73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑے لپیٹے والے10

ف 10 یہ خطاب آنحضرت سے ہے کیونکہ شروع میں جب حضرت جبریل وحی لاتے تو آپ پر کپکپی سی طاری ہوجاتی اور آپ کمبل اوڑھ لیتے۔ چناچہ جب پہلی مرتبہ حضرت جبریل وحی لائے اور آپ پر کپکپی کی کیفیت طاری ہوگئی تو آپ حضرت خدیجہ سے فرمانے لگے زماونی زماونی زملونی مجھے کپڑا اوڑھا دو … اس بنا پر آنحضرت کو اس لفظ سے خطاب کیا گیا۔
Ayah 73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

ساری رات نماز میں کھڑا رہ11 مگر تھوڑی رات آرام کر

ف 11 اس سے معلوم ہوا کہ ابتدا میں آنحضرت پر تہجد کی نماز فرض تھی جیسا کہ سورة اسراء کی آیت 79 کے تحت بیان ہوچکا ہے۔
Ayahs 73:3–4

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا اس سے کچھ کم تہائی رات

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ زیادہ12 تہائی رات اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اچھی طرح سے پڑھا کر13

ف 12 مطلب یہ ہے کہ آدھی رات عبادت کیجیے اور آدھی رات سویئے یا دو تہائی رات عبادت کیجیے اور تہائی رات سویئے۔ علی ہذا القیاس چناچہ آنحضرت اور آپ کے ساتھ بعض صحابہ انہی مختلف مقداروں میں تہجد کی نماز پڑھا کرتی تھے۔ یہ حکم جیسا کہ صحیحین اور سنن کی کتابوں) میں حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے …ایک سال تک رہا۔ اگلے سال جب اسی سورة کی آخری آیات نازل ہوئیں تو اس میں تخفیف کردی گئی۔ (شوکانی)13 یعنی اس طرح کہ ہر ایک طرف کا الگ الگ پتا چلے اور پڑھتے وقت قرآن کا مفہوم بھی ذہن میں آئے حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ ہر آیت پر قطع (وقف) فرماتیت ہے۔ متعدد احادیث میں قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

کیونکہ ہم آگے چل کر تجھ پر ایک بھاری کلام قرآن اتاریں گے14

ف 14 شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔ “ مطلب یہ ہے کہ رات کو عبادت کر کے اپنے آپ کو سختی برداشت کرنے کا عادی بنایئے۔ آئندہ آپ پر قرآن اور تبلیغ کا گرانبار فریضہ ڈالا جانے والا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں سردی کے موسم میں جب آپ پر وحی آتی تو آپ کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہوجاتی۔ (بخاری)
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کو اٹھنا اعبادت کرنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے15 اور اس وقت کا پڑھنا یاد دعا کرنا بہت ٹھیک یا بہت بابرکت ہوتا ہے16

ف 15 کیونکہ وہ نفس پر بہت شاق گزرتا ہے۔16 کیونکہ اس وقت دل و دماغ حاضر ہوتے ہیں۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کو تو تجھ کو لمبی بڑی فرصت ہے17

ف 17 یعنی دوسری ضرورتوں کے لئے تو دن میں بڑا وقت مل جاتا ہے اس لئے رات کو اپنے رب کی عبادت کیجیے۔ جس کے دوسرے معنی مشغولیت کے بھی ہیں۔
Ayahs 73:8–12

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے مالک کا نام رٹتا رہ اور سب سے توڑ کر اسی کا ہوجا

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ پورب اور پچھچ دونوں کا مالک ہے اس کے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں اس لئے سب کام اسی کو سونپ دے

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور کافر جو تیری نسبت کہتے ہیں اس پر صبر کئے رہ اور عمدگی کیساتھ ان سے الگ ہوجا

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور جو مالدار جھٹلانے والے کافر ہیں ان کو میرے اوپر چھوڑ دے

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

ہیں ان سے بھگت لوں گا اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے1

ف 1 یعنی ان کی شامت آیا چاہتی ہے ذرا انتظار کیجیے۔ چناچہ بدر کے دن مشرکین مکہ کی یہ شامت آگی۔
Ayahs 73:13–15

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

کیونکہ ہمارے پاس ان کے پائوں میں ڈالنے کو بیڑیاں موجود ہیں اور جلانے کے جہنم اور کھلانے کو وہ کھنا جو گلے سے نہ اترے تھوہر غسلین وغیرہ) اور تکلیف کا عذاب

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

یہ عذاب اس دن ہوں گے جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ بھر بھرے ریت کے ٹیلے بن جائیں گے ان میں دم دار رہے گا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

لوگو جیسا پیغمبر ہم نے فرعون کی طرف بھیجا تھا ویسا ہی تمہارے پاس بھی ایک پیغمبر یعنے حضرت محمد کو بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا2

ف 2 یعنی قیامت کے دن تم سب کے متعلق گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نافرمانی کی۔
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

تو فرعون نے اپنے پیغمبر کا کہنا نہ مانا آخر ہم نے اس کو بڑے وبال میں دھر پکڑا3

ف 3 اس میں کفار قریش کو تنبیہ ہے کہ تم نے بھی اگر اپنے رسول کی نافرمانی کی توت مہارا بھی وہی حال ہوگا جو فرعون کا ہوا۔
Ayahs 73:17–19

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

پھر اگر تم اس دن کو نہ مانو کے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

اس کی ہیبت سے آسمان پھٹ جائے گا تو تم عذاب سے کیوں کر بچو گے اس کا وعدہ ضرور ہو کر رہے گا

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ آیتیں نصیحت کی باتیں ہیں پھر جس کا جی چاہے اپنے مالک کی طرف رستہ بنا لے4

ف 4 یعنی کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ پر آجائے یہ راہ اسے ٹھیک ٹھیک خدا تک پہنچا دے گی۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرا مالک جانتا ہے تو اور کچھ لوگ تیرے ساتھ والے مسلمان دو تہائی رات سے کچھ کم اور کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی نماز میں کھڑے رہتے ہیں اور ٹھیک انداز رات اور دن کا اللہ ہی جانتا ہے5 اس کو معلوم ہے کہ تم وقت کا ٹھیک انداز نہیں کرسکتے تو اس نے تم پر رحم کیا6 اب جتنا تم سے آسانی کے ساتھ ہو سکے اتنا قرآن نماز میں پڑھو7 اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ تم میں بعضے لوگ بیمار ہوجائیں گے اور بعضے ملکوں میں اللہ کا فضل تلاش کرتے پھرتے ہوں گے سوداگری کے لئے سفر میں ہوں گے اور بعضے اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑتے ہونگے وہ تو جتنا آساین کے ساتھ ہو سکے اتنا قرآن پڑھو ور نماز کو درستی سے ادا کرتے رہو2 اور فرض زکوا 1 نکالا کرو اور اللہ کو اچھا فرض دو3 اور تم جو نیکی اپنے لئے آخرت کا توشہ بنا کر آگے بھیجو گے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو پائو گے اس بیتہر اور ثواب میں کہیں زیادہ اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی پیشکش چاہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے4

ف 5 یعنی متعین طور پر اسی کو معلوم ہے کہ تم کتنی رات سوتے ہو اور کتنی رات جاگ کر عبادت کرتے ہو۔6 یعنی رات کی نماز تہجد تم پر فرض نہیں رکھی بلکہ اسے نفل قرار دے دیا ہے اور نہ اس میں وقت یا مقدار کی کوئی قید رکھی ہے۔ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ تخفیف کی یہ آیت ثم اللیل الا قلیلاً کے ایک سال بعد نازل ہوئی گویا ایک سال تہجد کی نماز تمام مسلمانوں پر فرض رہی بہرنقل ہوگئی۔ واللہ اعلم۔7 امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے اس آیت سے یہ استدلا کیا ہے کہ نماز میں مطلق قرآن پڑھن افرض ہے۔ سورة فاتحہ متعین نہیں ہے مگر یہ استدلا حضرت عبادہ بن صامت والی حدیث کے صریح خلاف ہے جس میں لاصلوۃ الا بفاتحتہ الکتاب فرمایا ہے کہ جس نے سورة فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔ پھر یہ آیت مکی ہے اور حدیث مدنی ہے۔ 1 یعنی اسے معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں کے رات کی نماز (تہجد) پابندی شاق گزرے گی۔2 یعنی تہجد کی نماز سے معافی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پنج وقتہ فرض نماز سے بھی چھٹی ہوگئی بلکہ اس کا درستی کے ساتھ ادا کرنا علی حالہ فرض ہے۔3 قرض حسن سے مراد نفلی صدقہ ہے جو حلال مال میں سے خوشدلی کے ساتھ اللہ کی راہ میں دیا جائے۔ گویا اس آیت میں فرض زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔4 یعنی تمام احکام بجا لانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کی دعا کرتے رہو اس لئے کہ چاہے کتنی احتیاط کرو تم سے کوتاہی ہی ہی جائے گی۔