72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنے لوگوں سے کہہ دے مجھے خدا کی طرف سے یہ وحی آئی ہے کہ جنات میں سے چند شخصوں5 نے تین سے دس تک قرآن مجید سے سنا6 پھر وہ اپنے لوگوں پاس لوٹ گئے اور کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

ف 5 سورة احقاف میں گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ چند جنوں کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے جب قرآن سنا تو اس پر سچے دل سے ایمان لائے پھر اپنے قبیلے کی طرف واپس ہوگئے اور اسے قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ اسی واقعہ کا ذکر سورة جن کی ان آیات میں کیا گیا ہے اور یہاں جنوں کی اس تقدیر کو جو انہوں نے واپس جا کر اپنے قبیلے کے سامنے کی زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق دوسری تفصیلات کو سورة احقاف کی آیت 29 تا 32 کیتحت فوائد ہیں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔6 یعنی جو اپنی فصاحت و بلاغت طرز بیان قوت تاثیر اور علوم و مضامین کے اعتبار سے حیرت انگیز ہے۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو سچا راستہ بتلاتا ہے ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے مال ککا شریک نہ بنئایں گے7

ف 7 اس میں بنی آدم خصوصاً رئوسا نے قریش میں سے کافر لوگوں کو شرم دلائی گئی ہے کہ جنوں نے جب پہلی ہی مرتبہ قرآن سنا تو وہ سمجھ گئے کہا یسا کلام کسی انسان کا تصنیف کیا ہوا نہیں ہوسکتا، لیکنتم ہو کہ بار بار قرآن کو سنتے ہو لیکن اس پر ایمان نہیں لاتے بلکہ یہی رٹ لگائے جا رہے ہو کہ محمد (ﷺ) نے یہ قرآن خود تصنیف کرلیا ہے یا کوئی عجمی ہے جو انہیں یہ قرآن سکھا جاتا ہے
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور ہمارے مالک کی شان بلند ہے وہ نہ جو رو رکھتا ہے8 نہ اولاد

ف 8 یعنی بیوی اور اولاد رکھنا اس کی شان عظمت کے منافی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” جو گمراہیاں آدمیوں میں تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں۔ اللہ کے جورو اور بیٹا بتاتے تھے۔ “ (موضح)
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور ہم میں کوئی بیوقوف تھا جو اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ لگاتا تھا9

ف 9 یعنی یہ کہتا تھا کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے۔ بیوقوف سے مراد سرکش شرک جن ہیں یا خاص طور پر ابلیس
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ آدمی اور جن بھلا اللہ تعالیٰ پر کیوں جھوٹ باندھنے لگے10

ف 10 ” اور اسی غلط فہمی پر ہم نے ان کی بات مان لی تھی اور یہ عقیدہ رکھنے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی اور اولاد ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ کمبخت جھوٹے بیوقوف تھے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور ہوا یہ کہ بعضے آدم زاد لوگ بعضے جن لوگوں کی پناہ لیت ی تھے اس سے ان کا دماغ اور چڑھ گیا11

ف 11 یوں میں بعض مشرکین کا قاعدہ تھا کہ وہ جنوں سے غیب کی خبریں پوچھتے، ان کے نام کی نذریں چڑھاتے اور نیازیں دیتے اور جب سفر کے دوران میں رات کو کسی خوفناک مقام پر اترتے تو کہتے کہ اس علاقہ کے جنوں کا جو سردار ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں تاکہ وہ اپنے ماتحت جنوں سے ہماری حفاظت کرے۔ ان باتوں نے جنوں کو اور بھی زیادہ مغرور بنادیا کیونکہ وہ سمجھنے لگے کہ ہم تو آدمیوں کے بھی سردار ہوگئے۔ اسی لئے وہ ہماری پناہ ڈھونڈھتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یمن کے کچھ لوگوں نے جنوں کی پناہ لینا شروع کی، پھر قبیلہ بنی حنیفہ کے کچھ لوگوں نے اور پھر ہوتے ہوئے تمام عرب میں اس کا رواج ہو یا۔ جب اسلام آیا تو وہ جنوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے لگے۔ “ (فتح القدیر)
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور آدمی بھی جیسے تم سمجھتے تھے یہ سمجھنے لگے12 کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد کسی کو اجلا کر انہیں اٹھائے گا13

ف 12 یا ” جن بھی اے آدمیو ! تمہاریطرح یہ سمجھنے لگے۔ “13 یا ” اللہ تعالیٰ کسی کو پیغمبر بنا کر) مبعوث نہ کریگا۔ “ مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت یا رسالت کے منکر ہوگئے۔
Ayah 72:8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو جاکر ٹٹولا دیکھا تو وہ زبردست پہروں اور آگ کے شعلوں سے بھرا ہوا ہے14

ف 14 یعنی اس میں فرشتے کثرت سے پہرا دے رہے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے کے لئے اس کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیتے اور جو شیطان اس کی جرأت کرتا ہے اس پر آگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں۔ اس سے ہم نے سمجھا کہ زمین میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے جس کی بدولت آسمان کی حفاظت کے لئے یہ نئے انتظامات کئے گئے ہیں۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور پہلے تو یہ تھا کہ فرشتوں کی باتیں سننے کے لئے ہم آسمان میں کئی ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے اب تو جو کوئی سننے جائے تو ایک شعلہ اپنے لئے تیار پائے1

ف 1 گویا شہاب ثاقب کا آتشین گولا گھات میں ہے کہ جونہی کوئی جن فرشتوں کی باتیں سننے کے لئے آسمان پر پہنچے وہ اس کے تعاقب کے لئے لپکے۔ یہ مضمون سورة حجر میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ (دیکھیے اس کی آیات 18-17)
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور ہم کو معلوم نہیں کہ اس انتظام سے زمین والوں کی برائی منظور ہے یا انکا مالک ان سے بھلائی کرنا چاہتا ہے2

ف 2 علما کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے شہاب ثاقب کا وجود تھا یا نہیں ؟ صحیح یہ ہے کہ اس کا وجود تھا مگر اس کثرت سے نہیں۔ اسی بنا پر جن زمین میں ہر طرف بکھر گئے تھے کہ معلوم کریں کونسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے آسمان کی پہلے سے زیادہ حفاظت ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دلوی بطن نخلہ میں پہنچے جہاں نبی ﷺ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے۔ اسے سن کر وہ ایمان لائے اور سمجھ گئے کہ اسی وجہ سے آسمان پر پہروں کا انتظام پہلے سے سخت کردیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے (یعنے کافر بدکار) ہمارے کئی طرح کے گروہ پہلے سے چلے آئے ہیں3

ف 3 امام سعید بن المسیب اور مجاہد کہتے ہیں کہ آدمیوں کی طرح جنوں کے بھی مختلف گروہ تھے۔ چناچہ کوئی مسلمان تھا کوئی یہودی کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی (قرطبی)
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور اب تو ہم نے سمجھ لیا کہ ہم زمین میں رہ کر اللہ تعالیٰ کو نہیں ہرا سکتے اور نہ کہیں بھاگ کر اس کو عاجز کرسکتے ہیں۔4

ف 4 یعنی زمین یا آسمان میں کہیں بھاگ جائیں، اس کے اتخیار اور پکڑ سے باہر نہیں جاسکتے کیونکہ ہر جگہ اسی کی حکومت ہے۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور ہم نے جب راہ کی ہدایت کی بات سنی تو اس کو مان لیا5 اور جو کوئی اپنے مالک پر ایمان لائے گا اس کو نہ نقصان کا ڈر ہوگا اور نہ ظلم کا6

ف 5 مراد قرآن ہے جو انہوں نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے سنا۔6 یعنی نہ یہ ڈر ہوگا کہ اس کی نیکیوں میں کمی کردی جائے گی اور یہ اندیشہ کہ اس کی برائیوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔
Ayah 72:14

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور ہم میں بعضے تو خدا کے تابعدار ہیں اور بعضے کافر نافرمان پھر جن لوگوں نے خدا کی تابعداری کی انہوں نے سیدھے رستے پر چلنا چاہا7

ف 7 یعنی انہوں نے راہ حق کی تلاش کی یہاں تک کہ اسے پا لیا۔
Ayah 72:15

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی وہ دوزخ کے گند ہے بنے8

ف 8 اس سے معلوم ہوا ہوا کہ جنوں میں سے بھی بعض دوزخ میں جائیں گے اور بعض جنت میں (تفصیلی بحث کے لئے دیکھیے سورة رحمٰن آیت 3) اس آیت پر مسلمان جنوں کا کلام ختم ہوگیا جو انہوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کیا۔ آگے اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام شروع ہو رہا ہے، گویا اس کا عطف قل اوحی الی انہ پر ہے۔ (فتح قدیر)
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) لوگوں سے کہہ اگر وہ ایمان کے سیدھے رستے پر جمے رہتے تو ہم خوب پانی دیتے9

ف 9 یعنی خوب پانی برساتے جس سے بکثرت پھل اور غلے پیدا ہوتے اور وہ خوشحال ہوتے۔ ” آزمانے “ سے مراد یہ ہے کہ اس میں بھی ان کا امحتان ہو کر آیا خوشحال پا کر شکر بجا لاتے ہیں یا کفر و ناشکری پر اتر آتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جب ان پر سات سال کا قحط پڑا بعض مفسرین نے طریقہ سے مراد کفر و ضلالت کا راستہ ہے یعنی اگر یہ لوگ کفر و ضلالت کے راستہ پر ہی جمع رہتے تو ہم بطور استدراج انہیں خوف بارغ البالی اور خوشحالی دیتے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : فلما نسواما ذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شی حتی اذا فرحوا بما اوتواحدنا ھم بغتہ فاذا ھم مبلسون “ پھر جب وہ اس نصیحت کو فراموش کر بیٹھے جو انہیں کی گی تھی تو ہم نے ان پر ہر قسم کی خوشحالی کے دروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ جب وہ بخشوں میں جو انہیں دی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور ان کا حال یہ ہوگیا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ “ (انعام 44) د ’ آزمانے “ کے لفظ کو دیکھا جائیتو اسی دوسرے مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

ان کو آزمانے کے لئے۔ اور جو کوئی اپنے مالک کی یاد سے منہ موڑے تو وہ اس کو سخت عذاب میں لے جائے گا10

ف 10 یعنی انجام کار وہ دوزخ کے درد ناک عذاب سے دوچار ہوگا۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور مسجدیں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کے لئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کا پوجا نہ کرو11

ف 11 یوں تو کسی بھی جگہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا جائز نہیں ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ مسجدوں میں جو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں کسی اور کو پکارنا شرک کی بدترین صورت ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ جب اپنے گرجوں میں داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ صرف مجھے پکارو خصوصاً جبتم مسجدوں میں داخل ہوجاو میرے ہی نام پر میری ہی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ “ ) بعض مفسرین نے مساجد سے مراد جسم کے وہ اضعاء لئے ہیں جنہیں سجدہ کے وقت زمین پر رکھا جاتا ہے یعنی پیشانی دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ ہی کے دیئے ہوئے ہیں، لہٰذا یہ جائز نہیں ہے کہ ان کے ذریعے اپنے حقیقی خالق ومالک کے علاوہ کسی اور کوئی بھی سجدہ کرو۔ (ابن کثیر)
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جس وقت اللہ کا بندہ محمد اس کی عبادت میں کھڑا تھا تو جنات چار طرف سے گھیر کر اس سے چمٹنے ہی کو تھے12

ف 12 یعنی قرآن سننے کے شوق میں ایک دوسرے کو ہٹا کر آپ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ وادی بطن نخلہ میں پیش آیا جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ (فتح القدیر) آیت کا دوسرا مطلب جسے امام ابن جریر نے اختیار کیا ہے، یہ ہے کہ جبی نبی ﷺ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا آغاز فرمایا تو مشرکین عرب مخالفت کے لئے آپ پر ٹوٹ پڑے یعنی آپ کے در پے آزار ہوگئے۔ “ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ” اگلی آیت کو دیکھا جائے تو یہی (دوسرا) مطلب اظہر (زیادہ واضح) قرار پاتا ہے۔
Ayahs 72:20–22

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے میں تو بس اپنے مالک کا پوجا کرتا ہے خدائے واحد کا اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میں تمہارے نقصان یا نفع کا اختیار نہیں رکھتا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے مجھ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا وہی بچائے تو بچائے اور اس کے سوا کہیں مجھ کو پناہ نہیں مل سکتی۔13

ف 13 لہٰذا خود تمہارا مجھے پکارنا بھی حماقت ہے۔ “
Ayahs 72:23–24

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

(میرا کچھ اختیار نہیں صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے پیغام پہنچا دینا میرا کام ہے اور یہی میرے اختیار میں ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نفارمانی کریں ان کے لئے دوزخ کی آگ تیار ہے وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہ کافر اس وقت تک ماننے والے نہیں جب تک وہ اس عذاب کو دیکھ نہ لیں جس کا ان سے وعدہ1 ہے تب وہ جان لیں گے کس کا مددگار کمزور ہے اور کس کا جتھا گنتی میں کم ہے2

ف 1 مراد دنیا کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کا عذاب بھی2 یعنی تم جو ہم پر جتھے بنا بنا کر ہجوم کرتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی کمزور اور تھوڑے ہیں تو جب اللہ کا یہ عذاب آئے گا اس وقت پتا چلے گا کہ حقیقت میں کس کے ساتھی کمر ہو اور تھوڑی تھے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے میں نہیں جانتا جس عذاب کا تم سے وعدہ ہے وہ نزدیک ہے یا ابھی میرا مالک ایک مدت میں اس کو بھیجے گا3

ف 3 یعنی یہ عذاب تو تم پر یقینا آئے گا لیکن متعین طور پر وہ کب آئے گا ؟ آیا بہت جلد آئے گا یا اس کے آنے میں ایک لمبی مدت ہے ؟ اس کا علم مجھے نہیں دیا گیا کیونکہ یہ ان امور غیب میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا
Ayahs 72:26–27

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کا علم اسی کو ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر جس پیغمبر کو وہ چاہتا ہے4 اس کو غیب کی کوئی بات بتادیتا ہے تو اس کے بھی آگے اور پیچھے فرشتوں کا پہرا لگا دیتا ہے5

ف 4 یعنی بطور معجزہ تاکہ وہ اس کی نبوت پر دلیل ہو۔ (نیز دیکھیے سورة آل عمران آیت 179) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کا علم کسی نبی کو بھی نہ تھا۔ اگر تھا تو صرف اتنا جتنا خود اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا نجومی کاہن وغیرہ اللہ کے نبی نہیں ہوتے اس لئے ان کے غیب پر مطلع ہوجانے کا سوہل ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امام رازی سے اس مقام پر لغزش ہوئی ہے کہ غیب سے مرادصرف قیامت کے آنے کا وقت ہے اور دوسری باتیں بعض کاہنوں کو بھی معلوم ہوجاتی ہیں چناچہ شق اور سطبیح نامی دو کاہنوں نے آنحضرت کے ظہور کی بشارت دی اور وہ پوری ہوئی۔ خواب کی تعبیر بتانے والے ایک تعبیر بتاتے ہیں اور وہ سچ نکلتی ہے مگر شق سطیح کا واقعہ آنحضرت کی بعثت سے پہلے کا ہے۔ جب شیاطین آسمان پر پہنچ کر چوری چھپے ” ملا اعلیٰ “ سے کوئی بات سن کر کاہنوں کے کان میں ڈال دیتے تھے اس لئے وہ سچ نکلتی تھی۔ خواب کی تعبیر کا مدار محض اٹکل پر ہوتا ہے جو کبھی پوری ہوتی ہے اور کبھی پوری نہیں ہوتی۔ البتہ پیغمبر جو تعبیر دیں وہ ہمیشہ سچ ہوتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحی پر ہوتی ہے۔ (شوکانی)5 یعنی رسول کو بھی جو غیب کی بات پہنچائی جاتی ہے وہ نہایت احتیاط اور حفاظت سے پہنچائی جاتی ہے اس طرح کہ اس کے آگے پیچھے فرشتوں کا زبردست پہرا ہوتا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ شیاطین اس کا کوئی حصہ اچک کر کاہنوں تک پہنچا دیں۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

اس لئے کہ وہ اپنے پیغمبر جہان لے کر فرشتوں نے اپنے مالک کا پیغام6 پہنچا دیا اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کے پاس ہے سب کو اپنے علم سے گھیر لیا اور7 ہر چیز کی گنتی تک اس کو معلوم ہو۔9

ف 6 یعنی اسے اس کے من جانب اللہ ہونے کا یقین ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ یعنی اللہ تعالیٰ مشاہدہ سے بھی جان لے کہ انہوں نے یعنی فرشتوں نے پیغمبروں تک یا پیغمبروں نے عام لوگوں تک اپنے مالک کا پیغام بےکم وکاست ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا یہ کہ ابلیس جان لے کہ پیغمبروں نے اپنے مالک کا پیغام پہنچا دیا۔ (شوکانی)7 یعنی پیغمبروں کے پاس یا پہرے دار فرشتوں کے پاس۔8 چاہے وہ پہلے ہوچکی ہو یا اب موجود ہو یا آئندہ کبھی ہونیوالی ہو اور چاہے وہ فضا میں ہو یا پانی میں یا خشکی میں۔9 اکثر مفسرین نے اس پوری سورة کو مکی قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ میں نے اپنی خالہ (ام المومنین) میمونہ کے ہاں رات گزاری۔ آنحضرت رات کو تہجد کی نماز کے لئے بیدار ہوئے اور آپ نے فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعت نماز پڑھی۔ ان میں سے ہر رکعت اتنی لمبی تھی جتنی سورة مزمل۔ (شوکانی بحوالہ ابی دائود)