75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی جو ملامت کرنے والا ہے (خود اپنے آپ کو)

3 نفس لوامہ کی قسم اور اس کا مطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ " یہ بھی اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ انسان کے اندر بھلے برے کی تمیز اور اچھائی برائی کا فرق بہرحال ہمیشہ موجود رہا ہے ‘ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا موقع اور وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس لوامہ یا بالفاظ دیگر انسانی ضمیر کی موجودگی بھی اسی بات کی متقاضی ہے کہ قیامت قائم ہو ‘ تاکہ انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوں ‘ اور ہر حق دار کو اس کا پورا حق ملے ‘ ان دونوں قسموں کا جواب قسم محذوف ہے یعنی " لتبعثن ثم لتحاسبن " یا اس قسم کی کوئی اور عبارت کہ تم سب لوگ ضرور اٹھائے جاؤ گے اور تمہارا محاسبہ بھی ضرور بالضرور ہونا ہے ‘ سیاق کلام اس محذوف پر دال ہے (روح ‘ ابن کثیر ‘ صفوۃ التفاسیر ‘ محاسن التاویل ‘ مراغی وغیرہ) اور اس کو ذکر نہ کرنے میں یہ درس ہے کہ مقسم علیہ اتنا واضح ہے کہ اس کے اظہار وبیان کی ضرورت ہی نہیں ‘ گویا یہ قسم خؤد اپنے مقسم علیہ کی دلیل ہے ‘ جیسا کہ کہا جاتا ہے آفتاب آمد دلیل آفتاب "۔ یعنی سورج کا آنا ہی سورج کی دلیل ہے ‘ نیز چونکہ اس کے بعد والی آیات سے اس کا ثوبت ملتا ہے اس لئے اس کو صراحتۃ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہرکیف اس قسم سے واضح فرما دیا گیا کہ اثبات قیامت کیلئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا عکس ہر انسان کے باطن کے اندر موجود ہے۔ اور وہ اس پر خود گواہ بھی ہے۔ خواہ اس کے انکار کیلئے وہ کتنی ہی حجت بازیاں کرے۔ نفس لوامہ کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں بلکہ وہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے اور اس کا ایک اور پہلو ہے نفس امارہ بالسوء جس کا ذکر سورة یوسف کی آیت نمبر 53 میں فرمایا گیا۔ اور اسی کا ایک اور پہلو ہی نفس مطمئنہ جس کا ذکر سورة فجر کی آیت نمبر 27 میں فرمایا گیا ہے۔ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے انڈر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت فرما دیا ہے اور اس کی سعادت و شقاوت کیلئے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو کوئی اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پائے گا اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ کرے گا وہ نامراد ہوگا۔ جیسا کہ سورة شمس کی آیت نمبر 7 سے آیت نمبر 10 تک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الہادی الی سواء السبیل۔
Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم (دوبارہ) جمع نہ کرسکیں گے اس کی ہڈیوں کو ؟

4 منکرین قیامت کے استبعاد کا ذکر وبیان : سو منکرین قیامت کے استبعاد کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم جمع نہ کرسکیں گے اس کی ہڈیوں کو ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا " قال من یحی العظام وھی رمیم " (یٰسین :78) یعنی ایسا منکر انسان کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ان ہڈیوں کو جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟ کہ ان پر سینکڑوں ‘ ہزاروں ‘ لاکھوں برس گزر گئے ہوں گے اور وہ گل سڑ کر ختم ہوچکی ہوں گی ‘ جیسا کہ کفار کا کہنا تھا " من یحی العظام و ھی رمیم " سو ایسے منکر لوگوں سے اس سوال کے انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے اور اس اچنبھے میں مبتلا ہو ؟ کہو ان کو کون زندہ کرسکتا ہے جبکہ یہ گل سڑ چکی ہوں گی۔ سو اگر ایسے ہے تو یہ تمہاری اپنی کج فہمی اور تنگ نظری کا نتیجہ ہے کیونکہ تم لوگوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ دوبارہ اس طرح اٹھ کھڑے ہونے کا یہ کام از خود ہوجائے گا ‘ اگر تم سے اس طرح کی بات کہی گئی ہوتی تو تمہارے لئے یقینا اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا موقع تھا ‘ مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ان کو دوبارہ زندہ وہ اللہ کرے گا جس کی قدرت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سو اس کیلئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لیے دوسرے مقام پر منکرین کے اس استبعاد و استنکار کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا " قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ وھو بکل خلق علیم " (یٰسین :79) ۔ یعنی " ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ سو دور جانے کی ضرورت نہیں تمہارا وجود خود اعادئہ کی دلیل اور اس کا ثبوت ہے۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں جب کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ پوری طرح برابر کردیں اس کے پور پور تک کو

5 اللہ تعالیٰ کے کمال قدر کا ایک خاص مظہر حوالہ و ذکر : ایقاع قیامت کیلئے اللہ پاک کے کمال قدرت کے ایک خاص مظہر کے حوالہ و ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہاں کیوں نہیں ہم تو اس پر بھی قادر ہیں کہ جمع کردیں اس کے پورا کو تو انگلیوں کے پور جو کہ ہماری نہایت باریک اور پر حکمت کاریگری کا مظہر اور ایک عظیم الشان شاہکار ہیں ‘ ان کو بھی جب ہم ویسے ہی دوبارہ برابر بنا دینے پر قادر ہیں ‘ تو ان لوگوں کو پھر زندہ کرکے اٹھانے اور دوبارہ بنانے پر آخر ہم قادر کیوں نہ ہوں گے ؟ واضح رہے کہ انسانوں کے پوروں کی تخلیق و ترکیب قدرت کی ایک ایسی عظیم الشان صنعت و کاریگری ہے کہ عقل انسانی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ ہر شخص کے پوروں کی لکیریں اور اس کے نقش و نگار دوسروں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ اسی لئے مختلف قسم کے ملزموں اور مجرموں کی انگلیوں کے ان نشانوں (Finger Prints) کو تھانوں اور پولیس اسٹیشنوں وغیرہ میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر شناخت اور پہچان کیلئے ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور اس کیلئے خاص مہارت اور تجربہ رکھنے والے ( expert) کارندے متعین ہوتے ہیں ‘ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر شخص کے پوروں کے نشان دوسرے شخص کے نشانات سے مختلف ہوتے ہیں ‘ ورنہ اس ریکارڈ کے رکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ‘ سو جو قادر مطلق ان پوروں کو جوڑنے پر بھی قادر ہے ‘ اس کیلئے انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالی۔ٰ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان کی صرف ہڈیاں ہی جمع نہیں کریں گے ‘ بلکہ ہم ان کے پوروں تک کو ٹھیک ٹھیک جوڑ دیں گے اور اس کو دوبارہ زندہ کرکے اس سے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب لیا جائے گا۔
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان دراصل چاہتا یہ ہے کہ وہ بدعملیاں کرتا رہے اپنی آئندہ زندگی میں

6 منکروں کی بہانہ بازی اور سخن سازی کا ذکر وبیان : سو اس سے منکروں کی راہ حق و ہدایت سے فرار کیلئے بہانہ بازی اور سخن سازی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ راہ حق سے فرار کیلئے اس بہانہ بازی اور سخن سازی کی اصل وجہ اتباع ھوی کا روگ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس کوئی حقیقی اشتباہ ان لوگوں کو نہیں ہے ‘ اور حقیقی اشتباہ ایک ایسی حقیقت بلکہ حقیقت کبریٰ کے بارے میں ہو ہی کیا سکتا ہے ‘ جو کہ عقل و نقل اور فطرت و عدل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسا منکر انسان دراصل یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں ہر قدغن و پابندی سے آزاد اور شتر بےمہار بن کر رہے اور بےنتھے بیل کی طرح جدھر چاہے نکل جائے اور جہاں چاہے منہ مارے اور اس طرح وہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر ایک حیوان محض بن جائے اور بس۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ اپنی خواہشات کے غلام بن چکے ہیں اور اتباع ھوی ہی ان کی بیماری اور ہلاکت و بربادی کی اصل جڑ بنیاد ہے ‘ اور اسی بناء پر ایسے لوگ راہ حق سے گریز و فرار کیلئے ایسی بہانہ سازی اور حیلہ سازی کرتے ہیں ‘ ورنہ انکار قیامت کیلئے کسی شبہ و اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ سو یہ " امامہ "۔ " اپنے سامنے " کا ایک مطلب ہے جو کہ زیادہ مشہور و معروف بھی ہے اور عام مفسرین کرام کا اختیار بھی۔ جبکہ اس کا دوسرا مطلب جس کو حضرات اہل علم میں سے بعض نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ امامہ کی ضمیر کا مرجع دراصل وہ ضمیر انسانی ہے نفس لوامہ کے ضمن میں مذکور ہے۔ اور جو انسان کے باطن کے اندر بیٹھا ایک مخفی و مستور قاضی و محتسب ہے۔ پس جو انسان برائی کرنا چاہتا ہے وہ دراصل اپنے اندر کے اس مخفی و مستور قاضی و محتسب کے سامنے برائی کرنا چاہتا ہے اور انسان کے ضمیر یعنی نٰس لوامہ کو چونکہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے انسان کے اندر مقرر فرمایا ہے اس لئے اس کے سامنے برائی کا ارتکاب کرنے والا دراصل حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے سامنے اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس بنا پر ایسا بگڑا ہوا انسان آخرت کا انکار کرتا ہے تاکہ اس کی اس خواہش پرستی اور من مانی کے اندر کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے پائے اور وہ شتر بےمہار بن کر جدھر چاہے منہ اٹھا کر چل دے۔ لیکن نفس لوامہ کی صورت میں موجود اس کے اندر یہ فطری عدالت اس کو رہ رہ کر آخرت کی اس عدالت کبریٰ کی تذکیر و یاددہانی کراتی ہے جس میں سب لوگوں کا آخری اور کامل فیصلہ ہوگا جس کے نتیجے میں انسان کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ سو " امامۃ " کا یہ مطلب زیادہ لطیف و دقیع اور دل کو لگنے والا بھی ہے اور نفس لوامہ کی قسم کے زیادہ مناسب بھی۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 75:6

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

وہ پوچھتا ہے (استہزا و انکار کے طور پر) کہ صاحب آخر کب آنا ہے قیامت کے اس دن نے ؟

7 منکر انسان کی حماقت و جسارت کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے منکر انسان کی حماقت و جسارت اور اس کی ڈھٹائی کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا منکر انسان پوچھتا ہے کہ آخر کب آئے گا قیامت کا وہ دن ؟۔ سو منکر لوگ استہزاء و تمسخر کے طور پر ایسے کہتے ہیں ‘ یہاں سے پھر وہی بات سامنے آتی ہے جو کہ اس سے پہلے بھی ہم کئی جگہ بیان کرچکے ہیں کہ قیامت کا انکار دراصل آدمی کو قطعی طور پر ایک لاپروا اور غیر ذمہ دار شخص بنا دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بجائے اس کے کہ انسان اس پر سنجیدگی سے غور کرے ‘ اور عمر رواں کی فرصت محدود میں آخرت کیلئے کمائی کی فکر کرے ‘ وہ الٹا ایسے لایعنی اور لا ابالی سوال کرکے اپنی گمراہی اور سیاہ بختی میں مزید اضافہ کرتا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا لاپرواہ شخص ڈھیٹ بن کر کہتا ہے کہ آخر کب آئے گا قیامت کا وہ دن ؟ اس نے اگر واقعی آنا ہے تو پھر آ کیوں نہیں جاتا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ ہم اس کے ڈراوے سنتے سنتے تھک گئے ہیں۔ اس نے نہ آنا تھا نہ وہ آئی۔ لہٰذا ہم ایسے ڈراو وں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ سو اس سے منکرین کی حماقت و جسارت اور ان کی جہالت اور ڈھیٹ پنے کا مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قدم اپنی رضا کی راہوں ہی پر بڑھانے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

سو جب (مارے دہشت و حیرت کے) خیرہ ہوجائیں گی ان کی نگاہیں

8 وقوع قیامت کے کچھ احوال کا ذکر وبیان : سو وقوع قیامت سے متعلق کچھ احوال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب خیرہ ہوجائیں گی نگاہیں اس کی ہولناکی کی بنا پر کہ ان کے کفر و انکار کے علی الرغم وہ یوم عظیم اپنی تمام تر ہیبت ناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگا ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : " تشخص فیہ الابصار " (ابراہیم :42) ۔ " کہ اس روز آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ قیامت کے دکھائے جانے کا ان لوگوں کا مطالبہ تو بالکل احمقانہ مطالبہ تھا۔ اس لئے اس سے تو یہاں تعرض نہیں فرمایا گیا ‘ البتہ اس کی بعض ہولناکیوں کا ذکر فرما دیا گیا کہ وہ جب آئے گا یہ اور یہ احوال و اھوال آئیں گے ‘ اس لئے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کی جائے کہ اس کے آجانے کے بعد پھر کسی عمل اور تیاری وغیرہ کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ کہ آخرت کیلئے کسب و کمائی کا موقع اسی دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت محدود و مختصر میں ہے اور بس ‘ بس اس کے ہر ہر لمحہ کو رب کی رض اور آخرت کی تیاری کیلئے صرف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور بےنور ہوجائے گا (یہ چکمتا دمکتا) چاند

9 چاند کے بےنور ہوجانے کا ذکر اور اس کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور جب بےنور ہوجائے گا چمکتا دمکتا چاند۔ اور اس کی یہ پرکیف و فرحت بخش روشنی و چاندنی ختم ہوجائے گی ‘ جس کی بنا پر اس کے پجاری اس کی پوجا کرتے ہیں ‘ وہ اس سے رخصت ہوجائے گی اور یہ ایک سیاہ کرہ بن کر رہ جائے گا ‘ (روح وغیرہ) اور جب سورج کی روشنی ختم ہوجائے گی تو چاند کی روشنی خود بخود ختم ہوجائے گی ‘ کہ چاند کی روشنی سورج کی روشنی ہی سے مستفاد ہوتی ہے۔ سو جس طرح دنیا میں چاند گرہن کے موقع پر چاند بےنور ہوجاتا ہے اسی طرح قیامت کے اس ہولناک دن میں یہ بےنور ہوجائے گا مگر فرق یہ ہے کہ دنیا میں گہن کے موقع پر چاند بےنور ہوجاتا ہے اسی طرح قیامت کے اس ہولناک دن میں یہ بےنور ہوجائے گا مگر فرق یہ ہے کہ دنیا میں گہن لگنے کے بعد اس کو دوبارہ نور مل جاتا ہے مگر اس دن کی اس بےنوری کے بعد اس کو پھر روشنی نہیں مل سکے گی کہ اس کے بعد ایک اور جہاں نمودار ہوگا جو بالکل نئے اور دائمی و ابدی قوانین و نوامیس پر مبنی و قائم ہوگا۔ اور جہاں کی روشنی کا نظام بھی الگ اور بالکل مختلف قسم کا ہوگا۔
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور جمع کردیا جائے گا (بےنور ہونے میں) سورج اور چاند کو

10 سورج اور چاند کی یکجائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جمع کردیا جائے گا سورج اور چاند کو اور ان کی باہمی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی۔ نیز یہ کہ یہ دونوں بےنور ہوجائیں گے ‘ یا دونوں ایک ہی مطلع سے طلوع کریں گے ‘ اور بعض نے یہ بھی کہا کہ دونوں کو اکٹھا کرکے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ‘ تاکہ ان پوجا کرنے والوں کی آگ اور بھی زیادہ بھڑکے اور مجرمین کو اور بھی جلائے ‘ روی ذالک عن مجاہد (طبری ‘ قرطبی ‘ محاسن ‘ ابن کثیر وغیرہ) سو آج تو سورج اور چاند کے یہ دونوں عظیم الشان کرے۔ (کل فی فلک یسبحون " کے مصداق اپنے اپنے مدار میں اس طرح چلے جا رہے ہیں کہ کوئی دوسرے کے راستے میں دخل نہیں دے سکتا ‘ مگر اس یوم عظیم میں جب زمین الٹی گردش کرے گی تو شمس و قمر کے یہ دونوں عظیم الشان کرے بےنور ہو کر یکجا مغرب سے طلوع کریں گے (تفسیر المراعی وغیرہ) ۔ ان کی یہ انتہائی مضبوط اور پر حکمت حدبندیاں اس روز ختم ہوجائیں گی اور یہ سارا مضبوط و مستحکم نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اور ایک نیا جہاں نئے نوامیس و قوانین کے تحت وجود میں آئے گا جس کی پوری حقیقت کو اس دنیا میں جاننا کسی کے بس میں نہیں۔ سو وہی جہان حقیقی اور ابدی جہاں ہوگا جہاں کے ثواب و عقاب کی ہر کیفیت اور ہر شکل دائمی ‘ ابدی اور حقیقی ہوگی ‘ اور وہیں کی کامیابی اصل اور حقیقی کامیابی ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس روز (مارے خوف و حیرت کے) کہے گا یہ انسان کہ اب کدھر کو بھاگوں میں ؟

11 منکر انسان کی اس روز کی حواس باختگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر کو بھاگوں ؟ یعنی یہی بےفکر ‘ ناشکرا اور لاپروا انسان جو آج اپنی محرومی اور بدبختی کی بناء پر انکار و استہزاء کے طور پر کہتا ہے کہ آخر کب آئے گا قیامت کا وہ دن ؟ " یسال ایان یوم القیمۃ "۔ اس روز یہ اس طرح چیخ اٹھے گا کہ اب کدھر کو بھاگوں ؟ اور کیسے اپنے بچاؤں کا سامان کروں ؟ اس پر ایسی حواس باختگی طاری ہوگی کہ اس کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور یہ ایک طبعی اور فطری امر ہے کہ جس قیامت کا وہ ساری عمر انکار کرتا اور اس کا مذاق اڑاتا رہا تھا وہ اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہوگی۔ مگر اس وقت کی اس پریشانی اور چیخ و پکار سے اس کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 75:11

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی

12 منکرین کیلئے اس روز کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ : سو منکر انسان کے قول " این المفر "۔ " اب کدھر بھاگوں ؟ " کے جواب میں اس سے کہا جائے گا ہرگز نہیں اس روز کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی : جس سے تم اپنے بچاؤ کی کوئی صورت کرسکو ‘ جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے ‘ سو یہ ان کے اس قول کا جواب ہوگا کہ اب کدھر کو بھاگیں ؟ پس اس سے ان کو آگاہ کردیا جائے گا کہ اب اس انجام سے بچنے اور بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ‘ اب نہ تمہیں کوئی ٹھکانہ مل سکتا ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ میسر آسکتی ہے ‘ کیونکہ اس کا مقع و مقام دنیاوی زندگی میں تھا جو تم لوگوں نے کفر و انکار میں گنوا دی ‘ پس اب اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتو اور بھگتتے رہو ‘ والعیاذ باللہ۔ سو جن لوگوں نے مختلف سہارے گھڑ رکھے تھے اور مختلف قسم کی دیویوں ‘ دیوتاؤں اور خود ساختہ سرکاروں پر تکیہ کر رکھا تھا وہ سب کچھ اس روز " ھباءا منثورا " ہوجائے گا اور ان کی یاس و حسرت کی کوئی حد اور انتہاء نہ رہے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہ پر قائم رکھے۔ آمین۔
Ayah 75:12

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

تیرے رب ہی کے پاس اس روز جا ٹھہرنا ہوگا (سب کو)1

13 اس روز سب کا آخری ٹھکانا رب ہی طرف ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز سب کو تمہارے رب کے حضور ہی جاٹھہرنا ہوگا : اور وہاں اپنے دائمی ٹھکانے میں جانا ہوگا ‘ یا جنت کی صورت میں نیک لوگوں کیلئے " جعلنا اللہ منھم " یا دوزخ کی شکل میں مجرموں کیلئے والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح سب لوگ اہل جنت اور اہل دوزخ کے دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ‘ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں اور دائمی طور پر پورے ہوسکیں ‘ اور اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر گروہ اپنے حتمی اور دائمی انجام کو پہنچ جائے ‘ جیسا کہ سورة روم میں فرمایا گیا " و یوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون " (الروم :14) یعنی " جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز سب لوگ پھٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ " پھر اس کے بعد ان دونوں گروہوں کی تفصیل بیان فرمائی گئی ‘ اور سورة شوریٰ میں فرمایا گیا " فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر " (الشوریٰ :7) ۔ یعنی " ایک فریق اس روز جنت میں جائے گا اور ایک دوزخ میں "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کوئی چاہے یا نہ چاہے مانے یا نہ مانے ‘ سب کا آخری ٹھکانہ تمہارے رب کے حضور ہی ہوگا ‘ اس سے گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن نہیں ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " وان الی ربک المنتھی " (النجم :42) ۔ یعنی " تمہارے رب ہی کی طرف ہے آخری ٹھکانے اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر اور سب پر مقدم رکھے کہ اپنے رب کے یہاں کی وہ پیشی اور اس کے یہاں وہ حضور صحیح اور اس کی رضا و خوشنودی کے مطابق ہو کہ وہی اصل مقصد ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس روز انسان کو (پوری طرح) بتادیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ اس نے آگے بھیجا ہوگا اور جو کچھ کہ اس نے پیچھے چھوڑا ہوگا2

14 قیام قیامت کے مقصد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز انسان کو اس کا کیا کرایا سب بتادیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے رکھا۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی کی حیات مستعار ‘ اور فرصت محدود میں ‘ خواہ وہ نیک اعمال کی صورت میں ہو ‘ خواہ اعمال بد کی شکل میں والعیاذ باللہ یعنی اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کے وہ آثار اور نتائج وثمرات جو یہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا ‘ اور جو اس کی موت کے بعد بھی زمانہ دراز تک پچھلی نسلوں میں چلتے رہے ‘ نیک ہوں تو بھی اور بد ہوں تو بھی ‘ نیز اس کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اس کو کیا کرنا چاہیے تھا مگر اس نے غفلت و لاپرواہی کی بناء پر نہیں کیا ‘ اور کیا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر اس نے ہویٰ و ہوس کی پیروی میں اس کو کر ڈالا ‘ نیز جو کچھ اس نے اپنی زندگی کے پہلے دور میں کیا تھا وہ بھی ‘ اور جو بعد کے دور میں کیا وہ بھی ‘ کہ ماقدم اور آخر کا عموم ان سب ہی مطالب و مفاہیم کو شامل ہے " اللھم فخذنا بنو اصینا الی ماتحب وترضی من القول والعمل فی کل مرحلۃ من المراحل و بکل حال من الاحوال المین " اور بتادینے سے مراد صرف خبردار کردینا نہیں ‘ بلکہ یہ ہے کہ ہر کسی کو اس کا پورا پورا صلہ اور بدلہ دیا جائے گا ‘ سو اس یوم عظیم و رہیب کی بھول کو اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بڑے ہی ہولناک خسارے کا سودا ہے ‘ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے قیام قیامت کے مقصد کو واضح فرما دیا گیا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوسکیں۔
Ayahs 75:14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے آپ کو خود ہی اچھی طرح جانتا ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ وہ کتنے ہی بہانے (کیوں نہ) پیش کرے

15 انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے : سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان اپنے آپ کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے کہ اس کیلئے اس کے اپنے قلب و ضمیر کی اس کی اپنی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی ‘ سو دنیا میں بھی کہ وہ اپنے کیے سے نواقف نہیں اور قیامت میں بھی کہ اپنآ سب کچھ کیا دھرا اسے یاد بھی ہوگا ‘ اور وہاں اس کو حاضر و موجود بھی پائے گا۔ " ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا یظلم ربک احد سو انبائ " یعنی خبر دینے اور اشہاد یعنی گواہ رکھنے کی کارروائی تو ایک طرح سے ضابطے کی کارروائی کی تکمیل ہوگی ‘ ورنہ انسان کو اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ وہ اپنے کیے سے خود ہی بخوبی آگاہ اور اس پر گواہ ہوگا ‘ اور وہ خود جانتا ہے اور جانتا ہوگا کہ وہ کس بدلے اور کیسی سزا و جزا کا مستحق ہے ‘ سو انسان قیامت سے گریز و فرار کیلئے کتنے ہی بہانے اور حیلے ڈھونڈے ‘ وہ اپنے نفس پر خود ہی حجت ہے ‘ اور اس کے اندر نفس لوامہ کی صورت میں قیامت کا ایک شاہد موجود ہے۔ جو اس کو برائی پر ٹوکتا اور اس سے روکتا رہتا ہے اور اس طرح وہ اس کو قیامت کی اس عدالت کبریٰ اور اس کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی کراتا رہتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ اگرچہ وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ معاذیر جمع ہے عذر یا معذار کی ‘ اور بعض نے کہا کہ یہ معذرت کیلئے اسم جمع ہے ‘ بہرکیف اس کے معنی عذر اور بہانہ بازی ہی کے ہیں (جامع البیان ‘ صفوۃ البیان ‘ مدارک وغیرہ) سو بہانے پیش کرنے کا وطیرہ تو وہ یونہی اپناتا ہے ورنہ اپنی پوزیشن اور اصل حقیقت سے وہ خود پوری طرح آگاہ اور واقف ہوتا ہے ‘ اور معاذ برکا اصل اطلاق جھوٹے بہانوں اور لاطائل عذرات ہی کیلئے ہوتا ہے ‘ اسی لئے عربی مثل میں کہا جاتا ہے " المعاذر مکاذب " یعنی " معاذر سب جھوٹے ہی ہوتے ہیں "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایک جھوٹا انسان دنیا کو تو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن خود وہ اپنے بارے میں جانتا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ ایک چور دنیا کو تو جل دے سکتا ہے اور یہ باور کراسکتا ہے کہ اس نے چوری نہیں کی ‘ لیکن اپنے ضمیر کے سامنے وہ چور ہے ہی۔ اسی طرح ایک ظالم ‘ ایک خائن اور بددیانت شخص اپنی صفائی کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے اور اپنی چرب لسانی کے بڑے مظاہرے کرسکتا ہے ‘ لیکن اس کے اندر اور اس کے ضمیر کی آواز تو اس سے مخفی نہیں ہوسکتی اور اس کے اندر کی عدالت اس سے صاف صاف اور بار بار کہہ رہی ہوتی ہے کہ تو اصل میں کیا ہے اور لوگوں کے سامنے کیا ظاہر کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 75:16–17

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور اپنی زبان کو مت ہلایا کرو اس (قرآن) کے ساتھ (اے پیغمبر ! ) اس کو جلدی جلدی یاد کرلینے کی غرض سے

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

بلاشبہ ہمارے ذمے ہے اس کو جمع کردینا (آپ کے سینے میں) اور اس کو پڑھا دینا (آپ کی زبان سے)

16 پیغمبر کیلئے ایک خاص بشارت کا ذکر وبیان : سو اس سے پیغمبر کی تسکین و تسلی کے لئے ایک عظیم الشان بسارت اور بےمثال مژدئہ جانفزا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کیلئے آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی یاد کرلینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلایا کریں۔ بلاشبہ ہمارے ذمے ہے اس قرآن کو جمع کرنا اور اس کو پڑھا دینا۔ لہٰذا آپ ﷺ کو اس بارہ فکر کرنے اور تکلیف اٹھانے اور مشقت برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘ کہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے ‘ روایات میں وارد و منقول ہے کہ جب جبریل امین وحی لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خیال سے کہ کہیں یہ بھول نہ جائے آپ ﷺ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے لگ جاتے جس سے ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو بڑی مشقت اٹھانا پڑتی تھی ‘ تو اس پر آپ ﷺ کو ان آیات کریمہ کے ذریعے جملہ معترضہ کے طور پر یہ ہدایت فرمائی گئی اور تسلی دی گئی کہ آپ ﷺ ایسا نہ کریں اور بھول جانے کا خدشہ نہ رکھیں ‘ چناچہ اس کے بعد آپ ﷺ خاموشی اور اطمینان کے ساتھ جبریل امین (علیہ السلام) سے کلام الٰہی سنتے ‘ اور وہ آپ کو پورے کا پورا یاد بھی ہوجاتا ‘ اور اس کے معانی و مطالب بھی ازبر ہوجاتے ‘ اور ایسے کیوں نہ ہوتا جب کہ اس کی ذمہ داری حضرت حق جل مجدہ نے اس قدر صاف وصریح طور پر اور واضح اور موکد انداز میں اپنے ذمے لے لی تھی سبحانہ و تعالیٰ ‘ سو یہ بھی دراصل آنحضرت ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ تھا جس سے قدرت کی فیاضیوں نے آپ ﷺ کو نوازا تھا کہ جو قرآن حکیم ہم جیسے عام لوگوں کو عمریں صرف کرنے کے باوجود نہیں آتا ‘ وہ آپ ﷺ کو جبریل امین سے سنتے ہی یاد ہوجاتا تھا ‘ اس کی آیتیں بھی ازبر ہوجاتی تھیں اور اس کے تمام معانی و مطالب بھی پوری طرح معلوم ہوجاتے تھے ‘ جو آپ ﷺ زندگی بھر دنیا کو سکھاتے رہے ‘ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کو یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو تو آپ اس کو جلدی یاد کرنے کی غرض سے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں بلکہ اسے خاموشی سے سنیں۔ اس کے لفظ لفظ کو آپ کے سینے میں محفوظ کردینا اور اس کو ٹھیک ٹھیک بڑھا دینا ہمارے ہی ذمے ہے۔ سبحان اللہ۔ کتنا بڑا شرف و کرم ہے جس سے حضرت امام الانبیاء ﷺ کو نوازا گیا۔
Ayahs 75:18–19

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پس جب ہم اس کو پڑھا کریں تو آپ غور سے سنتے رہا کریں اس کے پڑھنے کو

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر ہمارے ہی ذمے ہے بیان کردینا اس (کے معانی و مطالب) کو

17 قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہمارے ذمے ہے اس کو بیان کرنا۔ یہ اسی سلسلہ میں حضور ﷺ کو مزید اطمینان دلایا گیا کہ قرآن پاک کے معانی و مطالب کو بیان کرنآ بھی ہمارے ہی ذمے ہے ‘ اگر کسی مقام پر قرآن حکیم کے کسی معنی و مطلب کی وضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی ہمارے ہی ذمے ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ کو اس بارے میں پریشان اور فکرمنڈ ہونے کی ضرورت نہیں۔ سو قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھی۔ جبریل امین اس ضمن میں محض ذریعہ اور واسطہ تھے۔ اور جو علوم و معارف اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سکھلائے ‘ وہ آپ نے آگے لوگوں تک پہنچا دیئے اور ان کو سکھائے اور بتائے۔ کیونکہ آپ کا منصب ہی تبلیغ حق اور تعلیم وحی تھا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ " (المائدہ :6) ۔ یعنی " اے رسول پورا کا پورا پہنچا دو اس پیغام حق کو جو اتارا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔ اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم " (النحل :44) یعنی یہ ذکر ہم نے آپ کی طرف اس لئے اتارا کہ تاکہ آپ لوگوں کیلئے بیان کردیں وہ سب کچھ جو کہ ان کی طرف اتارا گیا ہے۔ اور پیغمبر نے قرآنی علوم و معارف کے بیان اور وحی کی تعلیم و تبلیغ کے سلسلے میں جو کچھ ارشاد فرمایا وہی حدیث ہے۔ پس دین اسلام کے دو بنیادی مصدر و ماخذ ہیں۔ قرآن حکیم اور سنت رسول کریم ﷺ کی حدیث رسول قرآن حکیم کی اولین اور سب سے اہم اور معتبر تفسیر و تشریح ہے۔
Ayah 75:20

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ محبت رکھتے ہو جلد ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے

18 منکرین کے زعم باطل کی تاکیدی تردید : سو پیغمبر کی تعلیم و تلقین سے متعلق جملہ معترضہ کے بیان کے بعد سلسلہ کلام اصل موضوع کی طرف مڑگیا اور منکرین کے زعم باطل کی تردید کیلئے فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ہرگز ویسا نہیں جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے اے منکرو ‘ کہ قیامت نہیں ہوگی اور کوئی حساب کتاب نہیں ہونا بلکہ انسان یونہی کیڑے مکوڑوں کی طرح مرگل کر اور مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا ‘ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں ‘ بلکہ ہر کسی کو پھر زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور زندگی بھر کے اپنے تمام کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے ‘ اچھے عمل و کردار کا اچھا اور عمدہ پھل اور اتنا اچھا اور عمدہ کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین اور برے عمل و کردار کا نہایت برا اور انتہائی ہولناک صلہ و بدلہ ‘ اور ایسا ہولناک اور اس قدر برا کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا اور ہونا چاہیے اور ضرور ہونا چاہیے اور ہو کر رہے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی اصل اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ ورنہ اس ساری کائنات کا وجد عبث اور بےکار ہو کر رہ جائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی حکمت کے خلاف اور اس سے بعید ‘ بہت بعید ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس قیامت کا وقوع عل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ یہ خالق حکیم کی حکمت کا تقاضا ہے۔
Ayah 75:21

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور تم چھوڑ رہے ہو آخرت (کی اصل اور حقیقی زندگی) کو

19 انکار آخرت کا اصل سبب حب دنیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انکار آخرت کے اصل سبب اور حقیقی باعث کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ تم لوگ محبت کرتے ہو جلد ملنے والی چیز یعنی دنیا سے۔ سو اس سے انکار قیامت کی دوسری وجہ بیان ٰرمائی گئی ہے ‘ جیسا کہ پہلے آیت نمبر 5 میں اس کی پہلی وجہ یہ بیان فرمائی گئی تھی کہ " بل یرید الانسان لیفجر امامہ "۔ اب یہ اس کی دوسری وجہ بیان فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ انکار قیامت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کوتاہ بین اور تنگ نظر انسان کی نظریں اسی دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں میں اٹک کر رہ گئی ہیں ‘ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے ‘ اور اسی میں الجھ کر وہ آخرت کی حقیقی کامل اور ابدی زنڈگی کو بھول گیا ہے ‘ حالانکہ آخرت کی وہ زندگی اور اس کی نعمتیں دنیاوی زندگی اور اس کی نعمتوں سے کہیں زیادہ بہتر بھی ہیں ‘ اور ابدی و دائمی بھی ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا٭ والاخرۃ خیر وابقی " (الاعلیٰ :16 ۔ 17) ۔ سو جب دنیا اور اس کی آخرت پر ترجیح بیماریوں کی بیماری اور خرابیوں کی خرابی ہے۔ جیسا کہ مشہور روایت میں ارشاد فرمایا گیا : " حب الدنیا راس کل خطیئۃ "۔ یعنی " دنیا کی محبت ہر خطا و قصور کی جڑ بنیاد ہے "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور نبی اکرم ﷺ نے دنیا کی بےثباتی کو طرح طرح سے واضح فرمایا ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا : " قد افلح من اسلم و رزق کفافا وقنعہ اللہ بما آتاہ۔ " یعنی " وہ آدمی یقینا فلاح پا گیا جس کو یہ تین چیزیں مل گئیں۔ یعنی ایمان و اسلام کی دولت ‘ بقدر کفاف و ضرورت رزق و روزی اور اللہ کے دیے بخشے پر قناعت۔ وہ باللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العامین۔
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

بہت سے چہرے تو اس روز تروتازہ ہوں گے

20 قیامت کے روز فلاح پانے والوں کا ذکر وبیان : سو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں فلاح پانے والے خوش نصیبوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔ جو دنیا میں نور ایمان سے منور اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال رہے ہوں گے ‘ جس کی بناء پر وہاں پر وہ جنت کی ابدی اور دائمی نعمتوں سے سرفراز و سرشار ہوں گے ‘ اور ان کے دلوں کی خوشی کے آثار ان کے چہروں سے ہویدا ہوں گے ‘ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا " تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم " (التطفیف :24) ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو انہی خوش نصیب لوگوں میں سے کرے۔ آمین ثم آمین۔ سو جن لوگوں نے دنیاوی زندگی کو اصل مقصد بناکر اسی کو ترجیح دی ہوگی ‘ اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو انہوں نے فراموش کردیا ہوگا اور اپنی آخرت کی تیاری اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈل کر وہ اسی دنیا ہی کیلئے جئے ہوں گے ‘ وہ سخت خسارے میں ہوں گے ‘ ایسے زبردست اور ہولناک خسارے میں کہ اس کی تلافی وتدارک کی بھی کوئی صورت پھر ممکن نہ ہوگی ‘ اس کے برعکس جن لوگوں نے دنیا میں اخروی زندگی کو ترجیح دے کر اس کیلئے محنت کی ہوگی ‘ وہی حقیقی معنوں میں اور ہمیشہ کیلئے کامیاب ہوں گے ‘ اور ان کو دخول جنت سے پہلے ہی اس اخروی اور ابدی کامیابی کی بشارتیں ملنا شروع ہوجائیں گی ‘ فرشتے آگے بڑھ بڑھ کر ان کا استقبال کر رہے ہوں گے اور ان کو سلام کرتے اور خوشخبریاں دے رہے ہوں گے کہ تم نے دنیاوی زندگی صحیح طریقے سے گزاری اور تم کامیاب ہوگئے " سلام علیکم بما صبر تم فنعم عقبی الدار " (الرعد : 24) ۔ اللہ ہم سب کو انہی میں سے بننا نصیب فرمائے ‘ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے فلاح پانے والے خوش نصیبوں کی فائز المرامی کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ پس اسی کیلئے کوشش اور مسابقہ و مقابلہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وفی ذالک فلیتنا فس المتنافسون " (التطفیف :26) ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

21 اہل جنت کے ایک عظیم الشان انعام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے یعنی اپنے سر کی آنکھوں سے " اور علنا وجھارا " جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ تم قیامت میں اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح کہ چودہویں رات کے چاند کو بغیر کسی دقت اور دشواری کے دیکھتے ہو ‘ اور یہ سب سے بڑٔ نعمت ہوگی جس سے اہل جنت کو سرفرازی نصیب ہوگی ‘ جمہور امت صحابہ کرام تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین سب کا اس پر اتفاق ہے ‘ کہ قرآن و سنت کی نصوص اس کی تصریح کرتی ہیں ‘ معتزلہ اور خوارج کے کچھ لوگوں کے سوا اور کسی نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا ‘ اللہ پاک ہمیں بھی رویت باری عزاسمہ کی اس سب سے بڑی نعمت سے سرفرازی نصیب فرمائے ‘ آمین ثم آمین یا ارحم الراحیم ویا اکرم الاکرمین یا ذوالجلال والاکرام۔ لیکن یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ " نطر " کے بعد اگر " الی " کا صلہ آجائے۔ جیسا کہ یہاں ہے تو اس وقت اس میں انتظار کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ سو اس اعتبار سے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خوش نصیب اپنے رب کی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے منتظر ہوں گے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 75:24

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

جب کہ بہت سے چہرے اس روز بگڑے ہوئے ہوں گے

22 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کے ذکر کے بعد اہل دوزخ کے حال بد کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے چہرے اس روز بگڑے ہوئے ہوں گے۔ سو یہ کفار و منکرین اور فساد و مکذبین کے چہرے ہوں گے جو اس طرح بگڑے ہوں گے کہ اس کا اس جہاں میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ‘ اور ایسا اس لئے ہوگا کہ ان کو وہاں پر اپنی توقعات کے بالکل برعکس اور اپنی مزعومات کے یکسر خلاف معاملہ پیش آ رہا ہوگا ‘ کہ جس حقیقت کو وہ زندگی بھر جھٹلاتے رہے تھے۔ آج وہ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگی ‘ سو ایسے میں ان کی خجالت و شرمندگی کا ٹھکانا ہی کیا ہوگا ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن لوگوں نے آخرت کا انکار کرے اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کرکے زندگی گزاری ہوگی والعیاذ باللہ ‘ ان کے چہرے اس روز بری طرح بگڑے ہوئے ہوں گے۔ اور ایسے اور اس قدر کہ ان کی بدحالی ان کے چہروں مہروں سے ٹپک رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 75:25

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جانے والا ہے

23 منکرین کو کمر توڑ معاملے کا خوف و خدشہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سمجھیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جانے والا ہے۔ ان کے اپنے ان کرتوتوں کی بناء پر جو کہ دنیا کی زندگی میں انہوں نے کفر و تکذیب اور معصیت و نافرمانی کو اپنآ کر کئے ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان کا یہ ظن و گمان ایک اور عذاب ہوگا جس میں یہ بدبخت لوگ برابر جکڑے ہوئے ہوں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اس احساس و گمان کی بناء پر دوزخیوں کے چہروں پر بدحواسی طاری ہوگی ‘ ان کے رنگ بدلے ہوئے ہوں گے ‘ اور وہ نہایت ہی بدحالی میں مبتلا ہوں گے ‘ جبکہ اس کے برعکس ایمان والوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کی سب سے بڑی رحمت کے ظہور کے متوقع ہوں گے ‘ جس کی بناء پر انکے چہرے روشن و تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے ‘ اللہ اپنے کرم سے نضیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف " وبصدھا تتبین الاشیائ " یعنی اشیاء کی اضداد ہی سے ان کی اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوتی ہے۔ اصول و ضابطہ اور قاعدہ کلیہ کے مطابق یہاں پر فائزین و فالحین اور منکرین و ہالکین کے ان دونوں گروہوں کا ذکر ان کی خصوصیات کے ساتھ فرما دیا گیا ہے تاکہ ہر کوئی اپنے انجام کے بارے میں خود سوچ لے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں (ذرا یاد کرو اس وقت کو کہ) جب پہنچ جائے گی جان ہنسلی تک

24 منکرین کے زعم باطل کی تردید تاکید کے ساتھ : سو منکرین جو قیامت کو بعید از مکان سمجھتے ہیں ان کی تردید کیلئے کلا کے حرف ردع کے ساتھ مؤکد تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ہرگز ویسے نہیں ہے جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے اے منکرو ! کہ حساب کتاب اور سزا و جزا کچھ نہیں ہوگا وغیرہ ‘ اور یہ کہ ہم یونہی مر کر اور مٹ مٹاکر ختم ہوجائیں گے اور بس ‘ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں اور جنہوں نے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنی فرصت عمر کو یونہی ضائع کردیا ‘ وہ بڑے ہی خسارے میں ہونگے اور ایسے بڑے اور اس قدر ہولناک خسارے میں کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے جو کہ " عاجلہ " (دنیا) کی محبت میں مستغرق ہو کر اور اس کو آخرت پر ترجیح کر آخرت کی ابدی اور حقیقی زندگی اور اس کے تقاضوں سے نچنت اور بےفکر ہیں ان کو یاد کرایا جا رہا ہے کہ دنیا کی یہ زنڈگی جس پر تم لوگ مست و مگن اور نچنت اور بےفکر ہو موت کی آخری ہچکی سے تمام ہوجائے گی اور اس کے بعد تم لوگ آخرت کے اس ابدی جہان میں پہنچ جاؤ گے جہاں سے واپسی کا پھر کوئی امکان نہیں ہوگا۔ اس لئے متنبہ ہوجاؤ ورنہ ہمیشہ کا عذاب اور دائمی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔ 25 جانکنی کی تصویر اور آخرت کی یاددہانی : سو منکرین آخرت کو موت اور سفر آخرت کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وقت یاد کرو کہ جب روح پہنچ جائے گی ہنسلی کی ہڈی کو۔ یعنی جب روح بالکل نکلنے والی ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا : " فلولا اذا بلغب الحلقوم وانتم حینئذ تنظرون ‘ ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون " (الواقعۃ :83 ۔ 85) ۔ اور تقری اصل میں جمع ہے ترقوۃ کی ‘ جس کے معنی ہنس کی ہڈی کے آٹے ہیں ‘ سو اس ارشاد سے جانکنی کے وقت کی تصویر پیش فرما کر دنیا کے متوالوں اور غفلت کے ماروں کو چونکانے کا سامان کیا گیا ہے اور ان کو یہ درس عبرت دیا گیا کہ اس وقت کی بےبسی اور مایوسی کو یاد کرو ‘ اور اس کے پیش نظر قیامت کو بعید از امکان نہ سمجھو ‘ وہ اپنے وقت مقررہ پر بہرحال آکر رہے گی ‘ اور تم لوگوں کو اس دنیائے فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف بہرحال سفر کرنا ہے ‘ اور ایسا سفر کہ پھر اس سے واپسی کبھی اور کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکے گی ‘ لہٰذا اس کیلئے تیاری کرلو ورنہ ہمیشہ کا پچھتاوا رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟

26 وقت رحیل کی تذکیر و یاددہانی : سو نزع کی شدت اور مایوسی کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟ جو اس جاں بلب انسان کو جھاڑ پھونک کرے ‘ جیسا کہ آخری علاج کے طور پر ایسے کیا اور کہا جاتا ہے ‘ یہ معنی اس صورت میں ہے جب کہ راق کو رقیہ سے ماخوذ مانا جائے ‘ اور اگر اس کو رقی سے ماخوذ مانا جائے جس کے معنی چڑھنے اور اوپر جانے کے ہوتے ہیں ‘ تو اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا ‘ کہ کون اس کی روح کو اوپر لے جائے گا ‘ رحمت کے فرشتے اگر وہ نیک ہوا ‘ یا عذاب کے فرشتے اگر وہ برا ہوا ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف موت کی اس بےکسی اور بےبسی کے اظہار اور اس کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب انسان کی جان اس کے سینے تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اس کے اقرباء اور اس کے اردگرد جمع ہونے والے تیماردار وغیرہ کہیں گے کہ ہے کوئی اس مریض جان بلب کیلئے جھاڑ پھونک کرنے والا ؟ سو اس وقت مریض جان لے گا کہ اب یہ چل چلاؤ کا وقت ہے۔ سو اس وقت کسی کے بس میں کچھ نہیں ہوگا۔
Ayahs 75:28–29

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور جڑ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے

27 شدت ضعف اور بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا اور جڑ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے۔ جیسا کہ مرتے وقت دیکھنے میں آتا ہے اور اس کیلئے ایڑیاں رگڑنے کا محاورہ بھی استعمال کیا جاتا ہے ‘ اور بعض نے کہا کہ پنڈلی سے پنڈلی کے لپٹنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ضعف اور کمزوری کے باعث اس مقام کو پہنچ جائے گا کہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہ سکے گا اور اس کی وہ سب جولانیاں ختم ہوجائیں گی جن پر اس کو بڑا ناز تھا ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو التفاق ساق۔ پنڈلی کا پنڈلی سے جڑ اور لپٹ جانا۔ نہایت موزوں اور مناسب تعبیر ہے صورتحال کی شدت اور ضعف و بےبسی کی کہ جب معالج مریض سے مایوس ہوجائے گا ‘ اعزئہ و اقارب اس سے مایوس ہوجائیں گے۔ سو موت کے اس وقت اور اس منظر کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے دلوں کا زنگ اترے اور اس کیلئے تیاری کی توفیق لے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید وھوالہادی الی سواء السبیل۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ‘ آمین۔
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

تیرے رب ہی کی طرف ہوگی اس روز یہ روانگی

28 سفر آخرت کیلئے روانگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تیرے رب ہی کی طرف ہوگی اس دن کی یہ روانگی جس کیلئے آخرکار اس کو روانہ ہونا پڑے گا۔ سو اس وقت منکر انسان کو دو طرح کا صدمہ درپیش ہوگا ایک طرف تو اس کو دنیا اور اس کی لذتوں سے جدائی ‘ خویش و اقارب سے مفارقت ‘ اور ان سے جدائی ‘ اور دنیاوی عیش و عشرت سے محرومی کا صدمہ ہوگا کہ اپنی زندگی میں سا نے انہی چیزوں کو اصل اور مقصد بنا رکھا تھا ‘ آج اس کو یہ سب کچھ چھوڑنا پڑے گا اور دوسری طرف اس سے بھی بڑا صدمہ اس کو یہ ہوگا کہ اس وقت یہ دیکھے گا کہ وہی آخرت جس کا وہ عمر بھر انکار کرتا رہا تھا اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ اس کے سامنے موجود ہوگی تو اس طرح اس کو صدمہ در صدمہ اٹھانا پڑے گا ‘ حیات دنیا کی جو فرصت محدود اس کو آخرت کی تیاری اور اس کی کمائی کیلئے ملی تھ ‘ اس کو اس نے دنیا طلبی میں اور اس کی عارضی اور فانی لذتوں کی تحصیل میں صرف کردیا ہوگا ‘ جس کی تلافی اور تدارک کی کوئی صورت اب اس کیلئے ممکن نہ ہوگی ‘ اور وہ دائمی خسارے میں مبتلا ہوجائے گا والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز تمہارے رب ہی کی طرف ہوگی اس دن کی روانگی کے ان کلمات حصر و تاکید سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوگئی جو کہتے ہیں کہ دوبارہ اٹھنا ہی نہیں بلکہ یونہی مرمٹ کر ختم ہوجائیں گے ‘ اور ان کی بھی جو کہتے ہیں کہ ہم دوسری جون میں پھر ظاہر ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو ان سب ہی گروہوں کی باتیں بےبنیاد اور بےحقیقت ہیں ‘ والعیاذ باللہ جل و علا۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 75:31

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر بھی (اس غافل انسان کا حال یہ ہے کہ) اس نے نہ تصدیق کی (حق کی) اور نہ اس نے نماز پڑھی (اپنے رب کی رضا کے لئے)

29 منکرین و مکذبین کی محرومی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی تصدیق نہیں کی اس غافل انسان نے اور یہ باز نہ آیا اپنی غفلت و لاپرواہی سے۔ اور اس نے ان بنیادی اور عظیم الشان حقائق کی تصدیق نہ کی جو کہ قطعی طور پر حق اور سچ ہیں ‘ جیسے اللہ پاک کی وحدآنیت اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی رسالت و حقانیت اس کی اتاری ہوئی کتابوں کی صداقت اور اخڑت کی سزا و جزا کی حقانیت وغیرہ ‘ اور اسی کو دوسرے مقام الحسنیٰ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے ‘ چناچہ ارشاد ہوتا ہے " فاما من اعطی واتقی و صدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری " (اللیل :5 ۔ 6) ۔ سو اس حسنی یعنی آخرت کی تصدیق اصل الاصول ہے تمام خوبیوں اور جملہ محامد کی ‘ اور ایسی کہ اس کے بعد شریعت مطہرہ کے ہر حکم پر چلنآ اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کیلئے جان و مال کی ہر قربانی پیش کرنا انسان کیلئے آسان ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے ایسے شخص کیلئے فرمایا گیا ‘ ہم اس کو آسانی دے دیتے ہیں اس سب سے بڑی آسانی کیلئے جبکہ اس حسنی (سب سے بڑی اچھائی) کو جھٹلانے والوں کیلئے شریعت مطہرہ پر چلنآ اور راہ حق کو اپنانا سب سے زیادہ مشکل اور کٹھن کام ہوتا ہے ‘ اس لئے اس کیلئے فرمایا گیا : " واما من بخل و استغنی و کذب بالسحنی فسنیسرہ للعسری " (اللیل :8 ۔ 10) ۔ بہرکیف اس میں منکرین و مکذبین آخرت کی محرومی کا بیان اور اس پر اظہار افسوس ہے کہ سفر تو اتنا قطعی اور اس قدر کٹھن درپیش ہے مگر ان کے پاس زاد راہ کچھ بھی نہیں۔ نہ انہوں نے نماز پڑھی جو کہ عبادات بدنیہ اور حقوق خداوندی میں اصل الاصول ہے۔ اور نہ ہی انہوں نے رضائے الٰہی کیلئے انفاق فی سبیل اللہ کی سعادت حاصل کی جو کہ حقوق العباد اور مالی عبادات کے سلسلے میں اصل بنیاد ہے۔ سو سفر آخرت میں کام آنے والے زاد راہ میں اصل یہی دو چیزیں ہیں۔ یعنی نماز اور انفاق سبیل اللہ ‘ مگر انہوں نے اس کا کوئی اہتمام نہیں کیا ‘ جس کے نتیجے میں وہ محروم اور خالی ہاتھ ہی اس دنیا سے گئے اور ہمیشہ کے اور سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک اور دائمی خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 30 نماز سے محرومی ہولناک خسارہ۔ والعیاذ باللہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ ایسے شخص نے تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ سو اس سے نماز کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و تصدیق کے بعد اعمال میں سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ شہادتین سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ یہی نماز کا فریضہ مقدسہ ہے ‘ سو ان آیات کریمات میں منکرین آخرت کی محرومی کا بیان اور اس پر اظہار افسوس ہے کہ ان کو سفر تو اتنا کٹھن درپیش ہے لیکن ان کے پاس نہ زاد و راہ کا سامان ہے اور نہ اس کیلئے کوئی فکر و کوشش ‘ والعیاذ باللہ۔ سو ترک نماز سب سے بڑی محرومی اور انتہائی ہولناک خسارے کا باعث ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ دوزخ میں پڑے دوزخیوں سے جب اہل جنت پوچھیں گے کہ تم لوگوں کو کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا " ما سلککم فی سقر " تو وہ اس کے جواب میں اولین سبب کے طور پر دو کا ذکر کریں گے۔ یعنی ترک صلاۃ اور ترک انفاق فی سبیل اللہ۔ سو وہ جنتیوں کے اس سوال کے جواب میں کہیں گے " لم نک من المصلین ‘ ولم نک نطعم المسکین " (المدثر :43 ۔ 44) ۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر عیاں ہوجاتی ہے کہ نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کے یہ دو عمل وہ بنیادی عمل ہیں جن پر شریعت مقدسہ کی پوری عمارت قائم ہے۔ اور زیر بحث اس آیت کریمہ سے مزید یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان دونوں کا انحصار عقیدہ آخرت پر ہے جن کے اندر آخرت کا عقیدہ محکم نہیں ہوگا وہ ان کا اہتمام نہیں کرسکیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو عقیدہ آخرت سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اس کے بغیر محرومی ہی محرومی ہے ‘ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 75:32–33

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ اس نے جھٹلایا (حق کو) اور منہ موڑا (اپنے رب کے حکم سے)

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر یہ چل دیا وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا (اور ناز کرتا) ہوا

31 منکرین کے اعراض اور ان کے غرور و گھمنڈ کی تصویر : سو ایسوں کے غرور و گھمنڈ اور ان کے اعراض کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ چل دیا اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اپنی اس بری روش پر نادم ہونے کی بجائے وہ الٹا اس پر اکڑتا اور فخر کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنی دنیاوی رفاہیت اور جمعیت کی بناء پر اس گھمنڈ اور زعم فاسد میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم لوگ صحیح ہیں ‘ اور ہماری یہ روش درست ہے ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ‘ سو اس بناء پر وہ کسی ناصح کی نصیحت پر کان دھرنے کی بجائے متکبرانہ انداز میں منہ پھیر کر چل دیتے ہیں اور محروم کے محروم ہی رہتے ہیں ‘ اور جو لوگ قول حق و ہدایت سے متاثر اور مستفید و فیض یاب ہونے کی بجائے اکڑے ہوئے اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹتے ہیں ان کو نور حق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ سو دنیاوی مال و دولت وغیرہ کا یہ پہلو بڑا خطرناک اور باعث ہلاکت و تباہی ہوتا ہے کہ اس کی بنا پر انسان غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دولت حق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ ابدی خسارے اور ہلاکت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

ہلاکت ہے تیرے لئے (اے بدبخت انسان) پھر ہلاکت

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

ہاں ہلاکت ہے تیرے لئے (اے شقی) پھر ہلاکت

33 منکر انسان کیلئے مکرر طور پر اظہار نفرت و غضب۔ والعیاذ باللہ : سو اس کیلئے مکرر طور پر نفرت و غضب کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہاں ہلاکت ہے تیرے لئے اے بدبخت انسان پھر ہلاکت : روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑ کر اس کو یہ آیتیں سنائیں ‘ تو اس نے غضبناک ہو کر کہا کہ محمد تم مجھے ڈراتے ہو قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ تم اور تمہارا رب دونوں مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘ میں اس وادی میں سب سے زیادہ عزت والا اور طاقتور انسان ہوں ‘ مگر اللہ پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد معرکہ بدر میں وہ ملعون نہایت ذلت کی موت مر کر واصل جہنم ہوا ‘ والعیاذ باللہ اس طرح ان آیات کریمہ کا اولین مصداق اگرچہ یہی بدبخت قرار پاتا ہے ‘ مگر اپنے عموم و شمول کے اعتبار سے یہ آیات کریمہ ایسے ہر شخص کو شامل ہیں جو حق کو جھٹلائے ‘ اور اس سے منہ موڑے کفر و انکار کا وہی طریقہ و رویہ اپنائے ‘ جس کو یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا ایسے انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو یونہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟

34 منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکر انسان کے حال پر اظہار تعجب و افسوس اور ایسے غافلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس سے نہ کوئی پوچھ ہو ‘ نہ حساب کتاب اور نہ ثواب و عذاب ‘ اور وہ کیڑے مکوڑوں کی طرح یونہی مرکھپ کر خٹم ہوجائے اور بس ‘ اور قصہ یونہی تمام ہوجائے ؟ استفہام انکار اور توبیخ و تقریع کیلئے ہے ‘ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر انسان کو عقل و خرد جیسے جوہر فرق وتمیز سے نواز کر ‘ اور اس کو اشرف المخلوقات قرار دے کر ساری مخلوق کا مخدوم ومطاع کیوں بنایا جاتا ؟ اور یہ کیسے اور کیونکر ممکن اور قرین عدل و انصاف ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز تو انسان کے بھلے اور خدمت کے لئے ہو ‘ اور خود یہ انسان مہمل اور بےکار ہو ؟ بلکہ اس سب کا مقتضی یہ ہے کہ انسآن کو عقل و اختیار سے نواز کر ایک مدت تک اس دنیا میں رکھا جائے تاکہ وہ اس میں جنت کی دائمی سعادت کم اس کے ‘ یا پھر وہ اپنے سوء اختیار و عمل سے آخرکار دوزخ کا ایندھن بن جائے ‘ والعیاذ باللہ سو اس کیلئے قیامت کا بپا ہونا اور حساب و کتاب کا قائم ہونآ عقل و فطرت کا تقاضا ‘ اور نہایت ضروری امر ہے ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت عبث اور بےکار ہو کر رہ جائے گا۔ جو حضرت خالق حکیم کے تقاضائے عدل و حکمت کے خلاف ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آخرت کا وقوع و قیام عقل و نقل کا تقاضا ہے۔
Ayah 75:37

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا یہ ایک حقیر بوند نہیں تھا منی کی جس کو ٹپکایا جاتا ہے ؟

35 انسان کی خود اپنی تخلیق میں سامان غور و فکر : سو انسان کو اس کے آغاز تخلیق و آفرینش سے تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ انسانی منی کی ایک حقیر بوند نہیں تھا جس کو لاپرواہی کے ساتھ ٹپکا دیا جاتا ہے۔ پھر یہ ایک لوتھڑا بنا۔ پھر خالق حکیم نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔ سو اس سب کے بعد اب دیکھو کہاں منی کا وہ حقیر و بےجان قطرہ ‘ اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا یہ عظیم الشان انسان ‘ اور یہ کن کن مراحل سے گزر کر اور کس کس طرح گزر کر یہاں تک پہنچا ‘ اور اس کو کون اس طرح لایا ‘ سو اس سے اندازہ کرو کہ کس قدر قدرت و عظمت والا ہے ‘ وہ خالق بےہمتا ‘ جس نے اس انسان کو اس طرح مختلف مراحل سے گزار کر خلعت وجود سے نوازا اور اس کو اشرف المخلوقات بنایا ‘ سو یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس انسان کی تخلیق کسی حکمت اور مصلحت کے بغیر ‘ اور کسی مقصد وغایت سے خالی ہو ‘ اور یہ بات کس طرح قرین قیاس ہوسکتی ہے کہ اس انسان کو یونہی بےکار چھوڑ دیا جائے ‘ کہ نہ اچھوتوں کو کوئی جزا ملے اور نہ بروں کو ان کے کیے کی کوئی سزا ؟ اور دنیاوی زندگی کے اس مرحلے میں ایسے نہ ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے ‘ پس ضروری ہے کہ فیصلے کا وہ دن آئے جس میں ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے ‘ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بتمام و کمال پورے ہوں ‘ سو وہی دن قیامت اور بدلے کا دن ہے جس نے بہرحال آکر رہنا ہے۔