Ayah 75:1لا اقسم بیوم القیامۃ۔۔ تا۔۔۔ یوم القیامۃ
لا اقسم بیوم القیامۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ لاصلہ ہے زائد ہے اور سورت کے آغاز میں اس کا آغاز جائز ہے، کیونکہ قرآن حکیم کا بعض، بعض سے متصل ہے، یہ کلام واحد کے حکم میں ہے، اس وجہ سے کسی چیز کا ذکر ایک سورت میں ہوتا اور اس کا جواب دوسری سورت میں ہوتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ الحجر) انہوں نے کہا : اے وہ جس پر ذکر نازل کیا گیا ہے، بیشک تو تو مجنون ہے اس کا جواب ایک اور سورت میں ہے، ماانت بنعمۃ ربک بمجنون۔ القلم) آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں، کلام کا معنی ہے میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں، یہ حضرت ابن عباس، ابن جبیر، اور ابوعبیدہ نے کہا، اسی کی مثل شاعر کا قول ہے : تذکرت لیلی فاعترتنی صبابۃ، فکاد صمیم القلب لایتقطع۔ میں نے لیلی کو یاد کیا تو مجھے عشق لاحق ہوگیا تو قریب تھا کہ صمیم قلب ٹوٹ جاتا۔ ابولیث سمرقندی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ لا اقسم، کا معنی ہے میں قسم اٹھاتا ہوں انہوں نے لا کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے بعض نے کہا، لازینت کے لیے کلام میں زائدہ ہے کلام عرب میں لازائدہ استعمال ہوتا ہے جس طرح دوسری آیت میں ہے، قال مامنعک الاتسجد، اعراف 12) فرمایا کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا ؟ یہاں ان الاتسجد، ان تسجد کے معنی میں ہے بعض نے کہا، لا ان کے کلام کا رد کرنے کے لیے ہے کیونکہ انہوں نے موت کے دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کیا فرمایا، جس طرح تم نے گمان کیا ہے معاملہ اس طرح نہیں۔
میں کہتا ہوں : یہ فراء کا قول ہے، فراء نے کہا، اکثر نحوی کہتے ہیں لاصلہ ہے، یہ جائز نہیں کہ انکار سے شروع کیا جائے، پھر اسے صلہ بنا دیا جائے گا کیونکہ اگر یہ اس طرح ہو تو کوئی ایسی خبر معروف نہیں جس میں کسی اور خبر کا توانکار ہو اس کا انکار نہ ہو لیکن قرآن حکیم اس اسلوب میں آیا ہے کہ جنہوں نے بعث، جنت اور آگ کا انکار کیا اور اس کا انکار کرتا ہے قسم ان کے رد کرنے کے ساتھ واقع ہوئی ہے بہت سے مقامات میں اس سے کلام کا آغاز ہو اور بہت سے مقامات میں اسے سے آغاز نہیں ہوا، یہ عربوں کے اس قول کی مانند ہے، لاو اللہ افعل، لا کے ساتھ ان کے سابقہ کلام کا ردک ہے یہ تیرے اس قول کی طرح ہے، لا واللہ ان القیامہ، حق گویا تو نے ایسی قوم کو جھٹلایا ہے جنہوں نے اس چیز کا انکار کیا تھا، فراء کے علاوہ دوسرے علماء نے امراء القیس کا یہ شعر پڑھا ہے۔ فلا وابیک ابنۃ العامری لایدعی القوم انی افر۔ اے بنت عامری، تیرے باپ کی قسم قوم اس بات کا دعوی نہیں کرسکتی کہ میں بھاگ جاؤں گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ رد کرنے میں اس قسم کی تاکید کا باعث بتنا ہے، جو اس توجیہ کو نہیں جانتا وہ یوں قرات کرتا ہے، لا اقسم گویا لام تاکید اقسم فعل پر داخل ہے یہ درست ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں، لاقسم بااللہ۔ میں اللہ کے نام کی قسم اٹھاتا ہوں یہ حضرت حسن بصری، ابن کثیر، زہری اور ابن ہرمز کی قرات ہے۔ بیوم القیامۃ۔ یعنی وہ دن جس میں لوگ اپنے رب کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس چیز کی چاہے قسم اٹھائے۔
Ayah 75:2ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ اس میں قراء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم اٹھائی ہے اس کی تعظیم بیان کرنے کے لیے اور نفس کی قسم نہیں اٹھائی، ابن کثیر کی قرات کے مطابق پہلے کی قسم اٹھائی اور دوسری قسم نہیں اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ دوسرارد ہے اور نفس لوامہ سے قسم کی ابتداء ہے۔ ثعلبی نے کہا، صحیح یہ ہے کہ دونوں کے ساتھ اکٹھے قسم اٹھائی، نفس لوامہ سے مراد مومن کا نفس ہے، تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنی ذات کو ملامت کررہا ہوگا، وہ کہے گا میں نے اس سے کس چیز کا ارادہ کیا ؟ تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنے آپ کو عتاب کررہا ہوگا، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد، حضرت حسن بصری اور دوسرے مفسرین کا قول ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ کی قسم، یہ مومن کا نفس ہے مومن کو نہیں دیکھا جاتا مگر وہ اپنے نفس کو ملامت کررہا ہوتا ہے میں نے اپنی کلام سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے کھانے سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ میں نے ہم کلامی سے کسی چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ جب کہ فاجر نفس کا محاسبہ نہیں کرتا۔
مجاہد نے کہا : وہ فوت ہونے والی چیز پر ملامت کرتا ہے اور شرمندہ ہوتا ہے اور برے کام پر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور اچھائی کے بارے میں کہتا ہے تو نے زیادہ عمل کیوں نہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا لوامہ یہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ملامت والا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے نفس کو انہیں چیزوں پر ملامت کرتا ہے جس پر دوسری نفوس کاملامت کرتا ہے ان صورتوں میں لوامہ، لائم کے معنی میں ہوگا، یہ صفت مدح ہے اسی طریقہ پر یہ قسم اچھی ہوجائے گی۔ بعض تفاسیر میں ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) ہمیشہ اس خطا پر اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں جنت سے نکالا گیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے لوامہ سے مراد ملامت کیا گیا، مذمت کیا گیا ہے حضرت ابن عباس سے ایک قول مروی ہے یہ صفت ذامہ ہے یہ اس کا قول ہے جو اس کے قسم ہونے کی نفی کرتا ہے کیونکہ نافرمان کی کوئی عظمت نہیں، جس کی وجہ سے اس کی قسم اٹھائی جائے وہ تو زیادہ ملامت کا مستحق ہوتا ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد کافر کی ذات ہے جو اپنے آپ کو ملامت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں اس سے جو کوتاہی ہوتی ہے آخرت میں اس پر حسرت کا اظہار کرتی ہے فراء نے کہا، کوئی نیک یابدنفس نہیں مگر وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ وہ برائی کرنے سے کیوں نہیں رکا۔
Ayah 75:3ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ۔ کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے اور اسے نئی صورت میں پیدا کردیں گے جب کہ وہ ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ زجاج نے کہا، یوم قیامت اور نفس لوامہ کی قسم اٹھائی جواب قسم یہ ہے، لیجمعن العظام للبعث۔ وہ دوبارہ اٹھانے کے لیے ہڈیوں کو ضرور جمع کرے گا۔ ضحاک نے کہا، جواب قسم محذوف ہے یعنی تمہیں ضرور دوبارہ اٹھایاجائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ایحسب الانسان، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو بعثت کا انکار کرتا ہے یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی کریم سے عرض کی مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے وہ کب واقع ہوگی اور اس کا کیا معاملہ ہوگا نبی کریم نے اسے اس بارے میں بتایاتوعدی نے کہا، اگر میں اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو اسے محمد ﷺ نہ میں تیری تصدیق کروں گا اور نہ اس پر ایمان لاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان ہڈیوں کو جمع کرے ؟ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ یوں دعا کرتے تھے، اے اللہ میرے برے پڑوسی عدی بن ربیعہ اور اخنس بن شریق کے لیے کافی ہوجا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ آیت اللہ کے دشمن ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی جب اس نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کیا، ہڈیوں کا ذکر کیا مراد اس کی پوری ذات ہے کیونکہ ہڈیاں انسان کا ڈھانچہ ہیں۔
Ayah 75:4بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ حضرت حسن بصری نے بلی پر وقف کیا پھر اگلے کلمہ سے ابتدا کی۔ سیبویہ نے کہا، اس کا معنی ہے ہم انہیں جمع کریں گے اس حال میں کہ قادر ہوں گے قادرین یہ فعل میں جو ضمیر مضمر ہے اور فاعل ہے اس سے حال ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی یہ ہے کیوں نہیں ہم قادر ہیں فراء نے کہا، قادرین کو نصب نقد اور نقوی فعل دے رہا ہے جو نجمع فعل سے سمجھا جارہا ہے یہ بھی کہا، تکریر کی وجہ سے نصب دینا بھی مناسب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بلی فلیحسبنا قادرین، ایک قول یہ کیا گیا ہے مضمر فعل کنا ہے معنی یہ ہوگا کہ ہم ابتدا میں ہی قادر تھے مشرکوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ ابن ابی عبلہ اور ابن سمیقع نے قادرون پڑھا ہے اس وقت تقدیر کلام یہ ہوگی، نحن قادرون، عربوں کے ہاں بنان سے مراد انگلیاں ہیں اس کا احد بنانہ ہے، نابغہ نے کہا، بمخضب رخص کان بنانہ، عنم یکاد من اللطافۃ یعقد۔ اس شعر میں شاعر نے بنان سے مراد انگلیاں لی ہیں۔ عشرہ نے کہا، وان الموت طوع یدی اذا ما، وصلت بنانھا بالھندوانی۔ اس شعر میں بنان سے مراد انگلیاں ہیں۔ انگلیاں ذکر کرکے باقی اعضا پر متنبہ کیا ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ چھوٹی ہڈیاں ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کا خصوصی طور پر ذکر کیا قتبی اور زجاج نے کہا، انہوں نے گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا اور ہڈیاں جمع کرنے پر قادر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ ہم انگلیوں کی ہڈیوں کو دوبارہ درست کردیں جب کہ وہ بہت ہی چھوٹی ہیں اور انہیں مرکب کردیں یہاں تک کہ وہ درست ہوجائیں جو ذات اس پر قادر ہے وہ بڑی ہڈیوں کو جمع کرنے پر زیادہ قادر ہے۔
حضرت ابن عباس اور تمام مفسرین نے یہ کہا ہے، اس کا معنی ہے کہ ہم اس کے ہاتھ اورس کے پاؤں کی ہڈیوں میں ایک چیز بنادیں جس طرح اونٹ کا پاؤں ہوتا ہے یاگدھے کا کھریاخنزیر کا کھر تو اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی کام کرسکے، لیکن ہم نے اس کی انگلیوں کو الگ الگ کردیاتا کہ اس کے ساتھ جو چیز چاہے پکڑ لے۔ حضرت بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے انگلیاں بنائیں تو ان کو کھولتا ہے اور انہیں بند کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو ان سب کو جمع کردیتا ہے تو صرف اپنی ہتھیلی کے ساتھ زمین سے بچتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم انسان کو چوپاؤں کی صورت میں لوٹائیں تو جس صورت پر وہ ہے ہم کیسے اسے نہیں لوٹاسکتے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، وما نحن بمسبوقین۔ الواقعہ) اور ہم مغلوب نہیں، علی ان نبدل امثالکم وننشئکم فی مالاتعلمون۔ الواقعہ) ہم عاجز نہیں، کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ پیدا کردیں اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے میں کہتا ہوں، سیاق کے حوالے سے پہلی تاویل زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 75:5–6بل یرید الانسان لیفجرامامہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو آنے والے معاملات یعنی دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کا انکار کرتا ہے یہی عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کی دلیل، یسئل ایان یوم القیامہ، ہے یعنی وہ سوال کرتا ہے وہ کب واقع ہوگی، وہ یہ بات انکار اور جھٹلانے کے انداز میں کرتا ہے وہ جھٹلانے پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوتا ہے، قتیبی اور دوسرے علماء نے جو ذکر کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ فجور جھٹلانا ہے ایک بدو نے حضرت عمر بن خطاب کا قصد کیا اس نے آپ کی خدمت میں اونٹ کے نقب (پہلو زخم) اور دبر (جانور کا زخم) کی شکایت کی اور یہ سوال کیا کہ انہیں ایک اونٹ دے دیاجائے، تو حضرت عمر نے اسے اونٹ نہ دیا تو اس بدو نے کہا، اقسم باللہ ابوحفص عمر، مامسھا من نقب ولادبر۔ فاغفر اللہ اللھم ان کان فجر۔ ابوحفص عمر نے قسم اٹھادی کہ اونٹ کو کوئی زخم نہیں، اے اللہ اسے بخش دے اگر اس نے جھٹلایا ہے یعنی جو میں نے کہا ہے اس کی اس نے تکذیب کی ہے۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے : اس کا معنی ہے وہ نافرمانی کرنے میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے ایک حدیث میں انہوں نے یہ کہا وہ کہتا ہے میں عنقریب توبہ کرلوں گا اور وہ توبہ نہیں کرتا پس اس نے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولا، یہ مجاہد، حسن بصری، عکرمہ، سدی، سعید بن جبیر کا قول ہے وہ کہتا ہے، میں عنقری توبہ کرلوں گا میں عنقریب توبہ کرلوں گا یہاں تک کہ انتہائی بری حالت پر اسے موت آجاتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ہمیشہ برائی کا ہی عزم کیے رکھتا ہے اگرچہ وہ تھوڑی مدت تک زندہ رہتا ہے ان تمام اقوال کی صورت میں امامہ کی ضمیر کا مرجع انسان ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ضمیر قیامت کے لیے معنی یہ ہے بلکہ انسان ارادہ رکھتا ہے کہ وہ قیامت سے پہلے حق کا انکار کرے فجور کا اصل معنی حق سے اعراض کرنا ہے، یسئل ایان یوم القیامہ، وہ سوال کرتا ہے قیامت کب برپا ہوگی۔
Ayah 75:7فاذا برق البصر۔۔ تا۔۔۔ واخر۔
فاذا برق البصر۔ نافع اور اہان نے عاصم نے برق پڑھا ہے اس کا معنی ہے زیادہ کھلنے کی وجہ سے آنکھ کا چمکنا تو اسے دیکھے گا وہ جھپکتی نہیں مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ موت کا وقت ہوگا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ قیامت کے روز ہوگا اس بارے میں کہا یہ اس سوال کا جواب ہے جو انسان نے اس سے سوال کیا گویا یہ قیامت کے دن ہوگا۔ جبکہ باقی قراء نے برق پڑھا ہے، معنی ہے وہ متحیر ہوگئی وہ نہ جھکی، یہ ابوعمر، زجاج اور دوسرے علماء نے کہا، ذورمہ نے کہا، فراء اور خلیل نے کہا، برق جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی گھبرانا، مبہوت ہونا اور حیران ہونا ہے عرب متحیر اور مبہوت انسان کے بارے میں کہتے ہیں، قد برق فھوبرق، وہ متحیر اور وہ متحیر ہے، فراء نے یہ شعر پڑھا : فنفسک فانع ولاتنعنی ودار الکلوم ولاتبرق۔ اپنے نفس کو موت کی خبر دے مجھے موت کی خبر نہ دے زخموں کا علاج کرو اور زخموں سے نہ گھبراؤ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، برق یبرق ماضی عین کلمہ کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے اپنی آنکھوں کو کھولا۔ ابوعبیدہ نے یہی کہا اور کلابی کا شعرپڑھا : لما اتانی ابن عمیر راغبا، اعطتیتہ عیسا صھابا فبرق۔ جب ابن عمیر رغبت کرتے ہوئے میرے پاس آیاتو میں نے سے بھورے رنگ کا اونٹ دیا تو اس نے اپنی دونوں آنکھیں کھول دیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے برق، راء کے کسرہ اور فتحہ دونوں اس کی لغتیں ہیں اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔
Ayah 75:8وخسف القمر۔ اس کا نور چلا گیا۔ دنیا میں تو اس کا خسوف (چاند گرہن) اس کی روشنی کے صاف ہونے تک ہوتا ہے، جب کہ آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس کی روشنی واپس نہیں آتی، یہ بھی احتمال ہے کہ یہ غائب ہونے کے معنی میں ہو، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، فخسفنا بہ وبدارہ الارض۔ القصص 81) ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ ابن ابی اسحاق، عیسیٰ اور اعرج نے وخسف القمر پڑھا ہے، اس کے اوپر وجمع الشمس والقمر۔ دلالت کرتا ہے، ابوحاتم محمد ادریس نے کہا، جب اس کا بعض حصہ غائب ہوجائے تو وہ کسوف ہے اور جب اس کا کل غائب ہوجائے تو وہ خسوف ہے۔
Ayah 75:9وجمع الشمس والقمر۔ روشنی کے چلے جانے میں ان دونوں کو جمع کردیا تو سورج کی کوئی روشنی نہ ہوگی جس طرح خسوف (چاند گرہن) کے بعد چاند کی کوئی روشنی نہیں ہوتی، یہ فراء اور زجاج کا قول ہے، فراء نے کہا، جمع کا صیغہ مونث ذکر نہیں کیا کیونکہ معنی ہے دونوں کو جمع کردیا گیا، ابوعبیدہ نے کہا مذکر کو غلبہ دینے کی بنا پر اسے مذکر ذکر کیا گیا ہے، کسائی نے کہا : یہ معنی پر محمول ہے گویا کہا وجمع الضوان، مبرد نے کہا، الشمس مونث غیر حقیقی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضڑت ابن مسعود سے روایت نقل کی گئی ہے ان دونوں کو جمع کیا گیا ہے یعنی دونوں کو مغرب سے سیاہ و تاریک طلوع کرنے میں جمع کردیا گیا گویا وہ دونوں زخمی بیل ہیں، اس معنی کے موافق حدیث سورة الانعام کے آخر میں گزرچکی ہے حضرت عبداللہ کی قرات میں وجمع بین الشمس والقمر ہے۔
عطاء بن یسار نے کہا : قیامت کے روز ان دونوں کو جمع کیا جائے گا پھر دونوں کو سمندر میں پھینک دیا جائے گا تو وہ دونوں بڑی آگ ہوجائیں گے حضڑت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس نے کہا، دونوں حجاب میں کرلیاجائے گا اور ان دونوں کو جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ دونوں کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی گئی، آگ ان دونوں کے لیے عذاب نہ ہوگی کیونکہ وہ دونوں جمادات میں سے ہیں اللہ تعایل ان دونوں کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کرے گا تاکہ کافروں کو زیادہ شرمندہ کرے اور انہیں حسرت دلائے، مسند ابی داؤد میں سے یزید رقاشی نے حضرت انس بن مالک سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، سورج اور چاند جہنم میں دوزخمی بیلوں کی طرح ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس جمع سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں جمع ہوں گے اور جدا نہ ہوں گے وہ لوگوں کے قریب قریب ہوں گے تو گرمی کی شدت سے انہیں پسینہ آئے گا گویا معنی یہ ہے ان دونوں کی گرمی ان پر جمع کردی جائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے سورج اور چاند کو جمع کردیا جائے گا وہاں رات اور دن پے درپے نہیں آئیں گے۔
Ayah 75:10یقول الانسان یومئذ این المفر۔ انسان کہے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے ابوجہل کہے گا، بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ شاعر نے کہا، این المفر ولکباش تنتطح، وای کبش حاد عنھا حین یفتضح۔ بھاگنے کی جگہ کہاں ہوگی جب کہ مینڈھے سینگ مار رہے ہوں گے اور کون سا مینڈھا اس سے کنارہ کش ہوگا جب وہ ذلیل ہوگیا۔ ماوردی نے کہا : یہ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہوئے کہے گا دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچنے کے لیے یہ قول کرے گا۔ انسان کے بارے میں بھی دو قول ہیں (1) خاص طور پر کافر یہ قول کرے گا جب قیامت کے روز اس کی پیشی کا مرحلہ ہوگا، کیونکہ مومن کو تو اپنے رب کی بشارت پر اعتماد ہوگا (2) قیامت کے برپا ہونے پر مومن اور کافر دونوں یہ قول کریں گے کیونکہ انہوں نے قیامت کی ہولناکی کو دیکھ لیا ہوگا۔
عام قرات المفر ہے، ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے حضرت ابن عباس مجاہد، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے فاء کے کسرہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کسائی نے کہا یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح مدت اور مدت، مصح اور مصح، زہری نے میم کے کسرہ اور فاء کے فتحہ کے ساتھ قرات کی ہے مہدوی نے کہا یہ میم اور فاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ مصدر ہے اور فراء کے معنی میں ہے جس نے میم کو کسرہ اور فاء کو فتحہ دیا ہے تو اس سے مراد وہ انسان ہے جو اچھی دوڑتا ہے معنی یہ ہوگا کہ وہ عمدہ دوڑلگانے والاانسان کہاں ہے اس کے باوجود نجات نہیں پاسکے گا میں کہتا ہوں اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : مکر مفر مقبل مدبر معا۔ وہ اچھی طرح پلٹ کر حملہ کرنے والا، عمدہ طریقہ سے بھاگ جانے والا، سامنے آنے والا، پیچھے سے آنے والا۔
Ayah 75:11کلالاوزر۔ یعنی کوئی جائے فرار نہیں، کلاکالفظ رد کرنے کے لیے ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے انسان کے قول کی حکایت نہیں پھر اس رد کرنے کی وضاحت کی، یعنی جہنم سے بچنے کی کوئی پناہ گاہ نہیں، حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے، معنی ہے کوئی قلعہ نہیں، حضرت حسن بصری کہا کرتے تھے کوئی پہاڑ نہیں، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے کوئی پناہ گاہ نہیں حضرت ابن جبیر کہا کرتے تھے کوئی پناہ گاہ اور بچنے کی جگہ نہیں، سب کا معنی اور مفہوم ایک ہی ہے، لغت میں وزر سے مراد وہ چیز ہے جس کی پناہ لی جائے جیسے قلعہ، پہاڑ وغیرہ۔ شاعر نے کہا، لعمری ماللفتی من وزر، من الموت یدرکہ والکبر۔ میری زندگی کی قسم، نوجوان کے لیے موت اور بڑھاپے سے کوئی بچنے کی صورت نہیں وہ ضرور اسے پہنچ کررہے گی۔ سدی نے کہا، دنیا میں جب وہ خوف زدہ ہوتے تو وہ پہاڑوں میں پناہ لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا، کوئی پناہ گاہ نہیں جو اس روز تمہیں مجھ سے بچ اس کے۔ طرفہ نے کہا : ولقد تعلم بکر اتنا، فاضلوا الرای وفی الروع وزر۔ بنوبکر جانتے ہیں کہ ہم اچھی رائے والے اور جنگ میں جائے پناہ ہوتے ہیں۔
Ayah 75:12الی ربک یومئذ المستقر۔ مستقر کا معنی منتہی ہے، یہ قتادہ کا قول ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وان الی ربک المنتھی، النجم) اس کی انتہاء تیرے رب کے پاس ہے، حضرت ابن مسعود نے فرمایا، اس کا معنی ہے تیرے رب کی طرف لوٹنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آخرت میں قرارگاہ وہ ہوگی جہاں اللہ تعالیٰ اسے ٹھہرائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ان کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا یہ انسان کے قول کی حکایت ہے جو وہ اپنے بارے میں کہے گا جب وہ جان لے گا کہ اس کے لیے کوئی فرار کی جگہ نہیں تو وہ اس وقت اپنے آپ سے یہ کہے گا، کلا لاوزر۔ الی ربک یومئذ المستقر۔
Ayah 75:13ینبئوالانسان یومئذ بماقدم واخر۔ انسان نیک ہو یا بدا سے بتایاجائے گا جو اس نے برایا اچھا عمل آگے بھیجا اچھی یابری سنت پیچھے چھوڑی جس پر بعد میں عمل کیا جاتا رہا حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے یہ کہا منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اس کے پہلے اور آخری عمل کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا، یہ امام نخعی کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا، اس نے معصیت میں سے جو چیز آگے بھیجی اور اطاعت میں سے جو پیچھے چھوڑی، یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ ابن زید نے کہا، بماقدم سے مراد اس کے وہ اموال ہیں جو اس نے اپنے لیے خرچ کیے اور اخر سے مراد وہ مال ہے جو اس نے وارثوں کے لیے پیچھے چھوڑا، ضحاک نے کہا، اس نے جو فرائض آگے بھیجے اور اجن فرائض کو موخر کیا اس بارے میں اسے آگاہ کیا جائے، قشیر نے کہا، یہ اطلاع اس وقت دی جائے گی، جب قیامت کے روز اس کے اعمال کو لے جائیں گے یہ بھی جائز ہے کہ اطلاع موت کے وقت ہو۔
میں کہتا ہوں : پہلی تعبیر زیادہ بہتر ہے کیونکہ ابن ماجہ نے زہری سے مروی حدیث ذکر کی ہے کہ ابوعبداللہ نے حضرت ابوہریرہ سے حدیث روایت کی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، مومن کو اس کی موت کے بعد بھی جو اعمال اور نیکیاں پہنچتی رہتی ہیں وہ ایسا علم ہے جس کی اس نے تعلیم دی اور اسے عام کیا، وہ نیک بچہ جسے وہ پیچھے چھوڑ کر آیا ایسا قرآن حکیم کا نسخہ ہے جسے وہ پیچھے چھوڑ کر آیا ایسی مسجد جس کو اس نے بنایا، ایسا مسافرخانہ جسے اس نے تعمیر کروایا، ایسی نہر جو اس نے جاری کی، ایسا صدقہ جو اس نے اپنے مال میں سے صحت اور زندگی میں نکالا تھا یہ اعمال اسے موت کے بعد بھی پہنچتے رہیں گے۔ ابونعیم نے اس معنی کی حدیث قتادہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک سے نقل کی ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، سات اعمال ایسے ہیں جس کا اجر بندے کو اس کی موت کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے جب کہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے جس نے کسی کو علم سکھایا جس نے کوئی نہر جاری کی، کوئی کنواں کھودا، کوئی کھجور لگائی، کوئی مسجد بنائی، مصحف قرآن کسی کو ورثہ کے طور پر دیا ایسا بچہ چھوڑا جو اس کے حق میں مغفرت طلب کرتا ہے۔ حدیث طیبہ کے الفاظ بعد موتہ وھو فی قبرہ اس کی موت کے بعد جب وہ قبر میں ہوتا ہے یہ اس بارے میں واضح ہے کہ یہ موت کے وقت اطلاع نہیں دی جاتی ان سب کے بارے میں اس وقت اطلاع دی جاتی ہے جب اس کے اعمال کا وزن کیا جارہا ہوتا ہے، اگرچہ قبر میں اسے ان چیزوں کی بشارت دی جاسکتی ہے، اس معنی ومفہوم پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم۔ العنکبوت 13) اور وہ ضرور اٹھائیں جائیں گے اپنے بوجھ اور دوسرے کے کئی بوجھ، اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ۔ ومن اوزارالذین یضلونھم بغیر علم۔ النحل 25) اور ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں وہ گمراہ کرتے رہتے تھے جہالت سے، یہ آخرت میں اعمال کا وزن ہونے کے بعد ہوگا۔
صحیح میں ہے جس نے اسلام میں کوئی اچھی سنت جاری کی تو اس کے لیے اپنا اجر اور اس کے بعد جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر بھی ہوگا جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی، جس نے اسلام میں کوئی طریقہ برا شروع کیا تو اس پر اس کا اپنا بوجھ ہوگا اور اس کے بعد جو اس پر عمل کریں گے ان کا بوجھ ہوگا جبکہ عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔
Ayahs 75:14–15بل الانسان علی نفسہ بصیرہ، ولوالقی معاذیرہ۔
بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ اخفش نے کہا، انسان کو خود اپنی ذات پر نظر رکھنے والابنادیا جس طرح تو خود کسی کو کہتا ہے تو اپنی ذات پر دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بصیرہ کا معنی گواہ ہے اس سے مراد ہے کہ اس کے اعضاء اسپر گواہی دیں گے ہاتھ گواہی دیں گے جس کو اس نے ان ہاتھوں سے پکڑا ہوگا پاؤں گواہی دیں گے جن کے ساتھ وہ چل کر گیا تھا آنکھیں گواہی دیں گی جن کے ساتھ اس نے دیکھا ہوگا بصیرہ کا معنی گواہ ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ، بمقعدہ او منظر ھو ناظرہ، یحاذرحتی یحسب الناس کلھم، من الخوف لاتخفی علیھم سرائرہ۔ گویا دانش مند پر آنکھ گواہ ہے جہاں وہ بیٹھا اور جس منظر کو اس نے دیکھا وہ احتیاط کرتا ہے یہاں تک کہ خوف کی وجہ سے وہ تما لوگوں کے بارے میں گمان کرتا ہے کہ ان پر اس کے راز مخفی نہیں۔ اس معنی پر دلیل اللہ تعالیٰ یہ فرمان ہے، یوم یشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلم بماکانو یعلمون۔ النور) جس روز ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے قدم ان پر گواہی دیں گے جو وہ عمل کرتے رہے، بصیرہ کا لفظ مونث آیا ہے کیونکہ انسان سے یہاں اعضاء مراد ہیں کیونکہ اعضاء انسان پر گواہ ہیں گویا یہ فرمایا، اعضاء انسان کی ذات پر گواہ ہیں۔ یہی معنی قتبی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے کچھ علماء کہتے ہیں بصیرہ کے آخر میں جو ھاء ہے عرب اسے تانیث کہتے ہیں جس طرح ان کے اس قول میں ھاء مبالغہ کے اعمال لکھتے ہیں جو اچھا یا برا عمل اس سے واقع ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ولوالقی معاذیرہ اس آدمی کے بارے میں جو معذرت کو پردہ بناتا ہے یہ سدی کا اور ضحاک کا قول ہے۔ ایک مفسر نے کہا، اس کا معنی ہے بلکہ انسان پر اس کی ذات میں سے ایک گواہ ہے توالانسان سے پہلے حرف جار کو حذف کردیا گیا ہے یہ بھی جائز ہے کہ بصیرہ کا لفظ اسم مونث کی صفت ہوتوتقدیر کلام یوں گی بل الانسان علی نفسہ عین بصیرہ۔ فراء نے یہ بھی شعر پڑھا ہے : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ۔
حضرت حسن بصری نے اللہ کے اس فرمان کا یہ معنی کیا ہے کہ وہ دوسروں کے عیوب دیکھتا ہے اور اپنے عیوب جاہل رہتا ہے، ولوالقی معاذیرہ۔ یعنی اگرچہ اپنے پردے لٹکائے۔ اہل یمن کی لغت میں معذار کا معنی پردہ ہے۔ ضحاک نے یہی کہا، شاعر نے کہا، ولکنھا ضننت بمنزل ساعۃ، علینا واطت فوقھا بالمعاذر۔ لیکن اس نے ہم گھڑی بھرقیام سے بخل کیا اور اپنے اوپر لٹکالیے۔ زجاج نے کہا، معاذر کا معنی پردے ہیں اس کی واحد معذار ہے اگرچہ وہ اپنا پردہ ڈال دے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کو چھپائے تو اس کا نفس اس پر گواہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے اگرچہ وہ معذرت کرے اور کہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا تو اس کے اعضاء اس پر گواہ ہوں گے وہ اگر معذرت کرے اور اپنے بارے میں جھگڑے تو اس پر ایسا گواہ ہوگا جو اس کے عذر کو جھٹلائے گا، یہ مجاہد، قتادہ، سعید بن جبیر، عبدالرحمن بن زید، ابوالعالیہ، عطاء فرائ، اور اسدی کا قول ہے، مقاتل نے کہا، اگر وہ دلیل یا عذر پیش کرے تو وہ اسے کچھ نفع نہ دے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یوم لاینفع الظالمین معذرتھم۔ غافر 52) اس روز ظالمین کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، ولایوذن لھم فیعتذرون۔ انہیں کوئی اجازت نہ دیا جائے گی کہ وہ مذرت پیش کریں اس صورت میں معاذیر، عذر سے ماخوذ ہوگا، شاعر کا قول ہے : وایاک والامر الذی ان توسعت، مواردہ ضاقت علیک المصادر۔ اس امر سے بچ جس پر وارد ہونے کے راستے تو وسیع ہون اور اس سے نکلنے کے راستے تنگ ہوں۔ فماحسن ان یعذر المرء نفسہ، ولیس لہ من سائر الناس عاذر۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان اپنے آپ کو معذور سمجھے اور لوگوں میں سے کوئی بھی اسے معذور نہ جانے۔ ایک آدمی نے حضرت ابراہیم نخعی کی خدمت میں معذرت پیش کی تو حضرت ابراہیم نخعی نے اسے فرمایا، میں نے تجھے معذرت پیش کرنے والے کے بغیر ہی معذور جانا، بیشک معزرتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، ولوالقی معاذیرہ کا معنی ہے اگر وہ وہ کپڑے اتار دے ماوردی نے یہی بیان کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : زیادہ نمایاں معنی دلیل پیش کرنا اور گناہ سے معذرت کرنا ہے، اس معنی میں نابغہ کا قول ہے : ھا ان ذی عذرۃ الاتکن نفعت، فان صاحبھا مشارک النکد۔ لویہ معذرت اگر نفع نہ دے تو معذرت کرنے والا محرومی میں شریک ہے۔ اس پر دلیل کفار کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ الانعام) اس اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہ تھے، اور منافقوں کے بارے میں فرمایا، یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کمایحلفون لکم۔ المجادلہ 18) جس روز اللہ تعالیٰ سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح وہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھاتے ہیں صحیح میں ہے وہ عرض کرے گا اے میرے رب میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا، میں نے نمازیں پڑھیں، میں نے روزے رکھے اور میں نے صدقہ کیا اور جس قدر ہوسکے گا وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے گا، حم سجدہ اور دوسری سورتوں میں گزرچکا ہے، معاذیر اور معاذر، معذرۃ کی جمع ہے اس کا باب اس طرح چلتا ہے عذرتہ، اعذرہ، عذرا اوعذرا۔ اس کا اہم معذرۃ اور عزری آتا ہے، شاعر نے کہا، انی حددت ولاعذری لمحدود۔ مجھے محدود کردیا گیا ہے جب کہ محدود کے لیے کوئی معذرت نہیں ہوتی، اسی طرح عذرۃ کا لفظ ہے یہ رکبۃ اور جلسہ کی طرح ہے۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں۔
آدمی کی گواہی اس کے اپنے خلاف قبول کی جائے گی۔
مسئلہ نمبر 1۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان، بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ ولوالقی معاذیرہ۔ میں اس امر پر دلیل ہے آدمی اپنی ذات کے خلاف قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی جانب سے اپنی ذات پر گواہی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم بماکانو یعلمون۔ النور) اس روز ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ عمل کرتے رہے تھے۔
ایک فقہی مسئلہ کی وضاحت۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایا، واذ اخذاللہ میثاق النبین لما۔۔۔ تا۔۔۔ الشھدین۔ آل عمران) یاد کرو اس وقت کو اجب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا جو میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی پھر تمہارے پاس ایسا رسول آئے جو اس چیز کی تصدیق کرتا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے فرمایا، کیا تم نے اقرار کرلیا اور اس پر پختہ عہد کرلیا، انہوں نے کہا، ہم نے اقرار کیا فرمایا، گواہ ہوجاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ گواہ ہیں۔ پھر فرمایا، واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخرسیئا۔ توبہ 102) دوسروں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے اچھے اور برے عمل کو ملادیا، احادیث میں اس کی بیشمار مثالیں ہیں نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اے انیس، اس کی بیوی کیطرف اگر وہ اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔ جہاں تک ایک آدمی کا دوسرے کے بارے میں وارث ہونے یا قرض کا اقرار کرنے کا تعلق ہے تو امام مالک نے کہا، ہمارے نزدیک جس امر پر اتفاق ہے کہ ایک آدمی فوت ہوجائے اس کے بیٹے ہوں تو ان بیٹوں میں سے ایک کہے کہ میرے باپ نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ فلاں اس کا بیٹا ہے تو نسب ایک آدمی کی گواہی سے ثابت نہیں ہوگا، اور جس نے اقرار کیا اس کا اقرار صرف اس کے حصہ میں جاری ہوگا جو حصہ اسے اس کے باپ کے مال میں ملے گا، جس کے حق میں اس نے اقرار کیا اسے ہر اقرار کرنے والے مال سے جتنا حصہ مل سکتا تھا وہ دے دے گا۔ امام مالک نے فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی فوت ہوجائے وہ دو بیٹے چھوڑ جاتا ہے اور چھ سو درینار چھوڑتا ہے پھر ان میں سے ایک گواہی دیتا ہے کہ اس کے فوت ہوجانے والے باپ نے اقرار کیا تھا کہ فلاں اس کا بیٹا ہے تو جس کے حق میں اس کا اقرار کرے تو دوسرا سودینار بھی وہ لے گا اس کا حق مکمل ہوجائے گا اور اس کا نسب ثابت ہوجائے گا۔ یہ مسئلہ بھی اسی طرح ہے کہ ایک عورت اپنے والد یا اپنے خاوند پر قرض کا اقرار کرتی ہے جبکہ دوسرے وارث اس کا انکار کرتے ہیں تو اس عورت پر اتنا مال لازم ہوجائے گا جتنا مال اسکے ذمہ لازم ہوتا اگر سب وارث اس قرض کا اقرار کریں اگر بیوی ہو تو وہ آٹھویں حصہ کی وارث ہوگی تو وہ قروض خواہ کو آٹھواں حصہ دے گی، اگر وہ بیٹی ہو تو وہ نصف کی وارث ہوگی، تو وہ قرض خواہ کو نصف قرض دے گی، اسی حساب سے اسے مال دیا جائے گا جن عورتوں نے بھی اس کے قرض کا اقرار کیا۔
اقرار کی مختلف صورتیں۔
مسئلہ نمبر 3۔ اقرار مکلف کا ہی ثابت ہوگا لیکن شرط یہ ہے وہ محجور نہ ہو اگر وہ محجور اپنے حق کا اقرار کرے تو اس کا قول حجر کی وجہ س ساقط ہوجائے گا اگر محجور غیر کے حق کا اقرار کرتا ہے جیسے مریض، ان میں سے کچھ اقرار ساقط ہوجاتے ہیں اور کچھ جائز ہوتے ہیں۔ مسائل فقہ میں اس کی وضاحت یہ ہے، اقرار میں بندے کی دو حالتیں ہیں۔ ایک یہ ابتدائی متقدمہ صورت میں کوئی اختلاف نہیں۔ دوسرے، انتہائی اس کی صورت یہ ہے کہ اقرار مبہم ہے اس کی بہت سی صورتیں ہیں بنیادی طور پر چھ صورتیں ہیں۔
(1) وہ کہے : میرے پاس اس کی امانت ہے۔ امام شافعی نے کہا، اگرچہ وہ ایک کھجور یا ایک ٹکڑے سے اس کی تفسیر بیان کر دے تو اسے قبول کیا جائے گا۔ ہمارے اصول جس چیز کا تقاضا کرتے ہیں کہ و اس کی وضاحت تسلیم نہ کی جائے مگر جس کی قدر ومنزل تہوجب وہ اس کی تفسیر بیان کرے تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اس سے قسم لی جائے گی۔
(2) وہ اقرار کی تفسیر شراب اور خنزیر کی صورت میں کرے یاس اس چیز کے ساتھ تفسیر بیان کرے جو شریعت میں مال ہی نہ ہو تو بالاتفاق اس کو قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ اس کی تائید کرے جس کے حق میں اقرار کیا گیا۔
(3) ایسی چیز کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرے جس میں اختلاف کیا گیا ہو جس طرح مراد کی جلد کھاد، کتا، حاکم اس بارے میں فیصلہ کردے گا جس کو مناسب سمجھے گا رد کرے یا نافذ کرے، اگر وہ حاکم اس کو رد کردے تو کوئی اور حاکم اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ پہلے حاکم کے پاس باطل کرنے سے حکم نافذ ہوچکا ہے۔ امام شافعی کے بعض اصحاب نے فرمایا، شراب اور خنزیر لازم ہوگا۔ یہ باطل قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا جب اس نے کہا مجھ پر کچھ لازم ہے تو اس کی تفسیر کیلی اور وزنی کے بغیر قبول نہ کی جائے گی کیونکہ انسان کے ذمہ میں یہی چیزیں لازم ہوتی ہیں یہ قول ضعیف ہے کیونکہ ذمہ میں ان کے علاوہ بھی چیزیں ثابت ہوجاتی ہیں جب وہ واجب کرے اس پر اجماع ہے۔
(4) جب اس نے کہا : میرے فلاں کی امانت ہے تو اسکی تفسیر اس چیز کے ساتھ بھی قبول کرلی جائے گی جو عادت میں مال نہ ہو جس طرح ایک یا دو درہم، جب تک کوئی ایسا قرینہ نہ پائے جس کی وجہ سے اس کے زیادہ پر حکم لگایاجائے۔
(5) وہ کہے : میرے پاس فلاں کا کثیر مال ہے یا عظیم مال ہے امام شافعی نے فرمایا، اس کی تفسیر حبہ کے ساتھ کرے تو اس کی بات مانی جائے گی امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا، زکوۃ کے نصاب سے کم میں اس کی تفسیر قبول نہ کی جائے گی۔ ہمارے علماء نے اس بارے میں دو مختلف قول کیے ہیں ان میں چوری کا نصاب، زکوۃ کا نصاب اور دیت کا نصاب۔ میرے نزدیک سب سے کم چوری کا نصاب ہے کیونکہ مسلمان کا عضو عظیم مال میں ہی جدا کیا جاسکتا ہے احناف میں سے کثیر کی رائے یہی ہے جو تعجب کرسکتا ہے تو وہ لیث بن سعد پر تعجب کا اظہار کرے وہ کہتے ہیں کہ بہتر درہم سے کم میں اس کی تفسیر قبول نہ کی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا یہ مقدار آپ نے کہاں سے اخذ کی ؟ تو انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیر ویوم حنین۔ توبہ 25) اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات اور غزوہ حنین کے موقع پر مدد فرمائی، رسول اللہ کے غزوات اور سرایا کی تعداد بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، اذکرواللہ ذکر کثیرا۔ الاحزاب) ارشاد فرمایا، لاخیر فی کثیر من نجواھم۔ نساء 114) ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں اور فرمایا، والعنھم لعنا کبیرا۔ الاحزاب) اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی لعنت کی۔
(6) جب اقرار کرنے والا کہے : میرے پاس دس، سو اور ہزار ہیں تو وہ جو چاہے تفسیر بیان کرے اس کا قول قبول کیا جائے گا، امام شافعی کا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا، اگر مبہم عدد پر کیلی یا وزنی چیز کا عطف کیا تو یہ اس کی تفسیر ہوگا جس طرح وہ کہے، مائۃ وخمسون درھما۔ ڈیڑھ سودرہم۔ کیونکہ درہم پچاس کی تفسیر ہے اور پچاس سو کی تفسیر ہے۔ ابن خیران اصطخری جو امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں نے کہا، درہم صرف پچاس کی تفسیر ہے اور سو کی جس چیز کے ساتھ چاہے تفسیر بیان کرے۔
زانی کے زنا کے اقرار کرنے کے بعد معذرت کرنا۔
مسئلہ نمبر 4۔ ولوالقی معاذیرہ۔ اس کا معنی ہے اگر اقرار کے بعد مذرت کرے تو اس کی معذرت قبول نہ کی جائے گی علماء نے اس آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس نے ایسی حد میں اقرار کے بعد رجوع کیا جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اکثر نے کہا، جن میں امام شافعی اور امام ابوحنیفہ بھی ہیں اقرار کے بعد اس کا رجوع قبول کیا جائے گا امام مالک کے دو قولوں میں سے ایک قول یہی ہے امام مالک کا دوسرا قول ہے اس کا رجوع قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ رجوع کی صحیح وجہ بیان کرے۔ صحیح یہ ہے کہ رجوع مطلق جائز ہے کیونکہ ائمہ نے روایت کیا ہے جن میں امام بخاری اور امام مسلم بھی ہیں کہ نبی کریم نے چار دفعہ زنا کے اقرار کرنے والے کا رد کیا ہر دفعہ آپ اس سے اعراض کرلیتے تھے جب اس نے چار دفعہ اقرار کرلیاتو آپ نے اسے بلایا فرمایا تو مجنون ہے عرض کی، نہیں فرمایا کہ تو شادی شدہ ہے عرض کی جی ہاں۔ بخاری شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں، شاید تو نے بوسہ لیا ہو، اشارہ کیا یا نظربازی کی ہو ؟ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد میں ہے یہاں تک کہ رسول اللہ نے اسے پانچویں دفعہ فرمایا، کیا تو نے اس عورت سے جماع کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا یہاں تک کہ تیری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں غائب ہوگئی ؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔ جس طرح سرمچوسرمہ دانی میں اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے۔ اس نے عرض کی جی ہاں پھر پوچھاکیاتوجانتا ہے زنا کیا ہے ؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔ میں نے اس کے حرام فعل کا ارتکاب کیا جس طرح ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ حلال فعل کرتا ہے پوچھا تو مجھ سے کس چیز کا ارادہ رکھتا ہے ؟ اس نے عرض کی میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، تو رسول اللہ نے حکم دیاتو اس کو رجم کردیا گیا۔
امام ترمذی اور امام ابوداؤد نے یہ ذکر کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ دوڑ پڑا تو ایک آدمی نے اسے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ماری تو لوگوں نے اسے پتھر مارے تو وہ مرگیا۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے کہا، تاکہ رسول اللہ خوب چھان کرلیتے جہاں تک کہ حد کے ترک کرنے کا معاملہ ہے وہ مقصود نہ تھا، یہ سب رجوع کے طریقے اور اس کے رجوع کو قبول کرنے کی وضاحت ہے۔ رسول اللہ کے ارشاد میں، شایدتو نے بوسہ لیا ہوگا یا اشارہ کیا ہو۔ امام مالک کے قول کی طرف اشارہ ہے کہ وہ رجوع کو قبول کرلیتے جب وہ کوئی وجہ ذکر کرتا۔
غلام کے اقرار کی صورت حال۔
مسئلہ نمبر 5۔ یہ آزاد اور اپنی ذات کے مالک کا معاملہ ہے جہاں تک غلام کا تعلق ہے تو اس کا اقرار دو قسموں میں سے ایک قسم سے خالی نہیں ہوتا وہ اس چیز کا اقرار کرے جس کی سزا اس کی ذات پر واقع ہو یا ایسی چیز کا اقرار کرے جس کا اثر اس چیز پر واقع ہو جو اس کے ہاتھ میں ہے یا اس کے ذمہ میں ہے۔ اگر وہ ایسی چیز کا اقرار کرے جس کا اثر اس کی ذات پر پڑتا ہوں جس میں اس کا قتل لازم ہوتاہو یا اس سے کم سزا واقع ہوتی ہو تو اس پر نافذ ہوجائے گی امام محمد بن حسن نے کہا، یہ اقرار اس سے قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ اس کا بدن آقا کے حق میں مستغرق ہے اس کے اقرار میں ان کے حقوق کا اتلاف ہے جو آقا کے اس کے بدن میں واقع ہیں ہماری دلیل سروردوعالم کا ارشاد ہے جس نے ان گندی چیزوں میں کوئی چیز پائی تو وہ اس پر پردہ ڈالے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈالا ہے جس نے ہمارے لیے اس امر کو ظاہر کیا تو ہم اس پر حد قائم کردیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے عقوبت کا محل انسان کی ذات ہے وہ انسان کے زمہ ہے آقا کا اس میں خوئی حق نہیں آقا کا حق وصف اور تبع میں ہے وہ مالی حق ہے جو اس پر لازم ہوتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا اگر غلام کسی مال کا اقرار کرتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، یہاں تک کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا اگر غلام یہ اقرار کرے میں نے یہ مال چوری کیا ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مال وہ آدمی لے لے گا جس کے حق میں غلام نے اقرار کیا، ہمارے علماء نے فرمایا، سامان آقا کا ہوگا اور جب غلام آزاد ہوگا تو اس کی قیمت کا مطالبہ غلام سے کیا جائے گا، کیونکہ غلام کا مال آقا کا ہوتا ہے اس پر اجماع ہے اس میں غلام کا قول اور اقرار قبول نہ کیا جائے گا خصوصا حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں غلام کی کوئی ملکیت نہیں اس کا مالک بننا صحیح نہیں وہ مالک نہیں بنے گا ہم اگرچہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مالک بنا صحیح ہے لیکن اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ آقا کا ہوتا ہے دونوں قولوں کے اعتبار سے یہی اجماع ہے۔
Ayah 75:16لاتحرک لسانک لتعجل بہ۔۔۔ تا۔۔۔۔ الاخرۃ۔
لاتحرک لسانک لتعجل بہ : امام ترمذی، سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں رسول اللہ پر جب قرآن حکیم نازل ہوتا تو آپ اس کو پڑھتے وقت زبان ہلاتے، آپ کا ارادہ ہو تاکہ اسے یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا، حضرت ابن عباس اپنے ہونٹوں کو ہلاتے اور سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلائے ابوعیسی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام مسلم، ابن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں نبی کریم نزول قرآن سے مشقت اٹھاتے آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے حضرت ابن عباس نے فرمایا، میں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح رسول اللہ ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے سعید بن جبیر نے کہا میں دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح حضرت ابن عباس حرکت دیا کرتے تھے تو انہوں نے دونوں ہونٹوں کو حرکت دی، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو نازل فرمایا۔
Ayahs 75:17–18ان علینا جمعہ وقرآنہ۔ فاذاقرانہ فاتبع قرانہ۔ یعنی آپ کے سینے میں جمع کرنا ہمارے ذمہ کرم پر ہے پھر آپ اسے پڑھیں جب ہم اسے پڑھیں تو اس کو سنیں اور خاموش رہیں اس کے بعد رسول الہ کا معمول یہ تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے تو آپ سنتے جب وہ چلے جاتے تو نبی کریم اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل امین نے پڑھا ہوتا۔ اسے امام بخاری نے بھی نقل کیا ہے اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولاتعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ (طہ 114) وحی کے مکمل ہونے سے پہلے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔
عامر شعبی نے کہا : جب قرآن حکیم آپ پر نازل ہوتا تو قرآن کی محبت اور زبان میں اس کی مٹھاس پانے کی وجہ سے جلدی کرتے تو آپ کو اس سے منع کردیا گیا یہاں تک وحی جمع ہوجائے کیونکہ اس کا بعض بعض کے ساتھ مربوط ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے رسول اللہ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کے بھول جانے کے خوف سے آپ اپنی زبان کو حرکت دیتے تو یہ آیت نازل ہوئی، ولاتعجل باالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ۔ طہ 114) سنقرئک فلا تنسی۔ الاعلی) ہم تمہیں پڑھائیں گے تو آپ نہ بھولیں گے اور یہ آیت نازل ہوئی، لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ، آپ اس کو پڑھنے کے لیے زبان کو حرکت نہ دیجئے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، قرانہ کا معنی ہے اس کا تجھ پر پڑھنا۔ فراء کے قول میں قرات اور قرآن دونوں مصدر ہیں قتادہ نے کہا، فاتبع قرانہ، یعنی اس کے شرائع اور احکام کی پیروی کریں۔
Ayah 75:19ثم ان علینا بیانہ۔ اس میں حدود، حلال و حرام کے احکام کی وضاحت ہمارے ذمہ ہے یہ قتادہ کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں جو وعدہ وعید ہے اس کو بیان کرنا، اور ان کو ثابت کرنا ہمارے ذمہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے تیری زبان سے بیان کریں۔
Ayahs 75:20–21کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، ابوجہل قرآن کی تفسیر اور اس کے بیان پر ایمان نہیں لائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نماز نہیں پڑھیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اے اہل مکہ کے کفار تم دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہو اور تم آخرت کے لیے عمل کرنے کو ترک کرتے ہو، ایک تفسیر میں ہے آخرت سے مراد جنت ہے۔ اہل مدینہ اور کوفہ کے قراء نے تحبون اور تذرون کو تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے بھی اسی قرات کو پسند کیا ہے اور کہا، اگر ان قراء کی مخالفت مکروہ نہ ہوتی تو میں انہیں یاء کے ساتھ پڑھتا کیونکہ اس سے پہلے انسان کا ذکر ہے باقی فراء نے دونوں کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ خبر جاری ہے یہ ابوحاتم کی پسندیدہ قرات ہے، جس نے اسے ینبا الانسان پر محمول کرتے ہوئے یاء کے ساتھ پڑھا ہے تو اس میں الانسان لوگوں کے معنی میں ہے جس نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو اس نے اس کلام کو اس امر پر محمول کیا ہے کہ شرمندہ کرنے کے لیے ان سے گفتگو کی کیونکہ یہ مقصود میں زیادہ بلیغ ہے اس کی مثل یہ ارشاد ہے : ان ھوء لاء یحبون العاجلۃ ویذرون ورآء ھم یوما ثقیلا۔ دہر) بیشک وہ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور قیامت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
Ayahs 75:22–23وجوہ یومئذ ناظرہ۔۔ تا۔۔ فاقرۃ۔
وجوہ یومئذناظرہ۔ الی ربھا ناظرہ۔ پہلا نضرہ سے مشتق ہے جس کا معنی حسن اور تروتازگی ہے دوسرا نظر سے مشتق ہے یعنی مومنوں کے چہرے روشن، خوبصورت اور تروتازہ ہوں گے۔ یہ باب ذکر کیا جاتا ہے، نضرھم اللہ ینضرھم نظرۃ ونضارۃ۔ اس سے مراد روشن ہونا، آسودگی ہونا، اور غنی ہونا ہے۔ اس معنی میں یہ حدیث طیبہ ہے، نضر اللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو خوش رکھے جس نے میری گفتگو سنی اور اسے یاد رکھا، رب سے مراد خالق ومالک ہے۔ ناظرۃ یعنی اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے یہی جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے اس بارے میں حضرت صہیب کی مروی حدیث ہے جس کو امام مسلم نے نقل کیا ہے جو سورة یونس میں، للذین احسنوالحسنی وزیادۃ۔ 26) میں گزرچکی ہے۔ حضرت ابن عمر کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جنتیوں میں سے سب سے معزز وہ شخص ہوگا جو صبح وشام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ یزید نحوی نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے حضرت حسن بصری کہا کرتے تھے ان کے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان نظر بمعنی انتظار ہے یعنی وہ اس ثواب کا انتظار کررہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے ہوگا، یہ حضرت ابن عمر اور مجاہد سے مروی ہے، عکرمہ نے کہا، وہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کررہے ہوں گے ماوردی نے حضرت ابن عمر اور عکرمہ سے یہی روایت نقل کی ہے۔ یہ صرف مجاہد سے مروی ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، لاتدر کہ الابصاروھو یدرک الابصار۔ سے استدلال کیا ہے یعنی انکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور وہ آنکھوں کا احاطہ کرلیتا ہے۔ یہ قول بہت کمزور ہے آیت، احادیث کے ظاہر سے خارج ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جنتیوں میں سے سب سے کم مرتبہ جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات بیویوں، خادموں اور پلنگوں کی طرف ایک ہزار سال کی مسافت سے دیکھ لے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے معزز وہ شخص ہوگا جو صبح وشام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ پھر رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی، امام ترمذی نے کہا، یہ حدیث غریب ہے حضرت ابن عمر سے مروی ہے جب کہ انہوں نے اسے مرفوع نقل نہیں کیا۔ صحیح مسلم میں ابوبکربن عبداللہ بن قیس، اپنے باپ سے وہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا، دو جنتیں ہیں ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے وہ چاندی کے ہوں گے اور دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے وہ سونے کے ہوں گے جنت عدن میں جنتیوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کبریائی کی رداء کے سوا کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔
حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کو چاند کی طرف دیکھا فرمایا تم اپنے رب کو یوں عیاں دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو تم پر اس کی روئیت میں ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر تم طاقت رکھو کہ تم سورج کے طلوع ہونے سورج کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز میں مغلوب نہ ہوتوایسا کرو، پھر اس آیت وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۔ ق) سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے تم اپنے رب کی نماز پڑھو تلاوت کی۔ متفق علیہ۔ اسے ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابوداود نے رزین عقیلی سے روایت نقل کی ہے کہا، میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کا دیدار کرے گا ؟ حضرت ابن معاذ نے کہا، قیامت کے روز تنہا تنہا دیکھے گا فرمایا ہاں، اے ابارزین۔ پوچھا مخلوق میں سے اس کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا اے ابارزین، کیا تم میں سے ہر کوئی چاند کو نہیں دیکھتا، حضرت ابن معاذ نے کہا چودہویں رات کو تنہا تنہا، ہم نے عرض کی، کیوں نہیں، کہا اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہے، ابن معاذ نے کہا، فرمایا، چاند تو اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم و برتر ہے۔
ابواسحاق ثعلبی کی تفسیر میں زبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ہمارا رب عزوجل جلوہ افروز ہوگا یعنی یہاں تک کہ جنتی اس کا دیدار کریں گے وہ اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمائے گا، اپنے سراٹھا لویہ عبادت کا وقت نہیں۔ ثعلبی نے کہا، مجاہد کا قول کہ وہ اپنے رب کی جانب سے تو اب کے منتظر ہوں گے اور مخلوقات میں سے کوئی اس کا دیدار نہیں کرے گا تو یہ محل نظر تاویل ہے کیونکہ عرب جب نظر کو انتظار کے معنی میں استعمال کرتے تو وہ کہتے ہیں، نظرتہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھل ینظرون الا الساعۃ۔ الزخرف 66) وہ صرف قیامت کا انتظار کرتے ہیں، ھل ینظرون الاتاویلہ۔ الاعراف 53) کافر کس چیز کا انتظار کررہے ہیں، کہ قرآن کی دھمکی کا انجام کیا ہوتا ہے، ماینظرون الاصیحۃ واحدہ۔ یاسین 49) وہ ایک ہی چیخ کا انتظار کررہے ہیں جب اس سے تفکر اور تدبر کا ارادہ ہو تو اس وقت وہ کہتے ہیں نظرت فیہ مگر جب یہ الفاظ الی یا وجہ کے ذکر کے ساتھ ملا ہو تو اس وقت یہ دیکھنے کے معنی میں ہوگا۔ ازہری نے کہا، مجاہد کا قول کہ وہ اپنے رب کے ثواب کا انتظار کرتے ہوں گے غلط ہے کیونکہ یہ نہیں کہا جاتا نظر الی کذا۔ کہ اس نے اس کا انتظار کیا، کسی کا یہ کہنا نظرت الی فلان یہ آنکھ سے دیکھنا ہی ہوتا ہے عرب بھی اس طرح کہتے ہیں جب وہ آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ کریں تو وہ کہتے ہیں، نظرت الیہ جب وہ انتظار کا ارادہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں، نظرتہ، شاعر نے کہا : فانکما ان تنظرانی ساعۃ، من الدھر تنفعنی لدی ام جندب۔ اگر تم مجھے ایک ساعت مہلت دیتے تو وہ ساعت مجھے ام جندب کے ہاں نفع دیتی۔ جب اس نے انتظار کا ارادہ کیا تو اس نے تنظر انی کہا، اور تنظرانی الی نہیں کہا، اگر وہ آنکھ سے دیکھنا مراد لیں تو وہ کہتے ہیں، نظرت الیہ، شاعر نے کہا : نظرت الیھا والنجوم کا نھا، مصابیح رھبان تشب لقفال۔ میں نے اسے دیکھا جب کہ ستارے گویا راہبوں کے چراغ ہیں جو پلٹے والوں کے لیے روشن کیے گئے ہیں ایک شاعر نے کہا، نظرت الیھا بالمحصب من منی، ولی نظرلولا التحرج عارم۔ میں نے منی سے اس کی طرف دیکھا جو محصب میں تھی اگر گناہ نہ ہوتا تو میری نظر بدخلق ہوتی۔ ایک اور شاعر نے کہا، انی الیک لما وعدت لناظر، نظر الفقیر الی الغنی الموسر۔ میں تیرے وعدہ کی طرف اس طرح دیکھنے والا تھا جس طرح محتاج خوشحال کی طرف دیکھتا ہے۔
یعنی میں تیری طرف عاجزی کی نظر سے دیکھ رہا تھا کیونکہ خشوع و خضوع کی نظر مسول کے دل کو زیادہ نرم کردیتی ہے، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ انہوں نے لاتدر کہ الابصار، وھو یدرک الابصار، الانعام 103) آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرتیں جبکہ وہ آنکھوں کا احاطہ کرلیتا ہے یہ دنیا میں ہوگا اس کے بارے میں گفتگو اس کے محل میں مفصل گزرچکی ہے۔ عطیہ عوفی نے کہا، وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اس کی عظمت کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں اس کا احاطہ نہ کرسکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نظر ان کا احاطہ کرلے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان، لاتدر کہ الابصار وھو یدرک الابصار۔ دلالت کرتا ہے۔
قشیری ابونصر نے کہا : الی کی جگہ الالاء ہے یعنی اس کی نعمتوں کا انتظار ہوگا یہ قول بھی باطل ہے کیونکہ الالاء کا واحد الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے یاء کے ساتھ نہیں لکھا جاتا پھر الالاء اس کی ان نعمتوں کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو دور کرنے والی ہوں جب کہ وہ جنت میں اپنی ذاتوں سے ناراضگی کے دور کرنے کا انتظار نہیں کررہے ہوں گے۔ جو آدمی کسی چیز کا انتظار کرتا ہے اس کی زندگی پریشان کن ہوتی ہے جنتیوں کی یہ صفت بیان نہیں کی جاتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں نظر کو وجہ کی طرف مضاف کیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، تجری من تحتھا الانھار۔ البقرہ 25) اس کے نیچے نہریں رواں ہوں گی پانی نہر میں چلتا ہے نہ کہ نہر چلتی ہے۔ بعض اوقات وجہ، آنکھ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا۔ یوسف 93) تم اسے میرے باپ کی آنکھوں پر ڈالنا وہ روشن ہوجائیں گے قیامت کے روز قانون کو بدل دینا کوئی بعید نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کا فعل چہرے میں پیدا کردے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی۔ الملک 22) کیا وہ جو منہ کے بل چلتا ہے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ عرض کی گئی، یارسول اللہ وہ آگ میں منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جو ذات انہیں قدموں پر چلانے پر قادر ہے وہ انہیں منہ کے بل بھی چلانے پر قادر ہے۔