75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی جو اپنے اوپر ملامت کرے،

انسان قیامت کا انکار کرتا ہے تاکہ فسق و فجور میں لگا رہے، اسے اپنے اعمال کی خبر ہے اگرچہ بہانہ بازی کرے، قیامت کے دن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ ہو گی یہاں سے سورة القیامہ شروع ہو رہی ہے اس میں قیامت کے احوال بیان فرمائے ہیں اور انسان کی موت کے وقت کی حالت بتائی ہے اور انسانوں کو آخرت کے لیے فکر مند ہونے کی تنبیہ فرمائی ہے۔ مشرکین وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ مردہ ہڈیوں میں جان کیسے پڑے گی ؟ اور ہڈیاں کیسے جمع کی جائیں گی اسی طرح ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ عدی بن ربیعہ ایک آدمی تھا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے محمد مجھے بتا دیجئے قیامت کب ہوگی کیسے ہوگی کیا کیا احوال گزریں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے قیامت کا حال بتادیا وہ سن کر کہنے لگا کہ اگر میں اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تب بھی تمہاری تصدیق نہ کروں گا اور تم پر ایمان نہ لاؤ گا مگر اس صورت میں کہ اللہ ہڈیوں کو جمع فرما دے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ابو جہل نے انکار کے طور پر یوں کہا تھا کہ کیا محمد یہ خیال کرتے ہیں کہ ہڈیاں جب گل جائیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کو جمع فرما دے گا ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی تردید فرمائی اور قیامت کے دن کی اور ایسے نفس کی قسم کھائی جو اپنے اوپر ملامت کرے یعنی گناہ ہوجانے پر نادم ہو اور نیکی کر کے بھی اپنے نفس پر ملامت کرے کہ اس میں اخلاص کی یا فلاں فلاں آداب کی کمی رہ گئی، جواب قسم لتبعثن محذوف ہے یعنی قیامت کے دن کی اور نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تم قیامت کے دن ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔
Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے

﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ003﴾ (کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہرگز ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے) ۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ہم ضرور جمع کریں گے، ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک درست کردیں،

﴿ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ 004﴾ (ہاں ہم اس پر ضرور قادر ہیں کہ ہم انسان کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں) ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع کرسکتے ہیں بلکہ اس کی جسمانی ساخت کو دوبارہ پاؤں سے لے کر سر تک اسی طرح بنا سکتے ہیں جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا انگلیوں کے پورے جو جسم میں چھوٹی چیزیں ہیں ان کو بھی حسب سابق ان کی جگہ لاسکتے ہیں۔ قال البغوی فی معالم التنزیل صفحہ 421: وقال الزجاج و ابن قتیبة : معناہ ظن الکافر انا لانقدر علٰی جمع عظامہ بلی نقدر علی ان بغیر اسلامیات علٰی صغرھا فنؤلف بینھا حتی نسوی البنان فمن قدر علی جمع صغار العظام فھو علی جمع کبارھا اقدر۔
Ayahs 75:5–6

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ آدمی یوں چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ زندگی میں بھی فسق و فجور کرتا رہے،

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا

﴿ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ005 يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ006﴾ (بلکہ انسان یوں چاہتا ہے کہ قیامت کی بات سن کر تسلیم نہ کرے اور آئندہ آنے والی زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے وہ قیامت کا دن واقع ہونے کا منکر ہے اور بطور انکار یوں پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا) یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ فسق و فجور میں جو ذرا سا مزا ہے اس کی وجہ سے قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے قیامت کو مانا تو اس کے لیے تیاری کرنی ہی پڑے گی۔ گناہوں کو چھوڑنا ہوگا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ خالق اور مالک نے جو چیز مقدر اور مقرر فرما دی ہے اور فیصلہ فرما دیا ہے اس کا واقع ہونا ضروری ہے نہ ماننے سے اور انکار کرنے سے فیصلہ شدہ واقع ہونے والی چیز ٹل نہ جائے گی آنے والی آ کر رہے گی۔
Ayahs 75:7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند ایک حالت میں ہوجائیں گے

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر بھاگوں،

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں،

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن صرف تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے،

﴿فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ007 وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ008 وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ009﴾ (سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے) ۔ ﴿ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ0010﴾ (اس دن انسان کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) یعنی میں کہاں بھاگوں اور کیا کروں ﴿ كَلَّا لَا وَزَرَؕ0011﴾ (اللہ پاک کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہرگز بھی کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے) ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ0012﴾ (آج کے دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے) نہ بھاگنے کی جگہ ہے نہ بھاگنا فائدہ دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے اسی میں رہنا ہوگا اسی کے فیصلے نافذ ہوں گے۔ قولہ تعالیٰ : وجمع الشمس والقمر ای جمع بینھما فی ذھاب ضوء ھما فلاضوء للشمس کما لاضوء للقمر بعد خسوفہ قالہ الفراء والزجاج وقال ابو عبیدة ھو علی تغلیب المذکر وقال المبرد التانیث غیر حقیقی۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا ہوا جتلایا جائے گا

﴿ يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ0013﴾ (اس روز انسان کو سب کچھ اگلا پچھلا جتلا دیا جائے گا) دنیا میں جو بھی اعمال کیے تھے پہلے کیے ہوں یا بعد میں سب اس کے سامنے کردیئے جائیں گے اور اعمال نامے سب کچھ بتادیں گے۔
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا،

﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌۙ0014﴾ (بلکہ انسان اپنے نفس کو خوب جاننے والا ہے) دنیا میں بھی جانتا ہے اور وہاں بھی جانتا ہوگا کہ میں کیا کیا کر کے آیا ہوں۔ (اپنے اعمال خود بھی یاد ہوں گے اور اعضا بھی گواہی دے دیں گے) ۔ قالوا فی معنی ﴿ بَصِيْرَةٌ﴾ حجة بینة واضحة علی نفسہ شاھدة بما صدر عنہ من الاعمال السیئة۔ (ذكر صاحب الروح) وفی احکام القرآن للقرطبی قال ابن عباس بصیرة ای شاھدٌ وھو شھود جوارحہ علیہ ون اس یقولون ھذہ الھاء فی قولہ ﴿بَصِيْرَةٌ﴾ ھی التی یسمیھا اھل الاعراب ھاء المبالغة کا لھاء فی قولھم داھیة وعلامة وراویہ۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

گو حیلے بہانے پیش کرے گا۔

﴿ وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗؕ0015﴾ (اگرچہ حیلے بہانے پیش کرے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب معاذیر اعذار کے معنی میں ہو اور یہ معنی ﴿ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ ﴾ کے موافق ہے اور بعض حضرات نے معاذیر کا معنی مستور جمع ستر بمعنی پردہ کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان اگرچہ پردہ کے پیچھے کوئی عمل کرے اور یوں سمجھے کہ کسی نے دیکھا ہی نہیں جو میرے عمل کی گواہی دے تو یہ اس کی بیوقوفی ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خود اپنے عمل کا گواہ بنے گا اور اس کا اقراری ہوگا۔ قال صاحب الروح قال السدی والضحاک المعاذیر الستور بلغة الیمن واحدھا معذار وحکی خلف عن الزجاج ای ولو ارخی ستورہ والمعنی ان احتجابہ فی الدنیا والاستتارة لا یغنی عنہ شیئا لان علیہ من نفسہ بصیرة وفیہ تلویح الی معنی قولہ تعالیٰ وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم الایة (انتھی) وقال البغوی واھل الیمن یسمون الستر معذاراً وجمعہ معاذیر ومعناہ علی ھذا القول : وان اسبل الستر لیخفی ما کان یعمل فان نفسہ شاھدة علیہ ومعاذیرہ ان کان جمع معذرة بمعنی الستر فلا اشکال فی الجمع لان المفعال یجمع علی مفاعیل کالمصباح وان کان جمع معذرة بمعنی العذر فھو جمع علی خلاف القیاس والقیاس معاذر مغیریاءٍ وقال صاحب الفرائد یمکن ان یقال الاصل فیہ معاذر فحصلت الیاء من اشباع الکسرة ذکرہ صاحب الروح ولم یرض بقول صاحب۔
Ayahs 75:16–17

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

آپ قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لے لیں،

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور پڑھوا دینا

رسول اللہ ﷺ سے مشفقانہ خطاب، آپ فرشتہ سے قرآن کو خوب اچھی طرح سن لیں پھر دہرائیں، ہم آپ سے قرآن پڑھوائیں گے اور بیان کروائیں گے ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مشفقانہ خطاب فرمایا ہے جیسا کہ دوسرے خطابات بھی اسی طرح کے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان کا شان نزول یوں بیان فرمایا کہ جب وحی نازل ہوتی تھی تو رسول اللہ ﷺ مشقت برداشت کرتے تھے اور اپنے دونوں ہونٹوں کو ہلاتے تھے (تاکہ جو کچھ نازل ہو رہا ہے وہ فوراً یاد ہوجائے) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ جلدی نہ کریں ہم اسے آپ کے سینہ میں جمع کردیں گے اور آپ سے پڑھوا دیں گے۔
Ayah 75:18

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

سو جب ہم اس کو پڑھیں سو آپ اس کے پڑھنے میں تابع ہوجایا کریں

﴿ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ0018﴾ (پھر جب ہم قرآن کو پڑھیں یعنی ہمارا فرشتہ وحی لے کر آئے اور آپ کو سنائے تو آپ سنتے رہیں اس کے بعد آپ پڑھیں) ۔
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا بیان کرا دینا ہمارے ذمہ ہے۔

﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗؕ0019﴾ (پھر بیشک ہمارے ذمہ اس کا بیان کرنا ہے) یعنی ہم آپ سے قرآن پڑھوائیں گے اور آپ کی زبان پر جاری کردیں گے آپ لوگوں کو سنائیں گے اور پہنچائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد یہ ہوتا تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لاتے تھے تو آپ متوجہ ہو کر سنتے تھے پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چلے جاتے تھے تو آپ اسی طرح دہرا لیتے تھے جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے پڑھا تھا۔ (صحیح بخاری صفحہ 3: ج 1، اور صفحہ 733: ج 2)
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑتے ہو

قیامت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ اور کچھ بدرونق ہوں گے، موت کے وقت انسان کی پریشانی نزول قرآن کے وقت جو رسول اللہ ﷺ کو یاد کرنے میں تکلیف ہوتی تھی اس کے بارے میں آپ کو تسلی دی کہ آپ مشقت میں نہ پڑیں آپ پہلے سن لیں پھر یاد کریں ہم آپ کو یاد کرا دیں گے اور اس کے احکام بھی آپ سے بیان کروا دیں گے یہ مضمون بیان فرما کر پھر قیامت سے متعلق مضمون شروع فرما دیا اور فرمایا ﴿كَلَّا ﴾ بیشک بات یہ ہے کہ مکذبین اور معاندین قرآن پر ایمان نہیں لاتے یہ ان کی گمراہی ہے ان کے نہ ماننے سے قیامت ٹلنے والی نہیں ہے، جیسا وہ غلط خیال کرتے ہیں ایسا ہرگز نہ ہوگا پھر ان کی گمراہی کا سبب بتایا۔ ﴿بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ0020﴾ (اے منکرو ! تم ایمان نہیں لاتے جو آخرت کا فکر مند بناتا ہے اور وہاں بلند درجات نصیب ہونے کا ذریعہ ہے بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو یہ دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت تمہیں ایمان نہیں لانے دیتی۔
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے

اس کے بعد اہل ایمان کی خوشی اور اہل کفر کی بدحالی بیان فرمائی۔ ارشاد فرمایا ﴿ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةۙا 0022﴾ (اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے) یعنی خوش و خرم ہوں گے ان کے چہروں کی خوبی اور چمک دمک دیکھنے والوں کو بتارہی ہوگی کہ یہ لوگ بڑے خوش ہیں ان کو کوئی فکر نہیں پوری طرح ہشاش بشاش ہیں۔ كما قال تعالیٰ : ﴿تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ0024﴾ ان میں بہت سے اشخاص رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کر کے دعا لینے والے بھی ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نضر اللہ امراء سمع مناشیئا فبلغہ کما سمعہ فرب مبلغ اوعیٰ من سامع (اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی چیز سنی پھر اس نے اسی طرح دوسروں کو پہنچا دی جیسے سنی تھی کیونکہ بہت سے افراد جن کو بات پہنچائی گئی اس سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں جس نے خود سنی تھی) ۔
Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے

﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ0023﴾ یہ چہرے جو ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے جنت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا دیدار ہوگا جیسا کہ آیت شریف سے ظاہر ہے، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ادنیٰ درجہ والا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغوں اور بیویوں اور نعمتوں اور خادموں اور تختوں کو ہزار سال کی مسافت کے اندر دیکھے گا (یعنی اس کی نعمتیں اتنی دور تک پھیلی ہوئی ہوں گی کہ کوئی شخص اول سے آخر تک ان کے پاس سے گزرنا چاہے تو ہزار سال میں چل کر پہنچے) اور ان میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہوگا جو صبح شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (مذکورہ بالا آیتوں) ﴿ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ0022 اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ0023﴾ کی تلاوت فرمائی۔ (رواہ الترمذی و احمد کما فی المشکوٰۃ صفحہ 501)
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے چہرے اس دن بدرونق ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کر رہے ہوں گے کہ ہمارے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا

پھر فرمایا ﴿ وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌۙ0024 تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ0025﴾ (اور کچھ چہرے اس دن بدرونق ہوں گے اور وہ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا) یعنی یہ سمجھ لیں گے کہ دنیا میں جو نافرمانی کی زندگی گزاری ہے اس کی سزا ملنے والی ہے اس سزا کو فاقرۃ سے تعبیر فرمایا، ریڑھ کی ہڈی کو فقار کہا جاتا ہے یہ لفظ اسی سے ماخوذ ہے۔ قال صاحب الروح ای داھیة عظیمة تفصم فقار الظھر من فقرہ اصابہ فقارہ۔
Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

واقعی بات ہے کہ جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے کہ کون ہے دم کرنے والا

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ یقین کرلے بلاشبہ یہ جدائی کا وقت ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس روز تیرے رب کی طرف چلنا ہے۔

كَلَّاۤ یہ بات ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے رہو، بلکہ موت کے و قت کے لیے اور موت کے بعد کے حالات کے لیے فکر مند رہنا ضروری ہے۔ یہ دنیا بہر حال چھوٹ جانے والی ہے۔ ﴿اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ0026﴾ جب ہنسلیوں تک پہنچ جائے (یعنی روح نکلنے لگے) ﴿وَ قِيْلَ مَنْٚ رَاقٍۙ0027﴾ (اور یوں کہا جائے کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے یعنی پاس کے بیٹھنے والے تیمار دار عزیز قریبی سوچنے لگیں کہ کوئی علاج کرنے والا ہے) ۔ ﴿ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ0028﴾ (اور یہ یقین کرلے گا کہ اب جدائی ہے) یعنی جس کی روح ہنسلیوں تک پہنچی اس کے تیمار دار تو معالج کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ اب میرا چل چلاؤ ہے روح جسم سے جدا ہو رہی ہے۔ ﴿ وَ الْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِۙ0029﴾ (اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے) جیسا کہ بعض مرنے والوں کا سکرات موت کے وقت ایسا حال بن جاتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے پنڈلی کا لپٹنا ہی مراد نہیں بلکہ نزع کے احوال اور سکرات مراد ہیں چونکہ سب سے پہلے پنڈلیوں سے روح نکلتی ہے اور یہ دونوں ٹھنڈی پڑجاتی ہیں اور خشک ہوجاتی ہیں اسی لیے ان کا تذکرہ فرمایا ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمَسَاقُ 2ؕ (رح) 0030﴾ (اس دن تیرے رب کی طرف چلا جانا ہے) ۔ یعنی جس وقت مذکورہ بالا حالات انسان پر گزرتے ہیں اس وقت دنیا اور اہل دنیا سے کٹ کر انسان اپنے رب کی طرف چل دیتا ہے یعنی کوئی معاون و مددگار نہیں رہتا اللہ تعالیٰ ہی کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں جنت ملتی ہے یا دوزخ میں جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کا فیصلہ فرما دے گا۔ قال صاحب الروح وتقدیم الخبر للحصر والکلام علی تقدیر مضافٍ ھو حکم وقیل ھو موعدٌ والمراد بہ الجنة او النار والمساق مصدر میمیٌ کالمقال قولہ تعالیٰ ﴿ التَّرَاقِيَ﴾ ای اعالی الصدورھی العظام المکتنفة صغرة النحر عن یمین و شمال جمع ترقوة (من روح المعانی) ۔
Ayahs 75:31–33

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

اور لیکن جھٹلایا اور منہ موڑا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا

انسان کی تکذیب کا حال اور اکڑفوں، کیا اسے پتہ نہیں کہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی یہ تخلیق ہے کیا اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ فرما دے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ کی ضمیر ابو جہل کی طرف راجع ہے (اور اگر کافروں کا ہر سرغنہ مراد لیا جائے تو اس میں بھی کوئی بعد نہیں ہے کیونکہ کفر کے سردار اور چودھری اسی مزاج کے ہوتے ہیں جس کا یہاں تذکرہ فرمایا ہے) ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ (سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی) ۔ ﴿ وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ0032﴾ اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ﴿ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ0033﴾ پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا۔ جن کا متکبرانہ انداز ہوتا ہے ان کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ اپنی چال ڈھال سے تکبر ظاہر کرتے ہیں اکڑتے مکڑتے اتراتے ہوئے چلتے ہیں جب کسی نے کوئی حق بات کہی اور حق کی دعوت دی تو اسے ٹھکرا کر منہ موڑ کر متکبرانہ چال سے گزر جاتے ہیں اور جب مجلس سے اٹھ کر گھر میں جانے لگیں تو ان کی متکبرانہ رفتار کا پوری طرح مظاہرہ ہوجاتا ہے۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے،

﴿ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ0034 ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ0035﴾ (تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے پھر تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے) یہ جھٹلانے والے اور منہ موڑنے والے کے لیے وعید ہے اور وعید پر وعید ہے اور مطلب یہ ہے کہ تو نجات پانے والا نہیں ہے عذاب میں مبتلا ہوگا تو عذاب کا مستحق ہے اور عذاب تیرے حال سے قریب تر ہے، لفظ ” اولی “ ولی سے مشتق ہے، جس کا معنی قرب اور نزدیکی کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو عذاب کا مستحق ہے اور عنقریب ہی تیری کمبختی آنے والی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سنگریزوں والی زمین میں ابوجہل کے کپڑے پکڑے اور اسے آیت کریمہ ﴿ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ0034 ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ0035﴾ سنا دی۔ ابو جہل نے کہا کہ اچھا تم مجھے دھمکی دیتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں کرسکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان جو لوگ چلتے پھرتے ہیں میں ان میں سب سے زیادہ معزز ہوں پھر غزوہٴ بدر کے موقع پر وہ بری طرح مقتول ہوا۔ قال صاحب الروح اولٰی لک فاولٰی من الولی بمعنی القرب فھو للتفضیل فی الاصل وغلب فی قرب الھلاک ودعا السوء کانہ قیل ھلاکًا اولٰی لک بمعنی اھلک اللہ تعالیٰ ھلاکًا اقرب لک من کل شرو ھلاک وعن ابی علی ان اولی لک علم للویل مبنی علی زنة افعل من لفظ الویل علی القلب واصلہ اویل الی اخر ما قال صاحب الروح (صفحہ 170: جلد 29)
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا

﴿ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ0036﴾ (کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا) ۔ قرآن مجید کے مخاطبین ایمان لانے کو تیار نہ تھے اور جب انہیں قیامت اور وہاں کے حساب کتاب اور جنت اور جہنم کے داخلے کی باتیں بتائی جاتی تھیں تو ان سب کو جھٹلا دیتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ دنیا میں رہیں گے مزے اڑاتے رہیں گے۔ دنیا میں آئے، وقت پورا کیا، چلے گئے، موت کے بعد پوچھ گچھ جزا سزا کچھ نہیں ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کیا انسان یوں سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنے بارے میں یہ سوچ لینا کہ میں یوں ہی بلاحساب کتاب چھوڑ دیا جاؤ گا غلط ہے۔
Ayahs 75:37–40

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا نطفہ نہ تھا جو ٹپکایا گیا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ خون کا لوتھڑا تھا، سو اللہ تعالیٰ نے اسے بنا دیا اور پھر اس کے اعضاء درست کردیئے

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنا دیں ایک مرد اور ایک عورت

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔

﴿ اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ (کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جسے ٹپکایا گیا) ۔ ﴿ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ0038﴾ (پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضاء درست کردیئے) ۔ ﴿ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ0039﴾ (پھر اس نے اس کی دو قسمیں بنا دیں ایک مرد ایک عورت) ۔ ﴿ اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ (ان تصرفات اور تخلیقات والا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ فرما دے) انسان جو قیامت کا منکر ہے انکار کرتے ہوئے یوں کہتا ہے کہ بھلا مر کر بھی زندہ ہوں گے، اس کے جواب میں فرما دیا کہ دیکھ تو منی کا ایک قطرہ تھا وہ تیرے ماں کے رحم میں ڈالا گیا پھر وہ جما ہوا خون بن گیا پھر اللہ نے اس کا باقاعدہ جسم بنا دیا یعنی اس لوتھڑے میں اعضاء پیدا فرما دیئے اور پھر اس کی دو قسمیں بنا دیں ایک نر اور ایک مادہ۔ یہ سب باتیں تو جانتا ہے اور مانتا ہے جس ذات پاک نے اتنے تصرفات فرمائے اور قطرہ منی سے بہت سارے مرد و عورت بنادیئے تو کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ اس کے لیے ابتداً پیدا فرمانا اور دوبارہ پیدا فرمانا دونوں برابر ہیں، انسان کی عقل اور قیاس میں ہدایت کے ساتھ یہ بات آجاتی ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت پہلی بات کے آسان ہونا چاہیے لیکن انسان پھر بھی معاد کا یعنی دوبارہ پیدا ہونے کا منکر ہے۔ حدیث : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص ﴿ وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِۙ001﴾ پڑھے اور ﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ (رح) 008﴾ پر پہنچے تو اس کے بعد یوں کہے : ﴿بلی وانا علی ذلک من الشاھدین﴾ (ہاں وہ احکم الحاکمین ہے اور میں اس پر گواہ ہوں) اور جو شخص سورة ٴ ﴿لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ001﴾ پڑھے اور ﴿اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ پر پہنچے تو بَلٰی ك ہے (یعنی یوں کہے کہ ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے) اور جو شخص سورة ٴ والمرسلت پڑھے اور ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ 00185﴾ پر پہنچے تو یوں کہے : اٰمَنَّا باللّٰهِ (کہ ہم اللہ پر ایمان لائے) ۔ (رواہ ابو داؤد كما فی المشکوٰۃ صفحہ 81) وھذا آخر تفسیر سورة القیامہ والحمد للہ اولا و آخرا و باطنا وظاھرا