75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة القیامہ سورة نمبر 75 کل رکوع 2 آیات 40 الفاظ و کلمات 164 حروف 682 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : اس سورة کا خلاصہ یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت کفار و مشرکین کے سامنے جب قیامت اور اکرت کے واقع ہونے کو بیا کیا جتا تو وہ اس کو ناممکن سمجھتے ہوئے کہتے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائی گی اور ہمارے وجود کے ذرات بکھر جائیں گے تو ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس تصور کو گمراہی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” میں قیامت کے دن اور نفس لوامہ ( ملامت کرنے والا نفس) کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جب ہم اس کی ہڈیوں کو ریزہ ریزہ کردیں گے تو ہم ان کو دوبارہ جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی ایک ایک پور کو دوبارہ ٹھیک ٹھیک بنا دینے کی پوری قدرت و طاقت رکھتے ہیں “۔ فرمایا کہ انسان اپنی نفساتی خواہشوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے پوچھتا ہے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دن تو ضرور آئے گا لیکن کفار اور اس کا انکار کرنے والوں کے لئے یہ دن بڑا ہولناک ہوگا۔ آنکھیں پتھرا جائی گی، چاند بےنور ہوجائے گا، بلکہ چاند اور سورج دونوں ایک حالت پر آجائیں گے یعنی دونوں بےنور ہوجائیں گے۔ اس وقت انسان بدحواسی میں یہ کہے گا کہ آج میں کہاں جاؤں اور کس چیز کی آر اور پناہ لوں ؟ فرمایا کہ اس دن کفار کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی۔ سب کو اللہ کے سامنے حاجر ہو کر اپنے تمام اگلے پچھلے گنا ہون اور اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ تمام اعمال نامے ہر شخص کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔ وہ اس وقت طرح طرح کے بہانے اور اپنی معذرتیں پیش کرے گا لیکن اس کے اعمال پر خود اس کا نفس بھی گواہی دے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جلدی حاصل ہونے والی راحتوں کے پیچھے آخرت تک کو بھول گئے تھے آج اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ فرمایا کہ اس دن کچھ چہرے تو تروتازہ اور خوشیوں سے شاداب ہوں گے وہ اللہ کی رحمتوں کے لئے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے لیکن بہت سے چہروں پر غم سے اداسی چھائی ہوئی ہوگی اور وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ آج ان کے ساتھ بڑا سخت اور کمر توڑ معاملہ ہونے والا ہے۔ فرمایا کہ اگر وہ اس وقت بھی آخرت کی فکرکر لیتے جب ان کی جان حلق تک پہنچ گئی تھی، سانس رکنے لگی تھی اور علاج کے لئے کہہ رہے تھے کہ ہر دوا بےاثر ہوچکی ہے اب کسی جھاڑ پھونک والے کو بلا لو کیونکہ اس وقت اسے یقین آجائے گا کہ بس اب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آچکا ہے۔ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی پر چڑھ جائے گی اور آخر کار وہ اپنے رب کی طرف روانہ ہوجائے گا۔ فرمایا کہ یہ انسان کی کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ زندگی بھر سچائی اور حق کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو جھٹلاتا رہا۔ اس کو نماز تک کی توفیق نہ مل سکی۔ تکبر، غرور کرتے ہوئے وہ اپنے گھر والوں میں خوش رہنا زیادہ پسند کرتا تھا۔ اپنی روش زندگی کو بدلنے کے بجائے ہر وقت اپنی بدبختی میں لگا رہا۔ وہ اس بات کو بھول گیا تھا کہ وہ حقیر پانی کا ایک قطرہ اور نطفہ تھا جو رحم مادر میں ٹپکایا گیا تھا، پھر وہ گوشت کالو تھڑا بنا، پھر اس کا جسم بنا، اللہ نے اس جسم کو اور اعضا کو درست کیا، کسی کو مرد کسی کو عورت ( کس کو نر اور کسی کو مادہ) بنادیا۔ کیا وہ اللہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور دوبارہ زندی کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ یقینا وہی اللہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ کسی چیز کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے اسی کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ اس سورة میں ایک اور اہم بات کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے۔ اسی نے اس کو نازل کیا ہے وہی اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اس بات کوا ایات کے درمیان بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی حضرت جبرئیل امین قرآن کریم کی آیات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر نازل کرتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خیال سے کہ کہیں میں ان آیات کو بھول نہ جاؤں جلدی جلدی یاد کرنے کی کوشش فرماتے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس وحی کا یاد کرنے کے لئے جلدی جلدی یاد کرنے کی کوشش فرماتے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے جلدی جلدی زبان کو حرکت نہ دیا کریں۔ اس قرآن کریم کو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر) جمع کردینا اور پھر اس کو بیان کرا دینا ہماری ذمہ داری لہٰذا جب ہم (جبرئیل کے واسطے سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تلاوت کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو غور سے سنے اور اس کے بعد اس قرآن کریم کی تشریح اور وضاحت کو (وحی خفی کے ذریعہ) بیان کرا دینا بھی ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی حفاظت بھی اللہ نے اپنے ذملے لے رکھی ہے جس کو وہ قیامت تک جس سے اور جیسے چاہے گا حفاظت کرا لے گا اور قرآن کریم کی آیات کی تفسیر و تشریح بھی اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود ہی تعلیم فرمائی ہے۔ لہٰذا قرآن کریم کی تشریح اور وضاحت بھی وہی ہوگی جس کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احادیث کے ذریعہ ہمیں تعلیم دی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی مراد کی تشریح اپنی مرضی سے کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اسی میں پوری امت کی نجات اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

Ayahs 75:1–15

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

بیشک ہم تو اس پر بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو درست کردیں۔

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے۔

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

(قیامت کا دن وہ ہوگا) جب آنکھیں پتھرا جائیں گی۔

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند ملا کر ایک (حالت پر) کر دئیے جائیں گے (یعنی بےنور ہوجائیں گے) ۔

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن آدمی کہے گا کہ آج کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن صرف آپ کے پروردگار کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن آدمی کو اگلے پچھلے سارے اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ آدمی اپنے خلاف خود کھلی ہوئی دلیل ہوگا

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے۔

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جاسکیں گے ؟ اور کس طرح اسی جسم کے ذرات مل کر انسانی شکل اختیار کرسکیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو دوبارہ پیدا نہ کرسکیں گے ؟ وہ اس غلط فہمی کو دور کرلے کیونکہ ہماری قدرت اتنی وسیع ہے کہ ہم تو انسان کی انگلیوں کے پوروے جو انسانی جسم میں سب سے نازک چیز ہے اس کو بھی پیدا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کفار جس بات پر اعتراض کررہے ہیں ان کے دل بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس پوری کائنات میں ساری طاقت و قوت اللہ ہی کے لئے ہے دراصل یہ بہانے بنا کر اپنی آئندہ زندگی گناہوں اور معصیتوں میں گزارنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ کفار مذاق اڑانے کے لئے پوچھتے ہیں کہ وہ قیامت جس کا وعدہ کیا گیا ہے آخر وہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب قیامت قائم کی جائے گی اس دن لوگوں کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ چاند کا نور سلب کرلیا جائے گا، سورج بھی بےنور ہوگا اور چاند سورج کی روشنی اس طرح ختم کردی جائے گی کہ وہ دونوں بےنوری کی کیفیت میں ایک جیسے ہوجائیں گے۔ جب قیامت کو ہولناک دن آئے گا اور نظام کائنات کو درہم برہم کردیا جائے گا تو اس عظیم انقلاب کو دیکھ کر اس سے بچنے کے لئے آدمی پناہ تلاش کرنے کی کوشش کرے گا اور کہے گا کہ آج کہیں بھاگ کر پناہ مل سکتی ہے ؟ مگر اس کو کہیں پناہ نہ مل سکے گی۔ ہاں البتہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے اللہ ہی کے پاس ٹھکانا مل سکے گا۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے کئے ہوئے اگلے پچھلے تمام اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اور وہ اپنے کسی عمل سے انکار نہ کرسکے گا کیونکہ اس کا اپنا وجود اور اس کے تمام اعضاء اس کے اعمال پر گواہی دیں گے۔ وہ اس دن کتنے ہی بہانے بنائے مگر وہ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے چھوٹ نہ سکے گا۔ سورۃ القیامۃ کی ان آیات سے متعلق چند باتیں۔ 1۔ ان آیات میں سب سے پہلے تو قیامت کے دن کی اور دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی ہے۔ قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ نفس لوامہ نفس کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں آدمی کا نفس اپنی کوتاہیوں، خطاؤں اور گناہوں پر ندامت اور شرمندگی کے ساتھ پچھتاتا ہے۔ چونکہ قیامت کے دن یہ شرمندگی انتہا درجہ پر ہوگی اس لئے نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان سے قیامت دور نہیں ہے۔ اگر اس کو اپنے نفس کی کوتاہیوں پر شرمندگی ہے اور وہ توبہ کرت ا ہے تو قیامت میں اس کے لئے ہر راحت و آرام کا سامان ہوگا اور اگر زندگی بھر خطاؤں اور گناہوں میں ملوث رہنے کے باوجود اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوئی اور وہ اپنے فسق و فجور میں مبتلا رہا تو پھر وہ اس کے لئے بڑی حسرتوں کا دن ہوگا جس میں ہزار بہانوں کے باوجود خود اس کا اپنا وجود ہی اس کے خلاف گواہی دینے کے لئے کافی ہوگا۔ 2۔ قرآن کریم میں نفس انسانی کی تین حالتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ۔ نفس کے معنی جان، روح اور انسانی ضمیر کے آتے ہیں۔ نفس امارہ۔ اگر کسی کا نفس اس کو بدترین خواہشوں، ناجائز لذتوں اور برائی کے کاموں پر اس طرح اکساتا اور رغبت دلاتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں کے مقابلے میں اللہ و رسول کے احکامات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس پر بےحسی اس طرح غالب آجاتی ہے کہ اس کے دل سے احساس گناہ مٹ جاتا ہے تو ایسے نفس پر اگر اللہ کا کرم نہ ہو تو وہ اس کو جہنم تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ہے ” ان النفس…… ربی “ کہ اگر میرے اللہ کا رحم و کرم نہ ہو تو نفس برائی کی طرف ہی رغبت دلاتا ہے۔ اسی کو نفس امارہ کہا جاتا ہے۔ نفس لوامہ۔ نفس کا کام تو یہی ہوت ا ہے کہ وہ آدمی کو برائیوں اور گناہوں پر اکساتا ہے لیکن اگر آدمی کسی خطا اور گناہ میں پڑنے کے باوجود اس پر شرمندہ ہو کر اپنا محسابہ کرنے لگتا ہے یعنی اس کے اندر نیکی اور گناہ کا احساس زندہ رہتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہاتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا اور اگر میں کوئی اچھا کام کرتا تو اس سے مجھے آخرت میں کتنا فائدہ ہوتا۔ اس کو نفس لوامہ یعنی ملامت کرنے والا نفس فرمایا گیا ہے جس کی قسم اللہ نے کھائی ہے۔ اصل میں جس دل میں گناہ اور ثواب کا احساس زندہ رہتا ہے جب بھی اس سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے شرمندگی کا اظہار کرتا ہے نیکیوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو ایسے آدمی کو آخر کار توبہ کی توفیق مل جاتی ہے اور اگر وہ اس پر کچھ محنت کرے تو وہ نفس مطمنہ کے لقب تک کا مستحق بن جاتا ہے۔ نفس مطمنہ۔ جب آدمی ایمان، عمل صالح اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کی جدوجہد میں اللہ و رسول کے ہر حکم کے آگے اپنا سرجھکا دیتا ہے، اس کو نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت ہوجاتی ہے، شریعت اس کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے وہ اپنے نفس پر خواہشات کو غالب نہیں آنے دیتا، اس کے ہر کام میں اللہ کی رضا و خوشنودی کا جذبہ غالب ہوتا ہے تو اس کو نفس مطمئنہ کی دولت سے مالامال کردیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے سورة فجر میں فرمایا ہے کہ ” اے نفس مطمئن چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پھر میرے بندوں میں شامل ہو اور میری جنت میں داخل ہوجا “۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اربوں کھربوں انسانوں کو پیدا کرکے ہر ایک کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ صورت، شکل، مزاج، آواز اور یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کی لکیروں کو اس قدر مختلف بنایا ہے کہ دوسرے انسان ہی سے نہیں بلکہ خود ایک ہاتھ کی انگلی، دوسرے ہاتھ کی انگلی اور لکیریں قطعاً الگ الگ ہیں۔ فنگر پرنٹ سے مجرموں کو پکڑ لیا جاتا ہے اور نشان انگوٹھا تو ابتداء سے آج تک ایک حقیقت ہے۔ عدالتوں تک میں فیصلے انگوٹھے کے نشان پر کر دئیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف اسی بات کی قدرت حاصل نہیں ہے کہ وہ چھوٹی بڑی ہڈیوں کو جوڑ کر انسانی ڈھانچہ پھر سے بنا سکتا ہے بلکہ انگلیوں کے جوڑوں، لکیروں اور خطوط تک کو پھر سے بنا دے گا۔ یہ چیزیں اس کی قدرت سے باہر نہیں ہیں کیونکہ ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس نے پہلے مرتبہ بنایا ہے وہ دوبارہ بنانے پر قدرت کیوں نہیں رکھتا ؟ یقینا اللہ کی ذات ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والی ہے۔ 4۔ قیامت کا دن بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ پورا نظام کائنات درہم برہم کردیا جائے گا اور سوائے اللہ کی طرف لوٹنے کے انسان کے لئے اور کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ سورج اور چاند دونوں روشنی سے محروم کر دئیے جائیں گے ، ستارے بکھر جائیں گے، پہاڑ غبار بن کر اڑتے پھریں گے، میدان حشر قائم ہوگا اور اس میں آدمی کے کئے ہوئے ہر عمل پر جزا یا سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قیامت کے دن ہر طرح کی رسوائیوں اور عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 75:16–40

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اپنی زبان کو (وحی نازل ہونے کے وقت) جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

(کہ قرآن یاد ہوجائے) بلاشبہ اس کا (آپ کا قلب پر) جمع کرا دینا اور پھر اس کو پڑھوا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پھر جب ہم اس کو پڑھائیں تو آپ اس کی قرأت کو غور سے سنئے۔

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کو واضح کرا دینا (مطلب سمجھا دینا) بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ بلکہ (اے کافرو) تم جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن کچھ چہرے رونق دار ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور اس دن بعض چہرے بےرونق (مرجھائے ہوئے) ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جائے گا۔

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ جب جان گلے کی ہنسلی تک پہنچ جائے گی۔

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اس وقت کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک والا ہے ؟

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے رخصت ہونے کا وقت ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی پر لپٹ جائے گی۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

وہ دن تیرے رب کی طرف جانے کا دن ہوگا۔

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر نہ تو اس نے (اللہ اور اس کے رسول کی) تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ اس نے جھٹلایا تھا اور منہ پھیر اتھا۔

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر وہ فخر و غرور کے ساتھ (اکڑتا ہوا) اپنے گھر کی طرف چل دیا کرتا تھا۔

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

بربادی ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تیرے لئے۔

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر بربادی ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تیرے لئے۔

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا آدمی کا یہ گمان ہے کہ وہ یوں ہی بےکار اور فضول چھوڑ دیا جائے گا۔

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ نطفہ (حقیر پانی کا قطرہ) نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے۔

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ خون کا لوتھڑا بنا۔ پھر (اللہ نے) اس کو پیدا کیا اور اس کے اعضاء کو درست کیا۔

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس نے آدمیوں کی دو قسمیں مرد اور عورت بنائے۔

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ (اللہ) اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو (دوبارہ) زندہ کردے ؟

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی جلدی وحی کے الفاظ دھراتے جاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے نبی ﷺ ! آپ اپنی زبان مبارک کو ( اس وجہ سے ) جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں ( کہ وہ یاد ہوجائے) کیونکہ اس کا ( آپ کے قلب مبارک پر) جمع کرنا اور پھر اس کو پڑھوا دینا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ لہٰذا جب ہم (جبرئیل کے واسطے) آپ کو پڑھائیں تو آپ اس کی قرات کو نہایت غور سے نئے ( پھر یہی نہیں کہ ہم اس کو پڑھوا دیں گے بلکہ) اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جلد حاصل ہونے والی (دنیا کی چیزوں سے) تو بےانتہا محبت کرتے ہو اور اس آخرت کے دن کو بھول گئے ہو جو کفار و مشرکین کے لئے ایک ہولناک اور اہل ایمان کے لئے راحتوں سے بھرپور دن ہوگا۔ اس دن کچھ چہرے تو چمکتے دمکتے ، ہشاش بشاش اور پررونق ہوں گے۔ انہیں اللہ کی تجلیات کا کھلی آنکھوں سے دیدار نصیب ہوگا اور جنت کی ابدی راحتیں ان کی منتظر ہوں گی۔ اس کے برخلاف بعض چہروں پر نحوست، بےرونقی اور اداسی کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہوں گی۔ وہ اپنے سامنے جہنم کے عذاب کو دیکھ کر اس بات کا اچھی طرح اندازہ لگالیں گے کہ وہ بہت جلد اس انجا تک پہنچے والے ہیں جو ان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فرمایا کہ اگر یہ اللہ کے نافرمان اس دن غور کرلیتے جب ان کی جان گلے کی ہنسلی پہنچ گئی تھی ( یعنی دنیا سے گزر جانے کے وقت) جب وہ اپنی جان بچانے کے لئے ہر تدبیر اور علاج سے لے کر جھاڑ پھونک تک کرچکے تھے۔ جب ایک پنڈلی دوسری پنڈلی پر چڑھ گئی تھی یعنی اس میں اپنی پنڈلیاں ہلانے تک کی طاقت نہ رہی تھی اس دن ان کے کوئی کام نہ آیا تھا جب موت ان کے سامنے تھی پھر بھی انہیں توبہ کی توفیق تک نہ ہوئی حالانکہ موت کے فرشتے سامنے آنے سے پہلے توبہ قبول ہوسکتی ہے ۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نہ تو اللہ کے دین کی تصدیق کی ہوگی نہ نماز پڑھی ہوگی بلکہ ہر سچائی کو جھٹلا کر انہوں نے غرور وتکبر سے اپنے چہروں کو پھیرلیا ہوگا اور نہایت غروروتکبر سے وہ اپنی خوشیوں میں مگن گھر کے عیش و آرام کی طرف چل دئیے ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے ہر طرح کی بربادیوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا اور ایسے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کو یوں ہی بیکار اور فضول چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ نے فرمایا کہ انسان نے کبھی اپنی تخلیق یعنی پیدائش پر بھی غور کیا ہے ؟ فرمایا کیا وہ حقیر پانی کے ایک قطرہ سے پیدا نہیں کیا گیا جو رحم مادر میں ڈالا گیا تھا۔ پھر وہ خون کا لوتھڑا سا بن گیا۔ پھر اللہ نے ماں کے پیٹ میں اس کے تمام اعضاء درست کء اور اس کو جیتا جاگتا انسان بنادیا۔ مرد، عورت نر اور مادہ اس نے جس طرح چاہا اس کو مختلف جنسوں میں تقسی کردیا۔ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی قدرت سے کیا تھا کہ ایک حقیر قطرہ کو ایک حسین شکل دیدی تھی اب وہی آدمی کہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہم مرجائیں گے، ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائین گے کیا ہم دوبارہ پیدا ہوں گے ؟ فرمایا کہ اگر اللہ پانی کے حقیر قطرے سے جیتا جاگتا انسان پیدا کرسکتا ہے تو کیا وہ اللہ جو ہر چیز قدرت رکھتا ہے اس بات پر قادر نہیں ہے کہ آدمی کو پھر سے پیدا کردے ؟ کیا اللہ ایک مرتبہ بنانے کے بعد دوسری مرتبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہرگز نہیں۔ اللہ جو اس کائنات کا ماکل ہے اس کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے اور وہ تمام لوگوں کے مرجانے کے بعد ان کو زندہ کرے گا اور پھر میدان حشر قائم کرکے ہر شخس کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ سورة القیامہ کی ان آخری آیات سے متعلق چند باتیں ۔ 1۔ لا تحرک بہ لسانک۔ (یعنی اے نبی ﷺ آپ اپنی زبان کو اس قرآن (کے پڑھنے میں) جلدی جلدی حرکت نہ دیجئے۔ اس کی وضاحت سے پہلے قرآن کری کی چند آیات ملاحظہ کرلیجئے تاکہ اس کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ٭بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن کریم) کو نازل کیا اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ٭بے شک اس (قرآن مجید) کو (جبرئیل) اللہ کے حکم سے آپ کے قلب پر نازل کرتے ہیں۔ (بقرہ) ٭ہم آپ کو (یہ قرآن) اس طرح پڑھائیں گے کہ آپ اس کو بھول نہ سکیں گے (الاعلی) ٭ جب تک آپ پر پوری طرح قرآنی (آیات) نازل نہ ہوجائیں اس وقت تک آپ جلدی نہ کیا کیجئے (طہ) ٭زیر مطالعہ سورت القیامہ میں اللہ نے فرمایا کہ ” آپ اپنی زبان کو (اس وجہ سے) جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں (کہ وہ یاد ہوجائے) کیونکہ اس قرآن کو ( آپ کے قلب پر) جمع کردینا اور پڑھوا دینا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ لہٰذا جب ہم اس کو (جبرائیل کے واسطے سے) پڑھائیں تو آپ اس کو پوری توجہ سے سنئے۔ (القیامہ) مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے بتا دیا ہے کہ یہ قرآن میرا کلام ہے جس کو میں نے جبرئیل کے ذریعہ حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا ہے۔ میں خود ہی اس کی حفاظت کروں گا۔ اس کی حفاظت کے لئے میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو بتا دیا گیا کہ جب آپ ﷺ پر قرآن کریم کو نازل کیا جا رہا ہو تو آپ اس کو یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دی اکریں اور اس کی فکر نہ کیا کریں کہ آپ اس کو بھول جائیں گے کیونکہ اس قرآن کو آپ کے قلب پر جمع کردینا اور پھر اس کو آپ کی زبان سے ادا کرادینا ان دونوں باتوں کی ذمہ داری ہماری ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے دو مرتبہ پورا قرآن کریم حضرت جبرئیل امین کو سنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے دور سے آج تک لاکھوں کروڑوں ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو حفظ کرکے اللہ کے اس وعدے کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ آج بھی قرآن کریم کا ایک ایک لفط محفوظ ہے اور انشاء اللہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔ قرآن کریم کی ان آیات اور تاریخ کی گواہیوں کے باوجود اگر کوئی یہ کہتا ہو کہ قرآن کریم کے چالیس سپارے تھے جن میں سے دس ھجرت عائشہ کی بکری کھا گئی یا اسی طرح کی کوئی اور فضول بات کرتا ہے تو درحقیقت وہ اللہ پر الزام لگاتا ہے کہ اللہ اپنے وعدے کے باوجود قرآن کریم کی حفاظت نہ کرسکا (نعوذ باللہ) ۔ 2۔ فاذا قرانہ فاتبع قرانہ۔ پھر جب ہم اس کو (جبرئیل کے واسطے سے آپ کو) پڑھائیں تو اس کے پڑھنے کو غور سے سنئے۔ اسی بت کو ایک دوسری آیت میں اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ” جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو “۔ ان آیت کی تشریح ان بہت سی حدیثوں سے ہی ہوتی ہے جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ ” جب نماز میں امام قرأت کرتا ہے تو تم خاموش رہ کر سنو ! (صحیح مسلم) ایک جگہ فرمایا کہ امام کی قرأت مقتدی کی قراءت ہے (بیہقی) ابتداء میں صحابہ کرام ؓ دوران نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ تلاوت کرتے تھے بعد میں آپ نے اس سے منع فرمادیا۔ سورة فاتحہ اور آیات قرآنی جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں امام کے پیچھے تلاوت کرنے سے منع کرکے خاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جب امام نماز کے دوران تلاوت کرتا ہو ( خواہ زور سے یا آہستہ سے) اس وقت مقتدی خاموش رہیں اور ساتھ ساتھ تلاوت نہ کریں کیونکہ امام کی قرأت مقتدیوں کی قرأت ہوا کرتی ہے۔ 3۔ ثم ان علینا بیانہ۔ پھر اس کو واضح کرادینا ( مطلب سمجھا دینا بھی) ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جب قرآن کری نازل کیا جائے تو آپ اس خوف سے اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں کہ اس کے بعض حصے کو آپ بھول جائیں گے۔ کیونکہ یہ ہمارا کلام ہے ہم ہی اس کے محافظ ہیں لہٰذا جب آپ کے سامنے قرآن کری کی آیات تلاوت کی جائے تو آپ اس کو غور سے سنئے اس کلام کو آپ کے دل پر جمع کرکے آپ کی زبان مبارک سے ان آیتوں کے مطلب، مفہوم، معنیٰ اور مراد کو سمجھا دینا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ چناچہ آپ تئیس سال کے طویل عرصے میں قرآن کریم کی ایک ایک آیت کا مفہوم اپنے ارشادات اور عمل سے واضح کرکے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی پاکیزہ اور مقدس جماعت تیار کی جنہوں نے قرآن و سنت کے ہر حکم پر عمل کرکے قرآن و سنت کی تعلیمات کو ساری دنیا تک پہنچانے کی مخلصانہ جدوجہد فرمائی۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد آنے والے تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، حدثین، علماء کرام اور بزرگان دین نے ھضور اکرم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کی اس جدوجہد اور کوشش کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشادات نبوی کی روشنی میں قرآن و سنت کی تشریح فرمائی اور صراط مستقیم کی راہوں کو روشنی ومنور کیا۔ لیکن ہمارے دور میں کچھ ایسے بدنصیب لوگ بھی ہیں جو ترقی پسندی اور جدید دور کے تقاضوں کا نام لے کر قرآن کریم کی ایسی من مانی تشریح اور تاویل کر رہے ہیں جس کا قرآن و سنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث کو عجمی سازش کا نام دے کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن الحمد اللہ ہمارے علماء اور بزرگان دین نے ایسے ولگوں کی سازش کو بےنقاب کرنے کی مسلسل کوششیں کرکے اپنا فرض پورا کیا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک کرتے رہیں گے۔ 4۔ اس سورت میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے کرتے درمیان میں اللہ نے عطمت قرآن کو واضح کرنے کے لئے منکرین قرآن اور منکرین قیامت کو بتادیا ہے کہ جس قرآن کریم میں قیامت کا بیان کیا جا ررہا ہے وہ آپ ﷺ اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہے ہیں بلکہ آپ تو اسی قرآن کو بیان کر رہے ہیں جو ان پر نازل کیا جا رہا ہے اور اس کو جو بھی وضاحت ہے وہ اللہ ہی نے آپ کو بتائی ہے جسے آپ اپنی زبان مبارک سے بیان فرما رہے ہیں لہٰذا جس طرح قرآن کریم کے سامنے ساری دنیا اس جیسا قرآن لانے سے عاجز ہے اسی طرح جب قیامت آئے گی تو ہر شخص اس کے سامنے مجبور اور بےبس ہوگا۔ 5۔ تحبون……۔ تم جلدی حاصل ہونے والی (دنیا) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ بیٹھتے ہو۔ آیت کے اس حصے کا مفہوم یہ ہے کہ جب آدمی آخرت اور اس کے انجام سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ ” عاجلہ “ یعنی دنیا اور اپنے ہر عمل کے فوری نتیجہ کو زندگی سمجھنے لگتا ہے کیونکہ دنیا کے فوری نتائج کو وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور آخرت کا نتیجہ اسے نظر نہیں آتا۔ لہٰذا وہ دنیا حاصل کرنے میں زندگی بھر لگا رہتا ہے اور اسی کو کامیابی سمجھتا ہے حالانکہ اصل کامیابی وہ ہے جو آدمی کو آخرت میں نصیب ہوگی جو ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ دنیا کی زندگی اور اس میں حاسل ہونے والا مال اور دولت تو اس کا ساتھ اس وقت تک دیتے ہیں جب تک موت نہیں آجاتی۔ موت کے ساتھ ہی سارا کھیل ختم ہوجاتا ہے۔ انسان کے جیسے اعمال ہوں گے وہ ان کو آخرت میں خود محسوس کرلے گا چناچہ قیامت کے دن اہل جنت کے چہرے تو خوشی سے دمک رہے ہوں گے اور اہل جہنم کے چہروں پر سوائے اداسی اور مایوسی کے اور کچھ بھی نہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے۔ لوگو ! تم ان کی طرح نہ ہوجانا جو دنیا اور اس کی آرزؤں میں پھنس کر بدعات اور خرافات میں مبتلا ہوگئے۔ اور اس دنیا کی طرف جھک پڑے جو بہت جلد فنا ہونے والی ہے۔ گذرے ہوئے وقت کے مقابلے میں دنیا کا اتنا کم حصہ باقی رہ گیا ہے جتنی دیر میں اونٹ والا اپنے اونٹ کو بٹھاتا ہے یا دودھ نکالنے والا دودھ کی ایک دھار نکالتا ہے۔ تم کس بھروسے پر ہو ؟ اور کس بات کا انتظار کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم دنیا کا موجودہ وقت اس قدر تیزی سے گزرجائے گا کہ جیسے کبھی اس کا وجود ہی نہ تھا اور تم اس آخرت کی طرف (بڑی تیزی سے) جا رہے ہو جو کبھی فنا ہونے والی نہیں ہے۔ تم اس دنیا سے جانے سے پہلے (آخرت کا) سامان تیار کرلو۔ اور خرچ کا توشہ تیار کرلو۔ یادر رکھو جو کچھ تم آگے بھیجو گے اس کا تمہیں پورا پورا اجر ملے گا اور جو تم پیچھے چھوڑ جائو گے اس پر نادم اور شرمندہ ہونا پڑے گا ( خطبات نبوی ص 218) 6۔ الی ربھا ناظرۃ۔ وہ اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔ یعنی قیامت کے دن لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اس بات پر تمام علماء اہل سنت والجماعت اور فقہا ومحدثیں کا اجماع ہے کہ قیامت میں تمام اہل جنت اللہ کی تجلیات کو بےحجاب نہ دیکھیں گے یعنی درمیان میں کسی قسم کی رکاوٹ یا پردے نہ ہوں گے۔ حضرت صہیب رومی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں مزید ایک چیز عطا کروں ؟ بندے عرض کریں گے الٰہی ! آپنے ہمارے چہرے روشن کئے جہنم سے نجات عطا فرما کر جنت میں داخل کیا (یعنی الٰہی ! اس کے علاوہ ور وہ کون سی نعمت ہے جس کی ہم تمنا کرسکتے ہیں) حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کے جواب میں اچانک حجاب اٹھ جائے گا۔ پھر وہ اللہ کے نور کا بغیر کسی رکاوٹ کے دیدار کرسکیں گے۔ ان کا یہ حال ہوگا کہا ہل جنت کو جو کچھ عطا کیا گیا تھا ان سب سے زیادہ محبوب اور پیاری چیز یہی دیدار الٰہی ہوگا۔ پھر آپ نے قرآن کریم کی یہ آیات تلاوت فرمائی۔ الذین……۔ یعنی جنلوگوں نے اس دنیا میں اچھی بندگی والی زندگی گزاری ان کے لئے اچھی جگہ ہے اس پر مزید ایک نعمت ہے۔ (صحیح مسلم) ۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے صحابہ رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب بادل نہ ہو اور سورج چمک رہا ہو تم اس کی طرف دیکھو تو کیا کوئی شک یا رکاوٹ ہوتی ہے ؟ عرض کیا جی نہیں۔ پھر آپو نے فرمایا کہ جب چودھویں کا چاند چمک رہا ہو اور بادل نہ ہو تو کیا تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ عرض کیا جی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی طرح قیامت کے دن تم اپنے رب کو دیکھو گے۔ احادیث میں آتا ہے کہ یہ دیدار کچھ لوگوں کو روزانہ کچھ لوگوں کو جمعہ کے دن اور کسی کو صبح و شام عطا کیا جائے گا۔