Ayah 73:1خلاصہ تفسیر
اے کپڑوں میں لپٹنے والے (وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دارالندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشور کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں کسی نے کہا کہ کاہن ہیں اس کو دوسروں نے رد کردیا کسی نے مجنوں کہا پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا پھر ساحر کہا پھر بعض نے اس کو بھی رد کردیا لیکن پھر یہی کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ دوست کو دوست سے جدا کردیتے ہیں۔ آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں لپٹ گئے۔ اکثر سوچ اور رنج میں آدمی اس طرح کرلیتا ہے اس لئے آپ کو خوش کرنے اور لطف کا اظہار کرنے کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی کو ابوتراب فرمایا تھا۔ غرض آپ کو خطاب ہے کہ ان باتوں کا رنج نہ کرو بلکہ حق تعالیٰ کی طرف مداومت کے ساتھ اور زیادہ توجہ رکھو اس طرح سے کہ) رات کو (نماز میں) کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات (کہ اس میں آرام کرو) یا اس نصف سے کم مصداق ایک ثلث ہے۔ بقریتہ قولہ تعالیٰ فیما بعدوثلثہ) یا نصف سے کچھ بڑھا دو (یعنی نصف سے زیادہ قیام کرو اور نصف سے کم آرام کرو اور اس نصف سے زیادہ کا مصداق قریب دو ثلث کے ہے بقرینہ قولہ تعالیٰ فیما بعد ادنی من ثلثی الیل“ غرض قیام لیل تو امر وجوبی سے فرض ہوا مگر مقدار وقت قیام میں تین صورتوں میں اختیار ہے نصف شب، دو تہائی شب، ایک تہائی شب) اور (اس قیام لیل میں) قرآن کو خوب صاف صاف پڑھو (کہ ایک ایک حرف الگ الگ ہو اور یہی حکم غیر صلوة میں بھی ہے اور تخصیص محض مقام کی وجہ سے ہے، آگے قیام اللیل کے حکم کی علت اور مصلحت کا بیان ہے کہ) ہم تم پر ایک بھاری کلام ڈالنے کو ہیں (مراد قرآن مجید ہے جو نزول کے وقت بھی آپ کی حالت کو متغیر کردیتا تھا جیسا حدیثوں میں ہے کہ ایک بار آپ کی ران زید بن ثابت کی ران پر رکھی تھی، اس وقت وحی نازل ہوئی تو زید بن ثابت کی ران پھٹنے لگی اور جب آپ نزول وحی کے وقت ناقہ پر سوار ہوتے تو ناقہ گردن ڈال دیتی اور حرکت نہ کرسکتی اور شدت کے جاڑوں میں آپ پسینہ پسینہ ہوجاتے۔ پھر علاوہ اس کے اس کا محفوظ رکھنا پھر دوسروں تک پہنچانے میں کلفتیں برداشت کرنا ان اعتبارات سے ثقیل کہا گیا اور مقصد یہ ہے کہ قیام لیل کو شاق نہ سمجھنا ہم تو اس سے بھی بھاری بھاری کام تم سے لینے والے ہیں۔ قیام اللیل کا حکم آپ کو اسی لئے دیا گیا ہے کہ آپ خوگر ہوں ریاضت کے جس سے استعداد نفس اکمل و اقویٰ ہو کیونکہ ہم آپ پر قول ثقیل نازل کرنے والے ہیں تو اس کے لئے اپنی استعداد کا قوی کرنا ضروری ہے، آگے قیام لیل کی دوسری مصلحت ہے کہ) بیشک رات کا اٹھنا خوب موثر ہے (نفس کے) کچلنے میں اور (دعا ہو یا قرات ہو ظاہراً و باطنا) بات خوب ٹھیک نکلتی ہے (ظاہراً تو اس طرح کہ فرصت کا وقت ہوتا ہے الفاظ و عاء و قرات کے خوب اطمینان سے ادا ہوتے ہیں اور باطنا اس طرح کہ جی خوب لگتا ہے اور موافقت دل و زبان کا یہی مطلب ہے اور اس کا علت ہونا ظاہر ہے۔ آگے ایک تیسری علت ہے جس میں تخصیص شب کی حکمت کا بیان ہے وہ یہ کہ) بیشک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے (دنیوی بھی جیسے تدبیر مہمات خانہ داری اور دینی بھی جیسے تبلیغ اس لئے ان کاموں کے لئے رات تجویز کی گئی) اور (علاوہ قیام لیل کے جس کا اوپر ذکر ہوا دوسرے اوقات میں بھی) اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو اور سب سے (تعلق قطع) کر کے اسی کی طرف متوجہ رہو (یعنی ذکر و تبتل یہ ہر وقت کا فرض ہے اور تعلق قطع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خالق کا تعلق مخلوق کے سب تعلقات پر غالب رہے، آگے توحید کے ساتھ اس کی تاکید اور تصریح ہے یعنی) وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں تو اسی کو اپنے کام سپرد کرنے کے لئے قرار دیئے رہو، اور یہ لوگ جو جو باتیں کرتے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ (الگ ہونا یہ کہ کوئی تعلق نہ رکھو اور خوبصورتی سے یہ کہ ان کی شکایت و انتقام کی فکر میں مت پڑو) اور (آگے ان کے عذاب کی خبر دے کر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے) مجھ کو اور ان جھٹلانے والوں کو ناز و نعمت میں رہنے والوں کو (حالت موجودہ پر) چھوڑ دو (یعنی رہنے دو و مرتفسیرہ فی ایتہ فذ رنی و من یکذب بھذا الحدیث) اور ان لوگوں کو تھوڑے دنوں اور مہلت دے دو (یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی کچھ دن اور صبر کرلیجئے عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے کیونکہ) ہمارے یہاں بیڑیاں ہیں اور دوزخ ہے اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے (وھذا کقولہ یتجرعہ ولا یکاد یسیغہ) اور درد ناک عذاب ہے (پس ان لوگوں کو ان چیزوں سے سزا دی جاوے گی اور یہ سزا اس روز ہوگی) جس روز زمین و پہاڑ ہلنے لگیں اور پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) ریگ رواں ہوجائیں گے (پھر اڑتے پھریں گے آگے مکذبین مذکورین کو بطور التفات کے خطاب ہے جس میں اثبات رسالت و تخقیق و عید بھی ہے یعنی) بیشک ہم نے تمہارے پاس ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر (قیامت کے روز) گواہی دیں گے (کہ ان لوگوں نے تبلیغ کے بعد کیا برتاؤ کیا) جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا، پھر فرعون نے اس رسول کا کہنا نہ مانا تو ہم نے اس کو سخت پکڑنا پکڑا سو اگر تم (بھی بعثت رسول کے بعد نافرمانی اور) کفر کرو گے تو (اسی طرح ایک روز تم کو بھی مصیبت بھگتنا پڑے گی چناچہ وہ مصیبت کا دن آنے والا ہے سو تم) اس دن (کی مصیبت) سے کیسے بچو گے جو (اپنی شدت اور طول کی وجہ سے) بچوں کو بوڑھا کر دے گا جس میں آسمان پھٹ جاوے گا بیشک اس کا وعدہ ضرور ہو کر رہے گا (یہ بھی احتمال نہیں ہے کہ وہ وقت ٹل جاوے) یہ (تمام مضمون) ایک (بلیغ) نصیحت ہے سو جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف رستہ اختیار کرے (یعنی اس تک پہنچنے کے لئے دین کا رستہ قبول کرے، آگے اس قیام لیل کی فرضیت کا نسخ ہے جو شروع سورت میں مذکور تھا یعنی) آپ کے رب کو معلوم ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والوں میں سے بعضے آدمی (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں اور رات اور دن کا پورا اندازہ اللہ ہی کرسکتا ہے اس کو معلوم ہے کہ تم اس (مقدار وقت) کو ضبط نہیں کرسکتے (اور اس وجہ سے تم کو سخت مشقت لاحق ہوتی ہے کیونکہ انداز سے تخمینہ کرنے میں تو شبہ رہتا ہے کمی کا اور انداز سے زیادہ کرنے میں تمام رات کے قریب صرف ہوجاتا ہے تاکہ وقت مقدر یقیناً پورا ہوجاوے اور ان دونوں امر میں مشقت شدید ہے روحانی یا جسمانی) تو (ان وجوہ سے) اس نے تمہارے حال پر عنایت کی (اور اس سے پہلے حکم کو منسوخ فرما دیا) سو (اب) تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو (مراد اس قرآن پڑھنے سے تہجد پڑھنا ہے کہ اس میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور یہ امر استحباب کے لئے ہے۔ مطلب یہ کہ تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی اب جس قدر وقت تک آسان ہو بطور استحباب کے اگر چاہو پڑھ لیا کرو اور منسوخ ہونے کی اصل علت مشقت ہے جس پر علم ان لن تخصوہ کا قرینہ ہے اور اس کے قبل کا مضمون اس کی تمہید ہے، آگے اسی نسخ کی دوسری علت کا بیان ہے کہ) اس کو (یہ بھی) معلوم ہے کہ بعضے آدمی تم میں بیمار ہوں گے اور بعضے تلاش معاش کے لئے ملک میں فر کریں گے اور بعضے اللہ کی راہ میں جہد کریں گے (اس لئے بھی اس حکم کو منسوخ کردیا کیونکہ ان حالتوں میں پابندی تہجد اور اس کے اوقات کی مشکل تھی) سو (اس لئے بھی تم کو اجازت ہے کہ اب) تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو، اور (گوتجہد منسوخ ہوگیا مگر یہ احکام اب بھی باقی ہیں یعنی یہ کہ) نماز (فرض) کی پابندی رکھو اور زکوة دیتے رہو (قد مرتفسیرہ، فی اول المومنین) اور اللہ کو اچھی طرح (یعنی اخلاص سے) قرض دو اور جو نیک عمل اپنے لئے آگے (ذخیرہ آخرت کا بنا کر) بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے اچھا اور ثواب میں بڑا پاؤ گے (یعنی دنیوی اغراض میں خرچ کرنے سے جو عوض اور نفع مرتب ہوتا ہے اس سے بہتر اور اعظم نفقات خیر پر ملے گا) اور اللہ سے گناہ معاف کراتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (استغفار بھی ان ہی احکام باقیہ میں ہے)
معارف و مسائل
يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ، مزمل کے لفظی معنے اپنے اوپر کپڑے لپیٹنے والا۔ تقریباً اسی کا ہم معنے لفظ مدثر ہے جو اگلی سورت میں آ رہا ہے۔ ان دونوں سورتوں میں رسول کریم ﷺ کو ایک وقتی حالت اور مخصوص صفت کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ شدت خوف و فزع کے سبب سخت سردی محسوس کر رہے تھے اس لئے اپنے اوپر کپڑے ڈالنے کے لئے فرمایا یہ کپڑے ڈال دیئے گئے تو آپ ان میں لپٹ گئے۔ واقعہ اس کا صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت جابر کی روایت سے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فترت وحی کے زمانے کا ذکر فرما رہے تھے فترت کے لفظی معنی سست یا بند ہوجانے کے ہیں، واقعہ اس کا یہ پیش آیا تھا کہ سب سے پہلے غار حرا میں نبی کریم ﷺ پر جبرئیل امین نازل ہوئے اور سورة اقراء کی ابتدائی آیتیں آپ کو سنائیں۔ یہ فرشتے کا نزول اور وحی کی شدت پہلے پہل تھی جس کا اثر طبعی طور پر ہو اور رسول اللہ ﷺ ام المومنین حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے سخت سردی محسوس کر رہے تھے اس لئے فرمایا زملونی زملونی یعنی ڈھانپو مجھے ڈھانپو۔ اس کا مفصل اور طویل واقعہ صحیح بخاری کے پہلے ہی باب میں مذکور ہے اس کے بعد کچھ دنوں تکیہ سلسلہ وحی کا بند رہا اس زمانے کو جس میں سلسلہ وحی بند رہا زمانہ فترت الوحی کہا جاتا ہے آپ نے اس زمانہ فترت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک روز میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آواز سنی تو نظر آسمان کی طرف اٹھائی دیکھتا کیا ہوں کہ وہ ہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ مجھے ان کو اس ہئیت میں دیکھ کر پھر وہ ہی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو پہلی ملاقات کے وقت ہوچکی تھی میں واپس اپنے گھر چلا آیا اور گھر والوں سے کہا کہ مجھے ڈھانپ دو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یایھا المدثر اس حدیث میں آیت یایھا المدثر کے نزول کا ذکر ہے ہوسکتا ہے کہ اسی حالت کو بیان کرنے کے لئے يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کا خطاب بھی آیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مزمل کے لقب کا واقعہ الگ وہ ہو جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے، اس عنوان سے خطاب کرنے میں ایک خاص لطف و عنایت کی طرف اشارہ ہے جیسے محبت و شفقت میں کسی کو اس کی وقتی حالت کے عنوان سے محض تلطف کے لئے خطاب کیا جاتا ہے (روح المعانی) اس عنوان خاص سے خطاب فرما کر آپ کو نماز تہجد کا حکم اور اس کی کچھ تفصیل بتلائی ہے۔
Ayahs 73:2–3نماز تہجد کے احکام اور ان میں تبدیلی
لفظ مزمل اور مدثر خود اس کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ آیات بالکل شروع اسلام اور نزول قرآن کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ اس وقت پانچ نمازیں امت پر فرض نہیں ہوئی تھیں کیونکہ پانچ نمازوں کی فرضیت تو شب معراج میں ہوئی ہے۔
امام بغوی نے حضرت صدیقہ عائشہ وغیرہ کی احادیث کی بناء پر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی رو سے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ ﷺ اور تمام امت پر فرض تھی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔
اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات سے مشغول رہنا بھی فرض قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان آیات میں اصل حکم یہ تھا کہ تمام رات باستثناء قلیل نماز میں مشغول رہیں اور استثناء قلیل کا بیان اور تفصیل آگے آتی ہے۔
امام بغوی روایات حدیث کی بناء پر فرماتے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رات کے اکثر حصہ کو نماز تہجہد میں صرف فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کے قدم ورم کر گئے اور یہ حکم خاصا بھاری معلوم ہوا۔ سال بھر کے بعد اسی سورت کا آخری حصہفَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰن نازل ہوا جس نے اس طویل قیام کی پابندی منسوخ کردی اور اختیار دے دیا کہ جتنی دیر کسی کے لئے آسان ہو سکے اتنا وقت خرچ کرنا نماز تہجد میں کافی ہے یہ مضمون ابوداؤد نسائی میں حضرت صدیقہ عائشہ سے منقول ہے اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب پانچ نمازوں کی فرضیت شب معراج میں نازل ہوئی تو نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی البتہ سنت پھر بھی رہی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ اس پر مداومست فرمائی اسی طرح اکثر صحابہ کرام بڑی پابندی سے نماز تہجد ادا کرتے تھے (مظہری) اب الفاظ آیت کی تفسیر دیکھئے ارشاد فرمایا۔
قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا، الیل پر الف لام داخل ہونے سے اس نے پوری رات کے معنے دیئے تو مطلب آیت کا یہ ہوگیا کہ آپ ساری رات قیام الیل میں مشغول رہیں بجز قلیل کے مگر چونکہ یہ لفظ قلیل مبہم تھا اس لئے آگے اس کی تشریح اس طرح فرما دی نصفہ اوانفص منہ قلیلاً اوزد علیہ یعنی اب آپ نصف رات قیام فرمائیں یا نصف سے کچھ کم کردیں یا نصف سے کچھ بڑھا دیں۔ یہ بیان الا قلیلاً کے استثناء کا ہے۔ اس لئے اس پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ نصف تو قلیل نہیں کہلتا۔ جو اب یہ ہے کہ رات کا ابتدائی حصہ تو نماز مغرب پھر عشاء وغیرہ میں گزر ہی جاتا ہے اب نصف سے مراد باقی ماندہ کا نصف ہوگا وہ مجموعہ رات کے اعتبار سے قلیل ہے اور اس آیت میں چونکہ نصف سے کم کرنے کی بھی اجازت ہے نصف سے زائد کرنے کی بھی، اس لئے مجموعی طور پر اس کا یہ حاصل ہوا کہ کم از کم چوتھائی رات سے کچھ زیادہ قیام الیل میں مشغول رہنا فرض ہوگا۔
Ayah 73:4ترتیل قرآن کا مطلب
ورتل القرآن ترتیلاً ، ترتیل کے لفظی معنے کلمہ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منھ سے نکالنے کے ہیں (مفردات امام راغب) مطلب آیت کا یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں جلدی نہ کریں، بلکہ ترتیل و تسہیل کے ساتھ ادا کریں اور ساتھ ہی اس کے معانی میں تدبر و غور کریں (قرطبی) ورتل کا عطف قم الیل پر ہے اور اس میں اس کا بیان ہے کہ رات کے قیام میں کیا کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد اگرچہ قرائت و تسبیح، رکوع و سجود سبھی اجزائے نماز پر مشتمل ہے مگر اس میں اصل مقصود قرات قرآنی ہے اسی لئے احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز بہت طویل ادا فرماتے تھے، یہی عادت صحابہ وتابعین میں مصروف رہی ہے۔
مسئلہ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کا صرف پڑھنا مطلوب نہیں بلکہ ترتیل مطلوب ہے جس میں ہر ہر کلمہ صاف صاف اور صحیح ادا ہو۔ حضرت نبی کریم ﷺ اسی طرح ترتیل فرماتے تھے۔ حضرت ام سلمہ سے بعض لوگوں نے رات کی نماز میں آپ کی تلاوت قرآن کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے نقل کر کے بتلایا جس میں ایک ایک حرف واضح تھا (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، از مظہری)
مسئلہ۔ ترتیل میں تحسین صوت یعنی بقدر اختیار خوش آوازی سے پڑھنا بھی شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی قرات و تلاوت کو ایسا نہیں سنتا جیسا اس نبی کی تلاوت کو سنتا ہے جو خوش آوازی کے ساتھ جہراً تلاوت کرے (مظہری)
حضرت علقمہ نے ایک شخص کو حسن صوت کیساتھ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا لقد (رتل القرآن فداہ ابی وامی، یعنی اس شخص نے قرآن کی ترتیل کی ہے میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں (قرطبی)
اور اصل ترتیل وہی ہے کہ حروف و الفاظ کی ادائیگی بھی صحیح اور صاف ہو اور پڑھنے والا اس کے معانی پر غور کر کے اس سے متاثر بھی ہو رہا ہو جیسا کہ حسن بصری سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک شخص پر ہوا جو قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سنا ہے۔ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا بس یہی ترتیل ہے (جو یہ شخص کر رہا ہے) از قرطبی
Ayah 73:5(آیت) اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا ثقیل کے معنی بھاری کے ہیں اور قول ثقیل سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس کے بیان کردہ حلال و حرام اور جائز اور ناجائز کے حدود کی دائمی پابندی طبعی طور پر بھاری ہے بجز اس کے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو آسان بنا دے اور قرآن کو قول ثقیل اس وجہ سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ ایک خاص وزن اور شدت محسوس فرماتے تھے جس سے سخت سردی کے زمانے میں بھی آپ کی پیشانی پیسینہ پسینہ ہوجاتی تھی اور اگر اس وقت کسی اونٹنی پر سوار ہیں تو وہ اس کے بوجھ سے اپنی گردن ڈال دیتی تھی جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں (صحیح بخاری وغیرہ)
اس آیت میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ نماز تہجد کا حکم اسلئے دیا گیا کہ انسان مشقت اٹھانے کا خوگر بنے۔ یہ رات کو نیند کے غلبہ اور نفس کی راحت کے خلاف ایک جہاد ہے اس کے ذریعہ ثقیل بوجھ احکام کی برداشت آسان ہوجائے گی جو قرآن میں نازل ہونے والے ہیں۔
Ayah 73:6(آیت) اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ لفظ ناشہ بوزن عافیت مصدر ہے جس کے معنی ہیں رات کی نماز کے لئے کھڑا ہونا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ سونے کے بعد رات کی نماز کے لئے اٹھنا ناشتہ الیل ہے اس معنی کے لحاظ سے لفظ ناشتہ اللیل بمعنے تہجہد ہوگیا کیونکہ تہجد کے لفظی معنے بھی رات میں سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنے کے ہیں۔ ابن کیسان نے فرمایا کہ آخر رات کے قیام کو ناشتہ اللیل کہا جاتا ہے۔ ابن زید نے فرمایا کہ رات کے جس حصے میں بھی کوئی نماز پڑھی جائے وہ ناشتہ الیل میں داخل ہے اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد ہر نماز ناشتہ الیل میں داخل ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس اور ابن زبیر ؓ سے ناشتہ الیل کے معنے پوچھے تو انہوں نے فرمایا الیل کلھا ناشتہ یعنی رات کے ہر حصہ کی نماز ناشتہ الیل میں داخل ہے (مظہری)
ان مجموعہ اقوال میں کوئی تضاد نہیں حقیقت یہ ہے کہ قیام الیل اور ناشتہ الیل کا مفہوم اصل میں عام ہے رات کے کسی ھی حصہ میں جو نماز پڑھی جائے اس پر ان دونوں لفظوں کا اطلاق ہوسکتا ہے خصوصاً جو نماز عشاء کے بعد ہو جیسا کہ حسن بصری کا قول ہے لیکن جناب رسول اللہ ﷺ اور جمہور و صحابہ وتابعین اور صلحائے امت کا ہمیشہ یہ عمل رہا ہے کہ اس نماز کو سو کر اٹھنے کے بعد آخر شب میں ادا کرتے تھے اس لئے وہ افضل و اعلیٰ اور موجب برکات زیادہ ہے اور نفس سنت قیام الیل اور ناشتہ الیل کی عشاء کی نماز کے بعد ہر نماز نفل سے ادا ہوجاتی ہے۔
هِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا وطاً میں دو قراتیں ہیں، مشہور قراة بفتح الواؤ و سکون الطاء بروزن ضرب ہی جس کے معنی روندنے اور کچلنے کے آتے ہیں اس کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ رات کی نماز نفس کشی اور نفس کو کچلنے میں بہت معین ہے یعنی نفس کو قابو میں رکھنے اور ناجائز خواہشات پر اڑنے سے روکنے میں نماز تہجد سے بڑی مدد ملتی ہے خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے .... دوسری قراة میں وطاء بکسر الواو بالالف المحمودة بروزن کتاب ہے اس صورت میں یہ مواطاة بمعنی موافقت کا مصدر ہے قرآن کریم کی آیت لیواطوا عدة ماحرم میں اسی موافقت کے معنی ہیں، ائمہ تفسیر میں سے حضرت ابن عباس اور ابن زید سے اس کے یہی معنی منقول ہیں، ابن زید نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ رات کے وقت نماز کے لئے اٹھنا قلب نگاہ، کان اور زبان سب میں باہمی موافقت پیدا کرنے میں اشد ہے یعنی بہت زیادہ موثر ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اشد وطا کے معنی یہ ہیں کہ کان اور قلب میں اس وقت زیادہ موافقت ہوتی ہے کہ رات کا وقت عموماً کاموں سے فراغت اور شور و شغب سے نجات اور سکون کا وقت ہوتا ہے اس وقت جو الفاظ زبان سے نکلیں گے اپنے کان بھی ان کو سنیں گے اور دل بھی حاضر ہوگا۔
واقوم قیلاً اور اقوام کے معنے زیادہ مستقسیم و درست اور زیادہ ثابت کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ رات کے وقت میں تلاوت قرآن زیادہ درست اور جماؤ اور ثبات کیساتھ ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف قسم کی آوازوں اور شور و شغب سے قلب اور ذہن مشوش نہیں ہوتا۔
خلاصہ اس آیت کا بھی حکم قیام الیل کی حکمت بیان کرنا ہے اس سے پہلی آیت میں جو اس کی حکمت ارشاد فرمائی گئی تھی۔ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلا یہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات قدسی کے ساتھ خاص تھی کہ قول ثقیل یعنی قرآن کے نزول کا تعلق آپ ہی کی ذات سے ہے۔ اس دوسری آیت میں جو حکمت بیان ہوئی وہ سب امت کے لئے عام ہے کہ رات کی نماز میں دو وصف ہیں اول قلب و زبان میں موافقت دوسرے تلاوت قرآن میں بوجہ سکون کے آسانی۔
Ayah 73:7اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا . لفظ سبح کے لفظی معنے جاری ہونے اور گھومنے پھرنے کے ہیں اسی سے پانی میں تیرنے کو بھی سبح اور سباحت کہا جاتا ہے کہ پانی میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھومنا پھرنا تیراکی کے ساتھ آسان ہے۔ یہاں مراد سبح سے دن بھر کے مشاغل ہیں جن میں تعلیم و تبلیغ اور اصلاح خلق کے لئے یا اپنی معاشی مصالح کے لئے چلنا پھرنا سب داخل ہیں۔
اس آیت میں قیام الیل کے حکم کی تیسری حکمت و مصلحت کا بیان ہے یہ بھی آنحضرت ﷺ اور پوری امت کے لئے عام ہے وہ یہ کہ دن میں تو رسول اللہ ﷺ اور اسی طرح دوسرے سبھی حضرات کو بہت سے مشاغل چلنے پھرنے کے رہتے ہیں۔ فراغ بالی سے عبادت میں توجہ مشکل ہوتی ہے رات کا وقت اس کام کے لئے رہنا چاہئے کہ بقدر ضرورت نیند اور آرام بھی ہوجائے اور قیام الیل کی عبادت بھی۔
فائدہ۔ حضرات فقہاء نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء و مشائخ جو تعلیم و تربیت اور اصلاح خلق کی خدمتوں میں لگے رہتے ہیں ان کو بھی چاہئے کہ یہ کام دن ہی تک محدود رہنے چاہئیں، رات کا وقت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور عبادت کے لئے فارغ رکھنا بہتر ہے جیسا کہ علمائے سلف کا تعامل اور اس پر شاہد ہی کوئی وقتی ضرورت دینی، تعلیمی، تبلیغی کبھی اتفاقاً رات کو بھی اس میں مشغول رکھنے کی داعی ہو تو وہ بقدر ضرورت مستثنیٰ ہے۔ اس کی شہادت بھی بہت سے حضرات علماء و فقہاء کے عمل سے ثابت ہے۔
Ayah 73:8(آیت) وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا تبتل کے لفظی معنے مخلوق سے منقطع ہو کر خالق کی عبادت میں لگ جانے کے ہیں واذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ کا عطف قم الیل پر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کو قیام الیل یعنی رات کی نماز کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ضمن میں دن کی خاص خاص عبادتوں کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا کما فی قولہ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا اس آیت میں ایک ایسی عبادت کا حکم ہے جو رات یا دن کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حال میں جاری رہتی ہے وہ ہے ذکر اللہ، اور مراد ذکر اللہ کے حکم سے اس پر مداومت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا تو تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ آپ بالکل ذکر نہ کرتے ہوں اس لئے اس حکم کا منشاء دوام ذکر ہی ہوسکتا ہے (مظہری) اور مراد آیت کی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ذکر اللہ کو شب و روز ہمہ وقت جاری رکھیں اس میں نہ کبھی دہول ہونا چاہئے نہ سستی۔ اور یہ مراد اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ ذکر اللہ سے مراد عام لیا جائے خواہ زبان سے ہو یا قلب سے یا اعضاء وجوارح کو اللہ تعالیٰ کے احکام میں مشغول رکھنے سے۔ اور ایک حدیث میں جو حضرت صدیقہ عائشہ کی روایت سے یہ آیا ہے کہ کان یذکر اللہ عل کل حین، یعنی رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر فرماتے تھے یہ بھی اس عام معنے کی رو سے صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ بیت الخلا وغیرہ میں آپ کا ذکر لسانی نہ کرنا روایات حدیث سے ثابت ہے مگر ذکر قلبی ہر وقت جاری رہ سکتا ہے اور ذکر قلبی کی دو صورتیں ہیں ایک الفاظ متخیلہ کے ذریعہ ذکر کرنا، دوسرے اللہ تعالیٰ کی صفات و کمالات میں غور و فکر کرنا، کما افادہ شیخ التھانوی قدس سرہ۔
دوسرا حکم اس آیت میں یہ دیا گیا کہ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا یعنی آپ تمام مخلوقات سے قطع نظر کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی عبادت میں لگ جائیں اس کے عام مفہوم میں اللہ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک نہ کرنا بلکہ خلاص اللہ کے لئے عبادت کرنا بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ اپنے تمام اعمال و افعال اور حرکات و سکنات میں نظر اور بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر رہے کسی مخلوق کو نفع و ضرر کا مالک یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں۔ حضرت ابن زید نے فرمایا کہ تتبل کے معنے یہ ہیں کہ تمام دنیا ومافیہا کو چھوڑیں اور صرف اس چیز کی طرف متوجہ رہیں جو اللہ کے پاس ہے (مظہری) لیکن جس تبتل اور مخلوق سے قطع تعلق کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے وہ اس ترک تعلقات اور ترک دنیا سے بالکل مختلف ہے جس کو قرآن میں رہبانیت کہا ہے اور اس کی مذمت کی طرف اشارہ کیا ہے (آیت) ورھبانیتہ ابتدعوھا اور جس کے متعلق حدیث میں ہی لا رہبانیتہ فی الاسلام کیونکہ رہبانیت اصطلاح شرع میں اس ترک دنیا اور ترک تعلقات کا نام ہے جس میں تمام لذائذ اور حلال طیب اشیائ کو بہ نیت عبادت چھوڑ دیا جائے یعنی یہ اعتقاد ہو کہ ان حلال چیزوں کے چھوڑے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل نہیں ہو سکتی۔ یا عملاً ترک تعلقات اس طرح کرے کہ لوگوں کے حقوق واجبہ کی رعایت نہ کرے ان میں خلل آئے اور یہاں جس تبتل اور ترک تعلق کا حکم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعلق پر کسی دوسری مخلوق کا تعلق غالب نہ آجائے خواہ اعتقادا یا عملاً اور ایسا ترک تعلق دنیوی تمام معاملات ازدواج و نکاح اور تعلقات رشتہ داری وغیرہ کے منافی نہیں بلکہ ان سب کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے جیسا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی سنت خصوصاً سید الانبیاء علیہ الصلوة والسلام کی پوری زندگی اور شمائل اس پر شاہد ہیں۔ یہاں جس مفہوم کو لفظ تبتل سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کا دوسرا عنوان سلف صالحین کی زبان میں اخلاص ہے۔ (مظہری)
فائدہ مہمہ۔ ذکر اللہ کی کثرت اور تعلقات دنیا کے ترک کے معاملے میں صوفیائے کرام سلفاً وخلفاً سب سے آگے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم جس مسافت کو طے کرنے اور راستہ قطع کرنے میں دن رات لگے ہوئے ہیں درحقیقت اس کے دو قدم ہیں۔ پہلا قدم مخلوق سے انقطاع ہے اور دوسرا قدم وصولی الی اللہ ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ آیت مذکورہ میں انہیں دو قدموں کو دو جملوں میں عطف کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلا
یہاں ذکر اللہ سے مراد اس پر ایسی مداومت ہے جس میں کبھی قصور و فتور نہ ہو اور کسی وقت اس سے ذہول نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جس کو صوفیائے کرام کی اصطلاح میں وصول الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح پہلے جملے میں آخری قدم کا ذکر فرمایا اور دوسرے جملے میں پہلے قدم کا یہ ترتیب شاید اس لئے بدل گئی کہ اگرچہ عمل میں تبتل یعنی قطع تعلقات (بالمعنے المذکور) مقدم ہے اور وصول الی اللہ اس کے بعد اس پر مرتب ہوتا ہے مگر چونکہ مقصد سالک کا یہ دوسرا ہی قدم ہے اور یہی درحقیقت مقصود المقاصد ہے اس کی اہمیت و افضلیت بتلانے کے لئے تربیت طبعی وقوعی کو بدل کر ذکر اللہ کو مقدم بیان فرمایا گیا۔ شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے انہیں دو قدموں کو خوب بیان فرمایا ہے۔
تعلق حجاب است و بےحاصلی۔ چو پیوند ہابگسلی واصلی
ذکر اسم ذات یعنی اللہ اللہ کا تکرار بھی مامور بہ ذکر و عبادت ہے۔ اس آیت میں ذکر اللہ کے حکم کو لفظ اسم کیساتھ مقید کر کے واذْكُرِ اسْمَ رَبِّك فرمایا ہے واذکر ربک نہیں فرمایا اس میں اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ اسم رب یعنی اللہ اللہ کا تکرار بھی مطلوب و ماموربہ ہے (مظہری) بعض علماء نے جو صرف اسم ذات اللہ اللہ کے تکرار کو بدعت کہہ دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 73:9(آیت) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا، وکیل لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو کوئی کام سپرد کیا جائے۔ فاتخذہ وکیلا کا مفہوم یہ ہوا کہ اپنے سب کاروبار معاملات اور حالات کو اللہ کے سپرد کرو۔ اسی کا نام اصطلاح میں توکل ہے۔ اس سورت میں جو احکام رسول اللہ ﷺ کو دیئے گئے ہیں یہ ان میں پانچواں حکم ہے۔ امام یعقوب کرخی ؒ نے فرمایا شروع سورت سے اس آیت تک مقامات سلوک کی طرف اشارہ ہے یعنی رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خلوت۔ قرآن کریم میں اشتعال، ذکر اللہ پر دوام، ماسوی اللہ سے اعراض و ترک تعلق اللہ تعالیٰ پر توکل توکل کے آخری حکم سے پہلے اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت رب المشرق والمغرب بیان کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جو ذات پاک مشرق و مغرب یعنی سارے جہان کی پالنے والی اور ان کی تمام ضروریات ابتداء سے انتہا تک پورا کرنے کی متکفل ہے۔ توکل اور بھروسہ کرنے کے قابل صرف وہی ذات ہو سکتی ہے اور اس پر بھروسہ کرنے والا کبھی محروم نہیں رہ سکتا جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ (آیت) ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ۔ یعنی جو شخص اللہ پر توکل (بھروسہ) کرتا ہے اللہ اس کے (سب مہمات و مشکلات کے لئے) کافی ہوتا ہے۔
توکل کے معنی شرعی۔ اللہ پر توکل اور بھروسہ کے یہ معنی نہیں کہ کسب معاش اور دفع بلا کے جو اسباب و آلات قدرت حق نے آپ کو عطا فرمائے ہیں ان کو معطل کر کے اللہ پر بھروسہ کرو، بلکہ حقیقت توکل کی یہ ہے کہا پنے مقاصد کے لئے اللہ کی دی ہوئی قوت و توانائی اور جو اسباب میسر ہیں ان سب کو پورا استعمال کرو مگر اسباب مادیہ میں غلو اور انہماک زیادہ نہ کرو اعمال اختیار یہ کو کرلینے کے بعد نتیجہ کو اللہ کے سپرد کر کے بےفکر ہوجاؤ۔
توکل کا یہ مفہوم خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ امام مغوی نے شرح السنتہ میں اور بہیقی نے شعیب الایمان میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ان نفسا لن تموت حتی تستکمل رزقھا الا فاتقواللہ واجملوا فی الطلب (مظہری) یعنی روح القدس (جبرئیل امین) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس لئے تم خدا سے ڈرو اور اپنے مقاصد کی طلب میں اختصار سے کام لو، زیادہ منہمک نہ ہو کہ قلب کی توجہ ساری انہیں مادی اسباب و آلات میں محصور ہو کر رہ جائے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور ترمذی میں حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ترک دنیا اس کا نام نہیں کہ تم اپنے اوپر اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کرلو یا جو مال تمہارے پاس ہو اسے خواہ مخواہ اڑا دو ، بلکہ ترک دنیا اس کا نام ہے کہ تمہارا اعتماد اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں جو چیز ہے اس پر زیادہ ہو بہ نسبت اس کے جو تمہارے ہاتھ میں ہے (مظہری)
Ayah 73:10(آیت) وَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا، بقول امام کرخی یہ چھٹا حکم ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے یعنی لوگوں کی ایذاؤں اور گالیوں پر صبر جمیل، یہ مقامات سلوک میں سب سے اعلیٰ مقام ہے کہ دشمنوں کی جفا و ایذا پر صبر کیا جائے یعنی یہ حضرات جن لوگوں کی خیر خواہی اور ہمدردی میں اپنی ساری قوت و توانائی اور ساری عمر خرچ کرتے ہیں انہیں کی طرف سے اس کی جزاء میں گالیاں، ایذائیں، طرح طرح کے جور و ستم ان کے مقابلے میں آتے ہیں ان پر صبر جمیل کرنا یعنی انتقام کا ارادہ بھی نہ کرنا یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جو اصطلاح صوفیہ میں فناء کامل کے بغیر نصیب نہیں ہوتا۔
وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا ہجر بفتح الہاء کے لفظی معنے کسی چیز کو رنج و ملال و بیزاری کیساتھ چھوڑنے کے آتے ہیں۔ معنے یہ ہوئے کہ تکذیب کرنے والے کفار جو کچھ آپ کو ایذا کے کلمات کہتے ہیں آپ اس کا انتقام تو ان سے نہ لیں مگر ان سے تعلقات بھی نہ رکھیں۔ مگر ترک تعلق کے وقت انسان کی طبعی عادت یہ ہے کہ جس سے تعلق چھوڑا جائے اس کا شکوہ شکایت اور اس کو برا بھلا کہتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کو کفار کے ہجر یعنی ترک تعلق کا جو حکم دیا گیا تو ساتھ ہجراً جمیلا کی قید لگا دی گئی کہ آپ کے منصب عالی اور خلق عظیم کا تقاضا یہ ہے کہ جن کفار سے ترک تعلق کریں زبان بھی ان کو برا کہنے سے محفوظ رکھیں۔
بعض حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات جہاد و قتال جو بعد میں نازل ہوئیں ان سے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا، لیکن غور کیا جائے تو منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آیات مذکورہ میں کفار کی ایذاؤں پر صبر اور ہجر کی تلقین ہے یہ زجر اور سزا و قتال کے منافی نہیں، اس آیت کا حکم ہر وقت ہر حال میں ہی اور قتال و جہاد میں جو زجر و سزا ہے اس کا حکم خاص خاص اوقات میں ہے اور اسلامی قتال و جہاد درحقیقت کوئی اتنقام یا اپنا غصہ نکالنا نہیں، جو صبر اور ہجر جمیل کے منافی ہو بلکہ خلاص حکم خداوندی کی تعمیل ہے جسطرح صبر اور ہجر جمیل عام حالات میں اس کی تعمیل ہے یہاں تک رسول اللہ ﷺ کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور ترک انتقام کی تلقین تھی آگے آپ کی تسلی کے لئے ان کفار پر جو عتاب آخرت میں آنے والا ہے اس کا بیان ہے مقصد یہ ہے ان کی چند روزہ چیرہ دستی اور ظلم و جور سے آپ ملول نہ ہوں ان کو تو اللہ تعالیٰ سخت عذاب میں پکڑنے والا ہے ہاں حکمت ربانی کے تقاضے سے کچھ مہلت دے رکھی ہی اس میں آپ جلدی کی فکر نہ فرما دیں
Ayah 73:11یہی مفہوم ہے بعد کی آیت ذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيْلًا کا اس میں کفار مکذبین کو اولی النعمہ فرمایا ہے نعمت بفتح النون کے معنی تنعم یعنی عیش و عشرت اور مال واولاد کی بہتات کے ہیں اس میں اشارہ ہے کہ دنیا کے مال و اولاد اور ناز و نعمت میں مست ہوجانا اسی شخص سے ہوسکتا ہے جو آخرت کی تکذیب کرنے والا ہو۔ مومن کو بھ یہ چیزیں بسا اوقات نصیب ہوتی ہیں مگر وہ ان میں ایسا مست نہیں ہوتا اس لئے دنیا کے ہر عیش و راحت کے وقت بھی اس کا قلب فکر آخرت سے خالی نہیں ہوتا۔ خالص عیش و عشرت اور بالکل بےفکری اس دنیا میں کافروں اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں ہی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 73:12آگے آخرت کے اس سخت ترین عذاب کا ذکر ہے جس میں پہلے انکال کا ذکر کیا جس کے معنی قید و بند اور زنجیروں کے ہیں۔ پھر جہنم کی شدید آگ کا ذکر فرمایا۔ پھر اہل جہنم کے درد ناک کھانے کا ذکر ہے وّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ، غصہ کے لفظی معنے گلے میں لگ جانے والے پھندے کے ہیں کہ کوئی لقمہ گلے میں اس طرح پھنس جائے کہ نہ نگلا جاسکے نہ باہر اگلا جاسکے۔ ضریع اور زقوم جو اہل جہنم کو کھانے کے لئے دیا جائے گا ان کا یہی حال ہوگا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس میں آگ کے کانٹے ہوں گے جو گلے میں پھنس جائیں گے (نعوذ باللہ منہ)
Ayah 73:13آخر میں فرمایا وّعَذَابًا اَلِـــيْمًا ان معین عذابوں کے ذکر کرنے کے بعد یہ مبہم لفظ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ اور عذاب ان سے بھی زیادہ شدید و سخت ہیں جن کا کوئی انسان تصور نہیں کرسکتا۔ (اللہم احفظنا منہا)
سلف صالحین کا خوف آخرت۔ امام احمد، ابن ابی داؤد، ابن عدی اور بیہقی کی روایت ہے کہ ایک شخص نے قرآن کی یہ آیت سنی تو خوف سے بیہوش ہوگیا اور حضرت حسن بصری ایک دن روزہ سے تھے افطار کے وقت کھانا سامنے آیا تو اس آیت کا دھیان آ گیا، کھانا نہ کھا سکے اٹھوا دیا۔ اگلے روز پھر شام کو ایسا ہی ہوا، کھانا اٹھوا دیا۔ تیسرے روز پھر ایسا ہی ہوا تو ان کے صاحبزادے حضرت ثابت بنانی اور یزید ضبی اور یحییٰ بکار کے پاس گئے اور حال سنایا، یہ تینوں حضرات آئے اور حضرت حسن کو کھانے کا بہت اصرار کرتے رہے جب مجبور ہو کر کچھ تناول فرمایا (روح المعانی)
Ayahs 73:14–19آگے کچھ قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان فرمایا يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَال آلایتہ اس کے بعد کفار مکہ کو فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ سنا کر اس سے ڈرایا گیا کہ جس طرح فرعون اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کر کے گرفتار عذاب ہوا، تم بھی اس پر جمے رہے تو سمجھ لو کہ تم پر بھی ایسا ہی کوئی عذاب دنیا میں آسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آیا تو قیامت کے اس دن کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکے گا جس کی ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناکی اور طول کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ روز قیامت کے شدید اور ہولناک ہونے کا بیان ہے کہ اس میں لوگوں پر ایسا خوف اور ہول طاری ہوگا کہ اگر کوئی بچہ بھی ہو تو بوڑھا ہوجائے غرض مراد اس سے ایک تمثیل ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ مراد حقیقت ہے اور رو زقیامت اس قدر طویل ہوگا کہ اس میں ایک بچہ بھی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے گا۔ (قرطبی و روح)
Ayah 73:20قیام الیل کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ شروع سورت میں قم الیل سے رسول اللہ ﷺ اور سب مسلمانوں پر قیام الیل کو فرض قرار دیا گیا تھا اور اس قیام کا طویل ہونا بھی فرض تھا مگر اس کے طول میں اختیار دیا گیا تھا کہ آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور کم سے کم ایک تہائی رات ہونا چاہئے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت اس فرض کی ادائیگی میں اکثر عزیمت پر عمل فرماتے اور زیادہ سے زیادہ رات کا وقت اس نماز میں گزارتے تھے جو دو تہائی رات کے قریب ہوتا تھا۔ ہر رات میں یہ عمل پھر دن میں دین کی دعوت و تبلیغ اور ذاتی ضروریات خصوصاً صحابہ کرام کہ بیشتر محنت مزدوری یا تجارت کرتے تھے، اس طویل و ثقیل نماز کی پابندی ہی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے پاؤں ورم کر آئے۔ ان کی یہ مشقت و محنت اللہ تعالیٰ کے سامنے تھی وہ اس سے بخوبی واقف تھے مگر علم الٰہی میں پہلے ہی سے متعین تھا کہ اتنی محنت کا فریضہ چند روزہی رکھا جائے گا تاکہ آپ اور صحابہ کرام محنت و ریاضت کے خوگر ہوجائیں جس کی طرف آیات مذکورہ میں بھی اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ آپ سے یہ محنت و مشقت اس لئے لے جا رہی ہے کہ آپ کو قول ثقیل یعنی قرآن کی خدمت سپرد ہونے والی تھی جو اس مشقت سے بڑی مشقت ہے۔ بہرحال علم ازلی کے مطابق جب یہ حکمت ریاضت و محنت کے خوگر بنانے کی پوری ہوگئی تو یہ فرض قیام اللیل منسوخ کردیا گیا اور حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیات مذکورہ سے صرف طول قیام کی فرضیت منسوخ ہوئی ہو اصل نماز تہجد کا فرض بدستور رہا ہو پھر شب معراج میں پانچ نمازوں کی فرضیت کے وقت نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوئی ہو، واللہ اعلم
اور ظاہر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور تمام ام سے یہ فرض منسوخ کردیا گیا البتہ اس کا استحباب اور عنداللہ پسندیدہ ہونا پھر بھی باقی رہا اور اس میں بھی یہ آسانی کردی گئی کہ وقت کی اور تلاوت قرآن کی کوئی تحدید نہیں رکھی گئی، ہر شخص اپنی اپنی طاقت و فرصت کے مطابق جتنے وقت میں ادا کر کے سکے کرلے اور اس میں جتنا قرآن پڑھنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لے۔
احکام شرعیہ کے منسوخ ہونے کی حقیقت۔ دنیا کی حکومتیں یا ادارے جو اپنے قوانین میں ترمیم و تنسیخ کرتے رہتے ہیں اس کی بیشتر وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ تجربے کے بعد کوئی نئی صورت حال سامنے آتی ہے جو پہلے سے معلوم نہ تھی تو اس صورتحال کے مطابق پہلے حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم جاری کردیا جاتا ہے مگر احکام الٰہیہ جس میں اس کا کوئی تصور و احتمال ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط ازلی اور ابدی سے کوئی چیز باہر نہیں۔ کوئی حکم شرعی جاری ہونے کے بعد لوگوں کے کیا حالات رہیں گے کیا کیا صورتیں پیش آئیں گی حق تعالیٰ کو پہلے ہی سے معلوم ہے لیکن باقضائے حکمت و مصلحت کوئی حکم کچھ عرصہ کے لئے جاری کیا جاتا ہے پہلے ہی سے اس کا ہمیشہ جاری رکھنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ایک مدت اللہ کے علم میں معتنی ہوتی ہے کہ اس مدت تک یہ حکم جاری رہے گا مگر اس مدت کا اظہار مخلوق پر بمصلحت نہیں کیا جاتا، الفاظ کے عموم سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم غیر موقف اور دائمی ہے عنداللہ جو اس کی مدت مقرر ہے جب وہ مدت ختم ہو کر حکم واپس لیا جاتا ہے تو مخلوق کی نظر میں وہ حکم کی منسوخی ہوتی ہے اور حقیقت میں وہ بیان مدت ہوتا ہے یعنی اس وقت مخلوق پر ظاہر کردیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ حکم ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ صرف اسی مدت کے لئے جاری کیا تھا اب وہ مدت ختم ہوگئی حکم باقی نہیں رہا۔
قرآن کریم میں بہت سی آیات کے منسوخ ہونے پر جو عامیانہ شبحصہ کیا جاتا ہے اس تقریر سے وہ شبھہ رفع ہوگیا، کیا نماز تہجہد خاص رسول اللہ ﷺ پر اس آیت کے بعد بھی فرض رہی بعض ائمہ تفسیر نے اسی کو اختیار کیا ہے ان کا استدلال سورة بنی اسرائیل کی (آیت) ومن الیل فتھجد بہ نافلة لک سے ہی جس میں نماز تہجد کو خاص آپ کے ذمہ ایک زائد فرض کی حیثیت سے عائد کیا گیا ہے کیونکہ نافلہ کے لغوی معنی زائدہ کے آتے ہیں اور مراد فریضہ زائدہ ہے مگر جمہور علماء کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ فرضیت اس نماز کی امت اور رسول اللہ ﷺ دونوں سے منسوخ ہوگئی البتہ بطور استحباب اس کی ادائیگی سب کے لئے باقی رہی اور آیت مذکورہ میں نافلۃ لک اپنے اصطلاحی معنے میں بحکم نفل ہے پھر اس کی خصوصیت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو آیت میں لفظ لک سے مفہوم ہوتی ہے اس کی کیا وجہ ہے یہ پوری تفصیل اور نماز تہجہد کی فرضیت منسوخ ہونے کے بعد یہ نماز صرف نفل و مستحب کے درجہ میں رہی یا سنت مؤ کدہ کے درجہ میں یہ پوری تحقیق سورة بنی اسرئایل کی آیت مذکورہ کے تحت میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے وہاں تہجد کے خاص فضائل اور مسائل کا بھی ذکر کردیا گیا ہے۔
یہ آیت جن کے ذریعہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوئی اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ سے شروع ہو کر فاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ تک آئی ہے۔ یہ آیت شروع سورت کی آیات سے ایک سال یا آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے سال بھر کے بعد قیام اللیل کی فرضیت منسوخ ہوئی، مسند احمد، مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں قیام اللیل کو فرض کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ایک سال تک اس کی پابندی کرتے رہے سورت کا آخری حصہ اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے تک آسمان میں روک رکھا سال بھر کے بعد آخری حصہ نازل ہوا جس میں قیام الیل کی فرضیت منسوخ ہو کر تخفیف ہوگئی اور اس کے بعد قیام الیل صرف نفل و مستحب رہ گیا (از روح المعانی) پھر ان آیات میں تنسیخ حکم کی علت یہ بتلائی ہے کہ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْه یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ تم اس کا احصاء نہ کرسکو گے۔ احصاء کے لفظی معنے شمار کرنے کے ہیں۔ مطلب آیت کا بعض حضرات مفسرین نے یہ قرار دیا ہے کہ قیام الیل میں اللہ تعالیٰ نے اگرچہ مقدار وقت کی پوری تعیین نہیں فرمائی بلکہ ایک تہائی رات سے دو تہائی رات تک کے درمیان کا وقت مقرر فرمایا تھا مگر صحابہ کرام جب اس نماز میں مشغول ہوتے تو اشتغال نماز کے ساتھ یہ معلوم ہونا دشوار تھا کہ رات آدھی ہوئی یا کم و بیش کیونکہ اوقاف معلوم کرنے کے ایسے آلات گھڑیاں وغیرہ اس زمانے میں موجود نہ تھیں اور ہوتیں بھی تب بھی شغل نماز کے ساتھ بار بار گھڑیوں کو دیکھتے رہنا ان حضرات کے حالات اور ان کے خشوع و خضوع کے ساتھ آسان نہ تھا، یہ معنے ہوئے لن تحصوہ کے اور بعض حضرات نے یہاں احصاء سے مراد عمل احصاء یعنی اس طویل وقت اور نیند کے وقت کی نماز پر مداومت نہ کر سکنا مراد لیا ہے۔ لفظ احصاء اس معنے کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں اسماء اللہ الحسنیٰ کے بارے میں آیا من احصاھا دخل الجنہ، اس میں لفظ احصاء کا مفہوم بہت سے علماء نے عمل احصار لیا ہے یعنی اسماء الہیہ کے مقتضیٰ پر پورا عمل ہونا، جیسا کہ معارف القرآن میں آیت وان تعدوا نعمت اللہ لانخصوھا کے تحت میں اس کی تفصیل لکھی گئی (پارہ نمبر 31 سورة ابراہیم)
فَتَابَ عَلَيْكم لفظ توبہ کے اصلی معنے رجوع کے ہیں۔ گناہ سے توبہ کو بھی اسی لئے توبہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پچھلے جرم و گناہ سے رجوع ہوتا ہے اس جگہ مراد صرف رجوع ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ حکم قیام اللیل کی فرضیت کا واپس لے لیا، آخر میں فرمایا۔
فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ یعنی نماز تہجد جو اب بجائے فرض کے مستحب یا سنت باقی رہ گئی ہے اس میں جس قدر قرآنی آسانی سے کوئی شخص پڑھ لیا کرے کسی خاص مقدار کی تعیین نہیں ہے اس آیت سے بہت سے مسائل فقیہہ نکلتے ہیں جو فقہ کی کتابوں میں مفصل مذکور ہیں وہاں دیکھا جاسکتا ہے۔
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا، اقیموالصلوة میں جمہور مفسرین کے نزدیک نماز فرض مراد ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نماز فرض پانچ ہیں جو لیلتہ المعراج میں فرض ہوئی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام الیل کی فرضیت جو ایک سال تک جاری رہی تھی اسی عرصہ میں لیلتہ الاسراء کا واقعہ پیش آیا جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور اس کے بعد آیات مذکورہ کے ذریعہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی اور آخر سورت میں جو اقامت صلوة کا حکم آیا ہے اس سے مراد پانچ نمازیں فرض ہیں (ابن کثیر، قرطبی، بحر محیط)
اسی طرح اتوا لزکوة میں زکوة سے زکوة فرض مراد ہے مگر مشہور یہ ہے کہ زکوة بعد ہجرت دوسرے سال میں فرض ہوئی، اور یہ آیت مکی ہے ابتدائے اسلام میں نازل ہوئی ہے اس لئے بعض مفسرین نے خاص اس آیت کو مدنی کہا ہے۔ مگر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ زکوة تو مکہ مکرمہ میں اوائل اسلام ہی میں فرض ہوگئی ہو مگر اس کے نصاب اور مقدار واجب کی تفصیلات مدینہ طیبہ میں ہجرت کے دوسرے سال میں بیان کی گئی ہوں، اس طرح آیت کے مکی ہونے کی صورت میں بھی اس کو زکوة فرض پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ روح العانی میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور اس کی پوری تحقیق احقر کے رسالہ نظام زکوة میں تفصیل سے آئی ہے۔
وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو اس عنوان سے تعبیر کیا ہے کہ گویا یہ خرچ کرنے والا اللہ کو قرض دے رہا ہے اس میں اس کے حال پر لطف و کرم کی طرف اشارہ بھی ہے اور اس کا بیان بھی کہ اللہ تعالیٰ غنی الاغنیاء ہے اس کو دیا ہوا قرض کبھی مارا نہیں جاسکتا ضرور وصول ہوگا اور چونکہ زکوة فرض کا حکم اس سے پہل آ چکا ہے اس لئے اقرضوا اللہ میں جس خیرات اور فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا ذکر ہے اس کو اکثر حضرات نے صدقات نافلہ اور تبرعات پر محمول کیا ہے جیسے اپنے اقابر و اعزاء کو کچھ دینا یا مہمان کی مہمانی پر خرچ کرنا یا علماء و صلحاء کی خدمت کرنا وغیرہ اور بعض حضرات نے اس کا مفہوم یہ قرار دیا ہے کہ زکوة کے علاوہ بھی بہت سے مالی واجبات انسان پر عائد ہوتے ہیں۔ جیسے ماں باپ، بیوی، اولاد کا نفقہ واجبہ یا دوسری واجبات شرعیہ تو اتوالزکوة میں ادائے زکوة کا حکم دینے کے بعد دوسرے واجبات کا ذکر اقرضوا اللہ سے کردیا گیا۔
وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ آلایتہ، ماتقدموا لانفسکم کا مطلب یہ ہے کہ جو نیک کام اپنی زندگی میں کر گزرو وہ بہت رہے اس سے کہ مرنے کے وقت وصیت کرو اس میں مالی عبادت صدقہ و خیرات بھی داخل ہے اور نماز روزہ وغیرہ بھی جو کسی کے ذمہ قضا ہو اپنے ہاتھ سے اپنے سامنے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس سے سبکدوشی بہتر ہے بعد میں تو وارثوں کے اختیار میں بات رہتی ہے وہ کریں یا نہ کریں۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ تم میں ایسا کون ہے جوا پنے وارث کے مال سے بہ نسبت اپنے مال کے زیادہ محبت رکھتا ہو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنے وارث کے مال کی محبت خود اپنے مال سے زیادہ رکھے۔ آپ نے فرمایا سوچ سمجھ کر بات کرو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ میں تو اس کے سوا کوئی دوسری صورت معلوم نہیں آپ نے فرمایا (جب یہ بات ہے تو سمجھ لو کہ) تمہارا مال وہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کردیا اور جو رہ گیا وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارث کا مال ہے (ذکرہ ابن کثیر باسناد ابی یعلے الموصلی ثم قال و رواہ البخاری من حدیث حفص بن غیاث الخ)
تمت سورة المزمل بحمد اللہ یوم الثلتآء 22 رجب سن 1391 ھ