74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے وحی کی ہیبت سے کپڑا لپیٹنے والے6

ف 6 یہ خطاب آنحضرت سے ہے۔ روایات میں ہے کہ وحی کے آغاز میں جپ آپ نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تو گھبرا گئے اور آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا دشرونی وترونی کہ مجھے کپڑا اوڑھائو مجھے کپڑا اوڑھائو شوکانی
Ayahs 74:2–4

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھ اور مکہ والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے مالک کی بڑائی بیان کر

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ7

ف 7 مراد حسی اور اخلاقی یا ظاہری اور باطنی ہر قسم کی طہارت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے لئے کپڑوں کا پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث میں ہے الطھارۃ شطر الایمان کہ طہارت آدھا ایمان ہے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور بتوں کی طرف سے الگ رہ8

ف 8 جیسا کہ دوسری جگہ دوسری جگہ فرمایا فاخبنیوا الرجس من الاوثان “ اور بتوں کی گندی سے بچو “ (حج 30) رجز کے دوسرے معنی گناہ کے بھی ہیں یعنی ہر اس کام سے الگ رہو جو گناہ کا باعث ہو۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور اس نیت سے احسان نہ کر اس سے اچھا بدلہ ملے9

ف 9 یعنی کسی کو اس نیت سیت حفہ نہیں دینا چائے کہ کل اس سے بڑاتحفہ وصول کیا جائے۔ … دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ نبوت کا جو بار آپ پر ڈالا گیا ہے۔ اس یبڑا سمجھتے ہوئے اپنے رب پر احسان جتانے سے پرہیز کیجیے۔ ان جریر نے اسمفہوم کو پسند کیا ہے اور حاظ ابن کثیر نے اسے واضح تربتایا ہے۔
Ayahs 74:7–11

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے مالک کی خوشی کے لئے جو مصیبتیں تجھ کو پیش آئیں میں ان پر صبر کر

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو یہیتو مشکل دن ہے سب پر مشکل ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر سخت مشکل

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر) مجھ کو اور اس کو چھوڑ دے اس کی سزا میرے ذمہ جس کو میں نے دنیا میں اکیلا پیدا کیا۔10

ف 10 یعنی ننگ دھڑنگ خالی ہاتھ جو دنیا میں آیا تو نہ اس کے پاس مال تھا اور نہ اولاد۔ مفرسین کہتے ہیں کہ یہ سخت وعید ہے جو قریش کے سردار ولید بن مغیرہ کو سنائی گئی ہے۔
Ayahs 74:12–15

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

پھ راس کو بڑھتا ہوا مال دریا

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور جون جوان بیٹے جواہر جگہ اس کے ساتھ رہتے ہیں بارہ یا تیرہ بیٹے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور ہر طرح میں نے اس کو فراغت دی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

اس پر بھی کمبخت یہ آرزو کرتا ہے کہ میں اس کو آخرت میں اور زیادہ دوں11

ف 11 امام حسن بصری کہتے ہیں کہ ولید کہا کرتا تھا اگر محمد (ﷺ) سچا ہے تو جنت مریے لئے بنائی گئی ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 74:16–17

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

یہ کبھی نہیں ہوسکتا اس کو بہشت نہیں مل سکتی وہ تو ہماری آیتوں کا منکر ہے قرآن کو جادو کہتا ہے

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں اس کو عقرب و دوزخ میں صور پر چڑھایا گا۔12

ف 12 ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” صعود “ دوزخ میں آگ کا پہاڑ ہے۔ کافر ستر برس تک اس میں چڑھایا جاتا رہے گا پھر نیچے گرے گا پھر چڑھایا جائیگا اور اسی طرح اسے چڑھنے اترنے کا یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ “ ان روایات کی چونکہ سند کمزور ہے اس لئے امام ابن جریر وغیرہ نے آیت کا یہ مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” میں اسے ایسا مشقت طلب عذاب دوں گا جس میں کوئی آرام نہ ہوگا۔ ابن کثیر
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

کیونکہ جب قرآن کو پوچھا گیا تو سوچنے لگا13 اور انکل دوڑائی

ف 13 یعنی وہ اس بارے میں سوچ بچار کرتا اور ذہنی گھوڑے دوڑاتا رہا کہ جب لوگ اس سے محمد ﷺ پر اتاری جانے والی کتاب ” قرآن “ کے بارے میں سوال کریں گے تو وہ انہیں یہ اور یہ کہہ کر گمراہ کرے گا۔
Ayahs 74:19–22

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

اس پر خدا کی مار کیا

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھ رسا پر خدا کی مار انل کدوڑائی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھ رسوچا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور تھمتا گیا1

ف 1 یعنی جیسے جادوگر ایک دوسرے کو جادہ سکھاتے چلے آئے ہیں اسی طرح محمد ﷺ نے بھی یہ قرآن کسی جادوگر سے سیکھ لیا ہے۔
Ayahs 74:23–25

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر بیٹھ پھیر کر چلتا ہوا اور شیخی میں آگیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

کہنے لگا ہو بہو) یہ قرآن ایک قسم کا جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

ہے ہو نہ ہو یہ آدمی کا بنایا ہوا کلام ہے2

ف 2 یعنی ہرگز خدائی کلام نہیں ہوسکتا جیسا کہ محمد (ﷺ) کا دعویٰ ہے … حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ ولید آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو آپ نے اسے قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایاتو اس کا دل قدرے نرم پڑگیا۔ ابوجہل کو پتہ چلاتو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا چچا ! قریش کے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے لئے مال جمع کریں۔ پوچھا ” کیوں ؟ “ جواب دیا ” اسلئے کہ آپ محمد ﷺ کے پاس جا کر اس کا کلام سن کر آئے ہیں۔ “ ولید بولا ” قریش کے لوگوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجیھ مال کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ “ تو ابوجہل نے کہا کہ کوئی ایسی بات کہو جس سے لوگوں کو پتا چل جائے کہ تو محمد (ﷺ) کے کلام کو ناپسند کرتا ہے۔ لوگوں نے ولید کو مختلف مشورے دیئے مگر بالآخر اس نے سوچ کر جو بات کہی تو یہ کہ ’ دیہ قرآن جادو ہے جو چلا آتا ہے اور یہ آدمی کا کلام ہے۔ “ اسی بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں عنقریب اس کو دوزخ میں جھونک دوں گا۔3

ف 3 ینی گوشت ہڈی اور پسلی ہر چیز کو بھسم کر کے رکھ دے گی۔
Ayahs 74:27–29

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تجھے کیا معلوم دوزخ کیسی بلا ہے

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ کچھ باقی نہ رکھے گی اور کچھ نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال کو جلا کر کالا کر دیگی4

ف 4 بشر کے ایکم عنی ” کھال “ کے ہیں اور دوسرے معنی ” لوگوں “ کے اس لئے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ لوگوں (یعنی دوزخیوں) کو (جلا کر) کالا کر دے گی۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انہیں داروغہ مقرر ہیں5

“5 حضرت براء سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت کے ایک صحابی سے پوچھا کہ دوزخ کے داروغہ کہتے ہیں ؟ اسنے جواب دیا ” اللہ جانے اور اس کا رسول کس وقت آنحضرت کو بتانے کے لئے حضرت جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ (شوکانی)
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے مقرر کئے ہیں6 اور ہم نے انیس کی گنتی اس لئے مقرر کی ہے کہ کافر یہ سن کر گمراہ ہوں اور اس لئے کہ کتاب والوں یہود و نصاریٰ کی یقین پیدا ہو اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے7 اور کتاب والوں اور ایمانداروں کو قرآن کی سچائی میں کوئی شبہ نہ رہے اور اس لئے کہ کافر اور جن کے دل میں شک کی بیماری ہے وہ یوں کہیں بھلا اس انیس کی گنتی سے اللہ تعالیٰ کی کیا غرض ہے8 اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ پر لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شکر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا9 اور یہ باتیں تو بس لوگوں کی نصیحت کے لئے بیان کی گئی ہیں نہ اور کسی غرض سے

ف 6 یعنی وہ آدمی نہیں ہیں کہ آدمیوں کی کوئی بڑی سے بڑی تعداد بھی انہیں مغلوب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب ابوجہل نے یہ سنا کہ دوزخ کے دارہ خائوں کی تعداد انیس ہے تو کہنے لگا لوگو ! گواہ رہو کہ محمد (ﷺ) کے کل مددگار انیس ہیں اور تم اتنے ہو کہ تم میں سے سو آدمی بلکہ دس آدمی مل کر دوزخ کے ایک داروغہ پر غالب آجائیں گے۔ اسی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ (شوکانی)7 یعنی جب وہ دیکھیں گے کہ اہل کتاب جب وہ دیکھیں گے کہ اہل کتاب کی کتابیں قرآن کی تائید کر رہی ہیں تو قرآن اور پیغمبر پر ان کا ایمان مزید پختہ ہوجائے گا۔8 یعنی اس نے انیس داروغہ کیوں مقرر کئے ؟… معلم ہوا کہ اس قسم کے امور میں بحث اور نکتہ سنجی مسلمان کا کام نہیں ہے۔9 یعنی اللہ تعالیٰ کی لاتعداد مخلوقات کا علم اس کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
Ayahs 74:32–33

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے مجھ کو چاند کی سم

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب گزرنے لگے10

ف 10 یعنی اندھیرا چھانے لگے۔ (شوکانی)
Ayahs 74:34–39

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہوجائے

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

دوزخ ایک بڑی بلا ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

ان لوگوں کے ڈرانے کے لئے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

بس کرتی ہے جو تم میں ایمان لا کر آگے بڑھنا بہشت میں جانا چاہتے ہیں یا کافررہ کر پیچھے ہٹنا دوزخ میں جانا چاہتے ہیں

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے برے کاموں کے بدل گرفتار رہے گا

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر داہنے ہاتھ والے11

ف 11 یعنی وہلوگ جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا جو دائیں ہاتھ چلائے جائیں گے یا جو حضرت آدم کی پشت کی دائیں جانب سے نکلے یا جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔