77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 77:35–45

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے کہ نہ بولیں گے

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ان کو حکم ہو کہ توبہ کریں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ ہے دن فیصلے کا جمع کیا ہم نے تم کو اور اگلوں کو

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پھر اگر کچھ داؤ ہے تمہارا تو چلا لو مجھ پر

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 77:41 in the Quran reader

البتہ جو ڈرنے والے ہیں وہ سائے میں ہیں اور نہروں میں

وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 77:42 in the Quran reader

اور میوے جس قسم کے وہ چاہیں

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 77:43 in the Quran reader

کھاؤ اور پیؤ مزے سے بدلہ ان کاموں کا جو تم نے کئے تھے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 77:44 in the Quran reader

ہم یونہی دیتے ہیں بدلہ نیکی والوں کو

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:45 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)
Ayahs 77:46–47

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 77:46 in the Quran reader

کھالو اور برت لو تھوڑے دنوں بیشک تم گنہگار ہو

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:47 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ ، یعنی کھاؤ پیو اور آرام اٹھا لو تھوڑے دن کیونکہ تم مجرم ہو، آخر کار سخت عذاب میں جانا ہے۔ یہ مکذبین کو خطاب ہے۔ دنیا میں، انبیاء کے ذریعہ ان کو کہا گیا ہے کہ یہ تمہارا عیش و آرام چند روزہ ہے پھر عذاب ہی عذاب ہے (کذا فسرہ، ابوحیان)
Ayahs 77:48–49

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ Open ayah 77:48 in the Quran reader

اور جب کہیئے ان کو کہ جھک جاؤ نہیں جھکتے

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:49 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ ، یہاں اکثر مفسرین کے نزدیک رکوع سے مراد اس کے لغوی معنی یعنی جھکنا اور اطاعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب دنیا میں ان کو احکام الٰہیہ کی اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا تو یہ اطاعت نہ کرتے تھے۔ اور بعض حضرات نے رکوع کے اصطلاحی معنے بھی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ان کو نماز کی طرف بلایا جاتا تھا تو یہ نماز نہ پڑھتے تھے۔ رکوع بول کر پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ (روح)
Ayah 77:50

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 77:50 in the Quran reader

اب کس بات پر اس کے بعد یقین لائیں گے۔

فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ، یعنی جب یہ لوگ قرآن جیسی عجیب و غریب بلیغ اور رحمتوں سے پر واضح دلائل کی کتاب پر ایمان نہ لائے تو اس کے بعد اب کس بات پر ایمان لائیں گے مراد ان کے ایمان سے مایوسی کا اظہار ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب تلاوت کرنے وال اس آیت پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہئے امنا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ نماز سے خارج میں اور نوافل میں یہ الفاظ کہنے چاہئیں مگر فرائض میں اور سنن میں اس زیادتی سے احتراز کرنا روایات حدیث سے ثابت ہے اس لئے اس میں نہ کہا جائے۔ واللہ اعلم تمت سورة المرسلت بحمد اللہ الاخریوم من رجب 1391 ھ و بحمد تم الجزالتاسع والعشرون من القرآن اللہ الموفق لاتمام الباقی