كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۟ۙكَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! When the soul has reached the collar bones
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۟ۙكَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! When the soul has reached the collar bones
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
نہیں نہیں جب روح ہنسلی تک پہنچے گی
خبردار ! جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔
ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی
نہیں نہیں، جب جان گلے تک پہنچ جائے،
ہرگز نہیں، (وہ وقت یاد کرو) جب (جان) ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔
ہرگز نہیں۔ جب (جان) ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے
ہرگز نہیں، جب کہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی
ہرگز نہیں (ذرا یاد کرو اس وقت کو کہ) جب پہنچ جائے گی جان ہنسلی تک
دنیا محبوب بننے اور آخرت متروک ہونے کے قابل) ہرگز نہیں۔ جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے
ہرگز نہیں ! جب کہ جان آکر پھنس جاتی ہے ہنسلیوں میں۔
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے۔ (
Nay; when a man's soul reaches up to the throat,
Never, (you will never remain in this world forever!) When the soul (of a patient) reaches the clavicles,
Never, (you will never remain in this world forever!) When the soul (of a patient) reaches the clavicles,
Nay, when it rea- ches to the collarbones.
Nay, but when the life cometh up to the throat
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! When the soul has reached the collar bones
Some people, certainly, do not believe in it, but when a person's soul reaches up to his throat
Nay! When it comes up to the throat,
By no means! When it cometh up to he collar-bone.
Yea, when (the soul) reaches to the collar-bone (in its exit),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 26–40
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 18 اس " ہرگز نہیں " کا تعلق اسی سلسلہ کلام سے ہے جو اوپر سے چلا آ رہا ہے، یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تمہیں مر کر فنا ہوجانا ہے اور اپنے رب کے حضور واپس جانا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…
Read the full tafseer →عیش دنیا کے متوالوں کو موت اور آخرت کی یاددہانی: عیش دنیا کے متوالوں کو یہ موت کی جان کنی اور اس وقت کی مایوسی و بے بسی کی یاددہانی ہے کہ قیامت کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ وہ لازماً آئے گی اور تمہیں خدا کی طرف اس دن سفر کرنا ہو گا جب تمہاری ساری جولانیاں ختم ہو جائیں گی اور بے بسی کا یہ حال ہو گا کہ پنڈلی سے پنڈلی لپٹی ہوئی ہو گی۔ بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ جان ہنسلی میں آ پھنسے اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ کے رہ جائے خدا کی طرف بھاگو اور اس سفر کے لیے کچھ سامان کر لو۔ استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔ 26۔ 2 گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
9: مومنوں کو جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہوگا جو جنت کی تمام دوسری نعمتوں سے بڑی نعمت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار…
Read the full tafseer →6 یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25{ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے و الا ہے۔“ اس کے بعد اب قیامت صغریٰ یعنی انسان کی موت کے وقت کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔ قیامت کبریٰ کا ذکر تو قبل ازیں ان آیات میں آچکا ہے : { فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ - وَخَسَفَ الْقَمَرُ H…}۔ لیکن انفرادی سطح پر تو ہر انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہے۔ اسی لیے قیامت کبریٰ کے مقابلے میں ہر انسان کی موت کو اس کی ”قیامت صغریٰ“ کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر انسان کو اپنی ’ قیامت صغریٰ ‘ کا تصور اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →16 یعنی خوب سمجھ لو کہ قیامت کا دن کچھ دور نہیں بلکہ اس کا منہ تم اس دنیا میں ہی دیکھ لو گے۔ جب تم مرنے کے قریب ہوتے ہو اور تمہاری جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے تو سمجھ لو کہ تمہارا سفر آخرت شروع ہوگیا۔
Read the full tafseer →14۔ اس تردید کا تعلق آیت 20، 21 سے ہے (آیت) ” بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
کلا اذا بلغت التراقی (الآیۃ) اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنی موت کو نہ بھولے، موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے، تاکہ آخرت میں نجات ملے اس آیت میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے کہ غفلت شعار انسان غفلت میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح تر قوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیمار دار لوگ دوا، علاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پائوں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانے کا ہے، اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ عمل، اس لئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے۔
Read the full tafseer →کلا . یہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے سے بازداشت ہے ‘ گویا یوں کہا گیا ‘ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے باز رہو ‘ موت کو یاد کرو۔ موت کے وقت دنیا ختم ہوجائے گی اور غیر فانی آخرت سامنے آئے گی اذا بلغت التراقی . جب ہنسلی کی ہڈی تک سانس پہنچ جائے گی۔ سیاق کلام بتارہا ہے کہ بطور کنایہ بلغت کا فاعل محذوف نفس ہے۔ اذا شرطیہ ہے اور الی ربک یومئذ المساق جزاء ہے یا ظرفیہ ہے (یعنی ہنسلی تک سانس پہنچنے کے وقت) اور ظرف کا تعلق ایک محذوف فعل سے ہے جس پر لفط مساق دلالت کر رہا ہے۔ یعنی تم کو ربّ کی طرف ہنکا کر اس وقت لے جایا جائے گا جب سانس گلے میں اٹکی ہوگی۔ التراقی (الترقوہ کی جمع ہے) گلے کے زیریں حصہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(26۔ 30) ہرگز ایسا نہیں جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور حاضرین سے کہتا ہے کہ کوئی دوا دارو کرنے والا ہے یا یہ کہ فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کون اس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے اور اس وقت مردہ یقین کرلیتا ہے کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور دنیاوی آخری دن کی سختی آخرت کے پہلے دن کی سختی کے ساتھ مل جاتی ہے یا یہ کہ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے اور قیامت کے دن تمام مخلوقات کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(1) کلا اذا بلغت التراقی…:”بلغت“ کا فاعل ”نفس“ ہے جو محذوف ہے ، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائیگی۔ ”التراقی“ ”ترقوۃ“ کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ ”راق“ ”رفی یرفی“ (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔”ظن“ کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد ”ان“ ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔”المساق“ ”ساق یسوق سوقاً“ (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا (2) ”کلا“ نہیں نہیں، یعنی تمہارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں، تمہارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخرت وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی…
Read the full tafseer →کلا اذا بلغت التراقی۔۔ تا۔۔۔ المساق کلا اذا بلغت التراقی۔ کلاجھڑکنے کے لیے ہے۔ یعنی یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے کہ کافر روز قیامت پر ایمان لائے پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا اور فرمایا، جب نفس یا روح ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے جس نفس کا ذکر جاری نہیں تھا اس کی خبر دی کیونکہ مخاطب کو اس کا علم تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ حتی توارت بالحجاب۔ ص) یہاں تک کہ وہ حجاب میں چھپ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلولا اذا بلغت الحلقوم۔ الواقعہ) پس تم کیوں نہیں لوٹا دیتے جب روح حلق تک پہنچ جاتی ہے ؟ یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا کا معنی حقا ہے معنی یہ بات ثابت کرنا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذ ا بلغت التراقی جب ہنسلی تک سانس پہنچ جائے گی سے مراد ہے حلقوم 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقیل من راق۔ اور کہا جائے گا کوئی جھاڑنے والا ہے یعنی کوئی طبیب ہے شفا دینے والا ہے (کہ یہ موت سے بچ جائے) 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن جریر وابن المنذر نے ابی قلابہ (رح) سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اطباء کو تلاش کیا لیکن انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور فیصلے کے خلاف کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچایا آیت وظن انہ الفراق۔ اور وہ خیال کرے گا کہ یہ وقت جدائی کا ہے۔ یعنی وہ…
Read the full tafseer →[كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ : ہرگز نہیں جب کبھی پہنچتی ہے (جان) ہنسلیوں تک ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
كَلَّاۤ یہ بات ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے رہو، بلکہ موت کے و قت کے لیے اور موت کے بعد کے حالات کے لیے فکر مند رہنا ضروری ہے۔ یہ دنیا بہر حال چھوٹ جانے والی ہے۔ ﴿اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ0026﴾ جب ہنسلیوں تک پہنچ جائے (یعنی روح نکلنے لگے) ﴿وَ قِيْلَ مَنْٚ رَاقٍۙ0027﴾ (اور یوں کہا جائے کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے یعنی پاس کے بیٹھنے والے تیمار دار عزیز قریبی سوچنے لگیں کہ کوئی علاج کرنے والا ہے) ۔ ﴿ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ0028﴾ (اور یہ یقین کرلے گا کہ اب جدائی ہے) یعنی جس کی روح ہنسلیوں تک پہنچی اس کے تیمار دار تو معالج کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
11:۔ ” کلا اذا “ کلا حرف ردع ہے اور بل تحبون العاجلۃ سے متعلق ہے یعنی دنیا سے محبت نہ کرو اور آخرت کی فکر کرو۔ یا بمعنی حقا ہے اور الی ربک یومئذن المساق سے متعقل ہے ای حقا ان المساق الی اللہ (قرطبی) ۔ مَنْ پر سکتہ ہے جب انسان کی روح موت کے وقت ہنسلیوں تک آپہنچے گی تو اس کے پاس موجود لوگ کہیں گے کون کون ؟ وہ کہے گا کوئی ہے دم اور جھاڑ پھونک جاننے والا جو اس وقت اس مصیبت سے بچا سکے۔ اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب دنیا سے اٹھنے اور اعزہ و اقارب سے جدا ہونے کا وقت ہے اب اس کی پنڈلی پنڈلی کے ساتھ جڑ جائے گی یقینا یہ دن خدا کی طرف کوچ اور روانگی کا دن ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیل من کا قائل اور ہے…
Read the full tafseer →كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
کَلَّآاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۔ وَقِیْلَ مَنْ سکتۃ رَاقٍ ۔ وَّظَنَّ اَنَّـہُ الْفِرَاقُ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ ۔ (القیامۃ : 26 تا 30) (ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا۔ ) جان کنی کی کیفیت کو یاد رکھو وہ لوگ جنھیں عیش دنیا نے آخرت کے یقین سے دور رکھا ہے انھیں ایک ایسے منظر کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے جس کا زندگی میں ہر آدمی کو تجربہ ہوتا ہے۔ یہ جان کنی کا منظر ہے جس سے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ،…
Read the full tafseer →26 : کَلَّآ ( ہرگز ایسا نہیں) آخرت پر دنیا کے ترجیح دینے پر ردع ہے گویا اس طرح کہا گیا اس سے باز آئو۔ اور تمہارے سامنے موت ہے اس سے خبردار ہوجائو۔ ایسی موت کہ جس کے آتے ہی یہ جلد ملنے والی ختم ہوجائے گی۔ اور تم اس وقت مقررہ وقت پر آنے والی کی طرف منتقل ہوگے۔ جس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ (جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے) جب روح نکلنے لگتی ہے اور روحؔ مراد لینا درست ہے کہ اگرچہ اس کا تذکرہ پہلے موجود نہیں کیونکہ التراقی کی دلالت اس پر ہے۔ التراقیؔ گلے کے زیریں حصہ میں ایک گڑھا جس کے دائیں بائیں دو ٹیڑھی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ انہی کو التراقی کہتے ہیں۔ اس کا واحد تَرْقُوَۃٌ ہے۔
Read the full tafseer →25 ۔” تظن ان یفعل بھا فاقرہ “ وہ یقین رکھتا تھا کہ اس کے ساتھ بڑے عذاب کا معاملہ کیا جائے گا اور ” فاقرۃ “ بڑی مصیبت اور ایسا سخت معاملہ جو کمر کے مہر توڑ دے۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کمر توڑنے والی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ آگ میں داخل ہونا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی رئویت سے روک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اللہ تبارک وتعالی قریب المرگ شخص کا حال بیان کرکے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے جب کہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی ( حلق) تک پہنچ جائے گی۔ (التراقی) سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنہوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہوگی۔ اس لیے فرمایا (وقیل من راق) یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرےَ ؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا وقدر کا فیصلہ آجاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →24 منکرین کے زعم باطل کی تردید تاکید کے ساتھ : سو منکرین جو قیامت کو بعید از مکان سمجھتے ہیں ان کی تردید کیلئے کلا کے حرف ردع کے ساتھ مؤکد تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ہرگز ویسے نہیں ہے جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے اے منکرو ! کہ حساب کتاب اور سزا و جزا کچھ نہیں ہوگا وغیرہ ‘ اور یہ کہ ہم یونہی مر کر اور مٹ مٹاکر ختم ہوجائیں گے اور بس ‘ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں اور جنہوں نے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنی فرصت عمر کو یونہی ضائع کردیا ‘ وہ بڑے ہی خسارے میں ہونگے اور ایسے بڑے اور اس قدر ہولناک خسارے میں کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی موت کی گھڑی آپہنچے گی۔
Read the full tafseer →(75:26) کلا : یہ تحبوب العاجلۃ وتذرون الاخرۃ سے باز داشت ہے۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ یہ آخرت پر دینا کو ترجیح دینے سے بازداشت ہے۔ گویا یوں کہا گیا ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے باز رہو۔ موت کو یاد کرو، موت کے وقت دینا ختم ہوجائے گی۔ اور غیر فانی آخرت سامنے آجائے گی۔ اذا بلغت التراقی : اذا شرطیہ ہے اور الی ربک ۔۔ جزاء ہے بلغت ماضی واحد مؤنث غائب بلوغ (باب نصر) مصدر۔ وہ پہنچی، بلغت کا فاعل نفس محذوف ہے التراقی ترقوۃ کی جمع ہے بمعنی ہنسلی۔ ہنسلی کی ہڈیاں۔ ہنسلی کی ہڈیوں تک جان کا آجانا موت کا قریب آجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔ (ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…
Read the full tafseer →(26) ہرگز ایسا نہیں جب جان گلے کی ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے یعنی قیامت کا ہرگز انکار نہ کردیا دنیا سے ہرگز محبت نہ کرو یہ مرنے کے وقت کام آنے والی نہیں چناچہ جب جان تمام بدن سے سمٹ کر ہنسلی میں پہنچ جائے اور ہنسلی تک جا پہنچے تراقی سینے اور گلے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں گویا مرنیوالے کا آخری وقت۔ تراقی وھی العظام المکتنفۃ لثغرۃ السنحرعن یمین و شمال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ف 7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(کیوں نہیں) اس لیے کہ (جب پہنچی جان گلے تک) اور گردن کی ہڈیوں میں (اور کہا گیا) یعنی جو لوگ مرنے کے قریب ہیں ان لوگوں نے کہا۔۔ یا۔۔ موت کے فرشتے بولے (کہ) کیا (کوئی جھاڑ پھونک والا ہے) اور شفا دینے والا ہے ۔ (اور اس نے) یعنی موت جس کے پیش نظر ہے (سمجھا کہ اب جدائی ہے ) یعنی جو چیز اس پر نازل ہوئی وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے جدائی کا سبب ہے۔ (اور لپٹ گئ) مرنے والے کی (پنڈلی سے پنڈلی) یعنی موت کے ہول سے اس کے پاؤں آپس میں لپٹ اور سمٹ جاتے ہیں اور ان میں حرکت نہیں رہتی۔۔۔ یا موت کی شدت آخرت کی شدت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔ (تمہارے رب ہی کی طرف اس دن ہانک جانا) یعنی تیرے رب کی جزا کی طرف اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…
Read the full tafseer →18 The phrase "by no means" relates to the context, and means: "You are wrong in thinking that you will be annihilated after death and you will not return to your Lord. "
Read the full tafseer →