75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں11

ف 11 مفسرینتقریباً اس پر متفق ہیں کہ یہاں لا زائدہ ہے اور کلام بلیغ میں ” لا “ ‘ کا زائدہ آنا شائع و ذائع ہے۔ دیکھیے سورة اعراف 12 و سورة الحدید : 29) شوکانی
Ayah 75:2

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور آدمی کے دل کیق سم کھاتا ہوں جو برے کام پر ملامت کیا کرتا ہے12

ف 12 چونکہ قیامت کے دن ہی اس ملامت کا ظہور ہوگا حتی کہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نیک لوگ بھی اپنے آپ کو ملامت کرینگے کہ کیوں نہ زیادہ نیکی حاصل کرلی اس لئے مجازاۃ کے وقوع پر ” نفس لوامۃ “ کی قسم کھا کر اس کو بطور شاہد پیش کیا ہے۔ (راز) اور یوم قیامت چونکہ مجازۃ کا ظرف ہوگا لہٰذا اس کا تعلق بھی ظاہر ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” آدمی کا جی اول کھیل اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو کہتے ہیں ” امارۃ بالسوء “ (سورۃ یوسف 53) پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھا تو باز آیا۔ کبھی اپنی خو پر دوڑ پڑا۔ پیچھے پھر آپ کو الاہنا دیا (ملامت کی) ویسا جی ہے لوامہ پھر جب پورا سنور گیا دل سے رغبت نیکی ہی پر رہی بیہودہ کام سے آپ ہی بھاگے اور ایذا کھینچے۔ ویسے کا نام ہے مطمئنہ (الفجر 27،
Ayahs 75:3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا آدمی جو کافر ہے یہ سمجھتا ہے کہ ہم مرے بعد اس کی ہڈیاں جو گل سڑ گئی ہوں گی اکٹھا نہیں کرسکتے

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ہم تو اس کے بور پور ٹھکانے پر بٹھا سکتے ہیں13

ف 13 اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں حشر و نشر اور جزا و سزا صرف روح کے ساتھ نہیں بلکہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوگی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہاں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ آدمی چاہتا ہے آئندہ بھی برے کام کرتا رہے اور توبہ نہ کرے14

ف 14 یعنی یہ کہتا ہے کہ ابھی کیا ہے گناہ کرتے رہو آگے چل کر توبہ کرل ینا۔ یہاں تک موت آجاتی ہے اور توبہ کی نوبت ہی نہیں آتی۔
Ayahs 75:6–13

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

ڈھیٹ ہو کر پوچھتا ہے بھلا قیامت کب آئے گی

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب میبت سے آنکھ پتھرا جائے گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند دونوں مل جائیں گے

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اور آدمی اس دن کہے گا اب کہاں بھاگیں

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بھاگ ہی نہیں سکتے کہیں پناہ نہ ملے گی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

تیرے مالک ہی کے پاس اس دن ٹھکانا ملے گا

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن آدمی کو جتلا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا1

ف 1 یعنی جو اچھے برے اعمال کر کے اس نے بطور توشہ آخرت آگے بھیجے
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ آدمی اپنے اوپر آپ دلیل ہوگا2

ف 2 یعنی اس کے اپنے ہاتھ پائوں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ آدمی اپنی برائیوں اور خوبیوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

کو وہ اپنی بےقصوری کے لئے بہانے پیش کرے3

ف 3 شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ بہانے میں (موضح)
Ayahs 75:16–18

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے پیغمبر قرآن اترتے وقت اپنی زبان نہ بلایا کر اس کو جلدی سے یاد کرلینے کا

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

تیرے دل میں اس کا جمادینا ہمارا کام ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پھر جب ہم فرشتے کے ذریعے سے تجھ کو پڑھ کر سنا چکیں اس کے پڑھ چکنے کے بعد تو پڑھا کر4

ف 4 صحیحین وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر وحی اترتے وقت سختی ہوتی تو آپ جلدی جلدی اپنی زبان اور ہونٹ ہلاتے رہتے اس ڈر سے کہ کہیں وحی کا کوئی حصہ آپ بھول نہ جائیں آپ یہ چاہتے کہ اسے اس طرح محفوظ کرلیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نییہ آیات نازل فرمائیں چناچہ اس کے بعد جب وحی آتی تو آپ خاموش رہ کر سنتے رہتے، جب حضرت جبریل چلے جاتے تو آپ جو انہوں نے پڑھایا ہوتا اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق پڑھ دیتے۔ نیز دیکھیے سورة طہ 114 (شو کانی)
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس میں جو مشکل پڑے اس کا کھول دینا بھی ہمارا کام ہے5

ف 5 یعنی اس کے حلال و حرام اور دوسرے احکام وتعلیمات کی تفسیر و تضویح کا بھی ہم ذمہ لیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے سنت یا حدیث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قرآن ہی کی تفسیر و توضیح ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کو آنحضرت کے سینہ میں محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے اسطرح اس کی توضیح و تشریح بتانے کا بھی ذمہ لیا ہے جسے آپ لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں گے اور وہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔ چناچہ شاہ صاحب لکھتے ہیں اور معنی تحقیق کرنے کی بھی حاجت نہیں یہ بھی ہمارا ذمہ ہے اور وقت پر بیان کا سمجھانا (موضع)
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

نہیں نہیں لوگو تم آدمیوں کا قاعدہ ہے جلد بازی پسند کتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور انجام کا خیال نہیں رکھتے6

ف 6 یعنی دنیا میں منہمک اور آخرت سے بےپروا ہو اسی لئے آخرت سے انکار کرتے ہو۔ تمہارے انکار آخرت کی بنیاد ہرگز کوئی عقلی یا علمی دلیل نہیں ہے۔
Ayahs 75:22–23

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن یعنی قیامت کے دن بعضے منہ تو تروتازہ خوش خورم ہونگے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے مالک کو دیکھتے ہوئے7

ف 7 آیت کے اس معنی کی تائید متواتر صحیح احادیث سے ہوتی ہے جن میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن مومن اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں جبکہ مطلع صاف ہو۔ آخرت میں اس رئویت باری تعالیٰ پر تمام صحابہ وتابعین اور علمائے سلف کا اجماع ہے اور ائمہ سنت میں سے کسی امام نے بھی اس سے انکار نہیں کیا۔ (ابن کثیر) صرف بعض اہل بدعت (معتزلہ وغیرہ) اس رئویت کا انکار کرتے ہوئے احادیث کی صراحت کے خلاف اس آیت کیتاویل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے۔ گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں (موضح)
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بعضے منہ اس دن سوکھے ہونگے اور اداس اور رنجیدہ

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

وہ سمجھتے ہوں گے اب ان پر سختی کی جائے گی8

ف 8 ” فاقرہ “ لفظی معنی ہیں ” کمرتوڑ دینے والی “ یہاں یہ لفظ “ سختی “ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

نہیں نہیں کا فرماننے والے نہیں جب جان بنسلیوں میں آجائے گی۔9

ف 9 یعنی موت کی گھڑی آپہنچے گی۔
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور بیمار کے پاس والے بول اٹھیں گے ارے کوئی جھاڑو پھونک کرنے والا ہے۔10

ف 10 مطلب یہ ہے کہ جب جان بچانے کے لئے تمام علاج اور ٹونے ٹوٹکے بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayahs 75:28–29

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

جو اس کی جان بچانے اور بیمار سمجھے گا اب یار دوستوں سے جدا ہوا

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی مل جائیگی جیسے مرتے وقت ہوتا ہے۔11

ف 11 یا جیسے کفن میں دونوں پنڈلیاں ملا کر لپیٹی جاتی ہیں۔
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن اسے کہا جائے گا تجھ کو اپنے مالک کے پاس چلنا ہے12

ف 12 یعنی دنیا کی زندگی ختم ہوئی اب جواب دہی کا وقت آیا۔
Ayahs 75:31–35

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو وہ نہ تو دنیا میں ایمان لایا اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

البتہ یہ کہا کہ پیغمبر اور قرآن کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں پاس چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

ارے تیری خرابی خرابی پر خراف

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیری خرابی خرابی پر خرابی13

ف 13 حضرت بن عباس کہتے ہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل سے فرمائے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن میں نازل فرمایا۔ (شوکانی)
Ayahs 75:36–38

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سستا چھوٹ جائے گا اس سے کچھ باز پرس نہ ہوی

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

(اس کو اتنا نہیں معلوم) کیا وہ (پہلے) منی کا ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر خون کی پھٹکی ہوا پھر خدا نے اس کو بنایا اور ٹھیک کیا14

ف 14 یعنی اس کے اعضا بنائے اور اس میں روح پھونکی۔
Ayahs 75:39–40

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھ راس کی دو قمسیں کہیں نر اور مادہ کیا

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

جس خدا نے یہ سب کیا وہ قیامت میں مردوں کو نہیں جلا سکتا15

ف 15 قاری کے لئے اس کے بعد سبحانک اللھم و بلی کہنا مستحب ہے۔ حدیث میں من قرہ کے الفاظ ہیں یعنی جو اس سورة کو پڑھے بعض نے سامع سننے والے کو بھی قاری پڑھنے والے کے حکم میں داخل کیا ہے چناچہ امام نووی لکھتے ہیں کہ سب سے علماء نے سننے والے کے لئے بھی اس کو مستحب قرار دیا ہے خواہ نماز میں مقتدی ہو یا مقتدی نہ ہو۔ (تحفہ)