69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 69:1–5

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ ثابت ہو چکنے والی

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ ثابت ہو چکنے والی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ ثابت ہو چکنے والی

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود اور عاد نے اس کوٹ ڈالنے والی کو

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو وہ جو ثمود تھے سو غارت کردیئے گئے اچھال کر

خلاصہ تفسیر وہ ہونے والی چیز کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز (مقصود اس سے قیامت کی عظمت اور ہولناک ہونیکا بیان ہے یہ استفہامات تہویل کے لئے ہیں) ثمور اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کی تکذیب کی سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کئے گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں (کیونکہ وہ بہت دراز قد تھے) سو کیا تجھ کو ان میں کا کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے (یعنی کوئی نہیں بچا کقولہ تعالیٰ ھل تحس منھم من احد او تسمع لھم برکزا) اور (اسی طرح) فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے (جن میں قوم نوح و عاد وثمود سب آگئے) اور (قوم لوط کی) ملی ہوئی بستیوں نے بڑے بڑے قصور کئے (یعنی کفر و شرک اس پر ان کے پاس رسول بھیجے گئے) سو انہوں نے اپے ن رب کے رسول کا (جوان کی طرف بھیجا گیا تھا) کہنا نہ مانا اور کفر و شرک سے باز نہ آئے جس میں تکذیب قیامت بھی داخل ہے) تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سخت پکڑا (جن میں سے عاد و ثمور کا قصہ تو ابھی آ چکا ہے اور قوم لوط اور قوم فرعون کی عقوبت بہت سی آیتوں میں پہلے آ چکی ہے اور قوم نوح کی عقوبت آگے بضمن امتنان مذکور ہے یعنی) ہم نے جبکہ (نوح ؑ کے وقت میں) پانی کو طغیانی ہوئی تم کو (یعنی تمہاری بزرگوں کو جو مومن تھے اور ان کی نجات تمہارے وجود کا سبب ہوئی) کشتی میں سوار کیا (اور بقایوں کو غرق کردیا) تاکہ ہم اس معاملہ کو تمہارے لئے ایک یادگار (اور عبرت) بنادیں اور یاد رکھیں (کان کو یاد رکھنے والا مجازاً کہہ دیا۔ حاصل یہ کہ اس کو یاد رکھ کر سزا کے اسباب سے بچیں یہ قصے تو مکذبین قیامت کے ہوئے، آگے قیامت کے ہول و خوف کا بیان ہے یعنی) پھر جب صور میں یکبارگی پھونک مار دی اجوے گی (مراد نفخہ اولی ہے) اور (اس وقت) زمین اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) اٹھا لئے جاویں گے (یعنی اپنی چیز سے ہٹا دیئے جاویں گے) پھر دونوں ایک ہی دفعہ میں ریزہ ریزہ کردیئے جاویں گے تو اس روز وہ ہونے والی چیز ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ جاوے گا اور وہ (آسمان) اس روز بالکل بودا ہوگا (چنانچہ پھٹ جانا دلیل ضعف ہے یعنی جیسا اس وقت وہ مضبوط ہے اور اس میں کہیں فطور و شقوق نہیں، اس روز اس میں یہ بات نہ رہے گی بلکہ ضعف و انشقاق ہوجاوے گا) اور فرشتے (جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں جس وقت وہ پھٹنا شروع ہوگا) اس کے کناروں پر آجاویں گے (اس سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ آسمان بیچ میں سے پھٹ کر چاروں طرف سمیٹنا شروع ہوگا اسلئے فرشتے بھی بیچ میں سے کناروں پر آرہیں گے۔ پھر آیت ضعق من فی السموت ومن فی الارض الخ کے مطابق ان فرشتوں پر بھی موت مسلط ہوجاوے گی۔ (کذا فی الکبیراحد الوجھین) اور یہ سب واقعات تو نفخہ اولی کے وقت کے ہیں) اور (آگے نفخہ ثانیہ کے وقت کے واقعات ہیں کہ) آپ کے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے (حدیث میں ہے کہ اب عرش کو چار فرشتے اھٹائے ہوئے ہیں قیامت کو آٹھ فرشتے اٹھاویں گے (کذا فی الدرمر فوعا) غرض آٹھ فرشتے عرش کو اٹھا کر میدان قیامت میں لاویں گے اور حساب شروع ہوگا جس کا آگے یان ہے یعنی) جس روز تم (خدا کے روبرو حساب کے واسطے) پیش کئے جاؤ گے (اور) تمہاری کوئی بات (اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی پھر (نامہ اعمال اڑا کر ہاتھ میں دیئے جاویں گے تو) جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا وہ تو (خوشی کے مارے آس پاس والوں سے) کہے گا کہ میرا نامہ اعمال پڑھ لو میرا (تو پہلے ہی سے) اعتقاد تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے (یعنی میں قیامت اور حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان اور تصدیق رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا) غرض وہ شخص پسندیدہ عیش یعنی بہشت بریں میں ہوگا جس کے میوے (اسقدر) جھکے ہوں گے (کہ جس حالت میں چاہیں گے لے سکیں گے اور حکم ہوگا کہ) (کھاؤ اور پیومزے کے ساتھ ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے با امید صلہ گزشتہ ایام (یعنی زمانہ قیام دنیا) میں کئے ہیں اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جاوے گا سو وہ (نہایت حسرت سے) کہے گا کیا اچھا ہو تاکہ مجھ کو میرا نامہ اعمال ہی نہ ملتا اور مجھ کو یہ ہی خبر نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے کیا اچھا ہوتا کہ (پہلی) موت ہی خاتمہ کر چکتی (اور دوبارہ زندہ نہ ہوتے جس پر یہ حساب کتاب مرتب ہوا افسوس) میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا، میرا جاہ (بھی) مجھ سے گیا گزرا (یعنی مال و جاہ سب بےسود ٹھہرے ایسے شخص کے لئے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) اس شخص کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق پہنا دو پھر دوزخ میں اس کو داخل کرو، پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے اس کو جکڑ دو (اس گز کی مقدار خدا کو معلوم ہے کیونکہ یہ گز وہاں کا ہوگا اس عذاب کی وجہ بتلاتے ہیں کہ) یہ شخص خدائے بزرگ پر ایمان نہ رکھتا تھا (یعنی جس طرح ایمان لانا حسب عتلیم انبیاء ضروری تھا وہ ایمان نہ رکھتا تھا) اور (خود تو کسی کو کیا دیتا اوروں کو بھی) غریب آدمی کے کھلانے کی ترغیب نہ دیتا تھا۔ (حاصل یہ کہ خدا کی عظمت اور مخلوق کی شفقت جو اصل عبادات متعلقہ حقوق اللہ وحقوق العباد ہیں یہ دونوں کا تارک اور منکر تھا اس لئے مستحق عذاب ہوا) سو آج اس شخص کا نہ کوئی دوستدار ہے اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز نصیب ہے بجز زخموں کے ھو ون کے (یعنی بجز ایک ایسی چیز کے جو کراہت و صورت میں مثل غسلین کے ہوگا جس سے زخم دھوئے گئے ہوں اور یہ حصر اضافی ہے اور مقصو د اس سے نفی ہے مرغوب کھانوں کی ورنہ زقوم کی غذا ہونا خود آیات سے ثابت ہے کہ غرض ان کا طعام غسلین ہوگا) جس کو بجز بڑے گناہگاروں کے کوئی نہ کھاوے گا (آگے قرآن کی حقانیت ارشاد فرمائی جاتی ہے جس میں قیامت میں جزاء و سزا ہونے کا بیان ہے۔ اس کی تکذیب موجب تعذیب مذکور ہے) پھر (بعد بیان مضمون مجازاة کے) میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے (کیونکہ بعض مخلوقات بالفعل یا بالقوہ آنکھوں سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بعض مخلوقات بالفعل یا بالقوہ یہ صلحایت نہیں رکھتیں، اس قسم کو مقصود سے ایک خاص مناسبت ہے کہ قرآن مجید کا لانیوالا نظر نہ آتا تھا اور جن پر قرآن آتا تھا وہ نظر آتے تھے مراد یہ کہ تمام مخلوق کی قسم ہے) کہ یہ قرآن (اللہ کا) کلام ہے ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا (پس جس پر یہ کلام نازل ہوا وہ ضرور رسول ہے) اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے (جیسا کہ کفار آپ کو شاعر کہتے تھے مگر) تم بہت کم ایمان لاتے ہو (یہاں قلت سے مراد عدم ہے) اور یہ نہ کسی کا ہن کا کلام ہے (جیسا بعض کفار آپ کو کہتے تھے مگر) تم بہت کم سمجھتے ہو (یہاں بھی قلت سے مراد عدم ہے غرض یہ نہ شعر ہے نہ کہانت ہے بلکہ) رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا (کلام) ہے اور (آگے اس کی حقاینت کی ایک دلیل عقلی ارشاد ہوتی ہے کہ) اگر یہ (پیغمبر) ہمارے ذمہ کچھ (جھوٹی) باتیں لگا دیتے (یعنی جو کلام ہمارا نہ ہوتا اس کو ہمارا کلام کہتے اور جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرتے) تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے پھر ہم ان کی رگ دل کاٹ ڈالتے پھر تم میں کوئی ان کا اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا (رگ دل کاٹنے سے آدمی مر جاتا ہے مراد اس سے قتل ہے) اور بلاشبہ یہ قرآن متقیوں کے لئے نصیحت ہے (یعنی فی نفسہ حق ہونا اس کی صفت کمالیہ ذاتیہ ہے اور موجب نصیحت ہونا اس کی صفت کمالیہ اضافیہ ہے) اور (آگے مکذبین کی وعید ہے کہ ہم کو معلوم ہے کہ تم میں سے بعض تکذیب کرنے والے بھی ہیں (پس ہم ان کو اس کی سزا دیں گے) اور (اس اعتبار سے) یہ قرآن کافروں کے حق میں موجب حسرت ہے (کیونکہ ان کے لئے بوجہ تکذیب کے سبب عذاب ہوگیا) اور یہ قرآن تحقیقی یقینی بات ہے سو (جس کا یہ کلام ہے) اپنے (اس) عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح (وتحمید) کیجئے۔ معارف و مسائل اس سورت میں قیامت کے ہولناک واقعات اور پھر وہاں کفار و فجار کی سزا اور مؤمنین و متقین کی جزاء کا ذکر ہے قیامت کے نام قرآن کریم میں بہت سے آئے ہیں۔ اس سورت میں قیامت کو حاقہ کے لفظ سے، پھر قارعہ کے پھر واقعہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور یہ سب قیامت کے نام ہیں۔ لفظ حاقہ کے معنی حق اور ثابت کے بھی آتے ہیں اور دوسری چیزوں کو حق ثابت کرنے والی چیز کو بھی حاقہ کہتے ہیں۔ قیامت پر یہ لفظ دونوں معنے کے اعتبار سے صادق آتا ہے کیونکہ قیامت خود بھی حق ہے اور اس کا وقوع ثابت اور یقینی ہے اور قیامت مومنین کے لئے جنت اور کفار کے لئے جہنم ثابت اور مقرر کرنے والی بھی ہے۔ یہاں قیامت کے اس نام کے ساتھ سوال کو مکرر کر کے اس کے مافوق القیاس اور حیرت انگیز ہولناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ قارعہ کے لفظی معنے کھڑکھڑانے والی چیز کے ہیں۔ قیامت کے لئے یہ لفظ اس لئے بولا گیا کہ وہ سب لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی اور تمام آسمان و زمین کے اجسام کو منتشر کرنے اولی ہے۔ طاغیہ طغیان سے مشتق ہے جس کے معنے حد سے نکل جانے کے ہیں۔ مراد ایسی سخت آواز ہے جو تمام دنیا کی آوازوں کی حد سے باہر ہے اور زیادہ ہے جس کو انسان کا قلب و دماغ برداشت نہ کرسکے۔ قوم ثمود کی نافرمانی جب حد سے بڑھ گئی تو ان پر اللہ کا عذاب اسی سخت آواز کی صورت میں آیا تھا جس میں تمام دنیا کی بجلیوں کی کڑک اور دنیا بھر کی سب سخت آواز کی صورت میں ایٓا تھا جس میں تمام دنیا کی بجلیوں کی کڑک اور دنیا بھر کی سب سخت آوازوں کا مجموعہ تھا جس سے ان کے دل پھٹ گئے۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور وہ جو عاد تھے سو برباد ہوئے ٹھنڈی سناٹے کی ہوا سے

بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ۔ اس سخت ہوا کو کہا جاتا ہے جو بہت زیادہ سرد بھی ہو۔
Ayahs 69:7–12

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

نکل جائے ہاتھوں سے مقرر کردیا اس کو ان پر سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار پھر تو دیکھے کہ وہ لوگ اس میں بچھڑ گئے گویا وہ ڈھنڈ ہیں کجھور کے کھوکھلے

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

پھر تو دیکھتا ہے کوئی ان میں کا بچا

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور آیا فرعون اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی بستیاں خطائیں کرتے ہوئے

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

پھر حکم نہ مانا اپنے رب کے رسول کا پھر پکڑا ان کو پکڑنا سخت

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

ہم نے جس وقت پانی ابلا لادلیا تم کو چلتی کشتی میں

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ رکھیں اس کو تمہاری یادگاری کے واسطے اور سینٹ کر رکھے اس کو کان سینٹ کر رکھنے والا

سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔ حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔
Ayahs 69:13–16

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پھر جب پھونکا جائے صور میں ایک بار پھونکنا

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور اٹھائی جائے زمین اور پہاڑ پھر کوٹ دیئے جائیں ایک بار

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

پھر اس دن ہو پڑے وہ ہو پڑے والی

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور پھٹ جائے آسمان پھر وہ اس دن بکھ رہا ہے

(آیت) فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر کی مرفوع حدیث ہے کہ صور کوئی سینگ (کی شکل کی کوئی چیز) ہے جس میں قیامت کے روز پھونکا جائے گا۔ نفختہ واحدة سے مراد یہ ہے کہ یکبارگی اچانک یہ صورت کی آواز ہوگی اور ایک آواز مسلسل رہے گی یہاں تک کہ اس آواز سے سب مر جائیں گے۔ قرآن و سنت کی نصوص سے قیامت میں صور کے دو نفخے ہونا ثابت ہیں پہلے نفخہ کو نفخہ صعق کہا جاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں (آیت) فصعق من فی السموت ومن فی الارض ہے یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن وانس اور تمام جانور بیہوش ہوجائیں گے (پھر اسی بیہوشی میں سب کو موت آجائے گی) دوسرے نفخہ کو نفخہ بعث کہا جاتا ہے بعث کے معنے اٹھنے کے ہیں اس نفخہ کے ذریعہ سب مردے پھر زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے (آیت) ثم نفخ فیہ اخری فاذاھم قیام ینظرون، یعنی پھر صور دوبارہ پھونکا جائے گا جس سے اچانک سب کے سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ بعض روایات میں جو ان دونوں نفخوں سے پہلے ایک تیسرے نفخہ کا ذکر ہے جس کا نام نفخہ فزع بتلایا گیا ہے۔ مجموعہ روایات و نصوص میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلا نفخہ ہی ہے اسی کو ابتدا میں نفخہ فزع کہا گیا ہے اور انتہا میں وہی نفخہ صعق ہوجائے گا۔ (مظہری)
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے ہونگے اس کے کناروں پر اور اٹھائیں گے تخت تیرے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ شخص

(آیت) وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ۔ یعنی قیامت کے روز عشر رحمٰن کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے تو یہ کام چار فرشتوں کے سپرد ہے قیامت کے روز ان کے ساتھ اور چار بڑھا دیئے جاویں گے۔ رہا یہ معاملہ کہ عرش رحمن کیا چیز ہے اس کی حقیقت اور حقیقی شکل و صورت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کسی صورت سے ہے یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ نہ عقل انسانی ان کا احاطہ کرسکتی ہے نہ ان مباحث میں ان کو غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کی اجازت ہے۔ سلف صالحین صحابہ و تابیعن کا مسلک اس جیسے تمام معاملات میں یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے کہ اس سے جو کچھ اللہ جل شانہ کی مراد ہے وہ حق ہے اور اس کی حقیقت و کیفیت نامعلوم ہے۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس دن سامنے کئے جاؤ گے چھپی نہ رہے گی تمہاری کوئی چھپی بات

(آیت) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ۔ یعنی اس روز اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے، کوئی چھپنے والا چھپ نہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے علم و بصر سے تو آج بھی کوئی نہیں چھپ سکتا اس روز کی خصوصیت شاید یہ کہ میدان حشر میں تمام زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی نہ کوئی غار رہے گا نہ پہاڑ نہ کوئی تعمیر و مکان نہ کسی درخت وغیرہ کی آڑ، یہی چیزیں ہیں جن کے پیچھے دنیا میں چھپنے والے چھپا کرتے ہیں وہاں ان میں سے کوئی چیز نہ ہوگی، کسی کے چھپنے کا امکان ہی نہ رہے گا۔
Ayahs 69:19–28

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

سو جس کو ملا اس کا لکھا داہنے ہاتھ میں وہ کہتا ہے لیجیو پڑھیو میرا لکھا

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

میں نے خیال رکھا اس بات کا کہ مجھ کو ملے گا میرا حساب

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

سو وہ ہیں من مانتے گزران میں

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

اونچے باغ میں

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے میوے مجھ کے پڑے ہیں

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

کھاؤ اور پیؤ رج کر بدلہ اس کا جو آگے بھیج چکے ہو تم پہلے دنوں میں

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کو ملا اس کا لکھا بائیں ہاتھ میں وہ کہتا ہے کیا اچھا ہوتا جو مجھ کو نہ ملتا میرا لکھا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھ کو خبر نہ ہوتی کہ کیا ہے حساب میرا

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کسی طرح وہی موت ختم کر جاتی

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

کچھ کام نہ آیا مجھ کو میرا مال

(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

برباد ہوئی مجھ سے حکومت میری

(آیت) هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ ، سلطان کے لفظی معنے غلبہ و تسلط کے ہیں، اسی لئے حکومت کو سلطنت اور حاکم کو سلطان کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو مجھے دوسرے لوگوں پر بڑائی اور غلبہ حاصل تھا میں سب میں بڑا مانا جاتا تھا آج وہ بڑائی اور غلبہ بھی کچھ کام نہ آیا اور سلطان بمعنے حجت بھی لیا جاسکتا ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ افسوس آج میرے ہاتھ میں کوئی حجت و سند نہیں جس کے ذریعہ عذاب سے نجات حاصل ہو سکے۔
Ayahs 69:30–31

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

اس کو پکڑو پھر طوق ڈالوں

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر آگ کے ڈھیر میں اس کو ڈالوں

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ ، یہ حکم فرشتوں کو ہوگا کہ اس مجرم کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو لیکن الفاظ آیت میں اس کا ذکر نہیں کہ کون پکڑے اور طوق ڈالے، اسی لئے بعض روایات میں ہے کہ یہ حکم صادر ہوگا تو ہر در و دیوار اور ہر چیز مطیع و فرمانبرار نوکروں کی طرح ہے اس کے پکڑنے کو دوڑے گی۔
Ayahs 69:32–34

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایک رنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

وہ تھا کہ یقین نہ لاتا تھا اللہ پر جو سب سے بڑا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور تاکید نہ کرتا تھا فقیر کے کھانے پر

(آیت) ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو دو جس کی مقدار ستر گز ہے۔ زنجیر میں پرونے کا وہ مفہوم بھی مجازاً لیا جاسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ زنجیر میں جکڑ دو لیکن اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ زنجیر ان کے بدن کے اندر ڈال کر دوسری طرف نکال لو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں بعض روایات حدیث سے اسی حقیقی معنی کی تائید بھی ہوتی ہے۔ (از مظہری)
Ayahs 69:35–37

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو کوئی نہیں آج اس کا یہاں دوستدار

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ کچھ ملے کھانا مگر زخموں کا دھو ون

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

کوئی نہ کھائے اس کو مگر وہی گنہگار

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْن، حمیم مخلص اور گہرے دوست کو کہا جاتا ہے اور غسلین بکسر غین وہ پانی ہے جس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ وغیرہ دھوئی جاوے گی۔ مطلب آیات کا یہ ہے کہ آج اس کا کوئی دوست عزیز اس کی حمایت نہ کرسکے گا اور اس کو عذاب سے نہ بچا سکے گا اور اس کے کھانے کے لئے سوائے اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی اور کچھ نہ ہوگا اور کچھ نہ ہونے کا مفہوم اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مرغوب کھانوں میں سے کچھ نہ ہوگا غسلین کی طرح کی کوئی اور مکروہ بد ذائقہ چیز کی نفی نہیں ہے اس لئے دوسری آیت میں جو اہل جہنم کا زقوم کھانا آیا ہے وہ اسکے منافی نہیں۔