79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلے ہی لفظ النٰزعٰت سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول

حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ سورة نباء (عم یتسآءلون) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس کا مضمون بھی یہی بتارہا ہے کہ یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر تنبیہ بھی کہ خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوگا۔ آغاز کلام میں موت کے وقت جان نکالنے والے، اور اللہ کے احکام کو بلا تاخیر بجا لانے والے، اور حکم الٰہی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آ کر رہے گی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، انہی کے ہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جاسکتی ہے، اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کرسکتے ہیں اور ایک دوسرا نظام قائم بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یہ کام، جسے تم بالکل ناممکن سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ کے لیے سرے سے کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کے لیے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کر دے گا، اور دوسرا جھٹکا اس کے لیے بالکل کافی ہوگا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہوں گے جس کو وہ اپنے نزدیک ناممکن سمجھتے تھے۔ پھر حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ مختصراً بیان کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کر کے اس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس کے بعد آیت 27 سے 33 تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کردینا زیادہ سخت کام ہے یا اس عظیم کائنات کو پیدا کرنا جو عالم بالا میں اپنے بےحد و حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے ؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بار گرد تخلیق آخر کیوں مشکل ہوگی ؟ صرف ایک فقرے میں امکان آخرت کی یہ مسکت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین اور اس سروسامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کرے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اس کا محاسبہ کرنا زیادہ مقتضائے حکمت نظر آتا ہے، یا یہ کہ وہ زمین ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے فنا ہوجائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ ان اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا ؟ اس سوال پر بحث کرنے کے بجائے آیات 34 – 41 میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت برپا ہوگی تو انسان کے دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حد بندگی سے تجاوز کر کے اپنے خدا سے سرکشی کی اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذتوں کو مقصود بنا لیا، اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے احتراز کیا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جواب ہر اس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اس پر غور کرے۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اسی بنیاد پر آخر کار اس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔ آخر میں کفار مکہ کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب ؟ یہ سوال وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبردار کردینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے اپنا رویہ درست کرلے اور جس کا جی چاہے بےخوف ہو کر شتر بےمہار کی طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی پر مر مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لیے اپنا مستقبل برباد کرلیا۔

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (احکامِ الٰہی کے مطابق)معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔ 1

سورة النّٰزِعٰت 1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسروق، سعید بن حبیر، ابو صالح، ابوالضحیٰ اور سدی ؓ کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ فرشتے ہیں جو موت کے وقت انسان کی جان کو اس کے جسم کی گہرائیوں تک اتر کر اور اس کی رگ رگ سے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ تیزی سے تیرتے پھرنے والوں سے مراد بھی حضرت علی، حضرت ابن مسعود، مجاہد، سعید بن حبیر اور ابوصالح ؓ نے فرشتے ہی لیے ہیں جو احکام الہی کی تعمیل میں اس طرح تیزی سے رواں دواں رہتے ہیں جیسے کہ وہ فضا میں تیر رہے ہوں۔ یہی مفہوم " سبقت کرنے والوں " کا حضرت علی، مجاہد، ابوصالح، اور حسن بصری ؓ نے لیا ہے اور سبقت کرنے سے مراد یہ ہے کہ حکم الہی کا اشارہ پاتے ہی ان میں سے ہر ایک اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔ " معاملات کا انتظام چلانے والوں " سے مراد بھی فرشتے ہیں، جیسا کہ حضرت علی، مجاہد، عطاء، ابو صالح، حسن بصری، قتادہ، ربیع بن انس، اور سدی ؓ سے منقول ہے۔ بالفاظ دیگر یہ سلطنت کائنات کے وہ کارکن ہیں جن کے ہاتھوں دنیا کا سارا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے۔ ان آیات کے یہ معنی اگرچہ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول نہیں ہوئے ہیں، لیکن چند اکابر صحابہ نے، ان تابعین نے جو صحابہ کے شاگرد تھے، جب ان کا یہ مطلب بیان کیا ہے تو گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ علم حضور ہی سے حاصل کیا گیا ہوگا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر ان فرشتوں کی قسم کس بنا پر کھائی گئی ہے جبکہ یہ خود بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر محسوس ہے جس کے واقع ہونے پر ان کو بطور شہادت اور بطور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے، واللہ اعلم، کہ اہل عرب فرشتوں کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ موت کے وقت انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے، زمین سے آسمان تک آناً فاناً وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ہر کام جس کا انہیں حکم دیا جائے بلا تاخیر انجام دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی مانتے تھے کہ یہ فرشتے حکم الہی کے تابع ہیں اور کائنات کا انتظام اللہ تعالیٰ ہی کے امر سے چلاتے ہیں خود مختار اور اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں۔ جہالت کی بنا پر وہ ان کو اللہ کی بیٹیاں ضرور کہتے تھے اور ان کو معبود بھی بنائے ہوئے تھے، لیکن ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ اصل اختیارات انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے یہاں وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر ان کے مذکورہ بالا اوصاف سے استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جس خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان ڈال بھی سکتے ہیں۔ اور جس خدا کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں اسی کے حکم سے جب بھی اس کا حکم ہو، اس کائنات کو وہ درہم برہم بھی کرسکتے ہیں، اور ایک دوسری دنیا بنا بھی سکتے ہیں۔ اس کے حکم کی تعمیل میں ان کی طرف سے ذرہ برابر بھی سستی یا لمحہ بھر کی تاخیر بھی نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 79:6–7

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا، 2

سورة النّٰزِعٰت 2 پہلے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کر دے گا اور دوسرے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جس کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئیں گے۔ اسی کیفیت کو سورة زمر میں یوں بیان کیا گیا ہے " اور صور پھونکا جائے گا تو زمین اور آسمان میں جو بھی ہیں وہ سب مر کر گر جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ (زندہ رکھنا) چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے "۔ (آیت 68)۔
Ayah 79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے، 3

سورة النّٰزِعٰت 3 " کچھ دل " کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے صرف کفار و فجار اور منافقین ہی پر قیامت کے روز ہول طاری ہوگا۔ مومنین صالحین اس ہول سے محفوظ ہوں گے۔ سورة انبیاء میں ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ " وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا "۔ (آیت 103)۔
Ayahs 79:9–12

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہنے لگے”یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!“ 4

سورة النّٰزِعٰت 4 یعنی جب ان کو جواب دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یارو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔
Ayahs 79:13–14

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ 5

سورة النّٰزِعٰت 5 یعنی یہ لوگ اسے ایک امر محال سمجھ کر اس کو ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کو انجام دینے کے لیے کچھ بڑی لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑکی کافی ہے جس کے ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اس سے کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رک نہیں سکتی،
Ayah 79:15

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

6 کیا تمہیں مُوسیٰؑ کے قصّے کی خبر پہنچی ہے؟

سورة النّٰزِعٰت 6 چونکہ کفار مکہ کا قیامت اور آخرت کو نہ ماننا اور اس کا مذاق اڑانا دراصل کسی فلسفے کو رد کرنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے رسول کو جھٹلانا تھا، اور جو چالیں وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف چل رہے تھے وہ کسی عام آدمی کے خلاف نہیں بلکہ اللہ کے رسول کی دعوت کو زک دینے کے لیے تھیں، اس لیے وقوع آخرت کے مزید دلائل دینے سے پہلے ان کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ سنایا جا رہا ہے تاکہ وہ خبردار ہوجائیں کہ رسالت سے ٹکرانے اور رسول کے بھیجنے والے خدا کے مقابلے میں سر اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 79:16

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب اس کے ربّ نے اُسے طُویٰ کی مقدّس وادی 7 میں پُکارا تھا

سورة النّٰزِعٰت 7 وادی مقدس طویٰ کے معنی بالعموم مفسرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ " وہ مقدس وادی جس کا نام طویٰ تھا "۔ لیکن اس کے علاوہ اس کے دو معنی اور بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ " وہ وادی جو دو مرتبہ مقدس کی گئی "، کیونکہ ایک دفعہ اس وقت مقدس کیا گیا جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے وہاں حضرت موسیٰ کو مخاطب فرمایا، اور دوسری دفعہ اسے تقدیس کا شرف اس وقت بخشا گیا جب حضرت موسیٰ مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر اس وادی میں لائے۔ دوسرے یہ کہ " رات کے وقت وادی مقدس میں پکارا "۔ عربی میں محاورہ ہے جاء بعد طوی، یعنی فلاں شخص میرے پاس رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد آیا۔
Ayahs 79:17–19

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا)خوف تیرے اندر پیدا ہو؟“ 8

سورة النّٰزِعٰت 8 یہاں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیں (1) حضرت موسیٰ کو منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت جو باتیں ان کے اور اللہ کے درمیان ہوئی تھیں ان کو قرآن مجید میں حسب موقع کہیں مختصر اور کہیں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ یہاں موقع اختصار کا طالب تھا، اس لیے ان کا صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ سورة طہٰ ، آیات 9 تا 48، سورة شعراء آیات 10 تا 17، سورة نمل، آیات 7 تا 12، اور سورة قصص، آیات 29 تا 35 میں ان کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ (2) فرعون کی جس سرکشی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خالق اور خلق، دونوں کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے۔ خالق کے مقابلے میں اس سرکشی کا ذکر تو آگے آ رہا ہے کہ اس نے اپنی رعیت کو جمع کر کے اعلان کیا کہ " میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں "۔ اور خلق کے مقابلے میں اس کی سرکشی یہ تھی کہ اس نے اپنی مملکت کے باشندوں کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں بانٹ رکھا تھا، کمزور طبقوں پر وہ سخت ظلم و ستم ڈھا رہا تھا، اور اپنی پوری قوم کو بیوقوف بنا کر اس نے غلام بنا رکھا تھا، جیسا کہ سورة قصص آیت 4 اور سورة زخرف آیت 54 میں بیان کیا گیا ہے۔ (3) حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی، " تم اور ہارون دونوں بھائی اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے اور خدا سے ڈرے "۔ (طہٰ ، آیت 44) اس نرم کلام کا ایک نمونہ تو ان آیات میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورة ، آیات 49 تا 52، الشعراء، 23 تا 28، اور القصص، آیت 37 میں دیے گئے ہیں۔ یہ منجملہ ان آیات کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکمت تبلیغ کی تعلیم دی ہے۔ (4) حضرت موسیٰ صرف بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے ہی فرعون کے پاس نہیں بھیجے گئے تھے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ ان کی بعثت کا پہلا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو راہ راست دکھانا تھا اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ راست قبول نہ کرے تو بنی اسرائیل کو (جو اصل میں ایک مسلمان قوم تھے) اس کی غلامی سے چھڑا کر مصر سے نکلال لائیں۔ یہ بات ان آیات سے بھی ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ ان میں سرے سے بنی اسرائیل کی رہائی کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے سامنے صرف حق کی تبلیغ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان مقامات سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے جہاں حضرت موسیٰ نے تبلیغ اسلام بھی کی ہے اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ بھی فرمایا ہے۔ مثلا ملاحظہ ہو (الاعراف، آیات 104 تا 105۔ طہٰ ، آیات 47 تا 52۔ الشعراء، آیات 16۔ 17۔ و 23 تا 28)۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 74)۔ (5) یہاں پاکیزگی (تزکی) اختیار کرنے کا مطلب عقیدے اور اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کرنا یا دوسرے الفاظ میں اسلام قبول کرلینا ہے۔ چناچہ وہ مثال میں قرآن مجید کی حسب ذیل تین آیات کو پیش کرتے ہیں۔ و ذلک جزاؤ من تزکی، اور یہ جزا ہے اس کی جو پاکیزگی اختیار کرے "۔ یعنی اسلام لائے۔ وما یدریک لعلہ یزکی، " اور تمہیں کیا خبر شاید کہ وہ پاکیزگی اختیار کرے "۔ یعنی مسلمان ہوجائے۔ وما علیک الا یزکی، " اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے "۔ یعنی مسلمان نہ ہو۔ (ابن جریر) (6) یہ ارشاد کہ " میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا خوف) تیرے دل میں پیدا ہو "۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تو اپنے رب کو پہچان لے گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ تو اس کا بندہ ہے، مرد آزاد نہیں ہے، تو لازماً تیرے دل میں اس کا خوف پیدا ہوگا، اور خوف خدا ہی وہ چیز ہے جس پر دنیا میں آدمی کے رویے کے صحیح ہونے کا انحصار ہے۔ خدا کی معرفت اور اس کے خوف کے بغیر کسی پاکیزگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 79:20

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر)اُس کی بڑی نشانی دکھائی، 9

سورة النّٰزِعٰت 9 بڑی نشانی سے مراد عصا کا اژدہا بن جانا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بیجان لاٹھی سب دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے علانیہ اژدہا بن جائے جادوگر اس کے مقابلے میں لاٹھیوں اور رسیوں کے جو مصنوعی اژدھے بنا کردکھائیں ان سب کو وہ نگل جائے، اور پھر حضرت موسیٰ جب اس کو پکڑ کر اٹھا لیں تو وہ پھر لاٹھی بن کر رہ جائے۔ یہ اس بات کی صریح علامت تھی کہ وہ اللہ رب العالمین ہی ہے جس کی طرف سے حضرت موسیٰ بھیجے گئے ہیں۔
Ayahs 79:21–22

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا 10

سورة النّٰزِعٰت 10 اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس نے تمام مصر سے ماہر جادوگروں کو بلوایا اور ایک مجمع عام میں ان لاٹھیوں اور رسیوں کے اژدھے بنوا کر دکھائے تاکہ لوگوں کو یقین آجائے کہ موسیٰ ؑ کوئی نبی نہیں بلکہ ایک جادوگر ہیں، اور لاٹھی کا اژدہا بنا کر جو کرشمہ انہوں نے دکھایا ہے وہ دوسرے جادوگر بھی دکھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کی یہ چال الٹی پڑی اور جادوگروں نے شکست کھا کر خود تسلیم کرلیا کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے۔
Ayahs 79:23–24

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں“ 11

سورة النّٰزِعٰت 11 فرعون کا یہ دعویٰ کئی مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ " اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا "۔ (الشعراء آیت 29)۔ ایک اور موقع پر اس نے اپنے دربار میں لوگوں کو خطاب کر کے کہا " اے سرداران قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا بھی ہے "۔ (القصص، آیت 38)۔ ان ساری باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا اور نہیں ہوسکتا تھا کہ وہی کائنات کا خالق ہے اور اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔ قرآن مجید ہی میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ خود دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا تھا۔ چناچہ اس کے اہل دربار ایک موقع پر اس کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ " کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ " (الاعراف، آیت 127)۔ اور قرآن میں فرعون کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر موسیٰ خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو کیوں نے اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا اس کے ساتھ ملائکہ اس کی اردلی میں کیوں نہ آئے ؟ (الزخرف، آیت 53)۔ پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الہ اور رب اعلی کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلی کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے، اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 85۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 21۔ الشعراء، حواشی 24۔ 26۔ القصص، حواشی 52۔ 53۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 49)۔
Ayahs 79:25–26

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

در حقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 12

سورة النّٰزِعٰت 12 یعنی خدا کے رسول کو جھٹلانے کے اس انجام سے ڈر جو فرعون دیکھ چکا ہے۔
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

13 کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ 14 اللہ نے اُس کو بنایا

سورة النّٰزِعٰت 13 اب قیامت اور حیات بعد الموت کے ممکن اور مقضائے حکمت ہونے کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ سورة النّٰزِعٰت 14 تخلیق سے مراد انسانوں کی دوبارہ تخلیق ہے اور آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جس میں بیشمار ستارے اور سیارے، بےحد و حساب شمسی نظام اور ان گنت کہکشاں پائے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم جو موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو کوئی بڑی ہی امر محال سمجھتے ہو، اور بار بار کہتے ہو کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہماری ہڈیاں تک بوسیدہ ہوچکی ہوں گی اس حالت میں ہمارے پراگندہ اجزائے جسم پھر سے جمع کردیے جائیں اور ان میں جان ڈال دی جائے، کبھی اس بات پر بھی غور کرتے ہو کہ اس عظیم کائنات کا بنانا زیادہ سخت مشکل کام ہے یا تمہیں ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد دوبارہ اسی شکل میں پیدا کردینا ؟ جس خدا کے لیے وہ کوئی مشکل کام نہ تھا اس کے لیے (آخر یہ کیوں ایسا مشکل کام ہے کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے ؟ حیات بعد الموت پر یہی دلیل قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دی گئی ہے۔ مثلاً سورة یسین میں ہے " اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین کو بنایا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو (پھر سے) پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں، وہ تو بڑا زبردست خالق ہے، تخلیق کے کام کو خوب جانتا ہے " (آیت 81)۔ اور سورة مومن میں فرمایا " یقیناً آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے، مگر اکثر جانتے نہیں ہیں " (آیت 57)۔
Ayahs 79:28–29

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔ 15

سورة النّٰزِعٰت 15 رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے ہی رات آتی ہے اور اسی کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔
Ayah 79:30

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا، 16

سورة النّٰزِعٰت 16 " اس کے بعد زمین کو بچھانے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی، بلکہ یہ ایسا ہی طرز بیان ہے جیسے ہم ایک بات کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں " پھر یہ بات غور طلب ہے " اس سے مقصود ان دونوں باتوں کے درمیان واقعاتی ترتیب بیان کرنا نہیں ہوتا کہ پہلے یہ بات ہوئی اور اس کے بعد دوسری بات، بلکہ مقصود ایک بات کے بعد دوسری بات کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اگرچہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں۔ اس طرز بیان کی متعدد نظیریں خود قرآن مجید میں موجود ہیں۔ مثلاً سورة قلم میں فرمایا عتل بعد ذلک زنیم " جفا کار ہے اور اس کے بعد بد اصل " اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ جفا کار بنا اور اس کے بعد بد اصل ہوا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جفا کار ہے اور اس پر مزید یہ کہ بد اصل بھی ہے۔ اسی طرح سورة بلد میں فرمایا فک رقبۃ۔۔۔۔۔ ثم کان من الذین امنو۔ " غلام آزاد کرے۔۔۔۔۔ پھر ایمان لانے والوں میں سے ہو "۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ نیک اعمال کرے، پھر ایمان لائے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان نیک اعمال کے ساتھ ساتھ اس میں مومن ہونے کی صفت بھی ہو۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن میں کہیں زمین کی پیدائش کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور آسمانوں کی پیدائش کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے، جیسے سورة بقرہ آیت 29 میں ہے۔ اور کسی جگہ آسمان کی پیدائش کا ذکر پہلے اور زمین کی پیدائش کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے، جیسے ان آیات میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ دراصل تضاد نہیں ہے۔ ان مقامات میں سے کسی جگہ بھی مقصود کلام یہ بتانا نہیں ہے کہ کسے پہلے بنایا گیا اور کسے بعد میں، بلکہ جہاں موقع و محل یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات کو نمایاں کیا جائے وہاں آسمانوں کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور زمین کا بعد میں، اور جہاں سلسلہ کلام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو ان نعمتوں کا احساس دلایا جائے۔ جو انہیں زمین پر حاصل ہو رہی ہیں وہاں زمین کے ذکر کو آسمانوں کے ذکر پر مقدم رکھا گیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، حمٰ السجدہ، حواشی 13۔ 14)۔
Ayah 79:31

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا،17

سورة النّٰزِعٰت 17 چارہ سے مراد اس جگہ صرف جانوروں کا چارہ نہیں ہے بلکہ تمام نباتات مراد ہے جو انسان اور حیوان دونوں کی غذا کے کام آتے ہیں۔ رعی اور رتع اگرچہ بالعموم عربی زبان میں جانور کے چرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی انسان کے لیے بھی استعمال کرلیے جاتے ہیں۔ مثلاً سورة یوسف میں آیا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے کہا ارسلہ معنا غدا یرتع و یلعب۔ " آپ کل یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیں کہ کچھ چر چگ لے اور کھیلے "۔ (آیت 12)۔ یہاں بچے کے چرنے (رتع) کا لفظ جنگل میں چل پھر کر پھل توڑنے اور کھانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 79:32–33

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ 18

سورة النّٰزِعٰت 18 ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے ان کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس سرد سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے مال حکمت کے جو آثار اس کائنات اور اس زمین میں صریحا نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بےمقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالم بالا میں بیشمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ خود اسی زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے کے اندر دن اور رات کا الٹ پھیر ہوجاتا ہے اور وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبے دن اور بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے خطوں میں ہے۔ اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ 6 مہینے کے دن اور 6 مہینے کی راتیں رکھنے والے علاقے آبادی کے بالکل قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے اسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی شہادت پیش کردی ہے کہ رات اور دن کی آمدو رفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہوگیا ہے بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے، اسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابل سکونت بن سکے، اس میں پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو، اس میں پہاڑوں کا جمانا اور وہ تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بن سکیں۔ یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ آفاقی حوادث یا کسی کھلنڈرے کے لیے بےمقصد کام نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہت بڑی حکیم و دانا ہستی نے بامقصد کیا ہے۔ اب یہ ہر صاحب عقل آدمی کے خود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا ؟ جو شخص ان ساری چیزوں کو دیکھنے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہوگی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور مقصدیت کے ساتھ ہو رہا ہے، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور بااختیار بنا کر پیدا کرنا بےمقصد اور بےحکمت ہے۔ کیونکہ اس سے بڑی کوئی بےمقصد اور بےحکمت بات نہیں ہو سکتی کہ اس زمین میں تصرف کے وسیع اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔
Ayah 79:34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب وہ ہنگامہٴِ عظیم برپا ہوگا،19

سورة النّٰزِعٰت 19 اس سے مراد ہے قیامت اور اس کے لئے الطَّامَّۃُ الْکُبْریٰ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ طامّہ بجائے خود کسی ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ اس کے بعد اس کے لئے کُبریٰ کا لفظ مزید استعمال کیا گیا ہے جس سے خود بخود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شدّت کا تصوّر لانے کے لئے محض لفظ طامّہ بھی کافی نہیں ہے۔
Ayah 79:35

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا، 20

سورة النّٰزِعٰت 20 یعنی جب انسان دیکھ لے گا کہ وہی محاسبہ کا دن آ گیا ہے جس کی اسے دنیا میں خبر دی جا رہی تھی، تو قبل اس کے اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے۔ اسے ایک ایک کر کے اپنی وہ سب حرکتیں یاد آنے لگیں گی جو وہ دنیا میں کر کے آیا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ تجربہ خود اس دنیا میں بھی ہوتا ہے کہ اگر یکایک کسی وقت وہ کسی ایسے خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں جس میں موت ان کو بالکل قریب کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو اپنی پوری زندگی کی فلم ان کے چشم تصور کے سامنے یک لخت پھرجاتی ہے۔
Ayahs 79:36–39

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی تھی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی

سورة النّٰزِعٰت 21 یہاں چند مختصر الفاظ میں یہ بتادیا گیا ہے کہ آخرت میں اصل فیصلہ کس چیز پر ہونا ہے۔ دنیا میں زندگی کا ایک رویہ ہے کہ آدمی بندگی کی حد سے تجاوز کر کے اپنے خدا کے مقابلے میں سرکشی کرے اور یہ طے کرلے کہ اسی دنیا کے فائدے اور لذتیں اسے مطلوب ہیں خواہ کسی طرح بھی وہ حاصل ہوں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بسر کرتے ہوئے آدمی اس بات کو پیش نظر رکھے کہ آخر کار ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اور نفس کی بری خواہشات کو پورا کرنے سے اس لیے باز رہے کہ اگر یہاں اس نے اپنے نفس کا کہا مان کر کوئی ناجائز فائدہ کما لیا یا کوئی ناروا لذت حاصل کرلی تو اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔ آخرت میں فیصلہ اسی بات پر ہونا ہے کہ انسان نے ان دونوں میں سے کونسا رویہ دنیا میں اختیار کیا۔ پہلا رویہ اختیار کیا ہو تو اس کا مستقل ٹھکانا دوزخ ہے، اور دوسرا رویہ اختیار کیا ہو تو اس کی مستقل جائے قیام جنت۔