75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہم کو روز قیامت کی قسم۔

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)

(1۔ 2) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی کہ وہ ضرور ہوگی اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی خواہ نیک ہو یا گناہ گار جو کہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ نیک انسان تو عذاب وثواب کا مشاہدہ کر کے کہے گا کاش میں اور نیکیاں کرتا اور بدکار کہے گا کاش میں گناہوں سے پاک صاف ہوتا۔ اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نفس نامہ ہے یا یہ کہ وہ نفس جو کہ گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے کو اس پر ملامت کرے یا یہ کہ اس سے نفس کافر اور فاجر مراد ہے۔
Ayahs 75:3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔

(3۔ 4) کیا انسان یعنی عدی بن ربیع خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی پرانی ہڈیاں جمع کرنے پر قدرت نہیں رکھتے، ہم یقینا اس چیز پر قادر ہیں کیونکہ ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پوریوں کو جمع کردیں کہ اس کا ہاتھ اونٹ کے موزے یا جانور کے کھر کی طرح ہوجائے یا یہ کہ ہم اس کا ہاٹھ اونٹ کے موزے کی طرف کرنے پر قادر ہیں تو پھر ہم اس کی ہڈیوں کو کیوں جمع نہیں کرسکتے۔
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

بلکہ یہ چاہتا ہے کہ یہ فسق و فجور کرتا رہے اور توبہ میں تاخیر کرے یا یہ کہ اپنی آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے۔
Ayahs 75:6–9

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں چندھیا جائیں

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں

(6۔ 9) یہ عدی بن ربیعہ بطور انکار کے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس وقت آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج و چاند دونوں ایک حالت کے ہوجائیں گے یعنی سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔
Ayahs 75:10–12

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہے

(10۔ 12) تو دوزخ کے دیکھنے کے بعد عدی اور اس کے ساتھی ہوں گے اب کہاں بھاگوں اور کس جگہ پناہ لوں ہرگز کوئی پہاڑ اس کو دوزخ سے بچانے والا نہ ہوگا، کہتے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے بچنے کے لیے کوئی اس کی رکاوٹ اور جائے پناہ نہ ہوگی قیامت کے دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس جانے کا ٹھکانا ہے۔
Ayahs 75:13–15

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہونگے سب بتادئیے جائیں گے

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

(13۔ 15) قیامت کے دن انسان کو سب اس کی اگلی پچھلی نیکیاں جتلا دے گا بلکہ عدی بن ربیع خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ اپنے بارے میں خوب بہانے یا معذرتیں پیش کرے یا یہ کہ اپنی حالت سے غافل اور دوسروں کی حالت سے واقف ہوگا۔
Ayahs 75:16–18

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ وحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

(16۔ 18) اے محمد قرآن پڑھنے کے لیے آپ اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے اس سے پہلے کہ جبریل امین اپنی قرات سے فارغ ہوجائیں کیونکہ نبی اکرم جس وقت جبریل امین قرآن کریم کا کوئی حصہ لے کر آتے تھے تو جبریل امین کے ختم کرنے سے پہلے بھول جانے کے خوف سے آپ پڑھنا شروع کردیتے، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرمائی اور فرمایا کہ آپ کے قلب میں اس کا جمع کردینا ہمارے ذمہ ہے اور جبریل امین کی قرات کا آپ کی زبان سے پڑھوا دینا یا یہ کہ حلال و حرام کا سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے، سو جس وقت جبریل امین اس کو پڑھنے لگا کریں تو آپ ان کے بعد اس کو پڑھ لیا کیجیے یا یہ کہ جس وقت وہ حلال و حرام کی تعلیم کریں تو آپ ان کی پیروی کریں۔ شان نزول : لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم پر جس وقت وحی نازل ہوا کرتی تھی تو آپ اس کے یاد کرنے کی خاطر اپنی زبان کو حرکت دیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Ayahs 75:19–21

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

(19۔ 21) اور پھر اس کے حلال و حرام اوامرو نواہی کا بیان کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور ثواب آخرت کے لیے کام کرنے کو چھوڑ بیٹھے۔
Ayahs 75:22–25

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

(22۔ 25) سچے مومنوں کے چہرے تو قیامت کے دن بارونق اور چمکدار ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے قیامت کے دن بےرونق ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محروم رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا ہے۔
Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

(26۔ 30) ہرگز ایسا نہیں جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور حاضرین سے کہتا ہے کہ کوئی دوا دارو کرنے والا ہے یا یہ کہ فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کون اس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے اور اس وقت مردہ یقین کرلیتا ہے کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور دنیاوی آخری دن کی سختی آخرت کے پہلے دن کی سختی کے ساتھ مل جاتی ہے یا یہ کہ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے اور قیامت کے دن تمام مخلوقات کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔
Ayahs 75:31–33

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

(31۔ 33) اور اس ابو جہل نے نہ وحدانیت خداوندی کی تصدیق کی تھی اور نہ اسلام قبول کرکے نمازیوں میں سے ہوا تھا لیکن توحید کو جھٹلایا تھا اور ان سے منہ موڑا تھا اور پھر تکبر کرتا اور ناز کرتا ہوا دنیا میں اپنے گھر چل دیتا تھا۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

(34۔ 35) چناچہ حضور کے سامنے یہ آگیا آپ نے اسے پکڑ کر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ حرکت دی اور فرمایا اے ابو جہل تیری کمبختی آنے والی ہے، چناچہ قرآن کریم میں یہ الفاظ اسی طرح نازل ہوگئے۔ شان نزول : اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۔ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى (الخ) ابن جریر نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعۃ عشر تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تمہاری مائیں تمہیں روئیں ابن ابی کبشہ یعنی حضور بتلاتے ہیں کہ جہنم کے خازن انیس ہیں اور تم پوری دنیا ہو کیا تم میں سے دس آدمیوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جہنم کے خازن کو پچھاڑ دو ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے پاس وحی بھیجی کہ اس کے پاس جا کر اس سے یہ کہہ دیں اولی لک فاولی۔ امام نسائی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس سے فرمان خداوندی اولی لک فاولی کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا یہ رسول اکرم نے خود فرمایا تھا یا اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا حکم دیا تھا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ نے خود فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کلمات کو نازل کردیا۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

کیا ابوجہل یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی بغیر امر و نہی کے چھوڑ دیا جائے گا۔
Ayahs 75:37–38

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

(37۔ 38) کیا یہ ابوجہل ایک منی کا قطرہ نہ تھا جو عورت کے رحم میں ٹپکایا گیا پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے انسان بنایا اور اس کے ہاتھ پیروں اور تمام اعضاء کو درست کر کے اس میں روح پھونکی۔
Ayahs 75:39–40

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

(39۔ 40) پھر اس کے بعد اس کا لڑکا یعنی عکرمہ بن ابی جہل اور لڑکی جویریہ پیدا کی ان تمام باتوں کا کرنے والا کیا اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردے بلکہ ہمارا پروردگار اس چیز پر ضرور بالضرور قادر ہے جیسا کہ اس نے آدم کو مٹی سے پیدا کردیا۔