75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔

Ayahs 75:2–3

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (1) (کہ ہم انسان کو ضرور دوبارہ زندہ کریں گے)

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کرسکیں گے ؟

1: ملامت کرنے والے نفس سے مراد انسان کا وہ ضمیر ہے جو اسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفس امارہ یعنی برائی پر مائل کرنے والا (دیکھئے : 53)۔ دوسرے نفس لوامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے : 27)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور برائی کے تقاضے اس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا مادہ رکھا ہے جو اسے برائی پر ملامت کرتا رہتا ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ ملامت کرنے والی چیز جو خود اس کے وجود میں رکھی ہوئی ہے، خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات نے اسے پیدا کیا ہے، اس نے ساتھ ساتھ اس کو ایک تنبیہ کرنے والا وجود عطا فرما دیا ہے۔ اگر آخرت آنے والی نہ ہوتی، اور انسان کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہ ہوتا تو اس نفس لوامہ کی کیا ضرورت تھی۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ؟ جبکہ ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو ٹھیک ٹھیک بنادیں۔ (2)

2: فرمایا جارہا ہے کہ ہڈیوں کو جمع کرلینا تو بہت معمولی بات ہے، اللہ تعالیٰ تو انسان کی انگلیوں کے ایک ایک پورے دوبارہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح دوبارہ بنانے پر قادر ہیں، جیسے وہ شروع میں تھے، انگلیوں کے پورے کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان پوروں میں جو باریک باریک لکیریں ہوتی ہیں، وہ ہر انسان کی دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے دنیا میں دستخط کے بجائے انگوٹھے کے نشان کو استعمال کیا جاتا ہے، ان لکیروں میں اتنا باریک باریک فرق ہوتا ہے کہ اربوں پدموں انسانوں کی انگلیوں کے اس فرق کو یاد رکھ کر پھر دوبارہ ویسی ہی لکیریں بنادینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔
Ayahs 75:5–12

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا یہ ہے کہ اپنی آگے کی زندگی میں بھی ڈھٹائی سے گناہ کرتا ہے۔ (3)

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ : کب آئے گا وہ قیامت کا دن ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا۔

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور چاند اور سورج اکٹھے کردئے جائیں گے۔

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس وقت انسان کہے گا کہ : کہاں ہے کوئی جگہ جہاں بھاگ کر جاؤں ؟

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

نہیں نہیں ! پناہ کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن تو ہر ایک کو تمہارے پروردگار ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا پڑے گا۔

3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔
Ayahs 75:13–14

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن ہر انسان کو جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کیا کچھ آگے بھیجا ہے، اور کیا کچھ پیچھے چھوڑا ہے۔ (4)

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود اپنے آپ سے اچھی طرح واقف ہوگا۔

4: یعنی کونسے کام وہ دنیا میں کر آیا ہے اور وہ اس کے اعمال نامے میں پہنچ چکے ہیں، اور کون سے کام وہ چھوڑ آیا ہے کہ اسے کرنے چاہیے تھے، لیکن اس نے نہیں کیے۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

چاہے وہ کتنے بہانے بنائے۔ (5)

5: مطلب یہ ہے کہ انسان خود بھی جانتا ہے کہ اس نے کیا گناہ کیے ہیں، اگرچہ وہ ان کا جواز تلاش کرنے کے لیے بہانوں اور تاویلوں کا سہارا لے۔
Ayahs 75:16–17

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تم اس قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو ہلایا نہ کرو۔ (6)

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

یقین رکھو کہ اس کو یاد کرانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے۔

6: یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوتا تو آپ اس کے الفاظ ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے، تاکہ آپ انہیں بھول نہ جائیں۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ زبان مبارک سے الفاظ کو دہرانے کی مشقت نہ اٹھائیں، کیونکہ ہم نے ذمہ داری لے لی ہے کہ ہم انہیں آپ کو یاد بھی کرائیں گے، اور ان کی تشریح بھی آپ کے قلب مبارک میں واضح کردیں گے۔
Ayah 75:18

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پھر جب ہم اسے (جبرائیل کے واسطے سے) پڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو (7)

7: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ اپنی توجہ الفاظ کو یاد رکھنے کے بجائے ان آیات کی عملی پیروی کرنے پر مرکوز رکھیں، اور یہ بھی کہ جس طرح حضرت جبرئیل ؑ پڑھ رہے ہیں، آئندہ آپ بھی اسی طرح پڑھا کریں۔
Ayahs 75:19–22

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کی وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ (8)

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو نظر انداز کئیے ہوئے ہو۔

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے۔

8: یعنی آیات کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔
Ayahs 75:23–26

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ (9)

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو کمر توڑ دینے والا ہے۔

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

خبردار ! جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔

9: مومنوں کو جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہوگا جو جنت کی تمام دوسری نعمتوں سے بڑی نعمت ہوگی۔
Ayahs 75:27–28

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور (تیمار داروں کی طرف سے) کہا جائے گا کہ : ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟ (10)

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور انسان سمجھ جائے گا کہ جدائی کا وقت آگیا۔

10: جب کوئی شخص موت کے قریب پہنچ کر بستر سے لگ جاتا ہے تو اس کے تیمار دار اس کے علاج کی کوشش کرتے ہیں، اسی علاج کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی سے جھاڑ پھونک کرائی جائے۔
Ayahs 75:29–30

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔ (11)

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

تو اس دن تمہارے پروردگار ہی کی طرف روانگی ہوگی۔

11: نزع کی حالت میں جو تکلیف ہوتی ہے، اس میں بسا اوقات مریض دونوں پنڈلیوں کو ملا لیتا ہے۔ یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 75:31–35

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

اس کے باوجود انسان نے نہ مانا، اور نہ نماز پڑھی۔ (12)

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ حق کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑ دکھاتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر سن لے کہ بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔

12: یہ کسی خاص کافر کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے، اور کافروں کی عام حالت کا تذکرہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے واضح دلائل کے سامنے آنے کے بعد بھی ماننے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔
Ayahs 75:36–37

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ (13)

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ اس منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (ماں کے رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟

13: یعنی اسے اس دنیا میں اس طرح چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کسی شرعی قاعدے قانون کا پابند نہ ہو، اور جو جی میں آئے، کرتا پھرے۔
Ayahs 75:38–40

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اسے بنایا، اور اسے ٹھیک ٹھاک کیا، (14)

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

نیز اسی سے مرد اور عورت کی دو صفتیں بنائیں۔

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو پھر سے زندہ کردے ؟

14: انسانی تخلیق کے تمام مراحل کا تذکرہ سورة مومنون : 14 میں فرمایا گیا ہے۔