وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى ۟ۙوَلٰڪِنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىۙ
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
But [instead], he denied and turned away.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz
وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى ۟ۙوَلٰڪِنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىۙ
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
But [instead], he denied and turned away.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا
بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی
بلکہ حق کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔
ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا
بلکہ وہ جھٹلاتا رہا اور رُوگردانی کرتا رہا،
اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
بلکہ (وحی کو الٹا) جھٹلا دیا اور منہ موڑلیا
بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا پھر ا
بلکہ اس نے جھٹلایا (حق کو) اور منہ موڑا (اپنے رب کے حکم سے)
بلکہ تکذیب کی تھی
بلکہ اس نے جھٹلادیا اور پیٹھ موڑ لی۔
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا
on the contrary, he gave the lie to the Truth and turned his back upon it,
but rejected the truth and turned away (from it) ,
but rejected the truth and turned away (from it) ,
But on the contrary, he denied and turned away!
But he denied and flouted.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But [instead], he denied and turned away.
He rejects the faith, turns away
But called the truth a lie and turned back,
But he belied and turned away.
But on the contrary, he rejected Truth and turned away!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 26–40
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
سورة الْقِیٰمَة 20 مفسرین میں سے بعض نے لفظ ساق (پنڈلی) کو عام لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ مرنے کے وقت جب ٹانگیں سوکھ کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی۔ اور بعض عربی محاورے کے مطابق اسے شدت اور سختی اور مصیبت کے معنی میں لیا ہے، یعنی اس وقت دو مصیبتیں ایک ساتھ جمع ہوجائیں گی۔ ایک دنیا اور اس کی ہر چیز سے جدا ہوجانے کی مصیبت اور دوسری عالم آخرت میں ایک مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو کر جانے کی مصیبت، جس سے ہر کافر و منافق اور ہر فاسق و فاجر کو سابقہ پیش آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…
Read the full tafseer →’وَلٰکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی‘۔ ’کَذَّبَ‘ یہاں ’صَدَّقَ‘ کے مقابل میں اور ’تَوَلّٰی‘ یہاں ’صَلّٰی‘ کے بالمقابل ہے۔ یعنی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ رسول اور آخرت کی تصدیق کرتا اور خدا کی راہ میں انفاق کرتا۔ اور نماز پڑھتا لیکن اس نے تکذیب اور اعراض کی روش اختیار کی۔
Read the full tafseer →32۔ 1 یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
12: یہ کسی خاص کافر کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے، اور کافروں کی عام حالت کا تذکرہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے واضح دلائل کے سامنے آنے کے بعد بھی ماننے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔ قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
11 یعنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمیشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کا کام کر کے آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30{ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِالْمَسَاقُ۔ } ”اس دن تو تیرے رب ہی کی طرف دھکیلے جانا ہے۔“ نوٹ کیجیے ‘ گزشتہ آیات کے بعد ہم آواز الفاظ سے بننے والا مخصوص صوتی آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
18 یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کرسکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہوجائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آگیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر باربار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
18۔ یعنی اپنے کفر وعصیان پر فخر کرتا ہوا اپنے خدم وحشم میں جا کر اور زیادہ غافل ومغرور ہوجاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–39
ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا…
Read the full tafseer →ولکن کذب و تولی . بلکہ رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دیا اور آپ پر ایمان لانے سے منہ پھیرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(31۔ 33) اور اس ابو جہل نے نہ وحدانیت خداوندی کی تصدیق کی تھی اور نہ اسلام قبول کرکے نمازیوں میں سے ہوا تھا لیکن توحید کو جھٹلایا تھا اور ان سے منہ موڑا تھا اور پھر تکبر کرتا اور ناز کرتا ہوا دنیا میں اپنے گھر چل دیتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(1) فلا صدق ولاصلی…:”یتمطی“ ”م ط و“ سے ”تمطی“ کا مضارع ہے۔”مطا“ کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔”اولی“ ”و ل ی“ سے اسم تفصیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ (2) ”فلاصدق“ (سو نہ اس نے سچ مان) میں ضمیر ”الانسان“ کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر ”ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ“ میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بےبس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہوناپ ڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لئے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ قعیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ولکن کذب وتولی، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی۔ اس نے قرآن کو جھٹلایا اور ایمان سے روگردانی کی۔ پھر وہ اس پر فخر کرتے ہوئے تکبر کے انداز میں اپنے گھر چلا گیا یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ مجاہد نے کہا، اس سے مراد ابوجہل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مطا سے مشتق ہے جس کا معنی پشت ہے معنی ہے وہ اپنی پشت کو دہر کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کی اصل یتمطط ہے یعنی سستی کا اظہار کرنا اور بوجھل ہونا ہے وہ حق کی طرف دعوت دینے والے سے بوجھل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک طاء کو یاء سے بدل دیا کیونکہ ایک ہی جنس کے حرف ہونا پسندیدہ تھا۔ تمطی یہ پرواہ نہ کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ تمدد سے بھی یہی مراد ہے گویا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
23۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا صدق۔ اس نے تصدیق نہیں کی یعنی کتاب اللہ کی۔ آیت ولا صلی ولکن کذب۔ اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ بلکہ اس نے کتاب اللہ کو جھٹلایا۔ آیت وتولی۔ اور منہ پھیرلیا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے۔ آیت ثم ذہب الی اہلہ یتمطی پھر اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا۔ اور وہ ابوجہل بن ہشام تھا جو اپنی چال میں اکڑ کر چلتا تھا ہم کو بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس کے کپڑے کے پلو کو پکڑ کر فرمایا آیت اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی۔ اے انسان تیرے لیے خرابی ہی خرابی ہے پھر تیرے لیے خرابی ہی خرابی ہے۔ یعنی تیرے لیے وعید پر وعید ہے۔ تو ابو جہل نے…
Read the full tafseer →[وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى: اور لیکن (بلکہ) اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
انسان کی تکذیب کا حال اور اکڑفوں، کیا اسے پتہ نہیں کہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی یہ تخلیق ہے کیا اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ فرما دے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ کی ضمیر ابو جہل کی طرف راجع ہے (اور اگر کافروں کا ہر سرغنہ مراد لیا جائے تو اس میں بھی کوئی بعد نہیں ہے کیونکہ کفر کے سردار اور چودھری اسی مزاج کے ہوتے ہیں جس کا یہاں تذکرہ فرمایا ہے) ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ (سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی) ۔ ﴿ وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ0032﴾ اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ﴿ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ0033﴾ پھر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
12:۔ ” فلا صدق، یہ منکرین حشر و نشر اور جاحدین جزاء وسزا پر زجر ہے۔ اس نے نہ تو توحید و رسالت اور حشر و نشر کو مانا، ایمان لایا نہ نماز پڑھی، نہ دوسرے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دی بلکہ تمام ضروریات دین، توحید، رسالت، قیامت وغیرہا کا انکار کیا اور قرآن و ایمان سے اعراض کیا اور کبر و غرور سے اکڑتا ہو اپنے اہل کی طرف چلا گیا تو اب اس کے لیے ہلاکت و تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اولی لک فاولی، ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے، تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت پھر کہتا ہوں تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت، تھدید بعد تھدید ووعید بعد وعید (قرطبی ج 19 ص 112) ۔
Read the full tafseer →وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى 32 ۙ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلّٰے۔ وَلٰـکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ (القیامۃ : 31 تا 35) (پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ ) منکرینِ آخرت کی کیفیت اور انجام آخرت کا منکر ایسا سنگدل ہوجاتا ہے کہ نہ اس پر دلائل اثرانداز ہوتے ہیں نہ قیامت کی ہولناکی اس کی سنگدلی میں کمی کرتی ہے۔ نہ موت کا اندوہناک منظر اس کی بےحسی اور غفلت کو توڑتا ہے۔ چناچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا…
Read the full tafseer →32 : وَلٰکِنْ کَذَّبَ (لیکن اس نے تکذیب کی تھی) قرآن مجید کی۔ وَتَوَلّٰی (اور منہ موڑا تھا) ایمان سے یا اس نے نہ مال صدقہ کیا یعنی زکوٰۃ نہ دی۔
Read the full tafseer →31 ۔” فلا صدق ولا صلی “ یعنی ابوجہل نے نہ قرآن کی تصدیق کی اور نہ اللہ کے لئے نماز پڑھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(فَلَا صَدَّقَ ) پس نہ اس نے تصدیق کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا۔ ( وَلَا صَلّٰى) اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی۔ بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کے بجائے تکذیب۔ اور امر ونہی سے روگردانی کی یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بےخوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
31 منکرین کے اعراض اور ان کے غرور و گھمنڈ کی تصویر : سو ایسوں کے غرور و گھمنڈ اور ان کے اعراض کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ چل دیا اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اپنی اس بری روش پر نادم ہونے کی بجائے وہ الٹا اس پر اکڑتا اور فخر کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنی دنیاوی رفاہیت اور جمعیت کی بناء پر اس گھمنڈ اور زعم فاسد میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم لوگ صحیح ہیں ‘ اور ہماری یہ روش درست ہے ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ‘ سو اس بناء پر وہ کسی ناصح کی نصیحت پر کان دھرنے کی بجائے متکبرانہ انداز میں منہ پھیر کر چل دیتے ہیں اور محروم کے محروم ہی رہتے ہیں ‘ اور جو لوگ قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ف 13 حضرت بن عباس کہتے ہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل سے فرمائے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن میں نازل فرمایا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(75:32) ولکن کذب وتولی بلکہ اس نے تکذیب کی (رسول کی) اور (آپ پر ایمان لانے سے) منہ پھیرلیا۔ تولی ماضی واحد غائب تولی (تفعل) مصدر۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ تولی کا تعدیہ خبب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے۔ والی یا حاکم ہونے کے ہوتے ہیں جیسے کہ ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے تو وہ انہی میں سے ہے، اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی ہوتے ہیں جیسے فتول عنھم فما انت بملوم (51:54) تو ان سے اعراض کرو تم کو (ہماری طرف سے) کوئی ملامت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔ (ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…
Read the full tafseer →(32) بلکہ تکذیب کی تھی اور منہ نہ موڑا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(تو) ابو جہل نے (نہ تصدیق کی) قرآن کی۔ یا ۔۔۔ نہ صدقہ دیا جو کچھ مال میں سے دینا واجب تھا (اور نہ نماز پڑھی) خدا کے وسطے یا ۔۔۔ نہ پیروی کی پیغمبر کی (لیکن جھٹلایا) پیغمبر کو (اور باز رہا) راہ حق سے۔ تکذیب کا ذکر خاص طور پر اس لیے کردیا کیونکہ تصدیق نہ کرنا تکذیب کو مستلزم نہیں ، تو اس بدبخت نے تصدیق نہ کرنے کے ساتھ ساتھ تکذیب بھی کرڈالی۔ (پھر گیا اپنے والوں کی طرف) اس حال میں کہ (اکڑ رہا ہے) اور فخر و افتخار کی راہ سے ٹہل رہا ، ہے کہ میں نے ایسا ایسا کام کیا ہے ، یعنی تکذیب بھی کی ہے اور بےرخی بھی برتی ہے۔ تو اے ابو جہل سن لے ! کہ سزاوار ہے تجھ کو مت سخت ، تو (تیرا برا ہو) موت کے وقت۔ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
20 Some commentators have taken the word saq (leg, shank) in its literal meaning, thereby implying that at death one lean leg will join the other lean leg; some others have taken it metaphorically in the sense of difficulty, vehemence and hardship so as to mean: At that tune one affliction will be joined with another affliction, one of being saparated from the world and all its enjoyments, and the other of being seized and taken to the Hereafter as a culprit, and this will be experienced by every disbeliever, hypocrite and sinner.
Read the full tafseer →