79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 79:40–42

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔ 21

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“ 22

سورة النّٰزِعٰت 22 کفار مکہ رسول اللہ سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد ششم، تفسیر سورة ملک، حاشیہ 35)۔
Ayahs 79:43–45

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے

سورة النّٰزِعٰت 23 اس کی تشریح بھی ہم تفسیر سورة ملک حاشیہ 36 میں کرچکے ہیں۔ رہا یہ ارشاد کہ تم ہر اس شخص کو خبردار کردینے والے ہو جو اس کا خوف کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوف نہ کرنے والوں کو خبردار کرنا تمہارا کام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے خبردار کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچے گا جو اس دن کے آنے کا خوف کرے۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جس 23 روز یہ لوگ اُسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (یہ دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔24

سورة النّٰزِعٰت 24 یہ مضمون اس سے پہلے کئی جگہ قرآن میں بیان ہوچکا ہے اور ہم اس کی تشریح کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 53۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 56۔ جلد سوم، طہٰ ، حاشیہ 80۔ المومنون، حاشیہ 101۔ الروم، حواشی 81۔ 82۔ جلد چہارم۔ یسین، حاشیہ 48۔ اس کے علاوہ یہ مضمون سورة احقاف آیت 35 میں بھی گزر چکا ہے جسکی تشریح ہم نے وہاں نہیں کی کیونکہ پہلے کئی جگہ تشریح ہوچکی تھی۔