75. Surah Al-Qiyaama
القيامةThe Resurrection · 40 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة القیامہ سورة نمبر 75 کل رکوع 2 آیات 40 الفاظ و کلمات 164 حروف 682 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : اس سورة کا خلاصہ یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت کفار و مشرکین کے سامنے جب قیامت اور اکرت کے واقع ہونے کو بیا کیا جتا تو وہ اس کو ناممکن سمجھتے ہوئے کہتے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائی گی اور ہمارے وجود کے ذرات بکھر جائیں گے تو ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس تصور کو گمراہی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” میں قیامت کے دن اور نفس لوامہ ( ملامت کرنے والا نفس) کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جب ہم اس کی ہڈیوں کو ریزہ ریزہ کردیں گے تو ہم ان کو دوبارہ جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی ایک ایک پور کو دوبارہ ٹھیک ٹھیک بنا دینے کی پوری قدرت و طاقت رکھتے ہیں “۔ فرمایا کہ انسان اپنی نفساتی خواہشوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے پوچھتا ہے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دن تو ضرور آئے گا لیکن کفار اور اس کا انکار کرنے والوں کے لئے یہ دن بڑا ہولناک ہوگا۔ آنکھیں پتھرا جائی گی، چاند بےنور ہوجائے گا، بلکہ چاند اور سورج دونوں ایک حالت پر آجائیں گے یعنی دونوں بےنور ہوجائیں گے۔ اس وقت انسان بدحواسی میں یہ کہے گا کہ آج میں کہاں جاؤں اور کس چیز کی آر اور پناہ لوں ؟ فرمایا کہ اس دن کفار کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی۔ سب کو اللہ کے سامنے حاجر ہو کر اپنے تمام اگلے پچھلے گنا ہون اور اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ تمام اعمال نامے ہر شخص کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔ وہ اس وقت طرح طرح کے بہانے اور اپنی معذرتیں پیش کرے گا لیکن اس کے اعمال پر خود اس کا نفس بھی گواہی دے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جلدی حاصل ہونے والی راحتوں کے پیچھے آخرت تک کو بھول گئے تھے آج اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ فرمایا کہ اس دن کچھ چہرے تو تروتازہ اور خوشیوں سے شاداب ہوں گے وہ اللہ کی رحمتوں کے لئے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے لیکن بہت سے چہروں پر غم سے اداسی چھائی ہوئی ہوگی اور وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ آج ان کے ساتھ بڑا سخت اور کمر توڑ معاملہ ہونے والا ہے۔ فرمایا کہ اگر وہ اس وقت بھی آخرت کی فکرکر لیتے جب ان کی جان حلق تک پہنچ گئی تھی، سانس رکنے لگی تھی اور علاج کے لئے کہہ رہے تھے کہ ہر دوا بےاثر ہوچکی ہے اب کسی جھاڑ پھونک والے کو بلا لو کیونکہ اس وقت اسے یقین آجائے گا کہ بس اب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آچکا ہے۔ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی پر چڑھ جائے گی اور آخر کار وہ اپنے رب کی طرف روانہ ہوجائے گا۔ فرمایا کہ یہ انسان کی کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ زندگی بھر سچائی اور حق کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو جھٹلاتا رہا۔ اس کو نماز تک کی توفیق نہ مل سکی۔ تکبر، غرور کرتے ہوئے وہ اپنے گھر والوں میں خوش رہنا زیادہ پسند کرتا تھا۔ اپنی روش زندگی کو بدلنے کے بجائے ہر وقت اپنی بدبختی میں لگا رہا۔ وہ اس بات کو بھول گیا تھا کہ وہ حقیر پانی کا ایک قطرہ اور نطفہ تھا جو رحم مادر میں ٹپکایا گیا تھا، پھر وہ گوشت کالو تھڑا بنا، پھر اس کا جسم بنا، اللہ نے اس جسم کو اور اعضا کو درست کیا، کسی کو مرد کسی کو عورت ( کس کو نر اور کسی کو مادہ) بنادیا۔ کیا وہ اللہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور دوبارہ زندی کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ یقینا وہی اللہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ کسی چیز کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے اسی کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ اس سورة میں ایک اور اہم بات کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے۔ اسی نے اس کو نازل کیا ہے وہی اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اس بات کوا ایات کے درمیان بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی حضرت جبرئیل امین قرآن کریم کی آیات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر نازل کرتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خیال سے کہ کہیں میں ان آیات کو بھول نہ جاؤں جلدی جلدی یاد کرنے کی کوشش فرماتے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس وحی کا یاد کرنے کے لئے جلدی جلدی یاد کرنے کی کوشش فرماتے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے جلدی جلدی زبان کو حرکت نہ دیا کریں۔ اس قرآن کریم کو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر) جمع کردینا اور پھر اس کو بیان کرا دینا ہماری ذمہ داری لہٰذا جب ہم (جبرئیل کے واسطے سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تلاوت کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو غور سے سنے اور اس کے بعد اس قرآن کریم کی تشریح اور وضاحت کو (وحی خفی کے ذریعہ) بیان کرا دینا بھی ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی حفاظت بھی اللہ نے اپنے ذملے لے رکھی ہے جس کو وہ قیامت تک جس سے اور جیسے چاہے گا حفاظت کرا لے گا اور قرآن کریم کی آیات کی تفسیر و تشریح بھی اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود ہی تعلیم فرمائی ہے۔ لہٰذا قرآن کریم کی تشریح اور وضاحت بھی وہی ہوگی جس کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احادیث کے ذریعہ ہمیں تعلیم دی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی مراد کی تشریح اپنی مرضی سے کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اسی میں پوری امت کی نجات اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader
میں قیامت کے دن کی
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader
اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟
بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader
بیشک ہم تو اس پر بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو درست کردیں۔
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader
بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے۔
یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader
وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader
(قیامت کا دن وہ ہوگا) جب آنکھیں پتھرا جائیں گی۔
وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader
چاند بےنور ہوجائے گا
وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader
اور سورج اور چاند ملا کر ایک (حالت پر) کر دئیے جائیں گے (یعنی بےنور ہوجائیں گے) ۔
یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader
اس دن آدمی کہے گا کہ آج کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟
كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader
ہرگز نہیں۔ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔
اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader
اس دن صرف آپ کے پروردگار کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader
اس دن آدمی کو اگلے پچھلے سارے اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader
بلکہ آدمی اپنے خلاف خود کھلی ہوئی دلیل ہوگا
وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader
خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے۔
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ اپنی زبان کو (وحی نازل ہونے کے وقت) جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader
(کہ قرآن یاد ہوجائے) بلاشبہ اس کا (آپ کا قلب پر) جمع کرا دینا اور پھر اس کو پڑھوا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔
فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader
پھر جب ہم اس کو پڑھائیں تو آپ اس کی قرأت کو غور سے سنئے۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader
پھر اس کو واضح کرا دینا (مطلب سمجھا دینا) بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader
ہرگز نہیں۔ بلکہ (اے کافرو) تم جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت رکھتے ہو
وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔
وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader
اس دن کچھ چہرے رونق دار ہوں گے
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader
اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader
اور اس دن بعض چہرے بےرونق (مرجھائے ہوئے) ہوں گے
تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader
اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جائے گا۔
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader
ہرگز نہیں۔ جب جان گلے کی ہنسلی تک پہنچ جائے گی۔
وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader
اس وقت کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک والا ہے ؟
وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader
اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے رخصت ہونے کا وقت ہے
وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader
اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی پر لپٹ جائے گی۔
اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader
وہ دن تیرے رب کی طرف جانے کا دن ہوگا۔
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader
پھر نہ تو اس نے (اللہ اور اس کے رسول کی) تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔
وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader
بلکہ اس نے جھٹلایا تھا اور منہ پھیر اتھا۔
ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader
پھر وہ فخر و غرور کے ساتھ (اکڑتا ہوا) اپنے گھر کی طرف چل دیا کرتا تھا۔
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader
بربادی ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تیرے لئے۔
ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader
پھر بربادی ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تیرے لئے۔
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader
کیا آدمی کا یہ گمان ہے کہ وہ یوں ہی بےکار اور فضول چھوڑ دیا جائے گا۔
اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader
کیا وہ نطفہ (حقیر پانی کا قطرہ) نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے۔
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader
پھر وہ خون کا لوتھڑا بنا۔ پھر (اللہ نے) اس کو پیدا کیا اور اس کے اعضاء کو درست کیا۔
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader
پھر اس نے آدمیوں کی دو قسمیں مرد اور عورت بنائے۔
اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader
کیا وہ (اللہ) اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو (دوبارہ) زندہ کردے ؟