78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 78:1–8

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

کیا بات پوچھتے ہیں لوگ آپس میں پوچھتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑی خبر سے

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں وہ مختلف ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں اب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر بھی ہرگز نہیں اب جان لیں گے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو پچھونا

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تم کو بنایا ہم نے جوڑے جوڑے

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں جس میں یہ لوگ (اہل حق کیساتھ) اختلاف کر رہے ہیں (مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعدالابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے، آگے ان کے اختلاف کا بےوجہ اور باطل ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ قیامت آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (یعنی جب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان پر عذاب واقع ہوگا تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجاوے گی اور ہم) پھر (کرر کہتے ہیں کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہ آوے گی) ہرگز ایسا نہیں (بلکہ آوے گی اور) ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے (اور چونکہ وہ لوگ اس کو مستبعد یا محال سمجھتے ہیں، آگے اس کے امکان اور وقوع کا بیان ہے کہ اس کو محال سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو (زمین) کی میخیں نہیں بنایا (یعنی مثل میخوں کے بنایا، جیسا کسی چیز میں میخیں لگا دینے سے وہ چیز اپنی جگہ سے نہیں ہلتی اسی طرح زمین کہ پہاڑوں سے مستقر کردیا اس کی تحقیق سورة نحل میں گز چکی ہے) اور (اس کے علاوہ ہم نے اور بھی دلائل قدرت ظاہر فرمائے چنانچہ) ہم ہی نے تم کو جوڑا جوڑا (یعنی مرد و عورت) بنایا اور ہم ہی نے تمہاری نیند کو حراحت کی چیز بنایا اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنایا اور ہم ہی نے دن کو معاش کا وقت بنایا اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ہم ہی نے (آسمان میں) ایک روشن چراغ بنایا (مراد آفتاب ہے بقولہ تعالیٰ وجعل الشمس سراجاً) اور ہم ہی نے پانی بھرے بادلوں سے بہت پانی برسایا تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی اور گنجان باغ پیدا کریں (اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ یہ بیان تھا امکان کا آگے وقوع کا ذکر ہے کہ) بیشک فیصلہ کا دن ایک معین وقت ہے یعنی جس دن صور پھونکا جاوے گا پھر تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آؤ گے (یعنی ہر امت جدا جدا ہوگی، پھر مومن جدا، کافر جدا، پھر ابرار جدا، شرار جدا، سب ایک دوسرے سے ممتاز ہو کر میدان قیامت میں حاضر ہوں گے) اور آسمان کھل جاوے گا پھر اس میں دروازے ہی دروازے ہوجاویں گے (یعنی اسقدر بہت سا کھل جاوے گا جیسے بہت سے دروازے ملا کر بہت بڑی جگہ کھلی ہوتی ہی پس لکام مبنی ہے تشبیہ پر، اب یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ دروازے تو آسمان میں اب بھی ہیں پھر اس دن دروازے ہونے کے کیا معنی اور یہ کھلنا نزول ملائکہ کے لئے ہوگا جیسے سورة فرقان میں تشق السماء سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کی شرح وہاں گزری ہے) اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیئے جائیں گے سو وہ ریت کی طرح ہوجاویں گے (کقولہ تعالیٰ کثیباً مھیلاً اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے البتہ تسییر جبال میں یہاں بھی اور جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے عالم کی سب چیزیں اپنی ہئیت پر عود کر آویں گی، جب حساب کا وقت آوے گا پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جاوے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آویں، اور یا یہ نفخہ اولیٰ کا وقتہ و گا جس سے خود فنا کرنا مقصود بالذات ہوگا، پھر اس تقدیر پر یوم کو ان سب واقعات کا ظرف فرمانا اس بناء پر ہوگا کہ نفخہ اولیٰ سے نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا، واللہ اعلم آگے اس یوم الفصل میں جو فیصلہ ہوگا اس کا بیان ہے یعنی) بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے (یعنی عذاب کے فرشتے انتظار اور تاک میں ہیں کہ کافر آویں تو ان کو پکڑتے ہی عذاب دینے لگیں اور وہ) سرکشوں کا ٹھکانا (ہے) جس میں وہ بےانتہا زمانوں (پڑے) رہیں گے (اور) اس میں نہ تو وہ کسی ٹھنڈک (یعنی راحت) کا مزہ چکھیں گے (اس سے زمہریر یعنی سخت سردی کی نفی نہیں ہوئی،) اور نہ پینے کی چیز کا (جس سے پیاس بجھے) بجز گرم پانی اور پیپ کے یہ (ان کو) پورا بدلہ ملے گا (ور وہ اعمال جن کا یہ بدلہ ہے یہ ہیں کہ) وہ لوگ حساب (قیامت) کا اندیشہ نہ رکھتے تھے اور ہماری (ان) آیتوں کو (جن میں حساب و دیگر امور حقہ کی خبر تھی) خوب جھٹلاتے تھے اور ہم نے (ان کے اعمال میں سے) ہر چیز کو (ان کے نامہ اعمال میں) لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے سو (ان اعمال پر ان کو مطلع کر کے کہا جاوے گا کہ اب ان اعمال کا) مزہ چکھو کو ہم تم کو سزا ہی بڑھاتے چلے جائیں گے (یہ تو کافروں کا فیصلہ ہوا آگے اہل ایمان کا فیصلہ مذکور ہے کہ) خدا سے ڈرنے والوں کے لئے بیشک کامیابی ہی یعنی (کھانے اور سیر کو) باغ (جن میں طرح طرح کے میوے ہوں گے) اور انگور (یہ تخصیص بعد التعمیم اہتمام شان کے لئے ہے) اور (دل بہلانے کو) نوخاستہ ہم عورتیں ہیں اور (پینے کو) لبالب بھرے ہوئے جام شراب (اور) وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ (کیونکہ یہ باتیں وہاں محض معدوم ہیں) یہ (ان کو ان کی نیکیوں کا) بدلہ ملے گا جو کہ کافی انعام ہوگا آپ کے رب کی طرف سے جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو دونوں کے درمیان میں ہیں (اور جو) رحمان ہے (اور) کسی کو اس کی طرف سے (مستقل) اختیارنہ ہوگا کہ (اس کے سامنے) عرض معروض کر کے س۔ جس روز تمام ذی ارواح اور فرشتے (خدا کے روبرو) صف بستہ (خشوع و خضوع کے ساتھ) کھڑے ہوں گے (اس روز) کوئی بول نہ سکے گا بجز اس کے جسکو رحمان (بولنے کی) اجازت دیدے اور وہ شخص بات بھی ٹھیک کہے (ٹھیک بات سے مراد وہ بات جس کی اجازت دی گئی ہے یعنی بولنا بھی محدود و مقید ہوگا، یہ نہیں کہ جو چاہے بولنے لگے اور مستقل اختیار سے اوپر یہی مراد ہے، آگے اوپر کے تمام مضامین کا خلاصہ ہے کہ) یہ (دن جس کا اوپر ذکر ہوا) یقینی دن ہے سو جسکا جی چاہے (اس کے حالات سن کر) اپنے رب کے پاس (اپنا) ٹھکانا بنا رکھے (یعنی نیک عمل کرے کہ وہاں نیک ٹھکانا ملے، آگے اتمام حجت ہے کہ لوگو) ہم نے تم کو ایک نزدیک آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے (جو کہ ایسے دن میں واقع ہونے والا ہے) جس دن ہر شخص ان اعمال کو (اپنے سامنے حاضر) دیکھ لے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں کئے ہوں گے اور کافر (حسرت سے) کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوجاتا (تاکہ عذاب سے بچتا اور یہ اس وقت کہے گا جب چوپائے جانور مٹی کردیئے جاویں گے، رواہ فی الدرعن ابی ہریرة۔) معارف وسائل عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ لفظ عم دو حرفوں سے مرکب عن اور ماحرف ما استفہام کے لئے آتا ہے۔ اس ترکیب میں حرف ما میں سے الف ساقط کردیا گیا ہے معنے یہ ہوئے کہ یہ لوگ کس چیز میں باہمی سوال و جواب کر رہے ہیں۔ پھر خود ہی اس کا جواب دیا گیا عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ ۙالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْن، لفظ انباء کے معنے خبر کے ہیں مگر ہر خبر کو نبار نہیں بلکہ جب کوئی عظیم الشان خبر ہو اس کو نباء کہا جاتا ہے مراد اس انبا یعنی خبر عظیم الشان سے قیامت ہے اور معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ اہل مکہ اس عظیم الشان خبر یعنی قیاتم کے بارے میں بحث اور سوال جواب کر رہے ہیں جس میں ان کے آپس میں اختلاف ہو رہا ہے۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تو کفار مکہ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر اس کے متعلق رائے زنی اور چہ میگوئیاں کیا کرتے تھے۔ قرآن میں قیامت کا ذکر اہمیت کیساتھ آیا ہے اور ان کے نزدیک گویا یہ محال چیز تھی اس لئے اس میں گفتگو بکثرت چلتی تھی، کوئی تصدیق کرتا کوئی انکار، اس لئے اس سورت کے شروع میں انکا یہ حال ذکر کر کے آگے قیامت کا واقع ہونا مذکور ہے اور ان کے نزدیک جو اس کے واقع ہونے میں اشکال اور استبعاد تھا اس کا جواب دیا گیا اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ سوال جواب کوئی واقعی تحقیق کے لئے نہیں تھا بلکہ محض استہزاٗ تمسخر کے لئے تھا واللہ اعلم، قرآن کریم نے ان کے جواب میں ایک ہی جملہ کو تاکید کے لئے دو مرتبہ فرمایا ۭكَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ ۝ ۙثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْن، کلا کے معنی ہیں ہرگز نہیں، مراد یہ ہے کہ یہ سوال و جواب اور بحث و تحقیق سے سمجھ میں آنے والی چیز نہیں، وہ تو اجب سامنے آوے گی اس وقت حقیقت معلوم ہوگی۔ یہ ایک ایسی یقینی چیز ہے جس میں بحث وسوال اور انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر فرمایا کہ اس کی حقیقت خود ان لوگوں پر عنقریب واضح ہوجائے گی یعنی مرنے کے بعد ان کو دوسرے عالم کی چیزوں کا انکشاف ہوگا اور وہاں کے ہولناک مناظر کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے اس وقت حقیقت کھل جائے گی۔ اس کے بعد حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت و صنعت کے چند مناظر کا ذکر فرمایا ہے جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ اس سارے عالم کو ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پھر ویسا ہی پیدا کر دے، اس میں زمین اور اس کے پہاڑوں کی تخلیق پھر انسان کی تخلیق مرد و عورت کے جوڑے کی صورت میں بیان فرمائی پھر انسان کی راحت اور صحت اور کاروبار کے لئے سازگاز حالات پیدا کرنے کا ذکر فرمایا، اس میں ایک یہ ارشاد ہے ۙوَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتا سبات سبت سے مشتق ہے جس کے معنی مونڈنے اور قطع کرنے کے ہیں، نیند کو حق تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ہے کہ وہ انسان کے تمام ہموم و غموم اور افکار کو قطع کر کے اس کے قلب کو دماغ کو ایسی راحت دیتی ہے کہ دنیا کی کوئی راحت اس کا بدل نہیں ہو سکتی، اس لئے سبات کا ترجمہ بعض حضرات نے راحت سے بھی کیا ہے۔
Ayahs 78:9–10

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور بنایا نیند کو تمہاری تھکان رفع کرنے کے لئے

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور بنایا رات کو اوڑھنا

نیند بہت بڑی نعمت ہے یہاں حق تعالیٰ نے انسان کو جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجئے تو یہ ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار یہی ہے اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے عام ایسا فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت یکساں بیک وقت عطا ہوتی ہے، بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان، راحت کا مکان، ہوا اور سردی گرمی کے اعتدال کی جگہ، نرم گدے تکیے سب کچھ ہوتے ہیں جو غریبوں کو بہت کم ملتے ہیں مگر نیند کی نعمت ان گدوں تکیوں یا کوٹھی بنگلوں کی فضا کے تابع نہیں، وہ تو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو براہ راست اس کی طرف سے ملتی ہے بعض اوقات مفلس بےسامان کو بغیر کسی بستر تکئے کے کھلی زمین پر یہ نعمت فراوانی سے دے دیجاتی ہے اور بعض اوقات ساز و سامان والوں کو نہیں دی جاتی، ان کو خواب آور گولیاں کھا کر حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ گولیاں بھی کام نہیں کرتیں، پھر غور کرو کہ اس نعمت کو حق تعالیٰ نے جیسا ساری مخلوق انسان اور جانور کے لئے عام فرمایا ہے اور مفت بلا محنت سب کو یاد ہے اس سے بڑی نعمت یہ ہے کہ صرف مفت بلا محنت ہی نہیں بلکہ اپنی رحمت کاملہ سے اس نعمت کو جبری بنادیا ہے کہ انسان بعض اوقات کام کی کثرت سے مجبور بنادیا ہے کہا نسان بعض اوقات کام کی کثرت سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ رات بھر جاگتا ہی رہے مگر رحمت حق جل شانہ، اس پر جبراً نیند مسلط کر کے اس کو سلا دیتی ہے کہ دن بھر کا تکان دور ہوجائے اور اس کے قویٰ مزید کام کے لئے تیز ہوجائیں، آگے اسی نیند کی عظیم نعمت کا تکملہ یہ بیان فرمایا کہ وّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا ط یعنی رات کو ہم نے چھپانے کی چیز بنادیا، اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کو فطرة نیند اس وقت آتی ہے جب روشنی زیادہ نہ ہو، ہر طرف سکون ہو، شور شغب نہ ہو۔ حق تعالیٰ نے رات کو لباس یعنی اوڑھنے اور چھپانے کی چیز فرما کر اشارہ کردیا کہ قدرت نے تمہیں صرف نیند کی کیفیت ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ سارے عالم میں ایسے حالات پیدا کردیئے جو نیند کے لئے سازگار ہوں۔ اول رات کی تاریکی، دوسرے پورے عالم انسان اور جانور سب پر بیک وقت نیند کا مسلط ہونا کہ جب سبھی سو جائیں گے تو پورے عالم میں سکون ہوگا ورنہ دوسرے کاموں کی طرح اگر نیند کے اوقات بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہوا کرتے تو کسی کو بھی نیند کے وقت سکون میسر نہ آتا۔
Ayahs 78:11–13

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور بنایا دن کمائی کرنے کو

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور چنی ہم نے تم سے اوپر سات چنائی مضبوط

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور بنایا ایک چراغ چمکتا ہوا

اس کے بعد ارشاد فرمایا، وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا کہ انسان کی راحت و سکون کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو غذا وغیرہ کی ضروریات ملیں ورنہ وہ نیند موت ہوجائے گی۔ اگر ہمہ وقت رات ہی رہتی اور آدمی سوتا ہی رہتا تو یہ چیزیں کیسے حاصل ہوتیں، ان کے لئے جدوجہد اور محنت اور دوڑ دھوپ کی ضرورت ہے جو روشنی میں ہو سکتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تمہاری راحت کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے صرف رات اور اس کی تاریکی ہی نہیں بنائی بلکہ ایک روشن دن بھی دیا جس میں تم کاروبار کر کے اپنی معاشی ضروریات حاصل کرسکو، (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین، اس کے بعد انسان کی راحت کے اس سامان کا ذکر ہے جو آسمان سے متعلق ہیں ان میں سب سے بڑی نفع بخش چیز آفتاب کی روشنی ہے اس کا ذکر فرمایا وّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا یعنی ہم نے آفتاب کو ایک روشن بھڑکنے والا چراغ بنادیا، پھر آسمان کے نیچے جو چیزیں انسان کی راحت کے لئے پیدا فرمائیں ان میں سب سے زیادہ ضرورت کی چیز پانی برسانے والے بادل ہیں ان کا ذکر فرمایا۔
Ayahs 78:14–16

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور اتارا نچڑنے والی بدلیوں سے پانی کا ریلا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور باع پتوں میں لپٹے ہوئے

وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا، معصرت، معصرہ کی جمع ہے جو پانی سے بھرے ہوئے ایسے بادل کو کہا جاتا ہے جو برسنے ہی والا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بارش بادلوں سے نازل ہوتی ہے اور جن آیات میں آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہے یا تو ان میں بھی آسمان سے مراد فضائے آسمانی ہو جیسے کہ قرآن میں بکثرت لفظ سماء اس معنی کے لئے آیا ہے اور یا یہ کہا جائے کہ کسی وقت براہ راست آسمان سے بھی بارش آسکتی ہے اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں، ان تمام صنائع قدرت اور انعامات ربانی کا ذکر فرمانے کے بعد پھر اصل مضمون قیامت کی طرف رجوع ہے۔
Ayahs 78:17–19

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک دن فیصلہ کا ہے ایک وقت ٹھہرا ہوا

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن پھونکی جائے صور پھر تم چلے آؤ جٹ کے جٹ

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور کھولا جائے آسمان تو ہوجائیں اس میں دروازے

(آیت) اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا، یعنی فیصلہ کا دن جس سے مراد قیامت ہے وہ ایک موقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا دوسرے نفخہ سے پھر زندہ و قائم ہوجائیگا، اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے، ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوار میدان حشر میں آئیں گے، دوسری فوج پیادہ لوگوں کی ہوگی جو چل کر میدان میں آئیں گے، تیسری فوج ان لوگوں کی ہوگی جن کو چہروں کے بل گھسیٹ کر میدان حشر میں لایا جائے گا (مظہری بروایت نسائی و حاکم و بہیقی) بعض روایات میں افواج کی تشریح دس قسم کی افواج سے کی گئی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ حضارین محشر کی بیشمار جماعتیں اپنے اپنے اعمال و کردار کے اعتبار سے ہوں گی، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں، سب جمع ہو سکتے ہیں۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہوجائیں گے چمکتا ریتا

وَّسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا، سیرت سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ جو آج ثبات وقرار میں بطور مثال کے پیش کئے جاتے ہیں یہ سب اپنی اپنی جگہوں کو چھوڑ کر ریزہ ریزہ ہو کر اڑتے پھرنے لگیں گے، سراب کے لفظی معنے ذہاب یعنی چلے جانے کے ہیں جنگل کا وہ ریت جو دور سے چمکتا ہوا پانی کی صورت میں نظر آتا ہے، سراب کے لفظی معنے ذہاب یعنی چلے جانے کے ہیں، جنگل کا وہ ریت جو دور سے چمکتا ہوا پانی کی صورت میں نظر آتا ہے اس کو بھی سراب اسی بناء پر کہتے ہیں کہ وہ قریب پہنچتے ہی نظر سے جاتا رہتا ہے (کذا فی الصحاح و الراغب)
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ ہے تاک میں

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا، مرصاد، وہ جگہ جہاں بیٹھ کر کسی کی نگرانی یا انتظار کیا جائے، جہنم سے مراد اس جگہ جسر جہنم یعنی پل صراط ہے۔ یہاں ثواب دینے والے اور عذاب دینے والے دونوں فرشتے انتظار کرتے ہوں گے اہل جہنم کو عذاب کے فرشتے پکڑ لیں گے اور اہل جنت کے ساتھ ثواب کے فرشتے ان کو ان کے مقام پر پہنچا دیں گے۔ (مظہری) حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ جہنم کے پل پر نگراں فرشتوں کی چوکی ہوگی جس کے پاس جنت میں جانے کا پروانہ ہوگا، اس کو گزرنے دیا جائے گا جس کے پاس نہ ہوگا اس کو روک لیا جائے گا۔ (قرطبی)
Ayah 78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

شریروں کا ٹھکانا

لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ با ظاہر یہ ہے کہ للطغین، ماباً کے متعلق ہے اور یہ ان جھنم کانت کی دوسری خبر ہے، اس طرح معنے دونوں جملوں کے یہ ہوئے کہ جسر جھنم تو ہر نیک وبد کے لئے انتظار گاہ ہے سبھی کو اس کے اوپر سے گزرنا ہے اور جہنم طاغین کے لئے مستقر اور ٹھکانا ہے۔ طاغین طاغی کی جمع ہے طغیان سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں سرکشی اور طاغی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سرکشی اور نافرمانی میں حد سے گزر جائے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ ایمان ہی سے نکل جائے اس لئے طاغین سے مردا اس جگہ کافر ہوں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ بدعقیدہ گمراہ مسلمانوں کے فرقے ہوں جو قرآن و سنت کی حدود سے نکلے ہوئے ہیں اگرچہ صراحتہ کفر اختیار نہیں کیا جیسے روافض، خوارج، معتزلہ وغیرہ (کما فی المظہری)
Ayahs 78:23–25

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

رہا کریں اس میں قرنوں

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

نہ چکھیں وہاں کچھ مزہ ٹھنڈک کا اور نہ پینا ملے کچھ

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ

لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا، لابثین، لابث کی جمع ہے جس کے معنے ٹھہرنے والے اور قیام کرنے والے کے ہیں، احقاب حقبہ کی جمع ہے، زمانہ دراز کو حقبہ کہا جاتا ہے، اس کی مقدار میں اقوال مختلف ہیں۔ ابن حریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی مقدار اسی سال نقل کی اور ہر سال بارہ مہینے کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا۔ اس طرح تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا ایک حقبہ اور حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، ابن عباس وغیرہ نے مقدار حقبہ اسی کے بجائے ستر سال قرار دی باقی حساب وہی ہے (ابن کثیر) مگر مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ، لایخرج احدکم من النار حتی یمکث فیہ احقاباً والحقب بضع وثمانون سنتہ کل سنة ثلث مائتہ و ستون یوما مما تعدون (از مظہری) تم میں سے جو لوگ گناہوں کی سزا میں جہنم میں ڈالے جائیں گے کوئی اس وقت تک جہنم سے نہ نکلے گا جب تک اس میں چند احقاب نہ رہ لے اور حقبہ کچھ اوپر اسی سال کا اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہے تمہارے موجودہ دنوں کے مطابق اس حدیث میں اگرچہ اس آیت مذکورہ کی تفسیر مذکور نہیں ہے مگر بہرحال لفظ احقاب کے معنی کا بیان ہی چند صحابہ کرام سے جو اس میں ہر دن ایک ہزار سال کا منقول ہے اگر وہ بھی آنحضرت ﷺ سے سنا ہوا ہے تو روایات حدیث میں تعارض ہوا، اس تعارض کے وقت کسی ایک پر جرم و یقین تو نہیں ہوسکتا مگر اتنی بات دونوں ہی روایتوں میں مشترک ہے کہ حقبہ یا حقب بہت ہی زیادہ طویل زمانے کا نام ہے اسی لئے بیضاوی نے احقاباً کی تفسیم دھور متتابعہ سے کی ہے یعنی پے در پے بہت سے زمانے۔ جہنم کے خلود اور دوام پر اشکال و جواب۔ حقبہ کی مقدار کتنی بھی طویل سے طویل قرار دی جائے بہرحال وہ متناہی اور محدود ہے۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس مدت طویلہ کے بعد کفار اہل جہنم بھی جہنم سے نکل جاویں گے حالانکہ یہ قرآن مجید کی دوسری واضح نصوص کے خلاف ہے جن میں (آیت) خلدین فیھاً ابدا کے الفاظ آئے ہیں اور اسی لئے ا مت کا اس پر اجماع ہے کہ نہ جہنم کبھی فنا ہوگی، نہ کفار کبھی اس سے نکالے جائیں گے۔ سدی نے حضرت مرہ بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ کفار اہل جہنم کو اگر یہ خبر دی جائے کہ ان کا قیام جہنم میں دنیا بھر میں جتنی کنکریاں تھیں ان کے برابر ہوگا تو وہ اس پر بھی خوش ہوں گے کہ بالاخر یہ کنکریاں اربوں کھربوں کی تعداد میں سہی پھر بھی محدود اور متناہی تو ہیں، بہرحال کبھی نہ کبھی اس عذاب سے چھٹکارا ہوجائے گا اور اگر اہل جنت کو یہی خبر دی جائے کہ ان کا قیام جنت میں دنیا بھر کی کنکریوں کے عدد کے مطابق سالوں رہے گا تو وہ غمگین ہوں گے کہ کتنی ہی مدت دراز سہی مگر بہرحال اس مدت کے بعد جنت سے نکال دیئے جاویں گے۔ (مظہری) بہرحال اس آیت میں احقاباً کے لفظ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چند احقاب کے بعد کفار اہل جہنم بھی جہنم سے نکال لئے جاویں گے، تمام نصوص اور اجماع امت کیخ، لاف ہونے کی بنا پر یہ مفہوم معتبر نہیں ہوگا کیونکہ اس آیت میں اس کی تصریح تو ہے نہیں کہ احقاق کے بعد کیا ہوگا صرف اتنا ذکر ہے کہ مدت احقاب ان کو جہنم میں رہنا پڑے گا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ احقاب کے بعد جہنم نہیں رہے گا یا یہ لوگ اس سے نکال لئے جاویں گے۔ اسی لئے حضرت حسن نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اہل جہنم کے لئے جہنم کی کوئی میعاد اور مدت مقرر نہیں فرمائی جس کے بعد ان کا اس سے نکل جانا سمجھا جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب ایک حقبہ زمانے کا گزر جائے گا تو دوسرا شروع ہوجائیگا، اسی طرح دوسرے کے بعد تیسرا چوتھا یہاں تک کہ ابدالآباد یہی سلسلہ رہے گا اور سعید بن حبیر نے قتادہ سے بھی یہی تفسیر روایت کی ہے کہ احقاب سے مراد وہ زمانہ ہی جس کا انقطاع اور انتہا نہیں بلکہ ایک حقب ختم ہوگا تو دوسرا حقب آجائے گا اور یہی سلسلہ ابد تک رہیگا (ابن کثیر و مظہری) اور یہاں ایک دوسرا احتمال اور بھی ہے جس کو ابن کثیر نے یحتمل کے لفظ سے بیان کیا ہے اور قرطبی نے فرمایا کہ یہ بات بھی ممکن ہے اور مظہری نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ احتمال یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ طاغین سے مراد کفار نہ لئے جاویں بلکہ وہ اہل توحید جو عقائد باطلہ کے سبب اسلام کے گمراہ فرقوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو محدیثین کی اصطلاح میں اہل اہواء کہا جاتا ہے وہ مراد ہوں تو آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ایسے اہل توحید کلمہ گو جو عقائد باطلہ رکھنے کے سبب کفر کی حدود تک پہنچے ہوئے تھے مگر صریح کا فرنہ تھے وہ مدت احقاب جہنم میں رہنے کے بعد بالاخر کلمہ توحید کی بدلوت جہنم سے نکال لئے جاویں گے۔ مظہری نے اس احتمال کی تائید میں وہ حدیث مرفوع بھی پیش کی جو اوپر حضرت عبد اللہ بن عمر سے بحوالہ مسند بزار نقل ہوچکی ہے جس میں آپ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ مدت احقاب گزرنے کے بعد یہ لوگ جہنم سے نکال لئے جاویں گے مگر ابوحیان نے فرمایا کہ بعد کی آیت ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا 27؀ۙوَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا اس احتمال کے منافی ہیں کہ طاغین سے مراد اس جگہ اہل توحید اور گمراہ فرقے ہوں کیونکہ ان آخری آیات میں قیامت کے انکار اور تکذیب رسل کی تصریح ہے اسی طرح ابوحیان نے مقاتل کے اس قول کو بھی فاسد قرار دیا ہے کہ اس آیت کو منسوخ مانا جائے۔ اور ایک جماعت مفسرین نے ایک تیسرا احتمال اس آیت کی تفسیر میں یہ قرار دیا ہے کہ اس آیت کے بعد کا جملہ لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24؀ۙاِلَّا حَمِيْمًا وَّغَسَّاقًا یہ احقاباً سے جملہ حالیہ ہوا اور معنی آیت کے یہ ہوں کہ احقاب کے زمانہ دراز تک یہ لوگ نہ ٹھنڈی لذیذ ہوا کا ذائقہ چکھیں گے نہ کسی کھانے اور پینے کی چیزیں کا بجز حمیم اور غساق، پھر احقاب گزرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ یہ حال بدل جائے اور دوسری اقسام کے عذاب ہونے لگیں حمیم وہ کھولتا ہوا گرم پانی ہے کہ جب چہرہ کے قریب آئے گا تو اس کا گوشت جل جائے گا اور جب پیٹ میں ڈالا جائے گا تو اندرونی اعضاء کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور غساق وہ خون اور پیپ وغیرہ جو اہل جہنم کے زخموں سے نکلے گی۔
Ayahs 78:26–35

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

بدلہ ہے پورا

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

ان کو توقع نہ تھی حساب کی

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو مکرا

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے لکھ کر

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھوں کہ ہم نے بڑھاتے جائیں گے تم پر مگر عذاب

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک ڈر والوں کو ان کی مراد ملنی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ ہیں اور انگور

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوجوان عورتیں ایک عمر کی سب

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور پیالے چھلکتے ہوئے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

نہ سنیں گے وہاں بک بک اور نہ مکرانا

جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

بدلہ ہے تیرے رب کا دیا ہوا حساب سے

ان نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا۔ (آیت) جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً حِسَابًا یعنی اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لئے اور عطاء ہے ان کے رب کی طرف سے عطائے کثیر۔ یہاں ان نعمتوں کو اول جزائے اعمال بتلایا پھر عطائے ربانی، بظاہر ان دونوں میں تضاد ہے کیونکہ جزاء اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے بدلے میں ہو اور عطاء وہ ہے جو بلا کسی بدلے کے بطور انعام و احسان ہو۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو یکجا جمع کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت میں داخل ہونا اور اس کی نعمتیں صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے تو اہل جنت کے اعمال کی جزاء ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خلاص عطائے ربانی ہے کیونکہ انسانی اعمال تو ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں بن سکتے جو ان کو دنیا میں دے دیگئی ہیں آخرت کی نعمتوں کا حصول تو صرف حق تعالیٰ کا فضل و اناعم اور عطائے محض ہے جیسا کہ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جاسکتا جب تک حق تعالیٰ کا فضل نہ ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا آپ بھی، آپ نے فرمایا کہ ہاں میں بھی اپنے عمل سے جنت میں نہیں جاسکتا، اور لفظ حسابا کے دو معنے ہو سکتے ہیں، ائمہ تفسیر میں بعض نے پہلے بعض نے دوسرے معنے لئے ہیں پہلے معنی حساباً عطاء کافیا کثیراً کے ہیں یعنی ایسی عطاء جو اس کی تمام ضرورتوں کے لئے کافی وافی اور کثیر ہو، یہ معنے اس محاورہ سے ماخوذ ہیں احسیت فلانا ای اعطیتہ مایکفیہ حتی قال حسبی یعنی احسبت کا لفظ اس معنے کے لئے آتا ہے کہ میں نے اس کو اتنا دیا کہ اس کے لئے بالکل کافی ہوگیا یہاں تک کہ بول اٹھا حسبی یعنی بس یہ میرے لئے بہت ہے اور دوسرے معنے حساب کے موازنہ اور مقابلے کے بھی آتے ہیں۔ حضرت مجاہد نے اس جگہ یہی معنی لے کر مطلب آیت کا یہ قرار دیا کہ یہ عطائے ربانی اہل جنت پر ان کے اعمال کے حساب سے مبذول ہوگی، اس عطاء میں درجات بحساب اخلاص اور احسان عمل کے ہوں گے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں صحابہ کرام کے اعمال کا درجہ باقی امت کے اعمال کے مقابلے میں یہ قرار دیا ہے کہ صحابی اللہ کی راہ میں ایک مد خرچ کرے جو تقریباً ایک سیر ہوتا ہے اور غیر صحابی احد پہاڑ کی برابر خرچ کرے تو صحابی کا ایک مد اس پہاڑ سے بڑھا ہوا رہے گا۔ واللہ اعلم
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے بڑی رحمت والا قدرت نہیں کہ کوئی اس سے بات کرے

لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا اس جملہ کا تعلق پہلے جملے جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً حِسَابًا سے بھی ہوسکتا ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ حق تعالیٰ جس کو جو درجہ ثواب کا عطا فرما دیں گے اس میں کسی کو گفتگو کرنے کی مجال نہ ہوگی کہ فلاں کو زیادہ فلاں کو کم کیوں دیا گیا اور اگر اس کو علیحدہ جملہ قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ محشر میں کسی کو بغیر اجازت حق تعالیٰ خطاب کرنے کا اختیار نہ ہوگا اور یہ اجازت بعض مواقف حشر میں ہوگی بعض میں نہ ہوگی۔
Ayahs 78:38–39

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن کھڑی ہو روح اور فرشتے قطار باندھ کر کوئی نہیں بولتا مگر جس کو حکم دیا رحمن نے اور بولا بات ٹھیک

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن ہے بر حق پھر جو کوئی چاہئے بنا رکھے اپنے رب کے پاس ٹھکانا

(آیت) يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل امین ہیں، ان کا ذکر عام ملائکہ سے پہلے ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے ہے اور بعض روایات مرفوعہ میں ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان لشکر ہے جو فرشتے نہیں، ان کے سر اور ہاتھ پاؤں ہیں۔ اس تفسیر پر گویا دو صفیں ہوں گی ایک صف روح کی دوسری فرشتوں کی۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے خبر سنا دی تم کو ایک آفت نزدیک آنے والی کی جس دن دیکھ لے گا آدمی جو آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے اور کہے گا کافر کسی طرح میں مٹی ہوتا۔

(آیت) يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھو سے دیکھ لے گا خواہ اس طرح کہ نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں آجائے گا اس کو دیکھے گا، یا اس طرح کہ اعمال محشر میں مجسم اور متشکل ہو کر سامنے آجائیں گے جیسا کہ بعض روایات حدیث سے ثابت ہے اور احتمال یہ بھی ہے کہ اس روز سے مراد موت کا دن ہو اور اپنے اعمال کا دیکھنا قبر و برزخ میں مراد ہو، کمافی المظہری۔ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ قیامت کے روز ساری زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی جس میں انسان، جنات، زمین پر چلنے والے پالتو جانور اور وحشی جانور سب جمع کردیئے جاویں گے اور جانوروں میں سے اگر کسی نے دوسرے پر ظلم دنیا میں کیا تھا تو اس سے اس کا انتقام دلوایا جائے گا یہاں تک کہ اگر کسی سینگ والی بکری نے بےسینگ بکری کو مارا تھا تو آج اس کا بھی بدلہ دلوایا جائیگا، جب اس سے فراغت ہوگی تو سب جانوروں کو حکم ہوگا کہ مٹی ہوجاؤ وہ سب مٹی ہوجائیں گے، اس وقت کافر لوگ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی جانور ہوتے اور اس وقت مٹی ہوجاتے، حساب کتاب اور جہنم کی سزا سے بچ جاتے۔ نعوذ باللہ منہ، واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم تمت سورة النبا بحمداللہ لیلتہ الجمعتہ 2 شعبان 1391 ھ