70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا ایک مانگنے والے نے عذاب پڑنے والا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

منکروں کے واسطے کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا

خلاصہ تفسیر ایک مانگنے والا (براہ انکار) وہ عذاب مانگتا ہے جہ کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے (اور) جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں (اور) جو اللہ کی طرف سے واقع ہوگا جو کہ سیڑھیوں کا (یعنی آسمانوں کا) مالک ہے (جن سیڑھیوں سے) فرشتے اور (اہل ایمان کی) روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں (اس کے پاس سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں جو موقع ان کے عروج کا منتہا مقرر کیا گیا ہے وہاں جاتی ہیں اور چونکہ اس عروج کا رستہ آسمان ہیں اسلئے ان کو معارج (یعنی سیڑھیاں) فرما دیا اور وہ عذاب، ایسے دن میں (واقع) ہوگا جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار سال (کی برابر) ہے (مراد قیامت کا دن ہے جو کچھ حقیقی مقدار سے کچھ اس کے اشتداد سے کفار کو اس قدر طول محسوس ہوگا اور چونکہ کفر و سرکشی کے مراتب کے اعتبار سے اس کی شدت اور درازی مختلف ہوگی کسی کے لئے بہت زیادہ کسی کے لئے کچھ کم، اس لئے ایک آیت میں کالف سنة آیا ہے اور کافروں کی تخصیص اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ مومن کو وہ دن اس قدر ہلکا معلوم ہوگا جیسے ایک فرض پڑھنے کا وقت (کذا فی الدروعن ابی سعید مرفوعاً بروایت احمد والبیھقی وغیرھما) سو (جب عذاب کا آنا ثابت ہے تو) آپ (ان کی مخالفت پر) صبر کیجئے اور صبر بھی ایسا جس میں شکایت کا نام نہ ہو (یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت حکایت زبان پر آجاوے بلکہ یہ سمجھ کر تحمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے اور اس یوم سزا کا جو ان کو انکار ہے سو) یہ لوگ اس دن کو (قیامت پر ایمان نہ ہونے کے سبب اس کے وقوع کو) بعید دیکھ رہے ہیں اور ہم (کو اس کا وقوع یقینی معلوم ہے اس لئے) اس کو (وقوع سے) قریب دیکھ رہے ہیں (اور وہ عذاب اس روز واقع ہوگا) جس دن (کہ) آسمان درنگ میں) تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجاوے گا (اور ایک آیت میں کالدھان ہے جس کی تفسیر ادیم احمر یعنی سرخ چمڑے کی گئی ہے تو جمع دونوں میں یہ ہے کہ سرخی کی شدت سے بھی سیاہی کے مشابہ رنگ پیدا ہوجاتا ہے پس احمر اور اسود دونوں کہنا صحیح ہے یا اول ایک رنگ ہو پھر دوسرا بدل جاوے کما نقل ابن کثیر فی الرحمن عن الحسن تتلون الوانا اور اگر اس کی تفسیر بھی مثل بعض کے دردی زیت سے کی جاوے یعنی روغن زیتون کی تلچھت، تو دونوں کا مفہوم متحد ہوجاوے گا، غرض آسمان سیاہ ہوجاوے گا اور پھٹ بھی جاوے گا) اور پہاڑ رنگین اون کی طرح (جو کہ دھنکی ہوتی ہے بقولہ تعالیٰ کالعھن المنقوش) ہو ویں گے (یعنی اڑتے پھریں گے اور رنگین سے تشبیہ اس لئے دی گی کہ پہاڑ بھی مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں کما ھوالمذکور فی قولہ تعالیٰ ومن الجبال جد دبیض حمر مختلف الوانھا وغرابیب سود) اور (اس روز) کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا (کقولہ تعالیٰ لایتساءلون) باوجودیکہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جاویں گے (یعنی ایک دوسرے کو دیکھیں گے مگر کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا اور سوہ صافات میں جو باہم سوال کرنے کا ذکر ہے وہ بطور اختلفا کے ہے بطور ہمدردی کے نہیں اس لئے وہ اس آیت کے منافی نہیں، اس روز) مجرم (یعنی کافر) اس بات کی تمنا کرے گا کہ اس اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دیدے پھر یہ (فدیہ میں دیدینا) اس کو (عذاب سے) بچا لے (یعنی اس روز ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑجاوے گی اور کل تک جن پر جان دیتا تھا آج ان کو اپنے فائدے کے لئے عذاب کے سپرد کردینے کو تیار ہوگا اگر اس کے قابو کی بات ہو لیکن) یہ ہرگز نہ ہوگا (یعنی نجات عن العذاب مطلقاً نہ ہوگی بلکہ) وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال (تک) اتار دیگی (اوہ) وہ اس شخص کو (خود) بلاویگی، جس نے (دنیا میں حق سے) پیٹھ پھیری ہوگی اور (طاعت سے) بےرخی کی ہوگی اور (دوسروں کا حق مار مار کر یا براہ رص مال) جمع کیا ہوگا پھر اس کو اٹھا اٹھا رکھا ہوگا (مطلب یہ کہ حقوق اللہ و حقوق العباد ضائع کئے ہوں گے، یا اشارہ ہے فساد عقائد و فساد اخلاق کی طرف اور بلانا معنے حقیقی پر مجمول ہوسکتا ہے خلاصہ یہ کہ ایسے صفات موجب استحقاق نار ہیں اور اس مجرم میں یہ صفات پائے جاتے ہیں پھر نجات عن العذات کفار کو اصل عذاب نہیں ہوگا بلکہ اشتد اد عذاب ہوگا اور نفس عذاب کفر پر ہوگا، بخلاف گناہگار مؤمنین کے کہ ان کو معاصی پر نفس عذاب بھی ہوسکتا ہے (واللہ اعلم) (آگے دوسرے رذائل کا ذکر ہے جو عذاب کا سبب ہوتے ہیں ان سے اہل ایمان کا استثناء اور پھر استثناء کا نتیجہ بیان ہے یعنی) انسان کم ہمت پیدا ہوا ہے (مراد انسان سے استثناء کو شامل کرنے کے بعد انسان کافر ہے اور پیدا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اول پیدائش کے وقت سے ہی وہ ایسا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی جبلت میں ایسا مادہ رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے وقت پر پہنچ کر یعنی بلوغ کے بعد ان رذیل صفات کا عادی ہوجائے گا، پس کم ہمتی سے مراد طبعی کم ہمتی نہیں ہے بلکہ کم ہمتی کے آثار ذممیمہ اختیار یہ مراد ہیں جن کو آگے بیان فرماتے ہیں یعنی) جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو (جد جواز سے زیادہ) جزع فزع کرنے لگتا ہے اور جب اس کو فارغ البالی ہوتی ہے تو (حقوق ضروریہ سے) بخل کرنے لگتا ہے (یہ تمتہ ہوگیا موجبات عذاب کا جو من ادبر سے شروع ہوئے ہیں) مگر وہ نمازی (یعنی مومن ان موجبات عذاب سے مستثنیٰ ہیں) جو اپنی نماز پر برابر توجہ رکھتے ہیں (یعنی نماز میں ظاہراً یا باطناً دوسری طرف توجہ نہیں کرتے جس کو قد افلح المومنون میں خاشعون سے تعبیر فرمایا ہے کد انقل ابن کثیر عن عقبتہ بن عامر بقولہ الدائم الساکن وعنہ فی الدر المنشور اذا صلوالم یلتقتوا عن یمین ولاشمال) اور جن کے مالوں میں سوالی اور بےسوالی سب کا حق ہے (اس کے متعلق مضمون سورة ذاریات میں گزر چکا) اور جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (اور) واقعی ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں (یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے) اور جو اپنی شرمگاہوں کو (حرام سے) محفوظ رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیونکہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلبگار ہو ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں اور جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں (ان میں کمی بیشی نہیں کرتے) اور جو اپنی (فرض) نماز کی پابندی کرتے ہیں (پس) ایسے لوگ بہشتوں میں عزت سے داخل ہوں گے (ان آیات کی تفسیر سورة مؤ منون میں دیکھ لی جائے آگ کفار کی حالت کا عجیب ہونا اور وقوع قیامت کا مستبعد نہ ہونا بیان فرماتے ہیں یعنی موجبات سعادت وشقاوت تو اوپر بدلالت واضحہ معلوم ہوچکے) تو (معلوم بالدلیل ہونے کے بعد پھر) کافروں کو کیا ہوا کہ (ان مضامین کی تکذیب کے لئے) آپ کی طرف کو داہنے اور بائیں سے جماعتیں بن بن کر دوڑے آ رہے ہیں (یعنی چاہئے تھا کہ ان مضامین کی تصدیق کرتے لیکن یہ لوگ متفق ہو ہو کر آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ ان مضامین کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاد کریں جیسا کہ کفار عرب نبوت کی خبریں سن سن کر اسی غرض سے آتے تھے اور اسلام کو باطل سمجھنے کے ساتھ اپنے کو حق پر سمجھتے تھے اور حق ہونیکا ثمرہ جنت میں جانا ہے اس بناء پر وہ اپنے کو مستحق جنت بھی سمجھتے تھے کقولہ تعالیٰ (آیت) ٰولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنیٰ۔ اس لئے اس کے متعلق بطور انکار فرماتے ہیں کہ) کیا ان میں ہر شخص اس کی ہوس رکھتا ہے کہ وہ آسائش کی جنت میں داخل کرلیا جاوے گا یہ ہرگز نہ ہوگا (کیونکہ موجبات جہنم کے ہوتے ہوئے جنت کیسے مل جاویگی اور یہ لوگ ان مضامین کی تکذیب میں نفس قیامت کی بھی تکذیب کرتے اور اس کو محال سمجھتے تھے آگے اس کے متعلق ارشاد ہے کہ ان کا استبعاد محض بےوقوفی ہے کیونکہ) ہم نے ان کو ایسی چیز سے پیدا کیا ہے جس کی ان کو بھی خبر ہے (پس جب ان کو معلوم ہے کہ نطفہ سے آدمی کو بنایا ہے اور بظاہر ہے کہ نطفہ سے کہ جس میں کبھی حیات نہیں آئی آدمی بننے تک جتنا بعد ہے اتنا بعد اجزاء میت سے دوسری بار آدمی بننے تک نہیں ہے کیونکہ ان اجزاء میں ایک بار حیات پہلے آ چکی ہے اس کو محال سمجھنا ان کی بےوقوفی ہے) پھر (دوسرے طور پر دفع استبعاد وقوع قیامت کے لئے) میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی (معنے اس کے سورة صافات کے شروع میں گزرے ہیں آگے جواب قسم ہے) کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ (دنیا ہی میں) ان کی جگہان سے بہتر لوگ لے آئیں (یعنی پیدا کردیں) اور ہم (اس سے) عاجز نہیں ہیں (پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء حالت کے اعتبار سے ہے اور دوسرا استدلال ان کے امثال و نظائر کے امکان مخلوقیت سے اور جب باوجود وضوح حق مع الدلائل کے اپنے انکار وعناد سے باز نہیں آتے) تو آپ ان کو اسی شغل اور تفریح میں رہنے دیجئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جاتے ہیں (اور) ان کی آنکھیں (مارے شرمندگی کے) نیچے کو ڈھکی ہوں گی (اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا (جو کہ اب واقع ہوگیا) معارف و مسائل سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ۔ سوال کبھی کسی چیز کی تحقیق کے لئے ہوتا ہے اس کے ساتھ عربی زبان میں صلہ حرف عن کا استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی سوال بمعنے درخواست اور کسی چیز کی طلب کے ہوتا ہے یہاں ایسا ہی ہے اسی لئے اس کے صلہ میں بجائے عن کے حرف بار آیا بعذاب معنے یہ ہیں کہا یک مانگنے والے نے عذاب مانگا۔ نسائی میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ مانگنے والا نضربن حارث تھا جس نے قرآن اور رسول ﷺ کی تکذیب میں اس جرأت سے کام لیا کہ کہنے لگا اللھم (آیت) ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطرعلینا حجارة من السمآء او ائتنا بعذاب الیم یعنی یہ دعا کی یا اللہ اگر یہ قرآن ہی حق ہے اور آپ کی طرف سے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دوسرا عذاب الیم بھیج دے۔ (مظہری) اللہ تعالیٰ نے اس کو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا (مظہری بروایت ابن ابی حاتم) اس شخص نے اللہ تعالیٰ کا جو عذاب اپنے منہ مانگا تھا آگے اس کی کچھ حقیقت کا بیان ہے کہ یہ عذاب کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا (خواہ دنیا میں یا دونوں میں) اس عذاب کو دفع کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ یہ عذاب اللہ کی طر سے ہے جو درجات عالیہ والا ہے۔ یہ آخری جملہ پہلے جملے کی دلیل بھی ہے کہ جو عذاب اللہ بالاوبرتر کی طرف سے ہو اس کو دفع کرنا اور ٹالنا کسی کے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

آئے اللہ کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے

معارج، معرج کی جمع ہے عروج سے مشتق ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں اور معرج و معراج اس سیڑھی کو کہا جاتا ہے جس میں نیچے سے اوپر چڑھنے کے لئے بہت سے درات ہوتے ہویں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت اس آیت میں ذی معارج اس معنی سے ہے کہ اللہ تعالیٰ درجات عالیہ والا ہے (کذا قال سعید بن جبیر) اور یہ درجات عالیہ اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ ذی المعارج کے معنے ہیں۔ ذی السموات یعنی مالک سموات
Ayahs 70:4–5

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح اس دن میں جس کا لنباؤ پچاس ہزار برس

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

ہے سو تو صبر کر بھلی طرح کا صبر کرنا

(آیت) تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ یعنی یہ درجات جو تہہ بر تہہ اوپر نیچے ہیں ان درجات کے اندر چڑھتے ہیں فرشتے اور روح الامین یعنی جبرئیل امین۔ جبرئیل ؑ بھی اگرچہ فرشتوں کے زمرہ میں شامل ہیں لیکن ان کے خصوصی اعزاز کے لئے ان کا الگ نام ذکر فرمایا گیا ہے۔ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ یہ جملہ ایک فعل محذوف سے متعلق ہے یعنی یقع مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے کہ کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ اس کا وقوع اس روز ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدا رپچاس ہزا رسال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا۔ آحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر اتنا ہلکا ہوا کہ ایک نماز فرض ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا (رواہ احمد وابویعلی وابن حبان والبیہقی بسند حسن۔ مظہری) اور حضرت ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے کہ یعنی یہ روز مومنین کے لئے اتنا ہوگا جنتا وقت ظہر و عصر کے درمیا نہوتا ہے یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مرفوعا بھی منقول ہے موقوفا بھی ان روایات حدیث سے معلوم ہوا کہ اس دن کا یہ طول کہ پچاس ہزا رسال کا ہوگا ایک اضافی امر ہے کفار کے لئے اتنا دراز اور مؤمنین کے لئے اتنا مختصر ہوگا۔ روز قیامت کی درازی ایکہزار سال یا پچاس ہزار کی تحقیق۔ اس آیت میں روز قیامت کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی ہے اور سورة تنزیل السجد کی آیت میں ایک ہزارسال آئے ہیں آیت یہ ہے (آیت) یدبرالامر من السمآء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنة مما تعدون، یعنی تدبیر کرتے ہیں امر الٰہی کی آسمان سے زمین تک پھر چڑھتے ہیں اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے عام شمار کے اعتبار سے۔ بظاہر ان دونوں آیتوں کے مضمون میں تعارض اور تضاد ہے اس کا جواب مذکورہ روایات حدیث سے ہوگیا کہ کہ اس دن کا طول مختلف گروہوں کے اعتبار سے مختلف ہوگا، تمام کفار کے لئے پچاس ہزار سال کا اور مؤمنین صالحین کے لئے ایک نماز کا وقت ان کے درمیان طوائف کفار ہیں ممکن ہے کہب عض کے لئے صرف ایک ہزار سال کی برابر ہو اور وقت کا دراز اور مختصر ہونا شدت و بےچینی اور آرام و عیش میں مختلف ہونا مشہور و معروف ہے کہ بےچینی اور شدت کتلیف کا ایک گھنٹہ بعض اوقات انسان کو ایک دن بلکہ ایک ہفتہ عشرہ سے زیادہ محسوس ہوتا ہے اور آرام و عیش کا بڑے سے بڑا وقت مختصر معلوم ہوتا ہے۔ اور آیت تنزیل السجدہ جس میں ایک ہزار سال کا دن بیان کیا گیا ہے اس کی ایک توجیہ تفسیر مظہری میں یہ بیان کی ہے کہ اس آیت میں جس دن کا ذکر ہے وہ دنیا ہی کے دنوں میں کا ایک دن ہے اس میں جبرئیل ؑ اور فرشتوں کا آسمان سے زمین پر آنا پھر زمین سے آسمان واپس جانا اتنی بڑی مسافت کو طے کرتا ہے کہ انسان طے کرتا تو اس کو ایکہ زار سال لگتے کیونکہ احادیث صیحہ میں آیا ہے آسمان سے زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے تو پانسو سال اوپر سے نیچے آنے کے اور پانسو واپس جانے کے یہ کل ایک ہزار سال انسانی چال کے اعتبار سے ہیں کہ بالفرض انسان اس مسافت کو قطع کرتا تو آنے اور جانے میں ایک ہزار سال لگ جاتے اگرچہ فرشتے اس مسافت کو بہت ہی مختصر وقت میں طے کرلیتے ہیں تو سورة سجدہ کی آیت میں دنیا ہی کے دنوں میں سے ایک دن کا بیان ہوا اور سورة معارج میں یا مت کے دن کا بیان ہے جو ایام دنیا سے بہت بڑا ہوگا اور اس کی دراز اور کوتاہی ہی مختلف لوگوں پر اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے مختلف محسوس ہوگی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 70:6–9

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ دیکھتے ہیں اس کو دور

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم دیکھتے ہیں اس کو نزدیک

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن ہوگا آسمان جیسے تانبا پگھلا ہوا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور ہونگے پہاڑ جیسے اون رنگی ہوئی

(آیت) اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۝ ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا، یہاں قریب و بعید با اعتبار مسافت یا زمانے کے نہیں بلکہ بعید از امکان یا بعید از وقوع مراد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Ayahs 70:10–14

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور نہ پوچھے گا دوستدار دوستدار کو

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

سب نظر آجائیں گے ان کو چاہئے گا گنہگار کسی طرح چھڑوائی میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹے کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی ساتھ والی کو اور اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے گھرانے کو جس میں رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے زمین پر ہیں سب کو پھر اپنے آپ کو بچا لے

وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا ښ يُّبَصَّرُوْنَهُم حمیم کے معنی گہرے اور مخلص دوست کے ہیں قیامت کی شدت کا بیان ہے کہ اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا، مدد کرنا تو درکنار، آگے یہ بھی بتلادیا کہ یہ نہ پوچھنا اس لئے نہیں کہ وہ دوست سامنے نہیں ہوگا بلکہ قدرت الٰہیہ ان سب کو ایک دوسرے کے سامنے بھی کر دے گی، مگر ہر شخص نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا کوئی کسنی دوسرے کی تکلیف و راحت کی طرف التفات نہ کرسکے گا۔
Ayahs 70:15–18

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ تپتی ہوئی آگ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھینچ لینے والی کلیجہ

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکارتی ہے اس کو جس نے پیٹھ پھیرلی اور پھر کر چلا گیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جوڑا اور سینت کر رکھا

كَلَّا ۭ اِنَّهَا لَظٰى 15 ۝ ۙنَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى، انا کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اور نطی کے معنے خالص شعلہ بغیر آمیزش کے اور شوی شواة کی جمع ہے جس کے معنی سر کی کھال کے بھی ہیں اور ہاتھوں پاؤں کی کھال کے بھی، یعنی جہنم کی آگ ایک سخت بھڑکنے والا شعلہ ہوگا جو دماغ کی یا ہاتھوں پاؤں کی کھال اتار دے گا۔ ښتَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلی، ۙوَجَمَعَ فَاَوْعٰى خود بلائے گی یہ آگ اس شخص کو جس نے حق سے پیٹھ موڑی اور رخ پھیرا اور مال جمع کیا پھر اس کو روک کر رکھا۔ مراد جمع کرنے سے وہ ہے کہ خلاف شرع ناجائز طریقوں سے جمع کرے اور روکنے سے مراد یہ ہے کہ مال پر عائد ہونے والے فرائض و واجبات ادا نہ کرے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
Ayah 70:19

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک آدمی بنا ہے جی کا کچا

(آیت) اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا، ہلوع کے لفظی معنی حریص بےصبر کم ہمت آدمی کے ہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت میں ہلوع سے مراد وہ شخص ہے جو مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو اور حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ اس سے مراد بخیل آدمی ہے اور مقاتل نے فرمایا کہ تنگدل بےصبر آدمی مراد ہے اور یہ سب معانی متقارب ہیں۔ ہلوع کے مفہوم میں سب داخل ہیں، اس ہلوع کی تشریح خود قرآن کے الفاظ میں آ رہی ہے۔ یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب اس کو پیدا ہی اس حال میں کیا ہے اور یہ عیب اس کی تخلیق میں رکھے ہیں تو پھر اس کا کیا قصور ہوا وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے سو اس میں حق تعالیٰ نے ہر خیر و صلاح کا مادہ اور استعداد بھی کھی ہے اور شر و فساد کی بھی۔ اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمایا اور اپنیک تابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کام کا انجام بھی بتلادیا تو اپنے اختیار سے مادہ شر و فساد کی پرورش کی اپنے اختیاری اعمال کو اس رخ پر ڈال دیا تو وہ مجرم ان اختیاری اعمال کی وجہ سے قرار پایا جو مادہ اس کی پیدائش میں ودیعت رکھا گیا تھا اس کی وجہ سے اس کو مجرم نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آگے ہلوع کے معنی کی تشریح خود قرآن کریم نے کی ہے ان میں صرف افعال اختیار یہ کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہیں۔
Ayahs 70:20–23

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب پہنچے اس کو برائی تو بےصبرا

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو بےتوفیقا

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ نمازی

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز پر قائم ہیں

(آیت) ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20؀ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا، یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا اور جب کوئی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ یہاں بےصبری اور جزع سے مراد وہ ہے جو حدود شرع سے باہر ہوں اسی طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے (کما مر) آگے عام انسانوں کی اس خصلت مذکورہ سے مومنین صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے اعمال و اخلاق صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ۙاِلَّا الْمُصَلِّين سے شروع ہو کر الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ تک بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں استثناء بلفظ مصلین کیا گیا ہے یعنی نمازی اور مراد اس سے مؤمنین ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ نماز مومن کی پہلی اور سب سے بڑی علامت ہے مومنین کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو نمازی ہیں۔ آگے ان مصلین کی یہ صفت بتلائی ہ۔ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ، مراد اس سے یہ ہے کہ وہ نمازی جو پوری نماز میں اپنی نماز کی طرف متوجہ رہیں ادھر ادھر التفات نہ کریں۔ امام بغوی نے اپنی سندھ کیساتھ ابوالخیر سے روایت کیا ہے کہ ہم نے حضرت عقبہ بن عامر نے اس آیت عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ کا مطلب پوچھا کہ کیا اس کی مراد یہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نہیں یہ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جو اول سے آخر نماز تک اپنی نماز کی طرف متوجہ رہے، داہنے بائیں آگے پیچھے التفات نہ کرے اس کا حاصل مفہوم وہی ہوا جو سورة مومنون میں (آیت) الذین ھم فی صلاتھم خشعون کا ہے تو اس جملہ میں نماز کے خشوع کا ذکر ہوا اور آگے جو جملہ۽وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ آ رہا ہے اس میں نماز اور آداب نماز پر مداومت کا ذکر ہے اس لئے مضمون میں تکرار نہ ہوا۔ آگے مومنین صالحین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں یہ سب تقریباً وہی ہیں جو سورة مومنون میں بیان ہوئی ہیں اور اسی سورت میں ان کے معافی کی پوری تفسیر مکمل لکھی جا چکی ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔
Ayahs 70:24–30

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والے اور ہارے ہوئے کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو یقین کرتے ہیں انصاف کے دن پر

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کے عذاب سے کسی کو نڈر نہ ہونا چاہئے

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی جوروؤں سے یا اپنے ہاتھ کے مال سے سو ان پر نہیں کچھ الاہنا

مقادیر زکواة منجانب اللہ مقرر ہیں ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں (آیت) وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ مقادیر زکوة اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور معلوم ہیں جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ سے احادیث صحیحہ میں منقول ہے۔ اس لئے مقادیر زکوة خواہ نصاب زکوة سے متعلق ہوں یا مقدار واجب سے دونوں اللہ تعالیٰ طرف سے مقرر کردہ طے شدہ ہیں یہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدل سکتیں۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوائے سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے

(آیت) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں نفسانی خواہش اور شہوت کا جائز مصرف منکوحہ بیوی یا شرعی لونڈی بتلایا گیا تھا اس آیت میں ان دو صورتوں کے سوا شہوت رانی کی ہر صورت کو ممنوع و ناجائز قرار دیا ہے اس میں نکاح کی وہ صورتیں بھی داخل ہیں جو شرعاً حلال نہیں جیسے ان عورتوں سے نکاح جن سے شرعاً نکاح حرام ہے اسی طرح متعہ جو شرعا نکاح نہیں۔ اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے۔ اور اکثر فقہاء رحم اللہ نے استمناء بالید یعنی اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرلینے کو بھی اس کے عموم میں داخل قرار دے کر حرام قرار دیا ہے۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطار سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا مکروہ ہے۔ میں نے سنا ہے محشر میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ میرا گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرتے ہیں اور حضرت سعید بن جبیر ؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم پر عذاب نازل فرمایا جو اپنے ہاتھوں سے اپنی شرمگاہوں سے کھیلتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملعن من نکحدیدہ یعنی جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرے وہ ملعون ہے۔ سند اس کی ضعیف ہے۔ (مظہری)
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنی امانتوں اور اپنے قول کو نباہتے ہیں

تمام حقوق اللہ اور سب حقوق العباد امانت میں داخل ہیں (آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ ، اس آیت میں امانات جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے جیسے دوسری جگہ بھی (آیت) ان اللہ یامرکم ان تودوا الا منت الی اھلھا فرمایا ہے دونوں جگہ بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ امانت صرف وہ مال ہی نہغیں جو کسی نے آپ کے پاس رکھ دیا ہو بلکہ تمام حقوق واجبہ جن کا ادا کرنا آپ کے ذمہ فرض ہے وہ سب امانات ہیں ان میں کوتاہی کرنا خیانت ہے اس میں تمام حقوق اللہ نماز روزہ حج زکوة بھی داخل ہیں اور تمام حقوق العباد جو منجانب اللہ کسی پر واجب ہیں یا اس نے خود کسی معاہدے اور معاملے کے ذریعہ اپنے پر لازم کر لئے ہیں وہ سب امانت کی فہرست میں داخل اور ان کی ادائیگی فرض، اس میں کوتاہی خیانت ہے (از مظہری ملحضاً)