Ayah 74:11 وحی کی گرانیاری :۔ آپ ﷺ پر سب سے پہلی جو وحی غار حرا میں نازل ہوئی وہ سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ خالق کائنات ہے۔ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا ہے اور اسی نے یہ فرشتہ نازل کیا ہے۔ ان آیات میں آپ کو تبلیغ وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ صرف آپ ﷺ کو آپ ﷺ پر پڑنے والی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔ فرشتہ جبریل کے ذریعہ نبی کے دل پر جو وحی نازل ہوتی ہے۔ نبی کے لئے سخت تکلیف دہ اور گرانبار ہوتی ہے۔ اس دوران پہلے گھنٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ پھر نبی کا اس عالم سے رشتہ کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا ہے اور اس وحی کا اتنا بار ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو بعض اوقات سردیوں میں وحی کے وقت پسینہ آجاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ سیدنا زید بن ثابت ؓ کی ران پر ران رکھے ہوئے تھے کہ وحی کا نزول شروع ہوا۔ سیدنا زید کہتے ہیں کہ میں نے اس کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی۔ اور ایک دفعہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے۔ وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اس کے بوجھ اور دباؤ سے اونٹنی نیچے بیٹھ گئی تھی۔ چناچہ پہلی دفعہ غار حرا میں جب وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اس تکلیف اور بوجھ سے مجھے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ خیر آپ ﷺ اسی حالت میں گھبرائے ہوئے گھر آئے تو سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ نے آپ کو بہت تسلی دی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ بند ہوگیا۔ وحی کی تکلیف اور بوجھ کے باوجود اس دوران آپ ﷺ کو ایک عجیب طرح کی لذت بھی محسوس ہوئی تھی۔ اسی لذت کی وجہ سے آپ وحی کے منتظر بھی رہتے تھے۔ بعد ازاں ایک دن درج ذیل واقعہ پیش آیا :
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ وحی بند رہنے کا تذکرہ فرما رہے تھے۔ فرمایا : ایک دفعہ چلتے چلتے میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر میں اتنا ڈرا کہ ڈر کے مارے زمین پر گرپڑا۔ پھر اپنے گھر آیا تو گھر والوں سے کہا : مجھے کمبل اڑھا دو ۔ مجھے کمبل اڑھا دو چناچہ انہوں نے مجھے کمبل اڑھا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ( یَایُّھَا الْمُدَّثِّرْ ۔۔ فَاھْجُرْ ) تک۔ ابو سلمہ نے کہا رجز سے بت مراد ہیں۔ اس کے بعد وحی گرم ہوگئی، برابر لگاتار آنے لگی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 74:22 اس سورة کی ابتدا میں ہی آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی ذمہ داری سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ کہ اب سونے کا وقت نہیں بلکہ جو لوگ اللہ کو بھول کر خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں انہیں بتائیے کہ انہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے پروردگار کے حضور پیش ہونا ہے۔ لہذا اپنے برے انجام سے بچنے کی خاطر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت بجا لاؤ۔
Ayah 74:33 پہلا سبق اللہ کی کبریائی :۔ یعنی دنیا میں جتنے لوگ بڑے بنے بیٹھے ہیں۔ ان سب کی بڑائیاں اللہ کی بڑائی کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز بڑے بڑے حکمران اور ان کی حکومتیں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے سامنے کوئی چیز نہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی کبریائی، بزرگی اور بڑائی سے پوری طرح روشناس کرائیے۔ اور زبان سے بھی اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہا کیجئے۔ اسی حکم کی وجہ سے اسلام میں تکبیر یا کلمہ اللہ اکبر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہر اذان میں چھ بار یہ کلمہ دہرایا جاتا ہے۔ اور ہر نماز کا افتتاح بھی اسی تکبیر سے ہوتا ہے۔ پھر رکوع جاتے وقت، سجدہ کے وقت، سجدہ سے اٹھتے وقت غرض نماز کی ہر رکعت میں متعدد بار اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔ پھر نماز کے بعد تکبیر و تہلیل کی بہت فضیلت آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ایک مسلمان کے سامنے ہر وقت اللہ کی کبریائی کا تصور موجود رہے۔
Ayah 74:44 دوسرا سبق : جسم اور لباس کی صفائی اور راہبانہ تصور :۔ یعنی اپنے کپڑے میل کچیل سے بھی اور نجاست سے بھی پاک صاف رکھیے۔ اور صاف ستھرا لباس استعمال کیا کیجئے اور جسم کو پاک صاف رکھیے۔ کیونکہ روح کی پاکیزگی کے لیے جسم اور لباس کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس آیت میں ان راہبانہ تصورات کا پورا رد موجود ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان جتنا گندہ اور میلا کچیلا رہے اتنا ہی وہ اللہ کے ہاں محبوب اور مقدس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں جسم اور لباس کی صفائی کی جو اہمیت ہے اس ابتدائی حکم سے اس پر پوری روشنی پڑتی ہے۔
Ayah 74:55 باطنی صفائی :۔ رُجْزٌ سے مراد ظاہری میل کچیل، گندگی اور نجاست بھی ہے۔ اور باطنی یعنی دل کی نجاست یا گندگی بھی۔ اس لفظ کا اطلاق ان تمام شیطانی وساوس پر ہوتا ہے جو دل میں موجود ہوں۔ خواہ یہ غیر اللہ کی عبادت سے متعلق ہوں یا برے خیالات سے۔ اور یہ باطنی صفائی ظاہری صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Ayahs 74:6–96 بےلوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔ کسی شخص کی بےلوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے بغیر لوگوں پر دینی اور دنیوی دونوں طرح کی بھلائیاں کرنا ہوں گی اور اس راہ میں آپ ﷺ کو جتنے بھی مصائب پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی سے اللہ کی رضا کی خاطر برداشت کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان باتوں کا بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
Ayah 74:107 عقیدہ قیامت اور اس کا تصور :۔ اس آیت میں وضاحت یہ ہے کہ جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی قیامت آجائے گی تو یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت ہوگا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن مومنوں کے لیے سخت نہیں ہوگا اور مومنوں کا غالباً یہاں اس لیے ذکر نہیں کیا گیا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی مومنوں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ لا تقوم الساعۃ الاعلیٰ شرار الخلق یعنی قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ (مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی)
Ayahs 74:11–128 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب وہ پیدا ہوا تو بالکل خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کے پاس کوئی مال و دولت، عزوجاہ یا لاؤ لشکر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو اسے بعد میں اس دنیا میں ملا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس شخص کی مخالفت کی آپ مطلق پروا نہ کیجیے اور اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔
Ayahs 74:13–149 قصہ ولید بن مغیرہ :۔ ان آیات میں بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا تاہم جو صفات بیان کی گئی ہیں اس سے ہر ایک کو واضح طور پر معلوم ہوجاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے ؟ یہ شخص باتفاق مفسرین ولید بن مغیرہ تھا۔ حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی اور یہ ابو جہل مخزومی کا چچا تھا۔ بڑا صاحب مال تھا۔ دس یا بارہ جوان بیٹے اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ جنہیں کسب معاش کی چنداں فکر نہیں تھی۔ اس کام کے لیے اس کے نوکر چاکر بہت تھے۔ بس ان بیٹوں کا کام یہی تھا کہ اپنے باپ کی مجلس میں حاضر رہ کر اس کی شان و شوکت بڑھائیں۔ انہیں بیٹوں میں سے ایک سیدنا خالدبن ولید بھی تھے۔ جس نے اسلام لاکر اسلام کی بیش بہا خدمات سرانجام دیں تھیں۔
Ayahs 74:15–1610 اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت بھی کافی عطا کیا تھا، جوان بیٹے بھی اور ریاست بھی دی تھی۔ لیکن کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکلا ہمیشہ اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ضرور ملیں گی۔
Ayahs 74:17–1810۔ ا لف اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں اس کو اس کی زندگی میں سخت مشکلات سے دو چار کردوں گا اور دوسرا مطلب اخروی عذاب سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو چڑھایا جائے گا۔ پھر اسے وہاں سے نیچے گرایا جائے گا اسے ہمیشہ یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ (ترمذی ابو اب التفسیر)
Ayahs 74:19–2711 اسلام لانے میں اس کی سرداری رکاوٹ بن گئی :۔ ولید بن مغیرہ خود بڑا سمجھدار اور عربی کلام کے نشیب و فراز سے خوب واقف تھا۔ وہ خود قرآن سے کافی حد تک متاثر ہوچکا تھا۔ اب قریشی سرداروں کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ اگر ان کا رئیس مسلمان ہوگیا تو پھر تو ان کا کہیں بھی ٹھکانہ نہ رہے گا۔ اس کو اپنے سابقہ دین پر برقرار رکھنے کا بیڑا ابو جہل نے اٹھایا۔ (ولید بن مغیرہ کے بعد قریش کی سیادت ابو جہل کے ہاتھ آئی تھی) جب ابو جہل نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ مسلمان ہوگیا تو اس کی سب عزت و جاہ خاک میں مل جائے گی اور اسے قریش کی سیادت سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ تو وہ اسلام لانے سے رک گیا۔ اب ایک اور اہم مسئلہ درپیش تھا کہ حج کا موسم قریب آچکا تھا اور قریشی سرداروں کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ جو لوگ حج کے موقعہ پر باہر سے مکہ آتے ہیں انہیں اسلام کی دعوت سے کیونکر روکا جاسکتا ہے اور وہ پیغمبر اسلام کو کیا کہہ کر لوگوں کو ان سے متنفر کرسکتے ہیں ؟
خ ولید بن مغیرہ کے ہاں مشرکین مکہ کا مشورہ :۔ چناچہ اس غرض کے لیے قریشی سردار ولید بن مغیرہ کے ہاں جمع ہوئے۔ ولید بن مغیرہ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اچھا تم لوگ اپنی اپنی تجاویز پیش کرو۔ ان میں سے ایک بول اٹھا : ہم کہیں گے کہ یہ شخص کاہن ہے ولید کہنے لگا : واللہ ! وہ کاہن نہیں، اس کے کلام میں نہ کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے، نہ قافیہ گوئی اور نہ تک بندی۔ پھر وہ کاہن کیسے ہوسکتا ہے ؟ دوسرے نے کہا ہم کہیں گے : وہ پاگل ہے ولید نے کہا : واللہ ! وہ پاگل بھی نہیں، ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ پاگلوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں تیسرے نے کہا : ہم کہیں گے، وہ شاعر ہے ولید کہنے لگا : وہ شاعر بھی نہیں، ہمیں رجز، حجز، قریض مقبوض، مبسوط سارے ہی اصناف سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہرحال شعر نہیں ہے۔ تب لوگوں نے کہا : ہم کہیں گے : وہ جادو گر ہے ولید نے کہا وہ جادوگر بھی نہیں۔ یہ شخص نہ ان کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے اور نہ گرہ لگاتا ہے آخر لوگوں نے جھنجھلا کر کہا : پھر تم ہی اپنی بےداغ رائے پیش کرو۔ ولید کہنے لگا۔ مجھے ذرا سوچ لینے دو ۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں پر ایک فاخرانہ نگاہ ڈالی۔ پھر از راہ تکبر پیشانی کو سکیڑا جیسے قرآن سے اسے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ اس کے ساتھی چلے گئے، وہ سوچتا رہا، سوچتا رہا۔ بالآخر اس نے اپنی بےداغ رائے یہ پیش کی کہ تم لوگ باہر سے آنے والوں سے یوں کہہ سکتے ہو کہ یہ شخص ایسا کلام پیش کرتا ہے جو ایسا جادو ہے جس سے بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے، شوہر بیوی سے جدا ہوجاتا ہے اور کنبے قبیلے میں پھوٹ پڑجاتی ہے چناچہ اس تجویز پر متفق ہو کر سب لوگ رخصت ہوگئے۔ اس مکالمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ولید بن مغیرہ پر قرآن کی حقیقت پوری طرح واضح ہوچکی تھی۔ اب وہ جو کچھ پینترے بدل رہا تھا محض اپنے اقتدار اور جاہ کو محفوظ رکھنے کی خاطر کر رہا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کی اسی ہٹ دھرمی اور کج فکری کا نقشہ پیش کیا ہے۔
Ayahs 74:28–2912 یعنی جہنم کی آگ دوزخیوں کو مسلسل جلاتی بھی رہے گی لیکن اس عذاب سے کسی کی موت واقع نہ ہوگی۔ آگ سے ان کی کھالیں جل جائیں گی بلکہ گل جائیں گی تو انہیں دوسری نئی کھالیں مہیا کردی جائیں گی تاکہ وہ مسلسل اور دائمی عذاب میں مبتلا رہ سکیں۔
Ayah 74:3013 فرشتوں کا طریق :۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لئے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی۔ فرشتوں کی قوت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے بہت مشکل ہے۔ ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی بھی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہئے کہ ایک فرشتہ اسی محدود دائرہ میں کام کرسکتا ہے جس میں کام کرنے پر وہ مامور ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح سیدنا جبرئیل چشم زدن میں آسمانوں سے وحی تو لاسکتے ہیں مگر بارش برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا اور آنکھ سن نہیں سکتی۔ بلکہ یہ اعضاء وہی کام کرسکتے ہیں جن کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں اسی طرح جس فرشتے کو اللہ نے جس قسم کا عذاب کرنے پر مامور کیا ہے وہ اسی قسم کا عذاب دے سکے گا۔
Ayahs 74:31–3414 انیس فرشتوں پر کافروں کا استہزا :۔ دوزخ پر انیس فرشتوں کے تقرر کی بات سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم تو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ پھر اگر ہمارے لیے جہنم کے عذاب کی بات درست ہوئی بھی تو یہ انیس ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ ہم دس دس مل کر بھی ایک فرشتے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے ؟ ان میں سے ایک پہلوان ٹائپ آدمی کہنے لگا کہ ان میں سے سترہ کو تو میں سنبھال لوں گا۔ باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ تمہاری سوچ بالکل غلط ہے وہ داروغے ہیں تو انیس مگر وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں اور تم کیا سمجھو کہ ایک فرشتہ کتنی قوت کا مالک ہوتا ہے ؟
15 یعنی اہل کتاب اور مومن لوگ فرشتوں پر بن دیکھے ایمان لانے والے ہیں اور ان فرشتوں کی قوت اور قدرت کا بھی انہیں علم ہے۔ لہذا وہ کبھی ایسا استہزا نہیں کرسکتے بلکہ ایسی آیات سنکر ان کے دل دہل جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
16 اس آیت میں مرض سے مراد شک کی بیماری ہے۔ یعنی منافق اور کافر دونوں ہی ہدایت کی باتوں سے محروم رہتے ہیں۔ یعنی ایک ہی بات یا ایک ہی مثال سے بدبخت آدمی گمراہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ سلیم الطبع آدمی اسی مثال سے ہدایت حاصل کرلیتا ہے۔ جس نے بہرحال نہ ماننے کا تہیہ کر رکھا ہو وہ ہر کام کی بات کو بھی ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں اللہ کا خوف اور ہدایت کی طلب ہو اسی بات سے اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔
17 اللہ کے لشکر :۔ فرشتے بھی اور فرشتوں کے علاوہ جتنی بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ اللہ اپنی ہر مخلوق سے لشکروں کا کام لے سکتا ہے۔ وہ ابابیلوں سے اصحاب الفیل کو پٹوا بھی سکتا ہے اور مروا بھی سکتا ہے۔ وہ ہواؤں کو حکم دے کر عاد جیسی قد آور، طاقتور اور سرکش قوم کا سرتوڑ سکتا ہے۔ بلکہ جس قدر بھی باطنی اسباب ہیں وہ سب اللہ کے کنٹرول میں ہیں اور وہ اللہ کے لشکر ہیں جن سے وہ جس قسم کا کام لینا چاہے لے سکتا ہے۔ کافروں سے جہنم کے فرشتوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ ان کے علاوہ دوسرے سب لوگوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔
Ayahs 74:35–3618 چاند کی شکلیں، ان کا گھٹنا بڑھنا، رات اور دن کا وجود اور ان کا باری باری آنا، رات کی تاریکی کے بعد سپیدہ سحر کا نمودار ہونا۔ اللہ کی یہ نشانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ چیزیں چونکہ ہر روز انسان کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اس لیے وہ ان میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جب دوزخ کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً اس کا انکار کردیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس نے تاحال دوزخ دیکھی نہیں۔ ورنہ ان اشیاء کی قسم جنہیں انسان دیکھ رہا ہے۔ جہنم کا وجود ناممکن نہیں ہے۔ اور وہ انسان کے لیے ڈر جانے کی چیز ہے۔ مذاق اڑانے کی نہیں۔
Ayahs 74:37–3819 حقیقت تو وہی کچھ ہے جو تمہیں بتادی گئی ہے۔ اب یہ بات ہر شخص کی پسند اور ارادہ و اختیار پر منحصر ہے کہ ہدایت کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ یا گمراہی کی دلدلوں میں ہی پھنسا رہنا چاہتا ہے۔