وَوُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌ ۟ۙوَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍۢ بَاسِرَةٌ
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [some] faces, that Day, will be contorted,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
وَوُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌ ۟ۙوَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍۢ بَاسِرَةٌ
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [some] faces, that Day, will be contorted,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
اور کچھ چہرے اداس ہوں گے
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے
اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔
اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے
اور کتنے ہی چہرے اُس دن بگڑی ہوئی حالت میں (مایوس اور سیاہ) ہوں گے،
اور کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔
اور کئی چہرے اس دن پریشان ہوں گے
اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے ،
جب کہ بہت سے چہرے اس روز بگڑے ہوئے ہوں گے
اور (کتنے ہی) چہرے اس روز بےرونق ہوں گے
اور بہت سے چہرے اس روز اترے ہوئے ہوں گے۔
اور بہت سے چہرے اس دن اداس ہوں گے
and some faces on that Day will be gloomy,
and many faces, that day, will be gloomy,
and many faces, that day, will be gloomy,
And some faces that Day will be Basirah,
And that day will other faces be despondent,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [some] faces, that Day, will be contorted,
Others will be despondent,
And (other) faces on that day shall be gloomy,
And countenances on that Day shall be scowling.
And some faces, that Day, will be sad and dismal,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْقِیٰمَة 17 مفسرین میں سے بعض نے اسے مجازی معنی میں لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کی طرف دیکھنے کے الفاظ محاورے کے طور پر اس سے توقعات وابستہ کرنے، اس کے فیصلے کا انتظار کرنے، اس کے کرم کا امیدوار ہونے کے معنی میں بولے جاتے ہیں، حتی کہ ایک اندھا بھی یہ کہتا ہے کہ میری نگاہیں تو فلاں شخص کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ میرے لیے کیا کرتا ہے۔ لیکن بکثرت احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے اس کی جو تفسیر منقول ہے وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ کے مکرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ بخاری کی روایت ہے کہ انکم سترون ربکم عیانا۔ " تم اپنے رب کو علانیہ دیکھو گے "۔ مسلم اور ترمذی میں حضرت صہیب کی روایت ہے کہ حضور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ، اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ناضرة بمعنے ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش تروتازہ ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ یعنی یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سر نصیب ہوگا اس پر اہل سنت والجماعت اور سب علما وفقہا کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں۔ وجہ انکار کی فلسفیانہ شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھاے جائے اور ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں خالق و مخلوق کے درمیان ان کا تحقیق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اصل حقیقت یعنی دنیا کے پیچھے آخرت کو نظرانداز کر رہے ہو تو کرو لیکن اس حقیقت کو نہ بھولو کہ جس کو نظرانداز کر رہے ہو وہ آ کے رہے گی اور اس دن صورت حال بالکل مختلف ہو گی۔ جنھوں نے اس کو سامنے رکھ کر زندگی گزاری ہو گی ان کے چہرے تو اس دن تروتازہ اور شاداب ہوں گے، وہ اپنے رب کی رحمتوں کے متوقع ہوں گے اور جنھوں نے اس کو نظرانداز کر کے زندگی گزاری ہو گی ان کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے اور وہ گمان کر رہے ہوں گے کہ ان پر کوئی کمر توڑ دینے والی مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ یہ جنت یا دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے کے حالات کی تصویر ہے۔ مستحقین جنت جب دیکھیں گے کہ ہر قدم پر ملائکہ سلام و تحیت اور اعزاز و اکرام کے…
Read the full tafseer →24۔ 1 یہ کافروں کے چہرے ہونگے سیاہ اور بےرونق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
9: مومنوں کو جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہوگا جو جنت کی تمام دوسری نعمتوں سے بڑی نعمت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ووجوہ ........................ فاقرة (75:25) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی…
Read the full tafseer →4 یعنی پریشان اور بےرونق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت 23{ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } ”اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔ اس لیے کہ رویت ِ باری تعالیٰ میدانِ حشر میں نہیں ہوگی ‘ بلکہ اہل جنت ‘ جنت میں داخلے کے بعد جس سب سے بڑی نعمت سے سرشار ہوں گے وہ دیدارِ الٰہی ہوگی۔ لیکن کچھ علماء کا خیال ہے اور میری رائے بھی یہی ہے کہ اہل ایمان کو میدانِ محشر میں بھی کسی نہ کسی درجے میں رویت باری تعالیٰ سے مشرف کیا جائے گا۔ سورة المُطَفِّـفِیْن میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
14 دیدار الہٰی میں لذت وسرور :۔ بیشمار احادیث سے بھی ثابت ہے کہ ایمانداروں کو آخرت میں اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ وہ اس کو اسی طرح بےتکلف دیکھ سکیں گے جس طرح چاند کی طرف دیکھتے ہیں۔ البتہ کافر اور فاجر لوگ اللہ کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ (83: 15) خ دیدار الہٰی سب سے بڑی نعمت ہے :۔ کتاب و سنت میں یہ بھی صراحت سے مذکور ہے کہ اللہ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر اور بڑی نعمت ہوگا اور اس دیدار میں کچھ ایسا کیف و سرور حاصل ہوگا کہ جب تک اللہ تعالیٰ اہل جنت کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا جنتی اور کسی نعمت کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں۔ بلکہ ٹکٹکی باندھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دیکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
13۔ یعنی نہایت شدت کا معاملہ (آیت) ” فاقرہ “۔ فقر ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ اس کو توڑ دینے والی چیز سے کنایہ ہوتا ہے انواع عذاب وغایت مصیبت سے۔ (آیت) ” وجوہ “۔ کے صیغہ نکرہ ہونے سے یہ مستفاد ہوا ہے کہ کچھ ہی بدقسمت اس میں گرفتار ہوں گے، سب نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ، ناضرۃ بمعنی ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش اور تروتازہ ہوں گے، یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سرنصیب ہوگا، اس پر اہل سنت والجماعت و فقہاء کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں اور ان کے انکار کی وجہ فلسفیانہ موشگافیاں اور شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھا جائے ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں، خالق اور مخلوق کے درمیان ان کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت و زیارت ان سب شرائط سے بےنیاز ہوگی نہ…
Read the full tafseer →ووجوہ یومئذ باسرۃ . اور کافروں کے چہرے یا بہت چہرے (اوّل صورت میں تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے اور دوسری صورت میں تنوین تکثیر ہے) سخت بدرونق ‘ بگڑے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) سچے مومنوں کے چہرے تو قیامت کے دن بارونق اور چمکدار ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے قیامت کے دن بےرونق ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محروم رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ووجوہ یومئذ باسرۃ…:”باسرۃ“ ”یسر یسر بسوراً“ (ن) تیوری چڑھانا، منہ بگاڑنا، ”فاقرۃ“ وہ سختی جو کمر توڑ دے۔ یہ ”ففرات الظھر“ سے نکلا ہے جس کے معنی ”پیٹھ کے مہرے“ ہیں۔ کہا جاتا ہے : ”ففرت الرجل“ ”میں نے اس آدمی کی پیٹھ کے مہرے توڑ دیئے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ووجوہ یومئذ باسرہ۔ تظن ان یفعل بھا فاقرہ۔ یعنی کفار کے چہرے قیامت کے روز تیوری چڑھے ترش ہوں گے، صحاح میں ہے بسرا الفحل الناقۃ وابتسرھا، یعنی نر اونٹ، اونٹنی کی خواہش کے بغیر اس پر جاپڑا۔ وبسرالرجل وجھہ بسورا، آدمی نے تیوری چڑھائی۔ کہا جاتا ہے، عبس وبسر۔ سدی نے کہا، باسرہ یعنی بدلے ہوئے معنی ایک ہی ہے انہیں یقین ہوگا کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک کیا جائے گا، فاقرۃ سے مراد بڑی مصیبت اور عظیم امر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، فقرتہ الفاقرہ۔ مصیبت نے اس کی کمرتوڑ دی مجاہد دوسرے علماء نے یہی معنی بیان کیے ہیں قتادہ نے کہا، فاقرہ کا مطلب مصیبت ہے۔ سدی نے کہا، ہلاکت ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا، آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
44۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ووجوہ یومئذ باسرۃ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے بعض چہرے اس دن پیشانی پر بل ڈالے ہوئے اور تیوری چڑھائے ہوئے ہوں گے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن الارزق کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ صبحناتمیما غداۃ النساء شھباء ملمومۃ باسرۃ ترجمہ : ہم نے تمیم کو گدھوں کا کھانا، قحط زدہ ملامت زدہ اور تیوری چڑھائے اور منہ بسورنے والا بنایا۔ 45۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووجوہ یومئذ باسرۃ۔ اور کتنے چہرے…
Read the full tafseer →[وَوُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ: اور کچھ چہرے اس دن مرجھانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
پھر فرمایا ﴿ وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌۙ0024 تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ0025﴾ (اور کچھ چہرے اس دن بدرونق ہوں گے اور وہ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا) یعنی یہ سمجھ لیں گے کہ دنیا میں جو نافرمانی کی زندگی گزاری ہے اس کی سزا ملنے والی ہے اس سزا کو فاقرۃ سے تعبیر فرمایا، ریڑھ کی ہڈی کو فقار کہا جاتا ہے یہ لفظ اسی سے ماخوذ ہے۔ قال صاحب الروح ای داھیة عظیمة تفصم فقار الظھر من فقرہ اصابہ فقارہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
10:۔ ” وجوہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” ناضرۃ “ تروتازہ، خوش و خرم، ہشاش بشاش، قیامت کے دن کچھ چہرے (یعنی مومنوں کے چہرے) نہایت تروتازہ اور خوش وخرم ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محظوظ ہوں گے۔ ” ووجوہ یومئذ باسرۃ “ بےرونق، ادا، بگڑے ہوئے۔ ” فاقرۃ “ کمر توڑ دینے والی سختی۔ اور کچھ چہرے (یعنی کافروں کے) اس دن حسرت و یاس میں بےرونق اور بگڑے ہوئے ہوں گے اور انہیں یقین ہوگا کہ آج ان کا انجام نہایت ہولناک ہوگا، وہ شدید ترین عذاب میں گرفتار ہوں گے اور کمر توڑ دینے والے مصائب کا نشانہ بنیں گے۔
Read the full tafseer →وَوُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍؚبَاسِرَۃٌ 24 ۙ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ م بَاسِرَۃٌ۔ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ۔ (القیامۃ : 22 تا 25) (کتنے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے۔ اور گمان کررہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے۔ ) قیامت کے دن اقرار اور انکار کرنے والوں کی کیفیت روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم قیامت کا اقرار کرو یا انکار، لیکن وہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے جس کا اپنے متعین وقت پر ظہور ہو کے رہے گا۔ آج جو اس کا اقرار کررہے ہیں وہ بھی اس روز موجود ہوں گے اور جو انکار کررہے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ،…
Read the full tafseer →24 : وَوُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍم بَاسِرَۃٌ (اور بہت سے چہرے اس روز بد رونق ہونگے) انتہائی ترش رو، سیاہ، یہ کفار کے چہرے ہونگے۔
Read the full tafseer →23 ۔” وحق لھا ان تنضر وھی تنظر الی الخالق “ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں ادنیٰ مرتبہ کا شخص وہ ہے جو اپنے باغوں، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور خوشی کی طرف ہزار سال کی مسافت سے دیکھے گا اور ان میں سے اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے چہرہ کو صبح وشام دیکھے گا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا (وَوُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ) اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →22 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کے ذکر کے بعد اہل دوزخ کے حال بد کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے چہرے اس روز بگڑے ہوئے ہوں گے۔ سو یہ کفار و منکرین اور فساد و مکذبین کے چہرے ہوں گے جو اس طرح بگڑے ہوں گے کہ اس کا اس جہاں میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ‘ اور ایسا اس لئے ہوگا کہ ان کو وہاں پر اپنی توقعات کے بالکل برعکس اور اپنی مزعومات کے یکسر خلاف معاملہ پیش آ رہا ہوگا ‘ کہ جس حقیقت کو وہ زندگی بھر جھٹلاتے رہے تھے۔ آج وہ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگی ‘ سو ایسے میں ان کی خجالت و شرمندگی کا ٹھکانا ہی کیا ہوگا ‘ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 8 ” فاقرہ “ لفظی معنی ہیں ” کمرتوڑ دینے والی “ یہاں یہ لفظ “ سختی “ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(75:24) ووجوہ یومئذ باسرۃ : واؤ عاطفہ ہے وجوہ (اہل قرب کے چہرے کے بالمقابل کافروں کے چہرے یا کچھ چہروں کے مقابل میں کچھ اور چہرے) مبتداء باسرۃ اس کی خبر۔ یومئذ متعلق خبر۔ باسرۃ اداس، بےرونق، پریشان ، بسر (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ اصل میں بسر کے معنی ہیں وقت سے پہلے کسی چیز کے متعلق جلدی کرنے کے ہیں ۔ یہاں وقت سے پہلے اداس ہونا۔ اور تیور بگڑ جانا مراد ہے۔ مجازاً اس کے معنی ترش رو ہونے اور منہ بگاڑنے کے بھی آتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور کئی چہرے یا کافروں کے چہرے اس روز اداس اور بےرونق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[12] یعنی تمہارا قیامت سے انکار کرنا ہرگز کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ دنیا میں انہماک کا سبب ہے۔ دنیا کیونکہ نقد اور جلد مل سکتی ہے اس کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں دیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…
Read the full tafseer →(24) اوربہت سے چہرے اس دن اداس اور بدرونق ہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ف 7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے) ہوں گے ، یعنی منافقوں اور مشرکوں کے چہرے تاریک اور ترش ہوں گے (سمجھتے ہوں گے کہ کیا جائے گا انہیں کمر توڑ دینے والا عذاب) یعنی پہنچائی جائے گی انہیں ایسی بلا اور رنج جو ان کی ہڈیاں توڑ دے۔ یہ ان پر عذاب عظیم نازل ہونے سے کنایہ ہے اور ارباب معرفت کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ وہ بلا حجاب ہے دیدار رب الارباب سے ، کیونکہ عشاق کے لیے فراق سے بدتر عالم میں کوئی آزمائش اور مصیبت نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دل دنیا پر رکھ سکے اور آخرت سے غافل ہوسکے۔ ایسا۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 Some commentators have understood this allegorically. They say that the words "looking towards someone" are used idiomatically for having expectations from some one, awaiting his decision and hoping for his mercy and kindness: so much so that even a blind person also says that he is looking towards some one in the hope to see how he helps him. But in a large number of the Ahadith the commentary that has been reported of it from the Holy Prophet (upon whom be peace) is that on the Hereafter the illustrious servants of AIlah will be blessed with the vision of their Lord. According to a…
Read the full tafseer →