Al-Qiyaama 75:22

Al-Qiyaama · from ayah 22

75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ ۟ۙوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Some] faces, that Day, will be radiant,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:22

اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کتنے چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بہت سے چہرے تو اس روز تروتازہ ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

(کتنے ہی) چہرے اس روز بشاش ہوں کے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس روز بہت سے منہ تازہ ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Some faces on that Day will be fresh and resplendent,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Many faces, that day, will be glowing,

— Muhammad Taqi Usmani

Many faces, that day, will be glowing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Some faces that Day shall be Nadirah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

[Some] faces, that Day, will be radiant,

— Saheeh International

On the Day of Judgment some faces will be bright,

— Muhammad Sarwar

(Some) faces on that day shall be bright,

— Muhammad Habib Shakir

Countenances on that Day shall be resplendent,

— Abdul Majid Daryabadi

Some faces, that Day, will beam (in brightness and beauty);-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 16 یعنی خوشی سے دمک رہے ہونگے، کیونکہ جس آخرت پر وہ ایمان لائے تھے وہ ٹھیک ان کے یقین کے مطابق سامنے موجود ہوگی، اور جس آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے دنیا کے ناجائز فائدے چھوڑے اور برحق نقصان برداشت کیے تھے اس کو فی الواقع اپنی آنکھوں کے سامنے برپا ہوتے دیکھ کر انہیں یہ اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنے رویہ زندگی کے متعلق بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا، اب وہ وقت آ گیا ہے جب وہ اس کا بہترین انجام دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–25

وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ، اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ناضرة بمعنے ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش تروتازہ ہوں گے۔ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ یعنی یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سر نصیب ہوگا اس پر اہل سنت والجماعت اور سب علما وفقہا کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں۔ وجہ انکار کی فلسفیانہ شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھاے جائے اور ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں خالق و مخلوق کے درمیان ان کا تحقیق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل حقیقت یعنی دنیا کے پیچھے آخرت کو نظرانداز کر رہے ہو تو کرو لیکن اس حقیقت کو نہ بھولو کہ جس کو نظرانداز کر رہے ہو وہ آ کے رہے گی اور اس دن صورت حال بالکل مختلف ہو گی۔ جنھوں نے اس کو سامنے رکھ کر زندگی گزاری ہو گی ان کے چہرے تو اس دن تروتازہ اور شاداب ہوں گے، وہ اپنے رب کی رحمتوں کے متوقع ہوں گے اور جنھوں نے اس کو نظرانداز کر کے زندگی گزاری ہو گی ان کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے اور وہ گمان کر رہے ہوں گے کہ ان پر کوئی کمر توڑ دینے والی مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ یہ جنت یا دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے کے حالات کی تصویر ہے۔ مستحقین جنت جب دیکھیں گے کہ ہر قدم پر ملائکہ سلام و تحیت اور اعزاز و اکرام کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

8: یعنی آیات کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–23

اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔ وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

3 یہ آخرت کا بیان ہوا۔ یعنی مومنین کے چہرے اس روز تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہوں گی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اللہم لاتحرمنا من ہذالنعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔“ ان آیات میں اب میدانِ محشر میں موجود لوگوں کی کیفیت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے کو دیکھنے سے یوں لگتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کے مطابق اپنے نتیجے کا پہلے سے ہی علم ہوگا۔ جیسے سکول میں اعلانِ نتائج کے موقع پر کچھ بچے پہلے سے مطمئن اور کچھ پہلے سے پریشان ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر بچہ اپنے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے امتحان میں کیا کچھ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

13 اس جملہ معترضہ کے بعد اب پھر اصل مضمون کا تسلسل شروع ہو رہا ہے۔ کافروں کے انکار آخرت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آخرت کا اقرار کرکے اپنے آپ پر پابندی لگا لینا گوارا نہیں کرتے۔ ان دو آیات میں آخرت کے انکار کی دوسری وجہ بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ صرف نقد بہ نقد سودا کے گاہک ہو، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ایسا کام کرو جس کا عوض اسی دنیا میں مل جائے اور جن کاموں کا اجر آخرت میں ملنے کی توقع ہو ان کاموں کو تم نظر انداز کردیتے ہو۔ عوضانہ ادھار بھی ہو اور تمہارے خیال کے مطابق غیر یقینی بھی ہو تو پھر تم آخرت کو دنیا پر کیونکر ترجیح دے سکتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–23

12۔ مسئلہ رویت باری و دیدار الہی اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہے اور اس آیت سے بخوبی ثابت ہے۔ اعلم ان جمھور اھل السنۃ یتمسکون بھذہ الایۃ فی اثبات ان ال مومنین یرون اللہ تعالیٰ یوم القیمۃ (کبیر) مسئلۃ النظر ورؤیۃ اللہ تعالیٰ مذکورۃ فی اصول الدین (بحر) قال ابن عباس ؓ و اکثر الناس تنظر الی ربھا عیانا بلاحجاب (معالم) وقد ثبتت رؤیۃ ال مومنین للہ عزوجل فی الدار الاخرۃ فی الاحادیث الصحاح من طرق متواترۃ عند ائمۃ الحدیث لایمکن دفعھا ولامنعھا (ابن کثیر) (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ “۔ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ کی ترکیب دلالت حدوث وزوال پر نہیں کرتی بلکہ اس پر کہ یہ بشاشت وشگفتگی دائمی ہوگی، اس بشاشت و سرور کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–25

وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ، ناضرۃ بمعنی ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش اور تروتازہ ہوں گے، یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سرنصیب ہوگا، اس پر اہل سنت والجماعت و فقہاء کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں اور ان کے انکار کی وجہ فلسفیانہ موشگافیاں اور شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھا جائے ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں، خالق اور مخلوق کے درمیان ان کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت و زیارت ان سب شرائط سے بےنیاز ہوگی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجوہٌ . یہ مبتداء ہے یا تو مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا یعنی اہل قرب کے چہرے ‘ صفت محذوف ہے ‘ یعنی بہت چہرے۔ (مطلب یہ وجوہٌ نکرہ ہے جب تک اس میں کوئی تخصیص نہ ہو ‘ مبتداء نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے مضاف الیہ کو محذوف مانا جائے گا یا صفت مخصّصہ کو) ۔ یا یوں کہا جائے کہ وجوہٌ سے وجوہٌ منھم مراد ہے یعنی انسانوں میں کچھ چہرے ہوں گے (اس وقت وجوہٌ خبر ہوگا اور مِنْھُمْ مبتداء یا منھم ظرف اور وجوہٌ اس کا فاعل) ۔ یومئذ . اس روز یعنی بروق بصر کے روز یا آخرت کے روز۔ ناضرۃ . تروتازہ ‘ خوبصورت ‘ شگفتہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–25

(22۔ 25) سچے مومنوں کے چہرے تو قیامت کے دن بارونق اور چمکدار ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے قیامت کے دن بےرونق ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محروم رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 22–23

وجوہ یومئذ ناضرۃ…:”ناضرۃ“ ’ نضر الوجہ والشجر واللون“ (ن، ک، س) چہرے یا درخت یا رنگ کا ترو تازہ ، خوبصورت اور بارونق ہونا۔ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا اور اس خوشی میں ان کے چہرے ترو تازہ اور چمک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انسان ہوں یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ایسا ایسا حسن و جمال ہے جسے دیکھ کر خوشی سے چہروں پر تازگی اور رونق آجاتی ہے۔ جب حسن و جمال کے خلاق کی ذات کو دیکھیں گے تو ان کی خوشی اور ان کے چہروں کی تازگی کا کیا ٹھکانا ہوگا ! ! حقیقت یہ ہے کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہی یہ ہوگی کہ جنتی اپنی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

وجوہ یومئذ ناظرہ۔۔ تا۔۔ فاقرۃ۔ وجوہ یومئذناظرہ۔ الی ربھا ناظرہ۔ پہلا نضرہ سے مشتق ہے جس کا معنی حسن اور تروتازگی ہے دوسرا نظر سے مشتق ہے یعنی مومنوں کے چہرے روشن، خوبصورت اور تروتازہ ہوں گے۔ یہ باب ذکر کیا جاتا ہے، نضرھم اللہ ینضرھم نظرۃ ونضارۃ۔ اس سے مراد روشن ہونا، آسودگی ہونا، اور غنی ہونا ہے۔ اس معنی میں یہ حدیث طیبہ ہے، نضر اللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو خوش رکھے جس نے میری گفتگو سنی اور اسے یاد رکھا، رب سے مراد خالق ومالک ہے۔ ناظرۃ یعنی اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے یہی جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے اس بارے میں حضرت صہیب کی مروی حدیث ہے جس کو امام مسلم نے نقل کیا ہے جو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ مومنین کے چہرے قیامت کے روز خوبصورت ہوں گے 6۔ ابن المنذر والاجری فی الشریعۃ واللالکائی فی النسۃ اور بیہقی نے الرویہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ یعنی اس دن کئی چہرے انتہائی حسین ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 7۔ ابن المنذر ولآجری نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے آیت وجوہ یومئذ ناضرہ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ان چہروں کو تروتازہ بنادیں گے اور ان کی طرف دیکھنے کے لیے خوبصورت بنادیں گے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم واللالکائی نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَاضِرَةٌ: کچھ چہرے اس دن ترو تازہ ہونے والے ہیں ] ن ض ر [نَضْرَۃً : (ن۔ س) ] تروتازہ ہونا۔ ملائم ہونا۔ خوبصورت ہونے والا۔ نَضْرَۃٌ اسم ذات بھی ہے۔ تروتازگی۔ ملائمیت، خوبصورتی۔ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ الْنَّعِیْمِ (تو پہچانے گا ان کے چہروں میں ہمیشگی کی تروتازگی کو) 83:24 ۔ نَاضِرَۃٌ اسم الفاعل ہے۔ تروتازہ ہونے والی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد اہل ایمان کی خوشی اور اہل کفر کی بدحالی بیان فرمائی۔ ارشاد فرمایا ﴿ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةۙا 0022﴾ (اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے) یعنی خوش و خرم ہوں گے ان کے چہروں کی خوبی اور چمک دمک دیکھنے والوں کو بتارہی ہوگی کہ یہ لوگ بڑے خوش ہیں ان کو کوئی فکر نہیں پوری طرح ہشاش بشاش ہیں۔ كما قال تعالیٰ : ﴿تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ0024﴾ ان میں بہت سے اشخاص رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کر کے دعا لینے والے بھی ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نضر اللہ امراء سمع مناشیئا فبلغہ کما سمعہ فرب مبلغ اوعیٰ من سامع (اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–25

10:۔ ” وجوہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” ناضرۃ “ تروتازہ، خوش و خرم، ہشاش بشاش، قیامت کے دن کچھ چہرے (یعنی مومنوں کے چہرے) نہایت تروتازہ اور خوش وخرم ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محظوظ ہوں گے۔ ” ووجوہ یومئذ باسرۃ “ بےرونق، ادا، بگڑے ہوئے۔ ” فاقرۃ “ کمر توڑ دینے والی سختی۔ اور کچھ چہرے (یعنی کافروں کے) اس دن حسرت و یاس میں بےرونق اور بگڑے ہوئے ہوں گے اور انہیں یقین ہوگا کہ آج ان کا انجام نہایت ہولناک ہوگا، وہ شدید ترین عذاب میں گرفتار ہوں گے اور کمر توڑ دینے والے مصائب کا نشانہ بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَۃٌ۝ 22 ۙ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–30

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–25

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ م بَاسِرَۃٌ۔ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ۔ (القیامۃ : 22 تا 25) (کتنے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے۔ اور گمان کررہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ برتائو ہونے والا ہے۔ ) قیامت کے دن اقرار اور انکار کرنے والوں کی کیفیت روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم قیامت کا اقرار کرو یا انکار، لیکن وہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے جس کا اپنے متعین وقت پر ظہور ہو کے رہے گا۔ آج جو اس کا اقرار کررہے ہیں وہ بھی اس روز موجود ہوں گے اور جو انکار کررہے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–23

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کا مرکزی مضمون قیامت کا قائم ہوناثابت کرنا ہے، اس بات کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں اٹھائیں اور دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ قیامت کے انکار کے پیچھے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ جو اسے ملنا ہے وہ دنیا میں ہی مل جائے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ اس سوچ کی بنا پر وہ آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ جلدی کرنے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ بہتر ہیں جو دنیا میں بھرپور کردار ادا کرنے کے باوجود آخرت کو نہیں بھولتے وہ دنیا کی خاطر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : وُجُوْئہ (بہت سے چہرے) یہ ایمان والوں کے چہرے مراد ہیں۔ یَّوْمَپذٍ نَّاضِرَۃٌ (تو اس دن بارونق ہونگے) خوبصورت تروتازہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” وتذرون الآخرۃ “ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے ” تحبون وتذرون “ دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ یعنی وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے لئے عمل کرتے ہیں یعنی کفار مکہ اور جس نے تاء پڑھا ہے اس تقدیر پر کہ ” قل یا محمد بل تحبون وتذرون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں چناچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ) اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت اور ارواح کی لذت کے باعث انکے چہروں پر رونق اور نور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 قیامت کے روز فلاح پانے والوں کا ذکر وبیان : سو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں فلاح پانے والے خوش نصیبوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔ جو دنیا میں نور ایمان سے منور اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال رہے ہوں گے ‘ جس کی بناء پر وہاں پر وہ جنت کی ابدی اور دائمی نعمتوں سے سرفراز و سرشار ہوں گے ‘ اور ان کے دلوں کی خوشی کے آثار ان کے چہروں سے ہویدا ہوں گے ‘ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا " تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم " (التطفیف :24) ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو انہی خوش نصیب لوگوں میں سے کرے۔ آمین ثم آمین۔ سو جن لوگوں نے دنیاوی زندگی کو اصل مقصد بناکر اسی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 7 آیت کے اس معنی کی تائید متواتر صحیح احادیث سے ہوتی ہے جن میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن مومن اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں جبکہ مطلع صاف ہو۔ آخرت میں اس رئویت باری تعالیٰ پر تمام صحابہ وتابعین اور علمائے سلف کا اجماع ہے اور ائمہ سنت میں سے کسی امام نے بھی اس سے انکار نہیں کیا۔ (ابن کثیر) صرف بعض اہل بدعت (معتزلہ وغیرہ) اس رئویت کا انکار کرتے ہوئے احادیث کی صراحت کے خلاف اس آیت کیتاویل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے۔ گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:22) وجوہ یومئذ ناضرۃ، وجوہ مبتداء ناضیرۃ اس کی خبر۔ اور یومئذ خبر کا ظرف۔ ناضرۃ و نضر ونضارۃ (باب نصر، سمع ، کرم) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ بمعنی تروتازہ ، پررونق۔ وجوہ : مبتداء ہے یہاں یا تو مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا ہے یعنی اہل قرب کے چہرے یا صفت محذوف ہے : یعنی بہت سے چہرے : کیونکہ وجوہ نکرہ ہے اور جب تک اس میں کوئی تخصیص نہ ہو مبتداء نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یا تو مضاف الیہ کو محذوف مانا جائے گا۔ یا صفت مخصصہ کو۔ یا یوں کہا جائے کہ وجوہ سے وجوہ منھم مراد ہے یعنی انسانوں کے کچھ چہرے ہوں گے (اس وقت وجوہ خبر ہوگا اور منھم مبتداء یا منھم ظرف اور وجوہ اس کا فاعل)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–25

(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–25

[12] یعنی تمہارا قیامت سے انکار کرنا ہرگز کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ دنیا میں انہماک کا سبب ہے۔ دنیا کیونکہ نقد اور جلد مل سکتی ہے اس کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں دیر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–23

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–26

ف 7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 22–23

(کچھ چہرے اس دن ترو تازہ ہیں) یہ انبیاء اولیاء اور مومنین کے چہرے ہیں ، جو (اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ) ہوں گے ظاہر میں بےحجاب۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کم سے کم رتبہ جنتی کا اپنے باغوں نعمتوں ، کنیزوں اور خدمتگاروں پر نظر کرے گا ، اور ہزار برس کی راہ سے انہیں دیکھے گا اور بہت بزرگ خدا کے نزدیک وہ ہے جو وجہہ الہی پر نظر کرے صبح و شام یعنی اپنی استعداد کے موافق۔ پھر یہ آیت پڑھی : وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ الی ربھا ناظرۃ۔ بعض عارفین کا کہنا ہے کہ اوتاد میں سے ہر ایک کے اوراد میں یہ کلمات ہیں اللھم انی اسئلک النظر الی وجھک الکریم ، ہر شخص جنت میں کوئی نہ کوئی آرزو رکھے گا مگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–25

وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 "Some faces will be fresh"; will be beaming with joy and delight, for the Hereafter which they had believed in, will be before them precisely accordingly to their belief. Thus, when they see the Hereafter for the sake of which they had given up the unlawful benefits of the world and suffered the lawful losses, actually established before their very eyes, they will have the satisfaction that they had trade the correct decision about their way of life, and the tithe had come when they would enjoy its best and plentiful fruits.

Read the full tafseer →