Ayah 75:16 یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہونا عقل سے اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہوچکا ہے جس کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینا مرے پیچھے اٹھائے جاؤ گے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔ (تنبیہ) واضح ہو کہ دنیا میں کئی قسم کی چیزیں ہیں جن کی قسم لوگ کھاتے ہیں، اپنے معبود کی، کسی معظم و محترم ہستی کی، کسی مہتم بالشان چیز کی، کسی محبوب یا نادر شے کی، اس کی خوبی یا ندرت جتانے کے لیے، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں کی قسمت کی قسم کھائیے۔ پھر بلغاء یہ بھی رعایت کرتے ہیں کہ مقسم بہ مقسم علیہ کے مناسب ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ مقسم بہ کو مقسم علیہ کے لیے شاہد ہی گردانا جائے۔ جیسے ذوق نے کہا ہےاتنا ہوں تری تیغ کا شرمندہ احساں سر میرا ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا، یہاں اپنے سر کے نہ اٹھ سکنے پر محبوب کے سر کی قسم کھانا کس قدر موزوں ہے شریعت حقہ نے غیر اللہ کی قسم کھانا بندوں کے لیے حرام کردیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان بندوں سے جداگانہ ہے۔ وہ اپنے غیر کی قسم کھاتا ہے اور عموماً ان چیزوں کو جو اس کے نزدیک محبوب یا نافع یا وقیع و مہتم بالشان ہوں، یا مقسم علیہ کے لیے بطور شاہد و حجت کے کام دے سکیں یہاں یوم قیامت کی قسم اس کے نہایت وقیع و مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے ہے اور جس مضمون پر قسم کھائی ہے اس سے مناسبت ظاہر ہے کیونکہ بعث و مجازات کا ظرف ہی یوم قیامت ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 75:27 محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو " مطمئنہ " کہتے ہیں۔ (يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ 27 ڰ ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً 28ۚ ) 89 ۔ الفجر :28-27) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو نفس " امارہ " کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے۔ (وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ) 12 ۔ یوسف :53) اور اگر کبھی عالم سفلی کی طرف جھکتا اور شہوت و غضب میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہو کر ان چیزوں کو برا جانتا ہے اور ان سے دور بھاگتا ہے اور کوئی برائی یا کوتاہی ہوجانے پر شرمندہ ہو کر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اس کو " نفس لوامہ " کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو " امارہ بالسوئ " کہتے ہیں۔ پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھا تو باز آیا کبھی (غفلت ہوئی تو) اپنی خو پر دوڑ پڑا، پیچھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے کیے پر پچھتانے اور ملامت کرنے لگا۔ ایسا نفس (جی) " لوامہ " کہلاتا ہے۔ پھر جب پورا سنور گیا، دل سے رغبت نیکی ہی پر ہوگئی بیہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکاب بلکہ تصور سے تکلیف پہنچنے لگی وہ نفس " مطمئنہ " ہوگیا۔ " اھ بتغیریسیر۔ یہاں نفس لوامہ کی قسم کھا کر اشارہ فرمادیا کہ اگر فطرت صحیح ہو تو خود انسان کا نفس دنیا ہی میں برائی اور تقصیر پر ملامت کرتا ہے۔ یہی چیز ہے جو اپنی اعلیٰ و اکمل ترین صورت میں قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔
Ayah 75:38 یعنی یہ خیال ہے کہ ہڈیوں تک کا چورا ہوگیا اور ان کے ریزے مٹی وغیرہ کے ذرات میں جا ملے۔ بھلا اب کس طرح اکٹھے کر کے جوڑ دیے جائیں گے ؟ یہ چیز تو محال معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 75:49 یعنی ہم تو انگلیوں کی پوریاں بھی درست کرسکتے ہیں اور پوریوں کی تخصیص شاید اس لیے کی کہ یہ اطراف بدن ہیں اور ہر چیز کے بننے کی تکمیل اس کے اطراف پر ہوتی ہے۔ چناچہ ہمارے محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ میری پور پور میں درد ہے۔ اس سے مراد تمام بدن ہوتا ہے۔ دوسرے پوریوں میں باوجود چھوٹی ہونے کے صنعت کی رعایت زیادہ اور عادۃً یہ زیادہ دشوار اور باریک کام ہے۔ لہذا جو اس پر قادر ہوگا وہ آسان پر بطریق اولیٰ قادر ہوگا۔
Ayahs 75:5–610 یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بےباکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا۔ جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے۔ بلکہ استہزاء و تعنت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی۔ اگر واقعی آنے والی ہے تو بقید سنہ و ماہ اس کی تاریخ تو بتلائیے۔
Ayah 75:711 یعنی حق تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آجائے گا۔
Ayah 75:812 یعنی بےنور ہوجائے۔ چاند کو شاید الگ اس لیے ذکر کیا کہ عرب کو بوجہ قمری حساب رکھنے کے اس کا حال دیکھنے کا زیادہ اہتمام تھا۔
Ayah 75:913 یعنی بےنور ہونے میں دونوں شریک ہوں گے۔
Ayahs 75:10–1214 یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔
Ayah 75:1315 یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد، اس کو جتلا دیے جائیں گے۔
Ayahs 75:14–1516 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں۔ " لیکن اکثر مفسرین نے اس کا تعلق (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) 75 ۔ القیامۃ :13) سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے۔ " وَاللّٰہُ رَبَّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ " بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں کے سامنے حیلے بہانے بنا کر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔
Ayahs 75:16–191 شروع میں جس وقت حضرت جبرائیل اللہ کی طرف سے قرآن لاتے، ان پر پڑھنے کے ساتھ حضرت ﷺ بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے تاکہ جلد اسے یاد کرلیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرائیل چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ ﷺ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہے گا۔ پھر کیسے پڑھوں گا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤں گا۔ اس کا تمہارے سینے میں حرف بحرف جمع کردینا اور تمہاری زبان سے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔ جبرائیل جس وقت ہماری طرف سے پڑھیں آپ ﷺ تو خاموشی سے سنتے رہیے۔ آگے اس کا یاد کرانا اور اس کے علوم و معارف کا تمہارے اوپر کھولنا اور تمہاری زبان سے دوسروں تک پہنچانا، ان سب باتوں کے ہم ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے جبرائیل کے ساتھ ساتھ پڑھنا ترک کردیا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہوا، کہ ساری وحی سنتے رہے اس وقت زبان سے ایک لفظ نہ دہرایا۔ لیکن فرشتے کے جانے کے بعد پوری وحی لفظ بہ لفظ کامل ترتیب کے ساتھ بدون ایک زبر زیر کی تبدیلی کے فرفرسنا دی اور سمجھا دی، یہ اس دنیا میں ایک چھوٹا سا نمونہ ہوا۔ (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) 75 ۔ القیامۃ :13) کا یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنی وحی فرشتے کے چلے جانے کے بعد پوری ترتیب کے ساتھ حرف بحرف بدون ادنیٰ فروگذاشت کے اپنے پیغمبر کے سینے میں جمع کر دے، کیا اس پر قادر نہیں کہ بندوں کے اگلے پچھلے اعمال جن میں سے بعض کو کرنیوالابھی بھول گیا ہوگا سب جمع کرکے ایک وقت میں سامنے کردے اور ان کو خوب طرح یا دلادے اور اسی طرح ہڈیوں کے منتشر ذرات کو سب جگہ سے اکٹھا کرکے ٹھیک پہلی ترتیب کو ازسر نو وجود عطا فرما دے۔ بیشک وہ اس پر اور اس سے کہیں زیادہ پر قادر ہے۔
Ayahs 75:20–212 یعنی تمہارا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہرگز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو۔ اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے۔ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) 21 ۔ الانبیآء :37) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ ) 75 ۔ القیامۃ :16) میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آئے خواہ آخرکار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 75:22–233 یہ آخرت کا بیان ہوا۔ یعنی مومنین کے چہرے اس روز تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہوں گی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اللہم لاتحرمنا من ہذالنعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ۔
Ayah 75:244 یعنی پریشان اور بےرونق ہوں گے۔
Ayah 75:255 یعنی یقین رکھتے ہیں کہ اب وہ معاملہ ہونے والا ہے اور وہ عذاب بھگتنا ہے جو بالکل ہی کمر توڑ دے گا۔
Ayah 75:266 یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا۔
Ayah 75:277 ایسی مایوسی کے وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں کی کچھ نہیں چلتی جب لوگ ظاہری علاج و تدبیر سے عاجز آجاتے ہیں تو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کی سوجھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میاں کوئی ایسا شخص ہے جو جھاڑ پھونک کر کے اس کو مرنے سے بچا لے اور بعض سلف نے کہا کہ " من راقٍ " فرشتوں کا کلام ہے جو ملک الموت کے ساتھ روح قبض کرنے کے وقت آتے ہیں وہ آپس میں پوچھتے ہیں ہیں کہ کون اس مردے کی روح کو لے جائے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے ؟ اس تقدیر پر " راقی "، " رقی " سے مشتق ہوگیا، جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ " رقیہ " سے نہ ہوگا۔ جو افسوس کے معنی میں ہے۔
Ayah 75:288 یعنی مرنے والا سمجھ چکا کہ تمام عزیز و اقارب اور محبوب ومالوف چیزوں سے اب اس کو جدا ہونا ہے یا یہ مطلب کہ روح بدن سے جدا ہونے والی ہے۔
Ayah 75:299 یعنی بعض اوقات سکرات موت کی سختی سے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ نیز نیچے کے بدن سے روح کا تعلق منقطع ہونے کے بعد پنڈلیوں کا ہلانا اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا اس کے اختیار میں نہیں رہتا۔ اس لیے ایک پنڈلی دوسری پر بےاختیار جا گرتی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا کہ عرب کے محاورات میں ' ساق " کنایہ ہے سخت مصیبت سے۔ تو آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ " ملی ایک سختی دوسری سختی کے ساتھ " کیونکہ مرنے والے کو اس وقت دو سختیاں پیش آتی ہیں۔ پہلی سختی تو یہی دنیا سے جانا، مال و اسباب، اہل و عیال، جاہ وحشم، سب کو چھوڑنا دشمنوں کی خوشی و طعنہ زنی، اور دوستوں کے رنج و غم کا خیال آنا، اور دوسری اس سے بڑی قبر اور آخرت کے احوال کی ہے۔ جس کی کیفیت بیان میں نہیں آسکتی۔
Ayah 75:3010 یعنی سفر آخرت کی ابتداء یہاں سے ہے گویا بندہ اپنے رب کی طرف کھنچنا شروع ہوا مگر افسوس اپنی غفلت و حماقت سے کوئی سامان سفر کا پہلے سے درست نہ کیا نہ اتنے بڑے سفر کے لیے کوئی توشہ ساتھ لیا۔
Ayahs 75:31–3311 یعنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمیشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کا کام کر کے آرہا ہے۔
Ayahs 75:34–3512 یعنی او بدبخت اب تیری کم بختی آئی، ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ اب تیرے لیے خرابی پر خرابی اور تباہی پر تباہی ہے۔ تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نئی نئی سزاؤں کا مستحق اور کون ہوگا۔ (تنبیہ) شاید اول خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری اس سے بڑھ کر جھٹلانے اور منہ موڑنے، پر تیسری اور چوتھی ان دونوں امور میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر ہو۔ جس کی طرف۔ " ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی " میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 75:3613 یعنی کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ اور امرونہی کی کوئی قید اس پر نہ ہوگی ؟ یا میرے پیچھے اٹھایا نہ جائے گا ؟ اور سب نیک و بد کا حساب نہ لیں گے ؟
Ayah 75:3714 یعنی عورت کے رحم میں۔
Ayahs 75:38–4015 یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنادیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کردیں۔ ایک نفطہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دو قسم کے آدمی پیدا کیے جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادر مطلق جس نے اولاً سب کو ایسی حکمت وقدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ کر دے ؟ " سبحانک اللہم فبلٰی۔ " پاک ہے تیری ذات اے خدا ! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔