسری مصیبت بالائے مصیبت یہ ہوگی کہ وہی ایمان لانے والے جن سے ان کی عمر بھر لڑائی رہی، جنہیں وہ بیوقوف اور تنگ خیال اور رجعت پسند کہتے رہے، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے اور جنہیں اپنے نزدیک حقیر و ذلیل سمجھتے رہے، انہی کو وہ جنت میں مزے اڑاتے دیکھیں گے۔
Ayah 77:46

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

24 کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔ 25 حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو

سورة الْمُرْسَلٰت 24 اب کلام ختم کرتے ہوئے نہ صرف کفار مکہ کو بلکہ دنیا کے تمام کفار کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کلمات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔ سورة الْمُرْسَلٰت 25 یعنی دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں۔
Ayahs 77:47–48

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جُھکو تو نہیں جُھکتے۔ 26

سورة الْمُرْسَلٰت 26 اللہ کے آگے جھکنے سے مراد صرف اس کی عبادت کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب کو ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
Ayahs 77:49–50

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

اب اِس (قرآن)کے بعد اورکونسا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟27

سورة الْمُرْسَلٰت 27 یعنی جو بڑی سے بڑی چیز انسان کو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو سکتی تھی وہ قرآن کی صورت میں نازل کردی گئی ہے۔ اس کو پڑھ کر یا سن کر بھی اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا تو اس کے بعد پھر اور کیا چیز ایسی ہو سکتی ہیں جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟