75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsانوار البیان

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہم کو روز قیامت کی قسم۔

(75:1) لا اقسم بیوم القیمۃ : لا زائدہ ہے اور کلام کو مزین و آراستہ کرنے اور مزین کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک کفار کے انکار قیامت کا رد ہے، عرب جب کہتے ہیں : لا واللہ لا افعل فلا رد لکلام قد مضی وفائدتھا توکید القسم فی الرد۔ یعنی لا سے پہلے کلام کا رد وابطال مقصود ہوتا ہے۔ اور بعد میں قسم اٹھائی جاتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ قسم مؤکد ہوجائے ۔ (ضیاء القرآن) اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر سے ، جس کے معنی قسم کھانا کے ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:38 بیوم القیامۃ : روز قیامت کی۔
Ayah 75:2

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)

(75:2) ولا اقسم بالنفس اللوامۃ : اور قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ النفس اللوامۃ موصوف و صفت۔ اللوامۃ، لام یلوم لوم (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مؤنث مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ملامت کرنے والی۔ النفس اللوامۃ سے کیا مراد ہے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) النفس اللوامۃ میں لام جنسی ہے ہر نفس مراد ہے (کافر ہو یا مؤمن) نیک یو یا بد۔ فراء نے کہا ہے کہ ہر شخص نیک ہو یا بد قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ اگر اس نے اچھے کام کئے ہوں گے تو نفس سے کہے گا۔ اس سے زیادہ تو نے نیکی کیوں نہیں کی ! اور بدی کی ہوگی تو کہے گا تو نے برے کام کیوں کئے ۔ (فرائ) (2) اس سے کافر مراد ہے ہر کافر قیامت کے دن اپنے نفس کو برا کہے گا کہ دنیا میں حقوق اللہ کی ادائیگی میں اس نے قصور کیوں کیا۔ (مقاتل) قتادہ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ (3) نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر۔ آیت میں ہر شخص مراد ہے کیونکہ کسی شخص کو سکھ پر قرار ہے نہ دکھ پر، خیر ہو یا شر ہر شخص اپنے کو برا ہی کہتا ہے۔ (سعید بن جبیر، عکرمہ) (4) نفس لوامہ مومن کا نفس ہے جو ہر وقت اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے خواہ کتنی ہی نیکی کرے۔ کہتا ہے کہ اس سے زیادہ کیوں نہ کی ۔ (حسن بصری، مجلی) (5) صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ نفس سرکش کو نفس امارہ کہتے ہیں جو امر کا مبالغہ ہے کیونکہ وہ ہر وقت برے کاموں کا حکم کرتا رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی یاد میں کوشاں ہوجاتا ہے تو موالیٰ کریم کی خصوصی توجہ اور جذب سے اس پر اس کے عیوب و نقائص منکشف ہوجاتے ہیں اس پر وہ پشیمان ہوتا ہے اور اپنے آپ کو برا بھلا کہتا ہے اس نفس کو نفس لوامہ کہتے ہیں اور جب وہ ہر ماسوائے اللہ سے قطع تعلق کرلیتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے تو اس کو نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ فائدہ : یہاں دو قسمیں کھائی گئی ہیں لیکن مقسم بہٖ محذوف ہے ای لتبعثن کہ تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔
Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

(75:3) ایحسب الانسان۔ استفہام انکاری و توبیخی ہے۔ یحسب مضارع معروف واحد مذکر غائب حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ خیال کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے ، اس کو ایسا نہ کرنا چاہیے۔ الانسان : میں الف لام جنس کا ہے اس سے جنس انسان مراد ہے جس میں وہ شخص بھی داخل ہے جو منکر بعث و حشر تھا۔ یا الف لام عہدی ہے اور کوئی معین شخص مراد ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی۔ عدی خاندان زہرہ کا حلیف اور اخنس بن شریق ثقفی کا داماد تھا ۔ عدی اور اخنس کے سلسلہ میں ہی رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی۔ الٰہی مجھے میرے برے ہمسائے سے محفوظ رکھ۔ بات یہ ہوئی کہ عدی نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کی کہ اے محمد ﷺ مجھے بتاؤ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے کیا احوال ہوں گے :۔ حضور ﷺ نے اس کو قیامت کی کیفیت بتائی تو وہ کہنے لگا کہ اگر میں قیامت کو دیکھ بھی لوں تو بھی تمہاری بات کی تصدیق نہیں کرونگا اور نہ تمہیں سچا جانوں گا۔ کیا خدا ہڈیوں کو اکٹھا کر دے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر مظہری) الن نجمع عظامہ : الن مرکب ہے ان مخففہ ان سے اور لن نافیہ سے۔ لن نجمع مضارع منصوب نفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع متکلم جمع (باب دتح) مصدر سے ہم ہرگز جمع نہیں کریں گے۔ عظامہ : عظام عظم کی جمع ہڈیاں (بحالت مفعول) مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ اس کی ہڈیاں۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔

(75:4) بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ کیوں نہیں ہم قدرت رکھتے ہیں کہ ہم اس کی پور پور درست کردیں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 3: 76) ۔ بلی حرف جواب ہے اور کلام مخاطب کی نفی اور اس کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) کلام استفہام سے خالی ہو۔ جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (2) یہ کلام استفہامی ہو۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کے جواب میں کوئی کہے بلی۔ خواہ توبیخی ہو جیسے آیت زیر غور۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ اور جواب میں کہا جائے گا بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ قادرین منصوب بوجہ نجمع کے فاعل کے حال سے ہے۔ ای نجمعھا قادرین ۔۔ قادرین قدر (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر (بحالت نصب) بمعنی قدرت رکھنے والے۔ ان نسوی : ان مصدریہ۔ نسوی مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع متکلم تسویۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم درست کردیں گے۔ ہم درست کردیں۔ بنانہ : بنان (مفعول فعل نسوی کا) مضاف ہ ضمیر مضاف الیہ۔ اس کی انگلیوں کے پورے انگلیوں کے سرے۔ بنانۃ کی جمع جس طرح تمرۃ کی جمع بحذف ت تمر ہے۔
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

(75:5) بل یرید الانسان لیفجرا مامہ : بل عاطفہ ہے اس کا عطف یحسب پر ہے (استفہام کے تحت ہے) اس کو سوالیہ بھی کہا جاسکتا ہے اور تحقیقہ بھی کیونکہ سابق سائل یا سوال سے اعراض (اور دوسری بات کو بیان کرنے کی طرف مائل ہونا) درست ہے (یعنی یہ دوسرا انسان پہلے انسان سے غیر ہوگا تو سائل اول سے اعراض ہوجا ائے گا : اور اگر سائل وہی ہو مگر اس کے سوال سے اضراب اور دوسرے مسئلہ کا بیان ہوگا) ۔ (تفسیر مظہری) لیفجر میں لام زائد ہے اور ان ناصبہ مقدرہ ہے ای ان یفجر : امامہ مضاف مضاف الیہ میں امام ظرف ہے۔ ای لیفجر فیما یستقبل۔ یفجر مضارع منصوب۔ واحد مذکر غائب فجور باب ضرب) مصدر۔ بعمنی دین کی پر وہ دری یعنی نافرمانی کرنا۔ الفجر کے معنی ہیں کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور شق کرنا۔ کہتے ہیں فجرتہ فانفجر میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا پس وہ بہہ گیا قرآن مجید میں ہے فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا (2:60) (حضرت موسیٰ نے لاٹھی ماری) تو پھر اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ صبح کو فجر اس لئے کہا جاتا ہے کہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ لیفجر کہ وہ دین کی پر وہ دری کرتے ہوئے علی الاعلان گناہ کرتا پھرے۔ امامہ اس کے آگے اس کے سامنے۔ ظرف زمان بمعنی اس کے مستقبل میں۔ امام قدام کی طرح ہے اسم بھی ہوتا ہے اور ظرف بھی ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔ وھو یرید لیدوم علی فجورھا فیما بین یدیہ من الاوقات وفیما یستقبل من الزمان۔ یعنیوی چاہتا ہے کہ زندگی کے آئندہ اوقات میں بھی وہ دین کی پردہ دری کرتا رہے۔
Ayah 75:6

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

(75:6) یسئل ایان یوم القیمۃ۔ یہ اس کی دین کی پردہ دری کی ڈھٹائی کی تفسیر ہے۔ استہزاء پوچھتا ہے ایان یوم القیمۃ، ایان (کب) خبر مقدم ہے اور یوم القیامۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء مؤخر۔
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں چندھیا جائیں

(75ـ:7) فاذا برق البصر :جواب کا ہے ۔ یہ آیت اور اگلی دو آیات انسان کے سوال ایان یوم القیمۃ کے جواب میں ہیں۔ برق ماضی واحد مذکر غائب برق (باب سمع) مصدر سے ، جس کے معنی نظر کے متحیر اور خیرہ ہونے کے ہیں۔ برق کے معنی بجلی کے ہیں اور اسی اعتبار سے اس کے معنی چمکنے کے آنے لگے لیکن جب آنکھ کے ساتھ اس کا استعمال ہو تو اس کے معنی خوف سے پتلیوں کے پھرنے اور نظر کے خیرہ ہونے کے آتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب نظر چندھیا جائے گی۔
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

(75:8) وخسف القمر اور چاند گھنا جائے گا : خسف ماضی واحد مذکر غائب خسوف (باب ضرب) مصدر سے۔ جس کے معنی چاند گرہن کے ہیں اور جب چاند گہنا جائے گا بےنور ہوجائے گا۔ سورج گرہن کو کسوف کہتے ہیں ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں

(75:9) وجمع الشمس والقمر : اس جملہ کا عطف بھی جملہ اذا برق البصر پر ہے اور جب سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے : یعنی دونوں بےنور اور سیاہ کر دئیے جائیں گے یہی ان کے اجماع کا مطلب ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کشش ثقل کا جو قانون اس عالم میں کار فرما ہے اور ج کے ماتحت نظام شمسی کے ثوابت و سیارات اپنے اپنے مقامات پر پختگی کے ساتھ موجود ہیں یہ ختم ہوجائے گا اور چاند سورج کے ساتھ جا ملے گا۔
Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں

(75:10) این المفر : کافر کا مقولہ ہے :۔ این کہاں ۔ ظرف ہے۔ جس طرح متی سے زبان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اسی طرح این سے مکان دریافت کیا جاتا ہے۔ المفر مصدر میمی ہے، فرار، بھاگنا۔ الفرار۔ خوف سے بھاگنا۔ باب ضرب سے مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کہاں ہے بھاگ، کہاں ہے بھاگ کر جانے کی جگہ۔
Ayah 75:11

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

(75:11) کلا لاوزر : نہیں نہیں، ہرگز نہیں۔ حرف ردع ہے۔ یہاں طلب مفر سے بازداشت ہے۔ معنی۔ نہیں نہیں (وہاں) بھاگ جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزر۔ اسم منصوب۔ پناہ گاہ۔ زمخشری نے لکھا ہے :۔ لاوزر ای لا ملجا وکل ما التجات الیہ من جبل او غیرہ وتخلصت بہ فھو وزرک۔ لاوزر کے معنی ہیں لاملجا (کوئی پناہ گاہ نہیں) ہر وہ چیز جس کو تو طلب کرے پناہ کے طور پر خواہ پہاڑ ہو یا کچھ اور جس کے دامن میں تو پناہ اور خلاصی پائے وہ تیرے لئے وزر ہے۔ وزر کا ماخذ وزر ہے جس کا معنی ہے بوجھ۔
Ayah 75:12

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہے

(75:12) الی ربک یؤمئذ ن المستقر، استقرار (استفعال) سے اسم مفعول واحد مذکر (اسم ظرف مکان واحد) ٹھیرایا ہوا۔ قرار یافتہ شدہ، ٹھیرنے کی جگہ۔ مبتداء الی ربک اس کی خبر، یومئذ متعلق خبر۔ ربک میں ک ضمیر واحد مذکر، رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے اور تخصیص کے معنی کے لئے لائی گئی ہے۔ صرف آپ کے رب کے پاس ہی اس روز ٹھکانا ہوگا۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہونگے سب بتادئیے جائیں گے

(75:13) ینبئوا الانسان یومئذ : ینبؤا مضارع مجہول واحد مذکر غائب ینبئۃ (تفعیل) مصدر۔ اسے بتادیا جائے گا۔ اسے خبر دی جائے گی۔ ن ب ء مادہ۔ یومئذ : یوم اسم ظرف، منصوب اذ مضاف الیہ، اس دن ، ایسے واقعات کے دن، مفعول فیہ۔ (اس روز) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا۔ بما قدم واخر : ب، ساتھ، متعلق، ما موصولہ قدم ماضی واحد مذکر غائب۔ تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اس نے آگے بھیجا۔ اخر ماضی واحد مذکر غائب تاخیر (تفعیل) مصدر سے۔ اس نے پیچھے چھوڑا۔ ترجمہ :۔ اس روز انسان کو بتادیا جائے گا (ہر اس) عمل کے متعلق جو اس نے آگے بھیجا اور جو وہ پیچھے چھوڑ آیا۔
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

(75:14) بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ : بل حرف اضراب ہے۔ الانسان مبتدائ۔ بصیرۃ اس کی خبر۔ علی نفسہ متعلق خبر، بصیرۃ کی تاء مبالغہ کے لئے ہے جیسے العلامۃ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ دنیوی زندگی کے اعمال فقط یاد دہانی سے ہی اسے نظر آجائیں گے اطلاع دینے کی بھی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ ترجمہ ہوگا :۔ (انسان کو بما قدم واخر۔ پر تنبیہ کرنے کی بھی ضرورت ہی نہیں) وہ خوہ ہی اپنے آپ کے (اعمال کے تناظر میں) خوب دیکھنے اور جاننے والا ہے۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

(75:15) ولو القی معاذیرۃ : واؤ وصلیہ، لو بمعنی اگرچہ۔ خواہ ۔ القی۔ ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل الانسان کی طرف راجع ہے) القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ معاذیر جمع معذرۃ واحد۔ مصدر بمعنی عذر۔ معذرت۔ عذر اور عذر ایسی بات جس سے قصور پر گرفت نہ ہو۔ عذر تین طرح کا ہوتا ہے :۔ (1) ارتکاب جرم سے انکار کردینا۔ (2) ارتکاب جرم کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا جس سے جرم کی سزا سے بچ جائے۔ (3) اقرار جرم کے بعد آئندہ جرم نہ کرنے کا وعدہ کرنا۔ اس تیسری شق کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ ولو القی معازیرہ : ای ولوجاء بکل معذرۃ ماقبلت منہ (جلالین) خواہ وہ تمام عذرات پیش کرے وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔ خواہ وہ زبان سے ہزار بہانے بنائے۔ (ضیاء القرآن) معاذیر میں نصب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ (75:16) فائدہ : بقول حضرت ابن عباس ؓ علیہ بوقت نزول وحی رسول اللہ ﷺ کو اندیشہ ہونا تھا کہ نازل شدہ آیات کا کوئی حصہ چھوٹ نہ جائے اس لئے دوران نزول میں چپکے چپکے لبوں کو حرکت دیتے رہتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے لا تحرک بہ لسانک ۔۔ ثم ان علینا بیانہ بطور جملہ معترضہ ارشاد فرمایا ۔ بات کرتے وقت اگر مخاطب بھی بولنے لگے تو متکلم اس سے کہتا ہے ذرا خاموش رہو میری بات نہ کاٹو، پوری بات سن لو، پھر تم کو بولنے کا حق ہے یہ درمیانی کلام بطور ہدایت بول کر متکلم پھر اصل مدعا پر کلام شروع کردیتا ہے یہاں قیامت کا بیان چل رہا تھا اس جملہ معترضہ کے بعد پھر وہی سلسلہ کلام جاری ہے۔
Ayah 75:16

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ وحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

(75:16) لا تحرک بہ لسانک ـ لا تحرک فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تحریک (تفعیل) مصدر بمعنی حرکت دینا۔ چلانا۔ تو زبان نہ چلا۔ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے والضمیر للقران لدلالۃ سیاق الایۃ نحو انا انزلنہ فی لیلۃ القدر ای لا تحرک بالقران لسانک عند القاء الوحی من قبل ان یقضی الیک وحینہ (روح المعانی) ضمیر قرآن کے لیے ہے جیسا کہ آیت کا سیاق دلالت کر رہا ہے۔ جیسے انا انزلنہ فی لیلۃ القدر میں ہے یعنی القاء وحی کے وقت اس کے مکمل ہوجانے سے قبل قرآن کے (یاد رکھنے کے لئے اس کے) ساتھ ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیتے رہو۔ لتعجل بہ۔ لام علت کا ہے۔ تعجل مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر، عجل (باب سمع) مصدر سے منصوب بوجہ عمل لام۔ کہ تو جلدی کرے بہ اس کو یاد کرنے کی۔ ضمیر ہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ قرآن کے لئے ہے۔ اسی مضمون میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضٰ الیک وحیہ (20:114) اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو۔
Ayah 75:17

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

(75:17) ان علینا جمعہ : علینا ہمارے ذمہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ ای ان علینا جمعہ فی صدرک بحیث لایذھب علیک شیء من معافیہ یعنی قرآن قرآن کا تمہارے سینہ میں اس طرح جمع کردینا کہ اس کے معنی سے کوئی شے بھی تم سے مخفی نہ رہ جائے یہ ہمارا ذمہ ہے۔ وقرانہ۔ اس کا عطف جمعہ پر ہے دونوں منصوب بوجہ عمل ان ہیں۔ قرآن مصدر ہے بمعنی پڑھنا۔ یہ اللہ کی کتاب کا خاص نام ہے جو کہ ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی کسی دوسری آسمانی کتاب کا نام قرآن نہیں ہے۔ قرآن کی وجہ تسمیہ کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ پروفیسر عبد الرؤف کے مطابق قرآن کہنے کی وجہ صرف قرأت اور تلاوت ہے اللہ کی کتاب عموما جہر کے ساتھ نماز میں۔ دینی محافل میں، مدارس میں اور دوسری تقریبات میں پڑھی جاتی ہے۔ حضرت عثمان ؓ کے مرثیہ میں ایک شاعر نے کہا تھا۔ ضحوا باسمط عنوان السجودیہ یقطع الیل تسبیحا وقرانا لوگوں نے ایک ایسی پکی عمر والے سردار کو ذبح کردیا۔ جس کی پیشانی پر سجدے کا نشان تھا جو راتیں تسبیح اور تلاوت میں کاٹ دیتا تھا آیت زیر مطالعہ میں تو ویسے ہی صاف ظاہر ہے کہ جمع قرآن سے قرات قرآن الگ چیز ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ قرآن کا تمہارے سینہ میں جمع کرنا اور پھر اس کا تمہاری زبان پر رواں کرنا ہمارے ذمہ ہے۔
Ayah 75:18

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

(75:18) فاذا :تعقیب کا ہے اذا ظرف زمان ہے۔ پس جب۔ قرانہ : قرانا۔ ماضی جمع متکلم۔ قرء ، قراء ۃ اور قرآن مصادر (باب نصر و فتح) سے بمعنی پڑھنا۔ تلاوت کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ مفسرین نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ (1) جب ہم قرآن تمہارے سینہ میں جمع کردیں تو تم اس پر عمل کرو۔ (حضرت ابن عباس) (2) جب تم قرآن کو بیان کردیں تو ہمارے بیان کے موافق تم اس پر عمل کرو ۔ (منتہی الارب) (3) جب تم (بوساطت جبرائیل) قرآن پڑھیں تو تم اس کو کان لگا کر سنو۔ (محلی و محمود آلوسی) اسی محلی اور آلوسی (رح) کے ترجمہ کو اکثر مفسرین نے لکھا ہے۔ فاتبع :تعقیب کا ہے۔ اتبع فعل امر واحد مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر تو پیروی کر۔ تو اتباع کر، قرانہ مضاف مضاف الیہ (منصوب بوجہ مفعول) اسی کی قرأت کی ۔
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

(75:19) ثم ان علینا بیانہ : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ پھر۔ ازاں بعد ان حرف مشبہ بالفعل بیان اسم ان مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ پھر اس کی وضاحت اور اظہار مطالب ہمارا ذمہ ہے۔ ہ کا مرجع قرآن ہے۔ فائدہ : خدائے پاک نے اپنے وعدے کو سچا کردیا قرآن مجید کو ایک جگہ مجتمع بھی کرا دیا اس لئے کہ ٹکڑے ٹکڑے اور سورتیں سورتیں ہوکر نازل ہوا ہے اب سب یکجا ترتیب کے ساتھ موجود ہے اور آپ کے سینہ میں جمع بھی کرا دیا۔ آپ پورے قرآن مجید کے حافظ تھے اور آپ کی برکت سے بہت سے صحابہ کرام ؓ بھی حافظ تھے۔ اور بعدہ امت میں بھی آج تک لاکھوں حافظ ہیں ایک ایک حرف اور زبر زیر پر حاوی ہیں۔ یہ عہد آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک کسی مذہبی کتاب کی بابت نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا اور قیامت تک یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور یہ ایک کھلا ہوا معجزہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے دل ہو سمجھے۔
Ayah 75:20

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

(75:20) کلام معترضہ ختم ہوا اب پھر قیامت اور اس کی نسبت انسانی طبائع کا تعلق بیان فرمایا جا رہا ہے۔ کلا : ہرگز نہیں۔ ردع عن انکار البعث : (انکار حشر پر یا زداشت ہے) مدارک۔ ای لیس الامر کما تزعمون انہ لا جزاء الیسر التفاسیر۔ بات یہ نہیں جیسا کہ تم خیال کرتے ہو کہ نہ حشر ہوگا نہ جزاء ہوگی۔ علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ کلا سے بازداشت کی گئی ہے خواہ انکار حشر پر یا فجور پر یا بےکار عذر پیش کرنے پر۔ بل تحبون العاجلۃ : بل حرف اضراب ہے تحبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ احباب (افعال) مصدر۔ تم پسند کرتے ہو۔ تم محبت کرتے ہو۔ تم دوست رکھتے ہو۔ العاجلۃ : عجل وعجلۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے جلد ملنے والی۔ دنیا اور دنیا کی آسودگی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بات یوں نہیں کہ نہ کوئی حشر ونشر ہوگا نہ جزاء و سزا۔ بلکہ تم ہی ہو کہ دنیا پر ریجھ گئے ہو۔
Ayah 75:21

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

(75:21) وتذرون الاخرۃ واؤ عاطفہ، تذرون مضارع جمع مذکر حاضر وذر مصدر سے تم چھوڑ دیتے ہو الاخرۃ مفعول فعل تذرون کا۔ اور آخرۃ کو تم نے چھوڑ رکھا ہے۔
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

(75:22) وجوہ یومئذ ناضرۃ، وجوہ مبتداء ناضیرۃ اس کی خبر۔ اور یومئذ خبر کا ظرف۔ ناضرۃ و نضر ونضارۃ (باب نصر، سمع ، کرم) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ بمعنی تروتازہ ، پررونق۔ وجوہ : مبتداء ہے یہاں یا تو مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا ہے یعنی اہل قرب کے چہرے یا صفت محذوف ہے : یعنی بہت سے چہرے : کیونکہ وجوہ نکرہ ہے اور جب تک اس میں کوئی تخصیص نہ ہو مبتداء نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یا تو مضاف الیہ کو محذوف مانا جائے گا۔ یا صفت مخصصہ کو۔ یا یوں کہا جائے کہ وجوہ سے وجوہ منھم مراد ہے یعنی انسانوں کے کچھ چہرے ہوں گے (اس وقت وجوہ خبر ہوگا اور منھم مبتداء یا منھم ظرف اور وجوہ اس کا فاعل)
Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

(75:23) الی ربھا ناظرۃ : ناظرۃ خبر الی ربھا متعلق خبر۔ ناظرۃ نظر باب ضرب و سمع۔ مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی دیکھنے والی۔ ترجمہ آیات 22-23 ۔ کئی چہرے (یا اہل قرب کے چہرے) تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayah 75:24

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

(75:24) ووجوہ یومئذ باسرۃ : واؤ عاطفہ ہے وجوہ (اہل قرب کے چہرے کے بالمقابل کافروں کے چہرے یا کچھ چہروں کے مقابل میں کچھ اور چہرے) مبتداء باسرۃ اس کی خبر۔ یومئذ متعلق خبر۔ باسرۃ اداس، بےرونق، پریشان ، بسر (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ اصل میں بسر کے معنی ہیں وقت سے پہلے کسی چیز کے متعلق جلدی کرنے کے ہیں ۔ یہاں وقت سے پہلے اداس ہونا۔ اور تیور بگڑ جانا مراد ہے۔ مجازاً اس کے معنی ترش رو ہونے اور منہ بگاڑنے کے بھی آتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور کئی چہرے یا کافروں کے چہرے اس روز اداس اور بےرونق ہوں گے۔
Ayah 75:25

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

(75:25) تظن ان یفعل بھا فاقرۃ۔ یہ جملہ باسرۃ کی صفت ہے۔ تظن مضارع واحد مؤنث۔ ظن (باب نصر) مصدر سے۔ وہ گمان کرتی ہے وہ خیال کرتی ہے ان مصدریہ یفعل مضارع مجہول (منصوب بوجہ عمل ان) بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب وجوہ باسرۃ کے لئے ہے۔ فاقرہ اسم فاعل واحد مؤنث، یہ اگرچہ اسم فاعل مؤنث ہے لیکن غالبا ان اسماء کی جگہ اس کا استعمال ہوتا ہے جو موصوف سے بےنیاز ہیں۔ اور بغیر کسی ذات کے اس کا اسی لئے منتہی الارب میں اس کا ترجمہ بلا و سختی لکھا ہے اور محلی نے فقرات ظہر، یعنی پشت کے مہرے توڑ دینے والی مصیبت لکھا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (وجوہ باسرہ) خیال کرتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا (ضیاء القرآن) ۔ خیال کرتے ہوں گے کہ ان پر کوئی کمر توڑ مصیبت ڈالی جائے گی۔ (تفسیر حقانی) اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

(75:26) کلا : یہ تحبوب العاجلۃ وتذرون الاخرۃ سے باز داشت ہے۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ یہ آخرت پر دینا کو ترجیح دینے سے بازداشت ہے۔ گویا یوں کہا گیا ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے باز رہو۔ موت کو یاد کرو، موت کے وقت دینا ختم ہوجائے گی۔ اور غیر فانی آخرت سامنے آجائے گی۔ اذا بلغت التراقی : اذا شرطیہ ہے اور الی ربک ۔۔ جزاء ہے بلغت ماضی واحد مؤنث غائب بلوغ (باب نصر) مصدر۔ وہ پہنچی، بلغت کا فاعل نفس محذوف ہے التراقی ترقوۃ کی جمع ہے بمعنی ہنسلی۔ ہنسلی کی ہڈیاں۔ ہنسلی کی ہڈیوں تک جان کا آجانا موت کا قریب آجانا ہے۔
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

(75:27) وقیل من راق۔ اس جملہ کا عطف سابقہ پر ہے قیل ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ قول (باب نصر) مصدر اور کہا جائے گا یعنی پاس والے لوگ کہیں گے من استفہامیہ ہے بمعنی کون ؟ راق رقی ورقیۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے جادو تو نہ کرنے والا۔ دم کرکے پھونکنے والا۔ جھاڑ چھونک کرنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (لوگ) کہیں گے ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔
Ayah 75:28

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

(75:28) وظن انہ الفراق : اس کا عطف بھی جملہ یلغت التراقی پر ہے ظن ماضی واحد مذکر غائب ظن (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے جان لیا۔ اس کو یقین ہوگیا ۔ ضمیر فاعل مرنے والے کی طرف راجع ہے۔ اور مرنے والے کو یقین ہوگیا کہ اب آیا وقت جدائی کا۔ ظن بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ اٹکل کرنا۔ بھی آتا ہے۔
Ayahs 75:29–30

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

(75:29) والتفت الساق بالساق۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے اور اس کا عطف بھی حسب سابق ہے۔ التفت ماضی واحد مؤنث غائب التفات (افتعال) مصدر۔ لف مادہ۔ بمعنی لپٹ جانا۔ منضم ہوجانا۔ ساق : پنڈلی۔ یعنی جب ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی (اور آدمی کو اس کے ہلانے کی طاقت نہیں ہوگی)
Ayah 75:31

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

(75:31) فلا صدق ولا صلی : لا صدق ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ تصدیق (تفعیل) مصدر۔ اس نے تصدیق نہیں کی۔ اس نے سچ نہ مانا۔ یعنی اس نے رسول یا قرآن کی تصدیق نہیں کی۔ یا مال کی زکوۃ نہیں دی۔ ولا صلی اور نہ ہی اس نے فرض کردہ نماز ادا کی۔ فلا صدق کا عطف ایحسب کے مضمون پر ہے کیونکہ استفہام سے مراد ہے زجر (اور کسی چیز پر زجر کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چیز واقع ہوچکی ہو۔ اسی لئے اس پر زجر کی جاتی ہے) ۔ تو گویا مطلب اس طرح ہوگا :۔ انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں نہیں جوڑیں گے اور اس کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھائیں گے۔ اسی لئے نہ وہ تصدیق کرتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے ۔ صدق وصلی کی ضمیریں الانسان کی طرف راجع ہیں۔ کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ آیت میں عدی بن ربیعہ مراد ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 75:3 ۔ لیکن بغوی کے نزدیک ابوجہل مراد ہے یقین شخصی اس وقت مراد ہوگی اگر الانسان کے الف لام کو ال عہدی قرار دیا جائے لیکن اگر الف لام جنسی ہو تو عدی، ابوجہل (اور ان جیسے سب انسان) الانسان میں داخل ہوں گے (تفسیر مظہری)
Ayah 75:32

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

(75:32) ولکن کذب وتولی بلکہ اس نے تکذیب کی (رسول کی) اور (آپ پر ایمان لانے سے) منہ پھیرلیا۔ تولی ماضی واحد غائب تولی (تفعل) مصدر۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ تولی کا تعدیہ خبب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے۔ والی یا حاکم ہونے کے ہوتے ہیں جیسے کہ ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے تو وہ انہی میں سے ہے، اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی ہوتے ہیں جیسے فتول عنھم فما انت بملوم (51:54) تو ان سے اعراض کرو تم کو (ہماری طرف سے) کوئی ملامت نہ ہوگی۔
Ayah 75:33

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

(75:33) یتمطی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تمطی (تفعل) مصدر سے۔ غرور سے اکڑتا ہوا۔ ناز سے مٹکتا ہوا۔ ذھب کے فاعل سے حال ہے۔
Ayah 75:34

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

(75:34) اولی لک فاولی : اولی افعل التفضیل کا صیغہ ہے (جملہ بددعائیہ ہے) زیادہ لائق ۔ زیادہ قریب۔ زیادہ مستحق۔ ولی سے۔ جس کے معنی پے در پے اور مسلسل واقع ہونے کے ہیں اور اسی لحاظ سے قریب ہونے کے معنی میں آیا ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسہم (33:6) پیغمبر مؤمنوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اور پیغمبر کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ جب اولی کا صلہ لام واقع ہو (جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں) تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اس صورت میں برائی اور خرابی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہونگے۔ سو اولی لک فاولی کے معنی ہوں گے۔ تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ گذشتہ کلام میں یتمطی تک الانسان کا ذکر بصیغہ غائب تھا۔ یہاں خطاب کی ضمیر نفرت اور حقارت کے اظہار کے لئے لائی گئی ہے۔
Ayah 75:35

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

(75:35) ثم اولی لک فاولی : ثم یہاں تراخی فی الرتبہ کے لئے آیا ہے ایسے موقع پر معنی ہوتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر۔ یعنی تیرے لئے اس سے بھی بڑھ کر خرابی اور بربادی ہو۔ اسی معنی میں حضرت علی کا شعر ہے :۔ فعار ثم عار ثم عار شقاء المرء من اکل الطعام شرم کی بات ہے بہت شرم کی بات ہے بہت شرم کی بات ہے ۔ کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

(75:36) ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ ایحسب الانسان : ملاحظہ ہو 75:3 متذکرۃ الصدر۔ کیا انسان خیال کرتا ہے ان مصدریہ بمعنی کہ : یترک مضارع مجہول (منصوب بوجہ عمل ان) ترک (باب نصر) مصدر۔ وہ چھوڑ دیا جائے گا۔ سدی۔ بےقید، مہل، کہ نہ کسی بات پر مامور ہو اور نہ کسی چیز سے اسے روکا جائے۔ اسداء (افعال) مصدر سے جس کے معنی مہمل چھوڑ دینے کے ہیں۔ اسم ہے واحد اور جمع دونوں کے لئے مساوی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سدی بےکار چھوڑے ہوئے اونٹ ، شتر بےبہار۔ سدی، یترک کی ضمیر نائب فاعل سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انسان یہ سوچتا ہے کہ اس کو یوں ہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا نہ کسی کام کا حکم دیا جائے گا اور نہ کسی فعل سے منع کیا جائے گا۔ حالانکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی پابندی امر و نہی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (5:56) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری ہی عبادت کریں۔
Ayah 75:37

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

(75:37) الم یک نطفۃ من منی یمنی : جملہ مستانفہ ہے، انسان کے خیال بالا کے ابطال کے لئے آیا ہے۔ ا ہمزہ استفہامیہ ہے۔ لم یک مضارع نفی جحد بلم کیا وہ نہیں تھا۔ نطفۃ فعل لم یک کے فاعل سے حال ہے ایک نطفہ کی حالت میں۔ نطفہ مائع چیزکا وہ قطرہ جو بوقت مجامعت مراد کے آلہ تناصل سے اچھل کر عورت کے رحم میں ٹپک جاتا ہے۔ اس کی جمع نطاف ہے۔ من منی نطفۃ کی صفت، منی کا قطرہ۔ یمنی مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ جو ٹپکایا جاتا ہے جو ٹپکایا گیا۔ اس میں ضمیر نائب فاعل منی کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا وہ نہیں تھا (ابتداء میں) معنی کا ایک (حقیر) قطرہ جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے۔
Ayah 75:38

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

(75:38) ثم کان علقۃ : ای صار المنی قطعۃ دوجامد بعد اربعین یوما (مدارک التنزیل) پھر وہ منی ایک منجمد خون کا لوتھڑا بن گئی۔ فخلق فسوی :تعقیب کا۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب۔ تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی بلندی یا پستی میں برابر بنانے کے ہیں۔ پھر اس نے پورا پورا بنایا۔ ای فخلق اللہ منہ بشرا سویا۔ (مدارک) ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس لوتھڑے سے ایک مکمل انسان پیدا کیا۔
Ayah 75:39

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

(75:39) فجعل منہ الزوجین۔ پھر اس انسان کا زوج (دو ہم نظیر شکلوں کا جوڑا) بنایا۔ الذکر والانثی۔ مرد اور عورت۔ یہ زوجین کا بدل ہے۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

(75:40) الیس ذلک : أ: ہمزہ استفہامیہ اقراری ہے۔ یعنی قادر ہے۔ لیس ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ الیس کیا وہ نہیں ہے۔ اس سے صرف ماضی کی گردان آتی ہے۔ مضارع، امر، اسم فاعل، اسم مفعول، اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ غیر منصرف کہلاتا ہے افعال ناقصہ میں سے ہے اور ماضی کا معنی رکھتا ہے۔ ذلک ای ھو الذی فعل ھذا وانشا الاشیاء اول مرۃ۔ وہ ذات کہ جس نے یہ سب کچھ بنایا۔ اور ہر چیز کو اول مرتبہ نیست سے ہست کردیا۔ خدائے پاک ذات خالق کائنات۔ ان یحی الموتی : ان مصدریہ۔ یحییٰ مضارع واحد مذکر غائب یہاں مضارع بمعنی مصدر ہے۔ زندہ کرنے پر۔ الموتی : میت کی جمع ہے۔ مردے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو کیا ایسی ذات اس پر قدرت نہیں رکھتی کہ مردوں کو زندہ کر دے ؟ سبحک اللہم بلی۔