كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۟ۙكَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! But you love the immediate
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۟ۙكَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! But you love the immediate
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو
خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔
کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو
حقیقت یہ ہے (اے کفّار!) تم جلد ملنے والی (دنیا) کو محبوب رکھتے ہو،
ہرگز نہیں، بلکہ تم جلدی ملنے والی کو پسند کرتے ہو۔
ہرگز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جلد حاصل ہونے والی چیز (دنیا) کو چاہتے ہو
ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ اس دنیا ہی سے عشق رکھتے ہو
ہرگز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ محبت رکھتے ہو جلد ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے
ہرگز ایسا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم دنیا سے تو محبت رکھتے ہو
ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔
مگر لوگو ! تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
Nay; the truth is that you love ardently (the good of this world) that can be obtained hastily,
Never, (your denial of Resurrection is never based on any sound reason!) Instead, you love that which is immediate,
Never, (your denial of Resurrection is never based on any sound reason!) Instead, you love that which is immediate,
But no! Rather you love the present life of this world,
Nay, but ye do love the fleeting Now
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! But you love the immediate
Human beings certainly do not want to pay much attention to the Quran. In fact, they love the worldly life
Nay! But you love the present life,
By no means! Verily ye love the Herein.
Nay, (ye men!) but ye love the fleeting life,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 14 یہاں سے سلسلہ کلام پھر اسی مضمون کے ساتھ جڑ جاتا ہے جو بیچ کے جملہ معترضہ سے پہلے چلا آ رہا تھا۔ ہرگز نہیں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے انکار آخرت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تم خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کردینے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آخر میں فرمایا ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فکر بھی اپنے اوپر نہ رکھیں کہ نازل شدہ آیات کا صحیح مفہوم اور مراد کیا ہے اس کا بتلانا سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ہم قرآن کے ہر ہر لفظ اور اس کی مراد کو آپ پر واضح کردیں گے۔ ان چار آیتوں میں قرآن اور اس کی تلاوت وغیرہ کے متعلقہ احکام بیان کرنے کے بعد آگے پھر قیامت کے احوال واہوال ہی کا بقیہ تذکرہ آتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چار آیتوں کا اگلی پچھلی آیتوں سے ربط اور جوڑ کیا ہے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ربط یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار آیتوں سے پہلے جو قیامت کے حالات میں اس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کو صبر و انتظار کی تلقین کے بعد پھر کلام اپنے اصل سلسلہ سے جڑ گیا۔ مکذبین قیامت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ قیامت کے بارے میں تمہارا یہ رویہ اس بنا پر نہیں ہے کہ اس کی کوئی دلیل تمہارے سامنے نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی شہادت تو خود تمہارے اپنے قلب و ضمیر ہی کے اندر موجود ہے۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا اور اس کی مرغوبات سے عشق رکھتے ہو اور اس نقد کو چھوڑ کر آخرت کے نسیہ کے لیے بازی کھیلنے کا حوصلہ تمہارے اندر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی ﷺ نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
8: یعنی آیات کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔ لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
2 یعنی تمہارا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہرگز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو۔ اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے۔ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) 21 ۔ الانبیآء :37) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ ) 75 ۔ القیامۃ :16) میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آئے خواہ آخرکار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ۔ } ”پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کردینا بھی۔“ قرآن مجید کی تفسیر سے متعلق یہ بہت اہم وضاحت ہے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے اصل پیغام کی تبیین و تفہیم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ عملی طور پر اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن حسب ضرورت خود ہی اپنے احکام کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ جیسے سورة النساء میں دو احکام کے بارے میں آیا ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ… آیت 127 اور آیت 176 کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ سے فلاں مسئلے کی وضاحت چاہتے ہیں ‘ تو انہیں بتائیں کہ اگر انہیں اس بات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ اس معاملے کی مزید وضاحت کردیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
12 آیت نمبر 16 سے لے کر 19 تک چار آیات درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں ان کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ ﷺ پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے (کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ ﷺ پر بہت سختی ہوجاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ ﷺ کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ﷺ بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ ﷺ کی زبان پر رواں کردینا بھی…
Read the full tafseer →10۔ (کہ قیامت نہ آئے گی جیسا کہ یہ احمق منکرین اپنے زعم فاسد میں سمجھے ہوئے ہیں) (آیت) ” کلا “۔ کو حقا کے بھی مرادف سمجھا گیا ہے اور معنی یقیناً کے کئے گئے ہیں۔ قال سائر المفسرین کلامعناہ تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کلا بل تحبون العاجلۃ، یہاں سے سلسلہ کلام پھر جڑ جاتا ہے جو جملہ معترضہ سے پہلے چلا آرہا تھا، ہرگز نہیں، کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے انکار آخرت کی اصل یہ وجہ نہیں ہے کہ تم خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے اور مرنے کے بعد زندہ کرنے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے اور یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے پہلی وجہ آیت 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چوں کہ فجور اور بےراہ روی کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کے ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لئے خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے، اب…
Read the full tafseer →کلا . اسی طرح درمیانی جملہ بطور ہدایت بول کر اللہ نے پھر اصل کلام کی طرف رجوع فرمایا۔ کلا سے بازداشت کی گئی خواہ انکار حشر یا فجور پر یا بیکار عذر پیش کرنے پر۔ بل تحبون العاجلۃ . تحبون میں خطاب اسی انسان کو ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور چونکہ اس سے مراد جنس انسان تھی اس لیے خطاب بصیغۂ جمع کیا گیا۔ العاجلۃ سے مراد ہے ‘ دنیا اور خواہشات دنیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 21) اور پھر اس کے حلال و حرام اوامرو نواہی کا بیان کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور ثواب آخرت کے لیے کام کرنے کو چھوڑ بیٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کلا بل تحبون العاجلۃ …: یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو ”لاتحریک بہ لسانک“ سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمہارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہ اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا :(بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی) (الاعلی : 16، 18) ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے وہ۔ حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، ابوجہل قرآن کی تفسیر اور اس کے بیان پر ایمان نہیں لائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نماز نہیں پڑھیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اے اہل مکہ کے کفار تم دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہو اور تم آخرت کے لیے عمل کرنے کو ترک کرتے ہو، ایک تفسیر میں ہے آخرت سے مراد جنت ہے۔ اہل مدینہ اور کوفہ کے قراء نے تحبون اور تذرون کو تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے بھی اسی قرات کو پسند کیا ہے اور کہا، اگر ان قراء کی مخالفت مکروہ نہ ہوتی تو میں انہیں یاء کے ساتھ پڑھتا کیونکہ اس سے پہلے انسان کا ذکر ہے باقی فراء نے دونوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے آیت کلا بل تحبون العاجلۃ۔ وتذرون الاٰخرہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرۃ دونوں کو تاء کے ساتھ پڑھا۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرہ۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ دنیا کو چاہتے ہیں اور آخرت کو چھوڑتے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں نے عجلت کو پسند کیا سوائے ان کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمای اور ان کو محفوظ رکھا۔ 4۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن مسعود ؓ سے آیت کلا بل تحبون العاجلہ کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا نے اپنی…
Read the full tafseer →[كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ : ہرگز نہیں بلکہ تم لوگ پسند کرتے ہو ] [الْعَاجِلَةَ : جلدی حاصل ہونے والی (دنیا) کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
قیامت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ اور کچھ بدرونق ہوں گے، موت کے وقت انسان کی پریشانی نزول قرآن کے وقت جو رسول اللہ ﷺ کو یاد کرنے میں تکلیف ہوتی تھی اس کے بارے میں آپ کو تسلی دی کہ آپ مشقت میں نہ پڑیں آپ پہلے سن لیں پھر یاد کریں ہم آپ کو یاد کرا دیں گے اور اس کے احکام بھی آپ سے بیان کروا دیں گے یہ مضمون بیان فرما کر پھر قیامت سے متعلق مضمون شروع فرما دیا اور فرمایا ﴿كَلَّا ﴾ بیشک بات یہ ہے کہ مکذبین اور معاندین قرآن پر ایمان نہیں لاتے یہ ان کی گمراہی ہے ان کے نہ ماننے سے قیامت ٹلنے والی نہیں ہے، جیسا وہ غلط خیال کرتے ہیں ایسا ہرگز نہ ہوگا پھر ان کی گمراہی کا سبب بتایا۔ ﴿بَلْ تُحِبُّوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
9:۔ کلا، حرف ردع ہے۔ بل تحبون العاجلۃ، یہ بل یرید الانسان لیفجر امامہ سے متعلق ہے یعنی قیامت کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔ تمہیں چاہئے کہ تم آخر پر ایمان لا کر دنیوی زندگی میں ایمان و عمل سے توشہ آخرت تیار کرو مگر تم ایسا نہیں کرتے ہو بلکہ دنیا کو پسند کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کرتے ہو۔ دنیا کی خاطر تو بھاگ دوڑ میں مصروف ہو، لیکن آخرت کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ 20 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کَلاَّ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ ۔ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ (القیامۃ : 20، 21) (ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ ) اخذواستماعِ وحی سے متعلق جملہ معترضہ کی شکل میں آنحضرت ﷺ کو ہدایات دینے کے بعدسلسلہ کلام پھر اصل مضمون سے جوڑ دیا گیا ہے۔ قریش اور دیگر اہل مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم جو قیامت کا انکار کرتے ہو کہ ہزاروں سال میں مرنے والے لوگوں کے اجزائے جسم کیسے اکٹھے کیے جاسکتے ہیں اور بوسیدہ اور ازکارفتہ ہڈیوں میں کیسے دوبارہ جان ڈالی جاسکتی ہے۔ گویا یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو سراسر خلاف عقل اور بعید از وقوع ہے حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کا مرکزی مضمون قیامت کا قائم ہوناثابت کرنا ہے، اس بات کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں اٹھائیں اور دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ قیامت کے انکار کے پیچھے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ جو اسے ملنا ہے وہ دنیا میں ہی مل جائے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ اس سوچ کی بنا پر وہ آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ جلدی کرنے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ بہتر ہیں جو دنیا میں بھرپور کردار ادا کرنے کے باوجود آخرت کو نہیں بھولتے وہ دنیا کی خاطر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس…
Read the full tafseer →20 : کَلَّا یہ انکار بعث پر ردع ہے۔ نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کو عجلت سے روکا گیا اور اس کا انکار کیا گیا ہے۔ اور اس کی تاکید اس قول سے فرمائی۔ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ (اے منکرو۔ ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا سے محبت رکھتے ہو) گویا اس طرح کہا گیا ہے بل انتم یابنی اٰدم لانکم خلقتم من عجل و طبعتم علیہ تعجلون فی کل شئی ومن ثم تحبون العاجلۃ بلکہ تم اے اولاد آدم جلد بازی سے پیدا ہوئے اور یہ تمہاری طبیعت ثانیہ ہے کہ ہر چیز میں جلدی مچاتے ہو۔ اسی کو سامنے رکھ کر تم عاجلہ کو پسند کرتے ہو۔ العاجلہ سے دنیا اور اس کی شہوات مراد ہیں۔
Read the full tafseer →19 ۔” ثم ان علینا بیانہ “ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کو آپ (علیہ السلام) کی زبان سے بیان کریں۔ فرمایا اور جب آپ (علیہ السلام) کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو آپ (علیہ السلام) سرجھکا کر خاموش ہوجاتے پھر جب وہ چلے جاتے تو آپ ﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے جب آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا، ڈرتے کہ آپ (علیہ السلام) سے چوک نہ جائے تو کہا گیا ” لاتحرک بہ لسانک، ان علینا جمعہ “ کہ ہم آپ کے سینہ میں جمع کردیں گے۔ ” وقرآنہ “ کہ آپ ﷺ اس کو پڑھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وہ چیز جو تمہاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے یہ ہے کہ تم (تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ) دنیا کو پسند کرتے ہو، اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت وشہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہوتا ہے۔ آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے اس لیے تم ان سے غافل رہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے یہ دنیا کا گھر ہی تمہارا دائمی ٹھکانہ ہے جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →18 منکرین کے زعم باطل کی تاکیدی تردید : سو پیغمبر کی تعلیم و تلقین سے متعلق جملہ معترضہ کے بیان کے بعد سلسلہ کلام اصل موضوع کی طرف مڑگیا اور منکرین کے زعم باطل کی تردید کیلئے فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ہرگز ویسا نہیں جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے اے منکرو ‘ کہ قیامت نہیں ہوگی اور کوئی حساب کتاب نہیں ہونا بلکہ انسان یونہی کیڑے مکوڑوں کی طرح مرگل کر اور مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا ‘ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں ‘ بلکہ ہر کسی کو پھر زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور زندگی بھر کے اپنے تمام کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے ‘ اچھے عمل و کردار کا اچھا اور عمدہ پھل اور اتنا اچھا اور عمدہ کہ اس دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 6 یعنی دنیا میں منہمک اور آخرت سے بےپروا ہو اسی لئے آخرت سے انکار کرتے ہو۔ تمہارے انکار آخرت کی بنیاد ہرگز کوئی عقلی یا علمی دلیل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(75:20) کلام معترضہ ختم ہوا اب پھر قیامت اور اس کی نسبت انسانی طبائع کا تعلق بیان فرمایا جا رہا ہے۔ کلا : ہرگز نہیں۔ ردع عن انکار البعث : (انکار حشر پر یا زداشت ہے) مدارک۔ ای لیس الامر کما تزعمون انہ لا جزاء الیسر التفاسیر۔ بات یہ نہیں جیسا کہ تم خیال کرتے ہو کہ نہ حشر ہوگا نہ جزاء ہوگی۔ علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ کلا سے بازداشت کی گئی ہے خواہ انکار حشر پر یا فجور پر یا بےکار عذر پیش کرنے پر۔ بل تحبون العاجلۃ : بل حرف اضراب ہے تحبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ احباب (افعال) مصدر۔ تم پسند کرتے ہو۔ تم محبت کرتے ہو۔ تم دوست رکھتے ہو۔ العاجلۃ : عجل وعجلۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب…
Read the full tafseer →[10] ہرگز نہیں کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو قیامت برپا کردینے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز سمجھتے ہو بلکہ اصل وجہ یہ ہے۔ [11] عاجلہ کے معنی ہیں جلد ملنے والی۔ مراد اس سے دنیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…
Read the full tafseer →(20) ہرگز نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم لوگ عاجلہ یعنی دنیا سے محبت رکھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 6۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کا رکھوانا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا یہ سب ہمارے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(پھر بلاشبہ ہم پر ہے اس کا تم پر روشن کردینا) اور اے آدمیو ! جو تم نے عقبی کے امر میں گمان کرلیا ہے ایسا (کچھ بھی نہیں ، بلکہ تم لوگ چاہنے لگے ہو جلد جلدی والی دنیا کو) یعنی تمہاری رغبت اسی میں ہے جو تمہیں جلد حاصل ہوجائے (اور چھوڑے ہو آخرت کو) جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یعنی فانی راحتوں کے پیچھے تو دل و جان سے دوڑ رہے ہیں اور باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے ، اور چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس کے برعکس عمل کرتے کہ فنا ہوجانے والی نعمتوں کو نظر انداز کردیتے اور باقی رہنے والی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ قیامت کا دن وہ ہے کہ ۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
In conclusion, the passage says: اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four…
Read the full tafseer →14 The theme is again resumed from where it was interrupted by the parenthesis. "By no means" implies; "You deny the Hereafter not because you regard the Creator of the universe as helpless to bring about Resurrection and raise the dead, but because of this and this other reason."
Read the full tafseer →