Ayah 75:11 قسم کھانے سے مقصد بعض دفعہ تو اپنی بات کو مؤکد بنانا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ قسم بطور شہادت یا شہادت کو مزید مؤکد بنانے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ اور ایسی چیز کی کھائی جاتی ہے جسے انسان بہرحال اپنی ذات سے بالاتر سمجھتا ہو۔ اور چونکہ انسان خود اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا ہم انسانوں کو یہی حکم ہے کہ اگر قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے تو صرف اللہ کی ذات کی یا اس کی صفات کی کھائی جائے۔ اس کے علاوہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اور حرام ہے۔ لے کن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کو اہم سمجھتے ہوئے قسم اٹھانا چاہے بطور شہادت اور دلیل پیش کرکے قسم اٹھا سکتا ہے۔ مثلاً یہی قیامت کا دن جسے برپا کرنا اللہ کے انتہائی مہتم بالشان کارناموں سے ایک کارنامہ ہوگا اور یہ ایسی چیز تھی جس کا کفار مکہ یکسر انکار کر رہے تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی یقین دہانی کی خاطر قیامت کے دن کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ وہ یقیناً واقع ہو کے رہے گی۔
Ayahs 75:2–32 نفس انسانی کی تین حالتیں :۔ نفس انسانی کی تین مختلف قسمیں یا حالتیں ہیں اور یہ سب قرآن کی مختلف آیات سے ثابت ہیں۔ نفس کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ عموماً بری باتوں کا ہی انسان کو حکم دیتا ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف ذاتی مفادات کا حصول، اپنی بڑائی اور اپنی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا وہ دوسروں کے حقوق و مفادات کی پروا کیے بغیر خواہشات پیدا کرتا اور ان کو پورا کرنے کے لیے انسان کو اکساتا رہتا ہے۔ نفس کی ایسی حالت کو نفس امارۃ کہا گیا ہے (12: 53) پھر جب اس نفس کی کسی حد تک اصلاح ہوجاتی ہے تو اسے کوئی برا کام کرلینے کے بعد ایک طرح کی ندامت اور خفت کا احساس ہونے لگتا ہے تو نفس کی اس حالت کو ہی اس آیت میں نفس لوامہ یا ملامت کرنے والا نفس کہا گیا ہے اور اسے ہی ہم آج کی زبان میں ضمیر کہتے ہیں۔ پھر جب نفس کی پوری طرح اصلاح ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو اسے برے کاموں سے نفرت اور چڑ سی ہوجاتی ہے۔ اور بھلائی کے کاموں میں ہی اس کا دل لگتا ہے۔ انہی میں وہ اپنی خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ ایسے نفس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (89: 27) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی۔ کیونکہ انسان کے نفس میں برے اور بھلے کی پوری تمیز موجود ہے۔ پھر اسی تمیز کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے۔ برے کام کا نتیجہ برا اور بھلے کام کا نتیجہ بھلا ہونا چاہیے۔ اور یہی قیامت اور آخرت کا اصل مقصد ہے۔ بالفاظ دیگر تمہارا نفس لوامہ بھی اس بات پر دلیل ہے کہ قیامت ضرور واقع ہونی چاہیے۔
Ayah 75:43 یعنی انسان کی سوچ یہ ہے کہ ہم اس کے مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو کیونکر اکٹھا کرسکیں گے اور کیسے اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بڑی بڑی ہڈیاں تو دور کی بات ہے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کے ایک ایک پور کو مکمل کرکے اسے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پس اسے تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر جو رحم مادر میں ہوئی، غور کرلے تو بات اسے پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
Ayah 75:54 اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں سمجھتا کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرکے اپنی آزادانہ زندگی پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ اگر اس نے عقیدہ آخرت کو تسلیم کرلیا تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور نہایت پابند اور محتاط زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس کا آسان حل اس نے یہ سوچا کہ قیامت کا ہی انکار کردے۔ اور اس کی یہ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اور اپنے نفس کو اس فریب میں مبتلا کرلیتا ہے کہ بس اب خطرہ دور ہوگیا۔
Ayah 75:65 یعنی انسان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ حقیقت کو سمجھنے کے باوجود یہ سوال کیے جاتا ہے کہ وہ دن آخر آئے گا کب ؟
Ayah 75:76 یعنی جب نظام کائنات درہم برہم ہوگا تو کئی طرح کے دھماکے ہوں گے، گرج بھی پیدا ہوگی اور بجلی بھی جس سے انسان کی آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دہشت انگیز نظاروں کو دیکھ کر انسان کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
Ayah 75:87 چاند آج کل بھی عارضی طور پر گہناتا اور بےنور ہوتا رہتا ہے لیکن یہ محض چند ساعت کا کھیل ہوتا ہے۔ جب گردش کرتے کرتے سورج اور چاند کے درمیان زمین آجاتی ہے تو یہ طبعی طور پر گہنا جاتا ہے لیکن قیامت کو چاند مستقل طور پر بےنور ہوجائے گا۔ اس لیے کہ اس وقت یہ موجودہ نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔
Ayahs 75:9–108 اس کی صحیح صورت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جب زمین لرزنے اور کپکپانے لگے گی تو اس کی کشش ثقل بھی ختم یا بےقاعدہ قسم کی بن جائے گی اور چاند پر سورج کی کشش ثقل اثر انداز ہو کر چاند کو اپنی طرف کھینچ لے گی اور وہ دونوں باہم ٹکرا جائیں گے۔
Ayahs 75:11–129 یعنی آج تو انسان یہ پوچھتا ہے کہ قیامت آئے گی کب ؟ لیکن جب قیامت فی الواقع آجائے گی تو اس وقت اس سے بچ جانے کی اور بھاگ کھڑا ہونے کی صورت سوچے گا اور دوسروں سے پوچھے گا مگر اس میں اسے سخت ناکامی ہوگی۔ نہ کوئی فرار کا راستہ ملے گا اور نہ پناہ کی جگہ اور انسان اس بات پر مجبور ہوگا کہ سیدھا اپنے پروردگار کے حضور پیش ہوجائے۔ اس کے علاوہ اس کے لیے کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔
Ayahs 75:13–1410 مرنے کے بعد اعمالنامہ میں درج ہونے والے اعمال :۔ اس دن ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس سے اسے از خود یہ معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں کون کون سے اچھے یا برے اعمال کما کر اپنے ساتھ لایا ہے اور کون کون سے اچھے یا برے اعمال دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ جن کا اچھا یا برا بدلہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جس شخص نے اسلام میں کوئی نیک بات جاری کی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس بات پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا بار کچھ کم ہو (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الحث علی الصدقۃ۔۔ ) نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ کا جیسے کوئی شخص کوئی چیز رفاہ عامہ کے لیے بنا جائے یا وقف کر جائے۔ دوسرے علم کا جیسے کوئی دینی مدرسہ قائم کر جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔ تیسرے ایسی نیک اولاد چھوڑ جائے تو اس کے حق میں دعا کرتی رہے (مسلم۔ کتاب الوصیۃ۔ باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہٖ )
Ayahs 75:15–1611 یعنی یہ تحریری اعمال نامہ تو انسان کے سامنے صرف اس لیے رکھا جائے گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے اچھے یا برے کیے ہوئے اعمال کا پورا پتا ہوتا ہے۔ اور وہ جو حیلے بہانے تراشتا ہے تو محض اس لیے کہ انسان اپنا قصور ماننے کو قطعاً تیار نہیں ہوتا۔ یہ بیسیوں باتیں بنا سکتا ہے۔ حیلے بہانے بنا سکتا ہے۔ مگر اپنا قصور ماننے سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے اور وہ اسے موت کے مترادف سمجھتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کا یہی حال ہے اور آخرت میں بھی بعض عادی مجرم ایسی باتیں بنانے کی کوشش کریں گے۔
Ayahs 75:17–2012 آیت نمبر 16 سے لے کر 19 تک چار آیات درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں ان کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ ﷺ پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے (کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ ﷺ پر بہت سختی ہوجاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ ﷺ کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ﷺ بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ ﷺ کی زبان پر رواں کردینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے بعد جب جبریل آتے آپ ﷺ خاموش رہتے اور جب چلے جاتے تو آپ ﷺ اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جس طرح اللہ نے آپ ﷺ کو سنایا ہوتا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللّٰہ ﷺ
خ قرآن کا بیان کیا چیز ہے ؟ ان آیات سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے صرف قرآن ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ قرآن کا بیان بھی نازل فرمایا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح اللہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ اس کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کا بیان ہے کیا چیز ؟ تو واضح رہے کہ محض قرآن کے الفاظ کو دہرا دینے کا نام بیان نہیں بلکہ بیان میں ان قرآنی الفاظ کا مفہوم بتانا، اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق بتانا سب کچھ شامل ہے۔ قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ اور جس پر نازل ہوا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ زید (متکلم) بکر (مخاطب) سے کہتا ہے کہ : پانی لاؤ تو بکر زید کے حکم کی تعمیل اسی صورت میں کرسکے گا کہ متکلم اور مخاطب دونوں کے ذہن میں پانی اور لاؤ دونوں الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ ورنہ بکر زید کے حکم کی تعمیل کرنے سے قاصر رہے گا۔ مثلاً اگر زید کوئی ذومعنی لفظ بولے گا تو جب تک اس کی مزید وضاحت نہ کرے گا یا اگر زید کا مخاطب کوئی ایسا شخص ہوگا جو اردو سمجھتا ہی نہیں تو بکر زید کے حکم کی بجا آوری کی خواہش رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہ کرسکے گا اور سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کے الفاظ ہی نازل نہیں فرمائے بلکہ ان الفاظ کا مفہوم (بیان) بھی مخاطب (یعنی رسول اللہ ﷺ کے ذہن میں القاء کردیا۔ یہ بیان بھی امت کو بتلانا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری تھی۔ (44: 16) اب اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے فرمودہ بیان یعنی سنت رسول ﷺ سے آزاد ہو کر محض لغت کی رو سے قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو مندرجہ ذیل چار وجوہ کی بنا پر ناکامی ہوگی :
خ سنت سے بےنیاز ہو کر قرآن پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ناکامی کی چار وجوہ :۔ اولاً : بعض الفاظ کا مفہوم متعین کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ لغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنی درج ہوتے ہیں۔ مثلاً لفظ صلٰوۃ کے معنی نماز، برکت، رحمت اور نماز، نماز جنازہ تو ایسے ہیں جن کی آیات سے بھی تائید ہوتی ہے۔ مگر نماز کی ادائیگی کرنے کے لیے، وضو، تیمم، مساجد، قبلہ رخ ہونا، رکوع، سجود وغیرہ کا ذکر بھی آیا۔ لہذا مندرجہ بالا معنی میں سے کوئی بھی اس کا صحیح مفہوم ادا نہیں کرتا۔ پھر لغت میں مصلی کے معنی وہ گھوڑا بھی ہے جو گھڑ دوڑ میں اول نمبر آنے والے گھوڑے کے پیچھے پیچھے دوسرے نمبر پر آیا ہو۔ علاوہ ازیں صلٰوۃ کے معنی کو لھے ہلانا بھی ہے۔ چناچہ بعض منچلوں نے صلٰوۃ کی ادائیگی سے پریڈ کرنا مفہوم لیا اور بعض دوسروں نے رقص و سرود کی مجالس منعقد کرنا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب مفہوم شریعت کی رو سے غلط ہیں۔ اور اس کی وجوہ وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔
ثانیاً : ہر زبان میں بعض الفاظ بطور اصطلاح مروج ہوتے ہیں جنہیں اہل زبان خوب جانتے ہیں۔ مثلاً لفظ اخبار کا لغوی معنی محض خبریں ہے مگر اس کا اصطلاحی مفہوم وہ پرچہ (Newspaper) جس میں خبروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درج ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ اصطلاحیں فنی اور تکنیکی ہوتی ہیں۔ جنہیں صرف اہل علم و فن ہی جانتے ہیں۔ لغت چونکہ زبان کے الفاظ کے معنی بیان کرتی ہے لہذا ایسی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنا اس کے دائرہ سے خارج ہوتا ہے اور ایسی اصطلاحات کے لئے الگ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً خبر واحد، طول بلد، سرایت حرارت، کشش ثقل وغیرہ وغیرہ ایسی اصطلاحات ہیں جن کے مفہوم کو عام اہل زبان نہیں جانتے۔ قرآن چونکہ علوم شرعیہ کا منبع ہے لہذا اس میں بیشمار ایسی اصطلاحات مثلاً دین، الٰہ، عبادت، صلٰوۃ، زکوٰۃ، معروف، منکر، حج، عمرہ، آخرت وغیرہ استعمال ہوئی ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنا بھی اللہ اور اس کے رسول کا کام ہے۔ شرعی اصطلاحات کا جو مفہوم اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا ہو وہی قرآن کا بیان کہلاتا ہے اور یہی بیان امت کے لیے قابل قبول ہوسکتا ہے۔
خ قرآن کے بیان کی حفاظت کے بغیر صرف قرآن کے الفاظ کی حفاظت بےمعنی ہے :۔ ثالثاً محاورات مقامی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جو یا تو اہل زبان سے سیکھنا پڑتے ہیں یا کسی محاورات کی کتاب سے دیکھنا ہوں گے۔ لکھنؤ میں ایک ڈاکٹر صاحب کو اس کا دوست ملنے گیا جو اس علاقہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ ڈاکٹر کے کلینک میں ایک مریض آیا اور کہنے لگا : میں نے آج رات تین بار زمین دیکھی ہے۔ ڈاکٹر نے مریض کی شکایت سن کر دوا دے دی اور وہ چلا گیا بعد میں وہ دوست ڈاکٹر سے کہنے لگا، میں نہیں سمجھ سکا کہ مریض نے کیا تکلیف بیان کی تھی جس کی آپ نے دوا دی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ زمین دیکھنا سے یہاں قے کرنا مراد لیا جاتا ہے اور میں نے اس مرض کی دوا دی تھی۔
خ سنت کا منکر قرآن کا بھی منکر ہے :۔ رابعاً : بعض دفعہ ایک لفظ کسی خاص معنی میں مشہور ہوجاتا ہے جبکہ لغوی لحاظ سے اس میں اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اندریں صورت صرف عرف کا لحاظ رکھا جائے گا۔ مثلاً ابن عباس ؓ سے مراد عبداللہ بن عباس ؓ ہی ہوں گے حالانکہ لغوی لحاظ سے ان کے دوسرے بیٹے فضیل کو بھی ابن عباس ؓ کہنا درست ہے۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ سے مراد صرف بیت المقدس ہی لیا جائے گا نہ کہ دور کی کوئی مسجد جیسا کہ منکرین معجزات واقعہ اسراء کی تاویل میں مسجد اقصیٰ سے مراد بیت المقدس نہیں لیتے بلکہ کوئی بھی دور کی مسجد مراد لے لینا ان کے نزدیک درست ہے۔
مندرجہ بالا تصریحات سے تین نتائج سامنے آتے ہیں :
1۔ اللہ نے صرف قرآن کے الفاظ کی ہی حفاظت کا ذمہ نہیں لے رکھا بلکہ قرآن کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ کیونکہ اگر قرآن کے بیان کی حفاظت نہ کی جائے تو الفاظ کی حفاظت کوئی معنی نہیں رکھتی اور قرآن بچوں کا کھیل بن جاتا ہے۔
2۔ واجب الاتباع ہونے کے لحاظ سے قرآن اور قرآن کے بیان یعنی سنت رسول ﷺ میں کوئی فرق نہیں اور
3۔ قرآن کا بیان یا تشریح و تفسیر وہی قابل اعتماد ہوسکتی ہے جو خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہو۔
Ayahs 75:21–2213 اس جملہ معترضہ کے بعد اب پھر اصل مضمون کا تسلسل شروع ہو رہا ہے۔ کافروں کے انکار آخرت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آخرت کا اقرار کرکے اپنے آپ پر پابندی لگا لینا گوارا نہیں کرتے۔ ان دو آیات میں آخرت کے انکار کی دوسری وجہ بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ صرف نقد بہ نقد سودا کے گاہک ہو، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ایسا کام کرو جس کا عوض اسی دنیا میں مل جائے اور جن کاموں کا اجر آخرت میں ملنے کی توقع ہو ان کاموں کو تم نظر انداز کردیتے ہو۔ عوضانہ ادھار بھی ہو اور تمہارے خیال کے مطابق غیر یقینی بھی ہو تو پھر تم آخرت کو دنیا پر کیونکر ترجیح دے سکتے ہو ؟
Ayahs 75:23–2414 دیدار الہٰی میں لذت وسرور :۔ بیشمار احادیث سے بھی ثابت ہے کہ ایمانداروں کو آخرت میں اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ وہ اس کو اسی طرح بےتکلف دیکھ سکیں گے جس طرح چاند کی طرف دیکھتے ہیں۔ البتہ کافر اور فاجر لوگ اللہ کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ (83: 15)
خ دیدار الہٰی سب سے بڑی نعمت ہے :۔ کتاب و سنت میں یہ بھی صراحت سے مذکور ہے کہ اللہ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر اور بڑی نعمت ہوگا اور اس دیدار میں کچھ ایسا کیف و سرور حاصل ہوگا کہ جب تک اللہ تعالیٰ اہل جنت کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا جنتی اور کسی نعمت کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں۔ بلکہ ٹکٹکی باندھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کلام کیا تو اس کلام میں بھی اتنی لذت تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ یہ گفتگو کے لمحات جس قدر ممکن ہو طویل سے طویل تر ہوسکیں۔ اور دیدار میں تو بہرحال سماعت سے بہت زیادہ لذت ہونا یقینی ہے۔
خ عقل پرستوں کی تاویلات :۔ بعض عقل پرستوں نے دیدار الٰہی سے متعلقہ آیات کی بھی تاویل کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ صرف اس لیے کہ اس طرح اللہ کے لئے ایک مخصوص جہت متعین کرنا پڑتی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات جہات اور مکان کی حدود سے ماوریٰ ہے۔ ہم ان دوستوں سے یہی عرض کریں گے کہ آپ کو کس نے اس بات کا پابند بنایا ہے کہ تمام آیات اور صفات الٰہی کو اپنی عقل کے مطابق کرکے چھوڑیں۔ جو بات آپ کے بس کا روگ نہیں۔ اس میں آپ کیوں مداخلت بےجا کرتے ہیں۔ راہ صواب یہی ہے کہ جو بات اللہ اور اس کے رسول نے کہی ہے اسے جوں کا توں تسلیم کرلیا جائے۔ صفات الٰہی میں عقل انسانی کی مداخلت سے گمراہی کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ رہی یہ بات کہ مومنوں کے چہرے کس وجہ سے تروتازہ ہوں گے تو اس کی ایک معقول وجہ تو یہی دیدارِ الٰہی کی نعمت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کے تمام تر حالات ان کی توقعات کے مطابق واقع ہوں گے۔ اس پر وہ اتنے خوش ہوں گے کہ ان کے چہرے ہشاش بشاش نظر آئیں گے۔
Ayah 75:2515 اور یہی آخرت کے واقعات جن لوگوں کی توقعات کے برعکس نکلیں گے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی اور انہیں یہ خوب معلوم ہوجائے گا کہ ان کی شامت آئی کہ آئی۔ اس تصور سے ہی وہ یوں شکستہ خاطر ہوجائیں گے جیسے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے۔
Ayah 75:2616 یعنی خوب سمجھ لو کہ قیامت کا دن کچھ دور نہیں بلکہ اس کا منہ تم اس دنیا میں ہی دیکھ لو گے۔ جب تم مرنے کے قریب ہوتے ہو اور تمہاری جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے تو سمجھ لو کہ تمہارا سفر آخرت شروع ہوگیا۔
Ayahs 75:27–2817 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ( مَنْ رَ ا قٍ ) کو فرشتوں کا کلام سمجھا جائے اور راق کو رقی بمعنی اوپر چڑھنے سے مشتق قرار دیا جائے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرشتے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اس شخص کی روح کو جنت کے فرشتے لے کر اوپر چڑھیں گے یا دوزخ کے ؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے راق کو رقیۃ بمعنی دم جھاڑ سے مشتق قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب میت کے لواحقین اس کے علاج سے عاجز آجاتے ہیں تو پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟ اور یہ میت کے علاج یا اسے موت کے منہ سے سے بچانے کے لئے آخری حربہ کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے علاج کروانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اور دم جھاڑ کی اجازت ہے بشرطیکہ اس میں شرکیہ کلمات نہ ہوں۔ تاہم اللہ پر توکل کرنے والوں اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا درجہ علاج کرانے والوں سے بہت بلند ہے۔ چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بےحساب جنت میں جائیں گے یہ کہہ کر آپ ﷺ اندر چلے گئے اور یہ نہیں بتایا کہ وہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے ؟
خ بلاحساب جنت میں جانے والے متوکلین :۔ اب صحابہ قیاس دوڑانے لگے اور کہنے لگے یہ ستر ہزار ہم لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے پیغمبر کی پیروی کی یا ہماری اولاد ہوگی جو اسلام کے دین پر ہی پیدا ہوئی۔ کیونکہ ہم لوگ تو جاہلیت اور کفر کے دور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ باہر نکلے اور فرمایا : یہ ستر ہزار وہ لوگ ہیں جو نہ منتر کرتے ہیں نہ برا شگون لیتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں بلکہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں یہ سن کر ایک صحابی عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے اور کہنے لگے :
یارسول اللہ ﷺ کیا میں ان لوگوں سے ہوں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں پھر ایک اور صحابی (سعد بن عبادہ) کھڑے ہو کر کہنے لگے : کیا میں بھی ان سے ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم سے پہلے عکاشہ ان لوگوں میں ہوچکا (بخاری۔ کتاب الطب والمرضیٰ ۔ باب من لم یرق)
دوا سے علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ علاج حرام اشیاء سے نہ کیا جائے لیکن دم جھاڑ کرنا کوئی مستحسن فعل نہیں۔ البتہ بعض شرائط کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے :
1۔ سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میرا ماموں بچھو کا منتر کیا کرتا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے منتروں سے منع کردیا۔ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے منتروں کو منع کردیا اور میں بچھو کا منتر کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے اسے پہنچانا چاہیے (مسلم۔ کتاب السلام۔ باب استحباب رقیۃ المریض)
2۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعیص فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں منتر کیا کرتے تھے۔ ہم نے کہا : یارسول اللہ ﷺ آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے منتروں کو میرے سامنے پیش کرو۔ اگر اس میں شرک کا مضمون نہ ہو تو کچھ قباحت نہیں (مسلم۔ ایضاً )
3۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب کوئی گھر میں بیمار ہوتا تو آپ ﷺ اس پر معوذات (سورۃ العلق اور سورة الناس) پڑھ کر پھونکتے۔ پھر جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو میں آپ ﷺ پر پھونکتی اور آپ ﷺ ہی کا ہاتھ آپ ﷺ پر پھیرتی۔ کیونکہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ (مسلم۔ ایضاً )
4۔ عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں میرے بدن میں کچھ درد سا رہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار بسم اللہ کہو پھر سات بار یہ کہو : اعوذ باللّٰہ و قدرتہ من شرما اجد واحاذر (یعنی میں اللہ سے اس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جسے میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں) (مسلم۔ ایضاً )
5۔ سیدہ عائشۃ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ ﷺ اس پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے پھر فرماتے اَذْھِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لاَ شِفَاء الاَّشِفَاءُ کَ شِفَائً لاَّ یُغَادِرُ سَقَمًا ( اے لوگوں کے پروردگار ! یہ بیماری دور کر دے۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ شفا تیری ہی شفا ہے۔ ایسی شفا دے کہ بیماری بالکل نہ رہے) (مسلم۔ ایضاً )
6۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب کسی مریض پر دم جھاڑ کرتے تو فرماتے بِسْمِ اللّٰہِ تُرْبَۃُ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا یَشْفِیْ سَقِیْمَنَا باذْنِ رَبِّنَا (یعنی اللہ کے نام سے ہماری زمین (مدینہ) کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک سے کرے ہمارے مالک کے حکم سے مریض کو تندرست کر دے گی) (بخاری۔ کتاب الطب۔ باب رقیۃ النبی ﷺ
7۔ سورة فاتحہ سے بچھو کے کاٹے کا دم :۔ سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے کئی اصحاب عرب کے ایک قبیلہ پر پہنچے۔ لیکن انہوں نے صحابہ کی ضیافت نہ کی۔ اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے کاٹا۔ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : تمہارے پاس بچھو کے کاٹے کی کوئی دوا یا منتر ہے ؟ انہوں نے کہا : ہے تو سہی لیکن چونکہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی لہذا ہم معاوضہ کے بغیر منتر نہیں کریں گے۔ آخر انہوں نے کچھ بکریاں (30 بکریاں) دینا قبول کیں۔ تب ایک صحابی (خود ابو سعید خدری نے سورة فاتحہ پڑھنا شروع کی۔ وہ سورة فاتحہ پڑھتے اور تھوک منہ میں اکٹھا کرکے زخم پر تھوک دیتے۔ وہ سردار اچھا ہوگیا۔ قبیلہ کے لوگ بکریاں لے کر آئے تو صحابہ کو تردد ہوا کہ جب تک آپ ﷺ سے پوچھ نہ لیا جائے ان بکریوں کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟ چناچہ جب صحابہ نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ہنس دیئے اور فرمایا : ارے تجھے یہ کیسے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ منتر بھی ہے۔ بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی لگاؤ (بخاری۔ کتاب الطب۔ باب الرقی بفاتحۃ الکتاب)
خ 8۔ تعویذ گنڈوں کی ممانعت :۔ ابو بشیر انصاری فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں اپنے آرام کے ٹھکانے میں تھے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص (زید بن حارثہ) کے ہاتھ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت یا گنڈا ہو وہ کاٹ ڈالا جائے (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب ماقیل فی الجرس و نحوہ فی اعناق الابل)
9۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک وفد بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے ان میں سے نو کی بیعت لی مگر ایک سے نہ لی۔ وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ اس نے تعویذ پہنا ہوا ہے پھر ہاتھ ڈال کر اس کا تعویذ کاٹ ڈالا اور بیعت لے لی اور فرمایا : مَنْ عَلَّقَ تََمِیْمَۃً فَقَدْ اَشْرَک َ (مسند احمد ج 4 ص 75) مطبوعہ احیاء السنہ ان احادیث سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں :
1۔ دم جھاڑ کا مسنون طریقہ صرف یہ ہے کہ مریض پر قرآن کی آیات یا مسنون دعائیں پڑھ کر دم کردیا جائے۔ البتہ اگر دم جھاڑ کے الفاظ کے معنی کی پوری طرح سمجھ آجائے اور اس میں شرک کی کوئی بات نہ ہو تو ایسا دم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
2۔ اس کے علاوہ جتنی بھی صورتیں مروج ہیں مثلاً تعویذ لکھ کر پانی میں گھول کر پلانا، گلے میں لٹکانا یا ران یا کلائی پر باندھنا، کپڑے پہننا، موتی وغیرہ لٹکانا سب کے سب ناجائز اور خلاف سنت اور بدعت ہیں۔
3۔ دم جھاڑ کو پیشہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کی پیشگی اجرت طے کرنا ممنوع ہے۔ البتہ بعد میں اگر کوئی اپنی خوشی سے ہدیہ دے دے تو اس کے لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
4۔ سیدنا ابو سعید خدری نے جو 30 بکریاں پیشگی طے کرکے لیں تو یہ ایک استثنائی واقعہ ہے اور اس کی وجہ حدیث میں مذکور ہے۔ ایک تو وہ کافر تھے۔ دوسرے انہوں نے اہل عرب کے معروف دستور کے خلاف مسلمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا۔ لہذا یہ بکریاں ان سے سزا کے طور پر لی گئی تھیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس بات کی اجازت تھی کہ اگر لوگ مہمان نوازی کا حق ادا نہ کریں تو ان سے جبراً بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب اکرام الضیف وخدمتہ ایاہ بنفسہ)
Ayahs 75:29–3418 یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کرسکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہوجائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آگیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر باربار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔
Ayah 75:3519 ابو جہل کا شیخی بگھارنا اور متکبرانہ چال :۔ آیت نمبر 31 سے 35 تک کافروں کے ایک اور سردار کا کردار بغیر نام لیے پیش کیا گیا ہے یہ کردار ابو جہل تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے یہ آیات پڑھ کر سنائیں تو بدبخت کہنے لگا : محمد ﷺ ﷺ ! ) مجھ کو کیا ڈراتے ہو، میرا نہ تم کچھ بگاڑ سکتے ہو اور نہ تمہارا پروردگار کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ بخدا اس وادی میں میری عزت سب سے زیادہ ہے اور میری محفل سب سے بڑی ہے۔ واضح رہے کہ ولید بن مغیرہ کے بعد یہی ابو جہل قریشیوں کا بڑا سردار اور سپہ سالار مقرر ہوا تھا۔ قرآن کی آیات سن کر انہیں جھٹلا دیا پھر متکبرانہ انداز سے منہ موڑ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ضمناً آیت 31 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی آیات کو سچا سمجھنے کی سب سے پہلی اور اہم علامت نماز کی ادائیگی ہے۔
Ayahs 75:36–3820 یعنی اللہ نے انسان کو بیشمار ایسی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسرے جانداروں کو عطا نہیں کی گئیں۔ لہذا جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں اور ان پر کسی طرح کی کچھ ذمہ داری نہیں اسی طرح انسان کا بھی حال ہے۔ اس کی یہ سوچ نہایت احمقانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرنے کی آخر اللہ میاں کو کیا ضرورت تھی ؟ بلکہ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی بھی ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ سمجھی جائے جیسے دوسرے جانداروں کی ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ہی کیا ضرورت تھی ؟
Ayah 75:3921 لڑکے اور لڑکیوں کی پیدائش میں تناسب اور دہریت کا رد :۔ بعض دہریے اور نیچری حضرات رحم مادر میں انسان کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا کارنامہ نہیں سمجھتے۔ بلکہ وہ اسے ایک طبعی امر اور اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اتفاقات کا نتیجہ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نوع انسانی کے کسی دور میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوتے جائیں اور لڑکیاں پیدا نہ ہوں اور اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دور میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی جائیں اور لڑکے پیدا نہ ہوں۔ اور اس طرح نسل انسانی کا سلسلہ ہی منقطع ہوجائے ؟ کیا یہ بھی اتفاقات کا ہی نتیجہ قرار دیا جائے گا کہ ہر دور میں لڑکے اور لڑکیاں اللہ تعالیٰ اس نسبت سے پیدا فرما رہا ہے کہ نسل انسانی میں انقطاع واقع نہیں ہوتا ؟
Ayah 75:4022 یعنی رحم مادر میں نطفہ سے انسان کی تخلیق تک کے اطوار پھر ان کی زوجین میں مناسب تقسیم سے انسان بخوبی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو پروردگار اتنی قدرتوں کا مالک ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ان دلائل کے بعد بھی جو انسان دوبارہ زندگی کا انکار کرتا ہے تو اس کا یہ انکار ہٹ دھرمی اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ نیز حدیث میں ہے کہ جب آپ یہ آیت تلاوت فرماتے تو بعد میں سبحانک اللھم بلٰی فرماتے۔