77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 77:1–5

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے چلتی ہواؤں کی دل کو خوش آتی

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر جھونکا دینے والیوں کی زور سے

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

پھر ابھارنے والیوں کی اٹھا کر

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر پھاڑنے والیوں کی بانٹ کر

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر فرشتوں کی جو اتار کر لائیں وحی

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نفع پہنچانے کے لئے بھیجی جاتی ہیں پھر ان ہواؤں کی جو سختی سے چلتی ہیں (جس سے خطرات کا احتمال ہوتا ہے) اور ان ہواؤں کی جو بادلوں کو (اٹھا کر) پھیلاتی ہیں (جس کے بعد بارش ہونے لگتی ہے) پھر ان ہواؤں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں (جیسا بارش کے بعد ہوتا ہے) پھر ان ہواؤں کی جو (دل میں) اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں (یعنی یہ ہوائیں مذکورہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کی وجہ سے خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوجانے کا سبب ہوجاتی ہیں اور وہ توجہ دو طور سے ہوتی ہی ایک خوف سے جبکہ ان ہواؤں سے آثار خوف کے نمایاں ہوں اور دوسرا توبہ و معذرت سے اور یہ خوف ورجاء کی دونوں صورت میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہوائیں نفع بخش ہوں تب تو خدا کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کا شکر اور اپنی تصقیرات سے عذر کرتے ہیں اور اگر وہ ہوائیں خوفناک ہوں تو خدا کے عذاب سے ڈر کر اپن معاصی سے توبہ کرتے ہیں، آگے جواب قسم ہے) کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور ہونے والی ہے۔ (مراد قیامت ہے اور یہ سب قسمیں قیامت کے نہایت مناسب ہیں کیونکہ نفخہ اولیٰ کے بعد تمام عالم کی فنار کا واقعہ تیز آندھیوں کے مشابہ ہے اور نفخہ ثانیہ کے بعد کے واقعات مردوں کا زندہ ہونا وغیرہ مشابہ واقعات ہوائے نافع کے ہیں جس سے بارش اور بارش سے حیات بناتی ابھرتی ہے۔ آگے اس کے وقوع پر تفریع فرماتے ہیں) سو جب ستارے بےنور ہو اویں گے اور جب آسمان پھٹ جاوے گا اور جب پہاڑ اڑتے پھریں گے اور جب سب پیغمبر وقت معین پر جمع کئے جاویں گے (اس وقت سب کا فیصلہ ہوگا، آگے اس یوم کا ہولناک ہونا مذکور ہے کہ کچھ معلوم ہے) کس دن کے لئے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے (آگے جواب ہے کہ) فیصلہ کے دن کے لئے (ملتوی رکھا گیا ہے، مطلب اس سوال و جواب کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جو رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہیں اور اب بھی اس امت کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں اور جب اس تکذیب پر عذاب آخرت سے ڈرائے جاتے ہیں تو آخرت کی بھی تکذیب کرتے ہیں اور یہ تکذیب فی نفسہ مقتضی اس کو ہے کہ رسولوں کا جو قصہ کفار سے پیش آ رہا ہے اس کا فیصلہ ابھی ہو جاؤے اور اس کی تاخیر سے کفار کو مزید انکار و تکذیب کا موقع ملتا ہے اور مسلمانوں کو طبی طور پر اس کے جلد ہوجانے کی خواہش ہوتی ہے پس اس آیت میں استعجال کا جواب ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض حکمتوں سے اس کو موخر کر رکھا ہے لیکن واقع ضرور ہوگا اور (آگے اس فیصلہ کے دن کا ہولناک ہونا مذکر ہے کہ) آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا کچھ ہے (یعنی بہت سخت ہے اور جو لوگ اس امر حق یعنی وقوع قیامت کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے نظائر سابقہ کے ذریعہ موجودہ لوگوں کو ڈرانا ہے) کیا ہم اگلے (کافر) لوگوں کو (عذاب سے) ہلاک نہیں کرچکے پھر پچھلوں کو بھی (عذاب میں) ان پہلوؤں ہی کے ساتھ ساتھ کردیں گے (یعنی آپ کی امت کے کفار پر بھی وبال ہلاکت نازل کریں گے جیسا بدر وغیرہ غزوات میں ہوا) ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں (یعنی ان کے کفر پر سزا دیتے ہیں خواہ دارین میں خواہ دار آخرت میں اور جو اس امر حق یعنی کفر پر مستحق عذاب ہونے کے کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے وقوع قیامت اور احیاء موتی کو ذہنوں کے قریب کرنے کے لئے فرمایا) کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی (یعنی نطفہ) سے نہیں بنایا (یعنی ابتداء میں تم نطفہ تھے) پھر ہم نے اس کو ایک وقت مقرر تک ایک محفوظ جگہ (یعنی عورت کے رحم) میں رکھا، غرض ہم نے (ان سب تصرفات کا) اندازہ ٹھیرایا، سو ہم کیسے اچھے اندازہ ٹھیرانے والے ہیں (اس سے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت ثابت ہوئی، پھر جو لوگ اس امر حق یعنی قدرت علی البعث کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے اپنی وقوع قیامت اور احیاء موتی کو ذہنوں کے قریب کرنے کے لئے فرمایا) کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی (یعنی نطفہ) سے نہیں بنایا (یعنی ابتداء میں تم نطفہ تھے) پھر ہم نے اس کو ایک وقت مقرر تک ایک محفوظ جگہ (یعنی عورت کے رحم) میں رکھا، غرض ہم نے (ان سب تصرفات کا) ایک اندازہ ٹھیرایا، سو ہم کیسے اچھے اندازہ ٹھہرانے والے ہیں (اس سے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت ثابت ہوئی، پھر جو لوگ اس امر حق یعنی قدرت علی البعث کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے اپنی بعضی نعمتیں جن سے ترغیب اطاعت و ایمان ہو ذکر فرماتے ہیں یعنی) کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردوں کی سمیٹنے والی نہیں بنایا (کہ زندگی اسی پر بسر ہوتی ہے مرنے کے بعد دفن اور غرق ہوجانے اور جلجانے کی صورت میں بالاخر مٹی ہو کر اجزاء ارضیہ ہی میں کھپ جاتے ہیں اور اس حالت بعد الموت کا نعمت ہوتا اس طرح ہے کہ اگر مردے خاک نہ ہوجایا کرتے تو زندے پریشان ہو کر مردہ سے بدتر ہوجاتے کہ ان کو اپنے بسنے بلکہ چلنے پھرنے کی جگہ نہ ملتی) اور ہم نے اس (زمین) میں اونچے اونچے پہاڑ بنائے (جن سے بہت سے منافع متعلق ہیں) اور ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا (اس نعمت کو خواہ مستقل کہا جاوے یا زمین ہی کے متعلق کہا جاوے کیونکہ مرکز پانی کا بھی زمین ہی ہے اور ان نعمتوں کا مقتضاد جواب توحید ہے۔ پس جو لوگ اس امر حق یعنی وجوب توحید کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (ق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے قیامت کی بعض سزاؤں کا بیان ہے یعنی قیامت کے روز کفار سے کہا جائے گا کہ) تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو جھٹلایا کرتے تھے (جس میں کی ایک سزا وہ ہے جس کا بیان اس حکم میں ہے کہ) ایک سائبان کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں جس میں نہ (ٹھنڈا) سایہ ہے اور نہ وہ گرمی سے بچاتا ہے (مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونک کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر تین ٹکے ہوجاویں گے کمافی الطبری عن قتادة اور فراغ حساب تک کفار اسی دھویں کے احاطہ میں رہیں گے جیسا کہ مقبولین ظل عرش میں ہوں گے کذا فی الخازن، آگ اس دھویں کا اور حال مذکور ہے کہ) وہ انگارے برساوے گا جیسے بڑے بڑے محل جیسے کالے کالے اونٹ (قاعدہ ہے کہ جب چنگاری آگ سے جھڑتی ہے تو بڑی ہوتی ہے۔ پھر بہت سے چھوٹے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرتی ہے پس پہلی تشبیہ ابتدائی حالت کے اعتبار سے ہے اور دوسری شبیہہ انتہائی حالت کے اعتبار سے۔ کذا فی الروح، پھر جو لوگ اس امر حق یعنی اس واقعہ کو جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خربای ہوگی (آگے اور واقعہ متعلق کفار ہے یعنی) یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ لوگ نہ بول سکیں گے اور نہ ان کو اجازت (عذر پیش کرنے کی) ہوگی سو عذر بھی نہ کرسکیں گے (کیونکہ واقع میں کوئی معقول عذر ہوگا ہی نہیں اور جو لوگ اس واقعہ حقہ کو بھی جھٹلا رہے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے بھی اسی یوم کا بیان ہے کہ ان لوگوں سے کہا جاوے گا کہ) یہ ہے فیصلہ کا دن (جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے) ہم نے (آج) تم کو اور اگلوں کو (فیصلے کے لئے) جمع کرلیا سو اگر تمہارے پاس (ج کے نتیجے اور فیصلے سے بچنے کی) کوئی تدبیر ہو تو مجھ پر تدبیر چلا لو (اور یہ کفار اس واقعہ حقہ کی بھی تکذیب کرتے ہیں سو سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کے ثواب کا بیان ہے یعنی) پرہیزگار لوگوں سایوں میں اور چشموں میں اور مرغوب میووں میں ہوں گے (اور ان سے کہا جاوے گا کہ) اپنے اعمال (نیک) کے صلہ میں خوب مزے سے کھاؤ پیو ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (ور یہ کفار نعمائے جنت کی بھی تکذیب کرتے ہیں سو سمجھیں رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی (آگے پھر توبیخ و تنبیہ ہے کفار کو، یعنی اے کافرو !) تم (دنیا میں) تھوڑے دن اور کھال اور برت لو (عنقریب کمبختی آنے والی ہے کیونکہ) تم بیشک مجرم ہو (اور مجرم کا یہی حال ہونے والا ہے اور جو لوگ سزائے جرم کو جھٹلاتے ہیں سمجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی اور (ان کافروں کی سرکشی اور جرم کی یہ حالت ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کی طرف) جھکو (یعنی ایمان اور عبدیت اختیار کرو) تو نہیں جھکتے (اس سے زیادہ کیا جرم ہوگا اور یہ لوگ اس کے جرم ہونے کو بھی جھٹلاتے ہیں سو سجھ رکھیں کہ) اس روز (حق کے) جھٹلانے والوں کی بڑی خربای ہوگی (اور ان تقریعات و تہدیدات قرآنیہ کا مقتضایہ تھا کہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں) تو پھر اس (قرآن بلیغ الالفاظ و الانذار) کے بعد اور کونسی بات پر ایمان لاویں گے (اس میں کفار پر تو بیخ اور ان کے ایمان سے آپ کو مایوس کرنا ہے۔) معارف و مسائل صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ کے ایک غار میں تھے اچانک سورة مرسلات نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ اس کو پڑھتے جانے تھے اور میں آپ کے مبارک منھ سے اس کو سنتا یاد کرتا جاتا تھا، آپ کا دہن مبارک اس سورة کی حلاوت سے رطب (شاداب) ہو رہا تھا اچانک ایک سانپ نے ہم پر حملہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، ہم اس کی طرف جھپٹے وہ نکل بھاگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح تم اس کے شر سے محفوظ رہے وہ بھی تمہارے شر سے محفوظ ہوگیا (ابن کثیر) اس سورت میں حق تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسمیں کھا کر قیامت کے یقینی طور پر آنے کا ذکر فرمایا ہے، ان چیزوں کا نام قرآن میں بیان نہیں کیا گیا البتہ ان کی اس جگہ پانچ صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ مرسلات، عاضعات ناشرات، فارقات، ملقیت الذکر کسی حدیث مرفوع میں اس کی پوری تعیین نہیں آئی کہ ان صفات کے موضوفات کیا ہیں اس لئے صحابہ وتابعین کی تفسیریں اس معاملے میں مختلف ہوگئیں۔ بعض حضرات نے ان پانچوں صفاتک موصوف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور یہ کہ ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کی مختلف جماعتیں ان مختلف صفات کی حامل ہوں۔ بعض حضرات نے ان صفات کا موصوف ہواؤں کو قرار دیا ہے وہ بھی مختلف اقسام اور نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لئے یہ صفات مختلفہ ان میں ہو سکتی ہیں۔ بعض حضرات نے ان کا موصوف خود انبیاء و رسل کو قرار دیا ہے۔ ابن جریر طبری نے اسی لئے اس معاملے میں توقف نے ان کا موصوف خود انباء ورسل کو قرار دیا ہے۔ ابن جریر طبری نے اسی لئے اس معاملے میں توقف اور سکوت کو اسلم قرار دیا کہ احتمال دونوں ہیں ہم اپنی طرف سے کسی کو متعین نہیں کرتے۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ جو پانچ صفات اس جگہ ذکر کی گئی ہیں ان میں سے بعض تو ملائکتہ اللہ پر زیادہ چسپاں اور ان کے مناسب ہیں ان کو ریاح کی صفت بائیں تو کھنیچ تان اور تاویل کرنا پڑتی ہے اور بعض صفات ایسی ہیں جو ریاح یعنی ہواؤں پر زیادہ چسپاں اور واضح ہیں ان کو فرشتوں کی صفت بنائیں تو تاویل کے بغیر نہیں بنتی۔ اس لئے اس مقام میں بہتر فیصلہ ابن کثیر ؒ کا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شروع کی تین صفات ہواؤں کی صفتیں ہیں ان تین میں ریاح اور ہواؤں کی قسم ہوگئی باقی آخری دو صفتیں یہ فرشتوں کی صفات ہیں تو یہ فرشتوں کی قسم ہوگئی۔ ریاح کی صفت قرار دینے میں آخری دو صفتوں میں جو تاویل کی جاتی ہے وہ آپ خلاصہ تفسیر میں دیکھ چکے ہیں کیونکہ اس میں اسی کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے۔ اسی طرح جن حضرات نے ان سب صفات کو صفات ملائکہ قرار دیا ہے ان کو پہلی تین صفات یعنی مرسلات، عاصفات ناشرات کو فرشتوں پر چسپاں کرنے کے لئے اسی طرح کی تاویلات سے کام لینا پڑتا ہے۔ ابن کثیر کے اختیار کے مطابق معنی ان آیتوں کے یہ ہوگئے کہ قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں۔ عرفاً ، یہاں عرفاً کا مفہوم وہ بھی ہوسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر مذکور ہوا یعنی جو دوسخا اور نفع رسانی۔ جو ہوائیں بارش لے کر آتی ہیں ان کی جو دوسخا اور نفع رسانی ظاہر ہے اور دوسرے معنے عرفاً کے متتابع یعنی پے در پے کے بھی آتے ہیں۔ یہ معنے لئے جاویں تو مراد وہ ہوائیں ہوں گی جو بادل اور بارش کو لئے ہوئے مسلسل اور متتابع چلتی ہیں اور عاصفات عصف سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی ہوا کے تیز چلنے کے ہیں اس سے مراد وہ آندھیاں اور تیز ہوائیں ہیں جو بعض اوقات دنیا میں آیا کرتی ہیں اور ناشرات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بارش ختم ہونے کے بعد بادل کو پھاڑ کر منتشر کردیتی ہیں اور فارقات، یہ صفت فرشتوں کی ہے جو وحی الٰہی نازل کر کے حق و باطل میں فرق واضح کردیتے ہیں اور ملقیات ذکر ابھی فرشتوں کی صفت ہے اور ذکر سے مراد قرآن یا مطلق وحی ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ سم ہے ان فرشتوں کی جو بذریعہ وحی حق و باطل میں فرق اور امتیاز واضح کردیتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو انبیاء (علیہم السلام) پر ذکر یعنی وحی اور قرآن کا القاء کرتے ہیں۔ اس طرح کسی صفت میں تاویل اور کھینچ تان کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ رہا یہ سوال کہ اس تفسیر کی بناء پر پہلے ہواؤں کی مختلف اقسام کی قسم کھائی گئی پھر فرشتوں کی، ان دونوں میں ربط اور جوڑ کیا ہے سو کلام الٰہی کی حکمتوں کا احاطہ تو کوئی کر نہیں سکتا، یہ مناسبت بھی ہو سکتی ہے کہ ہواؤں کی دونوں قسمیں بارش والی نفع بخش اور سخت آندھیاں مضرت رساں یہ سب محسوسات میں سے ہیں ہر شخص ان کو پہچانتا ہے پہلے غور و فکر کے لئے انسان کے سامنے ان کو لایا گیا، اس کے بعد فرشتوں اور وحی کو پیش کیا گیا جو محسوس نہیں مگر ذرا سے غور و فکر کرنے پر ان کا یقین ہوسکتا ہے۔
Ayahs 77:6–24

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

الزام اتارنے کو یا ڈر سنانے کو

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

مقرر جو تم سے وعدہ ہوا وہ ضرور ہونا ہے

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پھر جب تارے مٹائے جائیں

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان میں جھروکے پڑ جائیں

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑا دیئے جائیں

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب رسولوں کا وقت مقرر ہو جائے

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس دن کے واسطے ان چیزوں میں دیر ہے

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

اس فیصلے کے دن کی واسطے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تو نے کیا بوجھا کیا ہے فیصلے کا دن

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے مار کھپایا پہلوں کو

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پہلو کو پھر ان کے پیچھے بھجتے ہیں پچھلوں کو

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں گنہگاروں کے ساتھ

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں بنایا تم کو ایک بےقدر پانی سے

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر رکھا اس کو ایک جمے ہوئے ٹھکانے میں

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک وعدہ مقرر تک

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم اس کو پورا کرسکے سو ہم کیا خوب سکت والے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی ہوجاویں، یا یہ کہ موجود رہیں مگر ان کا نور سلب ہوجائے، اس طرح پوری دنیا ایک انتہائی سخت اندھیری میں غرق ہوجائے گی۔ دوسرا حال یہ بیان فرمایا کہ آسمان پھٹ جائیں گے۔ تیسرا یہ کہ پہاڑی روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں۔ چو تھا حال یہ بتلایا گیا وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ، اقتت، توقیت سے مشتق ہے جس کے اصلی معنے تعیبین وقت اور تحدید وقت کے ہیں اور بقول زمخشری کبھی اس کے معنے کسی مقررہ وقت پر پہنچ جانے کے بھی آتے ہیں (کمال فی الروح) اس جگہ یہی دوسرے معنے مناسب ہیں اور معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ انبیاء و رسل کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس میں اپنی اپنی امتوں کے معاملے میں شہادت کے لئے حاضر ہو اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آ گیا۔ اسی لئے خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ترجمہ انبیاء کے جمع کرنے کے ساتھ کیا گیا۔ آگے قیامت کے دن کے عظیم اور ہولناک ہونے کا بیان ہے کہ وہ فیصلہ کا دن ہے جس میں مکذبین اور کفار کے لئے تباہی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Ayahs 77:25–31

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں بنائی زمین سمیٹنے والی

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کو اور مردوں کو

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور رکھے ہم نے زمین میں بوجھ کے لئے پہاڑ اونچے اور پلایا ہم نے تم کو پانی میٹھا پیاس بجھانے والا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

چل کر دیکھو جس چیز کو تم جھٹلاتے تھے

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو ایک چھاؤں میں جس کی تین پھانکیں ہیں

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ گہری چھاؤں اور نہ کچھ کام آئے تپش میں

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 25؀ۙاَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا یعنی ہم نے زمین کو کفات بنایا ہے زندہ اور مردہ انسانوں کے لئے کفات، کفت سے مشتق ہے جس کے معنے ملانے اور جمع کرلینے کے ہیں کفات وہ چیز جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ زندہ انسان اس کی پیٹھ پر سوار ہیں اور مردے سب اس کے پیٹ میں جمع ہیں۔
Ayahs 77:32–34

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ پھینکتی ہے چنگاریاں جیسے محل گویا

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

وہ اونٹ ہیں زرد

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ 32؀ۚكَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْر، قصر کے معنی بڑا عالیشان محل اور جمالہ بمعنے جمل اونٹ کو کہا جاتا ہے۔ صفر، اصفر کی جمع ہے جس کے معنے زرد کے ہیں۔ مراد آیت کی یہ ہے کہ اس جہنم کی آگ سے اتنے بڑے بڑے شرارے اٹھیں گے جو ایک مستقل محل عالیشیان کی برابر ہوں گے پھر وہ متفرق ہو کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوں گے وہ ٹکڑے زرد اونٹوں کہ برابر ہوں گے اور بعض حضرات نے اس جگہ صفر کا ترجمہ سیاہ کیا ہے کیونکہ زرد اونٹ کی زردی سیاہی مائل ہوتی ہے۔ (روح)