76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر لامتناہی زمانہ 1 سے ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ؟

1 دہر کا لغوی مفہوم دہر اللہ کی ذات ہے :۔ دھر بمعنی زمانہ کائنات، مدت عالم، جب سے کائنات شروع ہوئی اس وقت سے لے کر اس کے اختتام تک کا وقت (مفردات) اور ابن الفارس کہتے ہیں کہ دھر میں غلبہ اور قہر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور دہر کا یہ عالم اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز پر اضطراراً گزرتا اور اس پر غالب آتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ) اور دہر کا تعلق مشیئت الٰہی سے ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : لا تسبوا الدھر فان اللہ ھوالدھر یعنی دہر کو برا بھلا نہ کہہ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لا تسبوا الدھر) اور دہری وہ شخص ہے جو کائنات کی تخلیق کا قائل نہیں بلکہ اسے ابدالاباد سے شمار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی صانع نہیں بس یہ آپ سے آپ اتفاقات کے نتیجہ میں وجود میں آگئی تھی۔ اس آیت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ انسان پر ایسا وقت بھی گزر چکا ہے جبکہ بنی نوع انسان کی ابھی تخلیق ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اس کا نام و نشان تک صفحہ ہستی پر موجود نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور اور طور طے کرنے کے بعد یہ نطفہ کی شکل میں آیا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب انسان نطفہ کی حالت میں تھا تو اس کی موجودہ شرافت و کرامت کے مقابلہ میں اس کی وہ حالت اس قابل ہی نہیں تھی کہ اسے زبان پر لایا جائے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو (مرد اور عورت کے) مخلوط نطفہ سے پیدا کیا جسے ہم 2 الٹ پلٹ کرتے رہے پھر اسے سننے اور دیکھنے والا بنادیا 3 ۔

2 یعنی باپ کا نطفہ الگ تھا، ماں کا الگ، ان دونوں نطفوں کے ملاپ سے ماں کے رحم میں حمل قرار پایا۔ پھر ہم نے اس مخلوط نطفہ کو ایک ہی حالت میں پڑا نہیں رہنے دیا۔ ورنہ وہ وہیں گل سڑ جاتا۔ بلکہ ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے اور رحم مادر میں اس نطفہ کو کئی اطوار سے گزار کر اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنادیا۔ 3 انسان کی دوسرے جانداروں پر کیا فضیلت ہے ؟:۔ انسان کے علاوہ جتنی بھی جاندار مخلوق ہے۔ تقریباً سب ہی سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی ہیں۔ لیکن سمیع اور بصیر نہیں ہیں۔ سمیع اور بصیر صرف انسان ہے۔ اور یہی چیزیں انسان کے لئے علم کے حصول کے سب سے بڑے ذرائع ہیں۔ انسان اشیاء کو دیکھ کر اور بعض آوازیں سن کر ان پر غور کرتا، ان میں قیاس اور استنباط کرتا پھر ان سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے جاندار دیکھنے اور سننے کے باوجود ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے یقینا اسے راہ دکھا دی 4 اب خواہ وہ شکر گزار رہے یا ناشکرا بن جائے 5

4 انسان کی ہدایت کے لیے کون کون سے ذرائع اللہ نے بنائے ہیں ؟:۔ راہ دکھانے کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مثلاً : 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عہدالست سے تعبیر فرمایا ہے۔ 2۔ ہر انسان میں برے اور بھلے کی تمیز رکھ دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے۔ 3۔ انسان جب مصائب میں گھر جاتا ہے تو غیر شعوری اور اضطراری طور پر اس کی نگاہیں اپنے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ فریاد کے لیے اسے پکارنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے خالق یا کسی ان دیکھی بالاتر قوت پر تکیہ کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ 4۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات پر غور کرنے سے بھی انسان کو ایک ایسی عظیم، مقتدر اور بالاتر ہستی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کائنات کا نہایت مربوط نظم و نسق چلا رہی ہے اور انسان کو یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ خود اس ہستی کے دائرہ اقتدار سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتا۔ لہذا اس کی اطاعت کے بغیر اس کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔ 5۔ وہ کائنات میں یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ بعض ظالم زندگی بھر ظلم و جور کے طوفان اٹھانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض انسان ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار کر اور مصیبتیں سہہ سہہ کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ نظام کائنات انتہائی عدل اور توازن و تناسب پر قائم ہے جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان کو یقیناً ایک دوسری زندگی بھی مہیا کی جانی چاہیے جس میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں اور 6۔ ان سب ذرائع سے بڑھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کا یہ اہتمام فرمایا کہ انبیاء اور کتابیں ہر دور میں بھیج کر انسانوں پر اتمام حجت کردی۔ ان سب باتوں کے بعد انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ اب وہ اپنے اختیار کا صحیح استعمال کرکے اس کا فرمانبردار اور شکرگزار بندہ بننا چاہتا ہے یا دنیا کی دلکشی میں مست ہو کر اللہ کو بھول جاتا یا اس کی سرکشی کی راہ اختیار کرکے نمک حرام بن جاتا ہے۔ 5 یہ دنیا نہ دارا لجزاء ہے نہ دارالعیش بلکہ دارالعمل ہے :۔ اس دنیا میں انسان کی تخلیق کا ٹھیک مقصد یہ ہے کہ یہ دنیا اس کے لیے دارالامتحان ہے۔ جہاں اس کی یہ آزمائش مقصود ہے کہ وہ اچھے یا برے کیسے اعمال بجا لاتا ہے ؟۔ یہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے کہ ہر ظالم کو یہاں فوراً سزا مل جائے یا نیک آدمی کو اس کی نیکی کا فوری طور پر بدلہ مل جائے۔ یہ دارالعذاب بھی نہیں ہے۔ خ رُہبان اہل تناسخ اور اشتراکی نظریات کی تردید :۔ جیسا کہ اہل طریقت، رہبان اور درویش قسم کے لوگوں کا خیال ہے کہ جسم کو عذاب دے دے کر روح کی ترقی کی منزلیں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ نیز یہ دنیا اہل تناسخ کے نظریہ کے مطابق دارالجزاء بھی نہیں ہے کہ انسان اگر اپنی پہلی جون (زندگی) میں گناہ کرتا رہا ہے تو اب اس کی روح کسی ناپاک جسم مثلاً کتے یا سور میں ڈال دی جائے گی یا اگر وہ پچھلی جون میں نیک اعمال بجا لاتا رہا ہے تو اس کی روح کسی مہاتما کے جسم میں ڈال دی جائے گی۔ نیز یہ دنیا دہریوں، آخرت کے منکروں اور دنیا داروں کے نظریہ کے مطابق دارالعیش یا تفریح گاہ بھی نہیں ہے کہ انسان یہاں جیسے جی چاہے زندگی گزار کر چلتا بنے اور اس کے اعمال پر اس سے کوئی بازپرس کرنے والا نہ ہو۔ نیز یہ دنیا جدلیاتی کشمکش کا میدان بھی نہیں ہے جیسا کہ ڈارون اور کارل مارکس کے پیروکار سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے۔ جہاں وہ جیسا بوئے گا آخرت میں ویسا ہی کاٹے گا۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں 6 ، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

6 امتحان کا وقت ہر انسان کی موت تک ہے یا جو لوگ اس امتحان میں فیل ہوجائیں گے ان کی اخروی زندگی انتہائی تلخ ہوگی اور یہ دنیا کی زندگی جس قدر آزادانہ اور عیش و آرام میں گزار کر مریں گے اسی نسبت سے انہیں عذاب بھی دیئے جائیں گے۔ پابند زنجیر و سلاسل کرکے اور گلے میں طوق ڈال کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayahs 76:5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

نیک لوگ شراب کے ایسے جام پئیں گے جس میں کافور 7 کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے

7 ان کے مقابلہ میں اس دارالامتحان میں کامیاب ہونے والوں یا اللہ کے فرمانبرداروں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو سب سے پہلی نعمت تو یہ ملے گی کہ ان کے پینے کو ٹھنڈا، میٹھا، سفید رنگ کا خوشبودار اور مفرح قلب مشروب ملے گا۔ اور یہ مشروب اس افراط سے مہیا کیا جائے گا کہ جہاں کوئی موجود ہوگا اس مشروب کی نالیاں وہیں تک پہنچا دی جائیں گی وہ خود بھی جب ایسی خواہش کریں گے تو اس مشروب کی نالیاں وہاں پہنچ جائیں گی اس مشروب کی رنگت، ٹھنڈک اور خوشبو ایسی ہوگی جیسے اس میں کافور ملا دیا گیا ہے۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی نذریں پوری کرتے 8 ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر سو پھیلی 9 ہوئی ہوگی

8 اہل جنت کی چند صفات :۔ اب ان کامیاب ہونے والے نیک لوگوں کی چند صفات بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں۔ نذر ایسے عہد کو کہا جاتا ہے جو انسان خود اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے واجب کردہ عہد کو پورا کرنے کا اس قدر خیال رکھتا ہے وہ اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھے گا۔ 9 مُسْتَطِیْرٌ (مادہ ط ی ر) بمعنی چارسو پھیلی ہوئی آفت۔ پوری کی پوری فضا کو متاثر کرنے والی تکلیف اور مصیبت۔ جب سورج بالکل زمین کے قریب لے آیا جائے گا اور حرارت اور گھبراہٹ کے مارے لوگوں کا برا حال ہوگا۔ اس دن کے شر سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو پہلے ہی اس دن کے شر سے ڈر کر اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے ہوں گے۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور خود کھانے کی محبت کے باوجود 10 وہ مسکین، یتیم اور قیدی 11 کو کھانا کھلا دیتے ہیں

10 علی حبہ میں ہ کی ضمیر کا مرجع طعام بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت بھی یعنی وہ ایسے کام اللہ کی محبت کے جوش میں کرتے ہیں۔ 11 جنگی قیدیوں سے بہتر سلوک اگرچہ وہ کافر ہوتے ہیں :۔ اسیر کا لفظ جنگی قیدی کے لیے مخصوص ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگ کافر ہی ہوسکتے ہیں۔ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ ان کے کافر ہونے کے باوجود انہیں کھانا کھلانا اور ان سے حسن سلوک بڑی نیکی کا کام ہے۔ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس شخص کے پاس کوئی قیدی رہے وہ اس سے اچھا سلوک کرے۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے اور مسلمان بھائیوں کا حق تو ان سے بھی زیادہ ہے۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور انہیں کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے 12 ہیں اور نہ شکریہ

12 محسن اور ممنون کے لئے الگ الگ احکام :۔ اسلام کی انتہائی اعلیٰ وارفع تعلیمات میں سے ایک یہ حکم ہے یعنی احسان کرنے والوں کو اسلام نے یہ تعلیم دی کہ وہ اس سے جس پر احسان کیا گیا ہے کسی طرح کے معاوضہ، بدلہ حتیٰ کہ شکریہ تک کی بھی توقع نہ رکھیں۔ اور جس پر احسان کیا جائے اس کو یہ تعلیم دی کہ وہ احسان کرنے والے کا ضرور شکریہ ادا کریں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : مَنْ لاَ یَشْکُرُ النَّاسَ لاَ یَشْکُرُ اللّٰہَ (یعنی جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا کرنا نہیں جانتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا ؟ ) حالانکہ حق اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے۔ اب احسان کرنے والے کو یہ سبق دیا کہ وہ احسان کے شکریہ تک کی بھی توقع نہ رکھے اور جس پر احسان ہوا اسے یہ سبق دیا کہ اول تو اس کا بدلہ ادا کرنے کی کوشش کرے ورنہ شکریہ ضرور ادا کرے۔ اس طرح معاشرہ میں ایسی فضا قائم کردی جس سے معاشرہ کے محتاج و اغنیاء کے درمیان محبت اور مؤانست کو فروغ حاصل ہو۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہمیں اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو چہروں کو کریہہ المنظر اور (دلوں کو) مضطر کرنے والا 13 ہوگا

13 یعنی احسان کرنے والے نیکی کرنے اور شکریہ تک کی توقع نہ رکھنے کے باوجود اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے عمل میں کوئی تقصیر باقی نہ رہ جائے۔ اور اس دن ہم سے باز پرس نہ ہو جس کے نظارہ سے ہی سب کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ہیبت اور دہشت طاری ہوجائے گی۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

چناچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں 14 تازگی اور سرور بخشے گا

14 یعنی اللہ ان کے اس نیک عمل کا بدلہ یہ دے گا کہ ان کے چہرے بگڑنے کے بجائے خوب ترو تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور دلوں میں گھبراہٹ واقع ہونے کے بجائے ان کو دل کا اطمینان اور سرور عطا فرمائے گا۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا 15 کرے گا۔

15 دنیا میں ان لوگوں نے اللہ کی رضا کی خاطر بیشمار پابندیاں برداشت کی تھیں۔ اسلام کی راہ میں آنے والی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے تھے۔ اس مستقل صبر کے عوض آج انہیں جنت بھی عطا کی جائے گی اور فاخرانہ ریشمی لباس بھی پہنائے جائیں گے اور وہ جنت میں پورے شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ تکیہ لگائے بیٹھا کریں گے۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدّت) دیکھیں گے اور نہ سردی 16 کی شدت

16 شمس سے مراد دھوپ کی حرارت اور شدت ہے جو بدن کو ناگوار محسوس ہو۔ اور زمھریر سے مراد سخت سردی ہے اور ایسا طبقہ بھی جہاں کڑاکے کی سردی ہو۔ یعنی جنت کا موسم گرمی اور سردی کی ان دونوں انتہاؤں سے پاک اور معتدل قسم کا ہوگا۔ جیسے ہمارے ہاں موسم بہار ہوتا ہے۔
Ayahs 76:14–15

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

(جنت کے درختوں کے) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور ان کے خوشے مکمل طور 17 پر ان کے تابع فرمان بنا دیئے جائیں گے

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشے کے ساغر پھرائے جائیں گے

17 جنت میں روشنی کس قسم کی اور کس چیز سے ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی سائے ہوں گے اور وہ سائے خوشگوار بھی ہوں گے اور درختوں کے پھلوں کے گچھے اہل جنت کے اتنے قریب کردیئے جائیں کہ جب وہ چاہیں انہیں اپنے استعمال میں لاسکیں۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی ایسے جو چاندی 18 سے مرکب ہوں گے اور انہیں (منتظمین جنت نے) ایک خاص ترکیب 19 سے بنایا ہوگا

18 دنیا میں کئی قسم کے شیشے ایجاد ہوچکے ہیں۔ اور ایسی اشیاء بھی جو شیشے کے علاوہ ہونے کے باوجود شیشے کی طرح صاف شفاف بھی ہیں جیسے پلاسٹک کی اشیاء لیکن یہ چیزیں آتش گیر ہوتی ہیں جنت میں چاندی اور اس کے برتنوں کو شیشے کی طرح صاف شفاف بنادیا جائے گا اور یہ صنعت دنیا میں آج تک ایجاد نہیں ہوسکی اور شاید آئندہ بھی نہ ہوسکے۔ 19 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چاندی کے شیشہ نما برتنوں کو اتنی مخصوص مقدار میں ہی بھرا جائے گا۔ جتنی پینے والے کی طلب ہوگی، نہ انہیں اور مانگنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی یہ صورت ہوگی کہ برتن میں کچھ مشروب بچ جائے۔
Ayahs 76:17–18

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

وہاں انہی شراب کے ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش 20 ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ جنت میں ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے

20 پہلے کافور کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈا اور مفرح ہوتا ہے۔ اب زنجبیل یا سونٹھ کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا۔ زنجبیل کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ اہل عرب کے شوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایک قدرتی چشمہ ہوگا جس کے مشروب میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اسکی تلخی نہیں ہوگی۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی 21 رہیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ بکھرے 22 ہوئے موتی ہیں

21 (يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 17 ۝ ۙ ) 56 ۔ الواقعة :17) کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکے اہل جنت کے پاس ہمیشہ موجود رہیں گے۔ کبھی غیر حاضر نہ ہوں گے۔ 22 یعنی ان لڑکوں کا حسن و جمال، ان کی پاکیزگی اور نظافت، ان کی آب و تاب اور ان کے ہمہ وقت ادھر ادھر پھرنے سے یوں معلوم ہوگا کہ یہ خوبصورت موتی ہیں جو ادھر ادھر بکھیر دیئے گئے ہیں۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جدھر بھی تم دیکھو تو نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بہت بڑی سلطنت 23 دیکھو گے۔

23 یعنی ایک ادنیٰ درجہ کے جنتی کو بھی جو رہائش کے لیے جنت میں جگہ ملے گی وہ بھی یوں معلوم ہوگی جیسے کسی بڑے بادشاہ کی سلطنت ہے جس میں ہر طرف اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتیں موجود ہوں گی۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اس پر باریک ریشم اور گاڑھے ریشم کے لباس ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے 24 جائیں گے اور ان کا پروردگار انہیں نہایت صاف ستھرے مشروب 25 پلائے گا

24 سورة کہف کی آیت نمبر 31 میں مذکور ہے کہ اہل جنت کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور یہاں چاندی کے کنگنوں کا ذکر ہے۔ اور یہ بات اہل جنت کی مرضی پر منحصر ہوگی کہ جیسے کنگن وہ پہننا چاہیں انہیں پہنائے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں قسم کے پہنائے جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی سونے کے پہنائے جائیں اور کبھی چاندی کے۔ یا مردوں کو چاندی کے پہنائے جائیں اور عورتوں کو سونے کے۔ 25 یہ کافور اور زنجبیل کے امتزاج والے مشروبات کے علاوہ ایک تیسرے مشروب کا ذکر ہے۔ جسے شراباً طہوراً کا نام دیا گیا ہے۔ طہور سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو خود بھی صاف ستھری ہو اور دوسری چیزوں کو بھی صاف ستھرا کرنے والی ہو۔ یعنی وہ مشروب ایک تو بذات خود انتہائی صاف شفاف ہوگا۔ دوسرے اہل جنت کے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی رنجش اور کدورتیں دور کر دے گا۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

(اور فرمائے گا) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوشش کی قدر 26 کی گئی ہے۔

26 یعنی یہ نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ دنیا میں میری خاطر جو تم نے مصیبتیں برداشت کیں اور میرے احکام کی پابندیوں کا خیال رکھا۔ تمہاری ان محنتوں کی آج پوری قدر کی جاتی ہے اور ان کا تمہیں بیش بہا بدلہ دیا جاتا ہے۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم ہی نے یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے آپ 27 پر نازل کیا ہے

27 کفار مکہ کا آپ ﷺ پر ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ ﷺ ساتھ کے ساتھ قرآن تصنیف کرتے رہتے ہیں۔ پھر ہمیں سنا دیتے ہیں۔ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہوتا تو ایک ہی بار نازل ہوجاتا۔ اس اعتراض کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تاکید اور تاکید مزید کے طور پر جمع متکلم کی تین ضمیریں استعمال فرمائیں ایک انا میں دوسرے نحن میں اور تیسرے نَزَّلْنَا میں۔ اتنی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ قرآن رسول کا تصنیف کردہ نہیں بلکہ ہم ہی نے اسے نازل کیا ہے اور تدریجاً نازل کیا ہے جس میں کئی مصلحتیں ہیں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کیجیے اور ان میں سے کسی گنہگار 28 یا ناشکرے کی بات نہ مانئے۔

28 کچھ کافر تو وہ تھے جو قرآن پر اور آپ ﷺ کی رسالت پر مختلف قسم کے اعتراضات جڑ رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو آپ ﷺ کو لالچ دے کر مداہنت اور سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ ان میں عتبہ بن ربیعہ کا نام بالخصوص قابل ذکر ہے۔ جس نے آپ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ ﷺ مکہ کی ریاست چاہتے ہیں یا مال و دولت یا کسی حسین لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپ ﷺ کی ہر بات منظور ہوگی بشرطیکہ آپ ﷺ اس کام سے باز آجائیں۔ جس کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کو سمجھایا کہ ان میں سے کسی کی بات کو بھی تسلیم نہ کیجیے۔ نہ ان سے بحث میں الجھیے۔ صبر کیجیے اور صبر کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیے۔ اپنی منزل کھوٹی نہ کیجیے۔
Ayahs 76:25–26

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار 29 کا نام یاد کیجیے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ کیجیے اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کیجیے

29 نمازوں کے اوقات :۔ اس صبر اور برداشت کے لیے جو قوت درکار ہے۔ وہ آپ ﷺ کو اللہ کے ذکر اور اس پر توکل کرنے سے حاصل ہوگی۔ لہذا آپ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کیا کیجیے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پنج وقتہ نماز شب معراج میں فرض ہوئی تھی اور ہر نماز میں رکعات کی تعداد اور نماز کی دوسری جزئیات بتائی گئی تھیں۔ تاہم اس سے پہلے بھی نمازوں کے اوقات تقریباً وہی تھے مثلاً اس آیت میں (بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا 25 ؀ ڻ) 76 ۔ الإنسان :25) کے الفاظ آئے ہیں۔ بکرہ سے مراد پہلے پہر یا صبح کی نماز ہے اور اصیلا زوال آفتاب سے غروب آفتاب کے وقت کو کہتے ہیں یہ ظہر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ اور اس سے اگلی آیت میں رات سے مراد شام اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ اور لَیْلاً طَوِیْلاً سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ جو آپ پر فرض تھی۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ تو بس دنیا سے ہی محبت رکھتے ہیں اور ان کے آگے جو بھاری 30 دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔

30 یہ لوگ آخرت کے اس لیے منکر نہیں کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، بلکہ اس لیے منکر ہیں کہ یہ صرف نقد کے گاہک ہیں۔ دنیا کی دلفریبیوں، دلکشیوں اور اس کے مال و دولت سے انہیں گہری محبت ہے۔ اور اسے اپنے پاس سمیٹ سمیٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ آخرت پر ایمان لانے کی صورت میں مال اکٹھا کرنے کی بجائے انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر اخروی زندگی پر ان کا کچھ یقین بھی نہیں۔ لہذا یہ اپنا فائدہ اسی میں دیکھتے ہیں کہ آخرت کا انکار کردیں۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ہی انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور جب ہم چاہیں ایسے ہی اور لوگ 31 (ان کی جگہ) لے آئیں۔

31 ہم نے رحم مادر سے ایک خوردبینی کیڑے کی نشوونما کرکے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ ان کا بند بند اور پور پور درست کرکے انہیں ایک صاحب عقل و شعور انسان بنا کر پیدا کردیا تھا تو ہم میں یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں پرے ہٹا کر دوسری مخلوق تمہاری جگہ لے آئیں جو تمہاری طرح نافرمان اور سرکش نہ ہو۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں اس صفحہ ہستی سے مٹا کر دوبارہ تمہیں پیدا کرکے تمہارا پوری طرح محاسبہ کریں۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے 32 اب جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرے

32 یہ قرآن تمہیں تمہاری فطرت کی یاددہانی کرانے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اور تمہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو اس کی نصیحت کو قبول کرلو اور چاہے تو رد کردو۔ نہ قرآن تمہیں کسی بات پر مجبور بنانے کے لیے نازل کیا گیا ہے اور نہ حامل قرآن میں یہ قدرت ہے کہ تمہیں زبردستی راہ راست پر لے آئے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہتا 33 ہے۔ اللہ یقینا سب کچھ جاننے والا ہے حکمت والا ہے

33 یعنی تمہارا ارادہ اور تمہارا چاہنا وہی ہوتا ہے جس کا اللہ کو پہلے ہی سے علم ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ علم انسان کو اس بات پر مجبور نہیں بناتا کہ وہ وہی کام کرے جو پہلے سے اللہ کے علم میں ہے اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت نمبر 24 کا حاشیہ نمبر 21
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب 34 تیار کر رکھا ہے۔

34 یعنی جو انسان اس دنیا میں اپنے اختیار کا صحیح استعمال کرے گا اور کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح اپنے آپ کو اللہ کا تابع فرمان رکھے گا۔ اسے تو اللہ اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا اور جو اس اختیار کا غلط استعمال کرے گا اور اللہ کا سرکش اور نافرمان بن کر زندگی گزارے گا اسے مرنے کے ساتھ ہی دکھ دینے والے عذاب سے دوچار کر دے گا۔