76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsمعارف القرآن

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز

خلاصہ تفسیر بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا (یعنی انسان نہ تھا بلکہ نطفہ تھا اور اس سے قبل غذا اور اس سے پہلے عناصر کا جز تھا) ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا (یعنی مرد اور عورت دونوں کے نطفے سے کیونکہ عورت کی منی بھی اندر ہی اندر عورت کے رحم میں گرتی ہے۔ پھر کبھی فم رحم سے خارج ہو کر ضائع ہوجاتی ہے اور کبھی اندر رہ جاتی ہے اور مخلوط کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اجزاء مختلفہ سے مرتکب ہے چناچہ ترکیب منی کی اجزاء مختلفہ سے ظاہر ہے غرض ہم نے اس کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا) اس طور پر کہ ہم اس کو مکلف بنائیں تو (اسی واسطے) ہم نے اس کو سنتا دیکھتا (سمجھتا) بنایا (اور چونکہ محاورہ میں سمیع وبصیرا استعمالاً مخصوص ہے عاقل کے ساتھ اسلئے عقل دینے کی جو کہ مدار ہے مکلف ہونے کا تصریح نہیں فرمائی گئی مگر مراد وہ بھی ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیئات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں احکام شرعیہ کا مکلف بننے کی قابلیت ہو، اس کے بعد جب مکلف ہونے کا وقت آگیا تو) ہم نے اس کو (بھلائی برائی پر مطلع کرکے) راستہ بتلایا (یعنی احکام کا مخاطب بنایا پھر) یا تو وہ شکر گزار (اور مومن) ہوگیا یا ناشکر (اور کافر) ہوگیا (یعنی جس رستہ پر چلنے کو اس کو کہا تھا جو اس پر چلا وہ مومن ہوگیا جو بالکل نہ چلا کافر ہوگیا۔ آگے فریقین کی جزا کا ذکر ہے کہ) ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور آتش سوزاں تیار کر رکھی ہے (اور) جو نیک (لوگ) ہیں وہ ایسے جام شراب سے (شرابیں) پیویں گے۔ جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمے سے (پیویں گے) جس سے خدا کے خاص بندے پئیں گے (اور) جس کو وہ (خاص بندے جہاں چاہیں گے) بہا کرلے جائیں گے (اور یہ بہشتیوں کی ایک کرامت ہوگی کہ انہار جنت ان کے تابع ہوں گی جیسا کہ درمنثور میں ابن شوذب سے مروی ہے کہ جنتیوں کے ہاتھ میں سونے کی چھڑیاں ہوں گی اور وہ چھڑیوں سے جس طرف اشارہ کردینگے نہریں اسی طرف چلنے لگیں گی۔ اور یہ کافور دنیا کا کافور نہیں ہے بلکہ جنت کا کافور ہے جو سپیدی اور خنکی اور تفریح وتقویت دل و دماغ میں اس کا مشارک ہے شراب میں خاص کیفیات حاصل کرنے کے لئے عادت ہے بعض مناسب چیزوں کے ملانے کے پس وہاں اس جام میں کافور ملایا جاوے گا اور وہ جام شراب ایسے چشمے سے بھرا جاوے گا جس سے مقرب بندے پیویں گے تو ظاہر ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کا ہوگا سو اس سے ابرار کی بشارت میں تقویت ہوگئی اور اگر ابرار وعباد اللہ کا مصداق ایک ہو تو دو جگہ بیان کرنے سے جدا جدا مقصود ہے ایک جگہ اس کی آمیزش بتلانا ہے دوسری جگہ اس کا کثیر ومسخر ہونا کہ اسباب عیش کی کثرت اور تابع طبیعت ہونا لذت عیش کو بڑھا دیتا ہے۔ آگے ان ابرار کی صفات مذکور ہیں کہ) وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں اور (ادا بھی کرتے ہیں خلوص سے کیونکہ وہ) ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی (یعنی کم وبیش سب پر اس کی سختی کا اثر ہوگا مراد قیامت کا دن ہے الامن شاء اللہ تعالیٰ) اور (وہ لوگ ایسے مخلص ہیں کہ عبادات مالیہ میں بھی جس میں غالباً اخلاص کم ہوتا ہے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں چنانچہ) وہ لوگ (محض) خدا کی محبت سے غربت اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (قیدی اگر مظلوم ہے کہ ظلما پید کرلیا گیا تب تو اس کی اعانت کا مستحسن ہونا ظاہر ہے اور اگر ظالم ہے کہ ظلم کی سزا میں قید ہوا ہے تو شدت حاجت کے وقت اس کا اطعام بھی مستحسن ہے اور وہ لوگ کھانا کھلا کر زبان سے یا دل سے یوں کہتے ہیں کہ) ہم تم کو محض خدا کی رضا مندی کیلئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے (اسکا عملی) بدلہ چاہیں اور نہ (اس کا قولی) شکریہ (چاہیں اور ہم خدا کی رضا مندی کے لئے اس واسطے تم کو کھانا کھلاتے ہیں کہ) ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں (تو امید رکھتے ہیں کہ ان مخلصانہ اعمال کی بدولت اس دن کی تلخی اور سختی سے محفوظ رہیں اور اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا اخلاص اور اتبغا مرضاة اللہ کے منافی نہیں) سو اللہ تعالیٰ ان کو (اس اطاعت و اخلاص کی برکت سے) اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور ان کی تازگی اور خوشی عطا فرما دے گا (یعنی چہروں پر تازگی اور قلوب میں خوشی دے گا) اور ان کی پختگی (یعنی استقامت فی الدین) کے بدلہ میں ان کو جنت اور ریشمی لباس دے گا اس حالت میں کہ وہ وہاں (جنت میں) مسہریوں پر (آرام وعزت سے) تکیہ لگائے ہوں گے (اور) نہ وہاں تپش (اور گرمی) پاویں گے اور نہ جاڑا (بلکہ فرحت بخش معتدل موسم ہوگا) اور یہ حالت ہوگی کہ (وہاں کے یعنی جنت کے) درختوں کے سائے ان (بہشتیوں) پر جھکے ہوں گے (یعنی قریب ہوں گے اور سایہ اسباب تنعم سے ہے۔ جنت میں آفتاب ماہتاب نہیں ہوں گے تو پھر سایہ کا کیا مطلب ہے ہوسکتا ہے کہ دوسرے اجسام نورانیہ کی روشنی سے سایہ مقصود ہو، اور فائدہ سایہ کا غالباً یہ ہے کہ حالات بدلتے رہیں، ایک حال کتنے بھی آرام ولذت کا ہو آخر کار اس سے طبیعت اکتا ہی جاتی ہے) اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے (کہ ہر وقت ہر طرح بلا مشقت لے سکیں گے) اور ان کے پاس (کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے کے لئے) چاندی کے برتن لائے جاویں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے (اور) وہ شیشے چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا (یعنی اس میں مشروب ایسے انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے اور نہ اس سے بچے کہ دونوں میں بےلطفی ہوتی ہے اور چاندی کے شیشے کے یہ معنی کہ سفیدی تو چاندی جیسی ہوگی اور شفافی شیشہ جیسی اور دنیا کی چاندی میں آرپار نظر نہیں آتا اور شیشے میں یہاں ایسی سفیدی نہیں ہوتی پس یہ ایک عجیب چیز ہوگی) اور وہاں ان کو (علاوہ جام شراب مذکورہ بالا کے جس میں کافور کی آمیزش تھی اور بھی) ایسا جام شراب پلایا جاوے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی (کہ انتعاش حرارت غریزی اور منہ کا مزہ بدلنے کے لئے شراب میں اس کو بھی ملاتے تھے یعنی ایسے چشمے سے جو وہاں ہوگا (ان کو پلایا جاوے گا) جس کا نام (وہاں) سلسبیل (مشہور) ہوگا (مجموعہ مقام بالا اور مقام ہذا سے معلوم ہوتا ہے کہ چشمہ مذکورہ بالا کی شراب میں آمیزش کافور کی ہوگی اور اس چشمہ مذکورہ مابعد کی شراب میں آمیزش زنجیل کی ہوگی واللہ اعلم باسرارہ) اور ان کے پاس (یہ چیزیں لے کر) ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے (اور وہ اسقدر حسین ہیں کہ) اے مخاطب اگر تو ان کو (چلتے پھرتے) دیکھے تو یوں سمجھے کہ موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں (موتی سے تو تشبیہ صفائی اور اشراق میں اور بکھرے ہوئے کا وصف ان کے چلنے پھرنے کے لحاظ سے جیسے بکھرے موتی منتشر ہو کر کوئی ادھر جارہا ہے کوئی ادھر جارہا ہے اور یہ اعلیٰ درجہ کی تشبیہ ہے) اور (ان مذکورہ اسباب تنعم میں انحصار نہیں بلکہ وہاں اور بھی ہر سامان اس افراط اور رفعت کیساتھ ہوگا کہ) اے مخاطب اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھ کو بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھلائی دے (اور) ان جنتیوں پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے (کیونکہ ہر لباس میں جدا لطف ہے) اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جاویں گے (اس سورت میں تین جگہ چاندی کے سامان کا ذکر آیا ہے اور دوسری آیات میں سونے کا مگر دونوں میں تعارض نہیں کیونکہ دونوں طرح کا سامان ہوگا اور حکمت اس کی وہی تفنن اور تغیر طبائع وتنعمات کا ہے اور یہ شبہ کہ مردوں کو زیور معیوب ہے اسلئے مندفع ہے کہ ہر مقام کا مقتضاد جدا ہے یہاں عیب ہونا وہاں عیب ہونے کو مستلزم نہیں) اور ان کا رب (جو ان کو شراب پینے کو دے گا جس کا اوپر ذکر آیا ہے تو مثل شراب دنیا کے ناپاک اور مزیل عقل وموجب خمار نہ ہوگی بلکہ اللہ تعای) ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا (جس میں نجاست نہ ہوگی اور نہ کدورت وہذا کقولہ تعالیٰ لا یصدعون عنھا ولا ینزفون اور تین جگہ جو سورت میں ذکر شراب کا آیا ہے ہر جگہ غرض جدا ہے جیسا تقریر ترجمہ سے واضح ہے پھر اول میں یشربوں ہے دوسری جگہ یسقون جو زیارت اکرام اور اعزاز پر دلالت کرتا ہے۔ تیسری جگہ سقھم ربھم میں نہایت ہی تشریف و تکریم ہے پس تکرار کا شائبہ نہ رہا اور ان سب نعمتوں کو دے کر اہل جنت سے مسرت روحانی بڑھانے کے لئے کہا جاوے گا کہ) یہ تمارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (جو دنیا میں کیا کرتے تھے) مقبول ہوئی (آگے فریقین کی جزا کافر کا ذکر کرنے کے بعد بطور تفریح معنوی کے آپ کو تسلی دینے کا بیان ہے۔ یعنی ان مخالفین کی سزا آپ نے سن لی، پس آپ ان کی مخالفت سے غم نہ کیئجے اور اپنی عبادت اور دعوت و اصلاح کے کام میں لگے رہیئے کے علاوہ اطاعت ہونے کے اس میں قلب کی بھی تو تقویت ہے اور بیان اس اطاعت کا یہ ہے کہ) ہم نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے (تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور انکو اس سے فائدہ اٹھاے میں آسانی ہو جیسا کہ سورة اسرا کے آخر میں ہے وقرانا فرقنہ الخ) سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر (کہ اس میں تبلیغ بھی داخل ہے) مستقل رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آئیے (یعنی جو تبلیغ سے منع کرتے ہیں کمافی الدر المنثور من سورة الکافرین، اس کی موافقت نہ کیجئے، مقصود اس سے اظہار اہتمام شان ہے ورنہ آنحضرت ﷺ سے ان کی موافقت کرنے کا کوئی احتمام ہی نہیں تھا یہ تو عبادت متعدیہ کا امر ہوا) اور (آگے عبادت لازمہ کا امر ہے یعنی) اپنے پروردگار کا صبح وشام نام لیا کیئجے اور کسی قدر رات کے حصے میں بھی اس کو سجدہ کیا کیجئے (یعنی نماز فرض پڑھا کیجئے) اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح (و تقدیس) کیا کجیئے (مراد) اس سے تہجد ہے علاوہ فرائض کے اور آگے تقویت تسلی کے لئے ایک اور مضومن ہے جس میں کفار کی مذمت بھی ہے یعنی ان لوگوں کی مخالفت کی اصل وجہ آپ کے ساتھ یہ ہے کہ) یہ لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور اپنے آگے (آنیوالے) ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں (پس حب دنیا نے اندھا کر رکھا ہے اسلئے حق کہنے سے بعض رکھتے ہیں اور یوم ثقیل کا ذکر سنکر چونکہ احتمال ان کے انکار کا تھا اسلئے آگے اس یوم ثقیل کے استبعاد کو دفع فرماتے ہیں یعنی) ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور (نیز) جب ہم چاہیں ان ہی جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں (اور امر اول تو مشاہد ہے اور دوسرا امر ادنی تنبیہ سے معلوم ہوسکتا ہے پس دونوں امروں سے قدرت الٰہیہ ظاہر ہے پھر مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے ہی میں کون بات زیادہ دشوار ہے کہ اس پر قدرت نہ ہو، آگے ان تمام مضامین سابقہ پر بطور تفریح کے فرماتے ہیں کہ) یہ (سب جو مذکور ہوا کافی) نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے (وقد مرفی المزمل) اور (قرآن کے تذکرہ ہونے میں اس سے شبہ نہ کیا جاوے کے بعض کو اس سے ہدایت نہیں ہوتی، بات یہ ہے کہ قرآن فی نفسہ تذکرہ اور ہدایت کافی ہے لیکن) بدون خدا کے چاہے تم لوگ کوئی بات چاہ نہیں سکتے (اور بعض لوگوں کے لئے خدا کے نہ چاہنے میں بعضی حکمتیں ہوتی ہیں کیونکہ) خدا تعالیٰ بڑا علم والا اور حکمت والا ہے وہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور (جسکو چاہئے کفر میں مبتلا رکھتا ہے پھر) ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ معارف و مسائل سورة دہر کا نام سورة انسان اور سورة الابرار بھی ہے (روح) اسمیں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا و اعمال پر جزا وسزا قیامت اور جنت دوزخ کے خاص حالات نہایت بلیغ اور موثر انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا حرف ہل دراصل استفہام کے لئے آتا ہے اور بعض اوقات کسی بدیہی اور کھلی ہوئی چیز کی بصورت استفہام اس لئے تعبیر کیا جاسکتا ہے اس کا واضح ہونا اور موکد ہوجائے کہ جس سے پوچھو گے یہی جواب دے گا، دوسرا احتمام ہی نہیں جیسے کوئی شخص نصب النہار کے وقت کسی سے کہے کہ کیا یہ دن نہیں ہے اس کی صورت میں تو استفہام کی ہے مگر درحقیقت اسکے انتہائی واضح ہونے کا بیان ہے۔ اسی لئے ایسے مواقع میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ حرف ھل بمعنے قد ہے جو تحقیق واقع کے لئے بولا جاتا ہے۔ بہر دو صورت مطلب آیت کا یہ ہے انسان پر ایک زمانہ دراز ایسا گزار ہے کہ دنیا میں کہیں اس کا نام ونشان یہاں تک کہ ذکر و تذکرہ تک نہ تھا۔ لفظ حین تنوین کے ساتھ ذکر کرنے سے اس وقت اور زمانے کی درازی کی طرف اشارہ ہے اور اس آیت میں یہ زمانہ دراز انسان پر گزرنا بیان فرمایا ہے جس میں اس کا فی الجملہ کسی نہ کسی طرح کا وجود ہونا لازمی ہے عدم محض کے زمانے کو تو انسان پر گزرنا نہیں کہا جاسکتا اس لئے اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس زمانے دراز سے جو انسان پر گزرا وہ زمانہ مراد ہے جو قرار حمل کے بعد سے پیدائش تک کا وقت ہے جو عادة نو مہینے ہوتے ہیں کہ اس میں انسان کی تخلیق پر جتنے دور گزرتے ہیں نفطہ سے لے کر جسم اور اعضا اور پھر اس میں روح حیات آنے تک وہ سب شامل ہیں۔ اس پورے زمانے میں اگرچہ اس کا وجود ایک طرح قائم ہوچکا ہے مگر نہ کوئی جانتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی نہ کوئی اس کا نام ہے نہ کسی کو اس کی شکل و صورت معلوم ہے اس لئے اس کا کہیں ذکر و تذکرہ تک نہیں ہے اور اگر اس کو وسیع ترمعنے دیئے جائیں تو تخلیق انسانی کی ابتدا جس طرح نطفہ سے سمجھی گئی ہے وہ نطفہ بھی جس غذا سے پیدا ہوا وہ غذا اور غذا سے پہلے اس غذا کا مادہ کسی نہ کسی صورت سے دنیا میں تھا اگر اس زمانے کو بھی شامل رکیں تو یہ زمانہ درازہزاروں سال کا ہوسکتا ہے۔ بہرحال حق تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کو ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلائی کہ اس میں ذرا بھی شعور ہوا اور کچھ بھی غور کرے تو اس کو اپنی حقیقت کے انکشاف کے ساتھ اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے وجود اور علم وقدرت پر مکمل ایمان و یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اگر ایک ستر برس کا انسان اس کا مراقبہ کرے اور اس پر غور کرے کہا اب سے اکہتر سال پہلے اس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور نہ اس کا کسی عنوان سے کوئی ذکر کرسکتا تھا۔ ماں باپ اور دادا دادی کے دل میں بھی اس کے مخصوص وجود کا کوئی خطرہ تک نہ تھا گو مطلق بچہ کا تصور ہو۔ اس وقت کیا چیز اس کی ایجادو تخلیق کی داعی ہوئی اور کس مخیر العقول قدرت نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ذرات کو اس کے وجود میں سمو کر اس کو ایک ہوشیار دانا، سمیع وبصیر انسان بنادیا تو وہ بےساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا۔ مانبودیم و تقاضا مانبود ٭لطف تو ناگفتہ مامی شنود
Ayahs 76:2–5

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

جو زبان پر آتی ہم نے بنایا آدمی کو ایک دورنگی بوند سے ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کردیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والا

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو سمجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے تیار کر رکھی ہیں منکروں کے واسطے زنجیریں اور طوق اور آگ دہکتی

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

البتہ نیک لوگ پیتے ہیں پیالہ جس کی ملونی ہے کافور

اس کے بعد تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان اس طرح فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاج یعنی ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے امشاج، مشج یا مشیج کی جمع ہے جس کے معنے مخلوط کے آتے ہیں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاص اربعہ یعنی خن، بلغم، سودا، صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔ ہر انسان کی تخلیق میں دنیا بھر کے اجزاء اور ذرات کی شمولیت۔ اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاط اربعہ مذکورہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز نلکوں اور خطوں کے اجزاء آب و ہوا وغیرہ کے ذریعہ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک انسان کے موجودہ جسم کا تجزیہ اور تحلیل کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایسے اجزاء اور ذرات کا مجموعہ ہے جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں بکھرے ہوئے تھے۔ قدرت کے نظام عجیب نے حیرت انگیز طریقہ پر ان کو اس کے وجود میں سمویا ہے۔ اگر امشاج کا مطلب یہ لیا جائے تو اس جگہ لفظ امشاج کے ذکر سے منکرین قیامت کے سب سے بڑے شبہ کا ازالہ بھی ہوجائے گا کیونکہ ان خداناشناس لوگوں کے نزدیک قیامت قائم ہونے اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے میں سب سے بڑا اشکال یہی ہے کہ انسان مر کر مٹی اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر دنیا میں بکھر جاتا ہے ان کو دوبارہ جمع کرنا پھر ان میں روح ڈالنا ان کے نزدیک گویا ناممکن ہے۔ امشاج بمعنے اخلاط کی تفسیر میں ان کے اس شبہ کا ایک واضح جواب ہے کہ ابتدائی تخلیق انسانی میں بھی تو دنیا بھر کے اجزاء و ذرات شامل تھے جس کو یہ ابتدائی تخلیق مشکل نہ ہوئی اس کے لئے اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیوں مشکل ہوگیا اور اس تفسیر پر لفظ امشاج کا اس جگہ اضافہ بھی ایک مستقل فائدہ کے لئے ہوسکتا ہے واللہ اعلم۔ نبتلیہ ابتلاء سے مشتق ہے جس کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں یہ تخلیق انسانی کی غرض و حکمت کا بیان ہے کہ انسان کو اس شان کیساتھ پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے جس کا بیان اگلی آیتوں میں آیا ہے کہ ہم نے انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ اس کو راستہ دکھلا دیا کہ یہ راستہ جنت کی طرف اور دوسرا دوزخ کی طرف جاتا ہے اور اسے اختیار دے دیا کہ ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرے چناچہ ان میں دو گرو ہوگئے اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا یعنی ایک گروہ ان لوگوں کا ہوا جنہوں نے اپنے پیدا کرنے والے اور نعمت دینے والے کو پہچان کر اس کا شکرادا کیا اور اس پر ایمان لایا دوسرا گروہ وہ ہوا جس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور کافر رہا۔ اس کے بعد ان دونوں گروہوں کی جزا اور انجام کا ذکر فرمایا کہ کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور جہنم ہے اور ابرار یعنی ایمان و اطاعت کے پابند لوگوں کے لئے بڑی نعمتیں ہیں سب سے پہلے پینے کی چیزوں کا ذکر فرمایا کہ ان کو ایسا جام شراب دیا جائے گا جس میں کافور کی آمیزش ہوگی (يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا) بعض مفسرین نے فرمایا کہ کافور جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے اس شراب میں لذت و کیفیت بڑھانے کے لئے اس چشمہ کا پانی شامل کیا جائے گا اور کافور کے مشہور معنے لئے جاویں تو یہ ضروری نہیں کہ جنت کا کا فور بھی دنیا کے کافور کی طرح ہو کھانے پینے کے قابل نہ ہو اس کافور کی خصوصیات جدا ہوں۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں بندے اللہ کے چلاتے ہیں وہ اس کی نالیاں

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللہ لفظ عینا ترکیب نحوی میں کافوراً کا بدل بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں یہ متعین ہوجاتا ہے کہ آیت مذکورہ میں کافور سے مراد چشمہ جنت ہے اور عباد اللہ سے مراد وہی اللہ کے نیک بندے ہیں جن کا ذکر پہلے ابرار کے عنوان سے کیا گیا ہے اور اگر عینا کو من کاس سے بدل قرار دیں تو یہ کسی دوسرے چشمہ اور پانی کا بیان ہے اور اس صورت میں عباد اللہ سے مردا اہل جنت کی کوئی دوسری جماعت ہے جو ابرار سے کم درجہ میں ہیں۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

پورا کرتے ہیں منت کو اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ اس کی برائی پھیل پڑے گی

يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ یہ بیان اس کا ہے کہ ابرار اور عباد اللہ کو یہ انعامات کس بناء پر ملیں گے۔ معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ جس کام کی اللہ کے لئے نذر (منت) مان لیتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔ نذر کے لفظی معنے یہ ہیں کہ آپ اپنے اوپر کوئی ایسا کام واجب کرلیں جو شریعت سے آپ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ ایسی نذر کو پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے جس کی کچھ تفصیل آگے آتی ہے۔ یہاں اہل جنت کی جزائے عظیم اور انعامات کا سبب ایفائے نذر کو قرار دیا ہے۔ اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ یہ لوگ جب اپنی طرف واجب کردہ چیزوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں تو جو فرائض و واجبات ان کے اختیار سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر لازم کئے گئے ہیں ان کا اہتمام بدرجہ اولیٰ کرتے ہوں گے۔ اس طرح لفظ ایفائے نذر میں درحقیقت تمام واجبات شرعیہ اور فرائض کی ادائیگی شامل ہوگئی اور انعامات جنت کا سبب مکمل اطاعت اور تمام فرائض و واجبات کو ادا کرنا ہوگا۔ بہرحال اس جملے سے ایفائے نذر کی اہمیت اور وجوب ثابت ہوا۔ مسئلہ۔ نذر (منت) کے منعقد ہونے کے لئے چند شرائط ہیں۔ اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز و حلال ہو معصیت نہ ہو۔ اگر کسی نے کسی گناہ اور ناجائز کام کی نذر مان لی تو اس پر لازم ہے کہ وہ ناجائز کام نہ کرے اپنی قسم کو توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کرے، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے واجب نہ ہو اس لئے اگر کوئی شخص نماز فرض یا وتر واجب کی نذر مان لے تو یہ نذر لغو ہوگی وہ فرض یا واجب پہلے ہی سے اس پر واجب الادا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ جس کام کو بذریعہ نذر اپنے اوپر واجب کیا ہے اس کی جنس سے کوئی عبادت شریعت میں واجب کی گئی ہو جیسے نماز روزہ صدقہ قربانی وغیرہ اور جس کی جنس سے شرعاً کوئی عبادت مقصود نہیں ہے اس کی نذر ماننے سے نذر لازم نہیں ہوتی جیسے کسی مریض کی عیادت یا جنازے کے پیچھے چلنا وغیرہ جو اگرچہ عبادات ہیں مگر عبادت مقصودہ نہیں، نذر و یمین کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جائے۔
Ayahs 76:8–15

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم جو تم کو کھلاتے ہیں سو خالص اللہ کی خوشی چاہنے کو نہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ایک دن اداسی والے کی سختی سے

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر بچا لیا ان کو اللہ نے برائی سے اس دن کی اور ملا دی ان کی تازگی اور خوش وقتی

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور بدلہ دیا ان کو ان کے صبر پر باغ اور پوشاک ریشمی

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھیں اس میں تختوں کے اوپر نہیں دیکھتے وہاں دھوپ اور نہ ٹھہر

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور جھک رہیں ان پر اس کی چھائیں اور پست کر رکھے ہیں اس کے گچھے لٹکا کر

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور لوگ لئے پھرتے ہیں ان کے پاس برتن چاندی کے اور آجورے جو ہو رہے ہیں شیشے کے

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا کھلانا حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہے جو شخص اس کو کھانا کھلاتا ہے وہ گویا حکومت اور بیت المال کی اعانت کرتا ہے اس لئے قیدی چاہے کافر بھی ہو اس کو کھانا کھلاتا ہے وہ گویا حکومت اور بیت المال کی اعانت کرتا ہے اس لئے قیدی چاہے کافر بھی ہو اس کو کھانا کھلانا ثواب ہوگا خصوصاً ابتدائے اسلام میں توقیدیوں کا کھانا پینا اور ان کی حفاظت عام مسلمانوں میں تقسیم کر کے ان کے ذمہ کردی جاتی تھی جیسے غزوہ بدر کے قیدیوں کیساتھ معاملہ کیا گیا۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے ہیں چاندی کے ماپ رکھا ہے ان کا ماپ

قواریرا من فضتہ دنیا میں چاندی کا برتن کشیف ہوتا ہے آئینہ کی طرح نہیں ہوسکتا اور جو کانچ سے تیار کیا جاتا ہے وہ چاندی نہیں ہوسکتا ان دونوں میں تضاد ہے مگر یہ جنت کی خصوصیت ہے کہ وہاں کی چاندی آئینہ کی طرح شفاف ہوگی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جنت میں جتنی چیزیں ملیں گی ان سب کی نظیر اور شبیہ دنیا میں بھی ملتی ہیں سوائے ان گلاسوں اور برتنوں کے جن کی ساخت چاندی سے ہے مگر آئینہ کی طرح شفاف ہیں۔
Ayahs 76:17–20

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو وہاں پلاتے ہیں پیالے جس کی ملونی ہے سونٹھ

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے اس میں اس کا نام کہتے ہیں سلسبیل

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور پھرتے ہیں ان کے پاس لڑکے سدا رہنے والے جب تو ان کو دیکھے خیال کرے کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا، زنجبیل کے معروف معنے سونٹھ کے ہیں اور عرب لوگ شراب میں اس کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لئے اس کو جنت میں بھی اختیار کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی چیزوں میں نام کے اشتراک کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں اس لئے وہاں کی زنجبیل کو دنیا کی زنجیل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اوپر کی پوشاک ان کی کپڑے ہیں باریک ریشم کے سبز اور گاڑھے اور ان کو پہنائے جائیں گے کنگن چاندی کے اور پلائے ان کو ان کا رب شراب جو پاک کرے

وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ، اساور، سوار کی جمع ہے کنگن کو کہا جاتا جو ہاتھوں میں پہننے کا زیور ہی اس آیت میں چندی کے کنگن کا ذکر ہے اور ایک دوسری آیت میں اساور رمن ذھب آیا ہے یعنی کنگن سونے کے، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت چاندی کے کسی وقت سونے کے کنگن استعمال کئے جاویں یا بعض کے کنگن سونے کے ہوں بعض کے چاندی کے، مگر ایک سوال اس جگہ بہرحال ہے کہ چاندی کے کنگن ہوں یا سونے کے بہرحال یہ زیور ہیں جو عورتوں کے استعمال کے لئے ہوتے ہیں۔ مردوں کے لئے ایسے زیور پہننا عیب سمجھا جاتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا عورتوں یا مردونکے لئے مخصوص ہونا اور ان کے لئے مستحسن یا عیب ہونا یہ چیز عرف و عادت کے تابع ہوتی ہے بعض ملکوں یا قوموں میں ایک چیز بڑی عیب اور بری سمجھی جاتی ہے دوسری قوموں میں وہ بڑا حسن سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں ملوک کسریٰ ہاتھوں میں کنگن اور سینے اور تاج میں زیورات اسعتمال کرتے تھے اور یہ ان کا خاص امتیاز و اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ ملک کسریٰ فتح ہونے کے بعد جو خزائن کسریٰ مسلمانوں کو ہاتھ آئے ان میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے۔ جب دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں کے معمولی جغرافیائی اور قومی تفاوت سے یہ معاملہ مختلف ہوسکتا ہے تو جنت کو دنیا پر قیاس کرنے کے کوئی معنے نہیں ہوسکتا ہے کہ وہاں زیور مردوں کے لئے بھی مستحسن سمجھا جائے۔
Ayahs 76:22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

دل کو یہ ہے تمہارا بدلہ اور کمائی تمہاری ٹھکانے لگی

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم نے اتارا تجھ پر قرآن سہج سہج اتارنا

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو تو انتظار کرتا اپنے رب کے حکم کا اور کہنا مت مان ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکر کا

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور لیتا رہ نام اپنے رب کا صبح اور شام

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کسی وقت رات کو سجدہ کر اس کو اور پاکی بول اس کی بڑی رات تک

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں جلدی لنے والے کو اور چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو بنایا اور مضبوط کیا ان کی جوڑ بندی کو اور جب ہم چاہیں بدل لائیں ان جیسے لوگ بدل کر

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے پھر جو کوئی چاہے کر رکھے اپنے رب تک راہ

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہو گے مگر جو چاہے اللہ بیشک اللہ ہے سب کچھ جاننے والا حکمتوں والا

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

داخل کرلے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور جو گنہگار ہیں تیار ہے ان کے واسطے عذاب درد ناک۔

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے بڑا انعام تنزیل قرآن ہے اس انعام عظیم کا ذکر کرنے کے بعد اول تو آپ کو اس کی ہدایت کی گئی کہ مخالفین و کفار کی طرف سے جو ضد و انکار اور ان کی ایذاؤں کی تکلیف آپ کو پہنچتی ہے آپ اس پر صبر سے کام لیں۔ دوسرے اللہ کی عبادت کو دن رات کا مشغلہ بنائیں اسی سے کفار کی اذیت کا بھی ازالہ ہوگا۔ آخر میں معاند کفار کے کفر پر جمے رہنے کی وجہ بتلائی گئی کہ یہ جاہل دنیا کی سطحی سرسری اور فانی لذتوں میں ایسے مست ہوگئے کہ انجام کو یعنی آخرت کو بھلا بیٹھے حالانکہ ہم نے دنیا میں بھی خود ان کے وجود میں ایسی چیزیں رکھی تھیں کہ ان میں غور کرتے تو اپنے خالق ومالک کو پہچانتے۔ مثلاً نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَهم یعنی ہم نے ہی ان کو پیدا کیا اور ان کے وجود کی صنعت میں ایک خاص کمال یہ رکھا کہ اس کے جوڑ بند مضبوط و مستحکم بنائے۔ انسانی جوڑ بند میں کرشمہ قدرت۔ اس میں اس بات کی طرف ہے کہ انسا ناپنے ایک جوڑ بند پر نظر ڈالے کہ بتقاضائے حکمت و راحت انسانی جوڑ دیکھنے میں نرم و نازک معلوم ہوتے ہیں اور نرم نرم پٹھوں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کا طبعی تقاضا یہ تھا کہ سال دو سال ہی میں یہ جوڑوں کے بندھن اور اعصاب گھس جاتے اور ٹوٹ جاتے خصوصاً جبکہ دن رات وہ حرکت میں رہتے ہیں موڑے توڑے جاتے ہیں اتنی شبانہ روز حرکت کیساتھ تو لوہے کے اسپرنگ بھی سال دو سال میں گھس کر ٹوٹ جاتے ہیں یہ نرم و نازک پھٹے دیکھو کس طرح اعضاء کے جوڑوں کو باندھے ہوئے ہیں نہ گھستے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں۔ انسان اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے جوڑوں کو دیکھے اور حساب لگائے کہ عمر بھر میں ان جوڑوں نے کتنی حرکتیں کی ہیں کیسے کیسے زور اور دباؤ ان پر ڈالے گئے ہیں کہ اگر فولاد بھی ہوتا تو گھس گیا ہوتا مگر یہ جوڑ ہیں جو ستر اسی سال چلنے پر بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ تبارک اللہ احسن الخالقین۔ تمت سورة الدھر بحمداللہ تعالیٰ