Al-Qiyaama 75:19

Al-Qiyaama · from ayah 19

75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ ۟ؕثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗؕ

پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then upon Us is its clarification [to you].

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:19

پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس کی وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر بے شک اس (کے معانی) کا کھول کر بیان کرنا ہمارا ہی ذِمّہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بلاشبہ اسے واضح کرنا ہمارے ذمے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت کرنا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہمارے ہی ذمے ہے بیان کردینا اس (کے معانی و مطالب) کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کردینا بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کے معنی کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

then it will be for Us to explain it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, it is undertaken by Us to explain it.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, it is undertaken by Us to explain it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then it is for Us to make it clear.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then lo! upon Us (resteth) the explanation thereof.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then upon Us is its clarification [to you].

— Saheeh International

We shall be responsible for its explanation.

— Muhammad Sarwar

Again on Us (devolves) the explaining of it.

— Muhammad Habib Shakir

And thereafter verily upon us is is the expounding thereof.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay more, it is for Us to explain it (and make it clear):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 13 اس سے گمان ہوتا ہے، اور بعض اکابر مفسرین نے بھی اس گمان کا اظہار کیا ہے، کہ غالباً ابتدائی زمانے میں رسول اللہ ﷺ نزول وحی کے دوران ہی میں قرآن کی کسی آیت یا کسی لفظ یا کسی حکم کا مفہوم بھی جبریل ؑ سے دریافت کرلیتے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ کو نہ صرف ہدایت کی گئی کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو اس وقت آپ خاموشی سے اس کو سنیں، اور نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اس کا لفظ لفظ ٹھیک ٹھیک آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا جائے گا اور قرآن کو آپ ٹھیک اسی طرح پڑھ سکیں گے جس طرح وہ نازل ہوا ہے، بلکہ ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور ہر ارشاد کا منشا اور مدعا بھی پوری طرح آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

آخر میں فرمایا ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فکر بھی اپنے اوپر نہ رکھیں کہ نازل شدہ آیات کا صحیح مفہوم اور مراد کیا ہے اس کا بتلانا سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ہم قرآن کے ہر ہر لفظ اور اس کی مراد کو آپ پر واضح کردیں گے۔ ان چار آیتوں میں قرآن اور اس کی تلاوت وغیرہ کے متعلقہ احکام بیان کرنے کے بعد آگے پھر قیامت کے احوال واہوال ہی کا بقیہ تذکرہ آتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چار آیتوں کا اگلی پچھلی آیتوں سے ربط اور جوڑ کیا ہے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ربط یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار آیتوں سے پہلے جو قیامت کے حالات میں اس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘۔ اسی سلسلہ میں مزید اطمینان یہ بھی دلا دیا کہ اگر قرآن کے کسی مقام میں کسی وضاحت کی ضرورت ہو گی تو اس کے باب میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت کی ذمہ داری بھی ہمارے اوپر ہے۔ جب وقت آئے گا تو یہ کام بھی ہم کر دیں گے۔ یہ اشارہ ان آیات کی طرف ہے جو کسی سابق حکم کی توضیح و تبیین یا اس کے نسخ یا تکمیل کے طور پر نازل ہوئیں۔ ان توضیحی آیات کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں اور یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کے بعد بالعموم ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے قرآن نے یہ رہنمائی بھی دے دی ہے کہ یہ اسی وعدے کی تکمیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ’اِنَّ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–20

19۔ 1 یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی ﷺ نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

8: یعنی آیات کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–19

اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔ لا تحرک ........................ بیانہ ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–19

1 شروع میں جس وقت حضرت جبرائیل اللہ کی طرف سے قرآن لاتے، ان پر پڑھنے کے ساتھ حضرت ﷺ بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے تاکہ جلد اسے یاد کرلیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرائیل چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ ﷺ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہے گا۔ پھر کیسے پڑھوں گا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤں گا۔ اس کا تمہارے سینے میں حرف بحرف جمع کردینا اور تمہاری زبان سے پڑھوانا ہمارے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

آیت 19{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ۔ } ”پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کردینا بھی۔“ قرآن مجید کی تفسیر سے متعلق یہ بہت اہم وضاحت ہے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے اصل پیغام کی تبیین و تفہیم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ عملی طور پر اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن حسب ضرورت خود ہی اپنے احکام کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ جیسے سورة النساء میں دو احکام کے بارے میں آیا ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ… آیت 127 اور آیت 176 کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ سے فلاں مسئلے کی وضاحت چاہتے ہیں ‘ تو انہیں بتائیں کہ اگر انہیں اس بات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ اس معاملے کی مزید وضاحت کردیتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–20

12 آیت نمبر 16 سے لے کر 19 تک چار آیات درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں ان کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ ﷺ پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے (کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ ﷺ پر بہت سختی ہوجاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ ﷺ کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ﷺ بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ ﷺ کی زبان پر رواں کردینا بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (اور یہ رسول کے ذریعہ سے ہوگا) قرآن کو رسول تک بجنسہ پوری حفاظت کے ساتھ پہنچا دینا جو حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ اس کا انصرام تو فرشتہ کی وساطت سے ہوا۔ اب رہا دوسرا وعدۂ الہی یعنی قرآن کی تبیین وتشریح یہ کس کے ذریعہ سے ہوگی ؟ یہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے۔ گویا حق تعالیٰ سے رسول اللہ ﷺ سے رسول اللہ ﷺ تک متن قرآن پہنچانے کا ذمہ دار تو فرشتہ وحی ٹھہرا۔ اور رسول اللہ ﷺ سے امت تک متن قرآن وشرح قرآن پہنچانے کے ذمہ دار رسول کریم ﷺ قرار پائے۔ اے ثم ان علینا ان نبی نہ بلسانک (روح) اے بعد حفظہ وتلاوتہ نبی نہ لک ونو ضحہ ونفھمک معناہ علی اردنا و شرعنا (ابن کثیر) آج جس نو پیدا گروہ نے رسول اللہ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ثم ان علینا بیانہ، یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنہیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جن میں پہلے بھی بعض لوگ مبتلا ہوتے رہے ہیں اور آج بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ اول اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے جس کو اصطلاح میں ” وحی غیر متلو “ کہا جاتا ہے اس لئے کہ قرآن کے احکام و فرامین اس کے اشارات اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم ان علینا بیانہ . قرآن کا اظہار اس کے بعد ہمارے ذمہ ہے یعنی اگر معانی قرآن میں کچھ اشکال ہو تو اس کی مراد کو ظاہر کردینا ہمارے ذمہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بعض آیات محکم ہیں (واضح المراد) لیکن آیت مذکورہ کی روشنی میں کسی آیت کا رسول اللہ ﷺ کے لیے متشابہ ہونا اور مراد کی اطلاع آپ کو نہ ہونا درست نہیں ‘ ورنہ کلام بےسود ہوگا اور آیت مندرجہ بالا میں جو وعدہ کیا گیا ہے ‘ اس کی بھی مخالفت لازم آئے گی۔ آیت : لا یعلم تاویلہ الاّ اللہ کی تفسیر میں ہم اس کی توضیح کرچکے ہیں۔ آیت ثم ان علینا بیانہ میں لفظ ثم بتارہا ہے کہ خطاب کے وقت اگر مطلب واضح نہ کیا جائے اور کچھ مدت کے بعد مراد واضح کردی جائے تو جائز ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 21) اور پھر اس کے حلال و حرام اوامرو نواہی کا بیان کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور ثواب آخرت کے لیے کام کرنے کو چھوڑ بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–19

(1) لاتحرک بہ لسانک…: ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ)”تو اس کیساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے۔ بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ ﷺ کا) اس کو پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔”ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔”فاذا قرانہ فاتبع قرآن ہ“ تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔”ثم ان علینا بیانہ“ پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم ان علینا بیانہ۔ اس میں حدود، حلال و حرام کے احکام کی وضاحت ہمارے ذمہ ہے یہ قتادہ کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں جو وعدہ وعید ہے اس کو بیان کرنا، اور ان کو ثابت کرنا ہمارے ذمہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے تیری زبان سے بیان کریں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–19

11۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب قرآن نازل ہوتا تو آپ اس کے پڑھنے میں جلدی فرماتے تاکہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت لا تحرک بہ لسانک اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ اور رسول اللہ ﷺ سورة کے ختم ہونے کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ سمجھ لیتے کہ پہلی سورة ختم ہوگئی اب نئی سورة شروع ہوئی۔ قرآن یاد کرنے کا اہتمام 12۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قطعاً سستی اور کوتاہی نہیں فرماتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ وہ اس کو بھول نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لا تحرک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ ان عَلَيْنَا بَيَانهٗ : پھر بیشک ہم پر ہے اس کا ظاہر کرنا ] نوٹ 3: آیت۔ 19 ۔ بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنھیں آدمی اگر اچھی طرح سمجھ لے تو وہ ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جو پہلے بھی بعض لوگ پھیلاتے رہے ہیں اور آج بھی پھیلا رہے ہیں۔ اولاً اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے الفاظ اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗؕ0019﴾ (پھر بیشک ہمارے ذمہ اس کا بیان کرنا ہے) یعنی ہم آپ سے قرآن پڑھوائیں گے اور آپ کی زبان پر جاری کردیں گے آپ لوگوں کو سنائیں گے اور پہنچائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد یہ ہوتا تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لاتے تھے تو آپ متوجہ ہو کر سنتے تھے پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چلے جاتے تھے تو آپ اسی طرح دہرا لیتے تھے جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے پڑھا تھا۔ (صحیح بخاری صفحہ 3: ج 1، اور صفحہ 733: ج 2)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–19

8:۔ ” لا تحرک “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ روافض کہتے ہیں ان آیتوں کا ما قبل اور ما بعد سے کوئی تعلق نہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں تغیر و تبدل ہوچکا ہے اور ان آیتوں کو ان کے موزوں مقام سے اٹھا کر یہاں رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراض سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ ترتیب توقیفی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے آپ کی زندگی ہی میں مکمل ہوچکی تھی۔ اس پر امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا اجماع ہے اور قرآن میں تغیر و تبدل اور زیادۃ و نقصان کا قول کفر ہے۔ باقی رہی ان آیتوں کی سیاق وسباق سے مناسبت تو اس میں کئی وجوہ ہیں۔ وجہ اول، ممکن ہے گذشتہ آیتوں کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ نے ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کردیا ہو تاکہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَہٗ۝ 19 ۭ البیان البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–30

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–19

لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ۔ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقَرْاٰنَـہٗ ۔ فَاِذَا قَرَاْنٰـہٗ فَاتَّبِعُ قُرْاٰنَـہٗ ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 16 تا 19) (اے نبی، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھوا دینا۔ تو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کی پیروی کریں۔ پھر اس کی وضاحت کردینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ) ان آیات کا پس منظر بعض لوگوں نے ان چار آیات کے حوالے سے اعتراض کیا ہے کہ یہ سیاق وسباق سے بالکل ہٹی ہوئی اور غیرمتعلق ہیں کیونکہ قیامت پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا جارہا تھا اسی ضمن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–19

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی دعوت کا تیسرا بڑا جز لوگوں کو قیامت کے احتساب سے آگاہ کرنا ہے۔ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے قیامت کا ذکر کرتے تو لوگ اس پر غور کرنے کی بجائے جلد بازی میں آکر کہتے کہ قیامت کب آئے گی۔ نبی ﷺ وحی کے نزول کے وقت اس لیے جلدی فرماتے تاکہ وحی کا کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اس پر آپ کو جلد بازی سے روکا گیا اور تسلی دی گئی کہ جس وجہ سے آپ جلدی کرتے ہیں اس کا فکر نہ کریں آپ کو قرآن مجید ضبط کروانا اور اس کا ابلاغ کروانا ہمارے ذمہ ہے لہٰذا آپ اطمینان کے ساتھ وحی سنا کریں۔ وحی کے ابتدائی ایام میں نبی ﷺ کے سامنے جبریل امین قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے تو آپ جلدی جلدی اسے پڑھنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ (پھر اس کا بیان کرا دینا ہمارے ذمہ ہے) جب اس کے معانی میں سے کوئی چیز آپ پر مشکل ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ) یعنی اس کے معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے۔ رسول اللہ نے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہذا اس کے بعد جبرائیل آپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتے اور جب جبرائیل قرات سے فارغ ہوجاتے تو پھر آپ پڑھتے۔ اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ سے فارغ ہوجائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

17 قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہمارے ذمے ہے اس کو بیان کرنا۔ یہ اسی سلسلہ میں حضور ﷺ کو مزید اطمینان دلایا گیا کہ قرآن پاک کے معانی و مطالب کو بیان کرنآ بھی ہمارے ہی ذمے ہے ‘ اگر کسی مقام پر قرآن حکیم کے کسی معنی و مطلب کی وضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی ہمارے ہی ذمے ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ کو اس بارے میں پریشان اور فکرمنڈ ہونے کی ضرورت نہیں۔ سو قرآنی علوم و معارف کی تعلیم و تبیین بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی اس کے حلال و حرام اور دوسرے احکام وتعلیمات کی تفسیر و تضویح کا بھی ہم ذمہ لیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے سنت یا حدیث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قرآن ہی کی تفسیر و توضیح ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کو آنحضرت کے سینہ میں محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے اسطرح اس کی توضیح و تشریح بتانے کا بھی ذمہ لیا ہے جسے آپ لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں گے اور وہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔ چناچہ شاہ صاحب لکھتے ہیں اور معنی تحقیق کرنے کی بھی حاجت نہیں یہ بھی ہمارا ذمہ ہے اور وقت پر بیان کا سمجھانا (موضع)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:19) ثم ان علینا بیانہ : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ پھر۔ ازاں بعد ان حرف مشبہ بالفعل بیان اسم ان مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ پھر اس کی وضاحت اور اظہار مطالب ہمارا ذمہ ہے۔ ہ کا مرجع قرآن ہے۔ فائدہ : خدائے پاک نے اپنے وعدے کو سچا کردیا قرآن مجید کو ایک جگہ مجتمع بھی کرا دیا اس لئے کہ ٹکڑے ٹکڑے اور سورتیں سورتیں ہوکر نازل ہوا ہے اب سب یکجا ترتیب کے ساتھ موجود ہے اور آپ کے سینہ میں جمع بھی کرا دیا۔ آپ پورے قرآن مجید کے حافظ تھے اور آپ کی برکت سے بہت سے صحابہ کرام ؓ بھی حافظ تھے۔ اور بعدہ امت میں بھی آج تک لاکھوں حافظ ہیں ایک ایک حرف اور زبر زیر پر حاوی ہیں۔ یہ عہد آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–19

حفاظت قرآن مجید کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے۔ (ف 3) شان نزول : نبی ﷺ جبرائیل امین کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یا دفرمانے کی سعی فرماتے تھے اور جلد جلد پڑھتے اور زبان اقدس کو حرکت دیتے، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی مشقت گوارا نہ فرمائی اور قرآن کریم کا سینہ پاک میں محفوظ کرنا اور زبان اقدس پر جاری فرمانا اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے اور یہ آیت کریمہ نازل فرماکرحضور ﷺ کو مطمئن فرمادیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] آیات 16-19 بطور ایک جملہ معترضہ کے ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا۔ جبرائیل (علیہ السلام) جب آپ ﷺ کو یہ سورت سنا رہے تھے اس وقت آپ ﷺ اس اندیشے سے کہ کہیں بھول نہ جائیں اس کو زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمے ہے یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہ ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے سے ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرآن کا جو مفہوم و مدعا آپ ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا اگر وہ قرآن میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–23

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) پھر اس کے مطالب کو واضح کردینا بھی ہمارے ذمے ہے۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کو بیان کرادینا اور مشکل مضامین کو سہل کردینا تاکہ آپ کو سمجھانے میں آسانی ہو۔ یہ سب ہمارے ذمے ہے آپ تو جب فرشتہ پڑھے صرف توجہ کے ساتھ سنتے رہا کیجئے۔ چونکہ اوپر کی آیت میں قیامت کا ذکر تھا اور قیامت کے دن تمام امور کے مستحضر ہوجانے اور اگلے پچھلے اعمال کے یاد دلانے کا ذکر تھا اسی مناسبت سے وحی کے یادرکھنے اور اس کو دہرا دینے کا ذکر فرما دیا اور یہ بات استطراداً بیان کی گئی تھی آگے پھر وہی منکروں کا ذکر ہے اور کافروں کی عجلت پسندی اور آخرت کو نظر انداز کردینے کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

ف 6۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کا رکھوانا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا یہ سب ہمارے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 19–21

(پھر بلاشبہ ہم پر ہے اس کا تم پر روشن کردینا) اور اے آدمیو ! جو تم نے عقبی کے امر میں گمان کرلیا ہے ایسا (کچھ بھی نہیں ، بلکہ تم لوگ چاہنے لگے ہو جلد جلدی والی دنیا کو) یعنی تمہاری رغبت اسی میں ہے جو تمہیں جلد حاصل ہوجائے (اور چھوڑے ہو آخرت کو) جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یعنی فانی راحتوں کے پیچھے تو دل و جان سے دوڑ رہے ہیں اور باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے ، اور چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس کے برعکس عمل کرتے کہ فنا ہوجانے والی نعمتوں کو نظر انداز کردیتے اور باقی رہنے والی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ قیامت کا دن وہ ہے کہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

In conclusion, the passage says: اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 This gives the feeling, and some early commentators also have given expression to the same, that probably in the beginning the Holy Messenger of Allah used to ask of the Angel Gabriel the meaning of a verse or a word or a command of the Qur'an even in the very midst of the Revelation itself. Therefore, the Holy Prophet was not only given the instruction that he should listen quietly to Revelation when it carne down to him, and assured that its each word would be preserved in his memory precisely, and he would be enabled to recite the Qur'an exactly as it was revealed, but at the same time…

Read the full tafseer →