Al-Qiyaama 75:27

Al-Qiyaama · from ayah 27

75:27

وَقِیْلَ مَنْ ٚ— رَاقٍ ۟ۙوَقِيۡلَ مَن ۜ رَاقٍۙ

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is said, "Who will cure [him]?"

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:27

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (تیمار داروں کی طرف سے) کہا جائے گا کہ : ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہیں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کہا جا رہا ہو کہ (اِس وقت) کون ہے جھاڑ پھونک سے علاج کرنے والا (جس سے شفایابی کرائیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کہا جائے گا کون ہے دم کرنے والا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہا جاتا ہے کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہا جائے گا اب کون ہے جھاڑ پھونک کرنیوالا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور پکارا جانے لگتا ہے کہ ارے کوئی جھاڑنے والا بھی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا جاتا ہے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوگ کہنے لگیں اس وقت کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and it is said: “Is there any enchanter who can step forward and help (by his chanting)?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and it is said, :Who is an enchanter (that can save him?)

— Muhammad Taqi Usmani

and it is said, :Who is an enchanter (that can save him?)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it will be said: "Who can cure him"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And men say: Where is the wizard (who can save him now)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is said, "Who will cure [him]?"

— Saheeh International

and the angels say, "Who will take away his soul,

— Muhammad Sarwar

And it is said: Who will be a magician?

— Muhammad Habib Shakir

And it is cried. who can charm?

— Abdul Majid Daryabadi

And there will be a cry, "Who is a magician (to restore him)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْقِیٰمَة 19 اصل میں لفظ راق استعمال ہوا ہے جو رقیہ سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں، اور رتی سے بھی، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر وقت میں جب مریض کے تیمار دار ہر دوا دارو سے مایوس ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ارے کسی جھاڑ پھونک کرنے والے ہی کو تلاش کرو جو اس کی جان بچا لے۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں گے کہ اس روح کو کسے لے کر جانا ہے ؟ ملائکہ عذاب کو یا ملائکہ رحمت کو ؟ بالفاظ دیگر اسی وقت یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ مرنے والا کس حیثیت میں عالم آخرت کی طرف جا رہا ہے۔ نیک انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26؀ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27؀ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28؀ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29؀ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عیش دنیا کے متوالوں کو موت اور آخرت کی یاددہانی: عیش دنیا کے متوالوں کو یہ موت کی جان کنی اور اس وقت کی مایوسی و بے بسی کی یاددہانی ہے کہ قیامت کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ وہ لازماً آئے گی اور تمہیں خدا کی طرف اس دن سفر کرنا ہو گا جب تمہاری ساری جولانیاں ختم ہو جائیں گی اور بے بسی کا یہ حال ہو گا کہ پنڈلی سے پنڈلی لپٹی ہوئی ہو گی۔ بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ جان ہنسلی میں آ پھنسے اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ کے رہ جائے خدا کی طرف بھاگو اور اس سفر کے لیے کچھ سامان کر لو۔ استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب ؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

10: جب کوئی شخص موت کے قریب پہنچ کر بستر سے لگ جاتا ہے تو اس کے تیمار دار اس کے علاج کی کوشش کرتے ہیں، اسی علاج کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی سے جھاڑ پھونک کرائی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–28

یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 ایسی مایوسی کے وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں کی کچھ نہیں چلتی جب لوگ ظاہری علاج و تدبیر سے عاجز آجاتے ہیں تو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کی سوجھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میاں کوئی ایسا شخص ہے جو جھاڑ پھونک کر کے اس کو مرنے سے بچا لے اور بعض سلف نے کہا کہ " من راقٍ " فرشتوں کا کلام ہے جو ملک الموت کے ساتھ روح قبض کرنے کے وقت آتے ہیں وہ آپس میں پوچھتے ہیں ہیں کہ کون اس مردے کی روح کو لے جائے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے ؟ اس تقدیر پر " راقی "، " رقی " سے مشتق ہوگیا، جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ " رقیہ " سے نہ ہوگا۔ جو افسوس کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27{ وَقِیْلَ مَنْسکتۃ رَاقٍ۔ } ”اور کہا جاتا ہے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟“ یہ اس کیفیت کا نقشہ ہے جب بڑے بڑے ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں ‘ حکماء و اطباء معذرت کرلیتے ہیں اور عزیز و اقارب کہنا شروع کرد یتے ہیں کہ بس جی اب دعا کریں۔ اس وقت بڑے سے بڑا عقلیت پسند شخص بھی چاہتا ہے کہ کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو بلا لیا جائے یا کسی تعویذ گنڈے والے کو پوچھ لیا جائے۔ شاید کہ ایسی کسی ترکیب سے اس کا پیارا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

17 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ( مَنْ رَ ا قٍ ) کو فرشتوں کا کلام سمجھا جائے اور راق کو رقی بمعنی اوپر چڑھنے سے مشتق قرار دیا جائے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرشتے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اس شخص کی روح کو جنت کے فرشتے لے کر اوپر چڑھیں گے یا دوزخ کے ؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے راق کو رقیۃ بمعنی دم جھاڑ سے مشتق قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب میت کے لواحقین اس کے علاج سے عاجز آجاتے ہیں تو پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟ اور یہ میت کے علاج یا اسے موت کے منہ سے سے بچانے کے لئے آخری حربہ کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے علاج کروانا رسول اللہ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ (جواب آکر اچھا کرے) راقی کے لفظی معنی جھاڑنے پھونکنے والے کے ہیں، قرآن مجید کے مخاطب اول یاد کرلیجئے کہ عرب تھے اور پھر یہ سورت تو نزول میں بھی بہت ابتدائی ہے۔ اس ان سے وہی بات اس زبان میں کہی گئی، جس سے وہ مانوس اور جس سے وہ خوگر تھے، دوسری مشرک قوموں کی طرح ان میں بھی بڑا زور جھاڑ پھونک کا تھا، اور مرتے ہوئے شخص کو بچانے کی آخری اور انتہائی تدبیریں ان کے درمیان اسی قسم کی ہوتی تھیں، اس وقت اگر ان کے سامنے انجکشن دینے یا مصنوعی تنفس کے سامان کا ذکر کیا جاتا، تو بجز اس کے کہ وہ حیرت سے بھوچکے رہ جاتے اور کوئی حاصل نہ تھا۔ یہاں مراد مطلق معالج ہے۔ طبببا یشفیہ وراقیا یرقیہ (کبیر) لعلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–30

کلا اذا بلغت التراقی (الآیۃ) اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنی موت کو نہ بھولے، موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے، تاکہ آخرت میں نجات ملے اس آیت میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے کہ غفلت شعار انسان غفلت میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح تر قوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیمار دار لوگ دوا، علاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پائوں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانے کا ہے، اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ عمل، اس لئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و قیل من سراق . قتادہ نے کہا مراد یہ ہے کہ حاضرین یا مردہ کہتا ہے کہ اس پر کوئی افسوں دَم کر دے کہ یہ موت سے بچ جائے۔ سلیمان تمیمی اور مقاتل بن سلیمان نے کہا : موت کے فرشتے کہتے ہیں کہ اس کی روح کو لے کر کون چڑھے گا ؟ رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے ؟ راقی (اسم فاعل) رَقْیٌ سے مشتق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–30

(26۔ 30) ہرگز ایسا نہیں جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور حاضرین سے کہتا ہے کہ کوئی دوا دارو کرنے والا ہے یا یہ کہ فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کون اس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے اور اس وقت مردہ یقین کرلیتا ہے کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور دنیاوی آخری دن کی سختی آخرت کے پہلے دن کی سختی کے ساتھ مل جاتی ہے یا یہ کہ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے اور قیامت کے دن تمام مخلوقات کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–30

(1) کلا اذا بلغت التراقی…:”بلغت“ کا فاعل ”نفس“ ہے جو محذوف ہے ، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائیگی۔ ”التراقی“ ”ترقوۃ“ کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ ”راق“ ”رفی یرفی“ (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔”ظن“ کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد ”ان“ ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔”المساق“ ”ساق یسوق سوقاً“ (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا (2) ”کلا“ نہیں نہیں، یعنی تمہارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں، تمہارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخرت وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وقیل من راق۔ اس میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ رقیہ سے مشتق ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور دوسرے علماء سے مروی ہے، ضحاک نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ من یرقی کا معنی ہے ایسا طبیب جو شفا دے، میمون بن مہران نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے معنی ہے کوئی طبیب ہے جو اس کاشفا دے یہ ابوقلابہ اور قتادہ نے کہا، شاعر نے کہا : ھل للفی من بنات الدھر من واق، ام ھل لہ من حمام الموت من راق۔ کیا نوجوان کو مصائب سے بچانے والی کوئی چیز ہے کیا اسے موت سے شفا دینے والا کوئی طبیب ہے۔ یہ بات وہ مایوسی کے طور پر کریں گے یعنی وہ کون ہے جو موت سے شفا دے ؟ حضرت ابن عباس اور ابوجوزاء سے مروی ہے یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

موت کے وقت کی بےبسی 4۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقیل من راق سے طبیب مراد ہے۔ 5۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا جو جھاڑ پھونک کرے۔ 6۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 7 ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی روح کھینچی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کی ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کون اس کی روح لے کر چڑھے گا۔ رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے آیت والتفت الساق باالساق یعنی اس پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقِيْلَ مَنْ : اور کہا جاتا ہے کون (کوئی)] [رَاقٍ : جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

كَلَّاۤ یہ بات ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے رہو، بلکہ موت کے و قت کے لیے اور موت کے بعد کے حالات کے لیے فکر مند رہنا ضروری ہے۔ یہ دنیا بہر حال چھوٹ جانے والی ہے۔ ﴿اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ0026﴾ جب ہنسلیوں تک پہنچ جائے (یعنی روح نکلنے لگے) ﴿وَ قِيْلَ مَنْٚ رَاقٍۙ0027﴾ (اور یوں کہا جائے کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے یعنی پاس کے بیٹھنے والے تیمار دار عزیز قریبی سوچنے لگیں کہ کوئی علاج کرنے والا ہے) ۔ ﴿ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ0028﴾ (اور یہ یقین کرلے گا کہ اب جدائی ہے) یعنی جس کی روح ہنسلیوں تک پہنچی اس کے تیمار دار تو معالج کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–30

11:۔ ” کلا اذا “ کلا حرف ردع ہے اور بل تحبون العاجلۃ سے متعلق ہے یعنی دنیا سے محبت نہ کرو اور آخرت کی فکر کرو۔ یا بمعنی حقا ہے اور الی ربک یومئذن المساق سے متعقل ہے ای حقا ان المساق الی اللہ (قرطبی) ۔ مَنْ پر سکتہ ہے جب انسان کی روح موت کے وقت ہنسلیوں تک آپہنچے گی تو اس کے پاس موجود لوگ کہیں گے کون کون ؟ وہ کہے گا کوئی ہے دم اور جھاڑ پھونک جاننے والا جو اس وقت اس مصیبت سے بچا سکے۔ اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب دنیا سے اٹھنے اور اعزہ و اقارب سے جدا ہونے کا وقت ہے اب اس کی پنڈلی پنڈلی کے ساتھ جڑ جائے گی یقینا یہ دن خدا کی طرف کوچ اور روانگی کا دن ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیل من کا قائل اور ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقِيْلَ مَنْ۝ 0 ۫ رَاقٍ۝ 27 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رقی رَقِيتُ في الدّرج والسّلم أَرْقَى رُقِيّاً ، ارْتَقَيْتُ أيضا . قال تعالی: فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، وقیل : ارْقَ علی ظلعک أي : اصعد وإن كنت ظالعا . ورَقَيْتُ من الرُّقْيَةِ. وقیل : كيف رَقْيُكَ ورُقْيَتُكَ ، فالأوّل المصدر، والثاني الاسم . قال تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ [ الإسراء/ 93] ، أي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–30

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–30

کَلَّآاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۔ وَقِیْلَ مَنْ سکتۃ رَاقٍ ۔ وَّظَنَّ اَنَّـہُ الْفِرَاقُ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ ۔ (القیامۃ : 26 تا 30) (ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا۔ ) جان کنی کی کیفیت کو یاد رکھو وہ لوگ جنھیں عیش دنیا نے آخرت کے یقین سے دور رکھا ہے انھیں ایک ایسے منظر کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے جس کا زندگی میں ہر آدمی کو تجربہ ہوتا ہے۔ یہ جان کنی کا منظر ہے جس سے ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–30

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ (اور کہا جاتا ہے کہ کوئی جھاڑنے والا بھی ہے) ۔ حفص نے من پر معمولی وقف کیا ہے۔ مطلب یہ ہے تم قریب المرگ کے پاس حاضر ہو تم میں سے کون اس کا دم کرے گا۔ جس میں وہ مبتلا ہے۔ راقؔ یہ الرقیہ سے لیا گیا ہے۔ یہ باب ضرب سے ہوگا۔ نمبر 2۔ یہ کلام ملائکہ سے ہے تم میں سے کون اس کی روح کو لے کر اوپر جائے گا۔ کیا ملائکہ رحمت لے جائیں گے یا ملائکہ۔ یہ الرقی سے ہے یہ باب عَلِمَ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” کلا اذا بلغت “ یعنی نفس یہ کنایہ ہے غیر مذکور سے۔ ” التراقی “ پس موت کے وقت گھنگھرو بولیں اور ” تراقی ترقوۃ “ کی جمع ہے اور وہ ہڈیاں جو ہنسلی کی ہڈی کے درمیان گڑھے اور کندھے کے درمیان ہوتی ہیں۔ نفس کے تراقی تک پہنچنے کے ذریعے موت کے قریب ہونے سے کنایہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

اللہ تبارک وتعالی قریب المرگ شخص کا حال بیان کرکے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے جب کہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی ( حلق) تک پہنچ جائے گی۔ (التراقی) سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنہوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہوگی۔ اس لیے فرمایا (وقیل من راق) یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرےَ ؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا وقدر کا فیصلہ آجاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 وقت رحیل کی تذکیر و یاددہانی : سو نزع کی شدت اور مایوسی کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟ جو اس جاں بلب انسان کو جھاڑ پھونک کرے ‘ جیسا کہ آخری علاج کے طور پر ایسے کیا اور کہا جاتا ہے ‘ یہ معنی اس صورت میں ہے جب کہ راق کو رقیہ سے ماخوذ مانا جائے ‘ اور اگر اس کو رقی سے ماخوذ مانا جائے جس کے معنی چڑھنے اور اوپر جانے کے ہوتے ہیں ‘ تو اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا ‘ کہ کون اس کی روح کو اوپر لے جائے گا ‘ رحمت کے فرشتے اگر وہ نیک ہوا ‘ یا عذاب کے فرشتے اگر وہ برا ہوا ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف موت کی اس بےکسی اور بےبسی کے اظہار اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 مطلب یہ ہے کہ جب جان بچانے کے لئے تمام علاج اور ٹونے ٹوٹکے بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:27) وقیل من راق۔ اس جملہ کا عطف سابقہ پر ہے قیل ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ قول (باب نصر) مصدر اور کہا جائے گا یعنی پاس والے لوگ کہیں گے من استفہامیہ ہے بمعنی کون ؟ راق رقی ورقیۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے جادو تو نہ کرنے والا۔ دم کرکے پھونکنے والا۔ جھاڑ چھونک کرنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (لوگ) کہیں گے ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–33

انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔ (ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–32

دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور اس وقت کہا جاتا ہے ارے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا بھی ہے۔ یعنی نازک موقع پر جب طبیب کے علاک سے مایوسی ہوتی ہے تو جھاڑنے پھوکنے والے کی تلاش ہوتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا وقیل من راق ، یعنی لوگ کہتے ہیں کوئی جھاڑنے پھونکنے والا ہو تو اس کو لائو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے کہتے ہیں اس کی روح کو کون سا فرشتہ لے کر چڑھے گا۔ یعنی اس کی روح نیکی کے فرشتے لے جائیں گے یا بدی کے جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 8۔ مراد مطلق معالج ہے چونکہ عرب میں جھاڑ پھونک کا زیادہ چرچا تھا اس لئے راق سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 26–30

(کیوں نہیں) اس لیے کہ (جب پہنچی جان گلے تک) اور گردن کی ہڈیوں میں (اور کہا گیا) یعنی جو لوگ مرنے کے قریب ہیں ان لوگوں نے کہا۔۔ یا۔۔ موت کے فرشتے بولے (کہ) کیا (کوئی جھاڑ پھونک والا ہے) اور شفا دینے والا ہے ۔ (اور اس نے) یعنی موت جس کے پیش نظر ہے (سمجھا کہ اب جدائی ہے ) یعنی جو چیز اس پر نازل ہوئی وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے جدائی کا سبب ہے۔ (اور لپٹ گئ) مرنے والے کی (پنڈلی سے پنڈلی) یعنی موت کے ہول سے اس کے پاؤں آپس میں لپٹ اور سمٹ جاتے ہیں اور ان میں حرکت نہیں رہتی۔۔۔ یا موت کی شدت آخرت کی شدت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔ (تمہارے رب ہی کی طرف اس دن ہانک جانا) یعنی تیرے رب کی جزا کی طرف اس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

19 The word raqin in the original may he derived from ruqayyah, which means resort to charming, enchanting and exercising, and also from raqi, which means ascending. In the first case, the. Meaning would be: "At last, when the attendants of the patient are disappointed with every remedy and cure, they will say: "Let us at least call in an enchanter, who may save him;" in the second case, the meaning would be: "At that tune the angels will say: which angels are to take his soul: the angels of punishment or the angels of mercy?" In other words, at that very time the question will be decided in…

Read the full tafseer →