73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے چادر میں لپٹنے والے۔ (1)

1: یہ پیار بھرا خطاب حضور اقدس ﷺ سے ہے، جب آپ پر پہلی پہلی بار غار حراء میں جبرئیل ؑ وحی لے کر آئے تھے تو آپ پر نبوت کی ذمہ داری کا اتنا بوجھ ہوا کہ آپ کو جاڑا لگنے لگا، اور جب آپ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو یہ فرما رہے تھے کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو ، مجھے چادر میں لپیٹ دو ، اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں محبوبانہ انداز میں آپ کو اے چادر میں لپٹنے والے کہہ کر خطاب کیا گیا ہے۔
Ayahs 73:2–4

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہوجایا کرو۔ (2)

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

رات کا آدھا حصہ، یا آدھے سے کچھ کم کرلو۔

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ زیادہ کرلو، اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو۔

2: اس آیت میں آپ کو تہجد کی نماز کا حکم دیا گیا ہے، اکثر مفسرین کے مطابق شروع میں تہجد کی نماز نہ صرف آنحضرت ﷺ پر ؛ بلکہ تمام صحابہ پر فرض کردی گئی تھی، اور اس کی مقدار کم سے کم ایک تہائی رات مقرر فرمائی گئی تھی، یہ فرضیت بعض روایات کی رو سے سال بھر تک جاری رہی، بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 20 نازل ہوئی جس نے تہجد کی فرضیت منسوخ کردی جیسا کے اس آیت کی تشریح میں آنے والا ہے۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ (3)

3: اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ چونکہ یہ سورت ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی، اس لیے قرآن کریم کا بیشتر حصہ ابھی نازل ہونا باقی تھا۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کے وقت اٹھنا ہی ایسا عمل ہے جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے، اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔ (4)

4: یعنی رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے سے انسان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ اور رات کے وقت میں چونکہ شور و غل نہیں ہوتا، اس لیے تلاوت اور دعا ٹھیک ٹھیک اور حضور قلب کے ساتھ ادا ہوتی ہیں۔ دن کے وقت یہ فائدے کم ہوتے ہیں۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن میں تو تم لمبی مصروفیت میں رواں دواں رہتے ہو۔ (5)

5: یعنی دن کا وقت چونکہ دوسرے کاموں میں مصروفیت کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اس میں اتنی دلجمعی کے ساتھ عبادت مشکل ہے۔
Ayahs 73:8–9

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو، اور سب سے الگ ہو کر پورے کے پورے اسی کے ہو رہو۔ (6)

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے اسی کو کارساز بنا لو۔

6: ذکر میں دونوں باتیں داخل ہیں، زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی، اور دل سے اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھنا بھی۔ اور سب سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کے سارے تعلقات چھوڑ دو ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ کے تعلق کو غالب رکھو، یہاں تک کہ دنیا کے تعلقات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کے مطابق اور اسی کے حکم کی تعمیل میں ہونے چاہئیں۔ اس طرح وہ تعلقات بھی اللہ ہی کے لیے ہوجائیں گے۔
Ayahs 73:10–19

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو باتیں یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں ان پر صبر سے کام لو، اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کرلو۔ (7)

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور تمہیں جھٹلانے والے جو عیش و عشرت کے مالک بنے ہوئے ہیں، ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ، اور انہیں تھوڑے دن اور مہلت دو۔

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

یقین جانو ہمارے پاس بڑی سخت بیڑیاں ہیں، اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

اس دن جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے، اور سارے پہاڑ ریت کے بکھرے ہوئے تودے بن کر رہ جائیں گے۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(جھٹلانے والو !) یقین جانو ہم نے تمہارے پاس تم پر گواہ بننے والا ایک رسول اسی طرح بھیجا ہے، جیسے ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا۔

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر فرعون نے رسول کا کہنا نہیں مانا، تو ہم نے اسے ایسی پکڑ میں لے لیا جو اس کے لیے زبردست وبال تھی۔

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی نہ مانے تو پھر اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ پڑے گا۔ اللہ کے وعدے کو تو پورا ہو کر رہنا ہے۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت کی بات ہے۔ اب جو چاہے، اپنے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرلے۔

7: مکی زندگی میں ہمیشہ حکم یہی دیا گیا ہے کہ کافروں کی تکلیف دہ باتوں پر صبرو کرو، اور ان سے لڑائی ٹھاننے کے بجائے خوبصورتی سے علیحدگی اختیار کرلو۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب، اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے) (8) اور رات اور دن کی ٹھیک ٹھیک مقدار اللہ ہی مقرر فرماتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم اس کا ٹھیک حساب رکھ سکو گے، اس لیے اس نے تم پر عنایت فرما دی ہے۔ (9) اب تم اتنا قرآن پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو۔ (10) اللہ کو علم ہے کہ تم میں کچھ لوگ بیمار ہوں گے، اور کچھ دوسرے ایسے ہوں گے جو اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین میں سفر کر رہے ہوں گے۔ (11) اور کچھ ایسے جو اللہ کے راستے میں جنگ کر رہے ہوں گے۔ لہذا تم اس (قرآن) میں سے اتنا ہی پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو۔ اور نماز قائم کرو، (12) اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو قرض دو ، اچھا والا قرض ! (13) اور تم اپنے آپ کے لیے جو بھلائی بھی آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس جاکر اس طرح پاؤ گے کہ وہ کہیں بہتر حالت میں اور بڑے زبردست ثواب کی شکل میں موجود ہے۔ اور اللہ سے مغفرت مانگتے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

8: یہ آیت اوپر کی آیات سے کم از کم ایک سال بعد نازل ہوئی، اور اس کے ذریعے تہجد کے حکم میں آسانی پیدا فرمائی گئی۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، شروع میں ایک تہائی رات کی مقدار تہجد پڑھنا ضروری تھا، لیکن چونکہ گھڑیوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا، اس لیے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام احتیاط کے پیش نظر تہائی رات سے کافی زیادہ مقدار تہجد پڑھنے میں گذارتے تھے، کبھی آدھی رات، کبھی دو تہائی کے قریب قریب۔ 9: مطلب یہ ہے کہ دن اور رات کی ٹھیک ٹھیک مقدار چونکہ اللہ تعالیٰ ہی مقرر فرماتا ہے، اس لیے اسے معلوم ہے کہ تم لوگوں کے لیے تہائی رات کا حساب رکھنا بھی مشکل ہے، اور اس عمل کو نبھانا بھی، اس لیے اب جبکہ ایک مدت تک تم نے یہ مشقت اٹھالی ہے، اور اس کے ذریعے تمہارے اندر جو صفات پیدا کرنی مقصود تھیں، وہ بڑی حد تک حاصل ہوگئی ہیں، اس لیے اب اللہ تعالیٰ نے تہجد کی فرضیت کو ختم فرما دیا ہے۔ 10: اس سے مراد تہجد کی نماز میں قرآن کریم پڑھنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اب نہ تو تہجد کی نماز فرض ہے، اور نہ اس کی کوئی خاص مقدار مقرر ہے۔ اب بھی وہ مستحب ضرور ہے لیکن جتنا آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ سکتے ہو۔ واضح رہے کہ اگرچہ تہجد کا افضل طریقہ یہ ہے کہ انسان رات کو سونے کے بعد آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد پڑھے، لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرسکے تو عشاء کے بعد کسی بھی وقت صلاۃ اللیل کی نیت سے نماز پڑھ لینے سے بھی اس نماز کی فضیلت حاصل ہوسکتی ہے۔ 11: یعنی تجارت یا روزگار حاصل کرنے کے لیے سفر کر رہے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ آئندہ تمہیں بہت سے ایسے حالات سے سابقہ پڑے گا جن میں رات کے وقت اتنی لمبی نماز کا نبھانا مشکل ہوجائے گا، اس لیے اب وہ فرض نہیں رہی۔ 12: اس سے مراد پانچ وقت کی فرض نمازیں ہیں۔ 13: اس سے مراد صدقہ دینا اور دوسرے نیک کاموں میں کرچ کرنا ہے۔ اسے مجازی طور پر قرض اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں اس کے اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور ”اچھا والا قرض“ کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نیت صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، دکھاوا وغیرہ مقصود نہ ہو۔