80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلے ہی لفظ عبس کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

مفسرین و محدثین نے بالاتفاق اس سورت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ یہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں مکۂ معظمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ اتنے میں ابن ام مکتوم نامی ایک نابینا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی یہ مداخلت ناگوار ہوئی اور آپ نے ان سے بےرخی برتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سورت نازل ہوئی۔ اس تاریخی واقعہ سے اس سورت کا زمانۂ نزول بآسانی متعین ہوجاتا ہے۔ اولاً یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم بالکل ابتدائی دور کے اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔ حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر تصریح کرتے ہیں کہ اسلم بمکۃ قدیماً اور ھو ممن اسلم قدیماً یعنی یہ ان لوگوں میں سے تھے جو مکۂ معظمہ میں بہت پہلے اسلام لائے تھے۔ ثانیاً حدیث کی جن روایات میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے ان میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اسلام لا چکے تھے اور بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی طرف مائل ہوچکے تھے اور تلاش حق میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کا بیان ہے کہ انہوں نے آ کر عرض کیا تھا : یا رسول اللہ، ارشدنی (یا رسول اللہ، مجھے سیدھا راستہ بتائیے) ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ وہ آ کر قرآن کی ایک آیت کا مطلب پوچھنے لگے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ علمنی مما علمک اللہ " (یا رسول اللہ، مجھے وہ علم سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدا کا رسول اور قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرچکے تھے۔ دوسری طرف ابن زید آیت 3 کے لفظ لعلہ یزکٰی کا مطلب لعلہ یسلم (شاید وہ اسلام قبول کرلے) بیان کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا اپنا یہ ارشاد بھی کہ : ” تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو ؟ “ اور یہ کہ : ” جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے، اس سے تم بےرخی برتتے ہو “ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت ان کے اندر طلب حق کا گہرا جذبہ پیدا ہوچکا تھا، وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو ہدایت کا منبع سمجھ کر آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے تھے کہ ان کی طلب یہیں سے پوری ہوگی، اور یہ بات ان کی حالت سے ظاہر ہو رہی تھی کہ انہیں ہدایت دی جائے تو وہ اس سے مستفید ہوں گے۔ ثالثاً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں جو لوگ اس وقت بیٹھے تھے، مختلف روایات میں ان کے ناموں کی صراحت کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ہمیں عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف، ابی بن خلف جیسے بد ترین دشمنان اسلام کے نام ملتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس زمانے میں پیش آیا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان لوگوں کا میل جول ابھی باقی تھا اور کشمکش اتنی نہ بڑھی تھی کہ آپ کے ہاں ان کی آمدورفت اور آپ کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔ یہ سب امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ سورت بہت ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

بظاہر کلام کے آغاز کا انداز بیاں دیکھ کر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ نابینا سے بےرخی برتنے اور بڑے بڑے سرداروں کی طرف توجہ کرنے کی بنا پر اس سورت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب فرمایا گیا ہے لیکن پوری سورت پر مجموعی حیثیت سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دراصل عتاب کفار قریش کے ان سرداروں پر کیا گیا ہے جو اپنے تکبر اور ہٹ دھرمی اور صداقت سے بےنیازی کی بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ حق کو حقارت کے ساتھ رد کر رہے تھے، اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ کا صحیح طریقہ بتانے کے ساتھ ساتھ اس طریقے کی غلطی سمجھائی گئی ہے جو اپنی رسالت کے کام کی ابتدا میں آپ اختیار فرما رہے تھے۔ آپ کا ایک نابینا سے بےرخی برتنا اور سرداران قریش کی طرف توجہ کرنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ آپ بڑے لوگوں کو معزز اور بیچارے نابینا کو حقیر سمجھتے تھے، اور معاذ اللہ یہ کوئی کج خلقی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اندر پائی جاتی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی، بلکہ معاملہ کی اصل نوعیت یہ ہے کہ ایک داعی جب اپنی دعوت کا آغاز کرنے لگتا ہے تو فطری طور پر اس کا رحجان اس طرف ہوتا ہے کہ قوم کے با اثر لوگ اس کی دعوت قبول کرلیں تاکہ کام آسان ہوجائے، ورنہ عام بےاثر، معذور یا کمزور لوگوں میں دعوت پھیل بھی جائے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑ سکتا۔ قریب قریب یہی طرز عمل ابتدا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اختیار فرمایا تھا جس کا محرک سراسر اخلاص اور دعوت حق کو فروغ دینے کا جذبہ تھا نہ کہ بڑے لوگوں کی تعظیم اور چھوٹے لوگوں کی تحقیر کا تخیل۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو سمجھایا کہ اسلامی دعوت کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے، بلکہ اس دعوت کے نقطۂ نظر سے ہر وہ انسان اہمیت رکھتا ہے جو طالب حق ہو، چاہے وہ کیسا ہی کمزور، بےاثر، یا معذور ہو، اور ہر وہ شخص غیر اہم ہے جو حق سے بےنیازی برتے، خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی بڑا مقام رکھتا ہو۔ اس لیے آپ اسلام کی تعلیمات تو ہانکے پکارے سب کو سنائیں، مگر آپ کی توجہ کے اصل مستحق وہ لوگ ہیں جن میں قبول حق کی آمادگی پائی جاتی ہو، اور آپ کی بلند پایہ دعوت کے مقام سے یہ بات فروتر ہے کہ آپ اسے ان مغرور لوگوں کے آگے پیش کریں جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں یہ سمجھتے ہوں کہ ان کو آپ کی نہیں بلکہ آپ کو ان کی ضرورت ہے۔ یہ آغاز سورت سے آیت 16 تک کا مضمون ہے۔ اس کے بعد آیت 17 سے براہ راست عتاب کا رخ ان کفار کی طرف پھرجاتا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو رد کر رہے تھے۔ اس میں پہلے اس رویے پر انہیں ملامت کی گئی ہے جو وہ اپنے خالق و رزاق پروردگار کے مقابلے میں برت رہے تھے، اور آخر میں ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز وہ اپنی اس روش کا کیسا ہولناک انجام دیکھنے والے ہیں۔

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

Ayahs 80:2–9

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اِس با ت پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔1

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو شخص بے پروائی برتتا ہے

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے

سورة عبس 1 اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جن نابینا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ان سے مراد، جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں، مشہور صحابی حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔ حافظ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں بیان کیا ہے کہ یہ ام المومنین حضرت خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے، ان کی ماں ام مکتوب اور حضرت خدیجہ کے والد خویلد آپس میں بہن بھائی تھے۔ حضور کے ساتھ ان کا یہ رشتہ معلوم ہوجانے کے بعد اس شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ نے ان کو غریب یا کم حیثیت آدمی سمجھ کر ان سے بےرخی برتی اور بڑے آدمیوں کی طرف توجہ فرمائی تھی، کیونکہ یہ حضور کے اپنے برادر نسبتی تھے، خاندانی آدمی تھے، کوئی گرے پڑے آدمی نہ تھے۔ اصل وجہ جس کی بنا پر آپ نے ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، لفظ اعمی (نابینا) سے معلوم ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضور کی بےاعتنائی کے سبب کی حیثیت سے خود بیان فرما دیا ہے۔ یعنی حضور کا یہ خیال تھا کہ میں اس وقت جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں ان میں سے کوئی ایک آدمی بھی ہدایت پالے تو اسلام کو تقویت کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بخلاف اس کے ابن مکتوب ایک نابینا آدمی ہیں، اپنی معذوری کے باعث یہ اسلام کے لیے اس قدر مفید ثابت نہیں ہو سکتے جس قدر ان سرداروں میں سے کوئی مسلمان ہو کر مفید ہوسکتا ہے، اس لیے ان کو اس موقع پر گفتگو میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، یہ جو کچھ سمجھنا یا معلوم کرنا چاہتے ہیں اسے بعد میں کسی وقت بھی دریافت کرسکتے ہیں۔
Ayah 80:10

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بے رُخی برتتے ہو۔ 2

سورة عَبَس 2 یہی ہے وہ اصل نکتہ جسے رسول اللہ ﷺ نے تبلیغ دین کے معاملہ میں اس موقع پر نظر انداز کردیا تھا، اور اسی کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ابن ام مکتوم کے ساتھ آپ کے طرز عمل پر گرفت فرمائی، پھر آپ کو بتایا کہ داعی حق کی نگاہ میں حقیقی اہمیت کس چیز کی ہونی چاہیے اور کس کی نہ ہونی چاہیے۔ ایک وہ شخص ہے جس کی ظاہری حالت صاف بتارہی ہے کہ وہ طالب حق ہے، اس بات سے ڈر رہا ہے کہ کہیں وہ باطل کی پیروی کر کے خدا کے غضب میں مبتلا نہ ہوجائے، اس لیے وہ راہ راست کا علم حاصل کرنے کی خاطر خود چل کر آتا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کا رویہ صریحا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس میں حق کی کوئی طلب نہیں پائی جاتی، بلکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بےنیاز سمجھتا ہے کہ اسے راہ راست بتائی جائے۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کے درمیان دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ کون ایمان لے آئے تو دین کے لیے بہت مفید ہوسکتا ہے اور کس کا ایمان لانا دین کے فروغ میں کچھ زیادہ مفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ کون ہدایت کو قبول کر کے سدھرنے کے لیے تیار ہے اور کون اس متاع گراں مایہ کا سرے سے قدر دان ہی نہیں ہے۔ پہلی قسم کا آدمی، خواہ اندھا ہو، لنگڑا ہو، لولا ہو، فقیر بےنوا ہو، بظاہر دین کی طرف اسے توجہ کرنی چاہیے، کیونکہ اس دعوت کا اصل مقصد بندگان خدا کی اصلاح ہے، اور اس شخص کا حال یہ بتارہا ہے کہ اسے نصیحت کی جائے گی تو وہ اصلاح قبول کرلے گا۔ رہا دوسری قسم کا آدمی، تو خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی با اثر ہو، اس کے پیچھے پڑنے کی داعی حق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی روش علانیہ یہ بتارہی ہے کہ وہ سدھرنا نہیں چاہتا، اس لیے اس کی اصلاح کی کوشش میں وقت صرف کرنا وقت کا ضیاع ہے وہ اگر نہ سدھرنا چاہے تو نہ سدھرے، نقصان اس کا اپنا ہوگا، داعی حق پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
Ayahs 80:11–13

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہر گز نہیں، 3 یہ تو ایک نصیحت ہے، 4

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں

سورة عَبَس 3 یعنی ایسا ہرگز نہ کرو۔ خدا کو بھولے ہوئے اور اپنی دنیوی وجاہت پر پھولے ہوئے لوگوں کو بےجا اہمیت نہ دو۔ نہ اسلام کی تعلیم ایسی چیز ہے کہ جو اس سے منہ موڑے اس کے سامنے اسے بالحاح پیش کیا جائے، اور نہ تمہاری یہ شان ہے کہ ان مغرور لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کے لیے کسی ایسے اندازے سے کوشش کرو جس سے یہ اس غلط فہمی میں پڑجائیں کہ تمہاری کوئی غرض ان سے اٹکی ہوئی ہے، یہ مان لیں گے تو تمہاری دعوت فروغ پا سکے گی ورنہ ناکام ہوجائے گی۔ حق ان سے اتنا ہی بےنیاز ہے جتنے یہ حق سے بےنیاز ہیں۔ سورة عَبَس 4 مراد ہے قرآن۔
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، 5

سورة عَبَس 5 یعنی ہر قسم کی آمیزشوں سے پاک ہیں۔ ان میں خالص حق کی تعلیم پیش کی گئی ہے۔ کسی نوعیت کے باطل اور فاسد افکار و نظریات ان میں راہ نہیں پا سکے ہیں۔ جن گندگیوں سے دنیا کی دوسری مذہبی کتابیں آلودہ کردی گئی ہیں ان کا کوئی ادنی سا شائبہ بھی ان کے اندر داخل نہیں ہوسکا ہے۔ انسانی تخیلات ہوں، یا شیطانی وساوس، ان سب سے یہ پاک رکھے گئے ہیں۔
Ayah 80:15

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

معزّز اور نیک کاتبوں 6 کے

سورة عَبَس 6 ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو قرآن کے ان صحیفوں کو اللہ تعالیٰ کی براہ راست ہدایت کے مطابق لکھ رہے ہیں، ان کی حفاظت کر رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ تک انہیں جوں کا توں پہنچا رہے تھے۔ ان کی تعریف میں دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ایک کرام، یعنی معزز۔ دوسرے بار، یعنی نیک۔ پہلے لفظ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ اتنے ذی عزت ہیں کہ جو امانت ان کے سپرد کی گئی ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا صدور بھی ان جیسی بلند پایہ ہستیوں سے ہونا ممکن نہیں ہے۔ اور دوسرا لفظ یہ بتانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ ان صحیفوں کو لکھنے، ان کی حفاظت کرنے اور رسول تک ان کو پہنچانے کی جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی ہے اس کا حق وہ پوری دیانت کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ 7

سورة عَبَس 7 جس سلسلہ بیان میں یہ آیات ارشاد ہوئی ہیں ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ قرآن مجید کی یہ تعریف محض اس کی عظمت بیان کرنے کے لیے نہیں کی گئی ہے بلکہ اصل مقصود ان تمام متکبر لوگوں کو، جو حقارت کے ساتھ اس کی دعوت سے منہ موڑ رہے ہیں، صاف صاف بتادینا ہے کہ یہ عظیم الشان کتاب اس سے بدرجہا بلندو برتر ہے کہ تمہاری حضوری میں اسے پیش کیا جائے اور تم سے یہ چاہا جائے کہ تم اسے شرف قبولیت عطا کرو۔ یہ تمہاری محتاج نہیں ہے بلکہ تم اس کے محتاج ہو۔ اپنی بھلائی چاہتے ہو تو جو خناس تمہارے دماغ میں بھرا ہوا ہے اسے نکال کر سیدھی طرح اس کی دعوت کے آگے سر تسلیم خم کردو۔ ورنہ جس قدر تم اس سے بےنیاز بنتے ہو اس سے بہت زیادہ یہ تم سے بےنیاز ہے۔ تمہاری تحقیر سے اس کی عظمت میں ذرہ برابر فرق نہ آئے گا، البتہ تمہاری بڑائی کا سارا گھمنڈ خاک میں ملا کر رکھ دیا جائے گا۔
Ayahs 80:17–18

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

لعنت ہو 8 انسان پر، 9 کیسا سخت مُنکرِ حق ہے یہ۔ 10

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟

سورة عَبَس 8 یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے آغاز سورة سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور عتاب در پردہ کفار پر فرمایا جا رہا تھا۔ اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی، ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔ سورة عَبَس 9 قرآن مجید میں ایسے تمام مقامات پر انسان سے مراد نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناپسندیدہ صفات کی مذمت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ " انسان " کا لفظ کہیں تو اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ نوع انسانی کے اکثر افراد میں وہ مذموم صفات پائی جاتی ہیں، اور کہیں اس کے استعمال کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مخصوص لوگوں کو تعین کے ساتھ اگر ملامت کی جائے تو ان میں ضد پیدا ہوجاتی ہے، اس لیے نصیحت کا یہ طریقہ زیادہ موثر ہوتا ہے کہ عمومی انداز میں بات کہی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حمٰ السجدہ، حاشیہ 65۔ الشوریٰ ، حاشیہ 75)۔ سورة عَبَس 10 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کس چیز نے اسے کفر پر آمادہ کیا ؟ " یعنی بالفاظ دیگر کس بل بوتے پر یہ کفر کرتا ہے ؟ کفر سے مراد اس جگہ حق کا انکار بھی ہے، اپنے محسن کے احسانات کی ناشکری بھی، اور اپنے خالق و رازق اور مالک کے مقابلہ میں باغیانہ روش بھی۔
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نُطفہ کی ایک بُوند سے۔ 11 اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی، 12

سورة عَبَس 11 یعنی پہلے تو ذرا یہ اپنی حقیقت پر غور کرے کہ کس چیز سے یہ وجود میں آیا ؟ کس جگہ اس نے پرورش پائی ؟ کس راستے سے یہ دنیا میں آیا ؟ اور کس بےبسی کی حالت سے دنیا میں اس کی زندگی کی ابتدا ہوئی ؟ اپنی اس اصل کو بھول کر یہ ہمچو ما دیگرے نیست کی غلط فہمی میں کیسے مبتلا ہوجاتا ہے اور کہاں سے اس کے دماغ میں یہ ہوا بھرتی ہے کہ اپنے خالق کے منہ آئے ؟ (یہی بات سورة یسین، آیات 77۔ 78 میں فرمائی گئی ہے)۔ سورة عَبَس 12 یعنی یہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں بن رہا تھا کہ اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ کیا ہوگا۔ اس کا قد کتنا ہوگا۔ اس کی جسامت کیسی اور کس قدر ہوگی۔ اس کے اعضاء کس حد تک صحیح وسالم اور کس حد تک ناقص ہوں گے۔ اس کی شکل و صورت اور آواز کیسی ہوگی۔ اس کے جسم کی طاقت کتنی ہوگی۔ اس کے ذہن کی صلاحیتیں کیا ہوں گی۔ کس سر زمین، کس خاندان، کن حالات اور کس ماحول میں یہ پیدا ہوگا، پرورش اور تربیت پائے گا اور کیا بن کر اٹھے گا۔ اس کی شخصیت کی تعمیر میں مورثی اثرات، ماحول کے اثرات اور اس کی اپنی خودی کا کیا اور کتنا اثر ہوگا۔ کیا کردار یہ دنیا کی زندگی میں ادا کرے گا، اور کتنا وقت اسے زمین پر کام کرنے کے لیے دیا جائے گا۔ اس تقدیر سے یہ بال برابر بھی ہٹ نہیں سکتا، نہ اس میں ذرہ برابر رد و بدل کرسکتا ہے۔ پھر کیسی عجیب ہے اس کی یہ جرات کہ جس خالق کی بنائی ہوئی تقدیر کے آگے یہ اتنا بےبس ہے اس کے مقابلہ میں کفر کرتا ہے۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی، 13

سورة عَبَس 13 یعنی دنیا میں وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کیے جن سے یہ کام لے سکے، ورنہ اس کے جسم اور ذہن کی ساری قوتیں بےکار ثابت ہوتیں اگر خالق نے ان کو استعمال کرنے کے لیے زمین پر یہ سرو سامان مہیا نہ کردیا ہوتا اور یہ امکانات پیدا نہ کردیے ہوتے۔ مزید براں خالق نے اس کو یہ موقع بھی دے دیا کہ اپنے لیے خیر یا شر، شکر یا کفر، طاعت یا عصیان کی جو راہ بھی یہ اختیار کرنا چاہے کرسکے، اس نے دونوں راستے اس کے سامنے کھول کر رکھ دیے اور ہر راہ اس کے لیے ہموار کردی کہ جس پر بھی یہ چلنا چاہے چلے۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ 14

سورة عَبَس 14 یعنی اپنی پیدائش اور اپنی تقدیر کے معاملہ ہی میں نہیں بلکہ اپنی موت کے معاملہ میں بھی یہ اپنے خالق کے آگے بالکل بےبس ہے، نہ اپنے اختیار سے پیدا ہوسکتا ہے، نہ اپنے اختیار سے مر سکتا ہے، اور نہ اپنی موت کو ایک لمحہ کے لیے بھی ٹال سکتا ہے۔ جس وقت، جہاں، جس حال میں بھی اس کی موت کا فیصلہ کردیا گیا ہے اسی وقت، اسی جگہ اور اسی حال میں یہ مر کر رہتا ہے، اور جس نوعیت کی قبر بھی اس کے لیے طے کردی گئی ہے اسی نوعیت کی قبر میں ودیعت ہوجاتا ہے، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو، یا سمندر کی گہرائیاں، یا آگ کا الاؤ، یا کسی درندے کا معدہ انسان خود تو درکنار، ساری دنیا مل کر بھی اگر چاہے تو کسی شخص کے معاملہ میں خالق کے اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اُٹھا کھڑا کرے۔ 15

سورة عَبَس 15 یعنی اس کی یہ مجال بھی نہیں ہے کہ خالق جب اسے موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا چاہے تو یہ اٹھنے سے انکار کرسکے۔ پہلے جب اسے پیدا کیا گیا تھا تو اس سے پوچھ کر پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے رائے نہیں لی گئی تھی کہ تو پیدا ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ یہ انکار بھی کردیتا تو پیدا ہو کر رہتا۔ اسی طرح اب دوبارہ پیدائش بھی اس کی مرضی پر موقوف نہیں ہے کہ یہ مر کر اٹھنا چاہے تو اٹھے اور اٹھنے سے انکار کر دے تو نہ اٹھے۔ خالق کی مرضی کے آگے اس معاملہ میں بھی یہ قطعی بےبس ہے۔ جب بھی وہ چاہے گا اسے ا ٹھا کھڑا کرے گا اور اس کو اٹھنا ہوگا، خواہ یہ راضی ہو یا نہ ہو۔
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہر گز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا۔ 16

سورة عَبَس 16 حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے۔ وہ حکم بھی جس کی طرف انسان کا اپنا وجود اور زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ہر ذرہ اور قدرت الہی کا ہر مظہر اشارہ کر رہا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے بھیجا اور ہر دور کے صالحین کے ذریعہ سے پھیلایا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورة دہر، حاشیہ 5)۔ اس سلسلہ بیان میں یہ بات اس معنی میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو حقائق اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کی بنا پر فرض تو یہ تھا کہ انسان اپنے خالق کی فرمانبرداری کرتا، مگر اس نے الٹی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور بندہ مخلوق کا جو تقاضا تھا اسے پورا نہ کیا۔
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ 17

سورة عَبَس 17 یعنی جس خوراک کو وہ ایک معمولی چیز سمجھتا ہے، اس پر ذرا غور کرے کہ یہ آخر پیدا کیسے ہوتی ہے۔ اگر خدا نے اس کے اسباب فراہم نہ کیے ہوتے تو کیا انسان کے بس میں یہ تھا کہ زمین پر یہ غذا وہ خود پیدا کرلیتا ؟
Ayah 80:25

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم نے خُوب پانی لُنڈھایا، 18

سورة عَبَس 18 اس سے مراد بارش ہے۔ سورج کی حرارت سے بےحد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے، پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں، پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں، پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سرنو پانی کی شکل اختیار کرتی اور ہر علاقے میں ایک خاص حساب سے برستی ہیں، پھر وہ پانی براہ راست بھی زمین پر برستا ہے، زیر زمین کنوؤں اور چشموں کی شکل بھی اختیار کرتا ہے، دریاؤں اور ندی نالوں کی شکل میں بھی بہتا ہے، اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جم کر پھر پگھلتا ہے اور بارش کے موسم کے سوا دوسرے موسموں میں بھی دریاؤں کے اندر رواں ہوتا ہے۔ کیا یہ سارے انتظامات انسان نے خود کیے ہیں ؟ اس کا خالق اس کی رزق رسانی کے لیے یہ انتظام نہ کرتا تو کیا انسان زمین پر جی سکتا تھا ؟
Ayahs 80:26–31

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا، 19

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اُس کے اندر اگائے غلے

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور طرح طرح کے پھل، اور چارے

سورة عَبَس 19 زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گھٹلیاں یا نباتات کی پنیریاں انسان اس کے اندر بوئے، یا جو ہواؤں اور پرندوں کے ذریعہ سے، یا کسی اور طریقے سے اس کے اندر پہنچ جائیں، وہ کونپلیں نکال سکیں۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ زمین کو کھودتا ہے یا اس میں ہل چلاتا ہے اور جو تخم خدا نے پیدا کردیے ہیں، انہیں زمین کے اندر اتار دیتا ہے، اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے۔ اسی نے بیشمار اقسام کی نباتات کے تخم پیدا کیے ہیں۔ اسی نے ان تخموں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر تخم سے اسی کی جنس کی نباتات اگے۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ پانی سے مل کر وہ ان تخموں کو کھولے اور ہر جنس کی نباتات کے لیے اس کے مناسب حال غذا بہم پنچا کر اسے نشو نما دے۔ یہ تخم ان خاصیتوں کے ساتھ، اور زمین کی یہ بالائی تہیں ان صلاحیتوں کے ساتھ خدا نے پیدا نہ کی ہوتیں تو کیا انسان کوئی غذا بھی یہاں پاسکتا تھا ؟
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ زیست کے طور پر۔ 20

سورة عَبَس 20 یعنی تمہارے ہی لیے نہیں بلکہ ان جانوروں کے لیے بھی جن سے تم کو گوشت، چربی، دودھ، مکھن وغیرہ سامان خوراک حاصل ہوتا ہے اور جو تمہاری معیشت کے لیے۔ بیشمار دوسری خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اس سروسامان سے متمتع ہو اور جس خدا کے رزق پر پل رہے ہو اسی سے کفر کرو ؟
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی 21

سورة عَبَس 21 مراد ہے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے۔
Ayahs 80:34–36

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اُس روز آدمی اپنے بھائی

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ 22

سورة عَبَس 22 اس سے ملتا جلتا مضمون سورة معارج آیات 10 تا 14 میں گزر چکا ہے۔ بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ان عزیزوں کو، جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے، مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے ان کی مدد کو دوڑے، الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے پکار نہ بیٹھیں۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے، اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہ گاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے۔ بھائی کو بھائی سے، اولاد کو ماں باپ سے، شوہر کو بیوی سے، اور ماں باپ کو اولاد سے خطرہ ہوگا کہ یہ کم بخت اب ہمارے خلاف مقدمے کے گواہ بننے والے ہیں۔