79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsمعارف القرآن

Ayah 79:1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے گھسیٹ لانے والوں کی غوطہ لگا کر

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان فرشتوں کی جو (کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو (مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں گویا ان کا) بند کھول دیتے ہیں اور جو (روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس طرح سرعت ہو سہولت سے چلتے ہیں جیسے گویا) تیرتے ہوئے چلتے ہیں پھر (جب روحوں کو لے کر پہنچتے ہیں تو ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے) تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں پھر (ن ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے) ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں (ان سب کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ) قیامت ضرور آوے گی جس روز ہلا دینے والی چیز ہلا ڈالے گی (مراد نفخہ اولیٰ ہے) جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آ جاوے گی (مراد نفخہ ثانیہ ہے) بہت سے دل اس روز دھڑک رہے ہوں گے ان کی آنکھیں (ارے ندامت کے) جھک رہی ہوں گی (مگر یہ لوگ قیامت کا انکار کر رہے ہیں اور) کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی حالت میں پھر واپس ہوں گے (پہلی حالت سے مراد حیات قبل الممات یعنی کیا بعد الموت پھر حیات ثانیہ ہوگی ؟ مقصود استبعاد ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے) کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجاویں گے پھر (حیات کی طرف) واپس ہوں گے (مقصود استصعاب ہے کہ یہ سخت دشوار ہے) کہنے لگے کہ (اگر ایسا ہوا تو) اس صورت میں یہ واپسی (ہمارے لئے) بڑے خسارہ کی ہوگی (کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان نہیں کیا، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ، یعنی ان کے عقیدہ پر ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا شیر ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جاوے گا مطلب یہ کہ وہاں شیر ویر کچھ بھی نہیں ہے۔ آگے استبعاد و استصعاب مذکور کا روہی کہ یہ لوگ جو قیامت کو بعید اور مشکل کہتے ہیں) تو (یہ سمجھ رکھیں کہ ہم کو کچھ مشکل نہیں بلکہ) وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے (آگے مکذبین کی تخویف اور تکذیب پر آپ کی تسلی کے لئے موسیٰ ؑ کا قصہ فرعون کیساتھ بیان کیا جاتا ہے، پس فرماے ت ہیں کہ) کیا آپ کو موسیٰ ؑ کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی طویٰ میں (یہ اس کا نام ہے) پکارا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی شرارت اختیار کی ہے سو اس سے (جا کر) کہو کہ کیا تجھ کو اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجاوے، اور (تیری درستی کی غرض سے) میں تجھ کو تیرے رب کی طرف (ذات وصفات کی) رہنمائی کروں تو تو (ذات وصفات کو سن کر اس سے) ڈرنے لگے اور اس ڈر سے درستی ہوجاوے، غرض یہ حکم سن کر موسیٰ ؑ ان کے پاس گئے اور جا کر پیغام ادا کیا) پھر (جب اس نے دلیل نبوت طلب کی تو) اس کو بڑی نشانی (نبوت کی) دکھلائی (مراد معجزہ عصا ہے یا براوہ جنس مجموعہ عصا وید بیضا ہے) تو اس (فرعون) نے (ان کو) جھٹلایا اور (ان کا) کہنا نہ مانا پھر (موسیٰ ؑ سے) جدا ہو کر (ان کے خلاف) کوشش کرنے لگا اور (لوگوں کو) جمع کیا پھر (ان کے سامنے با آواز بلند تقریر کی اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں (اعلیٰ قید واقعی کے طور پر کہا پس اصل مقصود انا ربکم ہے اور اعلی صفت مادحہ بڑھا دی اور احترازی نہیں جس سے غیر اعلیٰ دوسرے رب کا ثبوت ہو) سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ (دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی جلنا ہے) بیشک اس (واقعہ) میں ایسے شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو (اللہ تعالیٰ سے) ڈرے، (آگے قیامت کو بعید یا مشکل سمجھنے کا عقلی جواب ہے یعنی) بھلا تمہارا (دوسری بار) پیدا کرنا (فی نفسہ) زیادہ سخت ہے یا آسمان کا (اور فی نفسہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نسبت سے تو سب مساوی ہیں اور ظاہر ہے کہ آسمان ہی کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے، پھر جب اس کو پیدا کردیا تو تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے، آگے آسمان کے پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرماتے ہیں کہ) اللہ نے اس کو بنایا (اس طرح سے کہ) اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو درست بنایا (کہ کہیں اس میں شقوق و فطور، پھٹا ہوا یا جوڑ پیوند تو نہیں) اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا (رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان سے متعلق ہے) اور اس کے بعد زمین کو بچھایا (اور بچھا کر) اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو (اس پر) قائم کردیا تمہاے اور تمہارے مواشی کے فائدہ پہنچانے کے لئے (اصل استدلال خلق سماء سے تھا مگر زمین کا ذکر شاید اس لئے کردیا کہ اس کے احوال ہر وقت پیش نظر ہیں اور گو سماء کے برابر نہ سہی لیکن فی نفسہ انسان کی تخلیق سے زمین کی تخلیق بھی اشد ہے پس حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ جب ایسی ایسی چیزیں ہم نے بنادیں تو تمہارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے آگے بعث کے بعد جو واقعات مجازاة کے متعلق ہوں گے ان کی تفصیل ہے یعنی قیامت کا امکان اور صحت و وقع تو ثابت ہوگیا) سو جب وہ بڑا ہنگامہ آوے گا یعنی جس دن انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا اور دیکھنے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کی جاویگی تو (اس روز یہ حالت ہوگی کہ) جس شخص نے (حق سے) سرکشی کی ہوگی اور (آخرت کا منکر ہو کر اس پر) دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی سو دوزخ اس کا ٹھکانا ہوگا اور جو شخص (دنیا میں) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا (کہ قیامت اور آخرت اور حساب کتاب پر اس کا ایمان مکمل ہو) اور نفس کو (حرام) خواہش سے روکا (یعنی) اعتقاد صحیح کے ساتھ عمل صالح بھی کیا) ہوگا سو جنت اس کا ٹھکانا ہوگا (اور عمل صالح طریق جنت ہے موقوف علیہ نہیں، چونکہ افکار بقصد انکار قیامت کے اس کا وقت پوچھا کرتے تھے آگے اس کا جواب ہے یعنی) یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا (سو) اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق (کیونکہ بیان کا موقوف علیہ علم ہے اور قیامت کا معین وقت ہم نے کسی کو بتلایا نہیں بلکہ) اس (کے علم کی تعیین) کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے (اور) آپ تو صرف (اخبار اجمالی سے) ایسے شخص کے ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو (اور ڈر کر ایمان لانے والا ہو اور یہ لوگ جو جلدی مچا رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ) جس روز یہ اس کو دیکھیں گے تو (ان کو) ایسا معلوم ہوگا کہ گویا (دنیا میں) صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں (بس یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصیر معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ عذاب بڑی جلدی آ گیا جس کی یہ استدعا کرتے ہیں حاصل یہ کہ جلد بازی کیوں کرتے ہو وقوع کے وقت اس کو یہی سمجھو گے کہ بڑی جلد ہوگیا جس دیر کو اب دیر سمجھ رہے ہو یہ دیر معلوم نہ ہوگی۔) معارف و مسائل وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا، نازعات، نزع سے مشتق ہے جس کے معنے کسی چیز کو کھینچ کر نکالنے کے آتے ہیں، اور غرقا اس تاکید ہے کیونکہ غرق اور اغراق کے معنے کسی کام میں پوری قوت شدت خرچ کرنے کے ہیں۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے اغرق النازع فی القوس یعنی کمان کھینچنے والے نے اس کے کھینچنے میں اپنی پوری قوت خرچ کردی اس سورة کے شروع میں ملائکہ کی چند صفات اور حالات بیان کرکے انکی قسم کھائی گئی ہے اور جواب قسم بدلالت حال حذف کردیا گیا، مراد اس سے قیامت اور حشر و نشر کا یقیناً واقع ہونا ہے۔ فرشتوں کی قسم شاید اس مناسبت سے کھائی گئی ہے کہ اگرچہ فرشتے اس وقت بھی تمام عالم کے نظم و نسق میں دخل رکھتے اور اپنی اپنی خدمت بجالاتے ہیں لیکن قیامت کے روز اسباب مادیہ کے سب رشتے ٹوٹ جائیں گے غیر معمولی حالات و واقعات پیش آویں گے، ان واقعات میں فرشتے ہی کام کریں گے۔ فرشتوں کی اس جگہ پانچ صفات وہ بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق انسان کی موت اور نزع روح سے ہے مقصد تو قیامت کا حق ہونا بیان کرنا ہے، شروع اس کا انسان کی موت سے کیا گیا کہ ہر انسان کی موت خود اسکے لئے ایک جزوی قیامت ہے اور قیامت کے اعتقاد میں اس کا بڑا دخل ہے۔ ان پانچ صفات میں سے پہلی صفت النّٰزِعٰتِ غَرْقًا، یعنی سختی کے ساتھ کھینچ کر نکالنے والے، مراد اس سے وہ عذاب کے فرشتے ہیں جو کافر کی روح سختی کے ساتھ نکالتے ہیں، مراد اس سختی سے روحانی سختی اور تکلیف ہے یہ ضروری نہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی اس سختی کا احساس ہو اسی لئے بسا اوقات یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کافر کی روح بظاہر آسانی سنے نکلتی ہے مگر یہ آسانی ہمارے دیکھنے میں ہے جو سختی اس کی روح پر ہو رہی ہے اس کو کون دیکھ سکتا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی خبر دینے سے معلوم ہوسکتی ہے۔ اس لئے اس جملے میں یہ خبر دے دی گئی ہے کہ کفار کی روح کو کھنچ کر سختی سے نکالا جاتا ہے۔
Ayah 79:2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور بند چھڑا دینے والوں کی کھول کر

دوسری صفت ہے وّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا، نشطات نشط سے متعلق ہے جس کے معنے بندھن کھول دینے کے ہیں۔ جس چیز میں پانی یا ہوا وغیرہ بھری ہوں اس کا بندھن کھول دینے سے وہ پانی وغیرہ آسانی کیساتھ نکل جاتا ہے۔ اس میں مومن کی روح نکلنے کو اس سے تشبیہ دے کر بتلایا ہے کہ جو فرشتے مومن کی قبض روح پر مقرر ہیں وہ آسانی سے اس کو قبض کرتے ہیں شدت نہیں کرتے، یہاں بھی آسانی روحانی مراد ہے جسمانی نہیں اس لئے کسی مسلمان بلکہ مرد صالح کو بوقت موت نزع روح میں دیر لگنے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس پر سختی ہو رہی ہے اگرچہ جسمانی طور پر یہ سختی دیکھی جاتی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کافر کو نزع روح کے وقت ہی سے برزخ کا عذاب سامنے آجاتا ہے اس کی روح اس سے گھبرا کر بدن میں چھپنا چاہتی ہے۔ فرشتے کھینچ کر نکالتے ہیں، اور مومن کی روح کے سامنے عالم برزخ کا ثواب، نعمیتیں اور بشارتیں آتی ہیں تو اس کی روح تیزی سے ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔
Ayah 79:3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور تیرنے والوں کی تیزی سے

تیسری صف فرشتوں کی وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ہے۔ سبح کے لغوی معنی تیرنے کے آتے ہیں، مراد اس جگہ تیزی سے چلنا ہے جیسے دریا میں کوئی آڑ پہاڑ نہیں ہوتا، تیرنے والا یا کشتی وغیرہ میں چلنے والا سیدھا اپنی منزل مقصود کی طرف جاتا ہے فرشتوں کی یہ صفت کہ تیز جانے والے ہیں یہ بھی ملائکہ موت سے متعلق ہے کہ انسان کی روح قبض کرنے کے بعد اس کو تیزی سے آسمان کی طرف لیجاتے ہیں۔
Ayah 79:4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر

چوتھی صفت فالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا ہے مراد یہ ہے کہ پھر یہ روح جو فرشتوں کے قبضہ میں ہے اس کو اس کے اچھے یا برے ٹھکانے پر پہنچانے میں سبقت اور عجلت سے کام لیتے ہیں۔ مومن کی روح کو جنت کی ہواؤں اور نعمتوں کی جگہ میں کافر کی روح کو دوزخ کی ہواؤں اور عذابوں کی جگہ میں پہنچا دیتے ہیں۔
Ayahs 79:5–24

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر کام بنانے والوں کی حکم سے

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن کانپے کانپنے والی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے پیچھے آئے دوسری

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کتنے دل اس دن جھڑکتے ہیں

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہیں

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

لوگ کہتے ہیں کیا ہم پھر آئیں گے الٹے پاؤں

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم ہو چکیں ہڈیاں کھوکھری

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

بولے تو تو یہ پھر آنا ہے ٹوٹے کا

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

سو وہ تو صرف ایک جھڑکی ہے

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

پھر تبھی وہ آ رہیں میدان میں

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا پہنچی ہے تجھ کو بات موسیٰ کی

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب پکارا اس کو اس کے رب نے پاک میدان میں جس کا نام طوٰی ہے

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

جا فرعون کے پاس اس نے سر اٹھایا

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

پھر کہہ تیرا جی چاہتا ہے کہ تو سنور جائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور راہ بتلاؤں تجھ کو تیرے رب کی طرف پھر تجھ کو ڈر ہو

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر دکھلائی اس کو وہ بڑی نشانی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

پھر جھٹلایا اس نے اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر چلا پیٹھ پھیر کر تلاش کرتا ہوا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پھر سب کو جمع کیا پھر پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

تو کہا میں ہوں رب تمہارا سب سے اوپر

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں۔ حضرت برا بن عازب کی ایک طویل حدیث مشکوة میں بحوالہ مسند احمد مذکور ہے۔ نفس اور روح کے متعلق حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ کی تحقیق مفید تفسیر مظہری کے حوالہ سے نفس و روح کی حقیقت پر کچھ کلام سورة حجر کی آیت 29 کے تحت گزر چکا ہے۔ اسی سلسلے کی مزید تحقیق و توضیح بیہقی وقت حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ نے اس جگہ تحریر فرمائی ہے جس سے بہت سے اشکالات حل ہوجاتے ہیں وہ یہ ہے کہ حدیث مذکور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نفس انسانی ایک جسم لطیف ہے جو اسکے جسم کثیف کے اندر سمایا ہوا ہے اور وہ انہیں مادی عناصر اربعہ سے بنا ہے۔ فلاسفہ اور اطبا اسی کو روح کہتے ہیں مگر درحقیقت روح انسانی ایک جوہر مجرد اور لطیفہ ربانی ہے جو اس طبعی روح یعنی نفس کیساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے اور طبعی روح یعنی نفس کی حیات خود اس لطیفہ ربانی پر موقوف ہے گکویا اس کی روح الروح کہہ سکتے ہیں کہ جسم کی زندگی نفس سے ہے اور نفس کی زندگی اس روح سے وابستہ ہے اس روح مجرد اور لطیفہ ربانیہ کا تعلق اسی جسم لطیف یعنی نفس کیساتھ کیا اور کس طرح کا ہے اس کی حقیقت کا علم انکے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں، اور یہ جسم لطیف جسکا نام نفس ہے اس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک آئینہ کی مثال بنایا ہے جو آفتاب کے بالمقابل رکھدیا گیا ہو تو آفتاب کی روشنی اس میں ایسی آجاتی ہے کہ یہ خود آفتاب کی طرح روشنی پھیلاتا ہے۔ نفس انسانی اگر تعلیم وحی کے مطابق ریاضت و محنت کرلیتا ہے تو وہ بھی منور ہوجاتا ہے ورنہ وہ جسم کثیف کے خراب اثرات میں ملوث ہوتا ہے یہی جسم لطیف ہے جس کو فرشتے اوپر لیجاتے ہیں اور پھر اعزاز کے ساتھ نیچے لاتے ہیں جبکہ وہ منور ہوچکا ہو، ورنہ آسمان کے دروازے اسکے لئے نہیں کھلتے، اوپر ہی سے نیچے پٹخ دیا جاتا ہے۔ یہی جسم لطیف ہے جس کے بارے میں حدیث مذکور میں ہے کہ ہم نے اس کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا، پھر اس میں لوٹائیں گے پھر اسی سے دوبارہ پیدا کریں گے، یہی جسم لطیف اعمال صاحلہ سے منور اور خوشبودار بنجاتا ہے اور کفر و شرک سے بدبودار ہوجاتا ہے۔ باقی روح مجرد اس کا تعلق جسم کثیف کے ساتھ بواسطہ جسم لطیف یعنی نفس کے ہوتا ہے اس پر موت طاری نہیں ہوتی، قبر کا عذاب وثواب بھی اسی جسم لطیف یعنی نفس سے وابستہ ہے اور اس نفس کا تعلق قبر سے ہی رہتا ہے اور روح مجرد علیین میں ہوتی ہے اور روح مجرد اسکے ثواب و عذاب سے بالواسطہ متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح روح کا قبر میں ہونا بمعنے نفس کے صحیح ہے اور اس کا عالم ارواح یا علین میں رہنا بمعنے روح مجرد صحیح ہے اس سے ان روایات مختلفہ کی تطبیق بھی ہوجاتی ہے، واللہ اعلم۔ آگے قیامت کے وقوع اور اس میں پہلے نفخ صور سے سارے عالم کی فنا پھر دوسرے سے سارے عالم کی دوبارہ ایجاد اور اس پر کفار کے شبہ استبعاد کا جواب مذکور ہے اس کے آخر میں فرمایا فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ ساہرہ سطح زمین کو کہا جاتا ہے۔ قیامت میں جو زمین دوبارہ پیدا کی جاوے گی وہ پوری ایک سطح مستوی ہوگی۔ اس میں آڑ پہاڑ عمارت یا غار نہیں ہوگا، اسی کو ساہرہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد کفار منکرین قیامت کی ضد اور عناد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذا پہنچتی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کرکے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایسی ایذا میں کچھ آپ کے لئے مخصوص نہیں، انبیا سابقین کو بھی بڑی بڑی ایذائیں ان سے پہنچی ہیں، انہوں نے صبر کیا، آپ بھی صبر سے کام لیں۔
Ayahs 79:25–36

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پھر پکڑا اس کو اللہ نے سزا میں آخرت کی اور دنیا کی

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس میں سوچنے کی جگہ ہے جس کے دل میں ڈر ہے

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا اس نے اس کو بنا لیا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اونچا کیا اس کا ابھار پھر اس کو برابر کیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اندھیری کی رات اس کی اور کھول نکالی اس کی دھوپ

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور زمین کو اس کے پیچھے صاف بچھا دیا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

باہر نکالا زمین سے اس کا پانی اور چارا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو قائم کردیا کام چلانے کو

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب آئے وہ بڑا ہنگامہ

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

جس دن کہ یاد کرے گا آدمی جو اس نے کمایا

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور نکال ظاہر کردیں دوزخ کو جو چاہے دیکھے

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر ان کو نیست ونابود کرنے کے بعد دوبارہ وجود عظا فرمادے تو تمارے تعجب کا کیا مقام ہے۔ آگے پھر روز قیامت کی شدت اور اس روز ہر شخص کے اعمال کا سامنے آجانا اور اہل جنت اور اہل جہنم کے دونوں ٹھکانوں کا بیان اور آخر میں اہل جنت اور اہل دوزخ کی خاص خاص علامات کا بیان ہے جس سے ایک انسان دنیا مہی میں فیصلہ کرسکتا ہے کہ ضابطہ سے میرا ٹھکانا جنت میں ہے یا دوزخ میں، ضابطہ اس لئے کہا گیا ہے کہ کسی کی شفاعت یا بلاواسطہ حق تعالیٰ کی رحمت سے کسی جہنمی کو اس سے آزاد کرکے جنت میں پہنچا دینا جیسا کہ بہت سی آیات وروایات حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں وہ ایک استثنائی حکم ہے اور اصل ضابطہ جنت یا دوزخ میں ٹھکانے کا وہی ہے جو آگی والی آیت میں بیان فرمایا ہے۔