78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

دوسری آیت کے فقرے عن النبا العظیم کے لفظ النبا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سورت کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سورت میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔

زمانہ نزول

سورۂ قیامہ سے سورة نازعات تک سب سورتوں کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔

موضوع اور مضمون

اس کا مضمون بھی وہی ہے جو سورة مرسلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اثبات اور اس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا۔ مکۂ معظمہ میں جب اول اول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کی خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔ ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلٰی اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے، اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اس لیے جھگڑا صرف اس امر میں تھا کہ دائی کی صفات و اختیارات میں اور الوہیت کی ذات میں ان کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔ دوسری بات کو مکہ کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوائے رسالت سے پہلے انہی کے درمیان گزاری تھی، اس میں انہوں نے کبھی آپ کو جھوٹا یا فریب کار، یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و معترف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انہیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار، اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سارے معاملات میں تو راست باز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔ اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے دراصل اتنی زیادہ الجھن کی موجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اس کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، اسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا، اور اسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل یقین بلکہ ناقابل تصور ہونے کے چرچے کرنے شروع کردیے۔ مگر اسلام کی راہ پر ان کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتارا جائے، کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملے میں ان کا طرز فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیار اقدار بدل سکتا، اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خود بخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اور بیچ بیچ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دیے گئے ہیں۔ اس دور کی سورتوں میں آخرت کے مضمون کی اس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے ان چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سن کر مکہ کے ہر کوچہ و بازار اور اہل مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمہارے لیے فرش بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ بلند وبالا پہاڑ تمہیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے ؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمہیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے ؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہرچند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے ؟ کیا تم رات اور دن کی آمدورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمہاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے ؟ کیا یہ سورج تمہیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت تمہیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے ؟ کیا تم ان بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور ان کے ذریعے سے غلے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں ؟ یہ ساری چیزیں کیا تمہیں یہی بتارہی ہیں کہ جس قادر مطلق نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت لانے اور آخرت برپا کرنے سے عاجز ہے ؟ اور اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہے مگر بجائے خود پورا کارخانہ بےمقصد ہے ؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بےمعنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست (Foreman) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے ؟ نہ کام بنانے پر پنشن اور انعام، نہ کام بگاڑنے پر بازپرس اور سزا ؟ یہ دلائل دینے کے بعد پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے کا دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔ صور میں بس ایک پھونک مارنے کی دیر ہے، وہ سب کچھ جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آجائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہوگے وہاں سے فوج در فوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمہارا انکار اس واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔ اس کے بعد آیت 21 سے 30 تک بتایا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھرپور بدلہ انہیں دیا جائے گا۔ پھر آیت 31 سے 36 تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب دہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کرلی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں ان کی خدمات کا صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زائد کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ آخر میں خدا کی عدالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے متوسلین کو بخشوا کر چھوڑنے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبان تک نہ کھول سکے گا، اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ملے گی کہ جس کے حق میں سفارش کا اذن ہو صرف اسی کے لیے سفارش کرے اور سفارش میں کوئی بےجا بات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمۂ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارش کے مستحق نہ ہوں گے۔ پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آ لگا ہے، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے لیکن اس تنبیہ کے باوجود جو اس سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس وقت اس کا یہ احساس اسی دنیا کے بارے میں ہوگا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔

Ayahs 78:1–3

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ 1

سورة النَّبَا 1 بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اہل مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں۔ پوچھ گچھ سے مراد یہی چہ میگوئیاں ہیں۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی، کبھی پہلے بھی تم نے سنا ہے کہ مر کے کوئی دوباہ زندہ ہوگا ؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑ کر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوچکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی ؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے ؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ چاند سورج اور تارے سب بجھ کر رہ جائیں اور دنیا کا یہ سارا جما جمایا نظام الٹ پلٹ ہوجائے گا ؟ یہ صاحب جو کل تک اچھے خاصے دانا آدمی تھے آج انہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ ہمیں ایسی عجیب انہونی خبریں سنا رہے ہیں۔ یہ جنت اور یہ دوزخ آخر پہلے کہاں تھیں جن کا ذکر ہم نے کبھی ان کی زبان سے نہ سنا تھا ؟ اب یہ ایک دم کہاں سے نکل آئی ہیں کہ انہوں نے ان کے عجیب و غریب نقشے ہمارے سامنے کھینچنے شروع کردیے ہیں ؟ ھم فیہ مختلفون کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ " وہ اس کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں کر رہے ہیں "۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کے انجام کے بارے میں یہ لوگ خود بھی کوئی ایک متفق علیہ عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ " ان کے درمیان اس کے متعلق مختلف خیالات پائے جاتے ہیں "۔ ان میں سے کوئی عیسائیوں کے خیالات سے متاثر تھا اور زندگی بعد موت کو مانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ وہ دوسری زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوگی۔ کوئی آخرت کا قطعی منکر نہ تھا مگر اسے شک تھا کہ وہ ہو سکتی ہے یا نہیں، چناچہ قرآن مجید ہی میں اس خیال کے لوگوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ان نظن الا ظنا و ما نحن بمستیقنین، " ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے "۔ (الجاثیہ آیت 31)۔ اور کوئی بالکل صاف صاف کہتا تھا کہ ان ھی الا حیاتنا الدنیا و ما نحن بمبعوثین، " جو کچھ بھی ہے بس ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم ہرگز مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے "۔ (الانعام۔ آیت 29)۔ پھر کچھ لوگ ان میں سے دہریے تھے اور کہتے تھے کہ ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما یھلکنا الا الدھر، " زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو "۔ (الجاثیہ۔ 24)۔ اور کچھ دوسرے لوگ دہریے تو نہ تھے مگر دوسری زندگی کو ناممکن قرار دیتے تھے، یعنی ان کے نزدیک یہ خدا کی قدرت سے خارج تھا کہ وہ مرے ہوئے انسانوں کو پھر سے زندہ کرسکے۔ ان کا قول تھا من یحییٰ العظام و ھی رمیم، " کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟ "۔ (یٰسین۔ 78)۔ یہ ان کے مختلف اقوال خود ہی اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کے پاس اس مسئلے میں کوئی علم نہ تھا، بلکہ وہ محض گمان و قیاس کے تیر تکے چلا رہے تھے، ورنہ علم ہوتا تو سب کسی ایک بات کے قائل ہوتے (مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد پنجم، الذاریات، حاشیہ 6)۔
Ayah 78:4

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہر گز نہیں، 2 عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

سورة النَّبَا 2 یعنی آخرت کے متعلق جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں سب غلط ہیں۔ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز صحیح نہیں ہے۔
Ayah 78:5

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ 3

سورة النَّبَا 3 یعنی وہ وقت دور نہیں ہے جب وہی چیز حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی جس کے بارے میں یہ فضول چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ رسول نے جو خبر ان کو دی تھی وہی صحیح تھی اور قیاس و گمان سے جو باتیں یہ بنا رہے تھے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا، 4

سورة النَّبَا 4 زمین کو انسان کے لیے فرض، یعنی ایک پرسکون قیام گاہ بنانے میں قدرت و حکمت کے جو کمالات کار فرما ہیں ان پر اس سے پہلے تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر تفصیلی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر مقامات ذیل ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 29۔ المؤمن، حواشی 90۔ 91۔ الزخرف، حاشیہ 7۔ الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ 18۔
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا، 5

سورة النَّبَا 5 زمین پر پہاڑ پیدا کرنے کی حکمتوں کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حاشیہ 12، جلد سوم، النحل، حاشیہ 74۔ جلد ششم، المرسلات، حاشیہ 15۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں(مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا، 6

سورة النَّبَا 6 انسان کو مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کرنا اپنے اندر جو عظیم حکمتیں رکھتا ہے ان کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 69، الروم، حواشی 28 تا 30۔ جلد چہارم، یسین، حاشیہ 31۔ الشوری، حاشیہ 77۔ الزخرف۔ حاشیہ 12۔ جلد ششم، القیامہ، حاشیہ 25۔
Ayah 78:9

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا، 7

سورة النَّبَا 7 انسان کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس حکمت کے ساتھ اس کی فطرت میں نیند کا ایک ایسا داعیہ رکھ دیا ہے جو ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹے سونے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن، جلد سوم۔ الروم، حاشیہ 33 میں کرچکے ہیں۔
Ayahs 78:10–11

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ پوش

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کا وقت بنایا، 8

سورة النَّبَا 8 یعنی رات کو اس غرض کے لیے تاریک بنادیا کہ اس میں تم روشنی سے محفوظ رہ کر زیادہ آسانی کے ساتھ نیند کا سکون حاصل کرسکو، اور دن کو اس مقصد سے روشن بنایا کہ اس میں تم زیادہ سہولت کے ساتھ اپنی معاش کے لیے کام کرسکو۔ زمین پر باقاعدگی کے ساتھ مسلسل رات اور دن کا الٹ پھیر کرتے رہنے کے بیشمار فوائد میں سے صرف اس ایک فائدے کی طرف اشارہ یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ بےمقصد، یا اتفاقاً نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت کام کر رہی ہے جس کا براہ راست تمہارے اپنے مفاد سے گہرا تعلق ہے۔ تمہارے وجود کی ساخت اپنے سکون و راحت کے لیے جس تاریکی کی طالب تھی وہ رات کو، اور اپنی معیشت کے لیے جس روشنی کی طالب تھی وہ دن کو مہیا کی گئی ہے۔ تمہاری ضروریات کے عین مطابق یہ انتظام خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ کسی حکیم کے بغیر نہیں ہوا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ 65۔ جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 32، المومن، حاشیہ 85۔ الزخرف، حاشیہ 4)۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے، 9

سورة النَّبَا 9 مضبوط کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ ان کی سرحدیں اتنی مستحکم ہیں کہ ان میں ذرہ برابر تغیر و تبدل نہیں ہونے پاتا اور ان سرحدوں کو پار کر کے عالم بالا کے بیشمار ستاروں اور سیاروں میں سے کوئی نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ تمہاری زمین پر آ گرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2۔ الحجر، حواشی 8، 12۔ جلد سوم، المؤمنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 13۔ یٰسین، حاشیہ 37۔ الصافات، حواشی 5۔ 6۔ المومن، حاشیہ 90۔ جلد پنجم، ق حواشی 7۔ 8)۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا، 10

سورة النَّبَا 10 مراد ہے سورج۔ اصل میں لفظ وھاج استعمال ہوا ہے جس کے معنی نہایت گرم کے بھی ہیں اور نہایت روشن کے بھی، جس عظیم الشان نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے، اور اس کی گرمی کا حال یہ ہے کہ زمین کے بعض حصوں میں اس کی تپش کی وجہ سے درجہ حرارت 140 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے کہ اس نے زمین کو اس سے ٹھیک ایسے فاصلے پر رکھا ہے کہ نہ اس سے بہت قریب ہونے کے باعث یہ بےانتہا گرم ہے اور نہ بہت دور ہونے کی باعث بےانتہا سرد، اسی وجہ سے یہاں انسان، حیوان اور نباتات کی زندگی ممکن ہوئی ہے۔ اسی سے قوت کے بےحساب خزانے نکل کر زمین پر پہنچ رہے ہیں جو ہمارے لیے سبب حیات بنے ہوئے ہیں۔ اسی سے ہماری فصلیں پک رہی ہیں اور ہر مخلوق کو غذا بہم پہنچ رہی ہے۔ اسی کی حرارت سمندروں کے پانی کو گرم کر کے وہ بھاپیں اٹھاتی ہیں جو ہواؤں کے ذریعہ سے زمین کے مختلف حصوں پر پھیلتی اور بارش کی شکل میں برستی ہیں۔ اس سورج میں اللہ نے ایسی زبردست بھٹی سلگا رکھی ہے جو اربوں سال سے روشنی حرات اور مختلف اقسام کی شعاعیں سارے نظام شمسی میں پھینکے چلی جا رہی ہے۔
Ayahs 78:14–16

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغ اُگائیں؟ 11

سورة النَّبَا 11 زمین پر بارش کے انتظام اور نباتات کی روئیدگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے جو جو حیرت انگیز کمالات کارفرما ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ تفہیم القرآن کے حسب ذیل مقامات پر روشنی ڈالی گئی ہے جلد دوم، النحل حاشیہ 53 الف۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 17۔ الشعراء، حاشیہ 5۔ الروم حاشیہ 35۔ جلد چہارم، فاطر، حاشیہ 19۔ یٰسین، حاشیہ 29۔ المومن، حاشیہ 20۔ الزخرف، حواشی 10۔ 11۔ جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 28 تا 30۔ ان آیات میں پے درپے بہت سے آثار و شواہد کو پیش کر کے قیامت اور آخرت کے منکرین کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم آنکھیں کھول کر زمین اور پہاڑوں اور خود اپنی پیدائش اور اپنی نیند اور بیداری اور روز و شب کے اس انتظام کو دیکھو، کائنات کے بندھے ہوئے نظام اور آسمان کے چمکتے ہوئے سورج کو دیکھو، بادلوں سے برسنے والی بارش اور اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھو، تو تمہیں دو باتیں ان میں نمایاں نظر آئیں گی۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ ایک زبردست قدرت کے بغیر نہ وجود میں آسکتا ہے، نہ اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر چیز کے اندر ایک عظیم حکمت کام کر رہی ہے اور کوئی کام بھی بےمقصد نہیں ہو رہا ہے۔ اب یہ بات صرف ایک نادان ہی کہہ سکتا ہے کہ جو قدرت ان ساری چیزوں کو وجود میں لانے پر قادر ہے وہ انہیں فنا کردینے اور دوبارہ کسی اور صورت میں پیدا کردینے پر قادر نہیں ہے۔ اور یہ بات بھی صرف ایک بےعقل ہی کہہ سکتا ہے کہ جس حکیم نے اس کائنات میں کوئی کام بھی بےمقصد نہیں کیا ہے اس نے اپنی دنیا میں انسان کو سمجھ بوجھ، خیر و شر کی تمیز، اطاعت و عصیان کی آزادی، اور اپنی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے اختیارات بےمقصد ہی دے ڈالے ہیں، انسان اس کی دی ہوئی چیزوں کو اچھی طرح استعمال کرے یا بری طرح، دونوں صورتوں میں اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، کوئی بھلائیاں کرتے کرتے مر جائے تو بھی مٹی میں مل کر ختم ہوجائے گا اور برائیاں کرتے کرتے مر جائے تو بھی مٹی ہی میں مل کر ختم ہوجائے گا، نہ بھلے کو اس کی بھلائی کا کوئی اجر ملے گا، نہ برے سے اس کی برائی پر کوئی باز پرس ہوگی۔ زندگی بعد موت اور قیامت و آخرت پر یہی دلائل ہیں جو جگہ جگہ قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد دوم، الرعد، حاشیہ 7۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 9۔ الروم، حاشیہ، 6۔ جلد چہارم، سبا، حواشی 10 ، 12۔ الصافات، حواشی 8۔ 9)۔
Ayahs 78:17–18

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے۔ 12

سورة النَّبَا 12 اس سے مراد وہ آخری نفخ صور ہے جس کا آوازہ بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان یکایک جی اٹھیں گے، اور تم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت مخاطب تھے، بلکہ وہ انسان ہیں جو آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 64۔ 74۔ الزمر، حاشیہ 79)۔
Ayahs 78:19–20

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ 13

سورة النَّبَا 13 اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں بھی قرآن کے دوسرے بہت سے مقامات کی طرح قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اس کیفیت کا ذکر ہے جو آخری نفخ صور کے وقت پیش آئے گی، اور بعد کی دو آیتوں میں وہ حالت بیان کی گئی ہے جو دوسرے نفخ صور کے موقع پر رونما ہوگی۔ اس کی وضاحت ہم تفہیم القرآن، جلد ششم تفسیر سورة الحاقہ، حاشیہ 10 میں کرچکے ہیں۔ " آسمان کھول دیا جائے گا "۔ سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفت سماوی اس طرح ٹوٹی پڑ رہی ہوگی کہ معلوم ہوگا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے کوئی دروازہ بھی بند نہیں رہا ہے۔ پہاڑوں کے چلنے اور سراب بن کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح پھیل جائیں گے کہ جہاں پہلے کبھی پہاڑ تھے وہاں ریت کے وسیع میدانوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اس کیفیت کو سورة طہٰ میں یوں بیان کیا گیا ہے " یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سے کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے "۔ آیات 105 تا 107 مع حاشیہ 83)۔
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے، 14

سورة النَّبَا 14 گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار کو پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ وہ بیخبر ی کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بےخوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی آماجگاہ ہے، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے۔
Ayahs 78:22–23

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے۔ 15

سورة النَّبَا 15 اصل میں لفاظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پے درپے آنے والے طویل زمانے، ایسے مسلسل ادوار کہ ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجائے۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی، کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہرحال جب مدتوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی متصور ہوتا ہے کہ وہ لا متناہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہوجائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو، اس لیے احقاب لازماً ایسے ادوار ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے درپے ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائیں اور کوئی دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولاً غلط ہے جو اسی موضوع کے بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہوتا ہو۔ قرآن میں 34 مقامات پر اہل جہنم کے لیے خلود (ہمیشگی) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تین جگہ صرف لفظ خلود ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر ابداً (ہمیشہ ہمیشہ) کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے اور ایک جگہ صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ " وہ چاہیں گے کہ جہنم سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے ہرگز نکلنے والے نہیں ہیں اور ان کے لیے قائم رہنے والے عذاب ہے "۔ (المائدہ، آیت 37)۔ ایک دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ " اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے "۔ اور یہی بات اہل جنت کے متعلق بھی فرمائی گئی ہے کہ " جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے "۔ (ہود، 107۔ 108)۔ ان تصریحات کے بعد لفظ احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ختم ہوجائے گا ؟
Ayahs 78:24–25

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون،16

سورة النَّبَا 16 اصل میں لفظ غساق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ، لہو، کچ لہو، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی ان تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفن اور سڑاند ہو۔
Ayahs 78:26–28

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا، 17

سورة النَّبَا 17 یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کردیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا۔
Ayah 78:29

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔ 18

سورة النَّبَا 18 یعنی ان کے اقوال و افعال، ان کی حرکات و سکنات، حتی کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ ہم تیار کرتے جا رہے تھے جس سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہ تھی، اور وہ بیوقوف اس سے بیخبر اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ کسی اندھیر نگر میں جی رہے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں، اس کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Ayahs 78:30–31

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

یقیناً متّقیوں 19 کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

سورة النَّبَا 19 یہاں متقیوں کا لفظ ان لوگوں کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے جو کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ اس لیے لامحالہ اس لفظ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو مانا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
Ayahs 78:32–33

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخیز ہم سن لڑکیاں، 20

سورة النَّبَا 20 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ ان لوگوں کی ہم سن ہوں گی جن کی زوجیت میں وہ دی جائیں گی۔ سورة ص، آیت 52۔ اور سورة واقعہ آیت 37 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔
Ayahs 78:34–35

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے جام

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔ 21

سورة النَّبَا 21 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے۔ وہاں کوئی یا وہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہوگی، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا، دنیا میں گالم گلوچ، بہتان، افترا، تہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے اس کا کوئی نام و نشان نہ ہوگا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم حاشیہ 38۔ جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 13۔ 14)۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

جزا ء اور کافی انعام 22 تمہارے ربّ کی طرف سے

سورة النَّبَا 22 جزاء کے بعد کافی انعام دینے کا ذکر یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کو صرف وہی جزا نہیں دی جائے گی جس کے وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر مستحق ہوں گے، بلکہ اس پر مزید انعام اور کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کے بارے میں صرف اتنا فرمایا گیا ہے کہ انہیں ان کے کرتوتوں کا بھر پور بدلہ دے دیا جائے گا، یعنی نہ ان کے جرائم سے کم سزا دی جائے گی نہ اس سے زیادہ۔ یہ بات قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے مثلا یونس، آیات 26۔ 27۔ النحل، آیات 89۔ 90۔ القصص، آیت 84۔ سبا، آیات 33 تا 38۔ المومن، آیت 40۔
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔23

سورة النَّبَا 23 یعنی میدان حشر میں دربار الہی کے رعب کا یہ عالم ہوگا کہ اہل زمین ہوں یا اہل آسمان، کسی کی بھی یہ مجال نہ ہوگی کہ از خود اللہ تعالیٰ کے حضور زبان کھول سکے، یا عدالت کے کام میں مداخلت کرسکے۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس روز رُوح 24 اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ 25

سورة النَّبَا 24 اہل تفسیر کی اکثریت کا خیال یہی ہے کہ اس سے مراد جبرئیل ؑ ہیں اور ان کا جو بلند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے اس کی وجہ سے ملائکہ سے الگ ان کا ذکر کیا گیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المعارج، حاشیہ 3)۔ سورة النَّبَا 25 بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اسی کے حق میں شفاعت کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست بات کہے، بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ حق کا قائل رہا ہو، یعنی محض گناہ کار ہو، کافر نہ ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 281، جلد دوم، یونس، حاشیہ 5، ہود، حاشیہ 106، جلد سوم، مریم حاشیہ 52، طہٰ ، حواشیہ 85۔ 86۔ الانبیاء حاشیہ 27۔ جلد چہارم، سبا، حواشی 40۔ 41۔ المومن، حاشیہ 32۔ الزخرف، حاشیہ 68۔ جلد پنجم، النجم، حاشیہ 21۔ جلد ششم، المدثر، حاشیہ 36)۔
Ayahs 78:39–40

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ 26 جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔ 27

سورة النَّبَا 26 بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہر کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہوگا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 26۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 56۔ جلد سوم۔ طٰہٰ ، حاشیہ 80۔ جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 48)۔ سورة النَّبَا 27 یعنی دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا، یا مر کر مٹی میں مل جاتا اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔