Al-Qiyaama 75:28

Al-Qiyaama · from ayah 28

75:28

وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ ۟ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُۙ

اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the dying one is certain that it is the [time of] separation

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:28

اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انسان سمجھ جائے گا کہ جدائی کا وقت آگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (جان دینے والا) سمجھ لے کہ (اب سب سے) جدائی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ یقین کرلے گا کہ یقینا یہ جدائی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور مرنے والے کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ اس کی جدائی کا وقت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ گمان کرے گا کہ بس وقت چل چلائو کا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (مرنے والا) سمجھ لیتا ہے کہ اب مفارقت (کا وقت) ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس نے سمجھا کہ اب جدائی کا وقت آگیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and he realises that the hour of parting is come,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and he realizes that it is (the time of) departure (from the world,)

— Muhammad Taqi Usmani

and he realizes that it is (the time of) departure (from the world,)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he will think that it was the parting;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he knoweth that it is the parting;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the dying one is certain that it is the [time of] separation

— Saheeh International

(the angels of mercy or the angels of wrath,)" then, he will realize that it is time to leave this world.

— Muhammad Sarwar

And he is sure that it is the (hour of) parting

— Muhammad Habib Shakir

And he bethinketh that it is the time of parting.

— Abdul Majid Daryabadi

And he will conclude that it was (the Time) of Parting;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْقِیٰمَة 19 اصل میں لفظ راق استعمال ہوا ہے جو رقیہ سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں، اور رتی سے بھی، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر وقت میں جب مریض کے تیمار دار ہر دوا دارو سے مایوس ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ارے کسی جھاڑ پھونک کرنے والے ہی کو تلاش کرو جو اس کی جان بچا لے۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں گے کہ اس روح کو کسے لے کر جانا ہے ؟ ملائکہ عذاب کو یا ملائکہ رحمت کو ؟ بالفاظ دیگر اسی وقت یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ مرنے والا کس حیثیت میں عالم آخرت کی طرف جا رہا ہے۔ نیک انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26؀ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27؀ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28؀ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29؀ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں: ’’وہ کہیں گے کہ بس اب معاملہ آخر ہو چکا! اب کون اس کو شفا دے سکتا ہے! یہ اظہار یاس کا فقرہ ہے اور یہ سن کر مریض کو یقین ہو جائے گا کہ بس اب چل چلاؤ کا وقت ہے۔ مشہور شاعر خنساء نے اس مضمون کو یوں ادا کیا ہے: لکن سھام المنایا من یصبن لہ لم یشفہٗ طب ذی طب و لاراق (جس کو موت کے تیر ترازو ہو گئے اس کو نہ کسی طبیب کی خداقت شفا دے سکتی نہ کسی جھاڑ پھونک والے کی جھاڑ پھونک)‘‘(ماخوذ ازتفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی وہ شخص یقین کرلے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

10: جب کوئی شخص موت کے قریب پہنچ کر بستر سے لگ جاتا ہے تو اس کے تیمار دار اس کے علاج کی کوشش کرتے ہیں، اسی علاج کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی سے جھاڑ پھونک کرائی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–28

یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی مرنے والا سمجھ چکا کہ تمام عزیز و اقارب اور محبوب ومالوف چیزوں سے اب اس کو جدا ہونا ہے یا یہ مطلب کہ روح بدن سے جدا ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ۔ } ”اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی ہے۔“ آدمی کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب اہل و عیال سے بچھڑنے اور بڑے ارمانوں سے بنائے ہوئے گھر اور مال و اسباب کو چھوڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

17 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ( مَنْ رَ ا قٍ ) کو فرشتوں کا کلام سمجھا جائے اور راق کو رقی بمعنی اوپر چڑھنے سے مشتق قرار دیا جائے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرشتے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اس شخص کی روح کو جنت کے فرشتے لے کر اوپر چڑھیں گے یا دوزخ کے ؟ اور دوسرا مطلب یہ ہے راق کو رقیۃ بمعنی دم جھاڑ سے مشتق قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب میت کے لواحقین اس کے علاج سے عاجز آجاتے ہیں تو پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟ اور یہ میت کے علاج یا اسے موت کے منہ سے سے بچانے کے لئے آخری حربہ کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے علاج کروانا رسول اللہ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–29

16۔ (سکرات موت کی شدت سے) (آیت) ” ظن انہ الفراق “۔ ظن۔ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ و اکثر المفسرین علی تفسیرہ بالیقین (روح) وتظن بمعنی توقن (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–30

کلا اذا بلغت التراقی (الآیۃ) اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنی موت کو نہ بھولے، موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے، تاکہ آخرت میں نجات ملے اس آیت میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے کہ غفلت شعار انسان غفلت میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح تر قوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیمار دار لوگ دوا، علاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پائوں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانے کا ہے، اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ عمل، اس لئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ظن انہ الفروق . اور مرنے والا یقین کرلیتا ہے کہ اب دنیا اور مرغوبات دنیا کا فراق ہے۔ یعنی موت ان سب کو چھوڑ دینے کا سبب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–30

(26۔ 30) ہرگز ایسا نہیں جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور حاضرین سے کہتا ہے کہ کوئی دوا دارو کرنے والا ہے یا یہ کہ فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کون اس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے اور اس وقت مردہ یقین کرلیتا ہے کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور دنیاوی آخری دن کی سختی آخرت کے پہلے دن کی سختی کے ساتھ مل جاتی ہے یا یہ کہ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے اور قیامت کے دن تمام مخلوقات کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–30

(1) کلا اذا بلغت التراقی…:”بلغت“ کا فاعل ”نفس“ ہے جو محذوف ہے ، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائیگی۔ ”التراقی“ ”ترقوۃ“ کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ ”راق“ ”رفی یرفی“ (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔”ظن“ کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد ”ان“ ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔”المساق“ ”ساق یسوق سوقاً“ (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا (2) ”کلا“ نہیں نہیں، یعنی تمہارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں، تمہارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخرت وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وظن انہ الفراق۔ انسان یقین کرلے گا کہ یہ دنیا، اہل، مال اور اولاد کے فراق کا وقت ہے یہ اس وقت ہوگا جب وہ فرشتوں کو دیکھ لے گا، شاعر نے کہا، فراق لیس یشبھہ فراق، قد انقطاع الرجاء عن التلاق۔ ایسا فراق جس کی مثل کوئی فراق نہیں جس میں ملاقات کی امید ختم ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت وظن انہ الفراق کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ فراق کی گھڑی ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّظَنَّ انهُ الْفِرَاقُ : اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے جدا ہونا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

كَلَّاۤ یہ بات ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے رہو، بلکہ موت کے و قت کے لیے اور موت کے بعد کے حالات کے لیے فکر مند رہنا ضروری ہے۔ یہ دنیا بہر حال چھوٹ جانے والی ہے۔ ﴿اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ0026﴾ جب ہنسلیوں تک پہنچ جائے (یعنی روح نکلنے لگے) ﴿وَ قِيْلَ مَنْٚ رَاقٍۙ0027﴾ (اور یوں کہا جائے کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے یعنی پاس کے بیٹھنے والے تیمار دار عزیز قریبی سوچنے لگیں کہ کوئی علاج کرنے والا ہے) ۔ ﴿ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ0028﴾ (اور یہ یقین کرلے گا کہ اب جدائی ہے) یعنی جس کی روح ہنسلیوں تک پہنچی اس کے تیمار دار تو معالج کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–30

11:۔ ” کلا اذا “ کلا حرف ردع ہے اور بل تحبون العاجلۃ سے متعلق ہے یعنی دنیا سے محبت نہ کرو اور آخرت کی فکر کرو۔ یا بمعنی حقا ہے اور الی ربک یومئذن المساق سے متعقل ہے ای حقا ان المساق الی اللہ (قرطبی) ۔ مَنْ پر سکتہ ہے جب انسان کی روح موت کے وقت ہنسلیوں تک آپہنچے گی تو اس کے پاس موجود لوگ کہیں گے کون کون ؟ وہ کہے گا کوئی ہے دم اور جھاڑ پھونک جاننے والا جو اس وقت اس مصیبت سے بچا سکے۔ اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب دنیا سے اٹھنے اور اعزہ و اقارب سے جدا ہونے کا وقت ہے اب اس کی پنڈلی پنڈلی کے ساتھ جڑ جائے گی یقینا یہ دن خدا کی طرف کوچ اور روانگی کا دن ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیل من کا قائل اور ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ۝ 28 ۙ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ فرق الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–30

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–30

کَلَّآاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۔ وَقِیْلَ مَنْ سکتۃ رَاقٍ ۔ وَّظَنَّ اَنَّـہُ الْفِرَاقُ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ ۔ (القیامۃ : 26 تا 30) (ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا۔ ) جان کنی کی کیفیت کو یاد رکھو وہ لوگ جنھیں عیش دنیا نے آخرت کے یقین سے دور رکھا ہے انھیں ایک ایسے منظر کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے جس کا زندگی میں ہر آدمی کو تجربہ ہوتا ہے۔ یہ جان کنی کا منظر ہے جس سے ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–30

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ ( اور وہ یقین کرلیتا ہے کہ مفارقت کا وقت ہے) ظنؔ یہ ایقن کے معنی میں ہے۔ الفراقؔ یہ جو اس پر اترا ہے۔ وہ محبوب دنیا کی جدائی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” وقیل من راق “ یعنی کہے گا جس پر موت حاضر ہو کیا کوئی طبیب ہے جو اس کو جھاڑ پھونک کرے اور دواء دے تو یہ اس کے جھاڑنے یا دواء سے شفایاب ہوجائے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں تم اس کے لئے طبیبوں کو تلاش کرو وہ اس کو اللہ کی قضاء سے کچھ فائدہ نہ دیں گے۔ سلیمان تیمی اور مقاتل بن سلیمان فرماتے ہیں یہ فرشتوں کے قول میں سے ہے ان میں سے بعض بعض کو کہیں گے کون اس کی روح کو لے کر چڑھتا ہے، پھر اس کو رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے لے جائینگے

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

27 شدت ضعف اور بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا اور جڑ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے۔ جیسا کہ مرتے وقت دیکھنے میں آتا ہے اور اس کیلئے ایڑیاں رگڑنے کا محاورہ بھی استعمال کیا جاتا ہے ‘ اور بعض نے کہا کہ پنڈلی سے پنڈلی کے لپٹنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ضعف اور کمزوری کے باعث اس مقام کو پہنچ جائے گا کہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہ سکے گا اور اس کی وہ سب جولانیاں ختم ہوجائیں گی جن پر اس کو بڑا ناز تھا ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو التفاق ساق۔ پنڈلی کا پنڈلی سے جڑ اور لپٹ جانا۔ نہایت موزوں اور مناسب تعبیر ہے صورتحال کی شدت اور ضعف و بےبسی کی کہ جب معالج مریض سے مایوس ہوجائے گا ‘ اعزئہ و اقارب اس سے مایوس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:28) وظن انہ الفراق : اس کا عطف بھی جملہ یلغت التراقی پر ہے ظن ماضی واحد مذکر غائب ظن (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے جان لیا۔ اس کو یقین ہوگیا ۔ ضمیر فاعل مرنے والے کی طرف راجع ہے۔ اور مرنے والے کو یقین ہوگیا کہ اب آیا وقت جدائی کا۔ ظن بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ اٹکل کرنا۔ بھی آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–33

انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔ (ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–32

دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) اور مرنے والا یقین کرلیتا ہے کہ یہ مفارقت اور جدائی کا وقت ہے۔ یعنی عزیزواقارب اور مال و دولت کی جدائی یا روح اور بدن کی جدائی کا وقت۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 8۔ مراد مطلق معالج ہے چونکہ عرب میں جھاڑ پھونک کا زیادہ چرچا تھا اس لئے راق سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 26–30

(کیوں نہیں) اس لیے کہ (جب پہنچی جان گلے تک) اور گردن کی ہڈیوں میں (اور کہا گیا) یعنی جو لوگ مرنے کے قریب ہیں ان لوگوں نے کہا۔۔ یا۔۔ موت کے فرشتے بولے (کہ) کیا (کوئی جھاڑ پھونک والا ہے) اور شفا دینے والا ہے ۔ (اور اس نے) یعنی موت جس کے پیش نظر ہے (سمجھا کہ اب جدائی ہے ) یعنی جو چیز اس پر نازل ہوئی وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے جدائی کا سبب ہے۔ (اور لپٹ گئ) مرنے والے کی (پنڈلی سے پنڈلی) یعنی موت کے ہول سے اس کے پاؤں آپس میں لپٹ اور سمٹ جاتے ہیں اور ان میں حرکت نہیں رہتی۔۔۔ یا موت کی شدت آخرت کی شدت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔ (تمہارے رب ہی کی طرف اس دن ہانک جانا) یعنی تیرے رب کی جزا کی طرف اس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

19 The word raqin in the original may he derived from ruqayyah, which means resort to charming, enchanting and exercising, and also from raqi, which means ascending. In the first case, the. Meaning would be: "At last, when the attendants of the patient are disappointed with every remedy and cure, they will say: "Let us at least call in an enchanter, who may save him;" in the second case, the meaning would be: "At that tune the angels will say: which angels are to take his soul: the angels of punishment or the angels of mercy?" In other words, at that very time the question will be decided in…

Read the full tafseer →