76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 76:1–4

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

اور اسے راہ بھی دکھا دی اب وہ چاہے شکر گزار ہو چاہے ناشکرا

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کفار کے لیے زنجیریں طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

انسان کی اصلیت اور اس کا کردار تشریح : ان چار آیات میں رب رحمن و رحیم نے انسان کی حیثیت کردار مقصد ذمہ داریاں پیدائش عمل مرتبہ پھر انجام اور نتیجہ سب کچھ بیان کردیا ہے۔ یہی تو قرآن کی معقولیت جامعیت نفاست اور بےمثل ہونے کی دلیلیں ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے اور سائنسدانوں کی تحقیقات اور قرآن کا بیان یہی ثابت کر رہا ہے کہ پہلے کائنات بنائی گئیـ اور پھر انسان کا ظہور ہوا۔ جو کہ واضح الفاظ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا پھر حوا کو اور پھر دونوں کو جنت میں جگہ ملی۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی شیطان نے بھی اپنی گدی سنبھال لی کہ قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا۔ لہٰذا اس نے اپنا کام سیدناآدم (علیہ السلام) سے شروع کردیا۔ ان کو گمراہ کیا۔ وہ اس کی باتوں میں آگئے اللہ کا حکم بھول گئے اپنے ضمیر سے مار کھاگئے نفس امارہ۔ (شیطان) کے حکم پر چل پڑے۔ تو اس غلطی سے اپنا اتنا بڑا نقصان کرلیا کہ جنت سے نکال کر زمین میں آباد ہونے کا حکم صادر ہوگیا۔ اور یوں زمینی زندگی کے چکر میں جت گئے۔ اللہ کیونکہ رحمن و رحیم ہے اس لیے اس نے اس خطا کار کو معافی مانگنے اور اپنے منصب کو بحال رکھنے کے طریقے سکھا دئیے۔ اللہ نے کیونکہ انسان کو اشرف المخلوقات اور نائب اللہ بنایا ہے اس لیے اس کو بصارت اور سماعت کی طاقت عطا کردی۔ یوں تو جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر ان کو اس ادراک یعنی عقل سمجھ اور ارادے کی طاقت نہیں دی گئی جو انسان کو دی گئی ہے اور یہ اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ کائنات کی ہر چیز کو غور و فکر سے دیکھے اور پھر اس کے بنانے والے کو پہچانے یہ انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح قدرت کی ہر چیز میں ایک تعمیل کا مادہ رکھ دیا گیا ہے یعنی سورج، چاند، ستارے، پرند، چرند، زمین، آسمان غرض ہر چیز حکم الٰہی کی پابند ہے۔ اپنی مرضی اور ارادہ استعمال کرنے کی نہ تو اسے اجازت ہے اور نہ ہی گـنجائش ہے۔ مگر انسان کو علم ارادہ، سماعت اور بصارت دے کر تین طاقتیں یعنی نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ دے کر تمام راستے ان پر چلنے کی ہدایات پیغمبروں کے ذریعے ان کے سامنے رکھ دیں۔ ایک تقدیر کے پرچہ کو سامنے رکھ کر امتحان دینا شروع کر دو ۔ امیر ہونا، غریب ہونا، بیمار یا صحت مند ہونا یہ لکھ دیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ امیر ہو کر کہاں تک حقوق اللہ حقوق العباد کا خیال رکھتے ہو۔ کس حد تک اللہ کی شکر گزاری کرتے ہو بس یہی اعمال کا پرچہ تیار ہوگا اسی طرح غریب ہو تو غربت میں کس حد تک شکر گزاری کرتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کرتے ہو۔ اسی طرح صحت مندی اور بیماری میں اپنا رویہ حدود اللہ میں رہ کر کہاں تک رضاء الٰہی کے مطابق ٹھیک رکھتے ہو۔ اور یہی ہے انسان کی تخلیق کا مقصد اور پھر مزید یہ کہ آخرت میں اس حل شدہ پرچے کا رزلٹ مل جائے گا۔ جب ہم اپنی پیدائش کے پورے منصوبے پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے ہم اللہ کے اختیار میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہی ہمارا خالق ہے مالک ہے اور اسی کی طرف واپس چلے جائیں گے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ اللہ نے بار بارکہہ دیا ہے کہ جیسے پہلے تم کچھ بھی نہ تھے سو ایک بوند پانی سے تمہاری تخلیق ہوگئی یہ تو تمہیں اب معلوم ہوا کہ مرد عورت کے ملنے سے یہ انتہائی باریک ترین جر سومہ ماں کے رحم میں پرورش پا کر انسان کی صورت میں دنیا میں آجاتا ہے۔ یہ غیب کی خبر کہ تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے حضور حاضر کئے جاؤ گے بالکل سچ ہے۔ اگر ہم اس کو سچ نہ سمجھیں تو ہمارا ایمان ناقص ہے اور ہماری زندگی حیوانات سے کم نہ ہوگی۔ جیسا کہ غیر مسلم قوموں میں کئی حیوانی عادات پائی جاتی ہیں۔ ان میں شرم و حیا اور انسانیت کا تقدس نام کو بھی نہیں ملتا۔ اسی طرح ان کا تمدن، معاشرت، معیشت اور عام کردار بیشمار خرابیوں کا حامل ہے۔ جب کہ مسلمان کو رب تعالیٰ نے پیدا ہونے زندگی گزارنے اور پھر مر کر انعام پانے کے تمام طریقے اصول اور ایک مکمل ضابطہ عطا کردیا ہے۔ اسی لیے وہ جانتا ہے بھلائی کیا ہے ضمیر یعنی نفس لوامہ اور مطمنئہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے وہ خدائے واحد کو مانتا ہے۔ کسی اور کو نہیں مانتا۔ مسلم کی یہ خاصیت ہے کہ وہ تاریخ سے پورا سبق حاصل کرتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اللہ کیوں اور کیسے ناراض ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جرم کی سزا یہاں دنیا میں بھی مل جاتی ہے جو بڑی معمولی ہوتی ہے مگر اصل سزا تو حشر میں ملے گی جو بڑی سخت سزا ہوگی۔ ہر دور میں پیغمبر اور رسول آتے رہے اور ان سب نے یہی تعلیمات دیں جن لوگوں نے ان کی تعلیمات کو مان لیا وہ صالحین میں شامل ہوگئے جنہوں نے نافرمانی کی وہ پوری طرح ناکام ہوئے اور ذلیل و خوار ہوئے۔ قرآن پاک کی پہلی سورت بتا دیتی ہے کہ اللہ ہی رب العلمین ہے رحمن ہے رحیم ہے اور پھر مالک یوم الدین ہے۔ اس میں کائنات اور انسان کے تین مرحلے بیان کر دئیے گئے ہیں۔ یعنی وجود سے پہلے موجودہ دور اور پھر دوبارہ زندہ کئے جانے کا دور۔ مسلمان یہ تمام ادوار بڑی سنجیدگی اور متانت سے گزارتا ہے۔ سیدناابو بکر صدیق کا قول ہے : کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت اور کم سونا عبادت میں داخل ہے۔ بیشک زندگی کے ساتھ سمجھوتہ ضروری ہے ورنہ انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ اسلام کبھی بھی سختی، جبر، خلاف فطرتِ انسانی کا حکم نہیں دیتا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ﷺ نے جب یہودی و عیسائی حکمرانوں کو خطوط بھیجے تو آغاز میں یہ آیت لکھی۔ اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان متفق ہے۔ یعنی تم بھی اہل کتاب ہو اور ہم بھی اہل کتاب ہیں۔ اس لیے ہمیں آپس میں تعاون کرنا چاہیے۔ اور یہ مفتوحہ اقوام کو مذہبی آزادی کی دعوت دی گـئی تھی۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ رواداری اور نرمی کا طریقہ اختیار کیا۔ القرآن۔ اللہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہماری کچھ بحث نہیں اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کے پاس جانا ہے۔ یہی تو وہ آزادی ہے جو اس دنیا کے ہر انسان کو دی گئی ہے۔ پھر فرمایا اور اسے راہ بھی دکھا دی اب وہ چاہے شکر گزار ہو چاہے ناشکرا۔ ہم نے کفار کے لیے زنجیریں طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (سورۃ الدھر آیات 4-3)
Ayahs 76:5–22

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیک لوگ ہیں وہ ایسی شراب پئیں گے جس میں کافور ملا ہوگا

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے بندے پئیں گے اور اس میں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال لیں گے۔

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اس کے باوجود کہ ان کو خود کھانے کی ضرورت ہے مگر یہ فقیروں یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض اللہ کے واسطے کھلاتے ہیں نہ تم سے معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری کے خواہش مند ہیں۔

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہمیں اپنے رب سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو چہروں کو خراب اور دل کو سخت پریشان کردینے والا ہے۔

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا۔

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم کے ملبوسات عطا کردے گا۔

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ کی تپش ہوگی نہ سردی کی شدت

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

پھلوں سے بھری ٹہنیاں اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

خدام چاندی کے پیالے لئے ہوئے ان کے ارد گرد پھر رہے ہوں گے اور شیشے کے نہایت شفاف گلاس

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے اور چاندی کے جو بڑے اندازے سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ (16)

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو ایسی شراب بھی پلائی جائے گی جس میں سونٹھ ملی ہوئی ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

) اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جب تم ان کو دیکھو تو ایسے ہوں جیسے بکھرے ہوئے موتی۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور بہشت میں جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت دیکھو گے

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان کے جسموں پر دیباو حریر کے سبز کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو بہترین پاکیزہ شراب پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہاری کوشش اور صلہ اللہ کے ہاں مقبول ہوا

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ نذر ماننے سے منع کرنے لگے کہ وہ کسی ہونے والی چیز کو پھیر نہیں سکتی البتہ اس کے ذریعے کچھ مال بخیل سے نکلوایا جاتا ہے۔ (مسلم ” ابو داؤد) از تفہیم القرآن۔ 2 ۔ حساب کے دن سے جو لوگ خوف کھاتے ہیں۔ یعنی ایسے لوگ کوئی برائی قصداً کر ہی نہیں سکتے۔ ایسے لوگ مبارک ہیں۔ 3 ۔ فقیروں ” یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والے اللہ کے محبوب لوگ ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ دوسروں کی حاجت روائی کرتے ہیں۔ یعنی حب انسانی خلوص محبت رحم دلی ایثار انسان دوستی اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ یہ کام سوائے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے اور کسی بھی مقصد کے لیے نہ کیا جائے۔ اپنی ضرورت سے زیادہ دوسرے انسان کی ضرورت پوری کرنے کا جذبہ اللہ کو بہت زیادہ پسند ہے۔ یہ چند خوبیاں ہیں جنت میں جانے والوں کی۔ جنت کیا ہے ؟ آیت گیارہ سے لے کر 12 تک جنت کا جو نقشہ اللہ تعالیٰ نے کھینچا ہے ذرا آنکھیں بند کر کے اس کا تصور کریں تو بخدا دل چاہتا ہے ابھی اور اسی وقت اس دنیا کو چھوڑ کر وہاں پہنچ جائیں۔ اور اس دنیا میں جتنا بھی وقت ملے صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس کی خلقت کی خدمت بےلوث خدمت کرنے میں گزاردیں۔ جب ایسی سچائی خلوص اور محبت انسان کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ خودبخود نیکی اور بھلائی کی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اور یہ جذبات پیدا کرنے کوئی خاص مشکل کام نہیں بس تلاوت قرآن پاک سمجھ کر کرتے رہیں۔ ہمیشہ کرتے رہیں تو ہمارے جذبات، فکر، کردار اور نفس سے ہر وقت برائی کی گرد جھڑتی رہتی ہے اور انسان میں نور کی چمک پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس علم سے انسان میں جرات پاکیزگی ہمت حوصلہ اور سرفرازی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہ سے دور رہتا ہے۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ گناہ عذاب کا راستہ بناتا ہے۔ گناہ کو نہ دیکھو کہ وہ کتنا چھوٹا ہے بلکہ اس اللہ کی بڑائی کو دیکھو جس کی نافرمانی کی جار ہی ہے۔ (سیدناابوبکر ؓ سچ ہے کہ گناہ آکاس بیل کی طرح چپکے چپکے انسانی شعور کو بہت جلد اپنی لپیٹ میں جکڑ لیتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی کسی غلط کام کو چھوٹا سمجھ کر ہرگز نہ کرو۔ کیونکہ اچھا انسان برا کام کرنے سے برا لگنے لگتا ہے۔ بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ سفید چادر پر چھوٹا سا دھبہ بھی نمایاں دیکھائی دیتا ہے۔ جبکہ گندی چادر پر چھوٹا دھبہ اتنا نمایاں نہیں ہوتا۔ دعا ہے : اے ہمارے رب ! جب تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔ (آل عمران : 8)
Ayahs 76:23–31

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی گناہ گار ناشکرے کا کہا نہ مانو۔

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو رات گئے تک اپنے رب کے آگے سجدے کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم جب چاہیں انہی کی طرح ان کے بدلے میں اور لے آئیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے جو چاہے اپنے رب کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے۔

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں کے ساتھ ساتھ مصلحتاً آہستہ آہستہ آیات کی صورت میں نازل ہوتا رہا تاکہ لوگوں کو آسانی رہے اور وہ آہستہ آہستہ ہر قسم کے قانون اور اصول نبی ﷺ سے سیکھ کر اپنی زندگیوں کو ان کے مطابق بتدریج آسانی سے ڈھالتے چلے جائیں اور یوں قرآن کی افادیت اور مقصد لوگوں پر اچھی طرح واضح ہوتا چلا جائے اور لوگ بہتر طور سے اس کی روشنی میں اپنی مشکلات دور کر کے تمام جہانوں میں کامیاب ہوسکیں۔ جیسا کہ پہلے متعدد سورتوں میں بتایا جا چکا ہے۔ کہ دنیا کی زندگی میں صبر، استقامت، یقین، ہمت، عبادت اور شکر کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جاؤ اور کسی غیر اللہ یا غیر مسلم کی بات پر دھیان مت دو ۔ کیونکہ گناہگارلوگ جیسے خود غفلت میں بےکار زندگی گزارتے ہیں دوسروں کو بھی اسی راہ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان آیات میں امت مسلمہ کو راہ خدا میں چل کر جنت کے حصول کے چند طریقے بتائے گئے ہیں۔ اللہ ان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین خلاصہ سورة الدھر یہ سورت انسان کی آنکھیں کھول دینے کا سبب بنتی ہے کیونکہ اس میں انسان کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ اس کا وجود انتہائی حقیر چھوٹے سے کیڑے سے شروع ہوا۔ یعنی اس قدر باریک کیڑا یا جرسومہ کہ جسے مائیکروسکوپ سے دیکھا جاسکے آنکھ اس کو بغیر مائیکروسکوپ کے دیکھ ہی نہ سکے۔ پھر وہ اللہ کے حکم سے کیسے کیسے مرحلے طے کر کے ثابت ثبوت انسان بن جاتا ہے۔ اور ہوش میں آنے کے بعد یوں اکڑتا ہے جیسے وہ اتنا پلا بڑھا ہی آسمان سے ٹپک پڑا تھا۔ جیسے ایک ماں اپنے نافرمان جوان بیٹے سے کہتی ہے کہ تمہیں کیسے کیسے میں نے لاڈ پیار سے پالا پوسا اور اب تو سمجھتا ہے کہ اتنا ہی بڑا اوپر سے گرا تھا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ تو اگر انسان اپنی ابتدا کو ذہن میں رکھے تو وہ کبھی بھی اللہ سے منہ نہیں موڑ سکتا بلکہ خود اپنی ہی بناوٹ پیدائش نشوونما اور گردا گرد پھیلی ہوئی نعمتوں برکتوں اور پوری کائنات سے وہ بخوبی اللہ کی وحدانیت، حکمت، عظمت اور قدرت کو بڑی اچھی طرح پہچان سکتا ہے اور پھر اپنے لیے بہترین راہ نجات باآسانی ڈھونڈ سکتا ہے۔ یہی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف رخ کرو میں تمہارے لیے کھلے راستے روشن کردوں گا لیکن جو میری طرف سے رخ موڑلے گا تو پھر اس کے لیے بھی میں اس کی پسند کے مطابق برے راستے کھولتا چلا جاؤں گا۔ جو اس کو بالآخر جہنم میں جا ڈالیں گے جبکہ نیکی اختیار کرنے والوں کو جنت ملے گی۔ دونوں ٹھکانے ہمیشہ کے ٹھکانے ہوں گے۔ کبھی ختم نہ ہوں گے۔ جنت کا تصور ہم ان قرآنی آیات سے بخوبی کرسکتے ہیں جن میں جنت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً جنت کی کشادگی اور فضائیں، جنت کے دروازے، اہل جنت کا استقبال، جنت کے محلات، جنت کی سرزمین، نہریں، باغات، خیمے اور بازار، پھول، پھل، سامان خوردو نوش، لباس، تخت، سواریاں، نوکر چاکر، بہترین خوبصورت جوڑے، عورتوں کے لیے مرد اور مردوں کے لیے عورتیں اور رب کی ملاقاتیں غرض کون سی ایسی چیز ہے جو جنت میں نہ ہوگی۔ بس موت و نامیدی اور حسرت و ناکامی ہرگز نہ ہوگی۔ اس کے برعکس جہنم میں ہر وہ چیز ہوگی جو دکھ درد کی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ یعنی ایک خوفناک تصور جہنم کا قرآن پاک میں دیا گیا ہے۔ جہنم کی گہرائی، آگ کی تپش طوق، زنجیریں، لعنت ملامت، خوردونوش تھور اور پیپ کی شکل میں، بد صورت انسان غرض یہ مکمل طور پر تباہی کا گھر ہے اللہ اس سے محفوظ و مامون رکھے۔ اللہ تعالیٰ بڑے انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے اس نے بار بار قرآن میں اعلان کیا ہے۔ مثلاً بیشک وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام رہا جس نے اس کو گناہوں میں دبا دیا۔ (شمس :10-9) بے شک نیک لوگ عیش و آرام میں رہیں گے اور برے لوگ دوزخ میں۔ (انفطار :14-13) الحمد للہ سورة الدھر مکمل ہوگئی۔