78. Surah An-Naba
النبإThe Announcement · 40 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
دوسری آیت کے فقرے عن النبا العظیم کے لفظ النبا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سورت کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سورت میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔
زمانہ نزول
سورۂ قیامہ سے سورة نازعات تک سب سورتوں کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔
موضوع اور مضمون
اس کا مضمون بھی وہی ہے جو سورة مرسلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اثبات اور اس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا۔ مکۂ معظمہ میں جب اول اول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کی خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔ ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلٰی اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے، اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اس لیے جھگڑا صرف اس امر میں تھا کہ دائی کی صفات و اختیارات میں اور الوہیت کی ذات میں ان کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔ دوسری بات کو مکہ کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوائے رسالت سے پہلے انہی کے درمیان گزاری تھی، اس میں انہوں نے کبھی آپ کو جھوٹا یا فریب کار، یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و معترف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انہیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار، اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سارے معاملات میں تو راست باز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔ اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے دراصل اتنی زیادہ الجھن کی موجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اس کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، اسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا، اور اسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل یقین بلکہ ناقابل تصور ہونے کے چرچے کرنے شروع کردیے۔ مگر اسلام کی راہ پر ان کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتارا جائے، کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملے میں ان کا طرز فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیار اقدار بدل سکتا، اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خود بخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اور بیچ بیچ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دیے گئے ہیں۔ اس دور کی سورتوں میں آخرت کے مضمون کی اس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے ان چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سن کر مکہ کے ہر کوچہ و بازار اور اہل مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمہارے لیے فرش بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ بلند وبالا پہاڑ تمہیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے ؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمہیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے ؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہرچند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے ؟ کیا تم رات اور دن کی آمدورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمہاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے ؟ کیا یہ سورج تمہیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت تمہیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے ؟ کیا تم ان بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور ان کے ذریعے سے غلے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں ؟ یہ ساری چیزیں کیا تمہیں یہی بتارہی ہیں کہ جس قادر مطلق نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت لانے اور آخرت برپا کرنے سے عاجز ہے ؟ اور اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہے مگر بجائے خود پورا کارخانہ بےمقصد ہے ؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بےمعنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست (Foreman) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے ؟ نہ کام بنانے پر پنشن اور انعام، نہ کام بگاڑنے پر بازپرس اور سزا ؟ یہ دلائل دینے کے بعد پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے کا دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔ صور میں بس ایک پھونک مارنے کی دیر ہے، وہ سب کچھ جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آجائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہوگے وہاں سے فوج در فوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمہارا انکار اس واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔ اس کے بعد آیت 21 سے 30 تک بتایا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھرپور بدلہ انہیں دیا جائے گا۔ پھر آیت 31 سے 36 تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب دہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کرلی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں ان کی خدمات کا صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زائد کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ آخر میں خدا کی عدالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے متوسلین کو بخشوا کر چھوڑنے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبان تک نہ کھول سکے گا، اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ملے گی کہ جس کے حق میں سفارش کا اذن ہو صرف اسی کے لیے سفارش کرے اور سفارش میں کوئی بےجا بات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمۂ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارش کے مستحق نہ ہوں گے۔ پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آ لگا ہے، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے لیکن اس تنبیہ کے باوجود جو اس سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس وقت اس کا یہ احساس اسی دنیا کے بارے میں ہوگا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔
عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader
کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں
الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ 1
كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader
ہر گز نہیں، 2 عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader
ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ 3
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا، 4
وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader
اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا، 5
وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader
اور تمہیں(مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا، 6
وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader
اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا، 7
وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader
اور رات کو پردہ پوش
وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader
اور دن کو معاش کا وقت بنایا، 8
وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader
اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے، 9
وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا، 10
وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader
اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader
تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی
وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader
اور گھنے باغ اُگائیں؟ 11
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader
جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے۔ 12
وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ 13
اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader
در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے، 14
لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader
سرکشوں کا ٹھکانا
لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader
جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے۔ 15
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader
اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے
اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون،16
جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader
(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ
اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا، 17
وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔ 18
فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader
اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader
یقیناً متّقیوں 19 کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader
باغ اور انگور
وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader
اور نوخیز ہم سن لڑکیاں، 20
وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader
اور چھلکتے ہوئے جام
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader
وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔ 21
جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader
جزا ء اور کافی انعام 22 تمہارے ربّ کی طرف سے
رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader
اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔23
یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader
جس روز رُوح 24 اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ 25
ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader
وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ 26 جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔ 27