72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو حکم آیا کہ سن گئے کتنے لوگ جنوں کے پھر کہنے لگے ہم نے سنا ہے کہ ایک قرآن عجیب

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

کہ سمجھاتا ہے نیک راہ سو ہم نے اس پر یقین لائے اور ہرگز نہ شریک بتلائیں گے ہم اپنے رب کا کسی کو

خلاصہ تفسیر شان نزول تفسیر آیات سے پہلے چند واقعات جاننے کے قابل ہیں جن کی ضرورت تفسیر میں پیش آوے گی۔ واقعہ اول، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمان تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، آپ کی بعثت کے بعد ان کو شہاب ثاقب کے ذریعہ اس سننے سے روک دیا گیا اور اسی حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں یہ جنات آپ تک پہنچے جیسا کہ سورة احقاق میں گذرا۔ واقعہ دوم۔ زمانہ جاہلیت میں عادت تھی کہ جب کسی جنگل یا وادی میں دوران سفر قیام کی نوبت آتی تو اس اعتقاد سے کہ جناب کے سروار ہماری حفاظت کریں گے یہ الفاظ کہا کرتے تھے اعوذ بعزیز ھذا الوادی من شر سفھاء قومہ یعنی میں اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوف شریر لوگوں سے واقعہ سوم مکہ مکرمہ میں آپ کی بددعا سے قحط پڑا تھا اور کئی سال تک رہا۔ واقعہ چہارم، جب آپ نے دعوت اسلامی شروع کی تو کفار مخالفین کا آپ کے خلاف ہجوم اور نرغہ ہوا پہلے دو واقعے تفسیر در منشور سے اور آخری دو تفسیر ابن کثیر سے لئے گئے ہیں۔ آپ (ان لوگوں سے) کہئے کہ میرے پاس اس بات کی وحی آئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے قرآن سنا پھر) اپنی قوم میں واپس جا کر) انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست بتلاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے (قرآن ہونا تو اس کے مضمون سے معلوم ہوا اور عجیب ہونا اس سے کہ مشابہ کلام بشر کے نہیں) اور ہم (اب) اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہ بنائیں گے (یہ بیان ہے آمنابہ کا) اور (انہوں نے ان مضامین کا بھی باہم تذکرہ کیا جو ذیل میں آئے ہیں اور وہ مضامین یہ ہیں کہ) ہمارے پروردگار کی بڑی شان ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا اور نہ اولاد (کیونکہ ایسا ہونا عقلاً محال ہے۔ یہبیان ہے لن نشرک کا) اور ہم میں جو احمق ہوئے ہیں وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں کہتے تھے (مراد اس سے کلمات شرک بیوی اور اولاد کا اثبات وغیرہ ہیں) اور ہمارا (پہلے) یہ خیال تھا کہ انسان اور جنات کبھی خدا کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے (کیونکہ بڑی بےباکی کی بات ہے اس میں وجہ اپنے مشرک ہونے کی بیان کی کہ چونکہ اکثر جن و انس شرک کرتے تھے ہم سمجھے کہ خدا کی شان میں اتنے شخصوں نے جھوٹ پر اتفاق نہ کیا ہوگا۔ بس ہم نے بھی اسی طریقہ کو اختیار کرلیا حالانکہ نہ مطلق لوگوں کا اتفاق کوئی دلیل حقانیت ہے اور نہ ہر اتفاق کا اتباع عذر ہے اور یہ شرک مذکور تو مشترک تھا) اور (ایک شرک خاص تھا بعضے آدمیوں کے ساتھ جس سے جنات کا کفر اور بڑھ گیا تھا وہ یہ کہ) بہت سے لوگ آدمیوں میں سے ایسے تھے کہ وہ جنتا میں سے بعضے لوگوں کی پاہ لیا کرتے تھے، سو ان آدمیوں نے ان جنات کی بد دماغی اور بڑھا دی (کہ وہ اس وہم میں مبتلا ہوگئے کہ ہم جنات کے سردار تو پہلے سے تھے اب آدمی بھی ہم کو ایسا بڑا سمجھتے ہیں بس اس سے بد دماغی بڑھی اور کفر وعناد پر اور زیادہ مصر ہوگئے۔ یہاں تک مضمون متعلق توحید کے تھا) اور (آگے بعثت یعنی قیامت کے متعلق ہے یعنی ان جنات نے باہم یہ بھی تذکرہ کیا کہ) جیسا تم نے خیال کر رکھا تھا ویسا ہی آدمیوں نے بھی خیال کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا (مگر یہ مضمون بھی غلط ثابت ہوا اور بعثت کا حق ہونا معلوم ہوا) اور (آگے رسالت کے متعلق مضمون ہے، یعنی ان جنات نے بام یہ بھی تذکرہ کیا کہ) ہم نے آسمان (کی خبروں) کی (موافق عادت سابقہ کے) تلاشی لینا چاہا سو ہم نے اس کو سخت پہرہ (یعنی محافظ فرشتوں) اور شعلوں سے (کہ ان کے ذریعہ سے حفاظت کی جاتی ہے) بھرا ہوا پایا (یعنی اب پہرہ ہوگیا کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لیجانے پائے اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جائے) اور (اس کے قبل) ہم آسمان (کی خبر سننے) کے موقعوں میں (خبر) سننے کے لئے جا بیٹھا کرتے تھے (اور یہ مواقع خواہ اجزاء آسمان ہی کے ہوں اور یا اجزاء ہوا یا کسی ملاء یا خلاء کے ہوں جو کہ آسمان کے قریب ہوں اور جنات اپنی لطافت اور عدم ثقل کی وجہ سے اس پر مستقر ہو سکتے ہوں جیسے بعض پرندے ہوا میں چلتے چلتے ٹھہر جاتے ہیں) سو جو کوئی اب سننا چاہتا ہے تو اپنے لئے ایک تیار شعلہ پاتا ہے (اور تحقیق مباحث شہاب کی سورة حجر کے رکوع دوم میں گذری ہے۔ یہ مضمون رسالت کے متعلق ہے۔ مطلب یہ کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسالت دی ہے اور دفع التباس کے لئے باب کہانت بند کردیا ہغے اور اس استراق یعنی خبروں کی چوری کا بند ہونا ہی سبب ہو ان جنات کے پہنچنے کا آپ کی خدمت میں، جیسا واقعہ اول میں مذکر ہے) اور (آگے مضامین مذکور کے متمات ہیں کہ) ہم نہیں جانتے کہ (ان جدید پیغمبر ﷺ کے مبعوث فرمانے سے) زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے قصد فرمایا ہے (یعنی مقصود تکوینی ارسال رسل کا معلوم نہیں کیونکہ رسول کے اتباع سے رشد و ہدات ہوتی ہے اور مخالفت سے مضرت و عقوبت اور اتباع اور مخالفت آئندہ کا ہم کو علم نہیں اس لئے ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے بھیجنے سے قوم کو سزا دینا مقصود ہے یا ہدایت دینا، شاید یہ اس لئے کہا کہ ان کو اپنی قوم کا انداز تھا کہ ایمان لانے والے کم ہوں گے اور وہ سزا کے مستحق ہوجائیں گے و نیز نفی علم غیب سے تقویت ہے مضمون توحید کی کہ دیکھو بعضے لوگ علم غیب کو جنات کی طرف نسبت کرتے ہیں مگر ان کو اتنی بھی خبر نہیں) اور ہم میں (پہلے سے بھی) بعضے نیک (ہوتے آئے) ہیں اور بعضے اور طرح کے (ہوتے آئے) ہیں (غرض) ہم مختلف طریقوں پر تھے (اسی طرح ان نبی کی خبر سن کر اب بھی ہم میں دونوں طریقے کے لوگ موجود ہیں) اور (ہمارا طریقہ تو یہ ہے کہ) ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم زمین (کے کسی حصہ) میں (جا کر) اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ (اور کہیں) بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں (بھاگنے سے مراد زمین کے علاوہ آسمان وغیرہ میں بھاگ جانا ہے جو فی الارض کے مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے فہوکقولہ تعالیٰ ماانتم بمعجزین فی الارض ولافی السمآء شاید اس سے بھی مقصود اندار ہو کر اگر کفر کریں گے تو خدا تعالیٰ کے عذبا سے بچ نہیں سکتے اور اپنے پہلے مختلف طریقوں کے بیان کرنے سے شاید یہ مقصود ہو کہ باوجود حق کے واضح ہوجانے کے بعض کا ایمان نہ لانا حق کے حق ہونے میں کوئی شبہ پیدا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے) اور ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی تو ہم نے تو اس کا یقین کرلیا سو (ہماری طرح) جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آوے گا تو اس کو نہ کسی کمی کا اندیشہ ہوگا اور نہ زیادتی کا (کمی یہ کہ اس کی کوئی نیکی لکھنے سے رہ جائے اور زیادتی یہ کہ کوئی گناہ زیادہ لکھ لیا جاوے شاید مقصود اس سے ترغیب ہو) اور ہم میں بعضے تو (یہی مضامین انداز و ترغیب کو سمجھ کر) مسلمان (ہو گئے) ہیں اور بعضے ہم میں (بدستور سابق) بےراہ ہیں سو جو شخص مسلمان ہوگیا انہوں نے تو بھلائی کا راستہ ڈھنڈھ لیا (جس پر ثواب مرتب ہوگا) اور جو بےراہ ہیں وہ دوزخ کے ایندھن ہیں (یہاں تک کلام جنات کا ختم ہوگیا جو معمول ہے قالوا کا) اور (آگے اوحی الی کے دوسرے معمولات ہیں یعنی مجھ کو ان مضامین کی بھی وحی ہوئی ہے ایک یہ کہ) اگر یہ (مکہ والے) لوگ (سیدھے) رستے پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو فراغت کے پانی سے سیراب کرتے تاکہ اس میں ان کا امتحان کریں (کہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری و نافرماین کرتے ہیں، مطلب یہ کہ اگر اہل مکہ شرک نہ کرتے جس کی مذمت اوپر بضمن کلام جنات آ چکی ہے تو ان پر قحط مسلط نہ ہوتا جیسا واقعہ ثالثہ میں مذکور ہے مگر انہوں نے بجاے ایمان کے اغراض کیا اس لئے مبتلائے قحط مسلط نہ ہوتا جیسا واقعہ ثالثہ میں مذکور ہے مگر انہوں نے بجائے ایمان کے اعراض کیا اس لئے مبتلائے قحط ہوئے) اور (عقوبت کفر میں کچھ تخصیص اہل مکہ کی نہیں بلکہ) جو شخص اپنے پر ورگدار کی یاد (یعنی ایمان و اطاعت) سے روگردانی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا اور (ان وحی شدہ مضامین میں سے ایک یہ ہے کہ) جتنے سجدے ہیں وہ سب اللہ کا حق ہے (یعنی یہ جائز نہیں کہ کوئی سجدہ اللہ کو کیا جاوے اور کوئی سجدہ غیر اللہ کو جیسا مشرکین کرتے تھے) سو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت مت کرو (اس مضمون میں بھی توحید کی تقریر ہے جس کا اوپر ذکر تھا) اور (ان وحی شدہ مضامین میں سے ایک یہ ہے کہ) جب خدا کا خاص بندہ (مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) خدا کی عبادت کرنے کھڑا ہوتا ہے تو یہ (کافر) لوگ اس بندہ پر بھیڑ لگانے کو ہوجاتے ہیں (یعنی تعجب و عداوت سے ہر شخص اس طرح دیھتا ہے جیسے اب حملہ کرنے کے لئے بھیڑ لگا چاتہی ہے یہ بھی تمتمہ ہے مضمون توحید کا کیونکہ اس میں مذمت ہے مشرکین کی کہ توحید سے ان کو عداوت اور نفرت ہے آگے اس تعجب اور عداوت کے متعلق جواب دینے کے لئے آپ کو ارشاد ہے یعنی) آپ (ان سے) یہ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا (سو یہ کوئی تعجب اور عداوت کی بات نہیں یہ سب مضمون متعلق توحید تھا آگے رسالت کے متعلق مضمون ہے کہ) آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں تمہارے نہ کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا (یعنی تم جو ایسی فرمائشیں کرتے ہو کہ اگر آپ رسول ہیں تو ہم پر عذاب نازل کریں دیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے اختیار میں نہیں اور اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک طرح ہم آپ کو رسول مان لیں کہ آپ مضامین توحید و قرآن میں کچھ تغیر و تبدل کردیں تو اس کے جواب میں) آپ کہہ دیجئے کہ (اگر خدانخواستہ میں ایسا کروں تو) مجھ کو خدا (کے غضب) سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ (کی جگہ) پاکستا ہوں (مطلب یہ کہ نہ خود کوئی میرا بچانے والا ہوگا اور نہ میری تلاش سے مل سکے گا اور کفار کے ایسے اقوال استعجال عذاب و استبدلال قرآن و دین کے قرآن میں جا بجا مذکور ہیں اور اوپر لا املک لکم ضرا ولارشدا میں نفی اختیار نفع و ضرر کی فرمائی آگے اثبات منصب رسالت کا فرماتے ہیں کہ ضرر و نفع کا مالک ہونا تو لازمہ نبوت نہیں وہ تو منفی ہے) لیکن خدا کی طرف سے پہنچانا اور اس کے پیغاموں کا ادا کرنا یہ میرا کام ہے اور (آگے توحید و رسالت دونوں کے متعلق مضمون ہے کہ) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانتے تو یقینا ان لوگوں کے لئے آتش دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (مگر کفار اس وقت ان مضامین سے متاثر نہیں ہوتے بلکہا لٹا مسلمانوں کو ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ای الفریقین خیر مقاما و احسن ندیا اور یہ اس جہالت سے باز نہ آویں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس وقت جائیں گے کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے (یعنی کافر ہی ایسے ہوں گے جن کے کوئی کام نہ آوے گا پس مراد جماعت سے جماعت مطیعہ ہے ناصرا میں نافع اعلی کی نفی ہوگئی اور عدداً میں نافع ادنی کی آگے قیامت کے متعلق کلام ہے کہ یہ لوگ قیامت کا وقت بطور انکار کے دریافت کرتے ہیں تو) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آیا وہ نزدیک (آنے والی) ہے یا میرے پروردگار نے اس کے لئے کوئی مدت دراز مقرر کر رکھی ہے (لیکن ہر حال میں وہ آوے گی ضرور رہا علم تعیین سو وہ محض غیب ہے اور) غیب کا جاننے والا وہی ہے سو (جس غیب پر کسی کو مطلع کرنا مصلحت نہیں ہوتا) وہ اپنے (ایسے) غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا (اور علم تعیین قیامت ایسا ہی ہے کہ اس پر کسی کو مطلع کرنے میں کوئی مصلحت نہیں کیونکہ وہ علوم متعلقہ بالنبوة سے نہیں جن کے حصول کو قرب الٰہی میں دخل ہوتا ہے پس ایسے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا) ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو (اگر کسی ایسے علم پر مطلع کرنا چاہتا ہے جو کہ علم نبوت سے ہو خواہ مثبت نبوت ہو جیسے پیشین گوئیاں خواہ فروع نبوت سے ہو جیسے علم احکام) تو (اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ) اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے (یعنی جمعی جہات میں وحی کے وقت) محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے (تاکہ وہاں شیاطین کا گذر نہ ہو جہ کہ وحی جو فرشتہ سے سن کر اور کسی سے جا کہیں یا کسی وسوسہ وغیرہ کا القاء کرسکیں چناچہ حضور ﷺ کے لئے ایسے پہرہ دار فرشتے چار تھے کمافی روح المعانی اور یہ انتظام اس لئے کیا جاتا ہے) تاکہ (ظاہری طور پر) اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجاوے کہ ان فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام (رسول تک بحفاظت) پہنچا دیئے (اور اس میں کسی کا دخل و تصرف نہیں ہوا اور پہنچانے اولا تو صرف وحی کا فرشتہ ہے لیکن معیت کی وجہ سے رصد یعنی محافظ فرشتوں کی طرف بھی اساد فعل کی کردی) اور اللہ تعالیٰ ان (پہرہ داروں) کے تمام احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے (اس لئے پہر دار ایسے مقرر کئے گئے ہیں جو اس کام کے پورے پورے اہل ہیں) اور اس کو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے (پس وحی کے سب اجزاء ایک ایک کر کے اس کو معلوم ہیں اور وہ سب کی پوری حفاظت کرتا ہے حاصل مقام یہ کہ تعیین قیامت کا علم علوم نبوت سے نہیں اس لئے اس کا علم نہ ہونا نبوت کے منافی نہیں البتہ علوم نبوت عطا کئے جاتے رہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا تو ایسے علوم سے تم مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق چھوڑو) معارف و مسائل نَفَرٌ مِّنَ الْجِنّ۔ لفظ نفرتین سے دس تک عدد کے لئے بولا جاتا ہے۔ جن جنات کا یہاں ذکر ہے روایت یہ ہے کہ یہ نو حضرات تھے نصیبین کے رہنے والے جنات کی حقیقت۔ جن مخلوقات الٰہیہ میں ایک ایسی مخلوق کا نام جو ذی اجسام بھی ہیں ذی روح بھی اور انسان کی طرح عقل و شعور والے بھی مگر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، اسی لئے ان کا نام جن رکھا گیا کہ جن کے لفظی معنے مخفی کے ہیں۔ ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے جیسے انسان کی تخلیق کا غالب مادہ مٹی ہے۔ اس نوع میں بھی انسان کی طرح نر و مادہ یعنی مرد و عورت ہیں اور انسان ہی کطرح ان میں تو الدوتناسل کا سلسلہ بھی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ قرآن میں جن کو شیاطین کہا گیا ہے وہ بھی جنات ہی میں سے شریر لوگوں کا نام ہے۔ جنات اور فرشتوں کا وجود قرآن و سنت کی قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے (تفسیر مظہری) قُلْ اُوْحِيَ اِلَيّ سے معلوم ہوا کہ جنات کے جس واقعہ کا یہاں ذکر ہے اس میں آپ نے قرآن سننے والے جنات کو دیکھا نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو اطلاع دی۔ سورة جن کے نزول کے واقعہ کی تفصیل۔ صحیح بخاری، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ (اس واقعہ میں) رسول اللہ ﷺ نے جنات کو قرآن بالقصد سنایا نہیں بلکہ ان کو دیکھا بھی نہیں۔ بلکہ واقعہ یہ پیش آیا کہ آپ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ بازار عکاظ کی طرف جا رہے تھے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ شیاطین کو آسمان کی خبریں سننے سے شہاب ثاقب کے ذریعہ روک دیا گیا تھا اور جنات نے باہم مشورہ کیا کہ یہ حادثہ جو ہم پر آسمانی خبروں سے ممنوع ہوجانے کا پیش آیا ہے یہ کوئی اتفاقی بات معلوم نہیں ہوتی دنیا میں کوئی نئی چیز پیش آئی ہے جو اس کا سبب ہوئی اور یہ طے کیا کہ زمین کے مشرق و مغرب اور ہر طرف میں جنات کے وفود جائیں اور اس کی تحقیق کر کے آویں کہ یہ نئی چیز کیا پیش آئی ہے۔ ان کا جو وفد تہامہ حجاز کی طرف بھیجا گیا تھا وہ مقام نخلہ پر پہنچے تو وہاں رسول اللہ ﷺ اپنے صابہ کرام کے ساتھ صبح کی نماز جماعت سے ادا کر رہے تھے۔ جنات کے اس وفد نے جب قرآن سنا تو قسمیں کھا کر آپس میں کہنے لگے کہ واللہ یہی کلام ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل اور مانع بنا ہے۔ یہ لوگ یہاں سے لوٹے اور جا کر اپنی قوم سے یہ قصہ بیان کیا جس کا ذکر ان آیات میں ہے۔ انا سمعنا قرانا عجبا الآیتہ اللہ تعالیٰ نے اس سارے واقعہ کی خبر اپنے رسول ﷺ کو ان آیات میں دیدی۔ ابوطالب کی وفات اور آنحضرت کا سفر طائف۔ اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ ابوطالب کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں بےیارومددگار رہ گئے تو آپ نے تن تنہا طائف کا سفر کیا کہ وہاں کے قبیلہ بنی ثقیف سے اپنی قوم کے مظالم کے مقابل ہمیں کچھ مدد اور معاونت حاصل کرسکیں محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف پہنچے تو قبیلہ ثقیف کے تین بھائیوں کے پاس گئے جو قبیلہ کے سردار اور شریف سمجھے جاتے تھے، یہ تین بھائی عمیر کے بیٹے عبدیالیل اور سعود اور جبیب تھے، ان کے گھر میں ایک عورت قریش کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور اپنی قوم کے مظالم کا ذکر کر کے ان سے معاوتن کے لئے فرمایا۔ مگر ان تینوں نے بڑا سخت جواب دیا اور آپ سے اور کچھ کلام نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب دیکھا کہ قبیلہ بنو ثقیف کے یہی تین آدمی ایسے شریف سمجھے جاتے تھے جن سے کس معقول جواب کی امید تھی، ان سے بھی مایوسی ہوگئی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اچھا اگر آپ لوگ میری مدد نہیں کرتے تو کم از کم میرے آنے کو میری قوم پر ظاہر نہ کرنا۔ مقصد یہ تھا کہ ان کو خبر ملے گی تو اور زیادہ ستاویں گے، مگر ان ظالموں نے یہ بات بھی نہ مانی بلکہ اپنے قبیلہ کے بیوقوف لوگوں اور غلاموں کو آپ کے پیچھے لگا دیا کہ آپ کو گالیاں دیں اور شور مچائیں ان کے شور و شغب سے بہت سے اور شریر جمع ہوگئے۔ آپ نے ان کے شر سے بچنے کے لئے ایک باغ میں جو عتبہ اور شیبہ دو بھائیوں کا باغ تھا اس میں پناہ لی اور یہ دونوں بھی اس باغ میں موجود تھے۔ اس وقت یہ شریر لوگ آپ کو چھوڑ کر واپس ہوئے اور آپ انگوروں کے باغ کے سائے میں بیٹھ گئے یہ دونوں بھائی آپ کو دیکھ رہے تھے اور یہ بھی دیکھا تھا کہ ان کی قوم کے بیوقوفوں کے ہاتھوں آپ کو کیا تکلیف اور اذیت پیش آئی۔ اسی درمیان وہ قریشی عورت بھی آنحضرت ﷺ سے ملی جو ان ظالموں کے گھر میں تھی۔ آپ نے اس سے شکایت کی کہ تمہاری سسرال کے لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب اس باغ میں رسول اللہ ﷺ کو کچھ اطمینان حاصل ہوا تو آپ نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں دعا مانگنی شروع کی، اس دعا کے الفاظ بھی عجیب و غریب ہیں اور کسی موقع پر آپ سے ایسے الفاظ دعا منقول نہیں، وہ دعا یہ ہے۔ ترجمہ۔ یا اللہ میں آپ سے شکایت کرتا ہوں اپنی قوت کے ضعف اور کمی کی اور اپنی تدبیر کی ناکامی کی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی خفت و بےتوقیری کی اور آپ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں اور آپ کمزوروں کی پورش فرمانے والے ہیں آپ ہی میرے رب ہیں، آپ مجھے کس کے سپرد کرتے ہیں کیا ایک غیر آدمی کے جو مجھ پر حملہ کرے یا کسی دشمن کے جس کو آپ نے مرے معاملہ کا مالک بنادیا ہے (کہ جو چاہے کرے) اگر آپ مجھ پر ناراض نہوں تو مجھے ان سب چیزوں کی بھی پروا نہیں لیکن آپ کی عافیت میرے لئے زیادہ بہتر ہے (اس کو طلب کرتا ہوں) میں آپ کی ذات مبارک کے نور کی پناہ لیتا ہوں جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوجاتی ہیں اور اس کی بنا پر دنیا و آخرت کے سب کام درست ہوجاتے ہیں۔ اس بات سے کہ مجھ پر اپنا غضب نازل فرمائیں ہمارا کام ہی یہ ہے کہ آپ کو راضی کرنے اور منانے میں لگے رہیں جب تک کہ آپ راضی نہ ہو جائی اور ہم تو کسی برائی سے بچ سکتے نہیں نہ کسی بھلائی کو حاصل کرسکتے ہیں بجز آپ کی مدد کے۔ جب ربیعہ کے دونوں بیٹیوں عتبہ اور شیبہ نے یہ حال دیکھا تو ان کے دل میں رحم آیا اور اپنے ایک نصرانی غلام عداس نامی کو بلا کر کہا کہا انگور کا ایک خوشہ لو اور ایک طبق میں رکھ کر اس شخص کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو یہ کھائیں۔ عداس نے ایسا ہی کیا اس نے جاکر انگور کا یہ طبق آپ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے بسم اللہ پڑھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ عداس یہ دیکھ رہا تھا کہنے لگا واللہ یہ کلام یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تو اس شہر کے لوگ نہیں بولتے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا عداس تم کہاں کے رہنے والے ہو اور تمہارا کیا مذہب ہے۔ اس نے کہا میں نصرانی ہوں اور نینوا کا رہنے والا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا تو اللہ کے نیک بندے یونس بن متی ؑ کی بستی کے رہے والے ہو۔ اس نے کہا کہ آپ کو یونس بن متی کی کیا خب۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ میرے بھائی ہیں کیونکہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے میں بھی نبی ہوں۔ یہ سن کر عداس آپ کے قدموں پر گر پڑا اور آپ کے سر مبارک اور ہاتھوں پاؤں کو بوسہ دیا۔ عتبہ اور شیبہ یہ ماجرا دیکھ رہے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس نے ہمارے غلام کو تو خراب کردیا جب عداس لوٹ کر ان کے اس گیا تو انہوں نے کہا کہ عداس تجھے کیا ہوا کہ اس شخص کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینے لگا۔ اس نے کہا کہ میرے سردارو۔ اس وقت زمین پر اس سے بہتر کوئی آدمی نہیں۔ اس نے مجھے ایک ایسی بات بتلائی جو نبی کے سوا کوئی نہیں بتلا سکتا۔ انہوں نے کہا کمبخت ایسا نہ ہو کہ یہ آدمی تجھے تیرے مذہب سے پھیر دے۔ کیونکہ تیرا دین بہرحال اس کے دین سے بہتر ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ طائف سے مکہ مکرمہ کی طرف لوٹ گئے جبکہ ثقیف کی ہر خیر سے مایوس ہوگئے۔ واپسی میں آپ نے مقام نخلہ پر قیام فرمایا اور آخر شب میں نماز تہجد پڑھنے لگے تو ملک یمن نصیبین کے جنات کا یہ وفد بھی وہاں پہنچا ہوا تھا اس نے قرآن سنا اور سن کر ایمان لے آئے اور اپنی قوم کی طرف واپس جا کر واقعہ بتلایا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیات مذکورہ میں نازل فرمایا۔ (مظہری) ایک صحابی جن کا واقعہ۔ ابن جوزی نے کتاب الصفوہ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت سہل بن عبداللہ سے نقل کیا کہا نہوں نے ایک مقام پر ایک بوڑھے جن کو دیکھا کہ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا ہے اور اون کا جبہ پہنے ہؤے تھا جس پر بڑی رونق معلوم ہوتی تھی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت سہل کہتے ہیں کہ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دے کر بتلایا کہ تم اس جبہ کی رونق سے تعجب کر رہے ہو یہ جبہ سات سو سال سے میرے بدن پر ہے، اسی جبہ میں میں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے ملاقات کی، پھر اسی جبہ میں محمد مصطفے ﷺ کی زیارت کی اور میں ان جنات میں سے ہوں جن کے بارے میں سورة جن نازل ہوئی ہے۔ (مظہری) اور روایات حدیث میں جو لیلتہ الجن کا واقعہ مذکور ہے جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود آپ کے ساتھ تھے اس میں آپ کا بالقصد جنات کو تبلیغ و دعوت کے لئے مکہ مکرمہ کے قریب جنگل میں جانا اور قرآن سنانا منقول ہے وہ بظاہر اس واقعہ کے بعد کا قصہ ہے جس کا ذکر سورة جن میں آیا ہے۔ اور علامہ خفاجی نے فرمایا کہ احادیث معتبرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جنات کے وفود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں چھ مرتبہ حاضر ہوئے ہیں اسلئے ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ سورة جن والے واقعہ میں آپ کو جنات کے آنے اور قرآن سننے کی خبر بھی نہ تھی جب تک بذریعہ وحی آپ کو بتلایا نہ گیا اور یہ کہ یہ واقعہ مقام نخلہ کا اور طائف سے واپسی کے وقت کا ہے اور دوسری روایات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر مکہ کے قریب ہی کے جنگل میں آپ بالقصد اسی کام کے لئے تشریف لے گئے کہ جناب کو دعوت اسلام دیں اور قرآن سنائیں یہ اس کے بعد پیش آیا (مظہری)
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اونچی ہے شان ہمارے رب کی نہیں رکھی اس نے جورو نہ بیٹا

(آیت) وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا جد کے معنے شان کے ہیں حق تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے، تعالیٰ جدہ یعنی بلند وبالا ہے اس کی شان، یہاں جدہ کی ضمیر راجع کرنے کے بجائے لفظ رب مظہر رکھ دیا گیا جس میں اس علو شان کی دلیل بھی آگئی کیونکہ جو ذات مخلوق کی پروردگار ہے اس کا سب مخلوق سے عالی شان ہونا ظاہر ہے۔ اس آیت میں وانہ کے عطف اور ترکیب نحوی میں مفسرین کا کلام طویل ہے۔ عوام کو اس کی حاجت نہیں۔
Ayahs 72:4–5

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ پر بڑھا کر باتیں کہا کرتا تھا

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ بولیں گے آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ

ۙوَّاَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَي اللّٰهِ شَطَطًا ۝ ۙوَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَي اللّٰهِ كَذِبا۔ لفظ شطط کے معنے قول بعید از عقل اور ظلم وجور کے آتے ہیں مراد یہ ہے کہ ایمان لانے والے جنات نے اب تک شرک و کفر میں مبتلا رہنے کا عذر یہ بیان کیا کہ ہماری قول کے بیوقوف لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں بےسروپا باتیں کہا کرتے اور ہمیں یہ گمان نہ تھا کہ کوئی انسان یا جن اللہ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرسکتا ہے اس لئے ان بیوقوفوں کی بات میں آ کر آج تک ہم کفر و شرک میں مبتلا تھے اب قرآن سنا تو حقیقت کھلی۔
Ayahs 72:6–7

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ تھے کتنے مرد آدمیوں میں کے پناہ پکڑتے تھے کتنے مردوں کی جنوں میں کے پھر تو وہ اور زیادہ

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

سر چڑھنے لگے اور یہ کہ ان کو بھی خیال تھا جیسا تم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ اٹھائے گا اللہ کسی کو

(آیت) وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا اس آیت میں مومن جنات نے یہ بیان کیا ہے کہ جاہلیت کے لوگ جب کسی جنگل میں قیام کرتے تو اس جنگل کے جنات کی پناہ مانگتے تھے اس سے جنات یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو انسان سے بھی افضل ہیں کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتا ہے۔ اس بات نے جنات کی گمراہی میں اور اضافہ کردیا۔ حضرت رافع بن عمیر کا اسلام بسبب جنات۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ ہواتف الجن میں سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر سے یہ نقل کیا ہے کہ رافع بن عمیر صحابی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا ایک واقعہ یہ بتلایا ہے کہ میں ایک رات ایک ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا میں اپنی اونٹنی سے اترا اور سو گیا اور سونے سے پہلے میں نے اپنی قوم کی عادت کے مطابق یہ الفاظ کہہ لئے ان اعوذ بعظیم ھذا الوادی من الجن یعنی میں پناہ لیتا ہوں اس جنگل کے جنات کے سردار کی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے اس کو وہ میری ناقہ کے سینہ پر رکھنا چاہتا ہے، میں گھبرا کر اٹھ اور دائیں بائیں کچھ نہ پایا تو میں نے دل میں کہا کہ یہ شیطانی خیال ہے۔ خواب اصلی نہیں اور پھر سو گیا اور بالکل غافل ہوگیا۔ تو پھر وہی خواب دیکھا پھر میں اٹھا اور اپنی ناقہ کے چاروں طرف پھرا کچھ نہ پایا مگر ناقہ کو دیکھا کہ وہ کانپ رہی ہے۔ میں پھر جا کر اپنی جگہ سو گیا تو پھر وہی خواب دیکھا میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ میری ناقہ تڑپ رہی ہے اور پھر دیکھا ایک نوجوان ہے جس کے ہاتھ میں حزبہ ہے یہ وہی شخص تھا جس کو خواب میں ناقہ پر حملہ کرتے دیکھا تھا اور ساتھ ہی یہ دیکھا کہ ایک بوڑھے آدمی نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے جو ناقہ پر حملہ کرنے سے اس کو روک رہا ہے۔ اسی عرصہ میں تین گورخر سامنے آئے تو بوڑھے نے اس نوجوان سے کہا ان تینوں میں سے جس کو تو پسند کرے وہ لے لے اور اس انسان کے ناقہ کو چھوڑ دے۔ وہ جوان ایک گورخر لے کر رخصت ہوگیا پھر اس بوڑھے نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ اے بیوقوف جب تو کسی جنگل میں ٹھہرے اور وہاں کے جنات و شیاطین سے خطرہ ہو تو تو یہ کہا کہ اعوذ باللہ رب محمد من ھول ھذا الوادی یعنی میں پناہ پکڑتا ہوں رب محمد ﷺ کی اس جنگل کے خوف اور شر سے اور کسی جن سے پناہ نہ مانگا کر۔ کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا جب انسان جنوں کی پناہ لیتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ نبی عربی ﷺ ہیں، نہ شرقی نہ غربی، پیر کے روز یہ مبعوث ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہاں کہاں رہتے ہیں، اس نے بتلایا کہ وہ یثرب میں رہتے ہیں جو کھجوروں کی بستی ہے۔ میں نے صبح ہوتے ہی مدینہ کا راستہ لیا اور سواری کو تیز چلایا یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو میرا سارا واقعہ مجھے سنا دیا اس سے پہلے کہ میں آپ ﷺ سے کچھ ذکر کروں اور مجھے اسلام کی دعوت دی میں مسلمان ہوگیا۔ سعید بن جبیر اس واقعہ کو نقل کر کے فرماتے تھے کہ ہمارے نزدیک اسی معاملہ کے متعلق قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ ووَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا۔
Ayahs 72:8–9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے ٹٹول دیکھا آسمان کو پھر پایا اس کو بھر رہے ہیں اس میں چوکیدار سخت اور انگارے

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم بیٹھا کرتے تھے ٹھکانوں میں سننے کے واسطے پھر جو کوئی اب سننا چاہئے وہ پائے اپنے واسطے ایک انگار گھات میں

(آیت) وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا لفظ سماء عربی لغت میں جس طرح آسمان کے لئے بولا جاتا ہے اسی طرح بادل پر بھی لفظ سماء کا اطلاق عام اور معوف ہے۔ یہاں بظاہر سماء سے مراد یہی بادل ہے۔ جنات آسمانی خبریں سننے کے لئے صرف بادلوں تک جاتے تھے آسمان تک نہیں۔ اور جنات و شیاطین کا آسمانی خبریں سننے کے لئے آسمان تک جانے کا مطلب یہی ہے کہ بادلوں تک جاتے تھے اور وہاں سے آسمانی خبریں سنتے تھے۔ اور دلیل اس کی حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث جو صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل آئی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرشتے عنان سماء میں اترتے ہیں جس کے معنے بادل کے ہیں وہاں وہ ان فیصلوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان میں جاری فرمائے ہیں۔ یہاں سے شیطان یہ خبریں چراتے ہیں اور سن کر کاہنوں کے پاس لاتے ہیں اور اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر ان کو بتاتے ہیں۔ اور صحیح بخاری ہی میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور مسلم میں حضرت ابن عباس کی روایت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اصل آسمانوں میں پیش آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم آسمان میں جاری فرماتے ہیں تو سب فرشتے بغرض اطاعت اپنے پر مارتے ہیں اور جب کلام ختم ہوجاتا ہے تو باہم تذکرہ کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ اس تذکرہ کو آسمانی خبریں چرانے والے شیاطین سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس اس میں بہت سے جھوٹ شامل کر کے پہنچاتے ہیں۔ یہ مضمون حدیث عائشہ مذکورہ کے منافی نہیں کیونکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شیاطین آسمانوں میں جا کر یہ خبریں چرا لاتے ہیں بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے یہ خبریں درجہ بدرجہ آسمانوں میں فرشتوں کے اندر پھیلتی ہوں، پھر فرشتے عنان سماء یعنی بادل تک آتے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوں یہاں سے شیاطین خبروں کی چوری کرتے ہوں جیسا کہ حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث میں ہے (کذافی المظہری) بہرحال رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین کا آسمانی خبریں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھا۔ شیاطین بادلوں تک پہنچ کر فرشتوں سے سن لیا کرتے تھے۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت آپ کی آسمانی وحی کی حفاظت کے لئے اس سلسلہ کو اس طرح بند کردیا گیا کہ جب کوئی شیطان یہ خبریں سننے کے لئے اوپر آتا تو اس کی طرف شہاب ثاقب کا انگارہ پھینک کر اس کو دفع کردیا جاتا ہے۔ یہی وہ نیا حادثہ تھا جس کی شیاطین و جنات کو فکر ہوئی اور تحقیق حال کے لئے دنیا کی مشرق و مغرب میں وفود بھیجے پھر مقام نخلہ میں آنحضرت ﷺ سے ایک وفد جنات کا قرآن سن کر ایمان لانا سورة جن میں ذکر فرمایا گیا۔ شہاب ثاقب بعثت نبوی سے پہلے بھی تھے مگر ان کے ذریعہ دفع شیاطین کا کام آپ کے زمانہ سے ہوا۔ یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شہاب ثاقب جس کو عرف میں ستارہ ٹوٹنا یا عربی میں انقضاص الکوکب کہتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں قدیم زمانہ سے ہوتا آیا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد نبوی کی تخصیص ہے۔ جواب یہ ہے کہ شہاب ثاقب کا وجود تو پہلے سے تھا خواہ اس کی حقیقت وہ ہو جو فلاسفہ بیان کرتے ہیں کہ زمین سے کچھ آتشیں مادے فضا میں پہنچتے ہیں وہ کسی وقت بھڑک اٹھتے ہیں یا یہ ہو کہ خود کسی ستارہ اور سیارہ سے یہ آتشیں مادہ نکلتا ہو۔ بہرحال اس کا وجود اگرچہ ابتداء عالم سے ہے مگر اس آتشیں مادہ سے شیاطین کو دفع کرنے کا کام رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے شروع ہوا اور یہ بھی رضوری نہیں کہ جتنے شہاب ثاقب نظر آتے ہیں سب سے ہی یہ کام لیا جاتا ہو۔ اس کی پوری تفصیل سورة حجر کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 72:10–12

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ برا ارادہ ٹھہرا ہے زمین کے رہنے والوں پر یا چاہا ہے ان کے حق میں ان کے رب نے راہ پر لانا

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ کوئی ہم میں نیک ہیں اور کوئی اس کے سوائے ہم تھے کئی راہ پر پھٹے ہوئے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے خیال میں آ گیا کہ ہم چھپ نہ جائیں گے اللہ سے زمین میں اور نہ تھکا دیں گے اس کو بھاگ کر

(آیت) وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۔ یعنی جنات و شیاطین کو آسماین خبریں سننے سے روک دیا بطور سزا کے بھی ہوسکتا ہے کہ زمین والوں کو آسمان کی خبریں نہ ملا کریں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے یہ ہدایت کا سامان کیا ہو کہ جنات و شیاطین وحی آسمانی میں کوئی خلل نہ ڈال سکیں۔
Ayahs 72:13–17

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے سن لی راہ کی بات تو ہم نے اس کو مان لیا پھر جو کوئی یقین لائے گا اپنے رب پر سو وہ نہ ڈرے گا نقصان سے اور نہ زبردستی سے

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ کچھ ہم میں حکمبردار ہیں اور کچھ ہیں بےانصاف سو جو لوگ حکم میں آگئے تو انہوں نے اٹکل کرلیا نیک راہ کو

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےانصاف ہیں وہ ہوئے دوزخ کے ایندھن

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ حکم آیا کہ اگر لوگ سیدھے رہتے راہ پر تو ہم پلاتے ان کو پانی بھر کر

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ان کو جانچیں اس میں اور جو کوئی منہ موڑے اپنے رب کی یاد سے وہ ڈالا دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں

فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔
Ayahs 72:18–24

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب کھڑا ہو اللہ کا بندہ کہ اس کو پکارے لوگوں کا بندھنے لگتا ہے اس پر ٹھٹھ

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

تو کہہ میں تو پکارتا ہوں بس اپنے رب کو اور شریک نہیں کرتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

اس کا کسی کو تو کہہ میرے اختیار میں نہیں

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

تمہارا برا اور نہ راہ پر لانا تو کہہ مجھ کو نہ بچائے گا اللہ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پاؤں گا اس کے سوائے کہیں سرک رہنے کو جگہ

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر پہنچانا ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے پیغام لانے اور جو کوئی حکم نہ مانے اللہ کا اور اس کے رسول کا سو اس کے لئے آگ ہے دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو کچھ ان سے وعدہ ہوا تب جان لیں گے کس کے مددگار کمزور ہیں اور گنتی میں تھوڑے

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ سب سجدے صرف اللہ کے لئے مخصوص ہیں اور جو شخص غیر اللہ کو اعانت کے لئے پکارتا ہے گویا وہ اس کو سجدہ کرتا ہے۔ غیر اللہ کے سجدہ سے اجتناب کرو۔ مسئلہ باجماع امت غیر اللہ کے لئے سجدہ حرام ہے اور بعض علماء کے نزدیک کفر ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں جانتا کہ نزدیک ہے جس چیز کا تم سے وعدہ ہوا ہے یا کر دے اس کو میرا رب ایک مدت کے بعد

(آیت) قُلْ اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا 25؀ عٰلِمُ الْغَيْبِ ان آیتوں میں سے پہلی آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ ان منکرین سے جو آپ کو قیامت کا معین وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں یہ فرما دیجئے کہ قیامت کا آنا اور وہاں جزاء و سزا ہونا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح تاریخ اور وقت کو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ روز قیامت قریب آ چکا ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کر دے گا۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

جاننے والا بھید کا سو نہیں خبر دیتا اپنے بھید کی کسی کو

دوسری آیت میں اس کی دلیل ارشاد فرمائی۔ عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا یعنی قیامت کے وقت معین سے میری بیخبر ی اس لئے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں بلکہ عالم الغیب ہونا صرف اللہ رب العالمین کی خصوصی صفت ہے۔ اس لئے وہ اپنے غیب پر کسی کو بھی غالب و قادر نہیں بناتا۔ یہاں عالم الغیب میں الغیب کا الف لام استغراق جنس کے لئے ہے (کمافی الروح عن الرضی) یعنی عالم ہر فرد غیب اور جنس غیب کا اور علی غیبہ میں غیب کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے بھی اسی استغراق اور جامعیت کا اظہار مقصود ہے، یعنی ہر ہر فرد و جنس غیب کا علم جو اللہ رب العالمین کا مخصوص وصف ہے اس پر وہ کسی کو قادر و غالب نہیں کرتا کہ کوئی جس غیب کو چاہئے معلوم کرلے۔ مقصود اس کلام سے علم غیب کلی کا جس سے جہان کا کوئی ذرہ مخفی نہ ہو اس کی غیر اللہ سے نفی اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اثبات ہے۔ لیکن کسی بیوقوف کو اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ نبی کریم ﷺ کو کسی بھی غیب کی چیز کیخ بر نہیں تو پھر وہ رسول کیا ہوئے کیونکہ رسول کے پاس تو اللہ تعالیٰ ہزاروں غیب کی خبریں بذریعہ وحی بھیجتے ہیں اور جس کے پاس اللہ کی وحی نہ آئے وہ نبی و رسول نہیں کہلا سکتا۔ اس لئے آگے آیت میں ایک استثناء کا ذکر فرمایا۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر جو پسند کرلیا کسی رسول کو تو وہ چلاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے چوکیدار

علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں، بلکہ منصب رسالت کے لئے جس قدر علم غیب کی خبروں اور غیب کی چیزوں کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہے وہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے اور وہ ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ اس میں اول تو لفظ رسول سے اس غیب کی نوعیت متعین کر دے گئی جس کا علم رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اور وہ ظاہر ہے علم شرائع و احکام بتمامہ اور غیب کی خبریں بقدر ضرورت وقت۔ اس کے بعد جو علم غیب رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اس کی نوعیت اگلے جملے سے یوں بھی متعین کردی کہ وہ بذریعہ فرشتوں کے بھیجا جاتا ہے اور وحی لانے والے فرشتے کے گرد دوسرے فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے۔ اس یے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس استثناء سے جس علم غیب کا نبی و رسول کے لئے اثبات ہے وہ بعض اور مخصوص علم غیب ہے جس کی ضرورت منصب رسالت کے لئے درپیش ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ استثناء اصطلاحی لفظوں میں استثناء منقطع ہے، یعنی جس علم غیب کلی کی اصل کلام میں غیر اللہ سے نفی کی گئی تھی مستثنیٰ میں اس کا اثبات نہیں بلکہ مخصوص علوم غیبیہ کا اثبات ہے جس کو قرآن کریم میں جا بجا انباء الغیب کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے (آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک بعض ناواقف غیب اور انباء الغیب میں فرق نہیں سمجھتے اس لئے وہ انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء ﷺ کے لئے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں اور آپ کو بالکل اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب ہر ذرہ کائنات کا علم رکھنے والا کہنے لگتے ہیں جو کھلا ہوا شرک اور رسول کو خدائی کا درجہ دینا ہے، نعوذ باللہ منہ۔ اگر کوئی شخص اپنا خفیہ راز کسی اپنے دوست کو بتلا دے جو اور کسی کے علم میں نہ ہو تو اس سے دنیا میں کوئی بھی اس دوست کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کو ہزاروں غیب کی چیزوں کا بذریعہ وحی بتلا دینا ان کو عالم الغیب نہیں بنا دیتا خوب سمجھ لیا جائے۔ جاہل عوام جو ان دونوں باتوں میں فرق نہیں کرتے جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عالم الغیب نہیں، وہ اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ کو معاذ اللہ کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں جس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں اور نہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہوجاتی ہے جس کا کسی مومن سے امکان نہیں۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ جانے کہ انہوں نے پہنچائے پیغام اپنے رب کے اور قابو میں رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور گن لی ہے ہر چیز کی گنتی۔

آخر سورت میں فرمایا وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات خاص ہے جس کے علم میں ہر چیز کے اعداد و شمار ہیں۔ اس کو پہاڑوں کے اندر جتنے ذرے ہیں ان کا بھی عدد معلوم ہے، ساری دنیا کے دریاؤں میں جنتے قطرے ہیں ان کا شمار اس کے علم میں ہے ہر بارش کے قطروں اور تمام دنیا کے درختوں کے پتوں کے اعداد و شمار کا اسی کو علم ہے۔ اس میں پھر علم غیب کلی کا ذات حق سبحانہ، و تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا واضح کردیا کہ کسی کو مذکورہ اسثناء سے غلط فہمی نہ ہوجائے۔ مسئلہ علم غیب کے معنے اور اس کے ا حکامام سورة نمل کی (آیت) قل لایعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ کے تحت میں پوری تحقیق و تفصیل کے ساتھ گذر چکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم تمت بحمد اللہ تعالیٰ سورة الجن لیلتہ الجمعہ 10 رجب 1391