Ayah 74:1خلاصہ تفسیر
اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو (یعنی اپنی جگہ سے اٹھو یا یہ کہ مستعد ہوجاؤ) پھر (کافروں کو) ڈراؤ (جو کہ مقتضا منصب نبوت کا ہے اور یہاں تبیشر یعنی جنت کی بشارت کا اسلئے ذکر نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے اس وقت باسثنا ایک دو کے کوئی مسلمان نہیں تھا تو انداز ہی انسب تھا) اور اپنے رب کی بڑائیاں کرو (کہ تبلیغ میں سب سے پہلی چیز توحید ہے) اور (آگے بعض ضروری اعمال و عقائد واخلاق کی تعلیم ہے جس پر خود بھی عالم رہنا چاہئے کہ تبلیغ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی ضروری ہے یعنی ایک تو) اپنے کڑوں کو پاک رکھئے (یہ اعمال میں سے ہے اور چونکہ بالکل ابتداء میں نماز نہ تھی اس لئے اس کا حکم نہیں ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) بتوں سے الگ رہو (جس طرح کہ اب تک الگ ہو۔ یہ عقائد میں سے ہے یعنی بدستور سابق توحید پر دوام رکھو اور باوجود یکہ رسول اللہ ﷺ سے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی احتمال نہ تھا پھر بھی یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ عقیدہ توحید کی اہمیت معلوم ہو کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے) اور کسی کو اس غرض سے مت دو کہ (دوسرے وقت) زیادہ معاوضہ چاہو (یہ متعلق اخلاق کے ہے اور گو اوروں کے لئے یہ امر جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے جیسا سورة روم کی (آیت)
وما اتیتم من ربا الخ
کی تفسیر سے معلوم ہوسکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی شان چونکہ اعلیٰ وارفع ہے اس لئے آپ پر اس کو بھی حرام کردیا گیا
کمافی الروح والا صح ان النھی للتحریم وانہ من خواصہ علیہ الصلوة والسلام
اور پھر (انذار و تبلیغ میں جو ایذا پیش آئے اس پر) اپنے رب (کی خوشنودی) کے واسطے صبر کیجئے (یہ خاص اخلاق متعلقہ بالتبلیغ میں سے ہے پس یہ آیتیں جامع ہوگئیں اصلاح اعمال و اخلاق کو اپنے لئے بھی دوسروں کے لئے بھی) پھر (اس ڈرانے کے بعد جو کوئی ایمان نہ لاوے اس کے لئے یہ وعید ہے کہ) جس وقت صور پھونکا جاوے گا سو وہ وقت یعنی وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا جس میں ذرا آسانی نہ ہوگی (آگے بعض خاص کفار کا ذکر ہے یعنی) مجھ کو اور اس شخص کو (اپنے اپنے خال پر) رہنے دو (کہ ہم اس سے نمٹ لیں گے) جس کو میں نے (مال واولاد سے خالی اور) اکیلا پیدا کیا (جیسا کہ پیدا ہونے کے وقت آدمی کے پاس نہ مال ہوتا ہے اور نہ اولاد، اور مراد اس سے ولید بن مغیرہ ہے جسکا قصہ معارف و مسائل کے تحت آئے گا) اور اس کو کثرت سے مال دیا اور پاس رہنے والے بیٹے (دیئے) اور سب طرح کا سامان اس کے لئے مہیا کردیا پھر بھی (باوجود اس کے اس مال واولاد کا شکر بجا نہ لایا کہ ایمان لے آتا بلکہ اس نعمت وافرہ کو براہ کفران وبیقدری قلیل سمجھ کر) اس بات کی ہوس رکھتا ہے کہ (اس کو) اور زیادہ دوں ہرگز (وہ زیادہ دینے کے قابل) نہیں (کیونکہ) وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے (اور مخالفت کیساتھ عدم قابلیت ظاہر ہے) استدراج کا معاملہ اس سے الگ ہے اس شخص کی نزول آیت کے روز سے ظاہر اً بھی ترقی بند ہوگئی چناچہ پھر نہ کوئی اولاد ہوئی اور نہ کچھ مال بڑھا۔ اور یہ سزا تو دنیا میں ہے اور آخرت میں اس کو عنقریب (یعنی مرنیکے بعد) دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا (حدیث ترمذی میں مرفوعاً ہے کہ صعود دوزخ میں ایک پہاڑ سے ستر برس میں اس کی چوٹی پر پہنچے گا پھر وہاں سے گر پڑیگا پھر اسی طرح ہمیشہ چڑھے گا اور گریگا اور وجہ اس سزا کی وہی عناد ہے جو اوپر مذکور ہوا، اور آگے بھی اس کی کچھ تفصیل ہے وہ یہ کہ) اس شخص نے (اس بارے میں) سوچا (کہ قرآن کی شان میں کیا بات تجویز کروں) پھر (سوچ کر) ایک بات تجویز کی (جسکا بیان آگے آتا ہے) سو اس پر خدا کی مار ہو کیسی بات تجویز کی (اور) پھر (مکرر) اس پر خدا کی مار ہو کیسی تجویز کی (یہ تعجب مکرر اس کی سخت مذمت اور قابل تعجیب بات پر ہے یعنی کیسی بےجوڑ بات تجویز کی جسکا احتمال ہی نہیں ہوسکات) پھر (حاضرین کے چہروں کو) دیکھا (کہ وہ تجویز کی ہوئی بات ان سے کہوں) پھر منہ بنایا (تاکہ دیکھنے ووالے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت وانقباض ہے) اور زیادہ منہ بنایا پھر منہ پھیرا اور تکبر ظاہر کیا (جیسا عادت ہے کہ جس چیز کو قابل اعراض سمجھتے ہیں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی گردن پھیر لیتے ہیں اور اظہار تنفر کرتے ہیں) پھر بولا کہ بس یہ تو جادو ہے (جو اوروں سے) منقول (ہے) بس یہ تو آدمی کا کلام ہے (یہ بیان ہے اس تجویز مذکورہ کا، مطلب یہ کہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے جس کو آپ کسی جادوگر سے نقبل کردیتے ہیں، یا آپ خود مصنف ہیں لیکن یہ مضامین مدعیان نبوت سابقین سے منقول ہیں اور اسلوب عبارت نعوذ باللہ آپ کے سحر کا اثر ہے۔ آگے اس عناد کی سزاد تفصیلاً فرماتے ہیں جیسا اوپرسارھقہ صعودا میں اجمالاً فرمایا تھا پس عنیدا میں جرم کا ذکر اور سارہقہ میں سزا کا ذکر اجمالاً اور انہ فکر عنیدا کی تفیصل ہے اور ساصلیہ۔ سارھقہ کی تفصیل ہے یعنی) میں اس کو جلدی دوزخ میں داخل کروں گا اور تم کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے (وہ ایسی ہے کہ) نہ تو (داخل ہونے کے بعد داخل ہونے والے کی کوئی چیز جلانے سے) باقی رہنے دیگی اور نہ (داخل ہونے کے قبل جو کفار اس وقت باہر ہوں گے نہ ان میں سے کسی کو بغیر اپنے اندر لئے ہوئے) چھوڑے گی (اور) وہ (جلا کر) بدن کی حیثیت بگاڑ دیگی (اور) اس پر انیس فرشتے (جو اسکے خزان ہیں جن میں ایک کا نام مالک ہے مقرر) ہوں گے (جو کافروں کو انواع انواع عذاب دیں گے۔ حاصل یہ کہ فرشتے جن کی قوت معلوم ہے باوجودیکہ ان میں ایک بھی تمام اہل جہنم کی تعذیر کے لئے کافی ہے پھر انیس فرشتوں کے مقرر ہونے سے ظاہر ہے کہ عذاب کا بہت ہی اہتمام ہوگا اور نکتہ خاص انیس کے عدد میں حقیقةً اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن دوسرے حضرات نے جو ذکر کیا ہے اس سب میں اقرب وہ ہے جو اللہ نے اس حقیر کے دل میں القاء فرمایا ہے وہ یہ کہ اصل تعذیب کفار کی عقائد حقہ کی مخالفت پر ہے اور عقائد قطعیہ جو عملیات کے متعلق نہیں حسب تفصیل رسالہ فروع الایمان نو ہیں۔ ایمان لانا اللہ تعالیٰ پر، اعتقاد رکھنا کہ عالم حادث ہے، ایمان لانا فرشتوں پر، ایمان لانا اس کی سب کتابوں پر، ایمان لانا پیغمبروں پر، ایمان لانا تقدیر پر، ایمان لانا قیادت کے دن پر، جنت کا یقین کرنا، دوزخ کا یقین کرنا، باقی سب عقائد انہیں کے ملحقات و فروع ہیں۔ اور عقائد قطعیہ جو عملیات کے متعلق ہیں دس ہیں۔ پانچ مامورات کے متعلق، یعنی ان کے وجوب کا اعتقاد ضروری ہے۔ وہ پانچ مامورات جو شعائر اسلام میں یہ ہیں، تلفظ بالشہادتیں، اقامت صلوٰة، ایتا زکوٰة، صوم رمضان، حج بیت اللہ اور پانچ منہیات کے متعلق یعینی ان کی تحریم کا اعتقاد واجب ہے اور وہ پانچ منہیات جو کہ آیت امتحان وغیرہ میں مذکور ہیں یہ ہیں۔ سرقہ، زنا، قتل، خصوصاً قتل اولاد، بہتان، عصیان فی المعروف جس میں غیبت وظلم یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھانا وغیرہ سب آگیا پس یہ سب عقائد ملا کر انیس ہوئے شاید ایک ایک عیدہ کے مقابلے میں ایک ایک فرشتہ معین ہو اور چونکہ ان سب میں ایک عقیدہ سب سے بڑا ہے یعنی توحید اسلئے ان فرشتوں میں بھی ایک فرشتہ سب سے بڑا مقرر ہوا ہو یعنی مالک واللہ علم باسرارہ) اور (اس آیت کا مضمون سن کر جو کفار نے تمسخر کیا جس کا بیان عمارف کے تحت میں آئے گا اس پر اگلا مضمون نازل ہوا کہ) ہمنے دوزخ کے کارکن (آدمی نہیں بلک) صرف فرشتے بنائے ہیں (جن میں سے ایک ایک فرشتہ جو تمام جن وانس کی برابر قوت ہے
کذا فی الدر مرفوعا ولفظہ ھکذا الھم مثل قوۃ الثقلین)
اور ہم نے جو ان کی تعداد (ذکر وحکایت میں) صرف ایسی رکھی ہے جو کافروں کو گمراہی کا ذریعہ ہو (مراد اس سے انیس کا عدد ہے) تو اس لئے (کہ یہ نتائج اس پر مرتب ہوں یعنی) تاکہ اہل کتاب (سننے کے ساتھ) یقین کرلیں اور ایمان والوں کا ایمان اور بڑجھ جائے اور اہل کتاب اور مومنین شک نہ کریں اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں (شک کا) مرض ہے وہ اور کافر لوگ کہنے لگیں کہ اس عجیب مضمون سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصود ہے (اہل کتاب کے یقین کی دو توجیہہ ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ ان کی کتاب میں بھی یہ عدد لکھا ہو تو فوراً مان لیں گے اور اگر اب ان کی کتابوں میں یہ عدد نہ ہو تو ممکن ہے کہ کتابوں کے ضائع اور محرف ہونے سے ضائع ہوگیا ہو اور دوسری توجیہہ یہ ہوسکتی ہے کہ عدد ان کی کتاب میں نہ ہو لیکن وہ فرشتوں کی قوت کے قائل تھے اور بہت سے امور توقیفیہ ان کی کتابوں میں موجود تھے تو ان کے پاس کوئی ہنبی اذکار کا نہ تھا پس یقین سے مراد عدم انکار وعدم استہزا ہوگا لیکن ظاہر توجیہہ اول ہے اور اہل ایمان کے ایمان کی زیارت کی بھی دو توجیہ ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اہل کتاب کے استیقان کو دیکھ کر ان کا ایمان کیفا قوی ہوجائے کہ آپ باوجود عدم اختلاط اہل کتاب کے وحی سابق کے موافق خبر دیتے ہیں ضرور نبی برحق ہیں۔ دوسری توجیہہ یہ کہ جب کوئی مضمون نیا نازل ہوتا تھا اس پر ایمان لاتے تھے پس ایک فرد تصدیق کی اور بڑھی، اس سے بحیثیت کمیت ایمان میں زیادتی ہوئی اور یرتاب کو تاکید کے لئے بڑھایا کہ اثبات یقین اور نفی شک دونوں کی تصریح ہوجائے۔ اور مرض میں دو احتمال ہیں ایک تو شک کیونکہ ظہور حق کے بعد بعضے جاحد اور منکر ہوتے ہیں بعضے متردد ہوتے ہیں تو اہل مکہ بھی ایسے لوگ ہوں گے دوسرا معنے نفاق تو اسمیں پیشن گوئی ہوگی کہ مدینہ میں منافق ہوں گے اور ان کا یہ قول ہوگا اور مومنین اور اہل کتاب کے اثبات و نفی شک کو جدا جدا اس لئے فرمایا کہ اہل کتاب کا یقین ونفی شک لغوی ہے اور مومنین کا شرعی، آگے فریقین کے حال پر بطور تفریح کے فرماتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس باب میں خاص ہدایت کی اور کافروں کو اس باب میں خاص گمراہ کیا) اسی طرح اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کردیتا ہے اور (آگے تتمہ مضمون سابق کا کہ جہنم کے خازن فرشتوں کا عدد انیس ایک خاص حکمت کی بنا پر ہے ورنہ) تمہارے رب کے (ان) لشکروں (کی یعنی فرشتوں کی تعداد اس کثرت سے ہے کہ اس کو بجز رب کے کوئی نہیں جانتا (اگر وہ چاہتے تو بےانتہا فرشتوں کو خازن بنادیتے اور اب بھی گوخازن انیس ہیں مگر ان کے اور اعوان و انصار بہت کثرت سے ہیں چناچہ حدیث مسلم میں ہے کہ جہنم کو اس حال میں حاضر کیا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوں گے) اور جو اصل مقصود جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ عدد کی قلت یا کثرت یا تعین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں اور وہ اصل مقصود (یہ ہے کہ) دوزخ (کا حال بیان کرنا) صرف آدمیوں کی نصیحت کیلئے ہے (تاکہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لادیں اور یہ مقصود کسی خاص خصوصیات پر موقوف ہیں پس مقتضا عقل کا بھی یہی ہے کہ اصل مقصود کو محفوظ و ملحوظ رکھ کر ان بالائی امور کے در پے نہ ہوں آگے جہنم کی عقوبت کا کسی قدر بیان ہے جس میں ذکری للبشر کے اجمال کی تفصیل ہے پس ارشاد ہے کہ بالتحقیق قسم ہے چاند کی اور رات کی جب جانے لگے اور صبح کی جب روشن ہوجائے کہ وہ دوزخ بڑی بھاری چیز ہے جو انسان کے لئے بڑا ڈراوا ہے یعنی تم میں جو (خیر کی طرف) آگے بڑھے اس کے لئے بھی یا جو (خیر سے) پیچھے ہٹے اسکے لئے بھی (مطلب یہ کہ جمیع مکلفین کے لئے نذیر ہے اور چونکہ نتائج اس انداز کے قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیزوں کی کھائی گئی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے، چناچہ قمر کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ اس عالم کے نشوونما اور پھر اضمحلال وفنا کا ہے یہاں تک کہ چاند کے محاق یعنی بےنور ہوجانے کی طرح یہ بھی فانی محض ہوجائے گا، اسی طرح اس عالم دنیا کو اس عالم آخرت کے ساتھ اختفار واکتشاف حقائق میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ پس اس عالم کا ختم ہوجانا مشابہ رات گزر جانے کے ہے اور اس عالم کا ظہور مشابہ اسفار صبح کے ہے۔ آگے دنیا اور اہل دنیا کے بعض احوال کا بیان ہے یعنی) ہر شخص اپنے اعمال (کفریہ) کے بدلہ میں (دوزخ میں) محبوس ہوگا مگر داہنے والے (یعنی مومنین جس کی تفصیل سورة واقعہ میں گزری ہے اور چونکہ یہاں اصحاب الیمین مقابل اصحاب الشمال کے ہے اسلئے مقربین کو بھی شامل ہے حاصل یہ کہ مومنین اس قید سے مستثنیٰ ہیں) کہ وہ بہشتوں میں ہوں گے (اور) مجرموں (یعنی کفار) کا حال (خود ان کفار ہی سے) پوچھتے ہوں گے (اور) کیفیت باہمی کلام کی باوجود اس بعد کے جو دوزخ اور جنت میں ہے۔ سورة اعراف کی (آیات)
ونادی اصحب الجنتہ اصحب النار
کی تفیسر میں گزری ہے اور یہ سوال زجر و تنبیہ کے لئے ہوگا حاصل یہ کہ مومنین کفار سے پوچھیں گے کہ (تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے اور غریب کو (جسکا حق واجب تھا) کھانا کھلایا کرتے تھے اور (جو لوگ دین حق کے ابطلال کے مشغلہ میں رہتے تھے ان) مشغلہ میں رہنے والوں کے ساتھ ہم بھی (اس) مشغلہ (ابطال دین) میں رہا کرتے تھے اور قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ہم کو موت آگئی (اور) ہم ان حرکات سے باز نہ آئے یعنی خاتمہ اسی نافرمانی پر ہوا اس وجہ سے ہم دوزخ میں آئے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفار مکلف بالفروع یعنی نماز روزہ احکام شرعیہ کے مامور ہوں کیونکہ جہنم میں دو چیزیں ہوں گی ایک عذاب دوسرا شدت عذاب۔ پس ممکن ہے کہ مجموعہ اعمال مذکورہ سبب ہو مجموعہ عذاب اور شدت عذاب کا اس طرح کہ کفر و شرک تو سبب ہو تعذیب کا اور ترک صلوة وغیرہ سبب ہو زیادہ تعذیب کا اور کفار کے غیر مکلف بالفروع ہونے کے معنی یہ کہے جائیں گے کہ ان فروع پر نفس تعذیب نہ ہوگی اور زیادہ تعذیب اس لئے ہوسکتی ہے کہ اصول کے ضمن میں فروع بھی تبعاً آہی جاتے ہیں۔ اس لئے ضمناً مکلف ہونا زیادتی عذاب کا سب ہوسکتا ہے) سو (حالت مذکورہ میں) ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی (اور اس عدم نفع کا تحقق عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی کوئی ان کافروں کی شفاعت ہی نہ کرسکے گا لقولہ تعالیٰ
(آیت) فمالنا من شافعین
آگے ان کے اعراض پر تفریح ہے کہ جب کفر و اعراض کی بدولت ان کی یہ گت بننے والی ہے) تو ان کو کیا ہوا کہ اس نصیحت (قرانی) سے روگردانی کرتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے جارہے ہیں۔ (اس تشبیہ میں کئی امر کی رعایت ہے اول تو گدھا بےوقوفی اور حماقت میں مشہور ہے دوسرے اس کو وحشی فرض کیا جس کو گورخر کہتے ہیں کہ وہ جو چیزیں ڈرنے کی نہیں ہوتیں ان سے بلاوجہ ڈرتا اور بدکتا بھاگتا ہے تیسرے شیر سے اس کا ڈرنا فرض کیا کہ اس صورت میں ان کا بھاگنا انتہا درجہ ہوگا، اور اس بھاگنے کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اس قرآن کو بزعم خود حجیت میں کافی نہیں سمجھتے) بلکہ ان میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے (آسمانی) نوشتے دیئے جائیں (جیسا در منشور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام آسمان سے ایسے نوشتے آئیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہوا ہے
وھذا کقولہ تعالیٰ (آیت) حتی تنزل علینا کتبا نقروہ اور منشرہ
کا بڑھانا توضیح مقصود کے لئے ہے جیسے معمولی خط ہوتے ہیں کہ کھولے جاتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں ایسے ہی نوشتے ہمارے پاس آنے چاہیں، آگے اس بیہودہ درخواست کا رد ہے کہ یہ) یہ ہرگز نہیں (ہوسکتا کیونکہ نہ اس کی ضرورت اور نہ ان لوگوں کو اس کی قیادت بالخصوص اس وجہ سے کہ اس درخواست کا سبب یہ نہیں کہ دل میں ان کے ارادہ ہو کہ اگر ایسا ہوگا تو اتباع کرلیں گے (بلکہ سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ آخرت (کے عذاب) سے نہیں ڈرتے (اس لئے حق کی طلب نہیں ہے اور یہ درخواستیں محض ضد اور ہٹ دھرمی سے ہیں حتیٰ کہ اگر یہ درخواستیں بالفرض پوری بھی ہوجاویں تب بھی یہ لوگ اتباع نہ کریں
(آیت) لقولہ تعالیٰ ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس فلمسوہ بایدھیم لقال الذین کفرو ان ھذا الا سحر مبین)
آگے بطور نتیجہ کے اس کا داور اس پر زجر ہے کہ جب اس درخواست کا بیہودہ ہونا ثابت ہوگیا تو یہ) ہرگز نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قرآن (ہی) نصیحت (کے لئے کافی) ہے، دوسرے صحیفوں کی حاجت نہیں) سو (اس حالت میں) جسکا جی چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے (اور جسکا جی چاہے نہ کرے جہنم میں جاوے ہم کو کوئی ضرورت نہیں کہ مطلوبہ قسم کے نوشتے نازل کریں) اور (قرآن کے تذکرہ یعنی ہدایت ہونے میں اس سے شبہ نہ کیا جاوے کہ بعض لوگوں کو اس سے تذکرہ و ہدایت نہیں ہوتی، بات یہ ہے کہ قرآن گوفی نفسہ تذکرہ ہے لیکن) بدون خدا کے چاہے یہ لوگ نصحیت قبول کریں گے (اور اس نہ چاہنے میں بعض حکمتیں ہیں لیکن قرآن فی نفسہ تذکرہ ضرور ہے پس اس سے تذکرہ حاصل کرو اور خدا کی اطاعت کرو کیونکہ) وہی ہے جس (کے عذاب) سے ڈرنا چاہئے اور (وہی ہے) جو (بندوں کے گناہ) معاف کرتا ہے
(کقولہ تعالیٰ (آیت) ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم)
معارف و مسائل
سورة مدثر قرآن کریم کی ان سورتوں میں سے جو نزول قرآن کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے اسی لئے بعض حضرات نے اس سورت کو سب سے پہلے نازل ہونیوالی سورت بھی کہا ہے۔ اور روایات صححیہ معروفہ کی رو سے سب سے پہلے سورة اقرا کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ پھر کچھ مدت تک نزول قرآن کا سلسلہ بند رہا جس کو زمانہ فترت وحی کا کہا جاتا ہے اسی زمانہ فترت کے آخر میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے اوپر سے کچھ آواز سنی تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی دیکھا کہ وہ ہی فرشتہ جو غار حرا میں سورة اقرا کی آیات لے کر آیا تھا وہ ہی آسمان کے نیچے فضا میں ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کو اس حال میں دیکھ کر رسول اللہ ﷺ پر وہی طبعی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو غار حرا میں نزول اقرا کے وقت ہوئی تھی سخت سردی اور کپکپی کے احساس سے آپ گھر میں واپس تشریف لے گئے اور فرمایا زملونی زملونی یعنی مجھے ڈھانپو مجھے ڈھانپو۔ آپ کپڑوں میں لپٹ کر لیٹ گئے اس پر سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں کمانی حدیث الصحیحین۔ اسی لئے اس سورت میں آپ کو خطاب یایھا المدثر کے الفاظ سے کیا گیا، یہ لفظ دثار سے مشتق ہے جو ان زائد کپڑوں کو کہا جاتا ہے جو آدمی عام لباس کے اوپر کسی سردی وغیرہ کے دفع کرنے کے لئے استعمال کیا کرتا ہے اس لفظ سے خطاب ایک حبیبانہ مشفقانہ خطاب ہے جیسا کہ مزمل میں بیان ہوچکا ہے۔ لفظ مزمل کے معنے بھی اسی کے قریب ہیں۔ روح المعافی میں جابرین زید تابعی سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سورة مدثر، مزمل کے بعد نازل ہوئی ہے اور بعض حضرات نے یہ روایت حضرت ابن عباس سے بھی نقل کی ہے مگر صحیحین کی جو روایت اوپر نقل کی گئی ہے اس میں اس کی تصریح ہے کہ سب سے پہلے سورة مدثر نازل ہوئی (اور مرد یہ ہے کہ فترت وحی کے بعد سب سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی) اگر مزمل کا نزول اس سے پہلے ہوا ہوتا تو حضرت جابر ابن عبداللہ راوی حدیث اس کو بیان کرتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ لفظ مزمل اور مدثر دونوں تقریباً ہم معنے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک ہی واقعہ میں ان دونوں کا نزول ہوا اور وہ واقعہ وہی جبرئیل امین کو آسمان کے نیچے کرسی پر بیٹھے دیکھنے کا اور آپ کا گھر میں واپس ہو کر کپڑوں میں لپٹ جانیکا ہو جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ اس سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ سورة مزمل اور مدثر کی ابتدائی آیتیں فترت وحی کے بعد سب سے پہلے نازل ہونے والی آیات ہیں ان دونوں میں کون مقدم اور کون موخر ہے اس میں روایتیں مختلف ہوگئیں اور سورة اقرا کی ابتدائی آیات کا ان سب سے پہلے نازل ہونا تمام روایات صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ دونوں سورتیں اگرچہ متقارب زمانے میں ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئی ہیں مگر فرق دونوں میں یہ ہے کہ سورة مزمل کے شروع میں جو احکام رسول اللہ ﷺ کو دیئے گئے ان میں اپنی ذاتی شخصی اصلاح سے متعلق اور سورة مدثر کے شروع میں جو احکام دیئے گئے ہیں انکا تعلق زیادہ تر دعوت و تبلیغ اور اصلاح خلق سے ہے۔
Ayah 74:2سورة مدثر میں سب سے پہلا حکم آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ قُمْ فَاَنْذِرْ یعنی کھڑے ہوجائے اسکے معنے حقیقی قیام کے بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ جو کپڑوں میں لپ کر لیٹ گئے ہیں اس کو چھوڑ کر کھڑے ہوجائیے اور یہ معنی بھی بعید نہیں کہ قیام سے مراد کام کے لئے مستعد اور تیار ہونا ہو اور مطلب یہ ہو کہ اب آپ ہمت کرکے خلق خدا کی اصلاح کی خدمت سنبھالئے۔ فانذر، انذار سے مشتق ہے جس کے معنے ڈرانے کے ہیں مگر ایسا ڈرانا جو شفقت و محبت پر مبنی ہوتا ہے جیسے باپ اپنے بچے کو سانپ بچھو اور آگے سے ڈراتا ہے انبیا کی یہی شان ہوتی ہے اسلئے ان کا لقب نذیر اور بشیر ہوتا ہے۔ نذیر کے معنی شفقت و ہمدردی کی بنا پر مضر چیزوں سے ڈرانے والا اور بشر کے معنی خوش خبری سنانے والا۔ رسول اللہ ﷺ کے بھی دونوں ہی لقب قرآن کریم میں جابجا مذکور ہیں مگر اس جگہ صرف انذار کے ذکر پر اکتفا اس لئے کیا گیا کہ اس وقت مومن مسلمان تو گنے چنے چند ہی تھے باقی سب منکرین و کفار تھے جو کسی بشارت کے مستحق نہیں بلکہ ڈرانے ہی کے مستحق تھے۔
Ayah 74:3دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ وَرَبَّكَ فَكَبِّر یعنی صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کیئجے قول سے بھی، عمل سے بھی، لفظ رب اس جگہ اسلئے اختیار کیا گیا کہ یہ خود علت اس حکم کی ہے کہ جو سارے جہان کا پالنے والا ہے صرف وہی ہر بڑائی اور کبریائی کا مستحق ہے۔ تکبیر کے لفظی معنی اللہ اکبر کہنے کے بھی آتے ہیں جسمیں نماز کی تکبیر تحریمہ اور دوسری تکبیرات بھی داخل ہیں اور خارج نماز بھی اذان اقامت وغیرہ کی تکبیر اس میں شامل ہے۔ اس حکم کو نماز کی تکبیر تحریمہ کیساتھ مخصوص قرار دینے کا الفاظ قرآن میں کوئی اشارہ نہیں۔
Ayah 74:4تیسرا حکم یہ دیا گیا وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ، ثیاب ثوب کی جمع ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنے کپڑے کے ہیں اور مجازی طور پر عمل کو بھی ثواب اور لباس کہا جاتا ہے، قلب اور نفس کو بھی اور خلق اور دین کو بھی، انسان کے جسم کو بھی لباس سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے شواہد قرآن اور محاورات عرب میں بکثرت ہیں۔ اس آیت میں حضرات مفسرین سے سبھی معافی منقول ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہ کوئی تضاد اور اختلاف نہیں۔ بطور عموم مجاز کے اگر ان الفاظ سے سبھی معنی مراد لئے جاویں تو کوئی بعد نہیں، اور معنے اس حکم کے یہ ہوں گے کہ اپنے کپڑوں اور جسم کو ظاہری ناپاکیوں سے پاک رکھئے قلب اور نفس کو باطل عقائد و خیالات سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک رکھیئے۔ پائجامہ یا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت بھی اس سے مستفاد ہوتی ہے کیونکہ نیچے لٹکے ہوئے کپڑوں کا آلودہ ہوجانا بعید نہیں تو تطہیر ثوب کے حکم میں یہ بھی آگیا کہ کپڑوں کا استعمال اس طرح کرو کہ نجات سے دور رہیں۔ اور کپڑوں کے پاک رکھنے میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ ماحل حرام سے نہ بنائے جائیں کسی ایسی وضع وہیت کے نہ بنائے جائیں جو شرعاً ممنوع ہیں اور ظاہر آیت سے یہ ہے کہ یہ تطہیر ثوب کا حکم نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام حالات میں عام ہے اسی لئے فقہاء نے فرمایا ہے کہ غیر حالت نماز میں بھی بغیر کسی ضرورت کے جسم کو ناپاک رکھنا یا ناپاک کپڑے پہنے رکھنا یا ناپاک جگہ میں بیٹھے رہنا جائز نہیں، ضرورت کے اوقات مستثنیٰ ہیں (ازمظہری)
اللہ تعالیٰ طہارت کو پسند فرماتے ہیں
(آیت) ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین
اور حدیث میں طہارت کو نصب ایمان قرار دیا ہے اس لئے مسلمان کو ہر حال میں اپنے جسم اور مکان اور لباس کو ظاہری طہارت کا بھی اہتمام رکھنا ضروری ہے اور قلب کی باطنی طہارت کا بھی۔ واللہ اعلم
Ayah 74:5چوتھا حکم یہ دیا گیا والرُّجْزَ فَاهْجُرْ ، رجز بضم الرا کسر ہادونوں کے ایک ہی معنے ہیں۔ ائمہ تفسیر مجاہد، عجرمہ، قتادہ، زہری، ابن زید وغیرہ نے اس جگہ رجز کے معنے بتوں کے قرار دیئے ہیں اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں اس سے مراد ہر گناہ اور مصیبت منقول ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ بتوں کو یا گناہ و معصیت کو چھوڑیئے۔ رسول اللہ ﷺ تو پہلے ہی سب کو چھوڑے ہوئے تھے آپ کو اس کا حکم کرنے کے معنے یہ ہیں کہ آئندہ بھی ان چیزوں سے دور رہیں اور درحقیقت یہ حکم امت کے لئے تعلیم ہے جو غایت تاکید کے لئے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے دیا گیا ہے کہ تاکہ وہ سمجھیں کہ جب پیغمبر معصوم کو بھی اس کا حکم ہے تو ہمیں اس کا کیسا اہتمام کرنا چاہیئے۔
Ayah 74:6پانچواں حکم وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِر، یعنی کسی شخص پر احسان اس نیت سے نہ کیئجے کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو ہدیہ تحفہ اس نیت سے دینا کہ وہ اس کے معاوضہ میں اس سے زیادہ دے گا یہ مذموم و مکروہ ہے۔ قرآن کی دوسری آیت سے اگرچہ اس کا جواز عام لوگوں کے لئے معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی کراہت سے خالی نہیں اور شریفانہ اخلاق کے منافی ہے۔ خصوصاً رسول اللہ ﷺ کے لئے تو اس کو حرام قرار دیا گیا (قالہ ابن عباس)
Ayahs 74:7–11چھٹاحکم وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر، صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مخالفت و عداوت اور ایذاء رسانی پر آمادہ ہوجائیں گے اس لئے داعی حق کو صبر وضبط کا خوگر ہونا چاہئے۔ یہ چند احکام رسول اللہ ﷺ کو دینے کے بعد قیامت اور اس کے ہولناک ہونیکا ذکر ہے۔ ناقور کے معنے صور کے ہیں اور نقر سے مراد صور میں پھونک مار کر آواز نکالنے کے ہیں۔ اور روز قیامت کا سبھی کفار کے لئے سخت وشدید ہونا بیان فرمانے کے بعد ایک خاص شریر کافر کے حالات اور اسکے عذاب شدید کا بیان ہے۔
Ayahs 74:12–30ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ
یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید ابن الوحید، یعنی یکتا کا بیٹا کہا کرتا تھا کہ نہ قوم میں میری کوئی نظیر ہے نہ میرے باپ مغیرہ کی (قرطبی) مگر اس ظالم نے اللہ تعالیٰ کے نعمتوں کی ناشکری کی اور قرآن کو کلام الٰہی یقین کرلینے کے باوجود اس نے جھوٹی بات بنائی اور قرآن کو سحر اور حضور صلی اللہ علیہ کو ساحر کہا۔ اس کا واقعہ تفسیر قرطبی میں یہ بیان کیا ہے کہ جب قرآن کی (آیت)
حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم
سے الیہ المصیر تک نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ اس کی تلاوت کر رہے تھے ولید بن مغیرہ نے یہ قرآت سنی تو بےساختہ اسکے کلام الٰہی ماننے اور یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ
واللہ لقد سمعت منہ کلاما ماھو من کلام الانس ولا من کلام الجن وان لہ لحلاوة و ان علیہ لطلاوة وان اعلالمثمر وان اسفلہ لمغدق وانہ، لیعلو ولا یعلیٰ علیہ وما یقول ھذا بشر
واللہ میں نے محمد ﷺ سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے نہ کسی جن کا اور اسمیں بڑی حلاوت ہے اور اس پر خاص رونق ہے اس کا اعلیٰ پھل دینے والا اور اسفل پانی جاری کرنیوالا ہے وہ بلا شبہ سب سے بالا وبلند ہو کر رہے گا اس پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا یہ بشر کا کلام نہیں ہے۔
عرب کے سب سے بڑے مالدار سردار کا ایسا کہنا تھا کہ پورے قریش میں اس نے ایک زلزلہ ڈال دیا اور وہ سب اسلام و ایمان کی طرف جھکنے لگے، قریش کے کافر سرداروں کو فکر ہوئی اور جمع ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ابو جہل نے کہا کہ فکر نہ کرو میں ابھی جاتا ہوں اس کو ٹھیک کرونگا۔
ابوجہل اور ولید بن مغیرہ کا مکالمہ اور آنحضرت ﷺ کی حقانیت پر دونوں کا اتفاق
ابوجہل ولد بن مغیرہ کے پاس غمگین صورت بنا کر پہنچا (اور قصداً ایسی بات بنائی جس پر ولید کو غصہ آجاوے) ولید نے اس سے پوچھا کہ کیا بات تم غمگین نظر آتے ہو۔ ابوجہل نے کہا کہ غمگین کیسے نہ ہوں یہ سارے باہم چندہ کرکے تجھے مال دیتے ہیں کہ تو اب بوڑھا ہوگیا ہے تیری مدد کرنا چاہیئے مگر اب ان کو معلوم ہوا کہ تم محمد ﷺ اور ابن ابی قحافہ (ابوبکر) کے پاس اسلئے جاتے ہو کہ تمہیں کچھ کھانے پینے کو ملجاوے اور ان کو خوشامد میں ان کے کلام کی تحسین و تعریف کرتے ہو (ظاہر یہ ہے کہ قریش کا چندہ کرکے ولید کو مال دینا بھی جھوٹ تھا جو صرف اس کو غصہ دلانے کے لئے بولا گیا اور رسول اللہ ﷺ سے کھانے کی چیزیں لینا تو جھوٹ تھا ہی) اس پر ولید بن مغیرہ کے غصہ کی انتہا نہ رہی اور اسکے نتیجہ میں اس پر اپنے تکبر و تعلیٰ کا حیوان سوار ہوگیا کہنے لگا کہ محمد اور انکے ساتھیوں کے ٹکڑوں کا محتاج ہوں، کیا تم کو میرے مال و دولت کی کثرت معلوم نہیں۔ قسم ہے لات اور عزی کی (دو بتوں کے نام ہیں) میں اس کا ہرگز محتاج نہیں۔ البتہ تم لوگ جو یہ کہتے ہو کہ محمد ﷺ مجنون ہیں یہ بات ایسی غلط ہے اس کا کوئی یقین نہیں کرسکتا کیا تم میں سے کسی نے ان کو کوئی مجنونانہ کام کرتے دیکھا ہے ابوجہل نے اقرار کیا کہ لا واللہ یعنی واللہ ہم نے کوئی ایسا کام ان کا نہیں دیکھا، پھر ولید نے کہا تم لوگ انکو شاعر کہتے ہو کیا تم نے ان کو کبھی شعر کہتے ہوئے سنا ہے (ایسی غلط بات کہنا اپنے آپ کو رسوا کرنا ہے) ابو جہل نے اس پر بھی یہی کہا لا واللہ۔ پھر ولید نے کہا کہ تم لوگ ان کو کذاب کہتے ہو تو بتلاؤ کہ تم نے عمر بھر میں کبھی ان کی کسی بات کو جھوٹا پایا ہے۔ اس پر بھی ابو جہل کو یہی اقرار کرنا پڑا لا واللہ، پھر ولید نے کہا کہ تم لوگ ان کو کاہن کہتے ہو تو کیا تم کبھی ان کے ایسے حالات اور کلمات دیکھے سنے ہیں جو کاہنوں کے ہوا کرتے تھے۔ ہم کاہنوں کی باتوں کو اچھی طرح پہنچاتے ہیں، ان کا کلام کہانت نہیں ہوسکتا، اس پر بھی ابوجہل کو یہی اقرار کرنا پڑا لا واللہ اور پورے قریش میں رسول اللہ ﷺ صادق امین کے لقب سے معروف تھے اب ابوجہل اپنے ان سب بہتانوں سے تو دستبردار ہوگیا، فکر یہ پڑی کہ آخر پھر کیا کہ کر لوگوں کو اسلام سے روکا جائے اس لئے خود ولید ہی کو خطاب کرکے کہا کہ پھر تم ہی بتلاؤ کہ ان کو کیا کہا جائے، اس پر اسنے پہلے تو اپنے دل میں سوچا پھر ابو جہل کی طرف نظر اٹھائی پھر منہ بسوار جس سے نفرت کا اظہار ہو اور آخر میں کہنے لگا کہ ان کو یعنی رسول اللہ ﷺ کو مجنون، شاعر، کاہن، کذاب تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہاں ان کو ساحر کہو تو بات چل جائے گی۔ یہ کمبخت خوب جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ساحر بھی نہیں اور نہ آپ کے کلام کو ساحروں کا کلام کہا جاسکتا ہے مگر اس نے بات بنانے کی یہ صورت تجویز کی آپ کے کلام کے آثار بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے ساحروں کے کیونکہ جیسے جادوگر اپنے عمل سے میاں بیوی، بھائی بھائی میں تفرقہ اور نفرت ڈال دیتے تھے (معاذ اللہ) آپ کے کلام کا بھی یہی اثر ہے کہ جو ایمان لے آتا ہے اپنے کافر ماں باپ اور عزیزوں سے متنفر ہوجاتا ہے۔ اس کے اس واقعہ کے آخری اجاز ہی کو قرآن نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ 18ۙفَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ 19ۙثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ 20ۙثُمَّ نَــظَرَ 21ۙثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ 22ۙثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ 23ۙفَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ 24ۙاِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ 25ۭ اس میں قدر (تقدیر سے مشتق ہے جس کے لفظی معنی تجویز کرنے کے ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اس کمبخت نے حضور ﷺ کے نبوت و رسالت پر یقین کامل ہوجانے کے باوجود غصہ اور غیرت سے مغلوب ہو کر مخالفت کرنا تو طے کرلیا مگر صاف جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا چاہتا تھا کہ اپنی رسوائی نہ ہو اس لئے بہت غورفکر کرکے یہ تجویز نکالی کہ ان کو ساحر اس بنا پر کہو کہ آپ کے کلام اور تلقین سے باپ بیٹے بھائی بھائی میں تفریق ہوجاتی ہے جیسے جادو سے ہوتی ہے اسی تقدیر و تجویز پر حق تعالیٰ نے اس پر مکرر لعنت قرآن میں فرمائی
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ 19ۙثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّر
جھوٹ سے کفار بھی پرہیز کرتے تھے
غور کیجئے کہ یہ قریشی سردار اور سبھی کفار فجار اور طرح طرح کے معاصی و فواحش میں گرفتار تھے مگر جھوٹ ایک ایسا عیب ہے کہ یہ کفار بھی اس سے بھاگتے تھے۔ ابوسفیان کا واقعہ قبل از اسلام جو دربار قیصر روم میں پیش آیا، اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اپنی جان اور اولاد تک کو قربان کرنے کے لئے تیار تھے مگر ایسا جھوٹ بولنے کے لئے نہیں تھے جس سے ان کو دنیا میں جھوٹا کہا جائے۔ افسوس ہے کہ اس معکوس ترقی کے زمانے میں یہ عیب عیب ہی نہیں رہا بلکہ سب سے بڑا ہنر ہوگیا اور کفار و فجار ہی نہیں نیک دیندار مسلمانوں کے دلوں سے بھی اس کی نفرت نکل گئی بےتکان جھوٹ بولنے اور بولوانے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں (نعوذ باللہ منہ)
اولاد کا اپنے پاس موجود ہونا ایک مستقل نعمت ہے
ولید بن مغیرہ پر اللہ تعالیٰ نے جو دنیا میں انعامات مبذول فرمائے تھے ان میں ایک یہ بھی فرمایا ہے کہ بنین شھودا یعنی اولاد حاضر موجود۔ اس سے معلوم ہوا کہ جیسا اولاد کا پیدا ہونا اور اس کا باقی رہنا اللہ تعالیٰ کی انعامات ہیں اسی طرح اولاد کا اپنے پاس حاضر و موجود ہونا بھی ایک بڑا انعام ہے جو والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور قلب کے سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ان کی حاضری سے اپنی خدمت اور کاروبار میں امداد کا فائدہ مزید براں ہے۔ اس معکوس ترقی نے جو یہ زمانہ کر رہا ہے صرف سونے چاندی کے سکوں بلکہ ان سکوں کے اقرار ناموں (نوٹوں) کا نام عیش و آرام رکھ لیا ہے جس کے لئے والدین بڑے فخر سے اولاد کو دوسرے ملکوں میں پھینک دیتے ہیں اور اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اگرچہ سالہا سال بلکہ عمر بھر اولاد کی صورت بھی نہ دیکھیں مگر ان کی بڑی تنخواہ اور آمدنی کی خبر ان کے کانوں تک پہنچتی رہے اور یہ اس خبر کے ذریعہ اپنی برادری میں اپنی برتری ثابت کرتے رہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ آرام و راحت کے مفہوم سے بھی بیخبر ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھلانے کا یہی نتیجہ ہونا چاہیئے کہ وہ خود اپنے آپ کو یعنی اپنے اصل آرام و راحت کو بھی بھول جائے جیسا کہ قرآن نے فرمایا
(آیت) نسوا اللہ فانساھم انفسہم
Ayahs 74:31–36وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو
ائمہ تفسیر میں سے مقاتل نے فرمایا کہ یہ جواب ابوجہل کے کلام کا ہے اس نے جب یہ آیت سنی کہ جہنم کے خازن انیس فرشتے ہیں تو قریشی جوانوں کو خطاب کرکے کہنے لگا کہ محمد کے ساتھی تو فقط انیس ہیں اس کی تمہیں کیا فکر ہوسکتی ہے۔ اور بیہقی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعھ عشر تو ایک بیہودہ کافر قریش جس کو ابوالاسلین کہا جاتا تھا بول اٹھا کہ اے قوم قریش کچھ فکر نہ کرو۔ ان انیس کے لئے تو میں اکیلا کافی ہوں میں اپنے داہنے بازو سے دس کو بائیں بازو سے نو کو دفع کرکے ان انیس کا خامہ کردونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ احمقو اول تو فرشتہ ایک بھی سب کے لئے لا تعداد فرشتے مقرر ہیں جن کا عدد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا آگے قیامت اور اہوال قیامت کا ذکر ہے اس میں فرمایا اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ ، انہا کی ضمیر سقر کی طرف راجع ہے جسکا ذکر اوپر کی آیات میں آیا ہے۔ کبر بضم کاف وفتح با کبریٰ کی جمع ہے یہ صفت ہے داہیتہ یا مصیبتہ کی معنے آیت کے یہ ہوئے کہ یہ سقر یعنی جہنم جس میں ان کو داخل کیا جائے گا بڑی بڑی آفتوں اور مصیبتوں میں سے ایک ہے اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب ہیں۔
Ayah 74:37لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَ
یہاں تقدم سے مراد تقدم الی الایمان والطاعة اور تاخر سے مراد ایمان وطاعت سے پیچھے ہٹنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب سے ڈرانا جو اوپر کی آیت میں ہے یہ ہر ایک انسان کے لئے عام ہے پھر کوئی یہ ڈرسن کر ایمان و اطاعت کی طرف پیشقدمی کرتا ہی کوئی بدنصیب اس کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔