Ayahs 77:1–41 ہواؤں کی اقسام اور صفات :۔ کرہ زمین کی سطح پر اللہ تعالیٰ نے ہوا کا ایک کرہ بنادیا۔ جو ہر خشکی کے جاندار کے لیے پانی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پانی کے بغیر تو انسان ایک آدھ دن زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہوا کے بغیر دو چار منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر جس طرح پانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ کوئی پانی میٹھا ہوتا ہے، کوئی کھاری، کوئی نمکین، کوئی گدلا، کوئی صاف و شفاف، کوئی ہلکا پانی، کوئی بھاری اور کوئی متعفن اور بدبودار اسی طرح ہواؤں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ باد نسیم اور باد صبا کا انسان کی طبیعت پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔ جبکہ باد صرصر اور باد سموم سخت نقصان دہ ہیں۔ کچھ ہوائیں مشرق سے مغرب کو چلتی ہیں اور کچھ مغرب سے مشرق کو پھر کچھ ہوائیں نرم رفتار سے دھیرے دھیرے چلتی ہیں۔ کبھی یک دم حبس ہوجاتا ہے، ہوا چلنے سے رک جاتی ہے تو انسان کا دم گھٹنے لگتا ہے کبھی یہ ہوائیں آندھی اور جھکڑ کی صورت اختیار کرکے درختوں اور مکانات کو تہس نہس کر ڈالتی ہیں، کچھ ہوائیں خوشبو اڑا کر لاتی اور معطر ہوتی ہیں۔ اور کچھ ہوائیں بدبودار اور بیمار کردینے والا ہوتی ہیں۔ غرض ہواؤں کا ایک الگ عالم ہے جن میں ان مختلف اقسام کی موجودگی کے باوجود ایک نظم و ضبط ہے۔ یہی ہوائیں گرمی، سردی اور موسم کی تبدیلی میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ ہوائیں بادلوں کو اکٹھا کرتی اور جوڑ دیتی ہیں اور کچھ دوسری جڑے ہوئے بادلوں کو یک دم پھاڑ دیتی ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار قسم کی ہواؤں کی قسم اٹھائی اور اپنی قدرت کاملہ کی طرف انسان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔
Ayah 77:52 بعض مفسرین نے ( فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ ) 77 ۔ المرسلات :5) سے بھی ہوائیں ہی مراد لی ہیں۔ کیونکہ آواز بھی ہوا کے ذریعہ ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچتی ہے اگر ہوا نہ ہوتی تو وحی کی آواز نہ لوگوں کے کانوں میں پڑ سکتی تھی اور نہ ہی اس سے وہ کچھ نصیحت حاصل کرسکتے تھے اور بعض مفسرین نے اس سے مراد فرشتے لیے ہیں جو وحی کو پیغمبروں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ یا دوسرے لوگوں کے دلوں میں القاء والہام کا سبب بنتے ہیں۔
Ayah 77:63 ( عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۙ ) 77 ۔ المرسلات :6) کا تعلق صرف سابقہ آیت سے ہے۔ یعنی پیغمبر کے دل میں وحی یا لوگوں کے دل میں القاء والہام کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اور ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ عذاب کے وقت یہ نہ کہہ سکیں کہ انہیں پہلے سے خبر نہ تھی اور دوسرا فائدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے اسے دیکھے بغیر ڈر جاتے ہیں اور اپنے برے انجام سے ڈر کر اللہ کے اطاعت گزار بن جاتے ہیں۔
Ayah 77:74 ان پانچ چیزوں کی قسم اٹھا کر اور انہیں بطور شہادت پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ جو پروردگار تمہاری انتہائی اہم ضرورت کی چیز سے ایسے کام لے سکتا ہے تو وہ تمہاری تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں وہ تمہیں صرف ایک ہوا کے ذریعہ راحت سے بھی دوچار کرسکتا ہے اور رنج سے بھی۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ جس جزا و سزا کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے اسے وجود میں لے آئے اور واقع کرکے دکھا دے۔
Ayahs 77:8–105 ان تین آیات میں قیامت کے واقع ہونے کے دن کی تین علامات بتائیں۔ ایک یہ کہ ستارے جو تمہیں آسمان پر جگ مگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا نور سلب کرلیا جائے گا۔ یہ دھندلا جائیں گے اور گدلے گدلے سے داغ نظر آئیں گے اور ایک دوسرے مقامات پر فرمایا کہ وہ جھڑ پڑیں گے ایسے جیسے کسی نے جھٹک کر پرے پھینک دیا ہو۔ دوسری علامت یہ ہے کہ یہ آسمان کی نیلگوں چھت جو تمہیں اپنے سروں پر نظر آرہی ہے۔ اور اس کی ہمواری اور یکسانی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، اس نیلی چھت میں دراڑیں اور شگاف پڑجائیں گے۔ ستاروں اور سیاروں کی باہمی کشش جس سے یہ کائناتی نظام قائم ہے ختم ہوجائے گی۔ یہ دو علامتیں تو آسمان پر ضرور ہوں گی اور تیسری علامت زمین پر یہ نظر آئے گی کہ پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ اور سخت مخلوق کی جڑیں زمین میں ڈھیلی پڑجائیں گی۔ ان کا ایک حصہ دوسرے پر گر گر کر پہاڑوں کے طویل سلسلے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر اسی پر ہی معاملہ ختم نہ ہوگا بلکہ پہاڑوں کے ان ریزہ ریزہ شدہ ذرات کو ہوا اڑاتی پھرے گی۔
Ayah 77:116 اس طرح موجودہ ارضی و سماوی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔ تمام مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کرکے زمین سے نکال لایا جائے گا۔ اور سب سے پہلے رسولوں سے اپنی اپنی امت کے متعلق شہادت طلب کی جائے گی کہ جب تم نے لوگوں کو میرا پیغام پہنچایا تھا تو انہوں نے کیسا ردعمل اختیار کیا تھا ؟
Ayah 77:127 کافر لوگ عذاب کے لیے اور قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہی رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبہ کی کچھ پروا نہ کرتے ہوئے اس دن کے وقوع میں اتنی تاخیر کردی جتنی اس کے اپنے اندازے کے مطابق پہلے سے طے شدہ تھی۔ اور جب وہ طے شدہ وقت یا دن آپہنچا تو پھر اس میں مزید تاخیر ناممکن تھی۔
Ayah 77:138 یہ تاخیر اس لیے کی جاتی رہی کہ جتنی مدت اللہ کے ہاں دارالامتحان کے لیے مقرر تھی وہ پوری ہوجائے۔ اور تمام لوگوں کے امتحان کا نتیجہ بولنے کا وقت آجائے۔ یوم الفصل کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمام لوگوں کو ان کے امتحان کا نتیجہ اور فیصلہ سنا دیا جائے کہ کون جنت کا مستحق قرار پاتا ہے اور کون دوزخ کا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس دن اللہ کے فرمانبرداروں اور اللہ کے نافرمانوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ کیونکہ وہ دونوں الگ الگ انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔
Ayahs 77:14–159 تباہی اس لیے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لیے یہ ایک ناگہانی آفت ہوگی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ قیامت فی الواقع آجائے گی اور جب آجائے گی تو انہیں اپنی ہلاکت کے سوا کوئی راہ دکھائی نہ دے گی۔
واضح رہے کہ اس سورت میں یہ آیت متعدد بار ذکر کی گئی ہے اور ہر مقام پر اس کی مناسبت کی وجہ الگ الگ ہے۔
Ayah 77:1610 یعنی ہمارا دستور یہ ہے کہ ہم اپنے نافرمانوں اور سرکشوں کو ایسا تباہ و برباد کردیتے ہیں کہ ان قوموں کی تہذیب و تمدن کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ ہم نے پہلی قوموں سے بھی یہی سلوک کیا تھا اور بعد میں ایسی کرتوتیں کرنے والوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں گے۔
Ayahs 77:17–1911 یعنی ہمارا یہ دستور اسی بات پر ختم نہیں ہوجاتا کہ آخرت کے منکروں کو تباہ و برباد کرکے صفحہ ئہستی سے مٹا دیں۔ بلکہ اس کی حیثیت تو محض ایک مجرم کی گرفتاری کی ہے۔ کہ باقی لوگ ان کے مظالم سے نجات پائیں اور محفوظ رہیں۔ اصل تباہی تو ان کی قیامت کے دن ہوگی۔ جس دن انہیں ان کے جرائم کی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
Ayahs 77:20–2112 یعنی تین پردوں کے اندر نطفہ کو اس قدر محفوظ کردیا اور اتنا سختی سے جما دیا کہ کسی شدید حادثہ سے دوچار ہوئے بغیر حمل کا اسقاط نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی خود حمل کو ساقط کرنا چاہے تو حاملہ یا ماں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 77:2213 یہ معین وقت اگرچہ عموماً نو ماہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کمی و بیشی بھی ممکن ہے۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ میں کس قدر قوت یا کمزوری ہے۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہے تو اسی نسبت سے اس مدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بچہ کی نشوونما جب رحم مادر میں مکمل ہوجاتی ہے تو وضع حمل کا وقت آجاتا ہے۔
Ayah 77:2314 اندازہ یہ ہے کہ جب تک بچہ کی پوری قوتیں اور اس کے اعضاء مکمل نہیں ہوجاتے۔ بچہ رحم مادر میں ہی رہتا ہے اور جب ہر قسم کی نشوونما مکمل ہوجاتی ہے تو اس کے بعد ایک دن بھی بچہ رحم مادر میں نہیں رہ سکتا۔ ماں کو دردیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اور اس وقت تک یہ دردیں ختم نہیں ہوتیں جب تک بچہ وضع ہو کر اس کے رحم سے باہر نہ نکل آئے۔
Ayah 77:2415 یعنی انسان کا نطفہ بےجان غذاؤں سے بنا تھا۔ اللہ نے اس کی نشوونما کی اس میں جان ڈالی اور اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنا کھڑا کیا۔ اس کے باوجود جو لوگ موت کے بعد دوبارہ زندگی کے منکر ہیں ان کی عقلوں پر افسوس ہے اور ان کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟
Ayahs 77:25–2616 کفاتا کا لغوی مفہوم :۔ کِفَاتًا : کَفَتَ بمعنی کسی چیز کو جمع کرکے اسے اپنے قبضہ میں لے لینا، سنبھال لینا، سمیٹ لینا اور کَفِیْت بمعنی توشہ دان جس میں خوراک اور سامان خوراک سنبھال کر رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اور موت اور پھر دوبارہ زندگی زمین ہی سے وابستہ ہے۔ انسان زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ بےجان چیز ہے۔ پھر انسان نے زمین سے پیدا ہونے والی بےجان اشیاء کھائیں جو اس کی زندگی کی بقاء کا ذریعہ بنیں۔ پھر انہی بےجان غذاؤں سے اس کا نطفہ بنا جس میں زندگی کے آثار تھے۔ پھر اسی نطفہ سے انسان کو بنایا گیا پھر مرنے کے بعد انسان مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اور مرنے والے خواہ لاکھوں کی تعداد میں ہوں زمین ان کو اپنے اندر محفوظ کرلیتی ہے۔ گویا یہی زمین زندہ انسانوں کو بھی سنبھالے ہوئے ہے اور مردوں کو بھی اپنے اندر سے خارج نہیں کردیتی بلکہ سنبھالے رکھتی ہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا تو انہیں مردہ انسانوں کو نکال باہر کرے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس کے اندر سے نباتات اگ کر باہر نکل آتی ہے۔
Ayah 77:2717 زمین سے انسان کا دائمی تعلق :۔ پھر اسی زمین میں بلند وبالا پہاڑ پیدا کردیئے جو سمندروں سے اٹھنے والے آبی بخارات کو ٹھنڈا کردینے اور بارش کے قطرے بن جانے میں مدد دیتے ہیں۔ اور ان آبی بخارات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں پہاڑوں پر برف بھی جمتی ہے اور بارشیں بھی خوب ہوتی ہیں۔ یہی پانی کچھ تو ندی، نالوں، نہروں اور دریاؤں کی صورت میں بہتا ہے اور انسانوں اور کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے اور اسی بارش کے پانی کا کثیر حصہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے۔ تو سطح زمین کے نیچے خاصی گہرائی میں پانی کی نہریں اور دریا رواں ہوجاتے ہیں۔ پانی کے یہ محفوظ ذخیرے اس وقت کام آتے ہیں جب بارش برسنے میں دیر ہوجائے۔ تاکہ انسان مصنوعی آبپاشی کے ذریعہ اپنے کھیتوں کو اور اپنے آپ کو سیراب کرسکے۔ علاوہ ازیں پہاڑوں سے معدنیات نکل رہی ہیں۔ زمین سے کئی طرح کے سیال اور گیس کے خزانے برآمد ہو رہے ہیں۔ جوں جوں انسان کی آبادی بڑھتی جارہی ہے زمین بھی اپنے نت نئے خزانے اگل رہی ہے۔ گویا یہی زمین زندوں کی زندگی کی بقاء کے لیے بھی بہت کافی ہے اور دنیا جہاں کے مردوں کو سنبھالنے کے لیے بھی۔
Ayah 77:2818 اسی طرح یہی زمین یا اس کے متبادل کوئی اللہ کی نئی پیدا کردہ زمین اپنے اندر مدفون تمام امانتوں اور بالخصوص انسانی مدوں کو اگل دے گی۔ پھر ان کو سنبھال کر بھی رکھے گی۔ آج جن لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی اس دن ان کے لیے حسرت، ندامت اور تباہی ہی تباہی ہوگی۔
Ayahs 77:29–3019 اس دن دوزخ سے گرم بخارات اٹھیں گے جو دوزخیوں کے اوپر سایہ کردیں گے یہ نام کو سایہ ہوگا مگر شدید گرم جو ان کو سایہ، ٹھنڈک یا سکون پہنچانے کے بجائے اپنی حرارت کی وجہ سے ان میں مزید گھبراہٹ اور اضطراب پیدا کردے گا۔ یہ سایہ اوپر اٹھ کر تین بڑی شاخوں میں منقسم ہوجائے گا اور ان کے آگے سے، پیچھے سے اور اوپر سے غرض ہر طرف سے انہیں گھیرے میں لے لے گا اس دن اللہ کے فرمانبردار بندے عرش کے سایہ تلے ہوں گے اور نافرمانوں کو اگر سایہ مہیا کیا بھی جائے گا تو وہ ان کے عذاب میں اضافہ ہی کرے گا۔
Ayahs 77:31–3320 جہنم سے اٹھنے والے چنگارے اور شرارے اتنے بڑے ہوں گے۔ جیسے بلند وبالا عمارتیں ہوں پھر جب وہ ٹوٹ کر اور بکھر کر نیچے جہنم کی طرف گریں گے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔
Ayah 77:3421 یہ ہولناک منظر دیکھ کر جھٹلانے والوں کو پوری طرح یقین ہوجائے گا کہ ہم ہی اس دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں۔ اور انہوں نے قیامت کے دن کا انکار کرکے جو حماقت کی تھی اس کا نتیجہ ہماری تباہی ہی تباہی ہے۔
Ayahs 77:35–3622 یہ وہ وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ ہوچکے گا۔ اور ظالم لوگوں کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف شہادت دے کر انہیں جھوٹا قرار دے چکے ہوں گے۔ انصاف کے تمام تر تقاضوں کے مکمل ہونے کے بعد مجرموں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی بریت کے لیے مزید کچھ کہہ سکیں نہ ہی اس وقت عذر پیش کرنے کا کوئی موقع باقی رہ جائے گا۔
Ayahs 77:37–3923 یعنی دنیا میں تم لوگ میری راہ روکنے کے لیے ہزاروں قسم کی چالیں چلتے تھے۔ لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے۔ میرے پیروکاروں کو ایذائیں اور دکھ پہنچاتے تھے اور انہیں اس طرح گھور کر دیکھتے تھے جیسے انہیں کچا ہی چبا جاؤ گے۔ ان کی تحقیر کرتے، تمسخر اڑاتے اور ان کے زندہ رہنے کا حق بھی ان سے سلب کرتے تھے۔ آج بھی کوئی تدبیر میرے خلاف کر دیکھو۔ اس وقت تم سب کے سب اگلے اور پچھلے اس میدان میں جمع ہو۔ سب مل کر اپنی قوت کا مظاہرہ کر دیکھو یا کوئی سوچ سمجھ کر سازش ہی تیار کرلو اور دیکھو کہ تمہاری کوئی تدبیر آج کے دن کی تباہی سے تمہیں بچا سکتی ہے۔