74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 74:1–4

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے کپڑے میں لپٹنے والے (1)

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

1: یہ اسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ مزمل تھا اور یہاں مدثر ہے، معنی دونوں کے تقریباً ایک ہیں، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں، صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورة علق (سورت نمبر : 96) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں، اس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا، پھر سورة مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے کنارہ کرلو۔ (2)

2: بہت سے مفسرین نے یہاں گندگی سے مراد بت لئے ہیں، لیکن الفاظ ہر قسم کی گندگی کے لیے عام ہیں۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور کوئی احسان اس نیت سے نہ کرو کہ زیادہ وصول کرسکو۔ (3)

3: کسی کو اس نیت سے کوئی ہدیہ تحفہ دینا کہ جواب میں وہ اس سے زیادہ دے اس آیت کی رو سے ممنوع ہے۔ ایک تفسیر کے مطابق یہی حکم سورة روم : 39 میں بھی گذرا ہے۔
Ayahs 74:7–10

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو۔ (4)

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ بڑا مشکل دن ہوگا۔

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

اور کافروں کے لیے وہ آسان نہیں ہوگا۔

4: جب آنحضرت ﷺ کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔
Ayahs 74:11–16

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

اس شخص کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ (5)

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اس کو مال دیا جو دور تک پھیلا پڑا ہے۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور بیٹے دیے جو سامنے موجود رہتے ہیں۔

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کے لیے ہر کام کے راستے ہموار کردیے۔

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر بھی وہ یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! وہ ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ہے۔

5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے پاس نہیں جاؤں گا۔ ابو جہل نے کہا کہ جب تک تم قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہوگے، لوگ مطمئن نہیں ہوں گے۔ ولید نے کہا میں اسے نہ شعر کہہ سکتا ہوں، نہ کاہنوں کا کلام کہہ سکتا ہوں۔ نہ محمد ﷺ کو مجنون کہہ سکتا ہوں، کیونکہ یہ باتیں چلنے والی نہیں ہیں۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہا کہ : البتہ اسے سحر (جادو) کہا جاسکتا ہے، کیونکہ جس طرح جادو کے ذریعے جادوگر میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں، اسی طرح اس کلام کو سن کر جو مسلمان ہوجاتا ہے، وہ اپنے کافر ماں باپ وغیرہ سے الگ ہوجاتا ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ ولید نے یہ بات اس موقع پر کہی تھی جب قریش کے لوگوں نے حج سے کچھ پہلے یہ مشورہ کیا کہ حج میں سارے عرب سے لوگ آئیں گے، اور محمد ﷺ کے بارے میں سوالات کریں گے، ہمیں یہ طے کرلینا چاہیے کہ ان سے کیا کہیں۔ ولید نے کہا کہ انہیں نہ مجنون کہا جاسکتا ہے، نہ شاعر نہ کاہن، نہ جھوٹا۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر کیا کہیں، تو اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا کہ اگر انہیں جادوگر کہا جائے تو بات کچھ چل جائے گی۔ (ابن کثیر)
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

عنقریب میں اسے ایک کٹھن چڑھائی پر چڑھاؤں گا۔ (6)

6: قرآن کریم میں اصل لفظ ”صعود“ ہے جس کے لفظی معنی پر مشقت چڑھائی کے ہیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ یہ دوزخ کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔
Ayahs 74:18–20

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس کا حال تو یہ ہے کہ اس نے سوچ کر ایک بات بنائی۔ (7)

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

خدا کی مار ہو اس پر کہ کیسی بات بنائی۔

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

دوبارہ خدا کی مار ہو اس پر کہ کیسی بات بنائی۔

7: یعنی یہی بات بنائی کہ قرآن کو نہ شاعری کہہ سکتے ہیں، نہ کہانت، البتہ جادو کہہ سکتے ہیں۔
Ayahs 74:21–27

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے نظر دوڑائی۔ (8)

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی، اور منہ بنایا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیچھے کو مڑا، اور غرور دکھایا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا کہ : کچھ نہیں، یہ تو ایک روایتی جادو ہے۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

کچھ نہیں یہ تو ایک انسان کا کلام ہے۔

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

عنقریب میں اس شخص کو دوزخ میں جھونک دوں گا۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا چیز ہے ؟

8: یعنی آس پاس کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کر رہے ہیں۔
Ayahs 74:28–30

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ کسی کو باقی رکھے گی، اور نہ چھوڑے گی۔ (9)

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

وہ کھالوں کو جھلس دینے والی چیز ہے۔

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس (کارندے) مقرر ہوں گے۔

9: دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا جو جلے نہیں، اور نہ دوزخ کسی مجرم کو اپنے سے باہر رہنے دے گی، کہ اسے باہر رہنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
Ayahs 74:31–35

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے کوئی اور نہیں، فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (10) اور ان کی جو تعداد مقرر کی ہے وہ صرف اس لیئے کہ اس کے ذریعے کافروں کی آزمائش ہو، (11) تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے (12) اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے ایمان میں اور اضافہ ہو، اور اہل کتاب اور مومن لوگ کسی شک میں نہ پڑیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے (13) اور جو لوگ کافر ہیں، وہ یہ کہیں کہ بھلا اس عجیب سی بات سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (14) اور یہ ساری بات تو نوع بشر کے لیے ایک یاد دہانی کرانے والی نصیحت ہے اور بس۔

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

خبردار ! قسم ہے چاند۔

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے۔

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب اس کا اجالا پھیل جائے۔

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ یہ بڑی بڑی باتوں میں سے ایک ہے۔

10: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس کارندے مقرر ہیں تو کافروں نے اس کا مذاق اڑایا، اور ایک نے تو لوگوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ انیس میں سے سترہ کے لیے تو میں ہی کافی ہوں، باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ (ابن کثیر)۔ اس کے جواب میں یہ آیت 31 نازل ہوئی کہ یہ انیس کارندے سب کے سب فرشتے ہیں، کوئی مذاق نہیں کہ تم ان کا مقابلہ کرسکو۔ 11: یعنی اللہ تعالیٰ کو دوزخ کی نگرانی اور حفاظت کے لیے کسی خاص تعداد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ تعداد اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ کافروں کی آزمائش ہو کہ وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں، یا مذاق اڑاتے ہیں۔ 12: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کی کچھ کتابوں میں بھی دوزخ پر متعین فرشتوں کی تعداد انیس بیان کی گئی ہوگی، (چاہے وہ اس وقت ہمارے علم میں نہ ہوں) اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ اس بات پر یقین کرلیں گے۔ 13: روگ سے یہاں مراد شک یا نفاق ہے۔ 14: اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو مخلوقات پیدا فرمائی ہیں، ان کی نہ صرف تعداد، بلکہ ان کو عطا فرمائی ہوئی قوتوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے۔ لہذا اس کی کسی مخلوق کے بارے میں اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ قیاس کرلینا کہ وہ ہم جیسی ہی ہوگی، نری حماقت ہے۔
Ayah 74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

جو تمام انسانوں کو خبردار کر رہی ہے۔ (15)

15: دوزخ جیسی بڑی مصیبت کا یہ تذکرہ ان مضامین میں سے ہے جو لوگوں کو غفلت سے ہوش میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے چاند کی قسم کھائی ہے کہ جس طرح چاند پہلے روز بروز بڑھتا اور پھر روز بروز گھٹتا ہے، یہاں تک کہ مہینے کے آخر میں بالکل غائب ہوجاتا ہے، اسی طرح انسان کی طاقت پہلے بڑھتی ہے، پھر بڑھاپے میں گھٹنی شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن انسان مرجاتا ہے، اور دنیا کی ہر چیز کا یہی حال ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی قسم کھائی ہے جب رات ڈھلنے لگتی ہے، اور صبح کا اجالا نمودار ہو کر پورے ماحول کو روشن کردیتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ابھی تو کافروں کے سامنے غفلت کا اندھیرا پھیلا ہوا ہے، پھر ایک وقت آئے گا جب یہ اندھیرا دور ہوگا، اور حق اپنی پوری تابانی کے ساتھ ظاہر ہو کر ماحول کو روشن کردے گا، یا اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے بہت سے حقائق انسان کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں، جو قیامت میں پوری طرح روشن ہو کر سامنے آجائیں گے۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

تم میں سے ہر اس شخص کو جو آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ (16)

16: یعنی یہ اس شخص کو بھی خبردار کرتا ہے جو بھلائی کی طرف آگے بڑھے، اور اس کو بھی جو بھلائی سے پیچھے ہٹے۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے کرتوت کی وجہ سے گروی رکھا ہوا ہے۔ (17)

17: یعنی جس طرح قرض کی توثیق کے لیے کوئی چیز گروی (رہن) رکھی جاتی ہے، کہ اگر قرض ادا نہ ہوا تو قرض خواہ اسے بیچ کر اپنا حق حاصل کرسکتا ہے، اسی طرح کافر اس طرح رہن رکھا ہوا ہے کہ یا تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلے، ورنہ اس کا پورا وجود دوزخ کا ایندھن بنے گا۔