اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۟ۚاِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Looking at their Lord.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۟ۚاِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Looking at their Lord.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے
اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے
اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
اپنے رب کا دیکھتے
اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے،
اپنے رب کی طرف دیکھنے والے۔
اپنے پروردگار کو دیکھتے ہوں گے
اپنے رب کی رحمت کے متوقع
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے
اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
اپنے رب کی طرف دیکھنے والے
and will be looking towards their Lord;
looking towards their Lord,
looking towards their Lord,
Looking at their Lord.
Looking toward their Lord;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Looking at their Lord.
and look forward to receiving mercy from their Lord.
Looking to their Lord.
Looking toward their Lord.
Looking towards their Lord;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْقِیٰمَة 17 مفسرین میں سے بعض نے اسے مجازی معنی میں لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کی طرف دیکھنے کے الفاظ محاورے کے طور پر اس سے توقعات وابستہ کرنے، اس کے فیصلے کا انتظار کرنے، اس کے کرم کا امیدوار ہونے کے معنی میں بولے جاتے ہیں، حتی کہ ایک اندھا بھی یہ کہتا ہے کہ میری نگاہیں تو فلاں شخص کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ میرے لیے کیا کرتا ہے۔ لیکن بکثرت احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے اس کی جو تفسیر منقول ہے وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ کے مکرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ بخاری کی روایت ہے کہ انکم سترون ربکم عیانا۔ " تم اپنے رب کو علانیہ دیکھو گے "۔ مسلم اور ترمذی میں حضرت صہیب کی روایت ہے کہ حضور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ، اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ناضرة بمعنے ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش تروتازہ ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ یعنی یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سر نصیب ہوگا اس پر اہل سنت والجماعت اور سب علما وفقہا کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں۔ وجہ انکار کی فلسفیانہ شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھاے جائے اور ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں خالق و مخلوق کے درمیان ان کا تحقیق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →’إِلَی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ کا صحیح مفہوم: ’اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ اپنے رب کی رحمت و عنایت کے متوقع و منتظر ہوں گے۔ ’نَظَر‘ کے بعد جب ’اِلٰی‘ کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی جس طرح کسی چیز کی طرف دیکھنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی کی رحمت و عنایت کے متوقع و منتظر ہونے کے بھی آتے ہیں۔ ماہرین لغت نے اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے، جس سے اس کو عنایت کی توقع ہو، یہ کہے کہ ’اِنَّمَا نَنْظُرُ الی اللّٰہ ثم الیک‘ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اللہ کے فضل اور اس کے بعد آپ کی عنایت کے متوقع ہیں۔۱ رویت باری کے مسئلہ میں ہمارا نقطۂ نظر: ’اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ سے بعض…
Read the full tafseer →23۔ 1 یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
9: مومنوں کو جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہوگا جو جنت کی تمام دوسری نعمتوں سے بڑی نعمت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔ وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
3 یہ آخرت کا بیان ہوا۔ یعنی مومنین کے چہرے اس روز تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہوں گی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اللہم لاتحرمنا من ہذالنعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت 23{ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } ”اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔ اس لیے کہ رویت ِ باری تعالیٰ میدانِ حشر میں نہیں ہوگی ‘ بلکہ اہل جنت ‘ جنت میں داخلے کے بعد جس سب سے بڑی نعمت سے سرشار ہوں گے وہ دیدارِ الٰہی ہوگی۔ لیکن کچھ علماء کا خیال ہے اور میری رائے بھی یہی ہے کہ اہل ایمان کو میدانِ محشر میں بھی کسی نہ کسی درجے میں رویت باری تعالیٰ سے مشرف کیا جائے گا۔ سورة المُطَفِّـفِیْن میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
14 دیدار الہٰی میں لذت وسرور :۔ بیشمار احادیث سے بھی ثابت ہے کہ ایمانداروں کو آخرت میں اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ وہ اس کو اسی طرح بےتکلف دیکھ سکیں گے جس طرح چاند کی طرف دیکھتے ہیں۔ البتہ کافر اور فاجر لوگ اللہ کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ (83: 15) خ دیدار الہٰی سب سے بڑی نعمت ہے :۔ کتاب و سنت میں یہ بھی صراحت سے مذکور ہے کہ اللہ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر اور بڑی نعمت ہوگا اور اس دیدار میں کچھ ایسا کیف و سرور حاصل ہوگا کہ جب تک اللہ تعالیٰ اہل جنت کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا جنتی اور کسی نعمت کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں۔ بلکہ ٹکٹکی باندھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دیکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
12۔ مسئلہ رویت باری و دیدار الہی اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہے اور اس آیت سے بخوبی ثابت ہے۔ اعلم ان جمھور اھل السنۃ یتمسکون بھذہ الایۃ فی اثبات ان ال مومنین یرون اللہ تعالیٰ یوم القیمۃ (کبیر) مسئلۃ النظر ورؤیۃ اللہ تعالیٰ مذکورۃ فی اصول الدین (بحر) قال ابن عباس ؓ و اکثر الناس تنظر الی ربھا عیانا بلاحجاب (معالم) وقد ثبتت رؤیۃ ال مومنین للہ عزوجل فی الدار الاخرۃ فی الاحادیث الصحاح من طرق متواترۃ عند ائمۃ الحدیث لایمکن دفعھا ولامنعھا (ابن کثیر) (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ “۔ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ کی ترکیب دلالت حدوث وزوال پر نہیں کرتی بلکہ اس پر کہ یہ بشاشت وشگفتگی دائمی ہوگی، اس بشاشت و سرور کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ، ناضرۃ بمعنی ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش اور تروتازہ ہوں گے، یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سرنصیب ہوگا، اس پر اہل سنت والجماعت و فقہاء کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں اور ان کے انکار کی وجہ فلسفیانہ موشگافیاں اور شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھا جائے ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں، خالق اور مخلوق کے درمیان ان کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت و زیارت ان سب شرائط سے بےنیاز ہوگی نہ…
Read the full tafseer →الی ربھا ناظرۃ . الی ربھا کا تعلق ناظرۃ سے ہے یعنی آنکھوں سے اپنے رب کی طرف دیکھیں گے لیکن بغیر کسی جہت اور کیفیت اور بعد مسافت کے یہ جائز نہیں کہ غائب کو حاضر پر قیاس کیا جائے (اور کہا جائے کہ دیکھنا تو بغیر جہت اور سمت کے ناممکن ہے ‘ پھر آنکھ میں اور اس چیز میں جس کو دیکھا جا رہا ہو ‘ ایک محدود فاصلہ بھی ہونا چاہیے ‘ نہ بہت قرب ہو نہ انتہائی دُوری۔ پھر جس چیز کو دیکھا جائے اس کی کوئی خاص کیفیت بھی ہو ‘ ان شرائط کے بغیر دیکھنا ناممکن ہے اور خدا کی کوئی جہت نہیں ‘ وہ مکانی نہیں ‘ وہ ہر کیفیت اور مکانی قرب و بعد سے پاک ہے ‘ اس کو کیسے دیکھا جاسکتا ہے ؟ یہ حاضر پر غائب کا قیاس ہے ‘ ایسا نہ کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) سچے مومنوں کے چہرے تو قیامت کے دن بارونق اور چمکدار ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے قیامت کے دن بےرونق ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محروم رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وجوہ یومئذ ناضرۃ…:”ناضرۃ“ ’ نضر الوجہ والشجر واللون“ (ن، ک، س) چہرے یا درخت یا رنگ کا ترو تازہ ، خوبصورت اور بارونق ہونا۔ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا اور اس خوشی میں ان کے چہرے ترو تازہ اور چمک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انسان ہوں یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ایسا ایسا حسن و جمال ہے جسے دیکھ کر خوشی سے چہروں پر تازگی اور رونق آجاتی ہے۔ جب حسن و جمال کے خلاق کی ذات کو دیکھیں گے تو ان کی خوشی اور ان کے چہروں کی تازگی کا کیا ٹھکانا ہوگا ! ! حقیقت یہ ہے کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہی یہ ہوگی کہ جنتی اپنی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وجوہ یومئذ ناظرہ۔۔ تا۔۔ فاقرۃ۔ وجوہ یومئذناظرہ۔ الی ربھا ناظرہ۔ پہلا نضرہ سے مشتق ہے جس کا معنی حسن اور تروتازگی ہے دوسرا نظر سے مشتق ہے یعنی مومنوں کے چہرے روشن، خوبصورت اور تروتازہ ہوں گے۔ یہ باب ذکر کیا جاتا ہے، نضرھم اللہ ینضرھم نظرۃ ونضارۃ۔ اس سے مراد روشن ہونا، آسودگی ہونا، اور غنی ہونا ہے۔ اس معنی میں یہ حدیث طیبہ ہے، نضر اللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو خوش رکھے جس نے میری گفتگو سنی اور اسے یاد رکھا، رب سے مراد خالق ومالک ہے۔ ناظرۃ یعنی اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے یہی جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے اس بارے میں حضرت صہیب کی مروی حدیث ہے جس کو امام مسلم نے نقل کیا ہے جو…
Read the full tafseer →18۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والنسائی والدار قطنی فی الرویۃ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا تم کو سورج کے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب اس پر بادل نہ ہو ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا بلاشبہ تم اسی طرح حق تعالیٰ شانہ کو دیکھوگے۔ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور فرمائیں گے۔ جو شخص کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے سو جو سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے ہوجائیں گے۔ جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے…
Read the full tafseer →[اِلٰى رَبِهَا نَاظِرَةٌ: اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ0023﴾ یہ چہرے جو ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے جنت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا دیدار ہوگا جیسا کہ آیت شریف سے ظاہر ہے، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ادنیٰ درجہ والا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغوں اور بیویوں اور نعمتوں اور خادموں اور تختوں کو ہزار سال کی مسافت کے اندر دیکھے گا (یعنی اس کی نعمتیں اتنی دور تک پھیلی ہوئی ہوں گی کہ کوئی شخص اول سے آخر تک ان کے پاس سے گزرنا چاہے تو ہزار سال میں چل کر پہنچے) اور ان میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہوگا جو صبح شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
10:۔ ” وجوہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” ناضرۃ “ تروتازہ، خوش و خرم، ہشاش بشاش، قیامت کے دن کچھ چہرے (یعنی مومنوں کے چہرے) نہایت تروتازہ اور خوش وخرم ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محظوظ ہوں گے۔ ” ووجوہ یومئذ باسرۃ “ بےرونق، ادا، بگڑے ہوئے۔ ” فاقرۃ “ کمر توڑ دینے والی سختی۔ اور کچھ چہرے (یعنی کافروں کے) اس دن حسرت و یاس میں بےرونق اور بگڑے ہوئے ہوں گے اور انہیں یقین ہوگا کہ آج ان کا انجام نہایت ہولناک ہوگا، وہ شدید ترین عذاب میں گرفتار ہوں گے اور کمر توڑ دینے والے مصائب کا نشانہ بنیں گے۔
Read the full tafseer →اِلٰى رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ 23 ۚ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ م بَاسِرَۃٌ۔ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ۔ (القیامۃ : 22 تا 25) (کتنے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے۔ اور گمان کررہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے۔ ) قیامت کے دن اقرار اور انکار کرنے والوں کی کیفیت روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم قیامت کا اقرار کرو یا انکار، لیکن وہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے جس کا اپنے متعین وقت پر ظہور ہو کے رہے گا۔ آج جو اس کا اقرار کررہے ہیں وہ بھی اس روز موجود ہوں گے اور جو انکار کررہے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کا مرکزی مضمون قیامت کا قائم ہوناثابت کرنا ہے، اس بات کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں اٹھائیں اور دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ قیامت کے انکار کے پیچھے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ جو اسے ملنا ہے وہ دنیا میں ہی مل جائے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ اس سوچ کی بنا پر وہ آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ جلدی کرنے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ بہتر ہیں جو دنیا میں بھرپور کردار ادا کرنے کے باوجود آخرت کو نہیں بھولتے وہ دنیا کی خاطر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس…
Read the full tafseer →23 : اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ (اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہونگے) یہ دیدار بلا کیف ہوگا اور بلا جہت اور بلا ثبوت مسافت ہوگا۔ ازالہ غلطی : نظرؔ کو امر رب کے انتظار پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ ثواب کے منتظر پر بھی مگر یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ محاورہ میں کہتے ہیں نظرت فیہ ای تکفرت فیہ ونظرتہ بمعنی انتظرتہٗ ہے۔ الی ؔ سے یہ اس وقت متعدی ہوتا ہے جبکہ رؤیت کے معنی میں ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ دارالقرار میں انتظار کا کوئی مطلب نہیں۔
Read the full tafseer →22 ۔” وجوہ یومئذ “ قیامت کے دن۔ ” ناضرۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں خوبصورت ہوں گے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں خوش اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں تروتازہ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں سفید ان پر نور چڑھا ہوا ہوگا اور سدی (رح) فرماتے ہیں روشن، چمکدار اور یمان فرماتے ہیں روسن۔ فراء کہتے ہیں نعمتوں کی وجہ سے کھلے ہوئے ۔ کہا جاتا ہے ” نضر اللہ وجھہ ینضر نضرا ونضرہ اللہ وانضرہ ونضروجھہ ینضر نضرۃ…” الی ربھا ناظرۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اکثر لوگ اپنے رب کی طرف عیانا بغیر حجاب کے دیکھیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں خالق کی طرف دیکھے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…
Read the full tafseer →(اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ) اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح وشام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کی بےپناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انہیں حاصل ہوں گی انہیں اس دیدار سے ایسی لذت اور مسرت حاصل ہوگی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →21 اہل جنت کے ایک عظیم الشان انعام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے یعنی اپنے سر کی آنکھوں سے " اور علنا وجھارا " جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ تم قیامت میں اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح کہ چودہویں رات کے چاند کو بغیر کسی دقت اور دشواری کے دیکھتے ہو ‘ اور یہ سب سے بڑٔ نعمت ہوگی جس سے اہل جنت کو سرفرازی نصیب ہوگی ‘ جمہور امت صحابہ کرام تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین سب کا اس پر اتفاق ہے ‘ کہ قرآن و سنت کی نصوص اس کی تصریح کرتی ہیں ‘ معتزلہ اور خوارج کے کچھ لوگوں کے سوا اور کسی نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا ‘ اللہ پاک ہمیں بھی رویت باری عزاسمہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 7 آیت کے اس معنی کی تائید متواتر صحیح احادیث سے ہوتی ہے جن میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن مومن اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں جبکہ مطلع صاف ہو۔ آخرت میں اس رئویت باری تعالیٰ پر تمام صحابہ وتابعین اور علمائے سلف کا اجماع ہے اور ائمہ سنت میں سے کسی امام نے بھی اس سے انکار نہیں کیا۔ (ابن کثیر) صرف بعض اہل بدعت (معتزلہ وغیرہ) اس رئویت کا انکار کرتے ہوئے احادیث کی صراحت کے خلاف اس آیت کیتاویل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے۔ گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں (موضح)
Read the full tafseer →(75:23) الی ربھا ناظرۃ : ناظرۃ خبر الی ربھا متعلق خبر۔ ناظرۃ نظر باب ضرب و سمع۔ مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی دیکھنے والی۔ ترجمہ آیات 22-23 ۔ کئی چہرے (یا اہل قرب کے چہرے) تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[12] یعنی تمہارا قیامت سے انکار کرنا ہرگز کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ دنیا میں انہماک کا سبب ہے۔ دنیا کیونکہ نقد اور جلد مل سکتی ہے اس کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں دیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…
Read the full tafseer →(23) وہ اپنے پروردگار کی تجلی کا مشاہدہ کرتے ہوں گے۔ یعنی اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے خوش کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہوں گے اس دن اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا بعض فرق ضالہ معتزلہ وغیرہ آخرت میں بھی دیدار کے منکر ہیں ان کا بہت تفصیلی جواب صاحب تفسیر عزیزی نے دیا ہے جس کو شوق ہو وہ تفسیر عزیزی کو ملاحظہ کرے۔ اس موقعہ پر بعض حضرات نے قرآن میں تحریف کی کوشش کی ہے اور الی کو الی پڑھ کر نعمت کے معنی کئے ہیں حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے اس تحریف کا بھی مفصل جواب دیا ہے ہم نے تطویل کے خوف سے وہ عبارت یہاں نقل نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ف 7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(کچھ چہرے اس دن ترو تازہ ہیں) یہ انبیاء اولیاء اور مومنین کے چہرے ہیں ، جو (اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ) ہوں گے ظاہر میں بےحجاب۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کم سے کم رتبہ جنتی کا اپنے باغوں نعمتوں ، کنیزوں اور خدمتگاروں پر نظر کرے گا ، اور ہزار برس کی راہ سے انہیں دیکھے گا اور بہت بزرگ خدا کے نزدیک وہ ہے جو وجہہ الہی پر نظر کرے صبح و شام یعنی اپنی استعداد کے موافق۔ پھر یہ آیت پڑھی : وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ الی ربھا ناظرۃ۔ بعض عارفین کا کہنا ہے کہ اوتاد میں سے ہر ایک کے اوراد میں یہ کلمات ہیں اللھم انی اسئلک النظر الی وجھک الکریم ، ہر شخص جنت میں کوئی نہ کوئی آرزو رکھے گا مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 Some commentators have understood this allegorically. They say that the words "looking towards someone" are used idiomatically for having expectations from some one, awaiting his decision and hoping for his mercy and kindness: so much so that even a blind person also says that he is looking towards some one in the hope to see how he helps him. But in a large number of the Ahadith the commentary that has been reported of it from the Holy Prophet (upon whom be peace) is that on the Hereafter the illustrious servants of AIlah will be blessed with the vision of their Lord. According to a…
Read the full tafseer →