Al-Qiyaama 75:21

Al-Qiyaama · from ayah 21

75:21

وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ ۟ؕوَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And leave the Hereafter.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:21

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آخرت کو نظر انداز کئیے ہوئے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بعد میں آنے والی کو چھوڑ دیتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آخرت کی نظر انداز کیے ہعوئے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم چھوڑ رہے ہو آخرت (کی اصل اور حقیقی زندگی) کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and are oblivious of the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And neglect the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And leave the Hereafter.

— Saheeh International

and neglect the life to come.

— Muhammad Sarwar

And neglect the hereafter.

— Muhammad Habib Shakir

And leave the Hereafter.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 15 یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے۔ پہلی وجہ آیت نمبر 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چونکہ فجور کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کو ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لیے دراصل خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور پھر وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے۔ اب دوسری وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ منکرین آخرت چونکہ تنگ نظر اور کوتاہ ہیں اس لیے ان کی نگاہ میں ساری اہمیت انہی نتائج کی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے جو آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

آخر میں فرمایا ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فکر بھی اپنے اوپر نہ رکھیں کہ نازل شدہ آیات کا صحیح مفہوم اور مراد کیا ہے اس کا بتلانا سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ہم قرآن کے ہر ہر لفظ اور اس کی مراد کو آپ پر واضح کردیں گے۔ ان چار آیتوں میں قرآن اور اس کی تلاوت وغیرہ کے متعلقہ احکام بیان کرنے کے بعد آگے پھر قیامت کے احوال واہوال ہی کا بقیہ تذکرہ آتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چار آیتوں کا اگلی پچھلی آیتوں سے ربط اور جوڑ کیا ہے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ربط یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار آیتوں سے پہلے جو قیامت کے حالات میں اس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تکذیب قیامت کی اصل علت: ’تَذَرُوۡنَ الْاٰخِرَۃَ‘ کے معنی ہیں ’آخرت کو نظرانداز کر رہے ہو‘۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت تم سے مخفی نہیں ہے لیکن دنیا نقد ہے اس وجہ سے اس پر فریفتہ ہو اور آخرت نقد نہیں اس وجہ سے جان بوجھ کر اس کو نظر انداز کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

8: یعنی آیات کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔ لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–21

2 یعنی تمہارا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہرگز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو۔ اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے۔ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) 21 ۔ الانبیآء :37) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ ) 75 ۔ القیامۃ :16) میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آئے خواہ آخرکار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“ یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ”حب ِعاجلہ“ میں مبتلاہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

13 اس جملہ معترضہ کے بعد اب پھر اصل مضمون کا تسلسل شروع ہو رہا ہے۔ کافروں کے انکار آخرت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آخرت کا اقرار کرکے اپنے آپ پر پابندی لگا لینا گوارا نہیں کرتے۔ ان دو آیات میں آخرت کے انکار کی دوسری وجہ بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ صرف نقد بہ نقد سودا کے گاہک ہو، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ایسا کام کرو جس کا عوض اسی دنیا میں مل جائے اور جن کاموں کا اجر آخرت میں ملنے کی توقع ہو ان کاموں کو تم نظر انداز کردیتے ہو۔ عوضانہ ادھار بھی ہو اور تمہارے خیال کے مطابق غیر یقینی بھی ہو تو پھر تم آخرت کو دنیا پر کیونکر ترجیح دے سکتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (اسی محبت دنیا کے انہماک میں) یہاں یہ بتا دیا کہ انکار آخرت کی بنیاد بھی یہی دنیوی زندگی میں انہماک و غفلت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–21

کلا بل تحبون العاجلۃ، یہاں سے سلسلہ کلام پھر جڑ جاتا ہے جو جملہ معترضہ سے پہلے چلا آرہا تھا، ہرگز نہیں، کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے انکار آخرت کی اصل یہ وجہ نہیں ہے کہ تم خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے اور مرنے کے بعد زندہ کرنے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے اور یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے پہلی وجہ آیت 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چوں کہ فجور اور بےراہ روی کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کے ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لئے خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے، اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و تذرون الاخرۃ . یحبون اور یذرون بصیغہ غائب بھی قراءت میں آیا ہے اور ضمیر انسان مذکور کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس بات سے تو ناواقف نہیں کہ اللہ دوبارہ حشر و تخلیق پر قادر ہے اور قیامت کے دن کوئی معذرت نفع بخش نہ ہوگی۔ بات یہ ہے کہ دنیا کی محبت کی وجہ سے خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہوا و ہوس نے ان کی آنکھوں کو اندھا اور دلوں کو نابینا کردیا ہے اس لیے وہ آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد احوال آخرت کو بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 21) اور پھر اس کے حلال و حرام اوامرو نواہی کا بیان کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور ثواب آخرت کے لیے کام کرنے کو چھوڑ بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 20–21

کلا بل تحبون العاجلۃ …: یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو ”لاتحریک بہ لسانک“ سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمہارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہ اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا :(بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی) (الاعلی : 16، 18) ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے وہ۔ حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، ابوجہل قرآن کی تفسیر اور اس کے بیان پر ایمان نہیں لائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نماز نہیں پڑھیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اے اہل مکہ کے کفار تم دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہو اور تم آخرت کے لیے عمل کرنے کو ترک کرتے ہو، ایک تفسیر میں ہے آخرت سے مراد جنت ہے۔ اہل مدینہ اور کوفہ کے قراء نے تحبون اور تذرون کو تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے بھی اسی قرات کو پسند کیا ہے اور کہا، اگر ان قراء کی مخالفت مکروہ نہ ہوتی تو میں انہیں یاء کے ساتھ پڑھتا کیونکہ اس سے پہلے انسان کا ذکر ہے باقی فراء نے دونوں کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

1۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے آیت کلا بل تحبون العاجلۃ۔ وتذرون الاٰخرہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرۃ دونوں کو تاء کے ساتھ پڑھا۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرہ۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ دنیا کو چاہتے ہیں اور آخرت کو چھوڑتے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں نے عجلت کو پسند کیا سوائے ان کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمای اور ان کو محفوظ رکھا۔ 4۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن مسعود ؓ سے آیت کلا بل تحبون العاجلہ کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ : اور تم لوگ چھوڑتے ہو پیچھے ہونے والی (آخرت) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–21

قیامت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ اور کچھ بدرونق ہوں گے، موت کے وقت انسان کی پریشانی نزول قرآن کے وقت جو رسول اللہ ﷺ کو یاد کرنے میں تکلیف ہوتی تھی اس کے بارے میں آپ کو تسلی دی کہ آپ مشقت میں نہ پڑیں آپ پہلے سن لیں پھر یاد کریں ہم آپ کو یاد کرا دیں گے اور اس کے احکام بھی آپ سے بیان کروا دیں گے یہ مضمون بیان فرما کر پھر قیامت سے متعلق مضمون شروع فرما دیا اور فرمایا ﴿كَلَّا ﴾ بیشک بات یہ ہے کہ مکذبین اور معاندین قرآن پر ایمان نہیں لاتے یہ ان کی گمراہی ہے ان کے نہ ماننے سے قیامت ٹلنے والی نہیں ہے، جیسا وہ غلط خیال کرتے ہیں ایسا ہرگز نہ ہوگا پھر ان کی گمراہی کا سبب بتایا۔ ﴿بَلْ تُحِبُّوْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

9:۔ کلا، حرف ردع ہے۔ بل تحبون العاجلۃ، یہ بل یرید الانسان لیفجر امامہ سے متعلق ہے یعنی قیامت کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔ تمہیں چاہئے کہ تم آخر پر ایمان لا کر دنیوی زندگی میں ایمان و عمل سے توشہ آخرت تیار کرو مگر تم ایسا نہیں کرتے ہو بلکہ دنیا کو پسند کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کرتے ہو۔ دنیا کی خاطر تو بھاگ دوڑ میں مصروف ہو، لیکن آخرت کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۝ 21 ۭ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–30

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

کَلاَّ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ ۔ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ (القیامۃ : 20، 21) (ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ ) اخذواستماعِ وحی سے متعلق جملہ معترضہ کی شکل میں آنحضرت ﷺ کو ہدایات دینے کے بعدسلسلہ کلام پھر اصل مضمون سے جوڑ دیا گیا ہے۔ قریش اور دیگر اہل مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم جو قیامت کا انکار کرتے ہو کہ ہزاروں سال میں مرنے والے لوگوں کے اجزائے جسم کیسے اکٹھے کیے جاسکتے ہیں اور بوسیدہ اور ازکارفتہ ہڈیوں میں کیسے دوبارہ جان ڈالی جاسکتی ہے۔ گویا یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو سراسر خلاف عقل اور بعید از وقوع ہے حالانکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–23

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کا مرکزی مضمون قیامت کا قائم ہوناثابت کرنا ہے، اس بات کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں اٹھائیں اور دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ قیامت کے انکار کے پیچھے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ جو اسے ملنا ہے وہ دنیا میں ہی مل جائے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ اس سوچ کی بنا پر وہ آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ جلدی کرنے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ بہتر ہیں جو دنیا میں بھرپور کردار ادا کرنے کے باوجود آخرت کو نہیں بھولتے وہ دنیا کی خاطر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ (اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو) آخرت سے دار الآخرہ اور اس کی نعمتیں مراد ہیں۔ مگر تم آخرت کیلئے عمل نہیں کرتے ہو۔ قراءت : مدنی اور کوفی نے دونوں کو تاءؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

وہ چیز جو تمہاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے یہ ہے کہ تم (تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ) دنیا کو پسند کرتے ہو، اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت وشہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہوتا ہے۔ آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے اس لیے تم ان سے غافل رہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے یہ دنیا کا گھر ہی تمہارا دائمی ٹھکانہ ہے جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 انکار آخرت کا اصل سبب حب دنیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انکار آخرت کے اصل سبب اور حقیقی باعث کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ تم لوگ محبت کرتے ہو جلد ملنے والی چیز یعنی دنیا سے۔ سو اس سے انکار قیامت کی دوسری وجہ بیان ٰرمائی گئی ہے ‘ جیسا کہ پہلے آیت نمبر 5 میں اس کی پہلی وجہ یہ بیان فرمائی گئی تھی کہ " بل یرید الانسان لیفجر امامہ "۔ اب یہ اس کی دوسری وجہ بیان فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ انکار قیامت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کوتاہ بین اور تنگ نظر انسان کی نظریں اسی دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں میں اٹک کر رہ گئی ہیں ‘ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے ‘ اور اسی میں الجھ کر وہ آخرت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–21

ف 6 یعنی دنیا میں منہمک اور آخرت سے بےپروا ہو اسی لئے آخرت سے انکار کرتے ہو۔ تمہارے انکار آخرت کی بنیاد ہرگز کوئی عقلی یا علمی دلیل نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:21) وتذرون الاخرۃ واؤ عاطفہ، تذرون مضارع جمع مذکر حاضر وذر مصدر سے تم چھوڑ دیتے ہو الاخرۃ مفعول فعل تذرون کا۔ اور آخرۃ کو تم نے چھوڑ رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–25

(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–25

[12] یعنی تمہارا قیامت سے انکار کرنا ہرگز کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ دنیا میں انہماک کا سبب ہے۔ دنیا کیونکہ نقد اور جلد مل سکتی ہے اس کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں دیر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–23

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔ دین حق کے منکروں کو خطاب ہے کہ قیامت ضرور ہوگی اور تمہارے اگلے پچھلے تمام اعمال سے تم کو آگاہ کیا جائے گا تم سمجھ رہے ہو کہ قیامت نہیں آئے گی ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کئے بیٹھے ہو، دنیا کو عاجلہ فرمایا چونکہ پیدا ہوتے ہی دنیا سے ملاقات ہوتی ہے اور جلدی سے سامنے آجاتی ہے اس لئے اس کو عاجلہ فرمایا سو تم دنیا کی محبت میں منہمک ہو اور آخرت سے غافل ہو سوروہ روم میں گزر چکا ہے یعلمون ظاھر امن الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون آگے قیامت کی مختصر سی تفصیل مذکور ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–26

ف 7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 19–21

(پھر بلاشبہ ہم پر ہے اس کا تم پر روشن کردینا) اور اے آدمیو ! جو تم نے عقبی کے امر میں گمان کرلیا ہے ایسا (کچھ بھی نہیں ، بلکہ تم لوگ چاہنے لگے ہو جلد جلدی والی دنیا کو) یعنی تمہاری رغبت اسی میں ہے جو تمہیں جلد حاصل ہوجائے (اور چھوڑے ہو آخرت کو) جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یعنی فانی راحتوں کے پیچھے تو دل و جان سے دوڑ رہے ہیں اور باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے ، اور چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس کے برعکس عمل کرتے کہ فنا ہوجانے والی نعمتوں کو نظر انداز کردیتے اور باقی رہنے والی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ قیامت کا دن وہ ہے کہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

In conclusion, the passage says: اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 This is the second reason for denying the Hereafter, the first being the one mentioned in verse 5 above, saying: Since man wants to avoid the moral restrictions which are inevitably imposed by the belief in the Hereafter, his selfish motives, in fact, urge him to deny the Hereafter, and then he tries to present arguments in order to rationalise his denial. Now, the second reason being presented is that the deniers of the Hereafter are narrow-minded and shortsighted; for them only those results are all important, which appear in this world, and they do not give any importance to those…

Read the full tafseer →