Ayahs 71:1–3خلاصہ تفسیر
ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو (وبال کفر سے) ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر درد ناک عذاب آوے (یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الیم آوے گا، خواہ نیوی یعنی طوفان یا اخروی یعنی دوزخ غرض) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور کہتا ہوں) کہ تم اللہ کی عبادت (یعنی توحید اختیار) کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا (من ذنوبکم کی تحقیق سورة احقاف میں گزر چکی) اور تم کو وقت مقرر (یعنیوقت موت) تک (بلاعقوبت) مہلت دے گا (یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا اور باقی موت کے لئے جو) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت (ہے) جب (وہ) آجاوے گا تو ٹلے گا نہیں (یعنی موت تو آنا ہر حال میں ضروری ہے ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور ایک حالت میں مثل دنیا و آخرت دونوں کے عذابوں سے محفوظ رہو گے) کیا خوب ہوتا اگر تم (ان باتوں کو) سمجھتے (جب دنیا و آخرت دونوں کے عذابوں سے محفوظ رہو گے) کیا خوب ہوتا اگر تم (ان ابتوں کو) سمجھتے (جب مدتہائے دراز تک ان نصائح کا کچھ اثر قوم پر نہ ہوا تو) نوح ؑ نے (حق تعالیٰ سے) دعا (اور التجا) کی کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوکو رات کو بھی اور دن کو بھی (دین حق کی طرف) بلایا، سو میرے بلانے پر (دین سے) اور زیادہ بھاگتے رہے اور (وہ بھاگنا یہ ہوا کہ) میں نے جب کبھی ان کو (دین حق کی طرف) بلایا تاکہ (ان کے ایمان کے سبب) آپ ان کو بخشدیں تو ان لوگوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں (تاکہ حق بات سنیں بھی نہیں اور یہ نفرت کی انتہا ہے) اور (نیز انتہائی بغض سے انہوں نے) اپنے کپڑے (اپنے اوپر) لپیٹ لئے (تاکہ حق بات کہنے والے کو دیکھیں بھی نہیں اور کہنے والا بھی ان کو نہ دیکھے) اور (انہوں نے اپنے کفر و انکار پر) اصرار کیا اور (میری اطاعت سے) غایت درجہ کا تکبر کیا (مگر باوجود اس تنفیر وتکبر کے) پھر (بھی میں ان کو مختلف طریقوں سے نصیحت کرتا رہا چنانچہ) میں نے ان کو (دین حق کی طرف) با آواز بلند بلایا (مراد اس سے خطاب و وعظ عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے) پھر میں نے ان کو (خطاب خاص کے طور پر) علانیہ بھی سمجھایا اور ان کو بالکل خفیہ بھی سمجھایا (یعنی جتنے طریقے نفع کے ہو سکتے تھے سب ہی طرح سمجھایا، غرض اوقات میں بھی عموم کیا گیا، کماقال لیلاً ونھاراً اور کیفیات میں بھی کما قال دعوتھم جھاراً الخ) اور (اس سمجھانے میں) میں نے (ان سے یہ) کہا کہ تم اپنے پروردگار سے گناہ بخشواؤ (یعنی ایمان لے آؤ تاکہ گناہ بخشے جائیں) بیشک وہ بخشنے والا ہے (اگر تم ایمان لے آؤ گے تو علاوہ اخروی نعمت کے) کہ (مغفرت ہے دنیوی نعمتیں بھی تم کو عطا کریگا، چنانچہ) کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغ لگا دے گا اور تمہارے لئے نہریں بہا دے گا (ان نعمتوں کے ذکر شے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں نقد اور جلد حاصل ہونے اولی چیزوں کی طلب زیادہ ہے۔ در منشور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریض تھے اس لئے یہ فرمایا اور اس پر یہ شبہہ نہ کیا جاوے کہ بسا اوقات یہ امور دنیویہ ایمان وا ستغفار پر مرتب نہیں ہوتے، بات یہ ہے کہ یا تو یہ وعدہ خاص انہی لوگوں کے لئے ہوگا اور اگر عام ہو تو قاعدہ ہے کہ موعود سے افضل کوئی چیز بلحاظ بھی ایفائے وعدہ ہی ہوتا ہے بلکہ وعدہ سے زیادہ، اس ایمان کامل پر روحانی مسرت و قناعت و رضا بالقضا ضرور عطا ہوتا ہے جو ان اشیاء سے بھی افضل و اکمل ہے بلکہ ساری متاع دنیا اور سبا شیاء مذکورہ کا اصلی مقصد بھی تو دل کا سکون و آرام ہی ہے۔ آگے نوح ؑ کا تتمہ کلام ہے یعنی میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ) تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے معتقد نہیں ہو حالانکہ (مقضیات اعتقاد عظمت کے موجود ہیں کہ) اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا (کہ عناصر اربعہ سے تمہاری غذا، پھر غذا سے نطفہ اور نطفہ کے بعد علقہ و مضغہ وغیرہ کی مختلف صورتوں سے گزر کر مکمل انسان بنا یہ دلیل تو خود انسان کی ذات سے متعلق تھی، آگے دلیل آفاقی فرماتے ہیں کہ) کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے اور ان میں چاند کو نور (کی چیز) بنایا اور سورج کو (مثل) چراغ (روشن کے) بنایا (اور چاند گو سب آسمانوں میں نہیں ہے مگر فیھن باعتبار مجموعہ کے فرما دیا اور اس کے متعلق کچھ سورة فرقان میں گزر چکا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا (یا تو اس طرح کہ حضرت آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے اور یا اس طرح کہ انسان نطفہ سے بنا اور نطفہ غذا سے اور غذا عناصر سے بنی اور عناصر میں غالب اجزاء مٹی کے ہیں) پھر تم کو (بعد مرگ) زمین ہی میں لیجاوے گا اور (قیامت میں پھر اسی زمین سے) تم کو باہر لے آوے گا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا تاکہ تم اس کے کھلے رستوں میں چلو (یہ تمامتر وہ کلام ہے جس کی حکایت نوح ؑ نے حق تعالیٰ سے بطور فرمایا کی کی اور یہ سب حکایت عرض کر کے) نوح ؑ نے (یہ) کہا کہ اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہنا مانا اور ایسے شخصوں کی پیروی کی کہ جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان ہی زیادہ پہنچایا (مراد ان شخصوں سے رؤسا ہیں جن کا عوام اتباع کیا کرتے ہیں اور مال اور اولاد کا ان رؤسا کو نقصان پہنچانا بایں معنے ہے کہ مال و اولاد سرکشی کا سبب بن گئے) اور (انہوں نے جن کا اتباع کیا ہے وہ ایسے ہیں) جنہوں نے (حق کے مٹانے میں) بڑی بڑی تدبیریں کیں اور جنہوں نے (اپنے تابعین سے یہ) کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ (بالخصوص) ود کو اور رسواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو چھوڑنا (خصوصیت ان کے ذکر کی اس لئے ہے کہ یہ بت زیادہ مشہور تھے) اور ان (رئیس) لوگوں نے بہتوں کو (بہکا بہکا کر) گمراہ کردیا (وہ مکر کبار یہی گمراہ کرنا ہے) اور (چونکہ مجھ کو آپ کے ارشاد لن یومن فی قومک الامن قدامن سے معلوم ہوگیا کہ یہ اب ایمان نہ لاویں گے اس لئے یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ) ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے (تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجائیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقصود دعا کرنا زیادہ ضلال کی نہیں بلکہ استحقاق ہلاکت کی ہے اور تحقیق اس دعا کی سورة یونس میں قصہ موسیٰ ؑ میں گزری ہے۔ غرض انجام ان لوگوں کا یہ ہوا کہ) اپنے ان ہی گناہوں کے سبب وہ غرق کئے گئے پھر (بعد غرق برزخی یا اخروی) دوزخ میں داخل کئے گئے اور خدا کے سوا ان کو کچھ حمایتی بھی میسر نہ ہوئے اور نوح ؑ نے (یہ بھی) کہا کہ اے میرے پروردگار کافروں میں سے زمین پر ایک باشندہ بھی مت چھوڑ (بلکہ سب کہ ہلاک کر دے اور عموم ہلاکت و عموم بعثت کی بحث سورة صافات میں گزری ہے آگے اس دعا کی علت ہے کیونکہ) اگر آپ ان کو روئے زمین پر رہنے دیں گے تو (حب ارشاد لن یومن الخ) یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے اور (آگے بھی) ان کے محض فاجر اور کافر ہی اولاد پیدا ہوگی (اور کافروں کے لئے بددعا کرنے کے بعد مؤمنین کے لئے دعا فرمائی کہ) اے میرے رب مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں ان کو (یعنی اہل و عیال باستثاء زوجہ اور کنعان کے) اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخشدیجئے اور (چونکہ مقصود مقام میں بد دعا ہے کافروں کے لئے اور مومنین کے لئے دعا محض مقابلے کی ھمناسبت سے ہوگئی تھی اس لئے پھر مضمون بد دعا کی طرف عود ہے جس میں وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا کے مقصود کی تفسیر ہے یعنی) ان ظالموں کی ہلاکت اور بڑھا دیجئے (یعنی ان کی نجات کی کوئی صورت نہ رہے ہلاک ہی ہوجاویں اور یہی مقصود تھا اس دعا سے کہ ان کی گمراہی بڑھا دی جائے اور ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کے والدین مومن تھے اور اگر اس کے خلاف ثابت ہوجائے تو والدین سے مراد آباد و امہات بعدیہ ہوں گے، اول دعا اپنے نفس کے لئے کی پھر اصول کے لئے پھر اہل و عیال کے لئے پھر عام تابعین کے لئے۔)
Ayahs 71:4–14معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد ہے اور مراد یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہو جائینگے، مگر دوسری نصوص کی بناء پر شرط مذکور بہرحال ضروری ہے۔
وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، اجل کے معنے مدت اور مسمی سے مراد متعین کردہ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس مدت تک دنیا میں مہلت دے گا جو تمہارے لئے مقرر اور متعین ہے یعنی مقررہ مدت عمر سے پہلے تمہیں کسی دنیاوی عذاب میں پکڑ کر ہلاک نہ کریگا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ایان نہ لائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مدت مقررہ سے پہلے ہی تم پر عذاب لا کر ہلاک کر دے۔ معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر مثلاً اسی سال ہوگی اور نہ کیا تو ساٹھ سال میں موت مسلط کردی جائے گی یا منفی کا موں میں اللہ کی ناشکری سے عمر گھٹ جانا اور شکر گزاری سے عمر بڑھ جانا، اسی طرح بعض اعمال مثلاً والدین کی اطاعت و خدمت سے عمر میں ترقی ہونا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے۔
انسان کی عمر میں کمی زیادتی کی بحث۔
اس کی تشریح تفسیر مظہری میں یہ ہے کہ تقدیر اور قضائے الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم یعنی قطعی، دوسری معلق یعنی جو کسی شرط پر معلق ہو۔ یعنی لوح محفوظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ فلاح شخص نے اگر اللہ کی اطاعت کی تو اس کی عمر مثلاً ستر سال ہوگی اور نہ کی تو پچاس سال میں مار دیا جائے گا اس دوسری قسم تقدیر میں شرط نہ پائے جانے پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم میں ان دونوں قسم کی قضا و تقدیر کا ذکر اس آیت میں ہے یمحواللہ مایشآء و یثبت وعندہ ام الکتب۔ یعنی اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں محو و اثبات یعنی ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب، اصل کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تقدیر مبرم لکھی ہوئی ہے کیونکہ تقدیر معلق میں جو شرط لکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ شخص یہ شرط پوری کرے گا یا نہیں، اس لئے تقدیر مبرم میں قطعی فیصلہ لکھا جاتا ہے۔
حضرت سلمان فارسی، کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یرد القضآء الا الدعا ولا یزید فی العمر الا البر رواہ الترمذی (مظہری) یعنی قضائے الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے نہیں روک سکتی اور کسی کی عمر میں زیادتی بجز برو الدین کے نہیں ہوس کتی۔ بر کے معنے ان کے ساتھ اچھا سلوک ہے اور مطلب اس حدیث کا یہی ہے کہ تقدیر معلق میں ان اعمال کی وجہ سے تبدیلی ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں جواَجَلٍ مُّسَمًّى تک موخر کرنے کو ان کے ایمان لانے پر موقوف کیا ہے یہ ان کی عمر کے بارے میں تقدیر معلق کا بیان ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو علم عطا فرما دا ہوگا اس کے سبب سے انہوں نے اپنی قوم کو بتلایا کہ تم ایمان لائے تو جو اصلی عمر تمہارے لئے اللہ نے مقرر فرمائی ہے وہاں تک تمہیں مہلت ملے گی اور کسی عذاب دنیوی کے ذریعہ ہلاک نہ کئے جاؤ گے اور اگر ایمان نہ لائے تو اس اصلی عمر سے پہلے ہی خدا تعالیٰ کا عذاب تمہیں ہلاک کر دے گا اور آخرت کا عذاب اس صورت میں اس کے علاوہ ہوگا۔ آگے یہ بھی بتلا دیا کہ ایمان لانے پر بھی ہمیشہ کے لئے موت سے نجات نہیں ہوگی بلکہ تقدیر پر مبرم میں جو تمہاری عمر لکھی ہوئی ہے اس پر موت آنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اس عالم دنیا کو دائمی نہیں بنایا یہاں کی ہر چیز کو فنا ہونا تقاضائے حکمت ہے اس میں ایمان و اطاعت اور کفر و معصیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ (آیت) ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر۔ میں اس کا بیان ہے آگے حضرت نوح ؑ کا اپنی قوم کی اصلاح و ایمان کے لئے مسلسل مختلف قسم کی کوششوں میں لگے رہنے کا اور قوم کی طرف سے ان کی مخالفت و تکذیب کا بیان تفصیل سے آیا ہے اور آخر میں مایوس ہو کر بد دعا کرنے اور پوری قوم کے عذاب غرق میں مبتلا ہونے کا بیان ہے۔
حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت نوح ؑ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور قرآنی تصریح کے مطباق ان کی عمر پچاس کم ایک ہزار ارسال ہوگی، اس پوری مدت دراز میں نہ کبھی اپنی کوشش کو چھوڑا نہ کبھی مایوس ہوئے قوم کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں دی گئیں سب پر صبر کرتے رہے۔
بروایت ضحاک حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ان کی قوم ان کو اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے تو ان کو ایک کمبل میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے یہ مر گئے، مگر پھر جب اگلے روز ان کو ہوش آتا تو ان کو اللہ کی طرف بلاتے اور تبلیغ کے عمل میں لگ جاتے۔ محمد بن اسحاق نے عبید بن عمرولیثی سے روایت کیا ہے کہ ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ نوح ؑ کی قوم ان کا گلا گھونٹ دیتی تھی جس سے وہ بیہوش ہوجاتے اور جب ہوش آتا تو یہ دعا کرتے تھے رب الغفرلقومی انھم لایعلمون اے میرے پروردگار، میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ وہ جانتے نہیں۔ ان کی ایک نسل کے ایمان لانے سے مایوسی ہوئی تو یہا مید رکھتے تھے کہ ان کی اولاد میں کوئی ایمان لے آئیگا وہ نسل بھی گزر جاتی تو تیسری نسل سے یہی توقع لگا کر اپنے فرض منصبی میں شمغول رہتے کیونکہ ان نسلوں کی عمریں اتنی طویل نہ تھیں جتنی حضرت نوح ؑ کو بطور معجزہ عطا ہوئی تھی، جب ان کی نسل پر نسل گزرتی رہی اور ہر آنیوالی نسل پچھلی سے زیادہ شریر اور بدتر ثابت ہوئی تو حضرت نوح ؑ نے بارگاہ رب العزت میں اپنا شکوہ پیش فرمایا جس میں بتلایا کہ میں نے ان کو رات دن اجتماعاً و انفراداً علانیہ اور خفیہ جو جو طریقہ کسی کو راستہ پر لانے کا ہوسکتا ہے وہ سب اختیار کیا، کبھی اللہ کے عذاب سے ڈرایا، کبھی جنتوں کی نعمتوں کی ترغیب دلائی اور یہ بھی کہ ایمان اور عمل صالح کی برکت سے تمہیں دنیا میں بھی فراخی اور خوشحالی نصیب ہوگی۔ کبھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کی نشانیوں کو پیش کر کے سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی دوسری طرف حق تعالیٰ نے ان کو یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی پوری قوم میں جس کو ایمان لانا تھا لے آیا آگے انہیں کوئی ایمان قبول نہ کرے گا (آیت) انہ لن یومن من قومک الامن قد امن کا یہی مطلب ہے اس وقت حضرت نوح ؑ کی زبان پر بد دعا کے کلمات آئے جس کا آگے ذکر کیا گیا جس کے نتیجہ میں پوری قوم غرق و ہلاک ہوگئی۔ بجز مومنین کے جن کو ایک کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا قوم کی فہمائش کے سلسلہ میں نوح ؑ نے ان کو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے یعنی ایمان لا کر پچھلے گناہوں کی معافی مانگنے کی دعوت دی اور اس کا دنیاوی نفع یہ بتلایا کہ ۙيُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا 11 ۙوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ اس سے ا کثر علماء نے استدلال کیا ہے کہ گناہوں سے توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ بارش حسب موقع برسا دیتے ہیں قحط نہیں پڑنے دیتے اور مال و اولاد میں استغفار سے برکت ہوتی ہے۔ کہیں کسی حکمت الہیہ کے تقاضے سے اسکے خلاف بھی ہوتا ہے مگر عادة اللہ عام لوگوں کے ساتھ یہی ہے کہ توبہ و استغفار اور ترک معصیت سے دنیا کی بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے
Ayahs 71:15–23(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ میں فرمایا ۚوَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا کبر کا مبالغہ ہے جس کے معنی بہت بڑے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بہت بڑا مکر کیا وہ یہ تھا کہ خود تو تکذیب کر کے ایذائیں پہنچاتے ہی تھے بستی کے غنڈوں اور شریروں کو بھی ان کے پیچھے ڈال دیتے تھے۔ اسی شکوہ میں کفار کا یہ قول نقل فرمایا کہ انہوں نے باہم معاہدہ کیا کہ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا یعنی اپنے بتوں کو خصوصاً ان پانچ بڑے بتوں کی عبادت کو نہ چھوڑو یہ پانچ نام ہیں پانچ بتوں کے۔
امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں دراصل اللہ کے نیک و صالح بندے تھے جو آدم ؑ اور نوح کے درمیانی زمانے میں گزرے تھے ان کے بہت سے لوگ معتقد اور متبع تھے ان لوگوں نے ان کی وفات کے بعد بھی ایک عرصہ دراز تک انہیں کے نقش قدم پر عبادت اور اللہ کے احکام کی اطاعت جاری رکھی۔ کچھ عرصہ کے بعد شیطان نے ان کو سمجھایا کہ تم اپنے جن بزرگوں کے تابع عبادت کرتے ہو اگر ان کی تصویریں بنا کر سامنے رکھاکرو تو تمہاری عبادت بڑی مکمل ہوجائے گی خشوع و خضوع حاصل ہوگا۔ یہ لوگ اس فریب میں آ کے ان کے مجسمے بنا کر عبادت گاہ میں رکھنے اور ان کو دیکھ کر بزرگوں کی یاد تازہ ہوجانے سے ایک خاص کیفیت محسوس کرنے لگے یہاں تک کہ اسی حال میں یہ لوگ سب یکے بعد دیگرے مر گئے اور بالکل نئی نسل نے ان کی جگہ لے لی تو شیطان نے ان کو یہ پڑھایا کہ تمہارے بزرگوں کے خدا اور معبود بھی بت تھے وہ انہیں کی عبادت کیا کرتے تھے یہاں سے بت پرستی شروع ہوگئی اور ان پانچ بتوں کی عظمت ان کے دلوں میں چونکہ سب سے زیادہ بیٹھی ہوئی تھی اس لئے باہمی معاہدے میں ان کا نام خاص طور سے لیا گیا۔
Ayah 71:24(آیت) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا یعنی ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا فرض منصبی قوم کو ہدایت کرنے کا ہے۔ نوح ؑ نے ان کی گمراہی کی بد دعا کیسے کی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی تو خبر دے دیتھی کہ اب ان میں کوئی مسلمان نہیں ہوگا اس لئے ان کا گمراہی اور کفر پر مرنا تو یقینی تھا حضرت نوح ؑ نے ان کی گمرایہ بڑھا دینے کی دعا اس لئے فرمائی کہ جلد ان کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہلاک کردیئے جائیں۔
Ayahs 71:25–28(آیت) مِمَّا خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا، یعنی یہ لوگ اپنی خطاؤں کفر و شرک کی وجہ سے پانی میں غرق کئے گئے تو یہ آگ میں داخل ہوگئے۔ یہ متضاد عذاب کہ ڈوبے پانی میں اور نکلے آگ میں، حق تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں جہنم کی آگ تو مراد نہیں کیونکہ اس میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔
عذاب قبر قرآن سے ثابت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ یعنی قبر میں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قبر میں بدعمل کو عذاب ہوگا تو نیک عمل والوں کو ثواب اور نعمت بھی ملے گی۔ احادیث صحیحہ متواترہ میں قبر کے اندر عذاب وثواب ہونے کا بیان اس کثرت اور وضاحت سے آیا ہے کہ انکار نہیں کیا جاسکتا اس لئے اس پر امت کا اجماع اور اس کا اقرار اہل سنت والجماعت کی علامت ہے۔
تمت سورة نوح بعمد اللہ لیلتہ الاربعآء رجب دس 1391 ھ