Ayahs 75:1–6قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے
تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت اور بھی زیادہ سچائی کے ساتھ بندوں کے سامنے آگئی ہے۔ اسی لیے قیامت کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم سب لوگوں کو ضرور دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور اس سچائی کے ثبوت میں دوسری قسم کھائی ہے نفس لوامہ کی۔ یہ اس لیے کہ یہ نفس لوامہ ہر شخص کی زندگی کے ساتھ لازمی صورت میں چمٹا ہوا ہے۔ روح اور نفس جب وجود میں آتے ہیں تو ان کے اس آپس کے ملاپ کے بعد تین طاقتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کو ہم یوں بیان کریں گے۔
1 ۔ نفس امارہ : یہ خواہشات اور شیطان کے قبضہ میں ہوتا ہے۔ یعنی بندے میں خواہش پیدا ہوئی پیسہ کمانے کی تو اب پیسے کی حرص لالچ اور خواہش اس جنون کی حد تک اس کے سر پر سوار ہوجاتی ہے کہ وہ اس کام میں تمام اخلاقی مذہبی اور انسانی حدود کو یکسر بھول جاتا ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے میں اگر اسے تمام برائیاں بھی کرنی پڑیں تو وہ حصول زر میں خوشی سے کر گزرے گا حالانکہ وہ جانتا ہوگا کہ وہ غلط کام کر رہا ہے مگر کیونکہ اس کا نفس اس کے قابو میں نہیں رہتا اور وہ جہنم کو خریدتا چلا جاتا ہے۔
شاعر نے کہا :۔ بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گرمارا کیونکہ ایسا شخص ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔ انسان نہیں رہتا۔ حیوان بن جاتا ہے۔
2 ۔ نفس لوامہ :۔ یہ ایسی انسانی طاقت ہے جس کو ہم ضمیر کہتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کے مطابق خواہشات رکھتا ہے مگر خواہشات کو پورا کرنے میں اپنے نفس پر پورا کنٹرول رکھتا ہے۔ ہر خواہش کے لیے ٹھیک راستہ اختیار کرتا ہے۔ اگر برائی سر اٹھائے تو اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اگر گناہ سرزد ہوجائے تو معافی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسی لیے اس کو انسان کے لیے قابل افتخار بتایا گیا ہے اور وہ جنت کا وارث ہوسکتا ہے۔ یہ انسانی کیفیت کسی بندے بشر سے ہرگز پوشیدہ نہیں اسی لیے اس کی قسم رب العزت نے دوبارہ زندہ کئے جانے کی سچائی میں کھائی ہے۔ اصل میں ”” نفس لوامہ ””۔ یہ ضمیر انسان کا پہرے دار ہے جو ہر بندے کو غلط کام کرنے پر خبردار کرتا ہے۔ جو اس کے خبردار کرنے پر برائی کرنے سے باز آجاتا ہے۔ اور اگر برائی ہوجائے تو ضرور پشیمان ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔
3 ۔ یہ نفس مطمنٔہ ہے۔ یہ ضمیر کی بات پکی طرح مانتا ہے۔ شیطان سے سخت نفرت کرتا ہے۔ اور ہر صورت زندگی کے ہر عمل میں اللہ و رسول ﷺ کی حدود اور اصول زندگی کا پوری طرح خیال رکھتا ہے۔ اپنے خالق ومالک رب ذوالجلال والاکرام کا فرمانبردار اور اس سے ملنے کا خواہش مند رہتا ہے۔ خواہشات کے چنگل سے آزاد رہ کر توکل اور قناعت کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کو نفس مطمنٔہ کہا گیا ہے۔ سورة فجر میں اللہ فرماتا ہے۔ اے اطمینان پانے والی روح ! اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ تو میرے ممتاز بندوں میں شامل ہوجا ” اور میری بہشت میں داخل ہوجا۔ (آیات از 27 تا 30)
اب یہ جان لینا ضروری ہے کہ قیامت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر سزا و جزا کا پانا انسان کے یقین کے لیے اس قدر کیوں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے یقین دلانے کے لیے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا رہے ہیں۔
ایک تو یہ کفار کے جواب کے لیے کہا گیا ہے کہ اچھی طرح جان لو جیسے انسان کو پہلے حیرت انگیز طریقہ سے پیدا کیا گیا ہے ایسے ہی اس کو دوبارہ ضرور زندہ کرکے کھڑا کیا جائے گا۔ چاہے وہ ڈوب کر مرا زمین میں دفن ہواجل کر مرا، یا ہوا میں مرا۔ اس کو ہر صورت ایسی مکمل شکل میں اٹھا کھڑا کیا جائے گا کہ اس کی ایک ایک انگلی کی پور تک ٹھیک جگہ پر بٹھا دی جائے گی۔ اور یہ دوبارہ زندگی بڑی مصلحت کی حامل ہے۔ ہماری اس عملی زندگی کا پوری طرح انحصار اسی بات پر ہے جب ہمیں یہ یقین ہوگا کہ ہمارا مالک ہمارا خالق ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم نے یہاں کے کئے گئے ہر عمل کا جواب ضرور دینا ہے پھر ہمیں بڑی سخت سزا اور یا بہت بہترین انعام ملے گا۔ یعنی اس دنیا کی زندگی کا مقصد ہی اسی میں ہے۔ یہ زندگی نہ تو بےمقصد ہے اور نہ ہی کھیل تماشہ ہے۔
یہ حقیقت بار بار بڑی وضاحت سے بتائی جا رہی ہے۔ پھر بھی اگر اس اعلان پر توجہ نہ دی جائے تو پھر سوائے بد نصیبی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ غفلت ” لاپرواہی اور جان بوجھ کر لاعلمی ہمارے آج کے ہر دوسرے بندے میں موجود ہے حالانکہ وہ مسلمان ہے۔ آج کا مسلمان قومی دین کا پیروکار ہے جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بندہ خدائی دین کا پیروکار بنے یاد رکھو۔ القرآن تو پھر یقینا اس کے بعد تم ضرور ہی مرنے والے ہو۔ پھر یقینا تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (سورۃ المومنون آیات 16-15)
قرآن پاک میں یوم الآخرہ 24 مرتبہ آیا ہے اور الآخرہ 112 دفعہ آیا ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کے معاملہ کو واضح کرنے کے لیے بیشمار دفعہ مختلف انداز میں اس کا ذکر آیا ہے مثلاً ۔ آخرت کا ثوابآخرت کا اجرآخرت کا گھرآخرت کی کھیتی اور آخرت کی ذلت۔ وغیرہ۔
اسی لیے میں اپنی زبان میں یہی کہوں گی۔ لوگو ! دنیا کی منڈی میں آخرت خرید لو۔ آخرت خرید لو۔
Ayahs 75:7–15قیامت کا منظر
تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
آیات مبارکہ 7 سے 10 تک جو آنکھوں کے چند ھیا جانے کا ذکر ہے ایسا شمسی پلازمہ کی چمک کی وجہ سے ہوسکتا ہے جب یہ شمسی آتش فشاں مادہ فضاء میں بکھر جائے گا تو اس کی آلودگی سے لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوجائے گی اسی دھوئیں اور گردوغبار کے اثر سے چاند بھی اوجھل ہوجائے گا جب زمین کے اردگرد کی ساری فضاء زہریلی گیسوں سے آلودہ ہوجائے گی اور لوگوں کے گلے گھٹنے لگ جائیں گے تو لوگ انتہائی مایوسی اور گبھراہٹ کی حالت میں پکار اٹھیں گے۔ اے رب ہمارے ! ہم کہاں جائیں۔ لیکن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (از قیامت اور حیات بعد الموت )
یہاں پھر یاددہانی کروائی گئی ہے کہ اس دن اللہ کے ہاں ہی ٹھکانا ہے۔ (آیت 12) اور اگلی آیات میں حساب کا ذکر ہے۔ سورة انشقاق میں اللہ نے فرمایا۔ اس سے آسانی سے حساب لیا جائے گا۔
حدیث میں یوں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو صرف پیشی ہوگی قیامت کے دن جس سے پوری حساب فہمی ہوگی وہ عذاب میں پڑجائے گا۔ (متفق علیہ، مسلم، بخاری)
Ayahs 75:16–40اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا
تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں اس لیے نیک تو اللہ کے دیدار اور اللہ کے سامنے پیش ہونے سے پریشان نہ ہوں گے کیونکہ ان کو تو معلوم ہی ہوگا کہ بہترین انعام ملنے والا ہے جب کہ گناہ گار اپنے انجام سے سخت پریشان ہوں گے۔ جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اسی لیے دنیا میں قرآن و رسول ﷺ کا انتظام اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے۔ کیونکہ موت کے وقت یا موت کے بعد پرچہ حل کرنے کا ٹائم ختم ہوجاتا ہے۔ بڑی ہی معمولی بات ہے اگر انسان وقت پر سمجھ لینے کی کوشش کرے تو اس کو اپنی اصلیت بھی معلوم ہوجاتی ہے اور موت کے بعد زندہ ہونے کا یقین بھی ہوجاتا ہے اور وہ ہے اس کی پیدائش کا مرحلہ کہ کس طرح ایک حقیر پانی کی بوند سے اس کی پیدائش ماں کے پیٹ میں شروع ہوا۔
یہ تمام مراحل سورة محمد میں تفصیلاً گزر چکے ہیں۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اگر یہ تمام مسئلہ حل کرنا ہو تو بس انسان اپنی اس دنیا کی پیدائش کے طریقہ پر غور کرے تو اس کو اپنی حیثیت معلوم ہوجاتی ہے کہ وہ کیا ہے جو اس قدر اکڑ، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کرتا ہے۔ اور اللہ کے ہر فرمان سے منہ موڑ کر خواہ مخواہ خود کو دنیا میں بھی ذلیل و خوار کرتا ہے اور آخرت کی ہمیشہ والی زندگی بھی بدترین کرلیتا ہے۔ قیامت نے تو ضرور آنا ہے اور بندے نے بھی دوبارہ زندہ ضرور کیا جانا ہے اور برے لوگوں کو سزا بھی ضرور ملنی ہے اور اچھے لوگوں کو بہترین انعامات ضرور ملنے ہیں تو پھر کیوں نہ اللہ و رسول ﷺ کے پیغام کو سچ جان کر اس کے مطابق ہی زندگی گزاری جائے۔ یہ پیغامات آدم کے ہر بیٹے اور بیٹی کے لیے ہیں۔ تو پھر خیریت اسی میں ہے کہ ٹھہر کر غور کریں کہ اللہ ہمیں کو کیوں پکاررہا ہے۔ جو کرنا ہے کرلو ” پھر سوائے پچھتاوے کے اور کچھ باقی نہ رہ جائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندے کے لیے اس سے بڑی فضیلت اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ اسے دین کا صحیح فہم اور ادراک حاصل ہو کیونکہ ایسا ایک عالم ہزاروں عابدوں سے زیادہ شیطان پر بھاری ہوتا ہے۔ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے۔ دین کی بنیاد صحیح سوجھ بوجھ ہے۔ اللہ ہماری اس سوجھ بوجھ میں اضافہ کردے اور ہمارے دلوں میں ویسا ہی نور پیدا کردے جیسا صالحین کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔ اور جنت کے حصول کے لیے تڑپ پیدا کردے آمین۔
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو روح کو گرما دے جو قلب کو تڑپادے
خلاصہ سورة القیامۃ
اس سورت کو پڑھنے کے بعد ہمیں اپنی حیثیت کا علم ہوجاتا ہے کہ ہم کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارے اختیار میں نہیں کہ خود سے دنیا میں آجائیں ہمیں اختیار نہیں کہ خود سے مرجائیں۔ اس کے باوجود بڑے پھنے خان بنتے ہیں اور اپنے پیدا کرنے والے کی نافرمانی کرتے ہیں اگر غیر مسلم ہیں تو اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ ان چیزوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں جو خود حرکت تک نہیں کرسکتیں یا جو خود بےاختیار ہیں اور اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اور پھر بڑی لمبی چوڑی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ایک پل میں ہم یہاں سے کوچ کر کے دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور تمام مال اولادجائیداد یہیں چھوڑ جاتے ہیں الٹا اس چھوڑی ہوئی تمام پونجی کا حساب کتاب دیں گے۔ کہاں سے حاصل کی ؟ کیسے خرچ کی ؟ اور خود اپنے لئے کیا جمع کیا ؟ اور اگر ہم مسلم ہیں تو آج کل کے کچے پکے مسلمان ہیں۔ ہمیں دنیا کی گہما گہمی میں یہ تک یاد نہیں رہتا کہ ہم نے اس خالق کو یاد کرنا ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے مسلمان اور غیر مسلم میں صرف فرق یہ ہے کہ ہم نے کلمہ پڑھا ہے یا یہ کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اور بس۔ اللہ ذوالجلال والاکرام ہمیں اس غفلت اس بےدینی لاپرواہی ناعاقبت اندیشی بےعلمی فریب دنیا اور قرآن اللہ رسول ﷺ اور سنت سے دوری سے بچائے ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے کر اپنے پسندیدہ اور مقبول بندوں میں شامل کرے۔ ہمیں توفیق دے کہ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر دنیا و آخرت میں شاندار کامیابیاں حاصل کریں آمین۔ بیشک۔
اکابر تیرے سامنے سرفگندہ
تیرے سامنے کوئی اکبر نہیں ہے
(محمد منظور الحق)
الحمدللہ سورة القیامۃ مکمل ہوگئی۔