75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsمعارف القرآن

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

خلاصہ تفسیر میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی جو اپنے اوپر ملامت کرے (یعنی نیکی کرکے یہ کہے کہ میں نے کیا کیا ہے اس میں اخلاص نہ تھا، اس میں فلانی خرابی رہ گئی تھی اور گناہ ہوجاوے تو بہت ہی نادم ہو۔ کذافی الدر المنثور عن ابن عباس والحسن۔ پس اس معنی کے اعتبار سے یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے اور جواب قسم مخدوف ہے یعنی تم ضرور مبعوث ہوگے، اور ان دونوں قسموں کا مناسب مقام ہونا ظاہر ہے قیامت کا تو اسلئے کہ وہ ظرف ہے حشر ونشرا اور نفس لوامہ کا اسلئے کہ ایسا نفس قیامت کی عملی تصدیق کرنے والا ہوتا ہے۔ آگے منکرین بعث پرر (ہے یعنی) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے (انسان سے مراد کافر اور ہڈیوں کی تخصیص اسلئے کہ اصل عماد بدن یہی ہیں۔ آگے اس انکار کا جواب ہے یعنی) ہم ضرور جمع کریں گے (اور یہ جمع کرنا ہم کو کچھ دشوار نہیں) کیونکہ ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پوریوں تک درست کردیں (پوریوں کی تخصیص ذکری دو وجہ سے ہے ایک یہ کہ یہ اطراف بدن ہیں اور تکمیل ہر شئے کے بننے کی اس کے اطراف پر ہوتی ہے۔ چناچہ ہمارے محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ میرے پور پور میں درد ہے یعنی تمام بدن میں۔ دوسرے یہ کہ پوریوں میں باوجوڈ چھوٹی ہونے کے صنعت کی رعایت زیادہ ہے اور عادة یہ زیادہ دشوار ہے پس جو اس پر قادر ہوگا وہ آسمان پر بدرجہ اولیٰ قادر ہوگا لیکن بعضا آدمی قدرت الٰہیہ میں غور نہیں کرتا اور قیامت کا قائل نہیں ہوتا) بلکہ (ایسا) بعضا آدمی (قیامت کا منکر ہو کر) یوں چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ زندگی میں بھی (بےخوف وخطر ہو کر) فس و فجور کرتا رہے (اسلئے بطور انکار کے) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئیگا (یعنی چونکہ اپنی عمر معاصی وشہوات میں گزارنا طے کرچکا ہے اسلئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہوا اسلئے انکار پر مصر ہے اور انکاراً پوچھتا ہے کہ کب آئے گی) سو جس وقت (مارے حیرت کے) آنکھیں خیرہ ہوجاویں گی (اور وجہ اس حیرت کی یہ ہوگی کہ جن امور کی تکذیب کرتا تھا وہ دفعتاً نظر آجاویں گے کذافی الجلالین) اور چاند بےنور ہوجاوے گا اور (چاند کی کیا تخصیص ہے بلکہ) سورج اور چاند (دونوں) ایک حالت کے ہوجاویں گے (یعنی دونوں بےنور ہوجاویں گے، جیسا حدیث بخاری میں آیا ہے (تکوران ومعنی کورت قال ابن عباس اظلمت، رواھمافی الدر المنثور سورة التکویر) اور چاند کو جدا بیان کرنا شاید اسلئے ہو کر عرب کی بوجہ قمری حساب رکھنے کے اس کا حال دیکھنے کا زیادہ اہتمام تھا) اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر بھاگوں (ارشاد ہوتا ہے کہ) ہرگز (بھاگنا ممکن) نہیں (ہوگا کیونکہ) کہیں پناہ کی جگہ نہیں (ہوگی) اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانا (جانے کا) ہے (پھر خواہ جنت میں بھیجیں یا دوزخ میں اور رب کے سامنے جانے کے وقت) اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا ہوا جتلادیا جائے گا (اور انسان کا اپنے اعمال سے آگاہ ہونا کچھ اس جتلانے پر موقوف نہ ہوگا) بلکہ انسان خود اپنی حالت پر (بوجہ انکشاف ضروری کے) خوب مطلع ہوگا گو (با قتضائے طبیعت اس وقت بھی) اپنے حیلے (حوالے) پیش لاوے (جیسے کفار کہیں گے (آیت) واللہ ربنا ماکنا مشرکین، مگر دل میں خود بھی جانیں گے کہ ہم جھوٹے ہیں غرض انسان اپنے سب حال کو خوب جانتا ہوگا اسلئے جتلانا اعلام کے لئے نہیں ہوگا بلکہ تنبیہ واتمام حجت وقطع جواب کے لئے ہوگا اور) اے پیغمبر ﷺ ینبو اور بل الانسان سے دو مضمون مستفاد ہوئے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے عالم اور محیط ہیں۔ دوسرا یہ کہ حق تعالیٰ کی عادت ہے کہ جب حکمت متقضی ہوتی ہے تو علوم غائبہ کثیرہ کو ذہن مخلوق میں حاضر کردیتا ہے گو ان علوم غائبہ کا حاضر ہوجانا خلاف عادت طبعی ہو جیسا کہ قیامت میں اس کا وقوع ہوگا جب یہ بات ہے تو آپ نزول وحی کے وقت جیسا کہ اب تک آپ کی عادت ہے اسقدر مشقت کہ سنتے بھی ہیں، پڑھتے بھی ہیں، دھیان بھی رکھتے ہیں محض اس احتمال سے کیوں برداشت کرتے ہیں کہ شاید کچھ مضمون میرے ذہن سے نکل جائے، کیونکہ جب ہم نے آپ کو نبی بنایا ہے اور آپ سے تبلیغ کا کام لینا ہے تو یہاں مقتضائے حکمت یہی ہوگا کہ وہ مضامین آپ کے ذہن میں حاضر رکھے جائیں اور ہمارا اس پر قادر ہونا تو ظاہر ہی ہے اسلئے آپ یہ مشقت برداشت نہ کیا کیجئے، اور جب وحی نازل ہوا کرے تو) آپ (قبل وحی ختم ہوچکنے کے) قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کیجئے تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لیں (کیونکہ) ہمارے ذمہ ہے (آپ کے قلب میں) اس کا جمع کردینا اور (آپ کی زبان سے) اسکا پڑھوادینا (جب یہ ہمارے ذمہ ہے) تو جب ہم اس کو پڑھنے لگا کریں (یعنی ہمارا فرشتہ پڑھنے لگا کرے) تو آپ (اپنے ذہن سے اور فکر سے ہمہ تن) اس کے تابع ہوجایا کیجئے (یعنی ادھر ہی متوجہ ہوجایا کیجئے اور اسکے دوہرانے میں مشغول نہ ہوا کیجئے کقولہ تعالیٰ (آیت) ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ الخ) پھر (آپ کی زبان سے لوگوں کے سامنے) اس کا بیان کرا دینا (بھی) ہمارے ذمہ ہے (یعنی آپ کو یاد کرا دینا اور آپ کی زبان پر جاری کردینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا یہ سب ہمارے ذمہ ہے اور یہ مضمون استطراداً آ گیا تھا۔ آگے پھر عود ہے خطاب منکرین کی طرف یعنی) اے منکرو (انسان کا اعمال متقدمہ ومتاخرہ پر مطلع کیا جانا قیامت میں ضرور ہے اور جیسا تم سمجھ رہے ہو کہ قیامت نہ ہوگی جو ہرگز ایسا نہیں اور نہ تمہارے پاس اس نفی کی کوئی دلیل ہے) بلکہ (صرف بات یہ ہے کہ) تم دنیا سے محبت رکھتے ہو اور (اس محبت میں منہمک ہو کر) آخرت (سے غافل ہو اور غفلت کے سبب اس) کو چھوڑ بیٹھے ہو (پس بناؤ تمہاری اس نفی کی محض فاسد سے سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کرکے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی جس کی تفصیل یہ ہے) بہت سے چہرے تو اس روز با رونق ہوں گے اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے اور بہت سے چہرے اس روز بدرونق ہوں گے (اور وہ لوگ) خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا (یعنی اس کو عذاب شدید ہوگا، آگے دنیا کی محبت پر زجر ہے کہ تم جو دنیا کو محبوب اور آخرت کو متروک ہونے کے قابل سمجھ رہے ہو) ہرگز ایسا نہیں (کیونکہ دنیا سے ایک روز مفارقت ہونیوالی ہے اور بالآخر آخرت میں جانا ہے جسکا بیان یہ ہے کہ) جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور (نہایت حسرت سے اس وقت) کہا جاتا ہے (یعنی تیماردار کہتے ہیں) کہ (ارے ض کوئی جھاڑ (پھونک کرنے) والا بھی ہے (مراد مطلغ معالج ہے چونکہ عرب میں جھاڑ پھونک کا زیادہ چرچا تھا اسلئے راق سے تعبیر کیا) اور (اس وقت) وہ (مردہ) یقین کرلیتا ہے کہ یہ مفارقت (دنیا) کا وقت ہے اور (شدت سکرات موت سے) ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے (مراد اس سے ظہور آثار اسکراث موت ہے کچھ تخصیص ساقین کے لپٹ جانے کی نہیں اس کا ذکر تمثیلاً ہے) جب یہ حالتیں پیش آتی ہیں تو اے شخص) اس روز تیرے رب کی طرف جانا ہوتا ہے (پس ایسی حالت میں حب عاجلہ وترک آخرت کس درجہ نادانی ہے پھر خدا کے پاس پہنچنے کے بعد اگر وہ کافر ہے) تو (اس کا برا حال ہوگا کیونکہ) اس نے نہ تو (خدا اور رسول کی) تصدیق کی تھی اور نہ نماز پڑھی تھی لیکن (خدا اور رسول کی) تکذیب کی تھی اور (احکام سے) منہ موڑا تھا پھر (اس پر طرہ یہ کہ داعی حق سے منہ موڑ کر اس پر افتخار اور) ناز کرتا ہوا اپنے گھر چل دیتا تھا (مطلب یہ کہ اول تو کفر وعصیان پر پھر اس پر ندامت نہیں بلکہ اور الٹا فخر کرتا تھا کہ ہمے اس طرح حق کو رد کیا اور باطل پر جمے رہے اور پھر اس کے بعد طلب حق نہیں بلکہ اپنے خدم وحشم میں جاکر اور زیادہ مغرور اور غافل ہوجاتا، آگے اس کافر کی بدحالی کا بیان ہے کہ ایسے شخص سے کہا جاوے گا کہ) تیری کمبختی آنے والی ہے پھر (مکرر سن لے کہ) تیری کمبختی پر کمبختی آنے والی ہے (تکریر مفرد سے مقدار کی زیادتی مستفاد ہوئی اور تکریر مجموعی سے کیفیت کی زیادتی، اور چونکہ وقوع جزائے مذکور موقوف ہے دو امر پر، ایک انسان کا مکلف ہونا دوسرے اس کا مر کر دوبارہ زندہ ہونا جس کے امکان میں ان کو کلام تھا اسلئے آگے دونوں مضمون ہیں یعنی) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جاوے گا۔ (نہ اس پر احکام عائد کئے جاویں گے اور نہ اس حساب کتاب ہوگا بلکہ مکلف ہونا بھی یقینی ہے اور اس پر باز پرس ہونا بھی یقینی، اور یہ جو بعث کو محال سمجھتا ہے یہ بھی اس کی حماقت ہے) کیا یہ شخص (ابتداء میں محض) ایک قطرہ منی نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکایا گیا تھا پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا، پھر اللہ تعالیٰ نے (اس کو انسان) بنایا، پھر اعضا درست کئے پھر اس (انسان) کی دو قسمیں کردیں مرد اور عورت (اور یہ فاتفسیر یہ ہے تو) کیا وہ (خدا جس نے ابتداء میں اپنی قدرت سے یہ سب کچھ کیا) اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردے (حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلے پیدا کرنے کی نسبت آسان ہے) معارف و مسائل للَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۝ ۙوَلَآ اُقْسِمُ بالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ یہاں قسم سے پہلے حرف لا زائد ہے۔ جب قسم کسی مخالف کی بات رد کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے تو اس کے شروع میں صرف لا اس شخص کے خیال باطل کی نفی کے لئے زائد استعمال ہوتا ہے اور محاورات عرب میں یہ استعمال معروف و مشہور ہے۔ ہماری زبان میں بھی بعض اوقات کسی قابل تاکید مضمون کے بیان سے پہلے کہا جاتا ہے، نہیں آگے اپنا مقصد بیان کیا جاتا ہے۔ اس سورت میں قیامت وآخرت کے منکروں کو تنبیہ اور ان کے شکوک و شبہات کا جواب ہے۔ سورت کو اول قیامت پھر نفس لوامہ کی قسموں سے شروع فرمایا ہے اور جب قسم بقرینہ مقام مخدوف ہے یعنی قیامت ضرور آکر رہے گی۔ قیامت کی قسم تو اس کی عظمت کے اثبات کے لئے مناسب مقام ہونا ظاہر ہے اسی طرح نفس لوامہ کی قسم میں بھی اس کی عظمت اور مقبولیت عنداللہ کا اظہار ہے نفس کے معنے جان یا روح کے معروف ہیں اور لوامہ لوم بفتح اللام سے مشتق ہے جس کے معنے ملامت اور سرزنش کرنے کے ہیں۔ نفس لوامہ سے مراد وہ نفس ہے جو خود اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے اپنے آپ کو ملامت کرتا رہے یعنی جو گناہ سرزد ہوا یا عمل واجب میں کوتاہی ہوئی اس پر خود اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا اور اعمال خیر اور حسنات کے متعلق بھی اپنے آپ کو اس پر ملامت کرے کہ اس سے زیادہ نیک کام کرکے اعلیٰ درجات کیوں نہ حاصل کئے۔ غرض مومن کامل اپنے ہر عمل خیروشر اور حسنات وسیئات میں اپنے آپ کو ہمیشہ ملامت ہی کرتا ہے۔ گناہ یا واجب میں کوتاہی پر ملامت تو ظاہر ہے حسنات اور نیک کاموں میں ملامت کی وجہ یہ ہے کہ اے نفس تو یہ نیکی اس سے زیادہ بھی تو کرسکتا تھا اس پر زیادتی سے کیوں محروم رہا۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس اور دوسرے ائمہ تفسیر سے منقول ہے (ابن کثیر وغیرہ) اور اسی مفہوم کیوجہ سے حضرت حسن بصری ؒ نے نفس لوامہ کی تفسیر نفس مومنہ سے کی ہے۔ اور فرمایا کہ واللہ مومن تو ہمیشہ ہر حال میں اپنے نفس کو ملامت ہی کرتا ہے۔ سیئات پر تو ظاہر ہی ہے اپنے حسنات اور نیک کاموں میں بھی وہ مقابلہ شان حق سبحانہ وتعالیٰ کے کمی اور کوتاہی محسوس کرتا ہے کیونکہ حق عبادت کو پورا ادا کرنا تو کسی کے بس میں نہیں اسلئے ادائے حق میں تقصیر اس کے سامنے رہتی ہے اس پر ملامت کرتا ہے۔
Ayahs 75:2–3

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں جی کی کہ جو ملامت کرے برائی پر

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ جمع نہ کریں گے ہم اس کی ہڈیاں

نفس لوامہ کی تفسیر۔ حضرت ابن عباس اور حس بصری وغیرہ کی اس تفسیر پر نفس لوامہ کی قسم کھانا حق تعالیٰ کی طرف سے ایسے نفوس مومنہ کے اکرام وشرف کے اظہار کے لئے ہے جو خود اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے کوتاہی پر نادم ہوتے اور اپنے کو ملامت کرتے ہیں۔ نفس لوامہ اور مطمئنہ۔ اور نفس لوامہ کی اس تفسیر کے مطابق یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے لوامہ اور مطمئنہ دونوں نفسم متقی کے لقب ہیں۔ نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ اور حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت و فطرت کے اعتبار سے امارة بالسو ہوتا ہے یعنی انسان کو برے کاموں کی طرف بلانے اور اسمیں مبتلا کرنے کا داعی ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ نفس لوامہ بنجاتا ہے کہ برائی اور کوتاہی پر نادم ہونے لگتا ہے مگر برائی سے بالکیہ انقطاع اس کا نہیں ہوتا۔ آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق تعالیٰ کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت بن جائے اور خلاف شرع کام طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب مطمئنہ ہوجاتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ہم ٹھیک کرسکتے ہیں اس کی پوریاں

آگے منکرین قیامت کے اس عامیانہ شب کا جواب ہے مرنے کے بعد جب انسان مٹی ہوگیا اس کی ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوگئیں ان کو دوبارہ کیسے جمع کرکے زندہ کیا جائے گا۔ جس کے جواب میں فرمایا بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں تو اس پر تعجب ہے کہ میت کے ذرات منتشرہ اور بوسیدہ ہڈیوں کو جمع کیسے کیا جاوے گا اور ان میں دوبارہ حیات کیسے ڈالی جاوے گی۔ حالانکہ یہ بات پہلے ایک مرتبہ مشاہدہ میں آٰچکی ہے کہ ہر انسان کا وجود جو دنیا میں پلتا اور بڑھتا ہے وہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں خطوں کے اجزاء اور ذرات کا مرکب ہوتا ہے تو جس ذات قادر نے پہلی مرتبہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ذرات کو ایک انسان کے وجود میں جمع کردیا تھا اب دوبارہ جمع کرلیتا اسکے لئے کیوں مشکل ہوگا، اور جس طرح پہلے اس کے ڈھانچے میں روح ڈال کر زندہ کیا تھا دوبارہ ایسا کرنے میں کیا حیرت کی بات ہے۔ حشراجساد میں قدرت حق تعالیٰ کا عجیب و غریب عمل غور اس پر کرو کہ ایک انسان جس ہیت وجسامت اور شکل و صورت پر پہلے پیدا کیا گیا تھا قدرت حق دوبارہ بھی اسی کے وجود میں انہی ساری چیزوں کو بغیر کسی ادنی فرق کے جمع کردے گی حالانکہ یہ اربوں پدموں انسان ابتدائے دنیا سے قیامت تک پیدا ہوتے اور فنا ہوتے رہے کس کی مجال ہے کہ ان سب کی شکلوں صورتوں اور قدوقامت کی کیفیتوں کو الگ الگ یاد بھی رکھ سکے اس جیسا دوبارہ بنانا تو بڑا کام ہے مگر حق تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ ہم صرف اسی پر قادر نہیں ہیں کہ میت کے سارے بڑے بڑے اجزاء واعضا کو دوبارہ اسی طرح بنادیں بلکہ انسانی وجود کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی ہم ٹھیک اسی طرح کردیں گے جس طرح وہ پہلے تھی اس میں بنان یعنی انگلیوں کے پوروں کا خاص ذکر فرمایا کہ وہ سب سے چھوٹے اجزاء ہیں۔ جب ان چھوٹے اجزاء کی دوبارہ ساخت میں فرق نہیں آیا تو بڑے بڑے اعضا ہاتھ پاؤں وغیرہ میں تو کیا فرق ہوتا۔ اور اگر غور کیا جائے تو شاید بنان یعنی انگلیوں کے پوروں کے تخصیص میں اس کی طرف بھی اشارہ ہو کہ حق تعالیٰ نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے ممتاز کرنے کے لئے اس کے سارے ہی بدن میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے اور ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا ہے خصوصاً انسانی چہرہ جو چند انچ مربع سے زائد نہیں، اسکے اندر قدر حق نے ایسے امتیازات رکھے ہیں کہ اربوں قدموں انسانوں میں ایک کا چہرہ بالکل دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں ملتا کہ امتیاز باقی نہ رہے۔ انسان کی زبان اور حلقوم بالکل ایک ہی طرح ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اسی ممتاز ہے کہ بچے بوڑھے عورت مرد کی آوازیں الگ پہچانی جاتی ہیں اور ہر انسان کی آواز الگ الگ پہچانی جاتی ہے، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز انسان کے انگوٹھے اور انگلیوں کے پوروے ہیں کہ ان کے اوپر جو نقش ونگار خطوط کے جال کی صورت میں قدرت نے بنائے ہیں وہ کبھی ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ نہیں ملتے، صرف آدھ انچ کی جگہ میں ایسے امتیازات کہ اربوں انسانوں میں یہ پورے مشترک ہونے کے باوجود ایک کے خطوط دوسرے سے نہیں ملتے۔ اور قدیم وجدید ہر زمانے میں نشان انگوٹھہ ایک امتیاز چیز قرار دے کر عدالتی فیصلے اس پر ہوتے ہیں، اور فنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بات صرف انگوٹھے ہی میں نہیں ہر انگلی کے پوروے کے خطوط بھی اس طرح ممتاز ہوتے ہیں۔ یہ سمجھ لیتے کے بعد پوروں کے بیان کی تخصیص خودبخود سمجھ میں آجاتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہیں تو اسی پر تعجب ہے کہ یہ انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوگیا ذرا اس سے آگے سوچو اور غور کرو کہ صرف زندہ ہی نہیں ہوگیا بلکہ اپنی سابقہ شکل و صورت اور اسکے ہر امتیازی وصف کیساتھ زندہ ہوا ہے یہاں تک کہ انگوٹھے اور انگلیوں کے پورو وں کے خطوط پہلی پیدائش میں جس طرح تھے اس نشات ثانیہ میں بھی بالکل وہی ہوں گے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayahs 75:5–6

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ چاہتا ہے آدمی کہ ڈھٹائی کرے اس کے سامنے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کب ہوگا دن قیامت کا

لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ لفظ امام فتح الہمزہ سامنے اور مستقبل کے معنی میں ہے اسلئے معنے آیت کے یہ ہوئے کہ کافر اور غافل انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ان مشاہدات میں غور نہیں کرتا کہ ماضی کے انکار پر نادم ہو کر اپنے مستقبل کو درست کرلے بلکہ مستقبل میں بھی وہ یہی چاہتا رہتا ہے کہ اپنے کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جما رہے۔
Ayahs 75:7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب چندھیانے لگے آنکھ

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور گہ جائے چاند

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور اکٹھے ہوں سورج اور چاند

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

کہے گا آدمی اس دن کہاں چلا جاؤں بھاگ کر

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

کوئی نہیں کہیں نہیں ہے بچاؤ

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

تیرے رب تک ہے اس دن جا ٹھہرنا

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۝ ۙوَخَسَفَ الْقَمَرُ ۝ ۙوَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یہ قیامت کے حالات کا بیان ہے برق بفتح البا و کسر را کے معنی آنکھ خیرہ ہوگی کہ دیکھ نہ سکیں۔ قیامت کے روز سب کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی، نگاہ جما کر کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں گی۔ خسف القمر خسوف سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی ختم ہو کر تاریکی ہوجانے کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ چاند بےنور ہوجائے گا۔ آگے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں یہ بتلایا کہ صرف چاند ہی بےنور نہیں ہوگا بلکہ آفتاب بھی بےنور ہوجائے گا جس کے متعلق دنیا کے فلاسفہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل روشنی آفتاب میں ہے۔ چاند کی روشنی بھی آفتاب کی شعاعوں سے مستفاد ہے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے روز یہ چاند اور سورج دونوں ایک ہی حال میں جمع کردیئے جاویں گے کہ دونوں بےنور ہوں گے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ چاند سورج کے جمع ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اس روز چاند اور سورج دونوں ایک ہی مطلع سے طلوع ہوں گے جیسا کہ بعض مقامات میں آیا ہے واللہ اعلم
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

جتلا دیں گے انسان کو اس دن جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا

يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ یعنی اس روز انسان کو جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا کیا پیچھے چھوڑا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس نے فرمایا کہ جو نیک کام اپنی موت سے پہلے کرلیا وہ آگے بھیج دیا، اور جو نیک یا بد مفید یا مضر کوئی طریقہ کوئی رسم ایسی چھوڑی کہ اسکے بعد لوگ اس پر عمل کریں وہ پیچھے چھوڑا (اسکا ثواب یا عذاب اس کو ملتا رہے گا) اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ماقدم سے مراد وہ عمل صالح ہے جو اپنی زندگی میں کر گزرا اور مآخر سے مراد وہ عمل صالح ہے جس کو کرسکتا تھا مگر نہ کیا اور فرصت ضائع کردی۔
Ayahs 75:14–18

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اور پڑا لاڈالے اپنے بہانے

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان تاکہ جلدی اس کو سیکھ لے

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

وہ تو ہمارا ذمہ ہے اس کو جمع رکھناتیرے سینہ میں

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

اور پڑھنا تیری زبان سے پھر جب ہم پڑھنے لگیں فرشتہ کی زبانی تو ساتھ رہ اس کے پڑھنے کے

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ 14؀ۙوَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ بصیر اور بصیرة کے معنے دیکھنے والے کے بھی آتے ہیں اور بصیرة کے معنے حجت کے بھی آتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے قد جائکم بصائر من ربکم اسمیں بصائر بصیرة کی جمع ہے اور معنی اسکے حجت کے ہیں اور معاذیر معذار بمعنے عذر کی جمع ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ عدالت کے ضابطہ کی رو سے انسان کے سارے اعمال محشر میں اس کو ایک ایک کرکے بتلائے جاویں گے مگر درحقیقت اس کو اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ اپنے اعمال کو خوب جانتا ہے خود اس کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کیا کام کئے، نیز یہ کہ محشر میں تمام اپنے اعمال نیک وبد کا مشادہ بھی اس کے سامنے ہوجائے گا جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا (آیت) ووجدو ماعملوا حاضرا یعنی جو عمل انہوں نے دنیا میں کیا تھا اس کو محشر میں حاضر و موجود پائیں گے اور آنکھوں سے دیکھ لیں گے یہاں جس انسان کو اپنے نفس پر بصیرہ فرمایا اس کا یہی حاصل ہے۔ اور اگر بصیرہ کے معنے حجت کے لئے جاویں تو معنے یہ ہیں کہ انسان خود اپنے نفس پر حجت و دلیل ہوگا وہ انکار بھی کرے گا تو اس کے اعضا اقرار کریں گے مگر انسان اپنے جرائم وتقصیرات کو جاننے کے باوجود عذر تراشی نہ چھوڑے گا اپنے کئے کا عذر بیان کرتا ہی رہے گا یہ معنے ہیں ۙوَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ کے۔ یہاں تک قیامت کے احوال اور اہوال کا تذکرہ تھا اور آگے بھی یہی آنے والا ہے۔ درمیان میں چار آیتوں کے اندر رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص ہدایت دی گئی ہے جو نزول وحی کے وقت نازل شدہ آیات کے متعلق ہے وہ یہ کہ جب جبرئیل امین قرآن کریم کی کچھ آیات لے کر نازل ہوتے تو آنحضرت ﷺ کو ان کو پڑھنے کے وقت ایک تو یہ فکر ہوتی تھی کہ کہیں اس کے سننے اور پھر اسکے مطابق پڑھنے میں کوئی فرق نہ آجائے۔ دوسری فکر یہ ہوتی تھی کہ کہیں اس کا کوئی حصہ کوئی کلمہ ذہن سے نکل جائے اور بھول جائیں اس لئے آپ کو جس وقت جبرئیل امین کوئی آیت سناتے تو آنحضرت ﷺ ساتھ ساتھ پڑھتے اور زبان کو جلدی جلدی حرکت دینے لگتے تھے کہ بار بار پڑھ کر اس کو یاد کرلیں، آپ کی اس محنت ومشقت کو دور کرنے کے لئے ان چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے صحیح صحیح پڑھوانے پھر یاد کرادینے اور پھر اس کو مسلمانوں کے سامنے اسی طرح پیش کرادینے کی ذمہ داری خود لے لی اور آنحضرت ﷺ کو فرمادیا کہ آپ اس غرض کے لئے زبان کو جلدی جلدی حرکت دینے کی زحمت نہ اٹھائیں۔ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ کا یہی مطلب ہے پھر فرمایا اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه، یعنی ان تمام آیات کو آپ کے کو آپ کے قلب میں جمع کردینا پھر اس کو اسی طرح آپ سے پڑھودینا یہ سب ہمارے ذمہ ہے اسلئے آپ اس کی فکر چھوڑ دیں اور فرمایا فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ قرآن اس جگہ بمعنے قرآت ہے معنے یہ ہیں کہ جب ہم یعنی ہماری طرف سے جبرئیل امین قرآن پڑھیں تو آپ ساتھ ساتھ نہ پڑھا کریں بلکہ ہمارے پڑھنے کے بعد پڑھا کریں اور اس وقت خاموش ہو کر سنا کریں۔ یہاں باتفاق ائمہ اتباع قرآن سے مراد یہ ہے کہ جب جبرائیل امین پڑھیں تو آپ خاموش رہ کر سنیں۔ امام کے پیچھے مقتدی کے قرات نہ کرنے کی ایک دلیل حدیث صحیح میں جو یہ آیا ہے کہ امام کو اقتداء اور اتباع ہی کے لئے بنایا گیا ہے اس لئے مقتدیوں کو اس کا اتباع کرنا چاہئے جب وہ رکوع کرے تو سب مقتدی رکوع کرلیں جب وہ سجدہ میں جائے تو سب سجدہ میں جائیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں اسی کیساتھ یہ بھی ارشاد ہے کہ جب امام قرات کرے تو تم خاموش رہ کر سنو اذا قرا فانصتوا، یہ بھی اس کا بیان ہے کہ مقصود امام کا اتباع ہے رکوع سجدے میں تو اتباع امام کی صورت یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ افعال رکوع سجدے کے ادا کئے جاویں مگر قرات کا اتباع یہ نہیں کہ ساتھ ساتھ پڑھا جائے بلکہ قرات کا اتباع یہی ہے کہ جب امام قرات کرے تو تم خاموش رہ کر سنو۔ یہی استدلال ہے امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کا اس معاملے میں کہ امام کے پیچھے مقتدی کو قرات نہیں کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم
Ayahs 75:19–21

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اس کو کھول کر بتلانا

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

کوئی نہیں پر تم چاہتے ہو جو جلد آئے

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور چھوڑتے ہو جو دیر میں آئے

آخر میں فرمایا ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فکر بھی اپنے اوپر نہ رکھیں کہ نازل شدہ آیات کا صحیح مفہوم اور مراد کیا ہے اس کا بتلانا سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ہم قرآن کے ہر ہر لفظ اور اس کی مراد کو آپ پر واضح کردیں گے۔ ان چار آیتوں میں قرآن اور اس کی تلاوت وغیرہ کے متعلقہ احکام بیان کرنے کے بعد آگے پھر قیامت کے احوال واہوال ہی کا بقیہ تذکرہ آتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چار آیتوں کا اگلی پچھلی آیتوں سے ربط اور جوڑ کیا ہے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ربط یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار آیتوں سے پہلے جو قیامت کے حالات میں اس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ ایک ایک انسان کو جس کیفیت جس شکل و صورت میں وہ پہلے تھا اسی میں دوبارہ پیدا فرمادیں گے یہانتک کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو اور ان پر بنے ہوئے امتیازی خطوط و نشانات کو بھی بالکل پہلے جیسا بنا دینگے اس میں سر موفرق نہ ہوگا یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ ذات حق تعالیٰ کا علم بھی بےانتہاء ہے اور اس کا احصار اور محفوظ رکھنا بھی بےمثال ہے۔ اس کی مناسب سے رسول اللہ ﷺ کو چار آیتوں میں یہ تسلی دی گئی کہ آپ تو بھول بھی سکتے ہیں نقل میں غلطی کا بھی امکان ہوسکتا ہے مگر حق تعالیٰ ان سب سے بالا و برتر ہیں ان چیزوں کی ذمہ داری خود حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لی ہے اس لئے آپ قرآن کے کلمات کو محفوظ رکھنے یا ان کے معافی سمجھنے میں غور کرنے کی زحمت چھوڑ دیں، یہ سب کام حق تعالیٰ خود انجام دیں گے۔ آگے پھر قیامت کے حالات کا بیان ہے۔
Ayahs 75:22–25

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن تازہ ہیں

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھنے والے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

او کتنے منہ اس دن اداس ہیں

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرتے ہیں کہ ان پر وہ آئے جس سے ٹوٹے کمر

وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ، اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ناضرة بمعنے ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش تروتازہ ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ یعنی یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سر نصیب ہوگا اس پر اہل سنت والجماعت اور سب علما وفقہا کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں۔ وجہ انکار کی فلسفیانہ شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھاے جائے اور ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں خالق و مخلوق کے درمیان ان کا تحقیق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت وزیارت ان سب شرائط سے بےنیاز ہوگی نہ کسی جہت اور سمت سے اس کا تعلق ہوگا نہ کسی خاص شکل و صورت اور ہیت سے۔ روایات حدیث سے یہ مضمون اور بھی زیادہ وضاحت سے ثابت ہے، البتہ اس روایت وزیارت میں اہل جنت کے مختلف درجات ہوں گے، بعض کو یہ زیارت ہفتہ وار جمعہ کو حاصل ہوگی بعض کو روزانہ صبح شام اور بعض کے لئے یہ ہر وقت ہر حال میں رہے گی (مظہری)
Ayahs 75:26–33

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں جس وقت جان پہنچے ہانس تک

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہیں کون ہے جھاڑنے والا

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ سمجھا کہ اب آیا وقت جدائی کا

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور لپٹ گئی پنڈلی اور پنڈلی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

تیرے رب کی طرف ہے اس دن کھنچ کر چلا جانا

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر نہ یقین لایا اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

پھر جھٹلایا اور منہ موڑ

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر گیا اپنے گھر کو اکڑتا ہوا

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26؀ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27؀ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28؀ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29؀ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پاؤں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانیکا آگیا۔ اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے نہ کوئی عمل اسلئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے والْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاق میں لفظ ساق کے مشہور معنے پاؤں کی پنڈلی کے ہیں اور پنڈلی کے ایک دوسرے پر لپٹنے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت اضطراب اور بےچینی سے ایک پنڈلی دوسری پر مارتا ہے اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ اس وقت اگر ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہے اور اس کو حرکت دے کر ہٹانا چاہتا ہے تو وہ اس کی قدرت میں نہیں ہوتا (کما قال الشعبی والحسن) اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں دو ساقوں سے مراد دو عالم دنیا وآخرت کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن جمع ہوا ہے اسلئے دوہری مصیبت میں گرفتار ہے دنیا سے جدائی کا غم اور آخرت کے معاملے کی فکر۔ واللہ اعلم
Ayahs 75:34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ چھوٹا رہے گا بےقید

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

بھلا نہ تھا وہ ایک بوند منی کی جو ٹپکی

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر تھا لہو جما ہوا پھر اس نے بنایا اور ٹھیک کر اٹھایا

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر کیا اس میں جوڑا نر اور مادہ

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى، ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى لفظ اولی ویل کا مقلوب ہے۔ ویل کے معنے ہلاکت اور بربادی ہیں یہاں اس شخص کے لئے جس نے کفر و تکذیب ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا اور دنیا کے مال و دولت میں مست رہا پھر اسی حال پر مر گیا اسکے لئے چار مرتبہ لفظ ہلاکت و بربادی استعمال کیا گیا کہ مرنے کے وقت پھر مرنے کے بعد قبر میں پھر حشر و نشر کے وقت پھر جہنم میں داخلے کے وقت یہ مصیبت و بربادی تیرا حصہ ہے۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا یہ (خدا) زندہ نہیں کرسکتا مردوں کو۔

اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى یعنی کیا وہ ذات حق جس کے قبضہ قدرت میں موت وحیات اور سارا جہان ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة قیامہ کی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو یہ کلمات کہنا چاہئے بلی وانا علی ذلک من الشھدین۔ یعنی بلاشبہ وہ اس پر قادر ہے اور میں بھی ان لوگوں میں داخل ہوں جو اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اس حدیث میں یہی الفاظ سورة والتین کی آخری (آیت) الیس اللہ باحکم الحکمین پڑھنے کے وقت بھی کہنے کی تعلیم کی دی گئی ہے اور اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ جو شخص سورة مرسلت کی اس آیت پر پہنچے فبالی حدیث، بعدہ یومنوں تو اس کو امنا باللہ کہنا چاہئے۔ تمت سورة القیمة بحمد اللہ 72 رجب 1931