76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

آدمی پر ایسا وقت بھی زمانے میں گذر چکا ہے جب وہ کوئی چیز نہ تھا کو ذکر کریں2

ف 2 یعنی پیدائش سے پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا کہ کوئی اس کا ذکرتک کرتا۔ اس آیت میں ” ھل “ بمعنی قدر ہے اور اس لحاظ سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ سیبویہ، کسائی اور دوسرے ائمہ لغت کا اس پر اتفاق ہے۔ (شوکانی)
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے آدمی کو عورت مرد کے پہلے ہوئے نطفے سے پیدا کیا اس کو آزمانے کے لئے3 اور اس کو سننا دیکھتا بنایا

ف 3 شرعی احکام دے کر آیا ان سے انکار کرکے کفروشرک کی راہ اختیار کرتا ہے یا ایمان لا کر نیک عمل کرتا ہے۔
Ayahs 76:3–4

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم ہی نے اس کو رستہ دکھلایا یا تو وہ شکر گذارے مومن یا ناشکرا (ف 4) کافر

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم ہی نے کافروں کیلئے (آخرت میں) زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ یہ سب چیزیں تیار کر رکھی ہیں

ف 4 یعنی عقل اور سمجھ بھی دی اور اس کی طرف پیغمبر ﷺ بھی بھیجے جنہوں نے اس پر شکر گزاری اور ناشکری کے راستے واضح کردیئے اور دونوں پر چلنے کے انجام سے خبردار کردیا۔
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو لوگ نیک ہیں وہ (آخرت میں) ایسے شراب کا جام پئیں گے جس میں کافور ملا ہوگا5

ف 5 یہ کافور جنت کا ہوگا اسے دنیا کے کافور سے کوئی نسبت نہیں۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

کا فور ایک چشمہ ہے (بہشت میں) جس میں سے اللہ تعالیٰ کے (نیک) بندے پنیں گے اس کو خوب بہائیں گے6

ف 6 یعنی وہ ان کے اختیار میں ہوگا، وہ جدھر اور جیسے چاہیں گے اس کی نالیاں بہنے لگیں گی۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

ان کو یہ نعمت اس وجہ سے ملے گی کہ وہ دنیا میں اپنی نذر7 پوری کرتے تھے اور اس دن سے ڈرتے تھے جس کی مصیبت پھل جائے گی8

ف 7 نذر سے مراد وہ نیکی ہے جسے بندہ اپنے اوپر ازخود لازم کرلے۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ کے یہ نیک بندے دنیا میں اپنے اوپر خود لازم کی ہوئی نیکیوں کو پورا کرتے تھے تو اللہ و رسول ﷺ کی لازم کی ہوئی نیکیوں کو بدرجہ اولیٰ پوری کرتے ہوں گے۔8 یعنی قیامت کے دن سے جس کی سختی بلائے عام ہوگی اور جس میں ہر شخص پریشان ہوگا۔ الا من شآء اللہ :
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے یا کھانے کی احتیاج رکھ کر مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانے تھے9

ف 9 یعنی ان کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے۔ چناچہ اگر کھانا کم ہوتا تو خود بھوکے رہ کر انہیں کھانا پیش کردیتے تھے۔ قیدی سے مراد ہر قیدی ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بت کے روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا برتائو کریں۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام ؓ قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے ظاہر ہے کہ مسلمان قیدی کا حق تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بعض مفسرین نے ” قیدی “ کے لفظ میں غلام اور عورت کو بھی شامل سمجھا ہے کیونکہ وہ بھی ایک طرح سے قیدی ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی وفات سے پیشتر جو آخری وصیت فرمائی وہ یہ تھی الصلٰوۃ وماملکت ایمانکم “ نامز اور اپنے لونڈی غلاموں کا خیال رکھنا “۔ (ابن کثیر)
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

اور کہتے تھے10 ہم تم کو اللہ کی رضا مندی کے لئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے نہ شکر گذاری11

ف 10 یعنی زبان حال سے کہتے تھے۔ ابن جبیر (رح) کہتے ہیں :” اللہ کی قسم وہ اپنی زبان سے کچھ نہ کہتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی جذبہ کو دیکھ کر ان کی تعریف فرمائی تاکہ دوسروں میں بھی رغبت پیدا ہوا۔ (ابن کثیر)11 یعنی یہ نہیں چاہیے کہ تم ہمارے بھی کسی کام آئو یا لوگوں کے لئے ہماری سخاوت کا ذکر کرو۔
Ayahs 76:10–11

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم کو اپنے مالک ہے اس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جو بہت اداس اور سخت ہوگا12

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو خدا نے بھی اس دن کی مصیبت سے ان کو بچا لیا اداسی کے بدل) ان کو تازگی اور خوشی عنایت فرمائی

ف 12 یعنی جس کی شدت اور ہولناکی سے چہرے اداس ہوں گے اور ان کی تیوری چڑھی ہوگی، مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور جیسا انہوں نے دنیا میں صبر کیا تھا اس13 کے بدلے میں ان کو بہشت اور ریشمی پوشاک دی۔14

ف 13 یعنی اللہ و رسول ﷺ کے عائد کردہ احکام بجالائے تھے اور ان کی منع کردہ چیزوں سے بازر ہے تھے۔14 جس کا پہننا ان پر دنیا میں حرام کیا گیا تھا اور انہوں نے کبھی اسے نہ پہنا تھا۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہاں تختوں پر تکیے لگانے مزے سے بیٹھے ہوں گے نہ تو دھوپ کی گرمی وہاں دیکھیں گے اور نہ جاڑے کی سختی15

ف 15 یعنی نہایت معتدل اور خوشگوار موسم ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ نے اپنے پروردگار کے حضور شکایت کی کہ میرے بعض حصے بعض حصوں کو کھاگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دوسانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس موسم گرما میں اور دوسرا سانس موسم سرما میں تو جاڑے کی سخت سردی اور گرما کی سخت گرمی اسی کے اثر سے ہے “۔ (فتح القدیر) گویا اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے اثر سے محفوظ رکھے گا۔
Ayahs 76:14–15

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور وہاں کے درختوں کے سارے ان پر جھکے ہوں گے اور وہاں کے پھل میوے یا گچھے بالکل قریب ہونگے1

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کو زوں کا دور چل رہا ہوگا وہ شیشے کے ہوں گے

ف 1 تاکہ جب چاہیں، انہیں توڑ لیں اور توڑنے میں ذرا بھی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

چاندی کے شیشے یعنی شفاف جن کو پلانے والوں نے بہشت کے خادموں نے ٹھیک انداز کے موافق بنا لیا ہوگا2

ف 2 یعنی ان میں پینے کی چیز ٹھیک اتنی آئے گی جتنی جنتیوں کو پینے کی خواہش ہوگی، نہ کم اور نہ زیادہ، شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی ان کی پیاس برابر “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :” تم دنیا میں چاندی کو کوٹ کر چاہے مکھی کے پر کے برابر باریک کرلو، مگر وہ ایسی شفاف نہیں ہوسکتی کہ اس کے پیچھے سے پانی نظر آئے، لیکن جنت کی چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگی “۔ (فتح القدیر بحوالہ بیہقی وغیرہ )
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو وہاں ایک شراب کا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملی ہوگی3

ف 3 عرب کے لوگ شراب میں سونٹھ ملانا پسند کرتے تھے تاکہ وہ خوشبودار ہوجائے۔ واضح رہے کہ جنت کی سونٹھ دنیا کی سونٹھ سے مشابہ نہ ہوگی۔ اس میں مہک اور مزا تو پایا جائے گا، لیکن وہ تیزی نہ ہوگی جو زبان یا حلق کو تکلیف دے۔ یہی حال جنت کی تمام چیزوں کا ہے۔ ان کا دنیا کی چیزوں سے صرف ناکام کا اشتراک ہے حقیقت بالکل مختلف ہے۔ نام کا اشتراک لوگوں کو ان کا تصور دلانے کے لئے ہے ورنہ حقیقت میں وہ ایسی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا۔
Ayahs 76:18–19

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

سونٹھ ایک چشمہ ہے بہشت میں جس کا نام سلسبیل ہے4

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان پر خدمت کے لئے لڑکے گھوم رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے نابالغ ہی رہیں گے ایسے خوبصورت جب تو ان کو جا بجا چلتے پھرتے دیکھے تو سبھے موتی ہیں بکھرے ہوئے

ف 4 ” سلسبیل “ کے لفظی معنی نہایت خوشگوار اور لذیذ شراب کے ہیں اور وہ ” سلاسہ “ (خوشگواری) سے ماخوذ ہے۔ (فتح القدیر)
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تو بہشت کو دیکھے تو وہاں ہر طرح کی نعمت اور بڑی بادشاہت (کا سامان) دیکھے گا۔5

ف 5 یعنی جنت کا ہر شخص عظیم الشان نعمتوں اور بھاری شاہی سامان سے مالا مال نظر آئے گا۔
Ayahs 76:21–22

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

بہشت والوں کے اوپر کی پوشاک سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑوں کی ہوگی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے6 اور ان کا مالک ان کو پاکیزہ شراب پلوائے گا7

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے اور تم جو دنیا میں محنت اٹھاتے رہے آج اس کا پھل ملا

ف 6 قدیم عرب میں سونے اور چاندی کے کنگن پہننا شاہی لباس کا جز تھا اس لئے فرمایا گیا کہ جنتی لوگوں کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دوسری آیات میں سونے کے کنگنوں کا بھی ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی آن بان ہر لحاظ سے شاہانہ ہوگی۔7 یعنی ایسی شراب جس میں کسی قسم کی نجاست اور بدبو نہ ہوگی جس کے پینے سے ہرگز سرگردانی نہ ہوگی بلکہ دل و دماغ کی تمام کدورتیں صاف ہوجائیں گی۔ اس لئے شاہ صاحب (رح) نے ” طھوراً “ کا ترجمہ کیا ہے ” جو دل کو دھو گئی
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تجھ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا8

“۔8 مطلب یہ ہے کہ اسے آپ ﷺ نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے جیسا کہ یہ مشرکین خیال کرتے ہیں۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے مالک کے حکم کے انتظار میں صبر کئے بیٹھا9 اور کافروں میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کا کہنا مت مان10

ف 9 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عنقریب آپ ﷺ کو ان کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ جب تک یہ حکم نہ آئے آپ ﷺ ان کی ایذارسانی کو صبرو ہمت سے برداشت کرتے رہے۔10 یعنی یہ اگر دھمکی یا لالچ دے کر آپ ﷺ کو دعوت حق کے کام سے بازرکھنا چاہیں تو آپ ﷺ ان کی بات پر ہرگز کان نہ دھریں بلکہ دعوت کا کام پوری توجہ اور تندہی سے جاری رکھیں۔ کہتے ہیں کہ بدکار سے مراد عتبہ بن ربیعہ ہے اور ناشکرے سے مراد ولید بن مغیرہ، کیونکہ ان دونوں بدبختوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو خالص توحید کی طرف بلانے سے باز آجائیے، ہم آپ ﷺ کو جتنی دولت آپ ﷺ چاہیں گے دیں گے اور جس عورت سے آپ ﷺ چاہیں گے آپ ﷺ کا نکاح کردیں گے۔ (فتح القدیر)
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح اور شام اپنے مالک کا نام جیتا رہ (ارشاد)11

ف 11 یعنی ہر آن اس کا ذکر کرتے رہے، یا یہ مطلب ہے کہ صبح اور شام (یعنی فجر اور عصر) کی نماز پڑھئے۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بھی اس کو سجدہ کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھ اور بڑ رات تک ہی کی پاکی بولتا رہ12

ف 12 یعنی تہجد کی نماز پڑھئے۔ یہ حکم استحباب کے لئے ہے، اگر یہ کہا جائے کہ تہجد کی نماز نبی ﷺ پر بھی فرض نہ تھی بلکہ عام مسلمانوں کی طرح صرف نفل تھی۔ یا یہ حکم صرف نبی ﷺ کے لئے ہے، اگر یہ کہا جائے کہ تہجد کی نماز آپ ﷺ پر فرض تھی۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ کافر تو دنیا کو پسند کرتے ہیں اور قیامت کے سخت دن کو انہوں نے اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔13

ف 13 یعنی اس کی کوئی پروا نہیں کرتے اور نہ اس کی تیاری کرتے ہیں۔
Ayahs 76:28–29

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو بنایا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم جب چاہیں ان کو میٹ کر ان کے بدل انہی کی طرح دوسرے آدمیوں کو لا کر بساویں۔14

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ باتیں نصیحت ہیں پھر جس کا جی چاہے اپنے مالک تک پہنچنے کا راستہ توحید اور اسلامق بول کرے

ف 14 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستیوں کو (ختم کرکے) دوبارہ ایسی ہی ہستیاں بناکر کھڑی کردیں “۔
Ayahs 76:30–31

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کوئی بات چاہ بھی نہیں سکتے جب اللہ نہ چاہے1 بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا حکومت والا ہے2

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں لے جاتا ہے یعنی بہشت میں) اور ظالموں (مشرکوں) کے لئے اس نے تکلیف کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ف 1 کیونکہ بندہ کا چاہنا اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تابع ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کی قابلیت و استعداد کس قسم کی ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ اسے نیکی کی توفیق دیتا ہے یا برائی کے راستہ پر چلتے رہنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔2 یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کے حق میں جو فیصلہ فرماتا ہے وہ اطل ٹپ نہیں ہوتا اور نہ اس میں کسی طرح کی بےانصافی پائی جاتی ہے بلکہ وہ سراسرعلم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔