Ayahs 74:38–47ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ
رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔
یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس سے مستثنی ہوں گے۔ اس سیاق سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اصحاب الیمین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا قرض ادا کردیا یعنی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے سب حقوق دنیا میں ادا کردیئے تھے یا اللہ تعالیٰ اور بندوں نے معاف کردیئے وہ فرض اور قرض سب ادا کرچکے ان کے نفوس کے مرہون ہونے کی کوئی وجہ نہیں، یہ تفسیر بظاہر صاف و بےتکلف ہے۔ اگر حبس سے مراد حساب کتاب اور جنت دوزخ کے داخلے سے پہلے کسی جگہ محبوس ہونا ہے تو اس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمام نفوس اپنے اپنے حساب کے لئے محبوس ہوں گے جب تک حساب نہ ہوجائے کوئی کہیں نہ جاسکے گا۔ اس صورت میں اصحاب الیمین مستثنی کئے گئے ان سے مراد یا تو وہ معصومین ہوسکتے ہیں جن کے ذمہ حساب نہیں، جیسے نابالغ بچے کما ہو قول علی کرم اللہ وجہہ یا پھر وہ لوگ جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس امت کے بہت سے لوگ سے مستثنی کردیئے جاویں گے وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ اور سورة واقعہ میں جو حاضرین محشر کی تین قسمیں بتلائی ہیں۔ ایک سابقین ومقربین، دوسرے اصحاب الیمین، تیسرے اصحاب الشمال، یہاں مقربین کو بھی اصحاب الیمین میں شامل کرکے صرف اصحاب الیمین کے ذکر پر اکتفا کیا گیا لیکن اس معنی کے اعتبار سے تمام اصحاب الیمین کا حساب کے لئے محبوس ہونے سے استثنا کسی نص سے ثابت نہیں یہ معنی پہلی تفسیر یعنی حبس فی جہنم ہی کے ساتھ درست ہوسکتے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 74:48فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ
تنفعھم کی ضمیر ان مجرمین کیطرف راجع ہے جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنے چار جرائم کا اعتراف کیا، ایک یہ کہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے دوسرے یہ کہ وہ کسی مسکین غریب کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ غریبوں کی ضروریات پر خرچ نہیں کرتے تھے، تیسرے یہ کہ اہل باطل جو اسلام و ایمان کے خلاف باتیں کرتے یا معاصی و فواحش میں مبتلا ہوتے ہیں یہ بھی انکے ساتھ لگے رہتے تھے ان سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ چوتھے یہ کہ قیامت کا انکار کرتے تھے۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایسے مجرم جو ان سب گناہوں کے مرتکب ہوں جن میں قیامت کی تکذیب بھی داخل ہے جو عین کفر ہے ایسے مجرموں کے لئے کسی کی شفاعت نافع نہ ہوگی، کیونکہ یہ کفار ہیں کسی کافر کی شفاعت کرنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں ہوگی اگر کوئی کرے تو قبول نہیں ہوگی خواہ سارے شفاعت کرنیوالے جمع ہو کر شفاعت کا زور لگائیں ہرگز نفع نہیں دیگی اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے شفاعتہ الشافعین بصیغہ جمع لایا گیا ہے۔
کافر کے لئے کسی کی شفاعت نافع نہیں مومن کے لئے نافع ہوگی
اس آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ کفار کے علاوہ مسلمانوں کے لئے اگرچہ وہ گنہگار ہوں شفاعت نفع دے گی جیسا کہ بہت سی احادیث صحیحہ میں انبیا (علیہم السلام) اور اولیا صلحا بلکہ عام مومنین کا دوسروں کی شفاعت کرنا اور قبول ہونا ثابت ہے۔
فائدہ
حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ کے فرشتے اور انبیاء اور شہدا و صالحین گناہگاروں کی شفاعت کریں گے اور وہ ان کی شفاعت سے جہنم سے نکال لئے جاویں گے بجز ان چار قسم کے مجرمین کے جنکا ذکر اوپر آیا ہے یعنی جو نماز وزکوٰة کے تارک ہیں اور جو اہل باطل کفار کی خلاف اسلام باتوں میں شریک رہتے ہیں اور جو قیامت کا انکار کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بےنماز اور تارک زکوٰة کے لئے شفاعت قبول نہیں ہوگی۔ مگر دوسری روایات سے صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں جن لوگوں کی شفاعت قبول نہ ہونا مذکور ہے وہ مراد ہیں جو ان چاروں جرائم کے مجرم ہوں جن میں تکذیب قیامت بھی داخل ہے۔ تکذیب کے علاوہ الگ ال گدوسرے جرم کرنے والے کی یہ سزا ہونا ضروری نہیں مگر بعض روایات حدیث میں خاص خاص گناہوں کے مرتکب کے متعلق بھی یہ آیا ہے کہ وہ شفاعت سے محروم رہے گا جیسے حدیث میں کہ جو شخص شفاعت کے حق ہونے ہی کا منکر ہو یا حوض کوثر کے وجود کا منکر ہوا سکا شفاعت اور حوض کوثر میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayahs 74:49–55فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ
یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا
کلا انہ تذکرة
یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔
Ayah 74:56(آیت) هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
اللہ تعالیٰ کا اہل تقویٰ ہونا بایں معنی ہے کہ صرف وہی اس کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے اور اہل مغفرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہی ایسی ذات ہے جو بڑے بڑے مجرم گناہگار کو اس کے سب گناہ جب چاہتے ہیں بخش دیتے ہیں اور کسی کا یہ حوصلہ نہیں ہوسکتا۔
تمت سورة المدثر بحمد اللہ یوم المجعة 52 رجب 1931